Pages
- Home
- FrontPage
- FB
- Delusions
- Save Pakistan
- نظریہ پاکستان
- Electoral Reforms
- ووٹ کی شرعی حیثیت
- Kashmir
- Importance of Pakistan
- Love Pakistan
- Ideology of Pakistan نظریہ پاکستان
- Our Dilemma & Options
- Pak-Pedia
- One God
- Why Religion?
- Why Islam?
- Peace Forum
- Anti Islam FAQs
- Democracy, Shari'a & Khlafah
- Free eBooks
- Faith Forum
- خلافت
- Corruption
- Role of Ulema in Quran
- Reconstruction of Religious Thought
- Tolerance
- Altaf Qamar
- صرف مسلمان Muslim Only
- Free Books
- Islam & Pakistan
- Special Picks
- سلام انڈکس
Featured Post
FrontPage صفحہ اول
Salaam Pakistan is one of projects of "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...
Ideological Confusion - نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل
Wake-up Pakistan ! جاگو پاکستان
Pakistan; A Secular or Islamic Democratic Republic سیکولر یا اسلامی پاکستان
دین ، سیاست ، شدت پسندی کا رجحان اور قرآن و سنت ؟
توہین قرآن و توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
فرانس اور اسلام فوبیا کے شکار مغربی ممالک میں وقفہ وقفہ سے توہین قرآن، توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم، کی جاتی ہے جو دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب ہے۔ ہم پاکستانی مسلمان اس معاملہ میں بہت جذباتی ہیں ، ہونا بھی چاہئیے کہ ہم قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت، احترام کرتے ہیں۔ حکومت کو عوامی جزبات کے مطابق مزید اعلی ترین سفارتی اقدامات اور کوششیں کرنا چاہیں تاکہ وہ لوگ ان مزموم حرکات سے باز آئیں۔ عوام میں بھی شعور پیدا کریں کہ جزبات کی رو میں بہہ کر قرآن و سنت کے برخلاف اقدامات سے پرہیز کریں۔ سیاسی مزہبی رانماووں اورعوام میں بھی شعور پیدا کریں کہ جزبات کی رو میں بہہ کر قرآن و سنت کے برخلاف فتنہ و فسادی اقدامات سے پرہیز کریں۔
http://pakistan-posts.blogspot.com/2021/04/militant-politics.html |
وارننگ : جو حضرات قرآن کو صرف تلاوت تک محدود کرتے ہیں اور ھدایت ، عمل کے لیے کس دینی رہنما ، مولانا ، یا شخصیت کے احکمات کو ترجیح دیتے ہیں ( یہود و نصاری یہی کرتے ہیں) ، وہ اس تحریر سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے :
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ --- ﴿٣١﴾
"انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں (علماء و مشائخ) کو پروردگار بنا لیا ہے(صرف ان کی بات مانتے ہیں)،--" (قرآن 9:31)
قرآن کی آیات کا انکار کفر ہے:
هٰذَا هُدًى ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ ۞
یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار (کفر) کیا (القرآن - سورۃ نمبر 45 الجاثية، آیت نمبر 11)
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الۡبُكۡمُ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞
یقیناً اللہ کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گُونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (قرآن 8:22)
الله کا فرمان ہے :
اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَـنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِؕ ۞
جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا (القرآن - سورۃ نمبر 85 البروج، آیت نمبر 10 )
رسول ﷺ کو تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں" (القرآن 9:128)
اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّ ؕ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا ۞ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ۞ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَيۡرِ مَا اكۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا (القرآن57،58، 33:56)
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو۔ ۞ (القرآن 33:56)
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ (القرآن 33:57)
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچاتے ہیں، انہوں نے بہتان طرازی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا ہے (القرآن 33:58)
رسول ﷺ سے محبت کا تقاضہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات ، احکام کو تسلیم کریں۔ لوگوں کو فرانس میں توہین رسالت کے نام پر آحتجاج سے راستے بند کرکہ، تشدد ، توڑ پھوڑ، گھیراو جلاو، قتل و غارت گری، فتنہ و فساد سے عوام اور رسول اللہ ﷺ کی تکلیف نہ پہنچائیں اورقرآن کے واضح احکام پر عمل کرکہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے اپنی سچی محبت کو ثابت کریں جو دوسری سیاسی جماعتوں اور دنیا کے لئیے مثال بنیں .. اگر ایسا نہیں کرتے تو شیطانی نفس کے غلام ، نبی ﷺ کے دشمن قرار پاتے ہیں:
وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيۡنَ الۡاِنۡسِ وَالۡجِنِّ
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بنا دیے انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین .. (القرآن - سورۃ نمبر 6 الأنعام، آیت نمبر 112)
رسول ﷺ سے محبت کے دعوے اور قرآن و سنت کی خلاف درزی کرنا کیسے درست عمل ہو سکتا ہے - جس بات اور عمل سے رسول ﷺ کو اذیت پہنچتی ہے ووہی عمل کرنا ہے .. یہ محبت ہے یا دشمی ، یا گستاخی, یا جہالت؟
فرانس کا ملعون صدرجو کہ رسول ﷺ کو اذیت پہنچاتا ہے اور یہی کام جو مسلمان دوسرے طریقہ سے کرے، تو وہ سوچے کہ فرانس کے ملعون صدراور اس شخص میں کیا فرق رہ گیا ہے؟
لَـقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِىَ اللّٰهُ ۖ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ ؕ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ۞
(لوگو) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے ۞ پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو (اے رسول ! ان سے) کہہ دو کہ : میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔۞ (القرآن - سورۃ نمبر 9 التوبة, آیت نمبر 128-129)
"امر بالمعروف نہی عن المنکر" کا تقاضا ہے کہ ایسے لوگوں کو برائی سے روکنا چاہئیے اپنی استطاعت کے مطابق ۔۔۔ نہ کہ من گھڑت تاویلوں سے ان کی حمائیت کریں ۔۔۔
کسی اچھے کام کے حصول کے لئیے "مقصد اور طریقہ" دونوں ہی قرآن سنت کے مطابق ہوں تو درست ہو سکتا ہے۔
اَمْ لَہُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِہِ اللہُ۰ۭ﴾(شوریٰ :۲۱)
'' کیا ان لوگوں نے ایسے شریک بنا رکھے ہیں جو ان کے لیے دین کا ایسا طریقہ مقرر کرتے ہیں جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔''
ایک انسان کا قتل انسانیت کا قتل
اَنَّهٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِى الۡاَرۡضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيۡعًا ؕ وَمَنۡ اَحۡيَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحۡيَا النَّاسَ جَمِيۡعًا ؕ
"جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی" (قرآن 5:32)
فسادی ، فتنہ پرور، دہشت گرد
وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ۞
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں(القرآن 2:11)
دین اسلام ، حب رسول اللہ ﷺ خااتم النبیین ، کے نام پر کچھ لوگ ملک میں فتنہ وفساد ، انارکی پھلا رہے ہیں ۔ ان کی اصل حقیقت کا جائیزہ لیتے ہیں ۔
*انسانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی باتیں زندگانی دنیا میں بھلی لگتیہیں اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ بناتے ہیں حالانکہ وہ بدترین دشمن ہیں (قرآن 2:204)*
اور جب آپ کے پاس سے نہ پھیرتے ہیں تو زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کھیتیوں اورنسلوں کو برباد کرتے ہیں جب کہ خدا فساد کو پسند نہیں کرتا ہے (2:205)
جب ان سے کہا جاتاہے کہ تقویٰ الٰہی اختیار کرو تو غرور گناہ کے آڑے آجاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے جہّنم کافی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے (2:206)
اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اپنے نفس کو مرضی پروردگار کے لئے بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے (2:207)
ایمان والو! تم سب مکمل طریقہ سے اسلام میں داخل ہوجاؤ اور شیطانی اقدامات کا اتباع نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے (2:208)
پھر اگر کھلی نشانیوں کے آجانے کے بعد لغزش پیدا ہوجائے تو یاد رکھو کہ خدا سب پر غالب ہے اور صاحبِ حکمت ہے (2:209)
یہ لوگ اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ابر کے سایہ کے پیچھے عذابِ خدا یا ملائکہ آجائیں اور ہر امر کا فیصلہ ہوجائے اور سارے امور کی بازگشت تو خدا ہی کی طرف ہے (سورة البقرة: 210)
جانوروں سے بدتر ، بے عقل لوگ
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الۡبُكۡمُ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞
یقیناً اللہ کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گُونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (قرآن 8:22)
لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ( 7۔ الاعراف :179)
ان کے دل ہیں، لیکن ان سے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں، لیکن ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں یہ چوپائے کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔ یہ لوگ بیخبر ہیں۔
مسلمان قرآن کی ان آیات پر غور کریں اور عمل کریں ، قرآن کی آیات کا انکار کفر ہے:
هٰذَا هُدًى ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ ۞
یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار (کفر) کیا (القرآن - سورۃ نمبر 45 الجاثية، آیت نمبر 11)
احتجاج سیاسی کلچر کا حصہ ہے جسے تمام سیاسی پارٹیاں اختیار کرتی ہیں، تو دینی معاملہ میں اس پر پابندی کیوں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج کو تسلیم کیا جاتا ہے مگر احتجاج قانون کے دائیرہ میں پرامن ہونا چاہئیے جب احتجاج میں تشدد شامل ہو جائیے جس سے عوام اور کی زندگی اور پراپرٹی کو خطرہ ہو تو ریاست اور قابون حرکت میں آتے ہیں۔ فتنہ و فساد کا خاتمہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ دین کے نام ایسی حرکات کرنا جس کی دین بھی اجازت نہیں دیتا ایک غلط مثال قائیم کرنا ہے۔ بلکہ دین اسلام، رسول اللہ ﷺ کے نام پر سیاست کرنے والے دوسروں کے لئیے عمدہ مثال قائم کریں نہ کہ منفی۔
سیاسی کلچر
حکومت کو عوامی جزبات کے مطابق مزید اعلی ترین سفارتی اقدامات اور کوششیں کرنا چاہیں تاکہ وہ لوگ ان مزموم حرکات سے باز آئیں۔ سیاسی مزہبی رانماووں اورعوام میں بھی آگاہی و شعور پیدا کریں کہ جزبات کی رو میں بہہ کر قرآن و سنت کے برخلاف فتنہ و فساد مت کریں ایسے اقدامات جن سے عوام اور ریاست کے لئیے پریشانی اور تکلیف ہو وہ دینی، قانونی اور اخلاقی طور پر ممنوع ہیں۔
~~~~~~~~~
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ وہ سیاسی پروگرام کرتا ہے لیکن اس کا آغاز بھی درود شریف سے کرتا ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ ماننا ہوگا ہم خوداذیتی کا شکار ہیں اور ہمارا مرض اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کوئی بھی پاگل شخص دنیا کے کسی کونے میں بھونکتا ہے اور ہم یہاں اپنے منہ پر تھپڑ مارنا شروع کر دیتے ہیں‘۔
گستاخی فرانس میں ہوتی ہے لیکن سڑکیں ہم اپنی بلاک کر کے بیٹھ جاتے ہیں
گاڑیاں ہم اپنے لوگوں کی توڑ دیتے ہیں‘
دکانیں‘ گھر اور ایمبولینس ہم اپنے بھائیوں کی جلا دیتے ہیں‘
موبائل فون اور انٹرنیٹ بھی ہم نے اپنا بند کر دیا ہے‘
کیا یہ عقل مندی ہے؟
کیا اس سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا‘؟
دنیا ہماری اس خامی سے واقف ہے چناں چہ یہ جان بوجھ کر سال دو سال بعد یہ ایشو چھیڑ دیتی ہے اور ہم ڈنڈے لے کر اپنے لوگوں پر پل پڑتے ہیں‘ ہم اپنی پولیس اور اپنی ایمبولینسوں کا حشر کر دیتے ہیں۔
ہم اپنی سڑکیں بند کر دیتے ہیں
آپ یقین کریں یہ گستاخی صرف اور صرف ہمیں ڈسٹرب کرنے کے لیے جان بوجھ کر کی جاتی ہے اور ہم ہر بار اس ٹریپ میں آ جاتے ہیں
دنیا میں 58 اسلامی ملک ہیں لیکن جب بھی گستاخی ہوتی ہے ان 58 ملکوں میں پاکستان واحد ملک ہوتا ہے جس میں ہم لوگ خود اپنا نقصان کرتے ہیں
سوال یہ ہے ہم اگر سب مر بھی جائیں‘ ہم اگر پورے ملک کو آگ بھی لگا دیں تو اس سے گستاخی کرنے والوں کا کیا بگڑے گا؟
یہ ملعون آرام سے اپنی زندگی انجوائے کرتے رہیں گے لیکن ہم ایک دوسرے کے ہاتھوں مر جائیں گے۔
کیا ہم گستاخی رکوانا چاہتے ہیں یا پھر اپنے آپ کو اذیت دینا چاہتے ہیں؟
میرا خیال ہم گستاخی رکوانا چاہتے ہیں
ہمیں اس کے لیے کیا طریقہ استعمال کرنا چاہیے؟
اس کا حل صرف اور صرف سفارتی دباؤ ہے اور یہ دباؤ جب تک پوری اسلامی دنیا سے نہیں آئے گا یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکے گا
لہٰذا ہمیں چاہیے ہم اسکالر تیار کریں‘ انھیں انگریزی‘ فرنچ‘ جرمن اور چینی زبان سکھائیں اور یہ اسکالر دنیا کو بتائیں ہم مسلمان رسول اللہ ﷺ کی حرمت پر کمپرومائز نہیں کرتے‘دنیا اس سے سمجھے گی ورنہ ہم اپنے آپ کو مارتے مارتے مر جائیں گے اور یہ مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔ (جاوید چودھری ، کالم سے اقتباس)
~~~~~~~~~
بیشک الله تعالی اور اسکےفرشتے نبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ھیں، اۓ ایمان والو تم بھی آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر درودو سلام بھیجاکرو،
اللهم صل علي محمد وعلي ال محمد كما صليت علي ابراهيم وعلي ال ابراهيم انك حميد مجيد. اللهم بارك علي محمد وعلي ال محمد كماباركت على ابرهيم وعلى آل ابرهيم انك حميد مجيد
~~~~~~~~~~
امر باالمعروف ، نہی عن المنکر ہر مسلمان کا فرض ہے
گونگے شیطان بن کر جہالت ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی، گمراھی کا ساتھ مت دیں ، اچھائی، نیکی کا حکم دیں برائی سے منع کریں:
مَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنۡ لَّهٗ نَصِيۡبٌ مِّنۡهَا ۚ وَمَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنۡ لَّهٗ كِفۡلٌ مِّنۡهَا ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقِيۡتًا ۞
جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے (القرآن - سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 85)
اس پوسٹ کو شئیر یا کاپی پیسٹ کرکہ "امر باالمعروف ، نہی عن المنکر" میں شامل ہو جائیں۔ روز قیامت آپ اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں تو کہہ سکیں کہ، یا اللہ میں نے فرض ادا کردیا تھا ۔ جزاک اللہ
مزید پڑھیں
- علماء اور دور جدید: علماء کا کام قرآن کریم کے مطابق کیا ہے ؟ لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت یا حکومت و سیاست ؟
- Rise and fall of Nations – Law of Quran قرآن کا قانون عروج و زوال اقوام
- Al Khilafah الخلافة - Possible in 21St Century ... >>>>
- سید احمد بریلوی شہید اور شاہ اسماعیل دہلوی شہید کی جہاد تحریک
- http://pakistan-posts.blogspot.com/2021/04/militant-politics.html
- https://m.facebook.com/
دینی مدارس اور علماء کا کردار
یہ بھی پڑھیں ... کرونا اور علماء پاکستان کا رویہ - لمحہ فکریہ ....
Liberalism, Secularism & Islamism
Book:
Islam's relationship to liberal-democratic politics has emerged as one of the most pressing and contentious issues in international affairs. InIslam, Secularism, and Liberal Democracy, Nader Hashemi challenges the widely held belief among social scientists that religious politics and liberal-democratic development are structurally incompatible. This book argues for a rethinking of democratic theory so that it incorporates the variable of religion in the development of liberal democracy. In the process, it proves that an indigenous theory of Muslim secularism is not only possible, but is a necessary requirement for the advancement of liberal democracy in Muslim societies.
لبرل ازم کی طرح سیکولرازم بھی وہ بدقسمت لفظ ہے جسے عفریت بنا دیا گیا ہے۔ جس شخص نے بھی یہ اصطلاح سب سے پہلے استعمال کی، اب بہرطور یہ اُن معنوں میں نہیں لی جاتی۔ اس کا مطلب لادینیت، الحاد یا دہریہ ہونا ہرگز نہیں! اس سے مراد پوری دنیا میں اب یہ لیا جاتا ہے کہ تمام مذاہب کو برداشت کیا جائے اور مذہبی معاملات میں جبر، تشدد، امتیاز اور نفرت سے بچا جائے۔ اگر سیکولرازم کا مطلب دہریت اور الحاد ہوتا تو بھارتی مسلمان اسے اپنی ضرورت نہ سمجھتے۔ اسدالدین اویسی آل انڈیا مجلسِ اتحادالمسلمین کے صدر ہیں۔ تین بار لوک سبھا کے رکن رہے۔ 21 اکتوبر 2015ء کو انہوں نے دہائی دی کہ ''سیکولرازم کے بغیر بھارت بے کس ہو جائے گا۔ اس ملک کی اقدار میں سیکولرازم اور تنوع بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور انہیں ہر حال میں مضبوط کرنا ہو گا‘‘۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں آئے دن اُن کے دانشور، پروفیسر اور اہلِ علم وضاحتیں کر رہے ہیں کہ سیکولرازم سے مراد نازی ازم ہے، نہ سٹالن ازم، نہ سوشلزم اور نہ ہی الحاد و دہریت! امریکی اہلِ علم دائیں بازو کے انتہا پسند مذہبی گروہوں پر الزام لگا رہے ہیں کہ سیکولرازم کو یہ لوگ اپنے مقاصد کی خاطر غلط ملبوس پہنا رہے ہیں۔
اس وقت تقریباً اجماع ہے کہ سیکولرازم سے مراد ہے تمام مذاہب کو برداشت کرنا‘ معاشرے میں تنوع کی موجودگی میں مسائل کو عقل اور منطق کے ذریعے حل کرنا، ہر شہری کو اپنے جائز منصوبوں کی تکمیل میں مدد دینا، مساوات کو اہمیت دینا، ذات پات، طبقات، نسل، مذہب اور عقیدے کے تعصب کے بغیر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ریاست کی طرف سے اقدامات کرنا۔
اگر تعصب کو ایک لمحے کے لئے ایک طرف رکھ دیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ سلطنتِ عثمانیہ نے یورپ اور امریکہ سے بہت پہلے اپنے معاشرے کو سیکولر کیا تھا۔ بے شک یہ اصطلاح اُس وقت استعمال نہیں ہو رہی تھی مگر آج متوازن اور غیر متعصب دانشور سیکولرازم سے جو کچھ مُراد لیتے ہیں سلطنتِ عثمانیہ نے اس کا عملی مظاہرہ کرکے پوری
دنیا کو دکھا دیا تھا کہ سیکولر معاشرہ کیا ہوتا ہے۔ یہودی اور نصرانی بلند مناصب پر فائز تھے۔ حکیم یعقوب پاشا (یہودی) وزیر خزانہ رہا۔ پرتگالی یہودی موسیٰ ہامون خلیفہ کا طبیب تھا۔ ابراہیم کاسترو ٹکسال کا حاکمِ اعلیٰ تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ کے عروج کے زمانے میں (1300ء سے 1600ء تک) غیر مسلموں نے ازحد ترقی کی۔ تجارت، مالیات، سفارت، وزارت، انتظامیہ ہر جگہ موجود تھے۔ سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو حکم دیا کہ ''مسلمان، عیسائی اور یہودی‘‘ سلطنت کے اطراف و اکناف سے آئیں اور قسطنطنیہ میں آباد ہوں! نئے دارالخلافہ کی آبادی میں یہودی دس فیصد ہو گئے۔ دوسرے غیر مسلم اس کے علاوہ تھے۔ 1481ء سے 1512ء تک کا زمانہ ہسپانیہ میں مذہبی عدالتوں کے ظلم و ستم کا تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ نے اپنے دروازے کھول دیے۔ ایک لاکھ پچاس ہزار یہودی ہسپانیہ سے بھاگے۔ اکثریت کو پناہ ترکوں کے ہاں ملی۔ عثمانی خلیفہ کا ہسپانوی بادشاہ پر یہ طنز اُس زمانے میں بہت مشہور ہوا... ''تم فرڈی ننڈ کو عقل مند سمجھتے ہو! وہ اپنے ملک کو غریب اور ہمارے ملک کو امیر کر رہا ہے!‘‘ یہ یہودی، عثمانی سلطنت کے امیر تر شہروں میں آباد ہوئے۔ قسطنطنیہ میں اُس وقت 44 یہودی عبادت خانے تھے۔ پروفیسر آرنلڈ، جو مشرقی علوم کے بہت بڑے عالم تھے، سر سید احمد خان اور شبلی نعمانی کے دوست تھے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھاتے رہے اور علامہ اقبال کے استاد رہے، لکھتے ہیں کہ عثمانی حکومت کے مفتوح علاقوں میں اسلام زور اور طاقت سے نہیں پھیلا۔ آرنلڈ اس کا سبب اخلاقی برتری کو قرار دیتے ہیں۔ اخلاقی برتری کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ غیر مسلموں کو بلند مناصب پر فائز کیا جاتا تھا!
اِس وقت بھارت میں جو سلوک مسلمانوں اور نچلی ذاتوں کے ساتھ ہو رہا ہے، اُسے سیکولرازم کے کھاتے میں ڈالنا مُودی کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے! روایت ہے کہ مُلا نصرالدین آدھا سیر گوشت خرید کر لائے اور بیوی سے کہا کہ پکا دینا۔ خود کسی کام سے باہر چلے گئے۔ بیوی کو ایک مدت بعد گوشت ملا ہو گا۔ اس نے بُھونا اور سارا خود ہی چٹ کر گئی۔ مُلّا آئے تو بیوی نے شکایت کی کہ بلّی کھا گئی۔ مُلاّ نے بلّی کو ترازو میں تولا۔ بلّی کا وزن آدھا سیر نکلا۔ مُلاّ نے پوچھا: اگر یہ گوشت کا وزن ہے‘ تو بلّی کہاں ہے؟ اور اگر بلّی خود ہی آدھا سیر ہے تو گوشت کہاں گیا؟
اگر مودی اور آر ایس ایس کے سیاہ کارنامے سیکولرازم کے کھاتے میں ڈالیں گے تو پھر نتیش کمار اور اُس کا ساتھ دینے والی پارٹیوں کو کہاں رکھیں گے؟ اور اگر بہار میں جیتنے والے سیکولرازم کے نام پر جیتے ہیں تو مُودی اور بی جے پی سیکولر کس طرح ہو گئے؟ ہر شخص کو معلوم ہے کہ مودی ہندوتوا کا نقیب ہے۔ گجرات میں مسلمانوں کے قتلِ عام کا ذمہ دار وہی تھا۔ بھارتی ادیب جوق در جوق اعزازات واپس کر رہے ہیں۔ بھارتی نیوی کے سابق سربراہ نے احتجاج کیا ہے! یہ لوگ یہی تو رونا رو رہے ہیں کہ مُودی اور اُس کے ہم رکاب بنیاد پرست متعصب ہندو بھارت کا مُنہ کالا کر رہے ہیں!
یہ سیکولرازم ہی ہے جس کے طفیل کروڑوں مسلمان، اپنے آبائی ممالک سے ہجرت کر کے، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی،
ہسپانیہ، جاپان، آسٹریلیا، سنگاپور، نیوزی لینڈ، آسٹریا، ہالینڈ، ڈنمارک، ناروے، سویڈن حتیٰ کہ فن لینڈ جیسے دور افتادہ ممالک میں آباد ہو گئے ہیں۔ ان ملکوں میں انہیں مذہبی آزادیاں حاصل ہیں، مساجد آباد ہیں، جائیدادیں، مکان، دکانیں اُن کے نام پر ہیں، پارلیمنٹ کے وہ ممبر بن رہے ہیں، وزارتیں اور سفارتیں انہیں دی جا رہی ہیں۔ اپنے اپنے ملکوں سے وہ اپنے رشتہ داروں کو بھی بلا کر آباد کر رہے ہیں۔ زرِمبادلہ بھیج رہے ہیں۔ اس کالم نگار نے اپنے ایک عزیز کی وساطت سے مساجد اور مدارس کے اعداد و شمار حاصل کیے ہیں۔ صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تین ہزار سے زیادہ مسجدیں ہیں۔ کیلی فورنیا میں 525، نیویارک میں 507، ٹیکساس میں 302، فلوریڈا میں 186، اسی طرح ہر ریاست میں مسجدوں کی تعداد معلوم کی گئی ہے۔ ایک نجی ذریعے کے مطابق نیویارک، شکاگو، کیلی فورنیا، فلوریڈا اور اٹلانٹا میں درس نظامی کے کم از کم پندرہ مدارس کام کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے اصل تعداد اس سے زیادہ ہو۔ حفظِ قرآن پاک کے امریکہ میں دو سو مدارس ہیں! برطانیہ کے اُن شہروں میں جہاں پاکستانی زیادہ تعداد میں ہیں جیسے مانچسٹر، گلاسگو، بریڈفورڈ وغیرہ، پاکستان سے فرقہ واریت تک درآمد کی جا رہی ہے۔ پیری فقیری، استخارہ، جادو ٹونہ کا علاج۔ سب کچھ پوری حشر سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔ خصوصی ٹیلی ویژن چینل رات دن چل رہے ہیں، آسٹریلیا میں مصریوں کی اپنی مساجد ہیں، ترکوں کی اپنی، بنگالیوں کی اپنی اور پاکستانیوں کی اپنی۔ لاکھوں صومالوی مہاجر آباد ہوئے ہیں۔ بہت سے خوشحالی اور امارت سے ہمکنار ہو رہے ہیں۔ سڈنی کے اُس حصے میں‘ جسے لکمبا (LAKEMBA) کہا جاتا ہے، جائیں تو یوں لگتا ہے قاہرہ یا لاہور میں آ گئے ہیں۔ میلبورن میں فاکنر کے علاقے میں پاکستانیوں کی بہت بڑی مسجد ہے جو تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہے۔ اس کے ساتھ ملحق مسلمانوں کا اپنا تعلیمی ادارہ ہے۔ عربوں اور ترکوں کے اپنے تعلیمی ادارے ہیں جو حکومت سے منظور شدہ ہیں۔ ان تمام ملکوں میں اسلام مخالف عناصر آئے دن مطالبے کرتے پھرتے ہیں کہ مسجدوں پر پابندی لگائی جائے اور مسلمانوں کو نکال باہر کیا جائے مگر کسی حکومت نے اس قسم کے انتہا پسندانہ مطالبات کو کبھی درخورِ اعتنا نہ سمجھا! آئے دن ہمارے ہاں سے اور دوسرے مسلمان ملکوں سے علماء کرام، پیرانِ عظام، مشائخ کرام اور روحانی شخصیات ان ملکوں کے دورے کرتی ہیں، چندے اکٹھا کرتی ہیں، عقیدت مندوں سے خدمت کراتی ہیں، تبلیغی جماعت کے وفود ان ملکوں میں شہر شہر قریہ قریہ گھومتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان ملکوں میں یہ سب کچھ کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا! امام خمینی سے لے کر علامہ طاہرالقادری تک سب کی سرگرمیوں کے مراکز مغربی ممالک ہی رہے ہیں۔ یہ سب کچھ جمہوریت اور سیکولرازم کی وجہ سے ہے۔ اگر یہ ریاستیں سیکولر نہ ہوتیں اور مسیحی ہوتیں تو پادری اور دوسرے متعصب لوگ کسی ایک مسلمان اور ایک مسجد تک کو برداشت نہ کرتے!
اس کے مقابلے میں ہمارا اپنا طرزِ عمل کیا ہے؟ مسلم لیگ نون کے رکن ڈاکٹر رمیش کمار نے کچھ عرصہ پہلے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ہر سال پانچ ہزار ہندو گھر بار چھوڑ کر بھارت جا رہے ہیں۔ رمیش کمار نے کہا کہ صرف دو ماہ میں مذہبی تشدد کے چھ واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابیں جلائی گئی ہیں اور بااثر افراد اندرون سندھ میں ہندو لڑکیوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر رہے ہیں!
اگر ذہنوں میں مخصوص ڈکشنریاں کھلی رہیں گی اور آنکھوں پر مخصوص رنگوں کی عینکیں لگی رہیں گی تو یہی ہو گا، جو اب ہو رہا ہے۔ جہاں سیکولرازم یا لبرل ازم کا نام آیا، چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں، یا گلوں کی رگیں پھول کر سرخ ہو جاتی ہیں اور سوچے سمجھے بغیر واویلا مچا دیا جاتا ہے! خدا کے فضل سے اسلام کمزور ہے نہ پاکستان کہ مذہبی رواداری سے اور دوسرے مذاہب کو برداشت کرنے سے اسے نقصان پہنچ جائے! تلفظ تک تو ہمیں آتا نہیں، معنیٰ کیا سمجھیں گے۔ اکثر حضرات کو سیکولر کے سین کے نیچے زیر لگا کر SEECLAR کہتے سنا ہے حالانکہ سین کے اوپر زبر ہے یعنی SECULAR!
By M. Izhar ul Haq
Peace Forum Network
Books, Articles, Blogs, Magazines, Videos, Social Media
Overall 2 Million visits/hits
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کیا مولانا فضل ا لرحمان یہود و نصاریٰ کا ایجنٹ ہے ؟ Molana Fazal-ur-Rahman covertly seeks American support
Video on imran Khan -wikileaks >>>
The political face of JuD
The move comes at a time when the country is heading towards a new election amidst political turbulence. Some political analysts see in it an attempt by certain establishment quarters to unite and launch a far-right political alliance to curtail the growing anti-establishment sentiments in mainstream politics. They believe the establishment is dry-cleaning its assets to launch them as part of that larger electoral alliance, which could include groups and parties that were part of the Difa-i-Pakistan Council. This was formed to campaign for the severing of ties with the US and to reject the government’s decision to grant India the status of Most Favoured Nation.
In a low-key launching ceremony in Islamabad, MML leaders said that the party will have two immediate goals: to defy attempts to repeal Articles 62 and 63 of the Constitution; and to protect the ideology of Pakistan. The second goal is apparently set to support the Kashmiri freedom struggle. This is the modus operandi of all far-right parties — to garb their real agendas in ideological objectives with a view to seeking broader national support and outclassing their opponents.
It would be unique if the political wing of a militant group were to be registered with the ECP.
However, security analysts see the move in the context of growing international pressure on Pakistan for not taking enough action against the Security Council’s designated terrorist groups allegedly operating in the country. In particular, the concerns of the Financial Action Task Force, an international watchdog tracking terror financing, have become more serious. The FATF is not happy with the government’s stance vis-à-vis JuD chief Hafiz Saeed and the entities linked to him, especially the Falah-i-Insaniyat Foundation, the JuD’s charity wing. FATF’s Asia Pacific group is urging Pakistan to take tough decisions against JuD and its affiliated entities. According to reports, banning the Tehreek-i-Azadi of Jammu Kashmir, one of the many groups set up by Hafiz Saeed, and putting him under protective custody were part of government efforts to avoid sanctions on international financial transactions.
Notwithstanding how analysts interpret the arrival of the MML, hardly anyone sees its establishment as part of Pakistan’s reintegration or de-radicalisation efforts. There is no sign that the government has evolved a de-radicalisation policy framework or that it is interested in bringing banned groups into the mainstream. The MML’s establishment thus appears to be an attempt by a militant group to legitimise its actions and avert international sanctions.
Secondly, the JuD and its charities need some breathing space in the country’s mainstream media, and political and intelligentsia discourses, that are increasingly criticising it. The JuD is not happy with the government’s measures to put a ban on the coverage of its activities. On the other hand, the group continues to project itself as the custodian of Pakistan’s ideological interests as a partner of the security establishment. The establishment, too, is not dispelling this impression.
As far as reintegration is concerned, this is a serious affair and is needed to counter terrorism. The contours of a reintegration plan that could be effective in our context have been discussed many times. To recall, a process of independent consultations with different expert groups recently advocated parliamentary oversight of such a process. The findings propelled the suggestion of a high-powered truth and reconciliation commission to review policies that produced militancy and the mainstreaming of those willing to shun violence. This commission may deliberate on whether or not to identify wrongs committed in the past. Expert groups opposed the idea of a general amnesty for repentant groups, and suggested a proper mechanism to study the behaviour of militant groups to decide on the extent of their reintegration.
One may call the formation of MML forced reintegration. External pressures and the changing internal security dynamics have forced the JuD and its masters to exploit the reintegration policy rhetoric. The MML is a JuD political wing and it would be a unique case in our history if the political wing of a militant organisation were to be registered with the ECP as a political party.
Yet, some are hopeful that through the formation of the MML, the JuD will make its formal entry into democratic electoral politics, which it has thus far deemed haram. There is still plenty of literature being produced by the JuD against democracy and the Constitution — or man-made legislation. A brief background of the party’s anti-democratic ideology and practices can be found in a book Qafila Dawat-o-Jihad, written by Ameer Hamza, a JuD founder. Indeed, the JuD has the same worldview and anti-democratic attitude that are espoused by international terrorist groups such as Al Qaeda and the militant Islamic State group. Interestingly, to save their cadres from joining the IS, the JuD has published more than 20 booklets against the latter and its ideology of takfir — declaring some fellow Muslims or Muslim rulers to be outside the pale of Islam. These books also include Urdu translations of writings by Saudi scholars.
Participation in the democratic process may provide an opportunity for JuD leaders to further review their narrow social views and ideology. As far as mainstream politics is concerned, the MML will act as a far-right party and follow a pro-establishment agenda. There was space for such a party that can organise and bring scattered far-right elements under one banner. In the past, the Jamaat-i-Islami and the Jamiat Ulema-i-Islam provided such services. But with time, both have tended to distance themselves from the establishment. Far-right parties cannot damage the electoral base of mainstream parties but can challenge their views on religious, social and regional issues. Perhaps this is one of the purposes behind the MML’s establishment.
Muhammad Amir Rana، a security analyst.
https://www.dawn.com/news/1351281/the-political-face-of-jud
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں
Twitter: @AftabKhanNet








