Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

Showing posts with label Terrorism. Show all posts
Showing posts with label Terrorism. Show all posts

Ideological Confusion - نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل



"ہم ایک ایسے اسلامی تصور کا تعاقب کر رہے ہیں جو انسانیت، جمالیات، دانش اور روحانی عقیدت سے خالی ہے … جس کا تعلق طاقت سے ہے نہ کہ روح سے، عوام کو  حصول اقتدار کے لیے متحرک کیا جاتا ہے نا کہ ان کی مشکلات کے خاتمے اور تمناؤں کے حصول کے لیے." (اقبال احمد)

“We are chasing an Islamic order ‘stripped of its humanism, aesthetics, intellectual quests and spiritual devotions…. concerned with power not with the soul, with the mobilization of people for political purposes rather than with sharing and alleviating their sufferings and aspirations.”[Eqbal Ahmad]

Wake-up Pakistan ! جاگو پاکستان


Presently the Muslim societies including Pakistan, are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, extremism, ignorance and intolerance have threatened the peace, tarnishing the image of religion.
آج کے دور میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں.

Pakistan; A Secular or Islamic Democratic Republic سیکولر یا اسلامی پاکستان



The debate for Secular Pakistan, will never end because, the history does not support this conflicting ideology of few ... 

The point is very simple... Qaid e Azam was not a hypocrite to exploit the religious feelings of Muslims to create a country,  then show his real intentions... No .. he was not a hypocrite... but was a democrat...

As a democrats one has to respect the feelings of majority... The will of people is reflected through votes.  All the constituent assemblies unanimously adopted Objective Resolution in Constitution of Pakistan.. which remains there in every constitution ... (Should we asdume that the People changed their mind from Secular to Islamic Pakistan?)

However if people change their mind  and expunge it through constitutional amendment,  no one,  even founder of this country could do anything even if he was alive.. I don't see this happening in foreseeable future ..

Now is the time to move forward and make efforts for a modern democratic Islamic Republic of Pakistan.. not a Sectarian Theocracy or Secular. We are moving in same direction,  people reject  #Sectarianism  #Secularism and #Extremism, but lot is yet to be done ... 

Let's move forward without digging out settled issues 🌹 
#Pakistan #Islam #Muslims

Quran on Law

Those who do not judge by what God has sent down have been declared as Kafir, wrongdoers! rebellious (Quran 5:44-47)

دین ، سیاست ، شدت پسندی کا رجحان اور قرآن و سنت ؟



توہین قرآن و توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

فرانس اور اسلام فوبیا کے شکار مغربی ممالک میں وقفہ وقفہ سے توہین قرآن، توہین  رسالت صلی اللہ علیہ وسلم، کی جاتی ہے جو دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب ہے۔ ہم پاکستانی مسلمان اس معاملہ میں بہت جذباتی ہیں ، ہونا بھی چاہئیے کہ ہم قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت، احترام  کرتے ہیں۔ حکومت کو عوامی جزبات کے مطابق مزید اعلی ترین سفارتی اقدامات اور کوششیں کرنا چاہیں تاکہ وہ لوگ ان مزموم حرکات سے باز آئیں۔ عوام میں بھی شعور پیدا کریں کہ جزبات کی رو میں بہہ کر قرآن و سنت کے برخلاف اقدامات سے پرہیز کریں۔  سیاسی مزہبی رانماووں اورعوام میں بھی شعور پیدا کریں کہ جزبات کی رو میں بہہ کر قرآن و سنت کے برخلاف فتنہ و فسادی اقدامات سے پرہیز کریں۔

http://pakistan-posts.blogspot.com/2021/04/militant-politics.html |

وارننگ : جو حضرات قرآن کو صرف تلاوت تک محدود کرتے ہیں اور ھدایت ، عمل کے لیے کس دینی رہنما ، مولانا ، یا شخصیت کے احکمات کو ترجیح دیتے ہیں ( یہود و نصاری یہی کرتے ہیں) ، وہ اس تحریر سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے :

 اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ --- ‎﴿٣١﴾‏

"انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں (علماء و مشائخ) کو پروردگار بنا لیا ہے(صرف ان کی بات مانتے ہیں)،--" (قرآن 9:31)

قرآن کی آیات کا انکار کفر ہے: 

هٰذَا هُدًى‌ ‌ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ  ۞ 

یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار  (کفر) کیا  (القرآن - سورۃ نمبر 45 الجاثية، آیت نمبر 11)

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الۡبُكۡمُ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞

یقیناً اللہ کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گُونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (قرآن 8:22)

الله کا فرمان ہے :

اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَـنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِؕ ۞ 

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا (القرآن - سورۃ نمبر 85 البروج، آیت نمبر 10 )

رسول ﷺ کو تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں"  (القرآن 9:128)

اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّ ؕ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا‏ ۞ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ۞ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَيۡرِ مَا اكۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا (القرآن57،58، 33:56)

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو۔ ۞ (القرآن 33:56)

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ (القرآن 33:57)

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچاتے ہیں، انہوں نے بہتان طرازی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا ہے (القرآن 33:58)

رسول ﷺ سے محبت کا تقاضہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات ، احکام کو تسلیم کریں۔ لوگوں کو فرانس میں توہین رسالت کے نام پر آحتجاج سے راستے بند کرکہ، تشدد ، توڑ پھوڑ، گھیراو جلاو، قتل و غارت گری، فتنہ و فساد سے عوام اور رسول اللہ ﷺ کی تکلیف نہ پہنچائیں اورقرآن کے واضح احکام پر عمل کرکہ اللہ اور  رسول اللہ ﷺ سے اپنی سچی محبت کو ثابت کریں جو دوسری سیاسی جماعتوں اور دنیا کے لئیے مثال بنیں .. اگر ایسا نہیں کرتے تو شیطانی نفس کے غلام ، نبی ﷺ کے دشمن قرار پاتے ہیں: 

رسول ﷺ  سے محبت کا تقاضہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات ، احکام کو تسلیم کریں اور ان پر عمل کرکہ اپنی سچی محبت کو ثابت کریں ، دوسروں کے لیے مثال بنیں ..

وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيۡنَ الۡاِنۡسِ وَالۡجِنِّ

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بنا دیے انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین .. (القرآن - سورۃ نمبر 6 الأنعام، آیت نمبر 112)

 رسول ﷺ سے محبت کے دعوے اور قرآن و سنت کی خلاف درزی کرنا کیسے درست عمل ہو سکتا ہے - جس بات اور عمل سے  رسول  ﷺ کو اذیت پہنچتی ہے ووہی عمل کرنا ہے .. یہ محبت ہے یا دشمی ، یا گستاخی, یا جہالت؟

فرانس کا ملعون  صدرجو کہ رسول ﷺ کو اذیت پہنچاتا ہے اور یہی کام جو مسلمان دوسرے طریقہ سے کرے،  تو وہ سوچے کہ فرانس کے  ملعون  صدراور اس شخص میں کیا فرق رہ گیا ہے؟

لَـقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ‏ ۞ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِىَ اللّٰهُ ۖ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ‌ ؕ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ۞

(لوگو) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے ۞ پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو (اے رسول ! ان سے) کہہ دو کہ : میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔۞ (القرآن - سورۃ نمبر 9 التوبة, آیت نمبر 128-129)

"امر بالمعروف نہی عن المنکر"  کا تقاضا ہے کہ ایسے لوگوں کو برائی سے روکنا چاہئیے اپنی استطاعت کے مطابق ۔۔۔ نہ کہ من گھڑت  تاویلوں سے ان کی حمائیت کریں ۔۔۔  

کسی اچھے کام  کے حصول کے لئیے "مقصد اور طریقہ" دونوں ہی قرآن سنت کے مطابق ہوں تو درست ہو سکتا ہے۔ 

اَمْ لَہُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِہِ اللہُ۝۰ۭ﴾(شوریٰ :۲۱)

'' کیا ان لوگوں نے ایسے شریک بنا رکھے ہیں جو ان کے لیے دین کا ایسا طریقہ مقرر کرتے ہیں جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔''

ایک انسان کا قتل انسانیت کا قتل

 اَنَّهٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِى الۡاَرۡضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيۡعًا ؕ وَمَنۡ اَحۡيَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحۡيَا النَّاسَ جَمِيۡعًا ‌ؕ

 "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی" (قرآن 5:32)

فسادی ، فتنہ پرور، دہشت گرد

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ۞ 

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں(القرآن 2:11)

دین اسلام ، حب  رسول اللہ ﷺ خااتم النبیین ،  کے نام پر کچھ لوگ ملک میں فتنہ وفساد ، انارکی پھلا رہے ہیں ۔ ان کی اصل حقیقت کا جائیزہ لیتے ہیں ۔

*انسانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی باتیں زندگانی دنیا میں بھلی لگتیہیں اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ بناتے ہیں حالانکہ وہ بدترین دشمن ہیں  (قرآن 2:204)*

اور جب آپ کے پاس سے نہ پھیرتے ہیں تو زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کھیتیوں اورنسلوں کو برباد کرتے ہیں جب کہ خدا فساد کو پسند نہیں کرتا ہے (2:205)

 جب ان سے کہا جاتاہے کہ تقویٰ الٰہی اختیار کرو تو غرور گناہ کے آڑے آجاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے جہّنم کافی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے (2:206) 

اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اپنے نفس کو مرضی پروردگار کے لئے بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے (2:207)

 ایمان والو! تم سب مکمل طریقہ سے اسلام میں داخل ہوجاؤ اور شیطانی اقدامات کا اتباع نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے (2:208) 

پھر اگر کھلی نشانیوں کے آجانے کے بعد لغزش پیدا ہوجائے تو یاد رکھو کہ خدا سب پر غالب ہے اور صاحبِ حکمت ہے (2:209)

 یہ لوگ اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ابر کے سایہ کے پیچھے عذابِ خدا یا ملائکہ آجائیں اور ہر امر کا فیصلہ ہوجائے اور سارے امور کی بازگشت تو خدا ہی کی طرف ہے  (سورة البقرة:  210)

جانوروں سے بدتر ، بے عقل لوگ

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الۡبُكۡمُ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞

یقیناً اللہ کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گُونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (قرآن 8:22)

لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ( 7۔ الاعراف :179)

 ان کے دل ہیں، لیکن ان سے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں، لیکن ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں یہ چوپائے کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔ یہ لوگ  بیخبر ہیں۔

مسلمان قرآن کی ان آیات پر غور کریں اور عمل کریں ، قرآن کی آیات کا انکار کفر ہے: 

هٰذَا هُدًى‌ ‌ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ  ۞ 

یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار  (کفر) کیا  (القرآن - سورۃ نمبر 45 الجاثية، آیت نمبر 11)

احتجاج سیاسی کلچر کا حصہ ہے جسے تمام سیاسی پارٹیاں اختیار کرتی ہیں، تو دینی معاملہ میں اس پر پابندی کیوں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج کو تسلیم کیا جاتا ہے مگر احتجاج قانون کے دائیرہ میں پرامن ہونا چاہئیے جب احتجاج میں تشدد شامل ہو جائیے جس سے عوام اور کی زندگی اور پراپرٹی کو خطرہ ہو تو ریاست اور قابون حرکت میں آتے ہیں۔  فتنہ و فساد کا خاتمہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ دین کے نام ایسی حرکات کرنا جس کی دین بھی اجازت نہیں دیتا ایک غلط مثال قائیم کرنا ہے۔ بلکہ دین اسلام،  رسول اللہ ﷺ کے نام پر سیاست کرنے والے دوسروں کے لئیے عمدہ مثال قائم کریں نہ کہ منفی۔

سیاسی کلچر 

حکومت کو عوامی جزبات کے مطابق مزید اعلی ترین سفارتی اقدامات اور کوششیں کرنا چاہیں تاکہ وہ لوگ ان مزموم حرکات سے باز آئیں۔ سیاسی مزہبی رانماووں اورعوام میں بھی آگاہی و شعور پیدا کریں کہ جزبات کی رو میں بہہ کر قرآن و سنت کے برخلاف فتنہ و فساد مت کریں ایسے اقدامات جن سے عوام اور ریاست کے لئیے پریشانی اور تکلیف ہو وہ دینی، قانونی اور اخلاقی طور پر ممنوع ہیں۔  

~~~~~~~~~

جاوید چودھری کہتے ہیں کہ وہ  سیاسی پروگرام کرتا ہے لیکن اس کا آغاز بھی درود شریف سے کرتا ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ ماننا ہوگا ہم خوداذیتی کا شکار ہیں اور ہمارا مرض اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کوئی بھی پاگل شخص دنیا کے کسی کونے میں بھونکتا ہے اور ہم یہاں اپنے منہ پر تھپڑ مارنا شروع کر دیتے ہیں‘۔

گستاخی فرانس میں ہوتی ہے لیکن سڑکیں ہم اپنی بلاک کر کے بیٹھ جاتے ہیں

 گاڑیاں ہم اپنے لوگوں کی توڑ دیتے ہیں‘ 

دکانیں‘ گھر اور ایمبولینس ہم اپنے بھائیوں کی جلا دیتے ہیں‘ 

موبائل فون اور انٹرنیٹ بھی ہم نے اپنا بند کر دیا ہے‘ 

کیا یہ عقل مندی ہے؟ 

کیا اس سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا‘؟

دنیا ہماری اس خامی سے واقف ہے چناں چہ یہ جان بوجھ کر سال دو سال بعد یہ ایشو چھیڑ دیتی ہے اور ہم ڈنڈے لے کر اپنے لوگوں پر پل پڑتے ہیں‘ ہم اپنی پولیس اور اپنی ایمبولینسوں کا حشر کر دیتے ہیں۔

ہم اپنی سڑکیں بند کر دیتے ہیں

 آپ یقین کریں یہ گستاخی صرف اور صرف ہمیں ڈسٹرب کرنے کے لیے جان بوجھ کر کی جاتی ہے اور ہم ہر بار اس ٹریپ میں آ جاتے ہیں

دنیا میں 58 اسلامی ملک ہیں لیکن جب بھی گستاخی ہوتی ہے ان 58 ملکوں میں پاکستان واحد ملک ہوتا ہے جس میں ہم لوگ خود اپنا نقصان کرتے ہیں

سوال یہ ہے ہم اگر سب مر بھی جائیں‘ ہم اگر پورے ملک کو آگ بھی لگا دیں تو اس سے گستاخی کرنے والوں کا کیا بگڑے گا؟

یہ ملعون آرام سے اپنی زندگی انجوائے کرتے رہیں گے لیکن ہم ایک دوسرے کے ہاتھوں مر جائیں گے۔

کیا ہم گستاخی رکوانا چاہتے ہیں یا پھر اپنے آپ کو اذیت دینا چاہتے ہیں؟ 

میرا خیال ہم گستاخی رکوانا چاہتے ہیں

ہمیں اس کے لیے کیا طریقہ استعمال کرنا چاہیے؟

اس کا حل صرف اور صرف سفارتی دباؤ ہے اور یہ دباؤ جب تک پوری اسلامی دنیا سے نہیں آئے گا یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکے گا

لہٰذا ہمیں چاہیے ہم اسکالر تیار کریں‘ انھیں انگریزی‘ فرنچ‘ جرمن اور چینی زبان سکھائیں اور یہ اسکالر دنیا کو بتائیں ہم مسلمان رسول اللہ ﷺ کی حرمت پر کمپرومائز نہیں کرتے‘دنیا اس سے سمجھے گی ورنہ ہم اپنے آپ کو مارتے مارتے مر جائیں گے اور یہ مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔  (جاوید چودھری ، کالم سے اقتباس)

~~~~~~~~~

بیشک الله تعالی اور اسکےفرشتے نبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ھیں، اۓ ایمان والو تم بھی آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر درودو سلام بھیجاکرو،

اللهم صل علي محمد وعلي ال محمد كما صليت علي ابراهيم وعلي ال ابراهيم انك حميد مجيد.  اللهم بارك علي محمد وعلي ال محمد كماباركت على ابرهيم وعلى آل ابرهيم انك حميد مجيد

~~~~~~~~~~

امر باالمعروف ، نہی عن المنکر ہر مسلمان کا فرض ہے 

گونگے شیطان بن کر جہالت ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی، گمراھی کا ساتھ مت دیں ، اچھائی، نیکی کا حکم دیں برائی سے منع کریں: 

مَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنۡ لَّهٗ نَصِيۡبٌ مِّنۡهَا‌ ۚ وَمَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنۡ لَّهٗ كِفۡلٌ مِّنۡهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقِيۡتًا ۞ 

جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے  (القرآن - سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 85)

اس پوسٹ کو شئیر یا کاپی پیسٹ کرکہ "امر باالمعروف ، نہی عن المنکر" میں شامل ہو جائیں۔ روز قیامت آپ اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں تو کہہ سکیں کہ، یا اللہ میں نے فرض ادا کردیا تھا ۔ جزاک اللہ 

مزید پڑھیں 

  1. علماء اور دور جدید: علماء کا کام قرآن کریم کے مطابق کیا ہے ؟  لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت یا حکومت و سیاست ؟
  2. Rise and fall of Nations – Law of Quran قرآن کا قانون عروج و زوال اقوام
  3. Al Khilafah الخلافة - Possible in 21St Century ... >>>>  
  4. سید احمد بریلوی شہید اور شاہ اسماعیل دہلوی شہید کی جہاد تحریک 
  5. http://pakistan-posts.blogspot.com/2021/04/militant-politics.html 
  6. https://m.facebook.com/

دینی مدارس اور علماء کا کردار




گزشتہ دنوں ایک دینی مدرسہ کے طالب علم نے نہایت اضطراب کی حالت میں اور ڈرتے ڈرتے ایک سوال نامہ پیش کیا اور اس کے جواب کی فرمائش کی، ایک صبح اٹھ کر جواب لکھنے بیٹھا تو خلاف معمول ایک ہی نشست میں اُسے مکمل کردیا، جو کسی قدر نوک پلک درست کرنے کے بعد نذرِ ناظرین ہے:
حضرت محترم ! السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ 
حضرت ! بندے کے دل میں کافی عرصے سے مدارس کے نصاب کے متعلق چند اشکالات و سوالات ہیں، جنھوں نے ایک اضطرابی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے، لہٰذا بندہ اس سے خلاصی پانے کیلئے تمام اشکالات کو آپ کی نظر کرنا چاہتا ہے۔ امید ہے کہ شفقت کے ساتھ سوالات کاجواب مرحمت فرمائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں ... کرونا اور علماء پاکستان کا رویہ - لمحہ فکریہ ....

(۱) مدارس میں جدید فقہی مسائل کیوں نہیں پڑھائے جاتے؟ حالانکہ وہ تمام قدیم مسائل پوری تشریح و توضیح اور دلائل و بحث کے ساتھ پڑھائے جاتے ہیں، جن کی ہمارے دور (زمانے) میں دُور کی بھی مماثلت نہیں پائی جاتی، اور ان مسائل کی موجودہ زمانے کے لحاظ سے تطبیق دینا بھی ممکن نہیں، ہمیں یہ سب تو پڑھایا جاتا ہے؛ لیکن مروّجہ سودی نظام، لیزنگ، بیمہ پالیسی، بینکنگ، اکاؤنٹ اور پرائز بانڈ وغیرہ کے بارے میں ہم بالکل نا آشنا ہیں۔
(۲) موجودہ زمانہ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں انتہائی تفاوت کی وجہ سے زکوٰة کا نصاب کیاہونا چاہئے؟
(۳) موجودہ زمانہ کے لحاظ سے عشر و خراج کا طریقہ کیا ہونا چاہئے؟ اور ہماری زمینیں عشری ہیں یا خراجی؟
(۴) کاغذی نوٹ کے بارے میں شریعت کی نظر میں ثمنیت کا کیا اعتبار ہے؟ حالانکہ جب کاغذی نوٹ کااجرا کیاگیا تو اس کو سونے اور چاندی کے مساوی قرار دیا گیا، اب اس میں تفاوت پایا جاتا ہے، اس بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔
(۵) تفسیر میں صرف تفسیر عثمانی پر ہی کیوں اقتصار کیاجاتا ہے؟ قرآن وحدیث کی حقانیت کو آج کی سائنس ثابت کررہی ہے، ہمیں اس لحاظ سے کیوں نہیں پڑھایا جاتا؟ حالانکہ ایک عام دنیادار پروفیسر ، علماء سے زیادہ اس کی تحقیق رکھتاہے، اور جدت پسندوں کو ہمیں رجعت پسند کہنے کا موقع ہاتھ آجاتا ہے۔
(۶) مدارس میں پانچ سال تک منطق کیوں پڑھائی جاتی ہے؟ اوراس میں فضول قسم کی قیل و قال کی جاتی ہے؟ جن کا نہ فائدہ ہے اور نہ افادہ؟
(۷) مدارس میں پانچ سال تک نحو کیوں پڑھائی جاتی ہے؟ ”کلمہ کی تعریف کو کلام کی تعریف پر کیوں مقدم کیا؟ کلام کی تعریف کو کلمہ کی تعریف سے کیوں موخر کیا؟“ اس قسم کے فضول فلسفے پڑھائے جاتے ہیں، اور نتیجہ یہ ہے کہ دس سال تک عربی تکلم پر قدرت ہے، نہ انشاء پر۔
(۸) مدارس میں تقابل ادیان سے متعلق کسی قسم کا مواد نہیں پڑھایا جاتا، سوائے ان معتزلہ کے، جن کا وجود دنیا میں نہیں رہا۔
(۹) دس سال مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والا شہریت، جغرافیہ اورانگریزی سے نابلد رہتا ہے اور اپنی قومی زبان پر بھی مکمل دسترس حاصل نہیں کرپاتا۔ مدارس میں رائج اس نصاب کی وجہ سے مدارس کے فضلاء میں درج ذیل خرابیاں پیدا ہوگئیں:
(الف) مدارس سے ایسا طبقہ پیدا ہواجسے معاشرے نے قبول نہیں کیا۔
(ب) مدارس دیہاتی ماحول اور چھوٹے طبقے تک محدود ہوگئے اور اہل ثروت کا مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا۔
(ج) علماء کے اندر سے تحقیقی کام کا ذوق ختم ہوتا چلاگیا۔
(د) علماء محدود ذہن کے ہوگئے۔
(ھ) اس کے علاوہ کئی وجوہات حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی صاحب دامت برکاتہم کے اس مکتوب گرامی سے بھی معلوم ہوتی ہیں، جو درج ذیل ہے:
”مکرمان ومحترمان حضراتِ اکابر و ذمہ دارانِ مدارس ․․․․․ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
اللہ پاک کا شکر ہے! بندہ بعافیت ہے، امید ہے بعافیت ہوں گے، آج ذمہ داران مدرسہ کو ایسے علماء تیار کرنے چاہئیں، جن کی پڑھنے ہی کے زمانہ میں پڑھانے کی نیت کرائی جائے، وہ فارغ ہوکر پڑھائیں اور پڑھنے ہی کے زمانہ میں تھوڑا تھوڑا وقت لگاکر دعوت وتبلیغ سے مناسبت پیدا کریں، اور پڑھنے کے زمانہ میں جس کی طرف اس کا رجحان ہو، بیعت کا تعلق کرادیں، تاکہ پڑھنے کے ساتھ سلوک سے مناسبت ہوجائے، پھر وہ جہاں بیٹھے تینوں کام کرنے والا ہو: ایک طرف تعلیم دے رہا ہو،اور ایک جگہ تبلیغ کی خدمت کررہا ہو،اور ایک طرف اپنے معمولات پورے کررہا ہو،اور دوسروں کے معمولات پورے کرانے کا ذریعہ بن رہا ہو، آج پوری دنیا میں ہرسال اتنے علماء فارغ ہونے کے باوجود، مکاتب میں پڑھانے والے نہیں ملتے، مدارس کی کتابیں پڑھانے والے نہیں ملتے، مراکز میں جماعتیں لے کر چلنے والے نہیں ملتے اور خانقاہوں میں ذاکرین کی وہ مقدار نہیں ہوتی جیسی ہونی چاہئے، پوری دنیامیں جو کچھ اس لائن سے نظر آرہا ہے، وہ صُفّہ پر ایک ہی جگہ ہورہا تھا، وہیں مبلغین تیار ہورہے تھے، وہیں مجاہدین تیار ہورہے تھے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صُفّہ کی ترتیب پر سارے اعمال ایک ہی جگہ ہورہے ہوں، میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ پوری دنیا میں یہ ماحول بنایا جائے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے․․․․․․ فقط والسلام
                                                                                                                                                                                                                                          محمد طلحہ کاندھلوی
                                                                                                                                                                                                                                           ۲۱/محرم الحرام ۱۴۲۶ھ
اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع عطا فرمائے، آمین۔ اللّٰہم انی اعوذبک من علم لاینفع․
بندہ محمد عبداللہ، کراچی
جواب: میرے عزیز آپ نے سوالوں کے ساتھ جواب کی جگہ تو چھوڑی نہیں، تاہم الگ کاغذ پر آپ کے تمام سوالات کا مختصر سا جواب نمبر وار درج کیا جاتا ہے:
(۱) میرے عزیز ! یہ تو آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ اسلامی شریعت کے ماخذ چار ہیں: قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ اور ان سب کی اصل، بنیاد اورمنبع قرآن کریم ہے،اسلئے کہ قرآن کریم میں بعض احکام تو صراحتاً مذکور تھے، اور جو احکام قرآن کریم میں صراحتاً مذکور نہیں تھے، آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں ان کی وضاحت فرمادی، اسلئے حدیث بھی قرآن کریم کی شرح و تفسیر ہے، پھر جو احکام و مسائل قرآن و حدیث میں صراحتاً مذکور نہیں تھے، حضرات صحابہ کرام، ائمہ مجتہدین اور اکابر علمائے امت نے انہیں ان دو بنیادوں یعنی قرآن و حدیث کی روشنی میں مستنبط فرمایا، اور جن مسائل پر اکابر کا اجماع ہوگیا، وہ اجماعی مسائل قرار پائے، پھر جو مسائل اس کے علاوہ تھے، انہیں ان تین بنیادوں سے ماخوذ اصولوں پر قیاس کرکے معلوم کیاگیا اوراسی کا نام ”فقہ“ ہے۔ لہٰذا فقہ میں پہلے اصول اورکلیات کا درس دیاجاتا ہے، اگرچہ اس میں بیشتر جزئیات سے بھی بحث کی جاتی ہے، مگر چونکہ جدید فقہی مسائل ہردور کے الگ الگ ہوتے ہیں، لہٰذا حضرات علماء کرام نے فقہ کے اصول وضع فرماکر ہردور کے علماء کو اس قابل بنادیا کہ وہ ان اصولوں کی روشنی میں جدید فقہی مسائل کو سمجھااور پڑھاسکیں۔
اگر موجودہ دور کے جدید مسائل کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تواکابر علماء اور اربابِ دینی مدارس نے بنیادی طور پر ان کا درس دیا ہے، چنانچہ قدوری، کنز اور ہدایہ سمجھ کر پڑھ لی جائیں یا بالفاظ دیگر ہضم کرلی جائیں تو سود، جوا اور لاٹری کی تمام مروّجہ شکلیں اوران کا حکم بآسانی سمجھ میں آسکتا ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ علماء جدید مسائل کیوں نہیں پڑھاتے؟ درحقیقت فقہ اور اصول فقہ سے لاعلمی کی علامت ہے۔
قدیم مسائل پوری توضیح و تشریح سے پڑھانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ جن طلبہ و علماء کو یہ اصول سمجھ میں آجائیں گے، اُن کو ان اصولوں کی روشنی میں جدید مسائل کا سمجھنا آسان ہوجائے گا،اور جو شخص قدیم مسائل اور ان کے اصول سمجھ لے گا، اس کو جدید مسائل سمجھنا اوران کی تطبیق دینا آسان ہوجائیگا،مثلاً بیع قبل القبض، حرام اشیاء کی بیع، قسطوں کا کاروبار، بیمہ، لیزنگ وغیرہ، کونسا ایسا مسئلہ ہے جو فقہائے امت نے بیان نہیں فرمایا؟ تاہم اکابر علماء امت کے فتاویٰ اوران کی تصنیفات میں ان پر مستقل بحث کی گئی ہے، جو کسی صاحب علم و عقل پر مخفی نہیں،کوئی ایک ایسا مسئلہ بتلایا جائے جو ان اصول، قواعد اور کلیات سے ماورا ہو اوراس پر علماء نے کوئی راہنمائی نہ کی ہو؟
(۲) آپ کا ارشاد کہ: سونے، چاندی کی قیمتوں میں انتہائی تفاوت کی وجہ سے اب زکوٰة کا نصاب کیا ہونا چاہئے؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ :
دور حاضر کے مفتیان کرام اور ہندوپاک کے اربابِ تحقیق نے ان دونو ں نصابوں (سونا اور چاندی) میں سے جو سستا ہو، اس کو وجوبِ زکوٰة کے لئے معیار قرار دیا ہے، اس لئے چاندی کے نصاب پر وجوبِ زکوٰة اور وجوبِ قربانی کا حکم ہے، یہ اگر ایک طرف انفع للفقراء ہے تو وہاں احوط بھی ہے، کیونکہ اگر خدانخواستہ عند اللہ اس آدمی پر زکوٰة فرض تھی اور ہم نے اغنیاء کے نفع اور ان کی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر اس کو زکوٰة سے بری قرار دے دیا تو وہ عند اللہ مجرم ہوگا۔
پھر یہ بھی دیکھا جائے اور غور کیا جائے کہ شریعت کے احکام میں ضعفاء اور فقراء کا خیال رکھا گیا ہے، نہ کہ مالداروں اور طاقتوروں کا، گویا سونے کو نصاب قرار دینے کی صورت میں تو شاید و باید ہی کسی پر زکوٰة اور قربانی واجب ہوسکے گی، اس سے دولت کا ارتکاز ہوگا اور غرباء و فقراء محتاج تر ہوجائیں گے۔
بہرحال میں نہ تو مجتہد ہوں اورنہ ہی مفتی، البتہ اکابر اساتذہ ومفتیانِ کرام کا جدید و قدیم فتویٰ یہی ہے کہ نصاب کا معیار ان دو چیزوں میں سے وہ ہے جو سستی ہو، اور چونکہ چاندی سستی ہے، اس لئے وہی نصاب ہے، اور ایسے شخص پر جو چاندی کے نصاب کا مالک ہو، زکوٰة اور قربانی واجب ہے۔
(۳) موجودہ زمانے کے لحاظ سے عشر و خراج کا طریقہ اور زمینوں میں سے عشری و خراجی کی تعیین کے سلسلہ میں عرض ہے کہ: جہاں تک ہمارے ملک کی زمینوں کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے، چونکہ یہ معلوم نہیں کہ ان میں سے کون سی عشری اور کون سی خراجی ہے؟ اسلئے احتیاط اسی میں ہے کہ سب کو عشری قرار دے کر سب کا عشر ادا کیا جائے، اسلئے اگر زمین بارانی ہو کہ صرف ہل چلاکر بیج ڈال دینے پر فصل تیار ہوجائے تو اسکی آمدنی پر عشر ہوگا یعنی آمدنی کا دسواں حصہ دیا جائیگا اوراگراسکے اوپر پانی، کھاد اور اسپرے وغیرہ کے دوسرے اخراجات آتے ہوں تو نصف عشر یعنی آمدنی کا بیسواں حصہ بطور عشر دیا جائیگا۔
(۴) جہاں تک کاغذی نوٹ کی حیثیت کا تعلق ہے،اس سلسلہ میں عرض ہے کہ کاغذی نوٹ چونکہ عام طورپر اس سونے،چاندی کا بدل یا زرِ ضمانت ہوتے ہیں، جس کی بنیاد پر کاغذی نوٹ جاری کئے جاتے ہیں، اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ انہیں سونے کا بدل تصور کیا جائے اور ان کے عوض سونے، چاندی کی ادھار خرید و فروخت نہ کی جائے، جبکہ بعض دوسرے حضرات ان کو ثمن عرفی قرار دیتے ہیں، اس لئے اُن کے ہاں ان کاحکم زرِ ضمانت کا نہیں، لہٰذا اُن کے ہاں کاغذی نوٹوں کے عوض سونے، چاندی کی ادھار خرید و فروخت جائز ہے۔
آپ کا یہ فرمانا کہ: اس بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا، اس لئے نادرست ہے کہ میرے نزدیک یہ اضافی بحث ہے، تاہم اکابر نے اس پر مستقل تصنیفات فرمائی ہیں اور اکابر کے مطبوعہ فتاویٰ میں بھی اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ ابتدائی طلبہ کے پڑھانے کی چیز نہیں، اس لئے کہ یہ ان کی ذہنی سطح سے اونچی چیز ہے، ہاں جو طلبہ تکمیل درسِ نظامی کے بعد فقہ میں تخصص کرتے ہیں، ان کو یہ موضوع بھی پڑھایا جاتا ہے اور وہ اس سے باخبر ہوتے ہیں۔
جس طرح دنیا کے دوسرے علوم وفنون میں ابتداءً اصول وکلیات پڑھائے جاتے ہیں، اسکے بعد خاص خاص شعبوں میں تخصصات کرائے جاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح یہاں بھی وہی اصول کارفرماہے، مثلاً: جیسے ڈاکٹر بننے والوں کو پہلے ایم بی بی ایس کا کورس کرایا جاتا ہے، اسکی تکمیل کے بعد پھر طلبہ کی دلچسپی کے پیش نظر ان کے منتخب کردہ موضوعات،مثلاً: دل، دماغ، جگر، معدہ، سینہ، کان، ناک اورحلق کے امراض اوران کی جراحی کے اصول و فروع میں تخصص کرائے جاتے ہیں، اور ایسا شخص اس شعبہ کا ماہر کہلاتا ہے، بالکل اسی طرح یہاں بھی وہی انداز اپنایا جاتا ہے کہ پہلے مطلقاً فقہی اصول و مبادیات کی تعلیم دی جاتی ہے، اسکی تکمیل کے بعد طلبہ کی دلچسپی کے پیش نظر حدیث، فقہ، دعوت و ارشاد، معاشیات اور اقتصادیات میں تخصصات کرائے جاتے ہیں، اسلئے کہ جو طالب علم، نفس فقہ اوراس کے اصول و مبادیات سے نا آشنا ہو، اسکو ان مخصوص مسائل میں الجھانے سے کیا اس کا دماغ منتشر نہیں ہوگا؟
(۵) آپ کا یہ ارشاد کہ: ”تفسیر میں صرف تفسیر عثمانی پر ہی کیو ں اقتصار کیاجاتا ہے؟“ اس لئے ناقابل فہم ہے کہ تفسیر عثمانی درسِ نظامی اور وفاق المدارس کے نصاب میں شامل نہیں ہے، اگر کوئی مدرسہ یا کسی مدرسہ کا کوئی استاذ اس کو درساً پڑھاتا ہے تو یہ اس کا انفرادی عمل ہے، بہرحال مقصود تو نفس قرآن کریم کا ترجمہ و تشریح ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اساتذہ اس تفسیر سے استفادہ کرتے ہیں اور طلبہ کو بھی اس تفسیر سے استفادہ کی ترغیب دیتے ہیں، اور ایسا کرنا اس لئے مناسب ہے کہ تفسیر عثمانی کے مطالعہ سے نفس قرآن کریم سمجھ میں آجاتا ہے، لہٰذا تفسیر عثمانی کے مطالعہ کی ترغیب بھی اسی اصول کے پیش نظر ہے کہ طلبہ کو نفس قرآن کریم سمجھ میں آجائے،اور طلبہ غیرضروری طویل لاطائل ابحاث میں نہ الجھیں، پھر جب نفس قرآن کریم سمجھ میں آجائے گا اور استعداد پیدا ہوجائے گی تو دوسری طویل و مبسوط تفسیروں سے استفادہ بھی آسان ہوجائے گا۔
اگر غور کیاجائے تو تفسیر عثمانی تمام متداول اردو تفاسیر کا اختصار و خلاصہ ہے۔اربابِ علم و دانش جانتے ہیں کہ تفسیرعثمانی ”دریا بکوزہ“ کا مصداق ہے، چنانچہ جو شخص پہلے تمام متداول عربی تفاسیر کا بغور مطالعہ کرے اورپھر تفسیر عثمانی کا مطالعہ کرے تو اسے اس کی ایک،ایک سطر، بلکہ ایک، ایک حرف کے مطالعہ سے اندازہ ہوگا کہ یہاں سے کس تفسیر کے کس قول، اعتراض یا اشکال کاجواب اور مختلف تفسیری اقوال میں سے کس قول کو ترجیح دی جارہی ہے۔
اس کے علاوہ برا نہ مانیں تو درسِ نظامی میں تین سال تک قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر جلالین مکمل درساً پڑھائی جاتی ہے، جبکہ تفسیر بیضاوی کا ایک حصہ سبقاً پڑھاکر تفسیری انداز اور قرآن کریم کے علوم ومعارف سے بھی طلبہ کو روشناس کرایاجاتا ہے۔
آپ کا یہ ارشاد کہ قرآن وحدیث کی حقانیت کو سائنس سے کیوں ثابت نہیں کیا جاتا، آپ کی بچکانہ سوچ کا مظہر ہے، کیونکہ سائنس سے اگر قرآن و سنت کی حقانیت کو ثابت کیا جائے تو کیا آئے دن تبدیل ہونے والے سائنسی نظریات کی اقتداء میں قرآن و حدیث کے معانی و مفاہیم کو بھی بدلا جائے گا؟ اگر نہیں تو پھر قرآن و سنت کی حقانیت کو سائنس کی ضرورت نہیں، ہاں سائنس قرآن و سنت کے تابع اوراس کی ممد ہے اوراکابر نے اس پر کام کیا ہے، حضرت مولانا شمس الحق افغانی قدس سرہ کی کتاب ”سائنس اوراسلام“ قابل مطالعہ ہے۔
(۶) دینی مدارس میں منطق اس لئے پڑھائی جاتی ہے تاکہ انسانی دماغ کی گرہیں کھل جائیں، فکری غلطیوں سے حفاظت ہوجائے اور معاندین اسلام کے فکری مغالطوں کاجواب بآسانی دیا جاسکے، پھر چونکہ قدیم وجدید دور کے ملاحدہ عقلیت پسند ہوتے ہیں اور عقلیات کو استعمال کرتے آئے ہیں، اسلئے عقلیت پسندی کے ان مریضوں کا علاج بھی اسی صورت میں ممکن ہوگا جب علماء کو اس فن سے مناسبت یا آگاہی ہوگی۔
اس سے ہٹ کر اکابر علمائے امت کی تصنیفات میں بھی چونکہ منطق و فلسفہ کی اصطلاحات موجود ہیں، لہٰذا جو شخص اس فن سے ناواقف ہوگا، وہ دوسروں کو سمجھانے کی بجائے خود ان علوم سے استفادہ نہیں کرسکے گا، لہٰذا جس طرح قرآن و سنت کی فہم کے لئے علم صرف، نحو، معانی، بدیع، بلاغت و بیان کا جاننا ضروری ہے، اسی طرح منطق کا جاننا بھی ضروری ہے۔ دیکھاجائے تو یہ بھی قرآن و سنت اورعلوم نبوت کاخادم علم ہے، جس کی تعلیم نہایت ضروری ہے، پھر اکابر واسلاف کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو صاف نظر آئے گا کہ جن، جن اکابر نے منطق و فلسفہ پڑھا ہے، وہ اپنے، اپنے دور کے یگانہ روزگار تھے،اورانھوں نے کسی بھی میدان میں ناکامی کا منھ نہیں دیکھا،اس لئے چند سال پہلے تک ہمارے علماء اور طلبہ درسِ نظامی سے فراغت کے بعدایک سال مستقل ”تکمیل“ کے نام سے ان فنون کو پڑھتے تھے، میرے خیال میں جو طلبہ ان فنون کی افادیت و لذت سے ناآشنا ہیں، وہی ان کی مخالفت کرتے ہیں، ورنہ یہ فن فہم و تفہیم دین میں بہت ہی ممدومعاون ہے، ہاں جولوگ جس چیز سے ناآشنا ہواکرتے ہیں، وہی اس کے دشمن و مخالف ہوتے ہیں۔
(۷) نحو کے ذریعہ فعل، فاعل، مفعول، مبتداء، خبر، شرط اورجزا کا پتا چلتا ہے، اگر اس کا پتا نہ چلے تو عربی عبارت کا معنی و مفہوم ہی صحیح طورپر واضح نہیں ہوگا۔ اگر مفعول کو فاعل یا فاعل کو مفعول بنادیاجائے تو آپ اندازہ لگائیں کہ کس قدر خطرناک حد تک معنی بدل جائے گا، مثلاً قرآن کریم کی سورئہ برأة میں ہے کہ:
ترجمہ: ”بے شک اللہ اور اس کا رسول، مشرکین سے بری ہیں۔“ (برأة:۳)
اگر بالفرض کوئی نحو کا فن نہ جانتا ہو اور وہ خدانخواسہ ”وَرَسُوْلُہ“ کا عطف مشرکین پر ڈال کر اس کو مجرور یعنی وَرَسُوْلِہ پڑھے اور نعوذ باللہ! اس کا ترجمہ یہ کرے کہ: ”اللہ مشرکین سے اور اپنے رسول سے بری ہے“ تو وہ کس قدر تحریف کا مرتکب ہوگا، بلکہ قصداً ایسا پڑھنا بدترین کفر ہے،اس لئے نحو کی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے تاکہ قرآن و حدیث کو سمجھنا آسان ہوجائے۔
آپ کا یہ فرمانا کہ دس سال تک تعلیم کے باوجود عربی تکلم پر قدرت ہے، نہ انشاء پر، اس کے جواب میں عرض ہے کہ اکابر علماء نے علم صرف، نحو،ادب اورمنطق کی متداول کتب، درسِ نظامی میں اسی غرض سے شامل کی تھیں کہ ان کو پڑھ کر، بلکہ ہضم کرکے قرآن، حدیث، فقہ اور عربیت پر قدرت حاصل ہوجائے، چنانچہ بعض حضرات ان سے کما حقہ استفادہ کرکے دین و شریعت اور علوم نبوت کے علاوہ عربی بول چال پر بھی قدرت حاصل کرلیتے ہیں، جبکہ میرے اورآپ جیسے کوتاہ ہمت، بدمحنت اور ناقص استعداد لوگ اپنی کمی، کوتاہی کو چھپانے کیلئے اسپر اعتراض کرتے ہیں، اس کو فضول جانتے ہیں اوراس پر توجہ نہیں کرتے تواس کے کماحقہ ثمرات و برکات سے محروم رہتے ہیں، ورنہ ہندوپاک کے وہ اکابر،جن کی عربیت، فصاحت اور بلاغت پر دنیائے عرب سردھنتی ہے،اوران کے کلام کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے، وہ انہی دینی مدارس کے فارغ و فاضل تھے، ان میں سے حضرت مولانا بدرعالم میرٹھی، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا شبیراحمد عثمانی،حضرت مولانا اعزاز علی، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی، حضرت مولانا محمدیوسف کاندھلوی، حضرت مولانا محمدزکریا کاندھلوی، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا شمس الحق افغانی، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا موسیٰ خان روحانی بازی، مولانا عبدالرشید نعمانی، مولانا عاشق الٰہی بلندشہری،مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار، مولانا وحیدالزماں قاسمی رحمہم اللہ تعالیٰ، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا ابوبکر غازی پوری، مولانا سید ارشدمدنی، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا نور عالم خلیل امینی وغیرہ مدظلہم حضرات انہی مدارس کے پڑھے ہوئے ہیں، جن کی عربیت و عظمت کی دنیا معترف ہے۔ آپ بھی اسی شوق و لگن سے پڑھیں تو آپ بھی ان کے مقام پر پہنچ سکتے ہیں۔
کیا عصری اسکولوں میں پڑھنے والے تمام طلبہ مکمل انگلش بول سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ان پرکیوں اعتراض نہیں؟ جہاں تک عربی بول چال کا تعلق ہے، یہ ماحول اور ممارست کی محتاج ہے، آپ بھی اس کی مشق کریں تو اچھے عربی انشاء پرداز ہوجائیں گے، چنانچہ ہمارے وہ طلبہ جو عرب جامعات میں پڑھنے جاتے ہیں، کیا وہ عربی لکھتے، بولتے نہیں؟
(۸) آپ کا یہ فرمانا کہ ہمارے مدارس میں سوائے معتزلہ کے دوسرے فرق کی تردید اور تقابل ادیان پر کچھ نہیں پڑھایا جاتا، اس سلسلہ میں دیکھاجائے تو ہماری قدیم کتب میں جن فتنہ پردازوں اور ان کے فتنوں کا تذکرہ ہے،آج بھی ان کے جانشین موجود ہیں، مگر ان کے نام اور شبہات کے انداز بدل گئے ہیں، معتزلہ ”اعتزال“ سے ہے، اوراعتزال کے معنی ہیں: جمہور سے الگ راہ اختیار کرنا، لہٰذا آج بھی جو شخص فرقہ جمہور سے الگ راہ اختیار کرتا ہے وہ معتزلی ہے، معتزلہ بھی عقلیت پسند تھے اورآج بھی عقلیت پسندی کا دور دورہ ہے، لہٰذا عقلیت پسندی کی تردید آج کے دور کے عقلیت پسندوں کی تردید ہے۔
جہاں تک تقابل ادیان کا معاملہ ہے، بحمداللہ! ہمارے دینی مدارس میں اس کی بھی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے، مگر ہر شئی کا ایک موقع، محل اور وقت ہوتا ہے، ہمارے اکابر فرماتے ہیں کہ: پہلے اپنا مسلک و مذہب سیکھو، بعد میں تردید باطل سیکھو، یہ تو کوئی عقلمندی نہ ہوئی کہ اپنا دین و مذہب اور مسلک ومشرب تو معلوم نہ ہو اور دوسروں کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑنا شروع کردیاجائے، پھر تو وہی لطیفہ ہوگا جس طرح ایک جاہل نے کسی کافر کو ڈنڈا دکھاکر کہا کہ: پڑھو کلمہ، ورنہ قتل کردوں گا، جب ڈرے سہمے کافر نے کہا: کہ چلو پڑھا دو کلمہ،تو بیچارہ ڈنڈا بردار مارے شرم کے بغلیں جھانکنے لگا، اسلئے کہ خود اس کو بھی کلمہ نہیں آتا تھا، چنانچہ دل ہی دل میں کہنے لگا: اے کاش کہ ! مجھے کلمہ آتا تو آج ایک کافر مسلمان ہوجاتا۔
(۹) یہ بھی آپ کی بے توجہی ہے کہ مدارس میں دس سال پڑھنے والا شہریت، جغرافیہ اورانگریزی سے نابلد ہوتا ہے، اس لئے کہ پہلے تو دینی مدارس کا موضوع ہی دین پڑھانا ہے، نہ کہ دنیا اوراس کے علوم۔ کیا کبھی کسی اسکول وکالج کے طالب علم سے بھی سوال ہوا ہے کہ ۱۶ سال پڑھنے کے باوجود آپ کو بنیادی اسلامی عقائد اور عربی سے نا آشنائی کیوں ہے؟
جبکہ بحمد اللہ! ہمارے مدارس میں یہ دنیوی علوم اب باقاعدہ پڑھائے بھی جاتے ہیں، اس کے علاوہ دیانت داری کی بات یہ ہے کہ جو شخص دینی مدارس کے اس نصاب کو پڑھ لیتا ہے، اُسے یہ دنیوی علوم محض تھوڑی سی توجہ اور مطالعہ سے بآسانی حاصل ہوجاتے ہیں، اورایسی کئی ایک مثالیں موجود ہیں، اگر یقین نہ آئے تو راقم کئی ایک مثالیں پیش کرسکتا ہے۔
(۱۰) آپ کایہ فرمان بھی ناقابل فہم ہے کہ:
(الف) ”مدارس میں رائج اس نصاب کی وجہ سے مدارس کے فضلاء میں یہ خرابیاں ہوگئیں کہ : مدارس سے ایسا طبقہ پیدا ہواجسے معاشرہ نے قبول نہیں کیا۔“ اس لئے کہ انہی مدارس سے فارغ ہونے والے علماء نے آج تک امت کی راہنمائی کی ہے، اور ہندوپاک میں موجودہ دینی فضا اور دیانت داری کی ساری شکلیں انہیں علماء کی مرہونِ منت ہیں، ورنہ مصر اور دوسرے کئی عرب ممالک میں خود علماء دینی وضع قطع سے محروم ہیں، وہاں ستروحجاب کا تصور معدوم ہے، کافروں اور مسلمانوں کی مستورات کے لباس میں عریانی کی حد تک مماثلت ہے، آج جس طرح ہندوپاک میں علماء پر مسلمان اعتماد کرتے ہیں، دوسرے کئی عرب ممالک کے علماء اس اعتماد سے یکسر خالی ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج دینی مدارس اوران کا خالص دینی و مذہبی نصاب ابنائے کفر کی نگاہ میں کھٹکتا ہے، اگرمعاشرے نے ان کو قبول نہ کیا ہوتا تو معاشرہ ان کی تعلیمات کو کیوں اپناتا؟اور معاشرے کی یہ اچھی حالت کیونکر ہوتی؟
بحمد اللہ! ہندوپاک میں اس نصاب اورمدارس کی اس کارکردگی کا نتیجہ ہے کہ یہاں دینی مراکز قائم ہیں، خانقاہیں آباد ہیں، تبلیغی جماعت اپنا کام کررہی ہے، قادیانیوں اور دوسرے لادینی طبقات کا ناطقہ بند ہے، مساجد و مدارس آباد ہیں، لوگوں کے چہروں پر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شادابی ہے، خواتین ستروحجاب سے مزین ہیں، دینی اسکول اور حفظ قرآن کے مدارس میں لاکھوں مسلمان بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، اور بحمد اللہ! کراچی ہی میں ماہانہ ڈھائی سے تین ہزار روپے فیس دے کر مسلمان اپنے بچوں کو حفظ قرآن اور دینی و عصری تعلیم دلارہے ہیں، کیا اب بھی کہا جائے گا کہ معاشرے نے ان کو قبول نہیں کیا؟
(ب) آپ کا یہ فرمان کہ: ”مدارس دیہاتی اور چھوٹے طبقہ کے لئے محدود ہوگئے اوراہل ثروت کا مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا“ کم از کم میرے لئے ناقابل قبول ہے، اس لئے کہ بحمد اللہ! مدارس میں اب ایک تعداد ان بچوں کی ہے جو لکھ پتی نہیں، کروڑپتی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے، اگر اہل ثروت کا ان مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا ہوتا تو یہ مدارس بند نہ ہوگئے ہوتے؟ حالانکہ ان مدارس میں سے متعدد ایسے بھی ہیں جن کا سالانہ میزانیہ کروڑوں کا ہے، آخر یہ فنڈ کہاں سے آتا ہے؟ یہ اہل ثروت کے مدارس کی طرف رجحان کی دلیل ہے یا رجحان کے ختم ہونے کی؟ آپ ہی فیصلہ فرمائیں؟
پھر اگر کچھ محروم القسمت ان مدارس کی طرف توجہ نہیں کرتے یا ان کو یہ نظام ناپسند ہے، تو اس میں اس دور کے اہل ثرورت کی کیا تخصیص ہے؟ یہ طبقہ تو خود حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں بھی تھا، جو کہا کرتا تھا:
ترجمہ: ”جولوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اردگرد ہیں، ان پر خرچ نہ کرو، یہاں تک کہ تنگ آکر وہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔“ (منافقون:۷)
آپ ہی ارشاد فرمائیں کہ کیا نعوذ باللہ! یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے نظام تعلیم کے نقص کی وجہ سے تھا؟ یا ان محروم القسمت کی شقاوتِ ازلی کی بدولت؟
پھر یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ دین کا ساتھ دینے والے ہمیشہ کمزور اور نچلے طبقہ کے لوگ رہے ہیں، جبکہ اصحابِ ثروت الا ماشاء اللہ ! ہمیشہ اس کے مخالف رہے ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
ترجمہ: ”اور جب ہم نے چاہا کہ غارت کریں کسی بستی کو، حکم بھیج دیا اس کے عیش کرنے والوں کو، پھر انھوں نے نافرمانی کی اس میں، تب ثابت ہوگئی ان پر بات، پھر اکھاڑ مارا ہم نے انکو اٹھاکر۔“ (بنی اسرائیل:۱۶)
میرے عزیز! غریبوں کا دین پڑھنا یا دین کو اپنانا اورمال داروں کااس طرف توجہ نہ کرنا ان کے اپنے اختیار اور پسند و ناپسند سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ یہ انتخاب، انتخابِ الٰہی ہے، اللہ تعالیٰ دراصل یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ میں چاہوں تو کمزوروں سے اپنے دین کا کام لے سکتا ہوں اور نہ چاہوں تو حکومت و اقتدار اور ملک ومال کے مالک اصحابِ ثروت اور خاندانی شرافت سے متصف افراد کو اس سے محروم رکھ سکتا ہوں، اگر چاہوں تو کافروں کے گھرانوں سے انبیاء پیداکردوں اورنہ چاہوں تو انبیاء کی اولاد کو اس نعمت سے محروم کرسکتا ہوں۔
غور کیا جائے تو اس میں بھی حکمت الٰہی کا یہ راز پنہاں نظرآتا ہے کہ کل کلاں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ دین اسلام اسلئے پھیلا اور پھولا کہ اسکے پیچھے مال و دولت یا ملک و اقتدار کی قوت و شوکت تھی، بلکہ بتلایاگیا کہ دین و مذہب محض اللہ تعالیٰ کی حمایت و نصرت سے پھیلاکرتا ہے اوراسکی پشت پر بظاہر کوئی نہیں ہوتا۔
لہٰذا اس انتخابِ الٰہی پر جہاں دین اور علم دین سے دور، اصحابِ ثرورت کو اپنی محرومی پر افسوس کرنا چاہئے، وہاں دین دار غریبوں کو بارگاہِ الٰہی میں سراپا تشکر و امتنان ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دین کے باغ کی باغبانی کے لئے منتخب فرمالیا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک اپنے اس دین کے باغ کے لئے پودے لگاتے رہیں گے، جو اس باغ کی سرسبزی و شادابی اوراس کی حفاظت وصیانت کے اعلیٰ مقصد کو پروان چڑھاتے رہیں گے، جیساکہ ابن ماجہ میں ہے:
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ (قیامت تک) اس دین کیلئے پودے لگاتے رہیں گے اورانہیں اپنی طاعت کے کاموں میں استعمال فرماتے رہیں گے۔“ (ابن ماجہ،ص:۳)
(ج) آپ کا یہ ارشاد کہ: ”علماء کے اندر سے تحقیقی کام کا ذوق ختم ہوتا چلاگیا۔“ اگرچہ منجملہ آپ کی بات درست ہے کہ اب پہلے کا سا ذوق علماء کے اندر بھی نہیں رہا، اور جیسی محنت و جدوجہد اور خلوص و اخلاص ہونا چاہئے تھا، اب ویسا نہیں ہے، لیکن اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ اب علماء سرے سے کام ہی نہیں کررہے ، کیونکہ بحمد اللہ! اب بھی علماء حسب استعداد اور حسب ضرورت اپنی، اپنی بساط کے مطابق کام کررہے ہیں، اگر یہ علماء اپنا کام چھوڑچکے ہوتے تو پوری دنیا کا کفر اُن کا مخالف نہ ہوتا، کیونکہ لڑائی اور جنگ وہاں ہوتی ہے جہاں کسی سے اپنے مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیائے کفر کو مسلم علماء کی مساعی اور کاوشوں سے اپنے مفادات کو نقصان پہنچنے کا شدید اندیشہ ہے، اسکی ایک مثال افغانستان پرپہلے روس اوراس کے بعدامریکا کی یلغار ہے، اسی طرح عراق، شام، لبنان وغیرہ،اسکے علاوہ پوری دنیا میں علماء کو ”دہشت گرد’ مذہبی جنونی“ وغیرہ کے القابات اسلئے دئے جاتے ہیں کہ علماء امت دنیائے کفر کی ہاں میں ہاں ملانے کو تیار نہیں۔
جہاں تک تحقیقی کام کا تعلق ہے، تو سو نقائص کے باوجود آج بھی علماء مختلف شکلوں اور مختلف عنوانات پر تحقیقی کام کررہے ہیں، چنانچہ ہندوپاک میں ایسی کئی ایک اکیڈمیاں اور ادارے وجود میں آچکے ہیں جو مسائل حاضرہ پر غور وفکر کرکے امت کی راہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، مثلاً: مولانا مجاہدالاسلام قاسمی، مولانا محمد تقی عثمانی،مولانا سید اسعد مدنی، مولانا مفتی نظام الدین شامزی، مولانا سید نصیب علی شاہ وغیرہ ایسے کئی حضرات ہیں جنھوں نے مختلف سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کرکے امت کو اس طرف متوجہ کیا اور جدید خطوط پر کام کرنے کی دعوت دی،اوراس سلسلہ کا جدید تحقیقی کام مختلف کتابوں کی شکل میں منظر عام پر آچکا ہے، جبکہ ”مجلس مسائل حاضرہ“ کے عنوان سے آپ کے کراچی میں مستقل ایک عنوان ہے، جس کے تحت علماء اہل حق باہمی مشاورت سے جدید وگھمبیر مسائل پر امت کی راہنمائی کافریضہ انجام دیتے آئے ہیں، اس کے علاوہ اگر کسی عنوان پر تحقیقی کام کی ضرورت ہے اور علماء اس سے غافل ہیں تو اس کی نشان دہی کی جائے۔
(د) آپ کے ارشاد کہ: ”علماء محدود ذہن کے ہوگئے“ کا اگر یہ معنی ہے کہ علماء ہر وقت دین ومذہب کی بات کرتے ہیں، اس کے علاوہ، وہ کوئی سوچ نہیں رکھتے، تو آپ کا ارشاد بالکل بجا ہے، کیونکہ ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص جس عنوان پر محنت کرے گا، اس کے ذہن میں ہروقت اسی کے تانے بانے ہوں گے، مثلاً : جیسے وکالت پڑھنے والا ہمیشہ وکالت کے بارہ میں سوچے گا، ڈاکٹر اپنی طب اورجراحت سے متلق سوچے گا، لیکن اگراس کایہ معنی ہے کہ علماء جمود پسند ہیں اورمسائل حاضرہ یا بین الاقوامی امور پر نہیں سوچتے، تو آپ کا ارشاد حالات، واقعات اورمشاہدات کی رو سے بداہتاً غلط ہے، کیونکہ ایسے کسی عالم دین کا نام نہیں بتلایا جاسکتا جو حالاتِ حاضرہ یا امت کی حالت زار سے بے خبر ہو، یا اس کے لئے فکرمند نہ ہو، یا اس کے سدباب کے لئے عملاً متحرک نہ ہو، یہ دوسری بات ہے کہ کسی کی حرکت نظر آتی ہے اورکسی کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے۔
(ھ) جہاں تک حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب مدظلہ کے مکتوب کا تعلق ہے،اس میں انھوں نے مدارس کے طریقہ کار اور نصاب پر کوئی اشکال نہیں فرمایا، بلکہ انھوں نے اربابِ مدارس اور علماء کرام کو طلبہ کی ذہنی، فکری استعداد اور عملی قوت میں اضافہ اور نکھار پیدا کرنے کیلئے فرمایا ہے کہ طلبہ کو ان امور کی طرف توجہ دلائی جائے تاکہ ان سے افادہ اور استفادہ زیادہ سے زیادہ ہوسکے۔
ان کے مکتوب کی غرض یہ ہے کہ اگر ان طلبہ کی ان خطوط پر تربیت کی جائے تو وہ دوسرے میدانوں میں جانے کی بجائے مدارس،مکاتب میں تدریس کے علاوہ اصلاحِ امت کی غرض سے تبلیغی جماعتوں کے ساتھ چلنے اور نکلنے کو اپنی ضرورت سمجھیں گے، توامت کو زیادہ نفع ہوگا۔
جبکہ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ دینی مدارس سے فارغ ہونے والے ذی استعداد افراد، دوسرے میدانوں میں کھپ جاتے ہیں،کوئی اسکول و کالج میں چلاجاتا ہے، تو کوئی فوج وعدلیہ کا رخ کرتا ہے،کوئی تجارت کو اپنا پیشہ بنالیتا ہے، تو کوئی بیرون ملک چلاجاتا ہے، یوں ہماری محنت کاپھل اور ثمرہ دوسرے لوگ کھاتے ہیں اور ہماری محنت کا ثمرہ ہمیں کم اور دوسروں کو زیادہ ملتا ہے، گویا ان کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا خام مال اغیار کی بھٹیوں کا ایندھن نہ بنے، بلکہ ان میں کا ہر فرد مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمدگنگوہی، شیخ الہند مولانا محمودحسن، حکیم الامت مولانا محمداشرف علی تھانوی، شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی، مولانامحمد الیاس کاندھلوی، مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہم اللہ تعالیٰ کا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا جانشین بن کر مدرسہ صُفّہ کے نظام کو چلانے والا بن جائے۔
برادر عزیز! یہ بھی شیطانی حربہ اور چال ہے کہ وہ طلبہ عزیز کے دلوں میں ایسے وساوس و شبہات ڈال کر دراصل انہیں اسلاف سے بدظن کرکے ان علوم سے محروم کرنا چاہتا ہے، چونکہ شیطان براہ راست تو طلبہ کو ان علوم کی تحصیل سے نہیں روک سکتا، اس لئے وہ ان علوم کو بے مقصد، لایعنی، عبث اور فضول قرار دے کرطلبہ کو ان کی تعلیم سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جن طلبہ کے دل و دماغ میں ان علوم یا کتب کی اہمیت نہیں ہوتی، وہ ان میں محنت بھی نہیں کرتے،اور وہ مسلسل ناکام ہونے کی وجہ سے غبی اور بداستعداد ہوجاتے ہیں اور رفتہ رفتہ مدارس سے ان کا جی بھرجاتا ہے، پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ دینی مدارس سے نکل کر دنیائے دنی کے پیچھے مارے مارے پھرتے ہیں۔
شیطان جانتا ہے کہ ایک عالم اس پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے، اس لئے وہ طلبہ کو علوم نبوت سے محروم رکھنے کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے، چنانچہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نوراللہ مرقدہ ”آپ بیتی“ میں اپنے زمانہ طالب علمی کے ایک سبق آموز واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
”اس نابکار (حضرت شیخ الحدیث) کو بزرگی کا جوش ہوا اور مغرب کے بعد حضرت گنگوہی قدس سرہ کے حجرے کے سامنے لمبی نفلوں کی نیت باندھ لی، اباجان نے آکر ایک زور سے تھپڑ مارا اور یہ فرمایا کہ: ”سبق یاد نہیں کیاجاتا۔“ میرے چچا جان (حضرت مولانا محمد الیاس) رحمة اللہ علیہ اس زمانے میں بڑی لمبی نفلیں پڑھا کرتے تھے، بعد مغرب سے عشاء کی اذان کے قریب فارغ ہوا کرتے تھے، لیکن والد صاحب کے یہاں مختصر سی نوافل کے بعد تعلیم کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ اس وقت تو مجھے بہت غصہ آیا، کہ خود تو پڑھی نہیں جاتی، دوسرے کو بھی پڑھنے نہیں دیتے، مگر جلد ہی سمجھ میںآ گیا کہ بات صحیح تھی، وہ نفلیں بھی شیطانی حربہ علم سے روکنے کے واسطے تھا، اس لئے کہ جب نفلیں پڑھنے کا دور آیا، اب نفس بہانے ڈھونڈتا ہے۔“ (آپ بیتی، جلد اوّل،ص:۲۰)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و سنت، علوم نبوت، فقہ وحدیث اور دین و شریعت کا سچا پیروکار اوراپنے اسلاف و اکابر کا صحیح جانشین بنائے اور نفس و شیطان کے مکرو فریب سے محفوظ فرمائے۔
وصلی اللّٰہ تعالی علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین․

درسِ نظامی پر اشکالات کا جواب ... از: مولانا سعید احمد جلال پوری
http://darululoom-deoband.com/urdu/articles/index.php?content=featured&display=detail&id=367

Liberalism, Secularism & Islamism



Liberalism is a political philosophy or world view founded on ideas of liberty and equality. The former principle is stressed in classical liberalism while the latter is more evident in social liberalismLiberals espouse a wide array of views depending on their understanding of these principles, but generally they support ideas and programs such as freedom of speechfreedom of the pressfreedom of religionfree marketscivil rights,democratic societiessecular governments, and international cooperation. [wikipedia]
Book:
Islam's relationship to liberal-democratic politics has emerged as one of the most pressing and contentious issues in international affairs. InIslam, Secularism, and Liberal Democracy, Nader Hashemi challenges the widely held belief among social scientists that religious politics and liberal-democratic development are structurally incompatible. This book argues for a rethinking of democratic theory so that it incorporates the variable of religion in the development of liberal democracy. In the process, it proves that an indigenous theory of Muslim secularism is not only possible, but is a necessary requirement for the advancement of liberal democracy in Muslim societies.


أ دھا سیر گوشت اور آدھا سیر بِلّی
لبرل ازم کی طرح سیکولرازم بھی وہ بدقسمت لفظ ہے جسے عفریت بنا دیا گیا ہے۔ جس شخص نے بھی یہ اصطلاح سب سے پہلے استعمال کی، اب بہرطور یہ اُن معنوں میں نہیں لی جاتی۔ اس کا مطلب لادینیت، الحاد یا دہریہ ہونا ہرگز نہیں! اس سے مراد پوری دنیا میں اب یہ لیا جاتا ہے کہ تمام مذاہب کو برداشت کیا جائے اور مذہبی معاملات میں جبر، تشدد، امتیاز اور نفرت سے بچا جائے۔ اگر سیکولرازم کا مطلب دہریت اور الحاد ہوتا تو بھارتی مسلمان اسے اپنی ضرورت نہ سمجھتے۔ اسدالدین اویسی آل انڈیا مجلسِ اتحادالمسلمین کے صدر ہیں۔ تین بار لوک سبھا کے رکن رہے۔ 21 اکتوبر 2015ء کو انہوں نے دہائی دی کہ ''سیکولرازم کے بغیر بھارت بے کس ہو جائے گا۔ اس ملک کی اقدار میں سیکولرازم اور تنوع بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور انہیں ہر حال میں مضبوط کرنا ہو گا‘‘۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں آئے دن اُن کے دانشور، پروفیسر اور اہلِ علم وضاحتیں کر رہے ہیں کہ سیکولرازم سے مراد نازی ازم ہے، نہ سٹالن ازم، نہ سوشلزم اور نہ ہی الحاد و دہریت! امریکی اہلِ علم دائیں بازو کے انتہا پسند مذہبی گروہوں پر الزام لگا رہے ہیں کہ سیکولرازم کو یہ لوگ اپنے مقاصد کی خاطر غلط ملبوس پہنا رہے ہیں۔
اس وقت تقریباً اجماع ہے کہ سیکولرازم سے مراد ہے تمام مذاہب کو برداشت کرنا‘ معاشرے میں تنوع کی موجودگی میں مسائل کو عقل اور منطق کے ذریعے حل کرنا، ہر شہری کو اپنے جائز منصوبوں کی تکمیل میں مدد دینا، مساوات کو اہمیت دینا، ذات پات، طبقات، نسل، مذہب اور عقیدے کے تعصب کے بغیر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ریاست کی طرف سے اقدامات کرنا۔
اگر تعصب کو ایک لمحے کے لئے ایک طرف رکھ دیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ سلطنتِ عثمانیہ نے یورپ اور امریکہ سے بہت پہلے اپنے معاشرے کو سیکولر کیا تھا۔ بے شک یہ اصطلاح اُس وقت استعمال نہیں ہو رہی تھی مگر آج متوازن اور غیر متعصب دانشور سیکولرازم سے جو کچھ مُراد لیتے ہیں سلطنتِ عثمانیہ نے اس کا عملی مظاہرہ کرکے پوری
دنیا کو دکھا دیا تھا کہ سیکولر معاشرہ کیا ہوتا ہے۔ یہودی اور نصرانی بلند مناصب پر فائز تھے۔ حکیم یعقوب پاشا (یہودی) وزیر خزانہ رہا۔ پرتگالی یہودی موسیٰ ہامون خلیفہ کا طبیب تھا۔ ابراہیم کاسترو ٹکسال کا حاکمِ اعلیٰ تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ کے عروج کے زمانے میں (1300ء سے 1600ء تک) غیر مسلموں نے ازحد ترقی کی۔ تجارت، مالیات، سفارت، وزارت، انتظامیہ ہر جگہ موجود تھے۔ سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو حکم دیا کہ ''مسلمان، عیسائی اور یہودی‘‘ سلطنت کے اطراف و اکناف سے آئیں اور قسطنطنیہ میں آباد ہوں! نئے دارالخلافہ کی آبادی میں یہودی دس فیصد ہو گئے۔ دوسرے غیر مسلم اس کے علاوہ تھے۔ 1481ء سے 1512ء تک کا زمانہ ہسپانیہ میں مذہبی عدالتوں کے ظلم و ستم کا تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ نے اپنے دروازے کھول دیے۔ ایک لاکھ پچاس ہزار یہودی ہسپانیہ سے بھاگے۔ اکثریت کو پناہ ترکوں کے ہاں ملی۔ عثمانی خلیفہ کا ہسپانوی بادشاہ پر یہ طنز اُس زمانے میں بہت مشہور ہوا... ''تم فرڈی ننڈ کو عقل مند سمجھتے ہو! وہ اپنے ملک کو غریب اور ہمارے ملک کو امیر کر رہا ہے!‘‘ یہ یہودی، عثمانی سلطنت کے امیر تر شہروں میں آباد ہوئے۔ قسطنطنیہ میں اُس وقت 44 یہودی عبادت خانے تھے۔ پروفیسر آرنلڈ، جو مشرقی علوم کے بہت بڑے عالم تھے، سر سید احمد خان اور شبلی نعمانی کے دوست تھے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھاتے رہے اور علامہ اقبال کے استاد رہے، لکھتے ہیں کہ عثمانی حکومت کے مفتوح علاقوں میں اسلام زور اور طاقت سے نہیں پھیلا۔ آرنلڈ اس کا سبب اخلاقی برتری کو قرار دیتے ہیں۔ اخلاقی برتری کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ غیر مسلموں کو بلند مناصب پر فائز کیا جاتا تھا!
اِس وقت بھارت میں جو سلوک مسلمانوں اور نچلی ذاتوں کے ساتھ ہو رہا ہے، اُسے سیکولرازم کے کھاتے میں ڈالنا مُودی کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے! روایت ہے کہ مُلا نصرالدین آدھا سیر گوشت خرید کر لائے اور بیوی سے کہا کہ پکا دینا۔ خود کسی کام سے باہر چلے گئے۔ بیوی کو ایک مدت بعد گوشت ملا ہو گا۔ اس نے بُھونا اور سارا خود ہی چٹ کر گئی۔ مُلّا آئے تو بیوی نے شکایت کی کہ بلّی کھا گئی۔ مُلاّ نے بلّی کو ترازو میں تولا۔ بلّی کا وزن آدھا سیر نکلا۔ مُلاّ نے پوچھا: اگر یہ گوشت کا وزن ہے‘ تو بلّی کہاں ہے؟ اور اگر بلّی خود ہی آدھا سیر ہے تو گوشت کہاں گیا؟
اگر مودی اور آر ایس ایس کے سیاہ کارنامے سیکولرازم کے کھاتے میں ڈالیں گے تو پھر نتیش کمار اور اُس کا ساتھ دینے والی پارٹیوں کو کہاں رکھیں گے؟ اور اگر بہار میں جیتنے والے سیکولرازم کے نام پر جیتے ہیں تو مُودی اور بی جے پی سیکولر کس طرح ہو گئے؟ ہر شخص کو معلوم ہے کہ مودی ہندوتوا کا نقیب ہے۔ گجرات میں مسلمانوں کے قتلِ عام کا ذمہ دار وہی تھا۔ بھارتی ادیب جوق در جوق اعزازات واپس کر رہے ہیں۔ بھارتی نیوی کے سابق سربراہ نے احتجاج کیا ہے! یہ لوگ یہی تو رونا رو رہے ہیں کہ مُودی اور اُس کے ہم رکاب بنیاد پرست متعصب ہندو بھارت کا مُنہ کالا کر رہے ہیں!
یہ سیکولرازم ہی ہے جس کے طفیل کروڑوں مسلمان، اپنے آبائی ممالک سے ہجرت کر کے، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی،
ہسپانیہ، جاپان، آسٹریلیا، سنگاپور، نیوزی لینڈ، آسٹریا، ہالینڈ، ڈنمارک، ناروے، سویڈن حتیٰ کہ فن لینڈ جیسے دور افتادہ ممالک میں آباد ہو گئے ہیں۔ ان ملکوں میں انہیں مذہبی آزادیاں حاصل ہیں، مساجد آباد ہیں، جائیدادیں، مکان، دکانیں اُن کے نام پر ہیں، پارلیمنٹ کے وہ ممبر بن رہے ہیں، وزارتیں اور سفارتیں انہیں دی جا رہی ہیں۔ اپنے اپنے ملکوں سے وہ اپنے رشتہ داروں کو بھی بلا کر آباد کر رہے ہیں۔ زرِمبادلہ بھیج رہے ہیں۔ اس کالم نگار نے اپنے ایک عزیز کی وساطت سے مساجد اور مدارس کے اعداد و شمار حاصل کیے ہیں۔ صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تین ہزار سے زیادہ مسجدیں ہیں۔ کیلی فورنیا میں 525، نیویارک میں 507، ٹیکساس میں 302، فلوریڈا میں 186، اسی طرح ہر ریاست میں مسجدوں کی تعداد معلوم کی گئی ہے۔ ایک نجی ذریعے کے مطابق نیویارک، شکاگو، کیلی فورنیا، فلوریڈا اور اٹلانٹا میں درس نظامی کے کم از کم پندرہ مدارس کام کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے اصل تعداد اس سے زیادہ ہو۔ حفظِ قرآن پاک کے امریکہ میں دو سو مدارس ہیں! برطانیہ کے اُن شہروں میں جہاں پاکستانی زیادہ تعداد میں ہیں جیسے مانچسٹر، گلاسگو، بریڈفورڈ وغیرہ، پاکستان سے فرقہ واریت تک درآمد کی جا رہی ہے۔ پیری فقیری، استخارہ، جادو ٹونہ کا علاج۔ سب کچھ پوری حشر سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔ خصوصی ٹیلی ویژن چینل رات دن چل رہے ہیں، آسٹریلیا میں مصریوں کی اپنی مساجد ہیں، ترکوں کی اپنی، بنگالیوں کی اپنی اور پاکستانیوں کی اپنی۔ لاکھوں صومالوی مہاجر آباد ہوئے ہیں۔ بہت سے خوشحالی اور امارت سے ہمکنار ہو رہے ہیں۔ سڈنی کے اُس حصے میں‘ جسے لکمبا (LAKEMBA) کہا جاتا ہے، جائیں تو یوں لگتا ہے قاہرہ یا لاہور میں آ گئے ہیں۔ میلبورن میں فاکنر کے علاقے میں پاکستانیوں کی بہت بڑی مسجد ہے جو تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہے۔ اس کے ساتھ ملحق مسلمانوں کا اپنا تعلیمی ادارہ ہے۔ عربوں اور ترکوں کے اپنے تعلیمی ادارے ہیں جو حکومت سے منظور شدہ ہیں۔ ان تمام ملکوں میں اسلام مخالف عناصر آئے دن مطالبے کرتے پھرتے ہیں کہ مسجدوں پر پابندی لگائی جائے اور مسلمانوں کو نکال باہر کیا جائے مگر کسی حکومت نے اس قسم کے انتہا پسندانہ مطالبات کو کبھی درخورِ اعتنا نہ سمجھا! آئے دن ہمارے ہاں سے اور دوسرے مسلمان ملکوں سے علماء کرام، پیرانِ عظام، مشائخ کرام اور روحانی شخصیات ان ملکوں کے دورے کرتی ہیں، چندے اکٹھا کرتی ہیں، عقیدت مندوں سے خدمت کراتی ہیں، تبلیغی جماعت کے وفود ان ملکوں میں شہر شہر قریہ قریہ گھومتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان ملکوں میں یہ سب کچھ کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا! امام خمینی سے لے کر علامہ طاہرالقادری تک سب کی سرگرمیوں کے مراکز مغربی ممالک ہی رہے ہیں۔ یہ سب کچھ جمہوریت اور سیکولرازم کی وجہ سے ہے۔ اگر یہ ریاستیں سیکولر نہ ہوتیں اور مسیحی ہوتیں تو پادری اور دوسرے متعصب لوگ کسی ایک مسلمان اور ایک مسجد تک کو برداشت نہ کرتے!
اس کے مقابلے میں ہمارا اپنا طرزِ عمل کیا ہے؟ مسلم لیگ نون کے رکن ڈاکٹر رمیش کمار نے کچھ عرصہ پہلے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ہر سال پانچ ہزار ہندو گھر بار چھوڑ کر بھارت جا رہے ہیں۔ رمیش کمار نے کہا کہ صرف دو ماہ میں مذہبی تشدد کے چھ واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابیں جلائی گئی ہیں اور بااثر افراد اندرون سندھ میں ہندو لڑکیوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر رہے ہیں!
اگر ذہنوں میں مخصوص ڈکشنریاں کھلی رہیں گی اور آنکھوں پر مخصوص رنگوں کی عینکیں لگی رہیں گی تو یہی ہو گا، جو اب ہو رہا ہے۔ جہاں سیکولرازم یا لبرل ازم کا نام آیا، چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں، یا گلوں کی رگیں پھول کر سرخ ہو جاتی ہیں اور سوچے سمجھے بغیر واویلا مچا دیا جاتا ہے! خدا کے فضل سے اسلام کمزور ہے نہ پاکستان کہ مذہبی رواداری سے اور دوسرے مذاہب کو برداشت کرنے سے اسے نقصان پہنچ جائے! تلفظ تک تو ہمیں آتا نہیں، معنیٰ کیا سمجھیں گے۔ اکثر حضرات کو سیکولر کے سین کے نیچے زیر لگا کر SEECLAR کہتے سنا ہے حالانکہ سین کے اوپر زبر ہے یعنی SECULAR!

By M. Izhar ul Haq
http://m.dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2015-11-18/13345/38810027

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits
http://JustOneGod.blogspot.com
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

کیا مولانا فضل ا لرحمان یہود و نصاریٰ کا ایجنٹ ہے ؟ Molana Fazal-ur-Rahman covertly seeks American support




Wikileaks about Imran Khan,Chaudhry Nisar & MQM by RohailAsghari

Video on imran Khan -wikileaks >>>

Molvi Fazal Ur Rehman JUI-F CIA Agent proved by GhulameSahaba
Molana Fazal-ur-Rahman (Diesel) has been criticized for his dubious policies, greed, corruption and hypocrisy. The Wikileaks secret cables exposed Rahman when he cordially invited US Ambassador to Pakistan, Anne Patterson, to a state dinner in Islamabad in which he sought her support in becoming prime minister and expressed a desire to visit America. [Source Wikipedia]

 تُسِرُّونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنتُمْ ۚ وَمَن يَفْعَلْهُ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ ﴿١

تم ان کی طرف پوشیدہ پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔ اور جو کچھ تم مخفی طور پر اور جو علیٰ الاعلان کرتے ہو وہ مجھے معلوم ہے۔ اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا (قرآن: سورة الممتحنة ٦٩ آیت ١     




The political face of JuD

Related image

THE Jamaatud Dawa (JuD) has transformed its political wing into a political party, so the latter is not entirely new. Long-established but informal and not involved in electoral politics, the political wing of the under-watch militant group has been reincarnated as a political party, the Milli Muslim League (MML), whose registration with the Election Commission of Pakistan (ECP) is under process.

The move comes at a time when the country is heading towards a new election amidst political turbulence. Some political analysts see in it an attempt by certain establishment quarters to unite and launch a far-right political alliance to curtail the growing anti-establishment sentiments in mainstream politics. They believe the establishment is dry-cleaning its assets to launch them as part of that larger electoral alliance, which could include groups and parties that were part of the Difa-i-Pakistan Council. This was formed to campaign for the severing of ties with the US and to reject the government’s decision to grant India the status of Most Favoured Nation.

In a low-key launching ceremony in Islamabad, MML leaders said that the party will have two immediate goals: to defy attempts to repeal Articles 62 and 63 of the Constitution; and to protect the ideology of Pakistan. The second goal is apparently set to support the Kashmiri freedom struggle. This is the modus operandi of all far-right parties — to garb their real agendas in ideological objectives with a view to seeking broader national support and outclassing their opponents.

It would be unique if the political wing of a militant group were to be registered with the ECP.

However, security analysts see the move in the context of growing international pressure on Pakistan for not taking enough action against the Security Council’s designated terrorist groups allegedly operating in the country. In particular, the concerns of the Financial Action Task Force, an international watchdog tracking terror financing, have become more serious. The FATF is not happy with the government’s stance vis-à-vis JuD chief Hafiz Saeed and the entities linked to him, especially the Falah-i-Insaniyat Foundation, the JuD’s charity wing. FATF’s Asia Pacific group is urging Pakistan to take tough decisions against JuD and its affiliated entities. According to reports, banning the Tehreek-i-Azadi of Jammu Kashmir, one of the many groups set up by Hafiz Saeed, and putting him under protective custody were part of government efforts to avoid sanctions on international financial transactions.

Notwithstanding how analysts interpret the arrival of the MML, hardly anyone sees its establishment as part of Pakistan’s reintegration or de-radicalisation efforts. There is no sign that the government has evolved a de-radicalisation policy framework or that it is interested in bringing banned groups into the mainstream. The MML’s establishment thus appears to be an attempt by a militant group to legitimise its actions and avert international sanctions.

Secondly, the JuD and its charities need some breathing space in the country’s mainstream media, and political and intelligentsia discourses, that are increasingly criticising it. The JuD is not happy with the government’s measures to put a ban on the coverage of its activities. On the other hand, the group continues to project itself as the custodian of Pakistan’s ideological interests as a partner of the security establishment. The establishment, too, is not dispelling this impression.

As far as reintegration is concerned, this is a serious affair and is needed to counter terrorism. The contours of a reintegration plan that could be effective in our context have been discussed many times. To recall, a process of independent consultations with different expert groups recently advocated parliamentary oversight of such a process. The findings propelled the suggestion of a high-powered truth and reconciliation commission to review policies that produced militancy and the mainstreaming of those willing to shun violence. This commission may deliberate on whether or not to identify wrongs committed in the past. Expert groups opposed the idea of a general amnesty for repentant groups, and suggested a proper mechanism to study the behaviour of militant groups to decide on the extent of their reintegration.

One may call the formation of MML forced reintegration. External pressures and the changing internal security dynamics have forced the JuD and its masters to exploit the reintegration policy rhetoric. The MML is a JuD political wing and it would be a unique case in our history if the political wing of a militant organisation were to be registered with the ECP as a political party.

Yet, some are hopeful that through the formation of the MML, the JuD will make its formal entry into democratic electoral politics, which it has thus far deemed haram. There is still plenty of literature being produced by the JuD against democracy and the Constitution — or man-made legislation. A brief background of the party’s anti-democratic ideology and practices can be found in a book Qafila Dawat-o-Jihad, written by Ameer Hamza, a JuD founder. Indeed, the JuD has the same worldview and anti-democratic attitude that are espoused by international terrorist groups such as Al Qaeda and the militant Islamic State group. Interestingly, to save their cadres from joining the IS, the JuD has published more than 20 booklets against the latter and its ideology of takfir — declaring some fellow Muslims or Muslim rulers to be outside the pale of Islam. These books also include Urdu translations of writings by Saudi scholars.

Participation in the democratic process may provide an opportunity for JuD leaders to further review their narrow social views and ideology. As far as mainstream politics is concerned, the MML will act as a far-right party and follow a pro-establishment agenda. There was space for such a party that can organise and bring scattered far-right elements under one banner. In the past, the Jamaat-i-Islami and the Jamiat Ulema-i-Islam provided such services. But with time, both have tended to distance themselves from the establishment. Far-right parties cannot damage the electoral base of mainstream parties but can challenge their views on religious, social and regional issues. Perhaps this is one of the purposes behind the MML’s establishment.


Muhammad Amir Rana، a security analyst.
https://www.dawn.com/news/1351281/the-political-face-of-jud
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page