Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

National Anthem of Pakistan

پاکستان کا قومی ترانہ: افسانہ اور حقیقت !
از محمد الطاف قمر(سابق انسپکٹر  جنرل پولیس )
پاکستان کا قومی ترانہ ’ پاک سرزمین شاد باد کشور حسین شاد باد‘ خون کو گرما دینے والی دبنگ دُھن اور دل کی گہرائیوں کو چھُو لینے والی شاعری کاایک خوبصورت مرقع ہے ۔ یہ کب اور کن مراحل سے گذر کر معرض وجود میں آیا ،اس پرکچھ لکھنے سے پہلے ایک افسانوی روایت کی تردید ضروری ہے جس کا آج کل سوشل میڈیا پر چرچا ہے اوردرحقیقت اسی نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر آمادہ کیا۔ اس روایت کے مطابق ’’حضرت قائد اعظمؒ نے قیام پاکستان سے قبل 9اگست 1947ء ؁ کو اپنے دوست جگن ناتھ آزاد کو بطور خاص بلایا اور کہا کہ 14اگست سے پہلے پہلے پاکستان کا قومی ترانہ لکھ کر دو ، جسے 14اگست کو ریڈیو پاکستان پر بجایاجائے گا۔ حکم کی تعمیل کرتے ہو ئے جگن ناتھ آزاد نے ایک ترانہ لکھ کر قائد اعظم ؒ کو پیش کردیا جو14/15اگست کی رات ریڈیوپاکستان پربجایاگیا اور پھر اس کے بعد 18ماہ تک پاکستان میں ہر جگہ بجتا رہا، لیکن پھر اسے اس بناپر ترک کردیاگیا کہ وہ ایک ہندوکا لکھا ہواتھا۔‘‘
برسوں قبل جب یہ خود ساختہ روایت سامنے آئی اوربار بار دُہرائی گئی تو پاکستان کے نامور مؤرخ اور محقق ڈاکٹر صفدر محمودنے ،جو تحریک پاکستان اور قائد اعظمؒ پر ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں، ایک قومی ذمہ داری اور چیلنج سمجھتے ہوئے اس روایت کی تصدیق یا تردید کا بیڑا اُٹھایا، اور پھر تحقیق کا حق ادا کردیا۔ اس تحقیق کیلئے وہ حکومت پاکستان کے نیشنل آرکائیو گئے ۔موضوع سے متعلق ایک ایک کاغذ دیکھا اور پڑھا، قائد اعظم کی 7اگست 1947ء ؁ کو کراچی آمد سے لیکر 15اگست 947ء ؁ تک ایک ایک لمحہ کی مصروفیت کاریکارڈ دیکھا، قیام پاکستان سے بہت پہلے سے لے کر 25اپریل1948ء ؁ تک قائد اعظم سے ملنے والوں کی مصدقہ فہرست دیکھی، قائد اعظمؒ کے اُن دنوں کے اے ڈی سی، جناب عطاربانی، جو قائد اعظمؒ کی تمام مصروفیات اور ملاقاتوں کا اہتمام کرتے تھے، سے ملاقات کرکے جگن ناتھ آزاد کے ساتھ قائد کی کسی ملاقات کے بارے میں دریافت کیا ۔اس کے بعد ریڈیوپاکستان کی14اگست 1947ء ؁ سے لیکر بہت بعد تک کی ایک ایک منٹ کی ٹرانسمیشن کاریکارڈ چیک کیا ،اُس وقت کے ریڈیو پاکستان سے وابستہ افسران سے ملاقاتیں کرکے اِس بارے میں دریافت کیا۔ مختلف مؤرخین اور مضمون نگاروں کی کتابوں سے اس زمانے کے واقعات ومعاملات کی تفصیلات پڑھیں اور اس دور کے اخبار ات اوردرسی کتب کوکھنگالا۔ اُن کی اس تمام تحقیق کا نچوڑ یہ تھا کہ جگن ناتھ آزاد نامی کسی شخص کا کسی بھی وقت ایک سیکنڈ کیلئے بھی قائد اعظمؒ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ ،ملاقات یاگفتگو ثابت نہیں۔ یہاں تک کہ جگن ناتھ آزاد کا قائداعظمؒ کی اندرون خانہ یا بیرون خانہ کسی سرکاری یا نجی میٹنگ ،محفل یامجلس میں محض موجود ہونا بھی نہیں پایاگیا، اور نہ ہی اُس کے کسی گیت کو ریڈیو پاکستان سے کبھی قومی ترانے کی حیثیت سے پڑھا،گایا یابجایا گیا۔
جگن ناتھ آزاد معروف شاعرتلوک چند محروم کا بیٹا تھا۔ میانوالی میں پیداہوا، گورڈن کالج راولپنڈی سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے فارسی کیا۔قیام پاکستان کے وقت وہ قطعی طور پر ایک غیرمعروف شخص اور ایک پاکستان مخالف اخبار ’جے ہند‘کے ساتھ منسلک تھا۔اُس وقت اُس کی عمر 29سال جبکہ قائداعظمؒ کی عمر 71سال تھی۔ قائداعظم بمبئی میں جبکہ جگن ناتھ آزاد لاہور میں رہتا تھا۔ اِن حقائق کے پیشِ نظر اِ ن دونوں کی دوستی تو کجا، تعارف تک نظر نہیں آتا۔جگن ناتھ آزاد قیام پاکستان کے ایک ماہ بعد ستمبر 1947ء ؁ میں اپنے ’دوست‘ اور اس کی عمر بھی کی جدوجہد اور خوابوں کی تعبیر ’پاکستان‘ اور پاکستان کیلئے اپنا لکھا ہوا ’قومی ترانہ‘،جو اس افسانے کے مطابق پاکستان میں ہر جگہ بج رہا تھا ، چھوڑ کر ہندوستان ہجرت کرگیا۔ ایک ماہ بعدلاہور واپس آیا،کچھ روز اپنے مسلمان دوستوں کے گھر چھُپ چھُپا کر رہا لیکن حالات کو ناموافق پاکردوبارہُ واپس چلا گیا اور مستقلاً ہندوستان میں بس گیا۔ تاہم حالات نارمل ہونے کے بعد وہ وقتاً فوقتاً پاکستان آتا جاتا رہا۔بے شک اس کا لکھا ہوا ایک ملی نغمہ ریکارڈ پر موجود ہے جس سے اِس کی پاکستان سے محبت ظاہر ہوتی ہے ۔لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ تحریک پاکستان ا ور ان کے اکابرین پر لکھی ہوئی درجنوں مصدقہ کتابوں اور انسائیکلوپیڈیاز میں جہاں عام سے عام چیز ،جگہ یا شخص جس کا پاکستان کے ساتھ کوئی معمولی سے معمولی تعلق بھی رہا ہو کا ذکرموجود ہے وہاں جگن ناتھ آزاد کا اِن کتابوں میں سِرے سے کوئی ذکرنہیں۔ ایسے شخص کو قائداعظمؒ کادوست گرداننا، اور قائداعظم کا اپنی صفوں میں موجود حفیظ جالندھری ،مولانا ظفر علی خان، مولانا حسرت موہانی جیسے بلند پایۂ شعراء کو چھوڑ کر،اور کسی ساتھی سے مشورہ کئے بغیر ،جگن ناتھ آزاد جیسے غیرمعروف شاعر سے پاکستان کا قومی ترانہ لکھوانا کسی طرح قرینِ قیاس نہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جگن ناتھ آزاد نے خود کبھی بھی قائد اعظم سے اپنی دوستی ، اُن کے کہنے پر کوئی ترانہ لکھنے اور اِس ترانے کا پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر ریڈیو پاکستان پر بجائے جانے کا دعویٰ نہیں کیا۔ممکنہ طور پر یہ شوشہ اُن سیکولر عناصر کا چھوڑا ہوا ہے جنہیں پاکستان کا اسلامی تشخص ایک آنکھ نہیں بھاتا ،اور وہ اس شو شے کے ذریعے یہ باور کراناچاہتے ہیں کہ اگرپاکستان ایک سیکولر ملک ہوتاتو یہاں سب مذاہب کے ماننے والوں کو ایک نظر سے دیکھا جاتا،اور کسی ہندوکا لکھا ہوا ترانہ یوں رد نہ کیاجاتا، جوکہ سراسر خلافِ حقیقت اور خلافِ حقائق ہے۔
ریکارڈ کی اس درستگی کے بعد میں اصل موضوع کی طرف آتاہوں کہ پاکستان کا قومی ترانہ کب اور کن کن مراحل سے گذر کر معرضِ وجود میں آیا۔ قومی پرچم اور قومی ترانہ کسی بھی ملک کے نظریۂ وجود ،ماضی کی شان، حال کی آن اور مستقبل کی بان کا مظہر ہوتاہے۔ اس کی عزت و حرمت پر گردنیں کٹا دیناباعثِ افتخار سمجھا جاتاہے، اور تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو اسے بھی ایک ایسے ہی ولولہ انگیز اورمعنویت سے بھرپور قومی ترانہ کی ضرورت تھی ۔چنانچہ اوائل 1948ء ؁ میں وزراتِ داخلہ نے اپنی سفارشات پر مبنی ایک سمری کیبنٹ ڈویژن کو بھجوائی۔ سفارشات کا خلاصہ یہ تھا کہ ملک کو ایک قومی ترانے کی ضرورت ہے ،چنانچہ ملک بھر کے بہترین شعراء کو پاکستان کا قومی ترانہ لکھنے کی دعوت دی جائے، ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جائے جو موصول ہونے والے ترانوں میں سے بہترین ترانے کا انتخاب کرے اور یہ بھی دیکھے کہ آیا یہ ترانہ کسی میوزیکل دُھن کے ساتھ ہم آہنگ کیاجاسکتا ہے۔ ان سفارشات کے ساتھ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کے کنٹرولر سید ذوالفقار علی بخاری (زیڈ اے بخاری)کاایک نوٹ بھی منسلک تھا جس میں انہوں نے تجویز کیا ہو اتھا کہ قرآن کی سورہ فاتحہ کو ہی پاکستان کا قومی ترانہ بنالیاجائے۔ ان سفارشات کو 27فروری 1948ء ؁ کو وزیراعظم لیاقت علی خان کی زیرصدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا ۔کابینہ نے سفارشات سے اتفاق کیا،تاہم کہا کہ پہلے ایک دُھن بنائی جائے اور پھر اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوجانے والے نغمے لکھوائے جائیں، اوراس سارے کام کی نگرانی اور تکمیل کیلئے ایک کمیٹی بنائی جائے ۔ یہ بات اخبارات میں بھی آ گئی۔اس پر جنوبی فریقہ میں رہنے والے ایک شخص اے آر غنی نے حکومت پاکستان کو لکھا کہ وہ قومی ترانے کے لئے منتخب ہونے والی دُھن اور نغمے کے خالق کو پانچ ہزار روپے فی کس انعام دیں گے۔چنانچہ وزارتِ داخلہ نے 2جون 1948ء ؁ کو ایک پریس نوٹ کے ذریعے ملک بھر کے موسیقاروں اور شعراء کو قومی ترانے کیلئے دُھن بنانے اور نغمے لکھنے کی دعوت دی اور ان انعامات کا بھی ذکر کیا۔ اس اعلان کے جواب میں حکومت کو 723دُھنیں اور نغمے موصول ہوئے۔ دسمبر 1948ء ؁ کو وزیرِاعظم کی طرف سے قومی ترانہ کمیٹی (National Anthem Committee)کے نام سے سردار عبدالرب نشتر (وزیر مواصلات ) کی سربراہی میں 9رکنی کمیٹی قائم کی گئی جس کا کام موصول شدہ دُھنوں اور نغموں میں سے بہترین دُھن اورنغمے کومنتخب اور ہم آہنگ کرکے قومی ترانہ ترتیب دینااور کابینہ کے سامنے منظوری کیلئے پیش کرناتھا۔ اس کمیٹی کے دیگر اراکین میں عبدالستار پیرزادہ(وزیر خوراک و زراعت و صحت)، چوہدری نذیر احمد خاں (رکن آئین ساز اسمبلی)، راج کمار چکروتی(رکن آئین ساز اسمبلی) حفیظ جالندھری (نامورشاعر)، اے ڈی اظہر(بیوروکریٹ اور اہل قلم)، زید اے بخاری(کنٹرولر پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس)،جسیم الدین (بیوروکریٹ اور بنگالی شاعر) اور ایس ایم اکرام (جائنٹ سیکرٹری وزارتِ اطلاعات ونشریات) تھے۔ اس کمیٹی نے مزید دوکمیٹیاں بنائیں۔ ایک کمیٹی بہترین دُھن اور ایک کمیٹی بہترین الفاظ (نغمے) کے انتخاب کیلئے ۔ دُھن کمیٹی نے موصول ہونے والی تمام دُھنوں کو سنا لیکن ان میں سے کوئی بھی معیار پر پورااُترتی محسوس نہ ہوئی۔ ان میں سے ایک دُھن ریڈیوپاکستان کے ایک موسیقار سجاد سرور نیازی کی بنائی ہوئی بھی تھی۔اس پر اے جی چھا گلہ (احمد غلام چھاگلہ)جو لندن کے مشہور ٹرینٹی میوزک سکول کے تربیت یافتہ اور ایک نامور موسیقار تھے اوراپنی اسی شہرت اور اہلیت کی بنا پر دُھن کمیٹی کے ممبر چنے گئے تھے سے درخواست کی گئی کہ وہ کوئی دُھن ترتیب دیں ۔ چھاگلہ نے دن رات ایک کرکے پاک بحریہ کے بینڈ کی مدد سے ایک دُھن ترتیب دی، جسے قومی ترانہ کمیٹی نے 10اگست 1949ء ؁ کو سنا اورمنظور کرلیا۔اِسی اثنا میں مارچ 1950ء ؁ میں شاہِ ایران کا دورہ پاکستان آگیا۔ ایسے مواقع پر استقبالیہ اور دیگر تقاریب میں میزبان اور مہمان ملک کے قومی ترانے بجائے جاتے ہیں۔اب مسئلہ پیداہوگیا کہ پاکستان کا تو ابھی تک کوئی قومی ترانہ ہی نہیں بنا، تو کیاکیاجائے۔ اس پر وزیراعظم کی توجہ اس طرف دلائی گئی کہ قومی ترانے کیلئے اے جی چھاگلہ کی ترتیب دی ہوئی ایک دُھن منظورکی جاچکی ہے لیکن اسے ابھی باقاعدہ منظوری کیلئے کابینہ کے سامنے پیش نہیں کیاگیا کیونکہ ابھی تک اس کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کیلئے کوئی نغمہ منتخب نہیں کیاجاسکا۔ وزیراعظم کی خواہش پر ان کے سامنے اس دُھن کو بجایاگیا جنہیں انہوں نے پسند کیا اور حکم دیا کہ شاہِ ایران کی آمد کے موقع پر اسے ہی پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر بجایاجائے۔چنانچہ یکم مارچ 1950ء ؁ کو شاہِ ایران کی آمد پر اس دُھن کوپہلی بار سرکاری ترانے کے طور پر پاک بحریہ کے بینڈ پر بجایاگیا۔ اس کے دوماہ بعد 3مئی 1950ء ؁ کووزیراعظم کو امریکہ کے دورہ پر جانا تھا ۔ وہاں بھی پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر اسی دُھن کو بھجوایا اور بجایاگیا ۔یوں کابینہ کی طرف سے باقاعدہ سرکاری منظوری سے قبل ہی اس دُھن کو عارضی طور پر پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر اختیار کرلیا گیا اور باقاعدہ منظوری تک یہی دُھن پاکستان کے اندر اور باہر سرکاری تقریبات میں بجائی گئی۔ اس دوران کابینہ کی ایک میٹنگ میں فیصلہ کیاگیا کہ چھاگلہ کی دُھن کو حتمی تصور نہ کیاجائے ۔اگر اس سے بہتر کوئی دُھن مل جائے تو اُس کو اختیار کیاجاسکتاہے ۔چنانچہ ایس ایس نیاز ی اور اے جی چھاگلہ کی دُھنیں باہمی موازنے اور اُن کے تکنیکی معیار کی جانچ پڑتال کیلئے بی بی سی لند ن کو بھجوائی گئیں۔ادھر سے بھی یہی رپورٹ موصول ہوئی کہ چھاگلہ کی دُھن تکنیکی طور پر نیازی کی دُھن سے بہتر ہے۔ 30دسمبر 1953ء ؁ کو کابینہ کے اجلاس میں اِن دونوں دُھنوں کو بجایاگیا اور اتفاقِ رائے سے اے جی چھاگلہ کی دُھن کو پاکستان کے قومی ترانے کیلئے رسمی اور باقاعدہ طور پر منتخب کرلیاگیا۔ 
دوسری طرف مناسب نغمے کے انتخاب کا معاملہ تھا ۔ شروع شروع میں تجویز کیاگیا کہ ایک قومی ترانہ اُردو زبان میں اور ایک بنگالی زبان میں بنایاجائے اور دونوں پاکستان کے قومی ترانے شمار ہوں۔بنگالی زبان میں تو بنگا ل کے مشہور شاعر قاضی نذرالاسلام کا نغمہ میسر آگیا لیکن اُردو نغمے کیلئے خاصی تگ ودوکرناپڑی۔ اب ساتھ یہ بھی شرط تھی کہ نغمہ اے جی چھاگلہ کی دُھن پر لکھا جائے ۔اگر چہ ایک موقع پر قومی ترانہ کمیٹی کے چیرمین نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ پہلے دُھن اور پھر نغمہ کے بجائے پہلے نغمہ اور پھر اس کے مطابق دُھن ہوناچاہئے ، لیکن وزیراعظم کا فیصلہ حاوی رہا۔ابھی کوئی نغمہ منتخب نہیں ہوا تھا کہ یہ فیصلہ ہوا کہ چونکہ پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے ، اس لئے صرف ایک ہی ترانہ اور وہ اُردو زبان میں ہونا چاہئے۔ چنانچہ بنگالی ترانے کا انتخاب ترک کر دیا گیا۔
29مارچ 1951ء ؁کو قومی ترانہ کمیٹی نے بہت سارے نغمات کاجائزہ لے کر فیصلہ دیا کہ حفیظ جالندھری اور حکیم احمد شجاع کے نغمات بہترین ہیں لہذا اِن کو چھاگلہ کی دُھن سے ہم آہنگ کیاجائے۔حفیظ جالندھری کا نغمہ تو ہم آہنگ ہوگیا، لیکن حکیم احمد شجاع کا نغمہ چھاگلہ کی دُھن سے مطلوبہ تکنیکی معیار کے مطابق ہم آہنگ نہ ہوسکا، لہذا اسے ترک کردیاگیا۔ اس دوران بہت ساوقت گذر گیا۔ ریڈیوپاکستان کے کنٹرولر براڈ کاسٹنگ ،زیڈ اے بخاری ،اپنی سرکاری حیثیت کی وجہ سے ان سارے معاملات میں بہت اہم اور متحرک تھے۔ انہوں نے اپنا ایک نغمہ بھی اس مقابلے میں بھجوا رکھا تھا۔ انہوں نے کوشش کرکے اپنا نغمہ بھی دُھن کے ساتھ ہم آہنگ کرکے کمیٹی کے سامنے پیش کردیا۔اسے بھی بہتر پایاگیا ۔اب مقابلہ حفیظ جالندھری اور زیڈ اے بخاری کے نغمات کے درمیان آن پڑا۔ ایک موقع پر یہاں تک فیصلہ ہوا کہ قومی ترانے کا پہلا بند زیڈ اے بخاری اور آخری دو بند حفیظ جالندھری کے نغمے سے لے لئے جائیں۔ اس فیصلہ پر حفیظ جالندھری نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ نغمہ ایک ہی شاعر کا ہونا چاہئے خواہ وہ کسی شاعر کا ہو۔ اسی دوران کابینہ کے ایک دو ممبران نے حفیظ جالندھری سے درخواست کی کہ وہ اپنے نغمے میں الفاظ ’پرچم‘ اور ’جانِ استقبال‘ کی ترکیب پر نظر ثانی کریں اور ان کے کوئی متبادل الفاظ شامل کردیں۔ حفیظ جالندھری نے اس پر ایک مدلل اور پُر مغز جواب ارسال کرکے اپنے انہی الفاظ وترکیب پر اصرار کیا اور اسے بدلنے سے انکار کردیا۔ بالآخر 4اگست 1954ء ؁ کو کابینہ نے اپنے حتمی فیصلے میں اے جی چھاگلہ کی دُھن پر حفیظ جالندھری کے اصل نغمہ کو ہم آہنگ کرکے بنے ہوئے ترانے کو پاکستان کے قومی ترانہ کے طور پر منظور کرلیا۔ اس ترانے کو پاکستان کے منظور شدہ قومی ترانے کے طور پر پہلی بار ریڈیوپاکستان پر 14اگست 1954ء ؁کو ابوالعصر حفیظ جالندھری نے خود اپنی آواز میں گایا۔حفیظ جالندھری کے ترانے کو اپنی آواز میں گانے پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے ۔حفیظ جالندھری ایک عظیم شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھے گائیک بھی تھے۔شروع سے ہی مسلم لیگ کے جلسوں میں عوام کو گرمانے کیلئے وہ اپنا کلام خصوصاً’شاہ نامہ اسلام‘ ترنم کے ساتھ گایاکرتے تھے۔ اُنہوں نے اپنا یہ کلام حضرت علامہ اقبالؒ اور حضرت قائداعظمؒ کی زیرِ صدارت اجلاسوں میں بھی گا یا اور داد پائی۔ بعد ازاں1955ء ؁ میں پاکستان کا قومی ترانہ ملک کے اُس وقت کے گیارہ ممتاز گلوکاروں شمیم بانو، کوکب جہاں، رشیدہ بیگم، نجم آراء، نسیم شاہین، احمد رشدی، زوار حسین، اختر عباس، غلام دستگیر، انور ظہیر، اختر وصی علی کی مشترکہ آواز میں ریکارڈ کیاگیا۔اور یہی وہ ترانہ ہے جو تب سے اب تک ہر جگہ بجایاجاتاہے۔ قومی ترانہ ریکارڈ کرنے میں 21آلاتِ موسیقی اور 38مختلف ٹونز استعمال کی گئیں۔ اس کا مکمل دورانیہ ایک منٹ اور بیس سیکنڈ ہے۔ 
پاکستان کے قومی ترانے کی دُھن بڑی بلند آہنگ اوردبنگ ہے جو انسانی طبیعت میں ولولہ اور جوش وخروش کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ قومی ترانہ فوجی بینڈ سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اوراسی خصوصیت کی بناپردنیاکے کسی بھی ملک کے فوجی بینڈ پر آسانی سے بجایاجاسکتاہے ۔ قومی ترانہ فارسی زبان کاایک خوبصورت مرقع، نظریہ پاکستان کا ترجمان، سرزمین پاکستان کی خوبصورتی اور شان وشوکت کا مظہر ، پاکستانی عوام کی عظمتوں کا امین، ان کے شاندار ماضی وحال اور بہترین مستقبل کا پیش گواور خدائے ذوالجلال کے سایۂ لطف وکرم کا طالب ہے۔ ایک عالمگیر سروے کے مطابق پاکستان کا قومی ترانہ اپنی دُھن کے تکنیکی معیار اور الفاظ کی معنویت کے اعتبار سے دنیاکے تین بہترین ترانوں میں سے ایک ہے۔
(بحوالہ ’’پاکستان ۔۔۔میری محبت‘‘ از ڈاکٹر صفدرمحمود، ’ ’پاکستان کرانیکل‘‘ مرتّبہ عقیل عباس جعفری ، ’’انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا‘‘ مرتّبہ سید قاسم محمود، ’’انسائیکلوپیڈیاتحریکِ پاکستان‘‘ مرتبہ احمد سلیم شیخ، ’’تاریخ قومی ترانہ پاکستان۔۔کیبنٹ ڈویژن کے ریکارڈ کے مطابق‘‘ مرتّبہ حکومتِ پاکستان، ’’اکابرینِ پاکستان ‘‘ از محمد علی چراغ و کتب دیگر)

  • تحریکِ پاکستان کے شہیدوں کا قرض از محمد الطاف قمر (سابق آئی جی پولیس) <<یہاں پڑہیں >> 

View my Flipboard Magazine.
Related:
Love Pakistan: http://pakistan-posts.blogspot.com/p/love-pakistan.html
Why Pakistan? http://pakistan-posts.blogspot.com/p/why-pakistan.html
Genesis of Terror & Road to Peace
پنجاب ، سندھ ،بلوچ، انڈیا اور پختون اکثریت کے مسلمانوں نے  پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا- خیبر پختون خواہ (سابقہ صوبۂ سرحد) کے غیور مسلمانوں نے ہندوستان کی تقسیم کے وقت ،ریفریڈم میں اسلامک ریپبلک پاکستان کے حق میں ووٹ دے کر پختون قوم پرستی کوہمیشہ ہمیشہ کے لینے مسترد کردیا-  اب پنجابی ، سندھی، بلوچی، پختون یا مہاجر قوم پرستی پر سیاست صرف انتشار، فساد اور پاکستان دشمن قوتوں کی مدد کے مترادف ہے- ہان اپنی برادری کے فایدہ، حقوق اور ترقی کے لیے کام کرنے پر کون اعتراض کر سکتا ہے؟
قرآن و حدیث کے واضح احکام کے بعد بھی اگر ہم نسل ، زبان کی بنیاد پر قوم پرستی کا پرچار کریں اور اپنے آپ کو مسلمان بھی کہیں یہ کیسے ممکن ہے ؟ 
..........................................
Over 100 Selected Videos on Pakistan
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits

Articles by Muhammad Altaf Qamar, Ex Inspector General of Police


Muhammad Altaf Qamar is a retired Inspector General Police Pakistan, reputed for his dedication, honesty, hard work and professionalism. A devoted Pakistan loving person, regularly writes in the national print media on issues of public concern and awareness. Some of his  selected writings have been placed here with links for easy access.
[Short link to this page: http://goo.gl/wq7U6n ]

...................................................
یادوں کے دریچے

الطاف قمر صاحب پاکستان کے چند مائیہ ناز ایماندار اور پروفیشنل پولیس افسروں میں ایک ہیں۔ انہوں نے اپنے طویلل کیرئیر کے تجربات ہماری راہنمائی کے لئیے لکھنا شروع کیا ہے۔ تلخ حقائق اور امید کی کرنیں شائید ایک اچھے مستقبل کی نوید ہو؟ انہوں نے اپنے کیرئیر کی داستان  قسط وار،یادوں کے دریچے" میں دلچسپ انداز میں بیان کی ہے۔ اس میں ہمارے معاشرے کے چہرے کے دونوں رخ نظر آتے ہیں ۔۔
10.پنجاب پولیس سے ایف آئی اے اور واپسی
9.صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) سے واپسی

5. کون جیتا کون ہارا ؟ >>>>>>

4. پکڑنا اشتہاری ملزم کا اور صدر پاکستان کے سامنے پیشی-- الطاف قمر >>>>>>


https://SalaamOne.com/Altaf-Qamar




  • تحریکِ پاکستان کے شہیدوں کا قرض
  • از محمد الطاف قمر (سابق آئی جی پولیس)
  • 1947ء ؁ کا سورج طلوع ہوا تو تحریکِ پاکستان اپنے پورے زوروں پر تھی ۔ ہندوستان کا ہرشہر ، قصبہ ، گاؤں، گلی اور محلہ ’پاکستان کا مطلب کیا ؟ لاالہ الااللہ ! ‘ ، ’لے کے رہیں گے پاکستان ‘ ، ’بن کے رہے گا پاکستان‘ ، ’بٹ کے رہے گا ہندوستان‘ اور ’قائداعظمؒ زندہ باد‘ کے نعروں سے گونج رہاتھا ۔ مسلمانانِ ہند کا جوش وخروش دیدنی تھا ۔ کیا چھوٹا کیابڑا، کیامرد کیا عورت، کیا بچہ کیا بوڑھا : ایک ہی دُھن ، ایک ہی جذبہ ، ایک ہی مقصد اور ایک ہی مطالبہ ، پاکستان! یہ جذبہ اور جوش و خروش اُن علاقوں میں بھی اُسی طرح برپا تھا ، بلکہ کچھ زیادہ ہی ، جو کسی صورت پاکستان کا حصہ نہ بن سکتے تھے، جیسا کہ اُن علاقوں میں جو مجوزہ اور مطلوبہ پاکستان کا حصہ بننے جارہے تھے۔ ماسوائے چند کانگرسی اور احراری علماء اور اُن کے پیروکاروں کے ، پورے ہندوستان کے مسلمان رنگ، نسل، زبان ،علاقہ ، سیاسی، سماجی اور معاشی حیثیت کے تعصبات سے بالاتر ہوکر ایک اُمت اور ایک قوم ’ مسلم اُمہ‘ کی حیثیت اختیار کرچکے تھے، جن کا ایک ہی نصب العین اور ایک ہی منزل تھی ، پاکستان! >>>>
  • .....................................
  • پاکستان کا قومی ترانہ: افسانہ اور حقیقت !
    از محمد الطاف قمر(سابق انسپکٹر  جنرل پولیس )
    پاکستان کا قومی ترانہ ’ پاک سرزمین شاد باد کشور حسین شاد باد‘ خون کو گرما دینے والی دبنگ دُھن اور دل کی گہرائیوں کو چھُو لینے والی شاعری کاایک خوبصورت مرقع ہے ۔ یہ کب اور کن مراحل سے گذر کر معرض وجود میں آیا ،اس پرکچھ لکھنے سے پہلے ایک افسانوی روایت کی تردید ضروری ہے جس کا آج کل سوشل میڈیا پر چرچا ہے اوردرحقیقت اسی نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر آمادہ کیا۔>>>>> 
  • ...............................
  • English Articles

    How the ANF, despite being a small force, is working to eradicate this menace The menace of drug has engulfed the world at large. Every country is making all possible efforts to.. [......…]
    Lahore: Project Director Drug Free City Lahore Muhammad Altaf Qamar has said that law-enforcement agencies are dealing with narcotics peddlers sternly, but the whole society will have to promote anti-addiction culture to accomplish the noble cause of setting up a drug-free city. Giving a briefing on the progress on the Drug Free City Lahore, during a meeting with workers of ... Read More »
  •  10 Reasons to Keep Moving Forward


    Staying on course can be a challenge when life throws a sucker punch at you. Here are some tools to help you get to where you want to go and shake off what has held you back.

    1.Don’t give up. Once you quit, it is never quite the same. Whether it’s a relationship, a job, or your life, you are in charge of your choices. Giving up may enter your mind, but find some way to keep going, even if you have to do things a little differently.

    2.Take it one day at a time. It can be tough going in this world we have created. Former lovers sue each other, companies fire people to increase the bottom line, and there are evil people out there who get their kicks by hurting others. You can’t let all this get to you. Try talking first, because you don’t always need a lawyer, and get your personal support system involved.

    3.Love and prosperity can come in a minute, so be ready. You really do never know what tomorrow will hold. I have seen things change drastically, and for the better, overnight. And even if it takes a little longer, that is better than hiding from the world.

    4. Stay positive. The world is not your enemy. Albert Einstein once said, “We all need to see the Universe as friendly.” This is true wisdom from a great man who knew more about the nature of things than most anyone.

    5.Go at your own pace, but don’t stop moving forward. You may have been beaten down, but you are not broken. Even if you have suffered and lived through a life-altering trauma, if you still have a beating heart and air in your lungs, you can get back on your feet.

    6.Remember, it’s not a race. If you do just one thing a day, you will reach your goal. Sometimes even doing that one thing can seem overwhelming, and if so, just get started and you can always give yourself the weekend off. Pretty soon you will find that doing this work to get to the next level of your life is actually rewarding, and you will start to feel better.

    7.Even making a little progress can go a long way. The key is to stick with what you’ve started. It’s kind of like writing a book. In the beginning, you have an idea, or maybe several, but by writing one page at a time, you will complete the book and feel pretty great about yourself. Progress is a great healer.

    8.Recognize that what you are going through now is not permanent. Sadly, there are things we can do nothing about, but we have a lot more control over our own moods and actions than most people think. Whatever circumstance you are dealing with, your job is to nurture the strength within you. Doing this will bring you greater stability and success in all areas.

    9.Think about your thinking. If you don’t think you will make it, it could become a self-fulfilling prophecy. Research says that up to 80 percent of our thoughts are negative, and that needs to change. When you learn to recognize your negative thoughts, you can begin to think more positively, which will make you feel better about yourself and your life. Imagine having 80 percent positive thoughts!

    10.Learn to deal with disappointment. When Murphy’s Law is in full force, you may wonder why you are even trying. The truth is that successful people in all walks of life have to deal with disappointment sometimes. It’s part of the deal. The trick is to not let disappointments stop you. Ever.

    Don’t let life throw you offtrack. Take the time you need to refocus and gain some clarity. You will be well prepared for your next adventure.

    10 Reasons to Keep Moving Forward
    psychologytoday.com

    Related:
    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
    Humanity, ReligionCultureSciencePeace
     A Project of 
    Peace Forum Network
    Peace Forum Network Mags
    BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
    Overall 2 Million visits/hits

    Destruction if National Action Plan (NAP) نیشنل ایکشن پلان کا دھڑن تختہ ۔۔۔۔ !


    آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے ایک 20 نکاتی جامع منصوبہ نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا۔20 میں سے 4 پوائنٹ پر فوج نے عمل کرنا تھا جو کیا۔ مگر حکومت باقی 16 پوائنٹس پر عمل درآمد نہیں کروایا رہی اس سے دہشت گردوں کو مدد مل رہی ہے اور وہ تباہی بربادی میں مشغول ہیں۔ کچھ دانشوروں کی رائے:
    سلیم شاہد کہتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل تو ہو رہا ہے لیکن خود پاکستانی فوج اپنے بیان میں حکومت سے کہہ چکی ہے کہ وہ اس کی تمام شقوں پر عملدرآمد کرے۔
    شہزاد چوہدری کا خیال ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے بہت سے ایسے نکات ہیں جن پر اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر لوگ ان نکات کو ہاتھ نہیں لگا رہے ۔
    امتیاز گل کا کہنا ہے کہ’ فوج کی جانب سے تو فاٹا، سندھ اور بلوچستان میں فوج نے جا کر حکومت کی رٹ قائم کی ہے لیکن نیشنل ایکشن کا دوسرا حصہ سویلین ادارے تھے۔ پولیس انٹیلیجنس بیورو کی کارکردگی ہے جس پر ابھی بہت سا کام ہونا باقی ہے۔‘
    اب بھی حکومت نیشنل ایکشن پلان کے کن اہم نکات کو نظر انداز کر رہی ہے؟
    اس سوال کے جواب میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ پہلی خرابی تو یہ ہے کہ ہماری حکومت نے ایکشن کے بجائے ری ایکشن پلان بناتی ہے یعنی کسی بھی واقعے کے بعد ایک فوری جوابی کارروائی کا منصوبہ مرتب کرتی ہے۔
    سول لیڈر شپ غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اگر وہ کسی دباؤ میں ہے بھی تو اس کی جانب سے کبھی بھی عوام کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔‘سول حکومت نہ تو نیکٹا کو فعال کر سکی نہ مدارس کی اصلاحات نہ اداروں میں رابطوں کی بہتری کے لیے کچھ کر سکی ہے۔
    اس کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ سول اور ملٹری قیادت نیشنل ایکشن پلان اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک ہی رائے پر متفق نہیں ہے۔
    وہ کہتے ہیں کہ ’سول قیادت غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اگر وہ کسی دباؤ میں ہے بھی تو اس کی جانب سے کبھی بھی عوام کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔
    سول حکومت نہ تو نیکٹا کو فعال کر سکی نہ مدارس کی اصلاحات، نہ اداروں میں رابطوں کی بہتری کے لیے کچھ کر سکی ہے۔‘
    ماہرین سمجھتے ہیں کہ اگرچہ دہشت گردی کے واقعات ایک بار پھر بڑھتے نظر آ رہے ہیں تاہم جب تک پاکستان میں نظریاتی، سٹریٹیجک اور سفارتی سطح پر درست اقدامات نہیں کیے جاتے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔
    .....................
    اب ضرورت ہے کہ:
    1 ۔۔۔ عدالتی سزاؤوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ 
    اس شق پر عمل درآمد عدلیہ کی حکم امتناع کے بعد روک دیا گیا ہے۔ یعنی اس شق پر خود عدلیہ نے ہی عمل درآمد رکوایا ہوا ہے۔

    2 ۔۔۔ فوجی عدالتوں کا قیام۔ 
    اس شق میں یہ پخ لگائی گئی کہ فوجی عدالتیں خود ایکشن نہیں لے سکیں گی بلکہ سول حکومت ان کو کسیز فارورڈ کرے گی۔ ان آرمی عدالتوں کی مدت صرف دو سال رکھی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 11000 کیسز میں سے صرف چند ایک ہی آرمی عدالتوں کے حوالےکیے گئے۔ جن کے فیصلہ فوری طور پر آرمی عدالتوں نے سنا دئیے۔ تب آرمی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ نے ایکشن لے کر ان پر عمل درآمد رکوا دیا۔ ان سزاوؤں کو وکلاء بار کی صدر عاصمہ جہانگیر نے انسانیت کے خلاف قرار دیا۔ اب ان عدالتوں کی مدت ایک مہینہ ہوئے ختم ہوگئی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ ان کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو باقی سیاسی جماعتوں کو پہلے اعتماد میں لے گی!

    3 ۔۔۔ ملک سے مسلح ملیشیاز کا خاتمہ۔
    یہ کام پاک فوج کر رہی ہے اور اس نے یہ کر دیا ہے کہ کے پی کی، قبائیلی پٹی، بلوچستان اور کراچی سے دہشت گردوں کے مراکز اور لشکروں کا خاتمہ کر دیا ہے۔

    4 ۔۔۔۔۔ نیکٹا کا قیام 
    دہشت گردی کی روک تھام کے لیے بنائے جانے والے اس ادارے کے لیے اسحاق ڈار صاحب پچھلے دو سال سے فنڈز ہی ریلیز نہیں کر رہے تھے۔ کیونکہ حکومت کے پاس 21 ارب روپے نہیں تھےجبکہ اسی اثنا میں اورینج ٹرین کے لیے 160 ارب، میٹرو کے لیے 70 ارب اور کسان پیکج کے لیے 300 ارب فوری طور پر فراہم کر دئیے گئے۔ حالت یہ ہے کہ نیکٹا کے پاس اپنی بلڈنگ تک نہیں ہے۔ اس کے بورڈ اور گورنرز کا پہلا اجلاس ہی طلب نہیں کیا جا سکا ہے کیونکہ اس اجلاس کی صدارت وزیراعظم نے کرنی ہے جو ابھی تک اس میٹنگ کے لیے ٹائم نہیں نکال سکے ہیں۔ (کوئٹہ بلاسٹ سے پہلے وزیراعظم نواز شریف پچھلے 4 دن سے مری کے موسم سے لطف اندوز ہوتے رہے)

    5 ۔۔ انتہا پسندانہ مواد اور تقاریر کا خاتمہ۔
    اس پر کوئ عمل درآمد نہیں کروایا گیا گو کہ وزیرداخلہ صاحب نے اعلانات بھی کیے۔ آج بھی مساجد میں نفرت انگیز تقاریر کی جاتی ہیں اور اہم ترین سیاسی علماء حکومت کے اتحادی ہیں جنکا ان مساجد پر اثرورسوخ ہے۔ نتیجے میں کچے ذہنوں میں انتہاپسندی پھیل رہی ہے۔

    6 ۔ دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنا۔ 
    اس کےلیے پاک فوج نے کراچی میں زبردست آپریشن کیا جس کے نتیجے پیپلز پارٹی دہشت گردوں کی سب سے بڑی فنڈنگ کرنے والی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور اسی کی سندھ میں حکومت بھی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نواز شریف حکومت کی غیراعلانیہ اتحادی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم اور ایان علی کا معاملہ لٹکا دیا گیا اور ٹپی، شرجیل میمن اور آصف زرداری وغیرہ پاکستان سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ تب فنڈنگ کیسے روکیں ؟

    7 ۔۔ کلعدم تنظیموں کو دوسرے ناموں سے فعال ہونے سے روکنا۔
    اس پر بھی کوئی عمل نہیں ہو رہا بلکہ کچھ کلعدم تنظمیں رانا ثناءاللہ کے ذریعے حکومت کی اتحادی بنی ہوئی ہیں۔

    8 ۔ انسداد دہشت گردی کے لیے خصوصی فورس کا قیام۔
    یہ فورس شائد قیامت والے دن بنے گی۔ سول حکومت دو سال پورے ہونے کے بعد بھی اب تک اس پر کام کا آغاز نہیں کر سکی ہے۔

    9 ۔۔ مذہبی بنیادوں پر استحصال اور امتیاز کے عمل کو روکنا۔ 
    اس پر بھی کوئی عمل نہیں ہورہا۔ حتی کہ میڈیا تک پر فرقہ واریت پر مبنی مباحثے پیش کیے جا رہے ہیں۔ سول حکومت اور پیمرا خاموش ہے۔

    10 ۔۔ مدارس کی رجسٹرین اور ریگولیشن کو یقینی بنانا۔
    اس پر عمل درآمد تو دور کی بات سول حکومت دو سال پورے ہونے کے بعد بھی ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ یہ کام مذہبی وزارت کے امور نے کرنا ہے، تعلم کی وزارت نے یا وزات داخلہ نے۔ جبکہ مدارس کے سب سے بڑے نیٹ ورکس چلانے والے فضل الرحمن جیسے لوگ حکومت کے اہم ترین اتحادی ہیں۔

    11 ۔۔۔ میڈیا وغیرہ سے دہشت گردوں کو پرکشش بنانے کا عمل روکنا۔
    میڈیا میں تو پاک فوج کے خوف سے یہ عمل کم ہو گیا ہے لیکن جب بات دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی آتی ہے تو آج بھی نہ صرف میڈیا بھرپور انداز میں انکا موقف پیش کرتا ہے بلکہ میڈیا پر آکر وہ دھڑلے سے آپریشن کرنے والی رینجرز اور پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔ حکومت اور اسکے ماتحت کام کرنے والی پیمرا اس پر کوئی ایکشن نہیں لے رہی۔اسی طرح سوشل میڈیا اور مساجد کے منبروں پر یہ کام بدستور جاری ہے۔

    12۔۔۔ فاٹا میں ریفارمز۔ 
    یہ ایک سہانا خواب تھا جس پر جمہوری حکومت کی جانب سے صفر کام کیا گیا۔ بلکہ دہشت گردی سے متاثر ویزرستان کے لوگوں کے لیے فنڈز تک منظور نہیں کیے جا سکے۔ ان لاکھوں متاثرین کی دیکھ بھال اور ویزرستان میں ممکن حد تک انفرسٹرکچر کی تعمیر پاک فوج محض اپنے بل بوتے پر کر رہی ہے۔

    13 ۔۔۔۔ دہشت گردوں کے کمیونیکشن نیٹ ورکس ختم کرنا۔
    پاک فوج اور ہماری اینٹلی جنس ایجنسیوں نے اس پر کام کرتے ہوئے حیرت ناک کامیابی حاصل کی اور نہ صرف پورے پورے نیٹ ورکس پکڑے گئے بلکہ تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کل بھوشن کی صورت میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک چلانے والے بھی پکڑے گئے۔ سول حکومت سے توقع کی جارہی تھی کہ اب وہ یہ معاملہ بھرپور انداز میں انڈیا اور ایران کے سامنےاٹھائی گی بلکہ اقوام عالم کے سامنےبھارت کا چہرہ بے نقاب کرے گی۔ لیکن وزیراعظم پاکستان کی زبان سے تاحال کل بھوشن کا نام تک نہیں لیا گیا ہے۔

    14 ۔۔ انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنا۔
    اس پرآج بھی کھل کر دہشت گرد اپنے نظریات کی پرچار کر رہے ہیں۔ تاہم حکومت پر تنقید کے خلاف کچھ دن پہلے نہایت تیزی سے سائبر کرام بل منظور کر لیا گیا ہے۔

    15 ۔۔ پنجاب کے اندر سے عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا۔
    پنجاب میں پاک فوج اور رینجرز کو سول حکومت آپریشن کرنے کی اجازت ہی نہیں دے رہی ۔ جبکہ لیفٹننٹ جنرل طارق کے مطابق زیادہ تر " دہشت گردوں کا مائنڈ سیٹ جنوبی پنجاب میں بنایا جاتا ہے اور وہیں سے سب سے زیادہ بھرتیاں کی جاتی ہیں جبکہ سندھ سے فنڈز آتے ہیں " ۔۔ معروف صحافی عارف حمید بھٹی کےمطابق "تمام صوبوں سے دہشت گرد بھاگ کر جنوبی پنجاب میں پناہ لیتے ہیں جس کو دہشت گردوں کے لیے جنت کا ٹکڑا بنا دیا گیا ہے۔ "

    16 ۔۔ کراچی میں آپریشن۔ 
    اس پر رینجرز اور پاک فوج پوری تندہی سے عمل کر رہی ہیں اور اس کے تحت جتنی بھی گرفتاریاں ہوئیں سب کی پشت پر سیاسی و جمہوری جماعتیں برآمد ہوئیں۔ جنہوں نے اب اس آپریشن کو ہی متنازعہ بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر عاصم اور عزیر بلوچ کا معاملہ لٹکا دیا گیا ہے۔ نائن زیرو پر چھاپے میں دو درجن دہشت گرد پکڑے گئے تھے ان کا ابھی تک کچھ نہیں ہوسکا ہے۔ بہت سوں کی عدلیہ نے قبل از گرفتاری ضمانتیں منظور کر لیں۔ عدالت میں گرینڈ پھٹ جاتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ " ثابت " نہیں ہورہا۔ حکومت نے پاک فوج کی مدد کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا تھا جس کا دو سال بعد بھی کوئی اتا پتا نہیں ہے۔

    17 ۔۔ بلوچستان میں مفاہمت ۔۔
    اس پرجنرل ناصر جنجوعہ صاحب نے بے پناہ کام کیا اور بے شمار بلوچون کو قومی دھارے میں واپس لایا گیا۔ لیکن جہاں تک ان بلوچوں کی محرومیاں دور کرنے کی بات ہے تو حالت یہ ہے کہ صرف صوبائی وزیر خزانہ کے سیکٹری کے گھر سے 70 /70 کروڑ روپے نقد برآمد ہو رہے ہیں۔ بلوچوں کے حقوق جمہوریت کھا گئی۔ اگر یہی حالت رہی تو آپ انکو دوبارہ واپس دہشت گردی کی طرف جانے سے کتنا عرصہ تک روک پائینگے ؟؟

    18 ۔۔ فرقہ ورانہ تنظیموں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عہد۔۔ 
    کیا اس پر آپ نے کسی پیش رفت کے بارے میں سنا ہے ؟ ابھی تک صفر ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ فرقہ پرستی پر بنی کچھ جماعتوں کے سیاسی ونگ بھی ہیں جو حکومت کے کافی قریب ہیں۔

    19 ۔۔ افغان مہاجرین کا مسئلہ حل کرنا۔ 
    اس معاملے میں صرف پاک فوج اور کے پی کے میں قائم پی ٹی آئی کی حکومت ہی کام کر رہی ہے اور افغان مہاجرین کی باعزت اور جلد واپسی پر کام ہو رہا ہے۔ جبکہ حکومتی جماعت کے تینوں اہم ترین اتحادی مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی اور اسفند یار والی افغان مہاجرین کی واپسی کی مخالفت کر چکے ہیں۔ بلکہ محمود اچکزئی تو صوبہ کے پی کے کو افغانستان کا صوبہ قرار دے چکے ہیں۔ لیکن کسی نے ان سے سوال تک نہیں کیا۔

    20 ۔۔ عدلیہ یا جسٹس سسٹم کی تشکیل نو۔
    اس پر کوئی کام نہیں ہوا ہے اور عدلیہ ہی پاکستان میں تمام مسائل کی جڑ ہے۔ صرف عدالتیں ٹھیک ہوجائیں تو ہر قسم کی کرپشن، بد انتظامی اور جرم کو روکا جا سکتا ہے۔ لیکن دو سال ہوگئے ہیں ابھی تک اس معاملے میں حکومت کی طرف سے پہلا قدم بھی نہیں اٹھایا گیا ہے۔

    آپ نوٹ کیجیے نیشنل ایکشن پلان کے صرف ان ہی حصوں پر کام ہو سکا ہے جو پاک فوج نے کرنے تھے۔ جمہوری حکومت کے حصے کا کام دو سال بعد بھی صفر کا صفر ہے۔ منتخب جمہوری حکومت نے ابھی تک کمیٹیاں بنانے، اجلاس کرنے، بیان بازی اور بھاری بھرکم تنخواہوں پر نئے نئے وزیر اور مشیر بھرتی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔
    پاکستان میں دہشت گردی ایک نہایت پیچیدہ معاملہ ہے جس میں دنیا بھر کی بڑی بڑی طاقتیں ملوث ہیں اور انکی مدد پاکستان کے اندر سے کئی مذہبی اور سیاسی گروہ کر رہے ہیں۔ اس جنگ کے بے شمار پہلو ہیں اس لیے اس سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کے مشورے سے یہ نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا گیا تاکہ سارے پہلوؤں کا احاطہ ہوسکے۔
    پاک فوج کے ذمے اس پلان کا سب سے مشکل حصہ تھا جو اس نے پورے جوش و جذبے سے اور اپنے ہزاروں جوانوں کی قربانی دے کر بخوبی پورا کیا۔ اسی کا نتیجہ ہے جو آپ ملک میں کسی حد تک امن و آمان دیکھ رہے ہیں۔ لیکن جو حصہ منتخب جمہوری حکومت نے کرنا تھا اس پر ایک فیصد کام بھی نہیں ہوا بلکہ الٹا پاک فوج کے راستے میں بھی مختلف رکاؤٹیں حائل کی جا رہی ہیں جنکا مشاہدہ آپ کر رہے ہیں۔
    سچائی یہ ہے کہ پاکستان کی جمہوری قوتیں نیشنل ایکشن پلان کا دھڑن تختہ کرنے کے درپے ہیں۔ اگر صورت حال یہی رہی تو 6 لاکھ تو کیا 60 لاکھ کی فوج بھی یہ دہشت گردی ختم نہیں کروا
     اس کا مطلب مارشل لاء نہیں بلکہ عوام کو حکومت پر دبائو بڑھانا تاکہ اپنا کام کریں 

    Related:
    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
    Humanity, ReligionCultureSciencePeace
     A Project of 
    Overall 2 Million visits/hits

    What are the advantages and disadvantages of using the First-past-the-post voting system?

    First past the post or FPTP, also known as Simple Majority Voting, Winner-takes-all voting or Plurality voting is the most basic form of voting system. In its simplest form, under FPTP, voting takes place in single-member constituencies. Voters put a cross in a box next to their favoured candidate, and the candidate who gathers the most votes in the constituency or other electoral area wins the election. All other votes count for nothing. FPTP is clear, simple and decisive in the majority of cases, but many would argue that it is anything but a representative voting system. FPTP can also be used in multi-member electoral areas where voters are asked to vote for as many candidates as there are vacancies. Examples include local council elections, elections of foundation trust governors and membership organisations.

    In public elections, FPTP is the second most widely used voting system in the world, after Party-List PR. It is principally used in the electoral systems that are either are, or were once, British Colonies. FPTP is currently used to elect members of the House of Commons in the UK, both chambers of the US Congress and the lower houses in both Canada and India. The use of FPTP voting systems used to be more widespread, but many countries have now adopted other alternative voting systems.

    The advantages and benefits of a FPTP voting system

    It’s simple to understand.
    It doesn’t cost much to administer.
    It’s is fairly quick to count the votes and work out who has won; meaning results can be declared relatively quickly after the polls close.
    In a political environment, FPTP enables voters to clearly express a view on which party they think should form the next government.
    FPTP is ideally suited to a two-party system and generally produces single-party governments, although the 2010 UK General Election was an obvious exception
    Single-party governments by and large don’t have to rely on support from other parties to pass legislation, though as the UK has found that is not always necessarily the case as the current Coalition Government demonstrates.
    Some would argue that FPTP voting systems encourage broad-church centrist policies and discourage extremist points of view
    The disadvantages and shortcomings of FPTP voting systems

    Representatives can get elected with small amounts of public support, as the size of the winning margin is irrelevant: what matters is only that they get more votes than other candidates.
    FPTP encourages tactical voting, as voters often vote not for the candidate they most prefer, but against the candidate they most dislike.
    FPTP is regarded as wasteful, as votes cast in a constituency for losing candidates, or for the winning candidate above the level they need to win that seat, count for nothing.
    FPTP can severely restrict voter choice. Parties are not homogenous and do not speak with one unified voice. Parties are more coalitions of many different viewpoints. If the preferred-party candidate in a constituency has views with which a voter doesn’t agree, he or she doesn’t have a means of expressing that at the ballot box.
    Rather than allocating seats in line with actual support, FPTP rewards parties with what is often termed ‘lumpy’ support; that is, with just enough votes to win in each particular area. With smaller parties, this works in favour of those with centralised support.
    With relatively small constituency sizes, the way boundaries are drawn can have important effects on the election result.
    Having small constituencies often leads to a proliferation of safe seats, where the same party is all but guaranteed re-election at each election. This not only effectively disenfranchises a region’s voters, but it leads to these areas being ignored when it comes to framing policy.
    If large areas of the country are effectively electoral deserts for any particular party, not only is the area ignored by that party, but also ambitious politicians from the area will have to move away from their locality if they aspire to have influence within their party.
    Because FPTP restricts a constituency’s choice of candidates, the representation of minorities and women suffers, as the ‘safest’ looking candidate is the one most likely to be offered the chance to stand for election
    Although encouraging two-party politics can be advantageous, in a multi-party culture, third parties with significant support can often be greatly disadvantaged.
    For an independent assessment of your organisation’s electoral needs and impartial advice and guidance about the electoral system that best fits your requirements speak to UK-Engage.
    http://www.uk-engage.org/2013/06/what-are-the-advantages-and-disadvantages-of-using-the-first-past-the-post-voting-system-2/

    Genesis of Terror & Road to Peace

    ..............

    Interrogating democracy

    BREXIT has triggered two arguments about democracy: (1) Voters are ignorant, and (2) representatives are selfish. In either case the implications for governance are grave. It is significant that the questions are being asked in the West. They have always been on the table in countries like Pakistan but dismissed as reflecting the limitations of people rather than of democracy.
    The answers in Pakistan are clear. The wisdom of voters is extolled in theory but undermined by contempt for their intelligence in practice. Citizens are never asked how the revenue they contribute ought to be allocated — they cannot be trusted to determine what is good for them or the nation. As for the representatives, voters are convinced of their dishonesty, their task limited to selecting the least crooked. The rulers themselves leave no doubt accusing each other of egregious malfeasance.
    In the West the questions are more nuanced and therefore of greater intellectual interest. What is the limit to the knowledge of voters? They are considered independent and capable enough to choose local representatives based on their preferences but can they disentangle the pros and cons of multilayered questions of economic policy? Should they be expected to do so? If they are, does that leave them vulnerable to being misled by those with vested interests?
    Vested interests are at the heart of the second question. Have financial considerations now so dominated social ones that rulers prioritise the interests of capital over those of people? And have the interests of ruling elites become so enmeshed with the protection of capital that they have reneged on their promise to advance the welfare of citizens?

    The rules of governance must be re-examined.


    After all the ink that has been spent on Brexit, the conclusions appear quite sobering: many voters acted seemingly against their economic interests to kick back at rulers whom they considered uncaring; both factions of the rulers lied, one just more effectively than the other. Incredibly, the winners admitted immediately after the surprise outcome that they had done so.
    These conclusions are a sad commentary on the present state of democracy and a troubling sign of its future trajectory. As problems faced by nation-states become more complex in a globalised economy the stresses of the market will transfer to politics. Strains will increase and the side that lies more effectively will continue to gain ground till there is a break.
    Some of the consequences are already obvious. Both in England and US, the plight of the population hurt by the workings of global capital is being blamed on migrants leading to a politics of fear, resentment, and racism. The rise of Trump leaves little doubt in this regard.
    What then is to be done? The key is to realise that the system of democratic governance comprises rules some of which should be re-examined, fine-tuned, or changed, if necessary. To take an obvious example: is the system based on plebiscitary or representative democracy? If the latter, as is the case in Britain, was a yes-no referendum on staying in the EU not an act of irresponsibility taken only for self-interested political reasons? How can such reckless gambles be forestalled?
    Consider a less obvious but equally consequential rule. Two Nobel laureates, Eric Maskin and Amartya Sen, have argued that Trump would not have emerged as the Republican presidential candidate if the primaries had followed a rule other than the first-past-the-post (FPTP), winner-take-all one. And David Runciman, a leading British academic, has claimed that “the primary cause of the referendum result is the first-past-the-post system, albeit through its secondary effects”. Refer­ring to the fact that the UK and US are among the few de­­ve­­­loped countries to follow the FPTP, he goes on to say that “it also isn’t a coincidence that the two places where truly destabilising populist politics have been let off the leash are Britain and the United States.”
    This is a salutary reminder that electoral rules matter to the extent that they can break countries apart. The fact that South Asia has inherited the FPTP from Britain without any serious exploration of its appropriateness or implications does not bode well.
    It is not that we have been immune to rule changes — recall those that barred more than two turns as prime minister or required a graduate degree to be elected to parliament. Both were accepted as part of politics without serious intellectual attention to the importance of rules to good governance. Unless we pay attention to these details we will continue to suffer from the vagaries of democracy till popular pressure builds up for the only binary alternative we can imagine — never mind that the cure has always been worse than the disease. Thinking on constitutional arrangements has to advance to avoid a fate that thrives on ignorance.
    The writer manages The South Asian Idea, a learning resource for college students.
    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
    Humanity, ReligionCultureSciencePeace
     A Project of 
    Peace Forum Network
    Peace Forum Network Mags
    BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
    Overall 2 Million visits/hits

    Chaos in Kashmir: A Question of Identity

    The root cause of Kashmir’s unending violence? Its people have no place in India’s national identity:

    When three rebels were killed in a gunfight with security forces in Indian Kashmir, the government had to take radical measures: disrupt communication services, impose curfews, and ensure that anti-India leaders remain confined. The government’s main worry was that among those killed was one 22-year-old Burhan Wani – arguably the most prominent militant to operate in Kashmir in recent years – and his death was sure to trigger an outpouring of emotions on the streets of Kashmir. And trigger it did.
    The next morning, on July 9, thousands of enraged Kashmiris defied curfews and assembled at various locations to participate in Wani’s funeral. The funeral then turned into anti-India and pro-independence protests; as angry crowds clashed with police and paramilitary, the situation turned violent and deaths started to pile up. Over the next week, at least 33 people died in the clashes, and hundreds more were injured. As of this writing, the situation remains tense and the death toll has reached 40. With each additional civilian death, peace seems to become more elusive as funerals of the dead turn into massive protests and result in violent confrontations between the forces and the crowds.
    This cycle of chaos is not unprecedented. Anti-India and pro-independence protest movements have been a common occurrence in Kashmir since the late 2000s, right when a 1990s-era insurgency started to fade away. The current situation also follows a familiar pattern of weeks-long protests, clashes, and deaths that are initially sparked by a single incident. But what is rather more worrying this time, from New Delhi’s point of view, is the massive support expressed by the Kashmiri population for a fallen anti-India, secessionist militant. It is clear now that even though the 1990s-era insurgency is almost dead, the sentiments that lay at the core of it are still alive. Kashmiris have not acquiesced to Indian control of the region, and they continue to long for more indigenous political control and possible secession from India.
    Many reasons have been proposed to explain the anti-India and secessionist sentiments of Indian Kashmiris. For some, the problem is caused by their pro-Pakistan leanings and by Pakistan’s support for Kashmiri rebels and anti-India leaders; others blame the presence of extremist elements in Kashmir or the heavy-handed approach of the Indian security establishment toward Kashmiris; many are convinced that mediocre levels of education, high unemployment, and corruption are at the root of the problem. True, each of these issues bolster the anti-India and pro-independence feelings of Kashmiris, but they are not the root cause.
    In fact, many of these issues are themselves the end-result of something more fundamental and simple: that Kashmiris see themselves as a distinct nation and desire, naturally, to distinguish themselves as one, and achieve the global honor and status associated with nationhood. What better way to do that than achieving statehood and sovereign control of their lands? And to understand why Kashmiris feel so separate from India, we need to turn our attention to the construction of national identity in post-British India, which has failed to include Kashmiris.
    To unify the numerous ethno-linguistic groups in the country, national identity in India has been built on stories of Indian civilization and a history of colonialism. Kashmiris, for the most part, don’t easily see themselves of the same civilizational background as Indians, because of a substantial cultural divide, their historic remoteness from mainland India, and also their Muslim-majority character. In this age of interconnectivity, Kashmiris have become even more aware of the gap.
    When schools teach Indian colonial history to Kashmiri students, it becomes evident to the children that they are not studying their forefathers. The British didn’t colonize or rule over Kashmir. Kashmir, instead, was ruled by a Hindu king. As Indians were trying to get their independence from the British, Kashmiris were involved in their own struggle against the monarchy. Interestingly, the last move of the disliked king was to sign theInstrument of Accession, the legal document on the basis of which India claims and controls Kashmir. The document remains as unpopular in the Kashmiri psyche today as the king who signed it.
    Indian national identity on a popular level is also emboldened by the country’s wars and rivalry with Pakistan – the enmity serves as a unifying force. In Kashmir, however, Pakistan is seen as a benevolent state that repeatedly voices concern over the situation there and publicly supports its separation from India.
    To sum it all up, the same factors that have created and maintained a cohesive national identity in India have also alienated and excluded the Kashmiris. In fact, the very nature of the Indian identity is antithetical to Kashmiris. Thus, by now, they have developed their own separate national identity, and they resent Indian control of the region. The reason a 22-year-old rebel’s death was enough to trigger such massive unrest in Kashmir was the fact that he had become a symbol of Kashmiri nationalism and identity – for which he was ready to fight and die.
    No material factor can replace the longing for honor, status, and independence within a national group – it can only keep a temporary lid on it. The Kashmiri nation remains no different. Economy, jobs, corruption, religion, and human rights will only remain secondary issues until the presence of a Kashmiri national identity is accepted as a reality and efforts are made to represent it in the sovereign structures that govern Kashmiris. Until then, protests, violence, and deaths will continue to ebb and flow.
    To bring perpetual stability, the separatists have proposed their solution: an independent Kashmir. It’s time for the Indian state to offer a pragmatic counter.

    Chaos in Kashmir: A Question of Identity

    Hatim Bukhari grew up in Kashmir and studies International Relations at Florida International University.
    http://thediplomat.com/2016/07/chaos-in-kashmir-a-question-of-identity/
    Related:
    Kashmir -Genesis of problem: http://pakistan-posts.blogspot.com/p/kashmir.html
    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
    Humanity, ReligionCultureSciencePeace
     A Project of 
    Peace Forum Network
    Peace Forum Network Mags
    BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
    Overall 2 Million visits/hits