Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

Showing posts with label Secularism. Show all posts
Showing posts with label Secularism. Show all posts

Ideological Confusion - نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل



"ہم ایک ایسے اسلامی تصور کا تعاقب کر رہے ہیں جو انسانیت، جمالیات، دانش اور روحانی عقیدت سے خالی ہے … جس کا تعلق طاقت سے ہے نہ کہ روح سے، عوام کو  حصول اقتدار کے لیے متحرک کیا جاتا ہے نا کہ ان کی مشکلات کے خاتمے اور تمناؤں کے حصول کے لیے." (اقبال احمد)

“We are chasing an Islamic order ‘stripped of its humanism, aesthetics, intellectual quests and spiritual devotions…. concerned with power not with the soul, with the mobilization of people for political purposes rather than with sharing and alleviating their sufferings and aspirations.”[Eqbal Ahmad]

Pakistan; A Secular or Islamic Democratic Republic سیکولر یا اسلامی پاکستان



The debate for Secular Pakistan, will never end because, the history does not support this conflicting ideology of few ... 

The point is very simple... Qaid e Azam was not a hypocrite to exploit the religious feelings of Muslims to create a country,  then show his real intentions... No .. he was not a hypocrite... but was a democrat...

As a democrats one has to respect the feelings of majority... The will of people is reflected through votes.  All the constituent assemblies unanimously adopted Objective Resolution in Constitution of Pakistan.. which remains there in every constitution ... (Should we asdume that the People changed their mind from Secular to Islamic Pakistan?)

However if people change their mind  and expunge it through constitutional amendment,  no one,  even founder of this country could do anything even if he was alive.. I don't see this happening in foreseeable future ..

Now is the time to move forward and make efforts for a modern democratic Islamic Republic of Pakistan.. not a Sectarian Theocracy or Secular. We are moving in same direction,  people reject  #Sectarianism  #Secularism and #Extremism, but lot is yet to be done ... 

Let's move forward without digging out settled issues 🌹 
#Pakistan #Islam #Muslims

Quran on Law

Those who do not judge by what God has sent down have been declared as Kafir, wrongdoers! rebellious (Quran 5:44-47)

Liberalism, Secularism & Islamism



Liberalism is a political philosophy or world view founded on ideas of liberty and equality. The former principle is stressed in classical liberalism while the latter is more evident in social liberalismLiberals espouse a wide array of views depending on their understanding of these principles, but generally they support ideas and programs such as freedom of speechfreedom of the pressfreedom of religionfree marketscivil rights,democratic societiessecular governments, and international cooperation. [wikipedia]
Book:
Islam's relationship to liberal-democratic politics has emerged as one of the most pressing and contentious issues in international affairs. InIslam, Secularism, and Liberal Democracy, Nader Hashemi challenges the widely held belief among social scientists that religious politics and liberal-democratic development are structurally incompatible. This book argues for a rethinking of democratic theory so that it incorporates the variable of religion in the development of liberal democracy. In the process, it proves that an indigenous theory of Muslim secularism is not only possible, but is a necessary requirement for the advancement of liberal democracy in Muslim societies.


أ دھا سیر گوشت اور آدھا سیر بِلّی
لبرل ازم کی طرح سیکولرازم بھی وہ بدقسمت لفظ ہے جسے عفریت بنا دیا گیا ہے۔ جس شخص نے بھی یہ اصطلاح سب سے پہلے استعمال کی، اب بہرطور یہ اُن معنوں میں نہیں لی جاتی۔ اس کا مطلب لادینیت، الحاد یا دہریہ ہونا ہرگز نہیں! اس سے مراد پوری دنیا میں اب یہ لیا جاتا ہے کہ تمام مذاہب کو برداشت کیا جائے اور مذہبی معاملات میں جبر، تشدد، امتیاز اور نفرت سے بچا جائے۔ اگر سیکولرازم کا مطلب دہریت اور الحاد ہوتا تو بھارتی مسلمان اسے اپنی ضرورت نہ سمجھتے۔ اسدالدین اویسی آل انڈیا مجلسِ اتحادالمسلمین کے صدر ہیں۔ تین بار لوک سبھا کے رکن رہے۔ 21 اکتوبر 2015ء کو انہوں نے دہائی دی کہ ''سیکولرازم کے بغیر بھارت بے کس ہو جائے گا۔ اس ملک کی اقدار میں سیکولرازم اور تنوع بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور انہیں ہر حال میں مضبوط کرنا ہو گا‘‘۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں آئے دن اُن کے دانشور، پروفیسر اور اہلِ علم وضاحتیں کر رہے ہیں کہ سیکولرازم سے مراد نازی ازم ہے، نہ سٹالن ازم، نہ سوشلزم اور نہ ہی الحاد و دہریت! امریکی اہلِ علم دائیں بازو کے انتہا پسند مذہبی گروہوں پر الزام لگا رہے ہیں کہ سیکولرازم کو یہ لوگ اپنے مقاصد کی خاطر غلط ملبوس پہنا رہے ہیں۔
اس وقت تقریباً اجماع ہے کہ سیکولرازم سے مراد ہے تمام مذاہب کو برداشت کرنا‘ معاشرے میں تنوع کی موجودگی میں مسائل کو عقل اور منطق کے ذریعے حل کرنا، ہر شہری کو اپنے جائز منصوبوں کی تکمیل میں مدد دینا، مساوات کو اہمیت دینا، ذات پات، طبقات، نسل، مذہب اور عقیدے کے تعصب کے بغیر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ریاست کی طرف سے اقدامات کرنا۔
اگر تعصب کو ایک لمحے کے لئے ایک طرف رکھ دیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ سلطنتِ عثمانیہ نے یورپ اور امریکہ سے بہت پہلے اپنے معاشرے کو سیکولر کیا تھا۔ بے شک یہ اصطلاح اُس وقت استعمال نہیں ہو رہی تھی مگر آج متوازن اور غیر متعصب دانشور سیکولرازم سے جو کچھ مُراد لیتے ہیں سلطنتِ عثمانیہ نے اس کا عملی مظاہرہ کرکے پوری
دنیا کو دکھا دیا تھا کہ سیکولر معاشرہ کیا ہوتا ہے۔ یہودی اور نصرانی بلند مناصب پر فائز تھے۔ حکیم یعقوب پاشا (یہودی) وزیر خزانہ رہا۔ پرتگالی یہودی موسیٰ ہامون خلیفہ کا طبیب تھا۔ ابراہیم کاسترو ٹکسال کا حاکمِ اعلیٰ تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ کے عروج کے زمانے میں (1300ء سے 1600ء تک) غیر مسلموں نے ازحد ترقی کی۔ تجارت، مالیات، سفارت، وزارت، انتظامیہ ہر جگہ موجود تھے۔ سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو حکم دیا کہ ''مسلمان، عیسائی اور یہودی‘‘ سلطنت کے اطراف و اکناف سے آئیں اور قسطنطنیہ میں آباد ہوں! نئے دارالخلافہ کی آبادی میں یہودی دس فیصد ہو گئے۔ دوسرے غیر مسلم اس کے علاوہ تھے۔ 1481ء سے 1512ء تک کا زمانہ ہسپانیہ میں مذہبی عدالتوں کے ظلم و ستم کا تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ نے اپنے دروازے کھول دیے۔ ایک لاکھ پچاس ہزار یہودی ہسپانیہ سے بھاگے۔ اکثریت کو پناہ ترکوں کے ہاں ملی۔ عثمانی خلیفہ کا ہسپانوی بادشاہ پر یہ طنز اُس زمانے میں بہت مشہور ہوا... ''تم فرڈی ننڈ کو عقل مند سمجھتے ہو! وہ اپنے ملک کو غریب اور ہمارے ملک کو امیر کر رہا ہے!‘‘ یہ یہودی، عثمانی سلطنت کے امیر تر شہروں میں آباد ہوئے۔ قسطنطنیہ میں اُس وقت 44 یہودی عبادت خانے تھے۔ پروفیسر آرنلڈ، جو مشرقی علوم کے بہت بڑے عالم تھے، سر سید احمد خان اور شبلی نعمانی کے دوست تھے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھاتے رہے اور علامہ اقبال کے استاد رہے، لکھتے ہیں کہ عثمانی حکومت کے مفتوح علاقوں میں اسلام زور اور طاقت سے نہیں پھیلا۔ آرنلڈ اس کا سبب اخلاقی برتری کو قرار دیتے ہیں۔ اخلاقی برتری کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ غیر مسلموں کو بلند مناصب پر فائز کیا جاتا تھا!
اِس وقت بھارت میں جو سلوک مسلمانوں اور نچلی ذاتوں کے ساتھ ہو رہا ہے، اُسے سیکولرازم کے کھاتے میں ڈالنا مُودی کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے! روایت ہے کہ مُلا نصرالدین آدھا سیر گوشت خرید کر لائے اور بیوی سے کہا کہ پکا دینا۔ خود کسی کام سے باہر چلے گئے۔ بیوی کو ایک مدت بعد گوشت ملا ہو گا۔ اس نے بُھونا اور سارا خود ہی چٹ کر گئی۔ مُلّا آئے تو بیوی نے شکایت کی کہ بلّی کھا گئی۔ مُلاّ نے بلّی کو ترازو میں تولا۔ بلّی کا وزن آدھا سیر نکلا۔ مُلاّ نے پوچھا: اگر یہ گوشت کا وزن ہے‘ تو بلّی کہاں ہے؟ اور اگر بلّی خود ہی آدھا سیر ہے تو گوشت کہاں گیا؟
اگر مودی اور آر ایس ایس کے سیاہ کارنامے سیکولرازم کے کھاتے میں ڈالیں گے تو پھر نتیش کمار اور اُس کا ساتھ دینے والی پارٹیوں کو کہاں رکھیں گے؟ اور اگر بہار میں جیتنے والے سیکولرازم کے نام پر جیتے ہیں تو مُودی اور بی جے پی سیکولر کس طرح ہو گئے؟ ہر شخص کو معلوم ہے کہ مودی ہندوتوا کا نقیب ہے۔ گجرات میں مسلمانوں کے قتلِ عام کا ذمہ دار وہی تھا۔ بھارتی ادیب جوق در جوق اعزازات واپس کر رہے ہیں۔ بھارتی نیوی کے سابق سربراہ نے احتجاج کیا ہے! یہ لوگ یہی تو رونا رو رہے ہیں کہ مُودی اور اُس کے ہم رکاب بنیاد پرست متعصب ہندو بھارت کا مُنہ کالا کر رہے ہیں!
یہ سیکولرازم ہی ہے جس کے طفیل کروڑوں مسلمان، اپنے آبائی ممالک سے ہجرت کر کے، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی،
ہسپانیہ، جاپان، آسٹریلیا، سنگاپور، نیوزی لینڈ، آسٹریا، ہالینڈ، ڈنمارک، ناروے، سویڈن حتیٰ کہ فن لینڈ جیسے دور افتادہ ممالک میں آباد ہو گئے ہیں۔ ان ملکوں میں انہیں مذہبی آزادیاں حاصل ہیں، مساجد آباد ہیں، جائیدادیں، مکان، دکانیں اُن کے نام پر ہیں، پارلیمنٹ کے وہ ممبر بن رہے ہیں، وزارتیں اور سفارتیں انہیں دی جا رہی ہیں۔ اپنے اپنے ملکوں سے وہ اپنے رشتہ داروں کو بھی بلا کر آباد کر رہے ہیں۔ زرِمبادلہ بھیج رہے ہیں۔ اس کالم نگار نے اپنے ایک عزیز کی وساطت سے مساجد اور مدارس کے اعداد و شمار حاصل کیے ہیں۔ صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تین ہزار سے زیادہ مسجدیں ہیں۔ کیلی فورنیا میں 525، نیویارک میں 507، ٹیکساس میں 302، فلوریڈا میں 186، اسی طرح ہر ریاست میں مسجدوں کی تعداد معلوم کی گئی ہے۔ ایک نجی ذریعے کے مطابق نیویارک، شکاگو، کیلی فورنیا، فلوریڈا اور اٹلانٹا میں درس نظامی کے کم از کم پندرہ مدارس کام کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے اصل تعداد اس سے زیادہ ہو۔ حفظِ قرآن پاک کے امریکہ میں دو سو مدارس ہیں! برطانیہ کے اُن شہروں میں جہاں پاکستانی زیادہ تعداد میں ہیں جیسے مانچسٹر، گلاسگو، بریڈفورڈ وغیرہ، پاکستان سے فرقہ واریت تک درآمد کی جا رہی ہے۔ پیری فقیری، استخارہ، جادو ٹونہ کا علاج۔ سب کچھ پوری حشر سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔ خصوصی ٹیلی ویژن چینل رات دن چل رہے ہیں، آسٹریلیا میں مصریوں کی اپنی مساجد ہیں، ترکوں کی اپنی، بنگالیوں کی اپنی اور پاکستانیوں کی اپنی۔ لاکھوں صومالوی مہاجر آباد ہوئے ہیں۔ بہت سے خوشحالی اور امارت سے ہمکنار ہو رہے ہیں۔ سڈنی کے اُس حصے میں‘ جسے لکمبا (LAKEMBA) کہا جاتا ہے، جائیں تو یوں لگتا ہے قاہرہ یا لاہور میں آ گئے ہیں۔ میلبورن میں فاکنر کے علاقے میں پاکستانیوں کی بہت بڑی مسجد ہے جو تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہے۔ اس کے ساتھ ملحق مسلمانوں کا اپنا تعلیمی ادارہ ہے۔ عربوں اور ترکوں کے اپنے تعلیمی ادارے ہیں جو حکومت سے منظور شدہ ہیں۔ ان تمام ملکوں میں اسلام مخالف عناصر آئے دن مطالبے کرتے پھرتے ہیں کہ مسجدوں پر پابندی لگائی جائے اور مسلمانوں کو نکال باہر کیا جائے مگر کسی حکومت نے اس قسم کے انتہا پسندانہ مطالبات کو کبھی درخورِ اعتنا نہ سمجھا! آئے دن ہمارے ہاں سے اور دوسرے مسلمان ملکوں سے علماء کرام، پیرانِ عظام، مشائخ کرام اور روحانی شخصیات ان ملکوں کے دورے کرتی ہیں، چندے اکٹھا کرتی ہیں، عقیدت مندوں سے خدمت کراتی ہیں، تبلیغی جماعت کے وفود ان ملکوں میں شہر شہر قریہ قریہ گھومتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان ملکوں میں یہ سب کچھ کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا! امام خمینی سے لے کر علامہ طاہرالقادری تک سب کی سرگرمیوں کے مراکز مغربی ممالک ہی رہے ہیں۔ یہ سب کچھ جمہوریت اور سیکولرازم کی وجہ سے ہے۔ اگر یہ ریاستیں سیکولر نہ ہوتیں اور مسیحی ہوتیں تو پادری اور دوسرے متعصب لوگ کسی ایک مسلمان اور ایک مسجد تک کو برداشت نہ کرتے!
اس کے مقابلے میں ہمارا اپنا طرزِ عمل کیا ہے؟ مسلم لیگ نون کے رکن ڈاکٹر رمیش کمار نے کچھ عرصہ پہلے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ہر سال پانچ ہزار ہندو گھر بار چھوڑ کر بھارت جا رہے ہیں۔ رمیش کمار نے کہا کہ صرف دو ماہ میں مذہبی تشدد کے چھ واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابیں جلائی گئی ہیں اور بااثر افراد اندرون سندھ میں ہندو لڑکیوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر رہے ہیں!
اگر ذہنوں میں مخصوص ڈکشنریاں کھلی رہیں گی اور آنکھوں پر مخصوص رنگوں کی عینکیں لگی رہیں گی تو یہی ہو گا، جو اب ہو رہا ہے۔ جہاں سیکولرازم یا لبرل ازم کا نام آیا، چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں، یا گلوں کی رگیں پھول کر سرخ ہو جاتی ہیں اور سوچے سمجھے بغیر واویلا مچا دیا جاتا ہے! خدا کے فضل سے اسلام کمزور ہے نہ پاکستان کہ مذہبی رواداری سے اور دوسرے مذاہب کو برداشت کرنے سے اسے نقصان پہنچ جائے! تلفظ تک تو ہمیں آتا نہیں، معنیٰ کیا سمجھیں گے۔ اکثر حضرات کو سیکولر کے سین کے نیچے زیر لگا کر SEECLAR کہتے سنا ہے حالانکہ سین کے اوپر زبر ہے یعنی SECULAR!

By M. Izhar ul Haq
http://m.dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2015-11-18/13345/38810027

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits
http://JustOneGod.blogspot.com
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

صرف مسلمان Muslim Only

   

مسلمانوں میں فرقہ واریت کی لعنت کو اگرفوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا ، توابتدا میں قرآن کے حکم کے مطابق  صرف ایک درست عمل کی شروعات سے شدت اور منفی رجحانات کو کم کرکہ فرقہ واریت کے خاتمہ کے سفر کا آغاز کے آجاسکتا ہے:

هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  (سورة الحج22:78)

اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم" رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ . (سورة الحج22:78)



1.ہرایک فقہ اور فرقہ کا دعوی ہے کہ وہ قرآن و سنت پر پر عمل پیرا ہیں، جس کو دوسرے قبول نہیں کرتے اور وہ خود دعوی دار ہیں کہ وہ حق پرہیں- ہم سب کو معلوم ہے کہ مسلمان کے علاوہ  تمام لیبل اور مذہبی القاب و نام بعد کے زمانہ کی ایجادات ہیں- تو ایک متفقہ نام "مسلمان" پر جو قرآن و سنت و حدیث اور تاریخ سے مسلسل پر ثابت ہے اور اور اب بھی ہماری اصل پہچان ہے، اس نام "مسلمان"  کو مکمل اصل حالت میں بحال کر دیں-

2. تمام مسلمان اپنے اپنے موجودہ فقہ و نظریات پر کاربند رہتے ہوۓ، الله تعالی کے عطا کردہ  ایک نام پر متفق ہو کر اپنے آپ کو صرف اور صرف “مسلمان” کے نام سے پکاریں، کسی اور نام کی جازت نہ  دیں،جو نام الله نے دیا وہ ہر طرح سے مکمل ہے،تعارف، شناخت یا کسی اور حجت کی وجہ سےفرقہ پرستی کو رد کریں- یہ پہلا قدم ہے- مسلمان کو کسی اکسٹرالیبل (extra label) کی ضرورت نہیں- جب کوئی آپ سے قریبی تعلقات یا رشتہ داری قائم کرنا چاہتا ہو تو تفصیلات معلوم کی جاسکتی ہیں- اپنی مساجد، مدارس، گھروں اور اپنے ناموں کے ساتھ فرقہ وارانہ القاب لگانے سے مکمل اجتناب کریں- نفس کہتا ہے مشکل ہے، مگر اللہ کا حکم بھی ہے، فرمانبردار (مسلم) بن کر اس آزمائش سے گزریں، الله پرتوکل کریں-

3. یہ اقدام اسلام کے ابتدائی دور ، رسول الله ﷺ اور صحابہ اکرام کے زمانہ کے مطابق ہو گا، جس کی خواہش ہر مسلمان دل میں رکھتا ہے- الله اور رسولﷺ یقینی  طور پر آپ سے بہت خوش ہوں گے- اس احسن روایت، سنت کے دوبارہ اجرا پر الله ہم پر رحمتوں اور برکات کی بارش فرمایے گا- اس نیک عمل سے آپ دین و دنیا میں کامیابی کے راستے پر چل پڑیں گے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ (ماآنا علیہ واصحابی) یعنی وہ لوگ جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقے پر ہوں گے وہی جنتی ہیں۔ فیصلہ صرف  الله کا اختیار ہے- تہتر فرقوں والی حدیث مبارکہ میں امت مسلمہ کے اندر تفریق و گروہ بندی کی جو پیشن گوئی تھی وہ خبر،محض بطور تنبیہ و نصیحت کے تھی- بدقسمتی سے مسلمانوں کے مختلف فرقوں نے اس حدیث کو اپنے لئے ڈھال بنا لیا ہے اور (ماآنا علیہ واصحابی) کی کسوٹی سے صرف نظر کرتے ہیں اور ہر ایک گروہ اپنے آپ کو ناجی فرقہ کہتا ہے اور اپنے علاوہ دیگر تمام مکاتب فکر کو ضال و مضل اور بہتر (٧٢) فرقوں میں شمار کرتا ہے- حدیث سے یہ بھی پتا چلا کہ ان تمام گمراہ فرقوں کا شمار بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت میں کیا ہے وہ جہنم میں تو جائیں گے، مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، سزا کاٹ کر اس سے نجات پا جائیں گے (٧٣) واں فرقہ ہی اول وہلہ میں ناجی ہوگا کیونکہ یہی سنت پر ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔

4.کسی صورت میں کوئی گروہ دوسرے مسلمانوں کی تکفیر نہ کریں،یہ پلٹ کر تکفیر کرنے والے پر پڑتی ہے(مفھوم) [ابی داوود ٤٦٨٧] ہر حال میں اس شدت پسندی سے بچنا ہے- جنت ، جہنم کا فیصلہ صرف الله کا اختیار ہے- ہم کو اچھے اعمال میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرناہے-

5. تمام فقہ اور فرقوں کے علماء پر مشتمل ایک فورم تشکیل دیا جا ئے جہاں مسقل بنیاد پر پرکم از کم مشترکہ متفقہ اسلامی نظریات کو یکجا کے جا سکے[ Minimum Common Points of Agreement]. غیر اسلامی رسوم و رواج کو بتدریج  معاشرہ سے پاک کیا جائے- علماء کی جدید طریقه تعلیم اور ٹیکنولوجی سے مناسب تعلیم و تربیت اور معاشی سٹرکچر سرکاری طور پر نافذ کیا جاے- یہ تمام کام حکومت اور علماء کے تعاون سے سرانجام پا سکتے ہیں-

ایک کتاب یا ڈسکشن سیشن سےصدیوں پر محیط مائینڈ سیٹ کو تبدیل تو نہیں کیا جاسکتا مگر اہل عقل کے لیے غور فکر کےدروازے کھل سکتے ہیں ....

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الَّذِينَ كَفَرُوا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿ لأنفال: ٥٥﴾
یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں(9:55)

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ﴿٢٨﴾

"اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بڑا بخشنے واﻻ ہے" (35:28)

"ملسمون" یا "مسلمین" کا اردو، ترجمہ "مسلمان" ہے. اس کے علاوہ اور نام جو اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں مسلمانوں  لیئے جو نام پسند فرمائے ہیں ان میں"یٰایھا الذین اٰمنوا" یعنی اے ایمان والو. واحد کے لیئے "مؤمن" جمع کے لیئے مؤمنون یا مؤمنین اور صفاتی القاب-  موجودہ مشہورمسلمان گروہوں اور فرقوں کے نام جو منہج کے نام پر بزرگ فقیہ وامام ، شہر ، یا کتاب سے منسوب ہیں قرآن و سنت سے ثابت نہیں، بلکہ قرآن کی روح کے خلاف ہیں- اس کا قرآن و سنت کی روشنی میں تحقیقی جائزہ لیا جا رہا ہے-
دین و مذھب کے نام کی اہمیت: 
 کچھ کوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نام سے کیا فرق پڑتا ہے اصل دین تو ایمان اور عمل کا نام ہے- بظاھر تو بات معقول لگتی ہے، آینے اس کا جائزہ لیتے ہیں- اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم  علیہ اسلام کو علم الاسماء  سکھایا ، یعنی ناموں کا علم ۔۔۔۔ نام انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے حضورکرام صلّی اللہ علیہ وسلم نے ایام جاہلیت کے مہمل نام تبدیل کروائے ۔ ترمذی میں ہے کہ  حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم برے ناموں کو بدل کر ان کے عوض اچھے نام رکھ دیا کرتے تھے ۔ (ترمذی111/2)- نام کسی انسان کی زندگی کا وظیفہ ہوتا ہے کیونکہ وہ بار بار پکارا جاتا ہے ۔ اگر آپ اپنے نام کی نسبت  سے کام کرینگے تو آپ کئی گُنا اضافی ملے گا اور اگر آپ کے مخالف چلیں گے توآپ ایک ناکام زندگی گزار کر جائینگے-  اگر دنیا میں مختلف مذاھب کے ناموں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثر مذاھب اپنی  بانی شخصیت کے نام سے منسوب ہیں- بدھ مت، گوتم بدھ کے نام پر، مسیحیت ، عیسایت، حضرت عیسی علیہ السلام، یہودی، یہودا(حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک فرزند) بنی اسرایئل کی نسل  کی شاخ،اسی طرح زرتشت ،بہائی مت، تاؤ مت، کنفیوشس مت وغیرہ- ہندو مت اور جین مت کا بانی کوئی ایک شخص نہیں، ہندومت کے پیروکار اِس کو"سناتن دھرم" (‘لازوال قانون) کہتے ہیں -قدیم ہندومذھب کتاب "ویدا" سے بھی منسوب ہے- لفظ "جین مت" سنسکرت کے ایک لفظ "جِن" سے لیا گیا ہے، جس کے معنی ہے(جذبات،نفس کا) فاتح  - بانی مذہبی شخصیات کے نام پر رواج کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو "محمدی" کہلوانا چاہیئے مگر ایسا نہیں ہوا اگرچہ مغربی مسیحی مستشقرین نے کوسش کی کہ Muhamddans کا نام تقویت پکڑے مگر کامیاب نہ ہو سکے- حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر خود کسی مذھب کے موجد ہوتے تو کسی انسان کے لیے اپنے نام سے بہتر اور کیا نام ہو سکتا ہے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ قرآن الله کی طرف سے نازل وحی ہے جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا نام صرف پانچ مرتبہ آیا- اللہ کا دین اور اس کو قبول کرنے والوں کا نام بھی الله کی طرف سے رکھا گیا- "اسلام" اور "مسلمان" (عربی : الْمُسْلِمِينَ) کی نسبت اس دین کے خالق سے ہے جس کا ایک صفاتی نام "السلام" ہے-

الله کے نزدیک صرف دین اسلام هے :
" ان الدین عندالله الاسلام " اس لئے تمام ایسے لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کو اپنے اپنے زمانه میں قبول کیا اور احکام الہی کے پابند تھے  وه مسلمان تھے- پہلے کے تمام الہامی ادیان " اسلام" پر تھے، فرق صرف شریعت میں رکھتے هیں- قرآن مجید کی اصطلاح ( الْمُسْلِمِينَ)  میں، "مسلمان"  ہونے کا مطلب ہے کہ الله تعالی  کے فر مان ، اور هر قسم کے شرک سے پاک مکمل توحید کے سامنے مکمل طور پرسر تسلیم خم کرنا هے اور یهی وجه هے که قرآن مجید حضرت ابراھیم علیه السلام کو مسلمان کے نام سے متعارف کر تا هے- قرآن مجید کے مطابق الہامی ادیان کے تمام پیرو کار اپنے زمانه میں مسلمان تھے اور اس طرح عیسائی اور یهودی وغیره نئ وحی کے آنے سے پہلےان کا دین منسوخ نه هو نے تک مسلمان تھے ، کیونکه وه پرور دگار عالم کے حضور تسلیم هوئے تھے- بائبل کی موجودہ کتب میں اب بھی خدا کے احکامات کے آگے سر تسلیم کرنے کی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں:
"اور خدا ہمیں اپنی را ہیں بتا ئے گا،اور ہم اس کے راستو ں پر چلیں گے۔”(‏یسعیاہ 2:‏2)، ”‏اَے میرے خدا!‏ میری خوشی تیری مرضی پوری کرنے میں ہے بلکہ تیری شریعت میرے دل میں ہے۔‏“‏ (‏زبور ۴۰:‏۸‏)‏، ”‏میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اُس کا کام پورا کروں۔‏“‏ (‏یوح ۴:‏۳۴؛‏ ۶:‏۳۸‏)
[“Surrender and obedience to the Will of God” in Bible: Psalm 40:8، 112:1, 148:8,103:20, Jeremiah 31:33, 1 John 2:1-29، 2:17، Matthew 12:50، 26:42، 6:10، John 5:30، 4:34 ، Acts 21:14، Romans 12:2، Hebrews 10:7] 

انھیں جو یهودی یا عیسائی کہا جاتا ہے، وه ان کے پیغمبروں کے ناموں سے لوگوں میں مشہور ہوا وہ نام الله کے عطا کردہ نہیں، مگر قرآن میں ان کا انہی مشھور ناموں سے تذکرہ کیا گیا تاکہ پڑھنے والے کو سمجھنے میں آسانی ہو- آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کے بعد وہ "اسلام " اور"مسلمان" کے اعزاز سے محروم ہو گیے-

اس دور میں"اسلام" کا اطلاق آخری رسول و نبی ، محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی کی آخري الہامي کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے- اب "مسلمان" کا نام(عربی:الْمُسْلِمِينَ) ،خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم  جو قرآن کا عملی نمونہ تھے، کی پیروی کرنے والوں پر لاگو هوتا هے- مسلمان، قرآن اور سنت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عمل کرنے والے کو کہا جاتا ہے-  ، کیونکه انهوں نے دین اسلام کو قبول کر کے اور تمام انبیاء اور آسمانی شریعتوں پر اعتقاد رکھ کر اللہ  کے حضور سر تسلیم خم هو نے کا اعلان کیا هے- حقیقی مسلمان وه هے جو احکام و دستورات الهی کو قول و فعل سے تسلیم کرتا ہو، یعنی زبان سے بھی اللہ کی وحدا نیت اور انبیاء علیهم السلام اور خاتم الانبیاء صلی الله علیه وآله وسلم کی رسالت کا اقرار کر ے اور عمل سے بھی دینی احکام اور دستورات ، من جمله دوسروں کے حقوق کی رعایت کرے جیسے اجتماعی قو انین اورشہادہ، نماز، روزه، زکات، حج وغیره جیسے انفرادی احکام کا پابند هو- قرآن مجید میں حقیقی مسلمان کو مومن کے نام سے بھی یاد کیاگیا هے اور بہت صفاتی ناموں سے بھی مگر "مسلمان" ہونے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، کیوں؟  اسلام میں اتحاد پر بہت زور دیا جاتا ہے، جس طرح نماز میں ایک اللہ کی عبادت ایک سمت (قبلہ) کی طرف منہ کرکہ ادا کی جاتی ہے اسی طرح ایک نام "مسلمان" (عربی:الْمُسْلِمِينَ) بھی اتحاد مسلمین کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے- نام سے فرق پڑتا ہے خاص طور پر جو نام الله تعالی نے خود عطا فرمایا ہو.... مکمل تفصیلات اس برقی کتاب پر پڑہیں... یا وزٹ کریں  ............  http://salaamone.com/muslim


  1. دین و مذھب کے نام کی اہمیت
  2. سلام ، اسلام ، مسلم ، مسلمان 
  3. دین اسلام اور مسلمین
  4. مسلمانوں کے صفاتی نام 
  5. قرآن میں "مسلمان" نام کی تاکید اور حکم (امر) ہے
  6. قرآن کو چھوڑنے والے بدترین علماء
  7. فرقہ واریت 
  8. قرآن ، اسلام اور مسلمان 
  9. قرآن کو 'حدیث' بھی کہا گیا
  10. قرآن کی عظمت، آیات کا منکر اورعذاب 
  11. أطِيعُوا الرَّسُولَ
  12. کلام الله پرایمان  عمل مسلمان پرفرض ہے
  13. قرآن و حدیث کی اہمیت 
  14. اہل حدیث 
  15. کتابت حدیث
  16. اسلام، مسلمان -  دین آیات
  17. قرآن ، اسلام، مسلمان -  دین آیات
  18. قرآن راہ ہدایت
  19. فرقہ واریت کی ممانعت
  20. 73 فرقوں والی حدیث
  21. اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان، مسلمان  فروعی اختلافات خارج نہیں کرتے:
  22. اہل ایمان کی بخشش 
  23. فرقہ واریت کا خاتمہ - پہلا قدم 
  24. گروپ ڈسکشن- صفحہ 36 سے آخر تک
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
SalaamOneسلام  is a nonprofit e-Forum to promote peace among humanity, through understanding and tolerance of religions, cultures & other human values. The collection is available in the form of e-Books. articles, magazines, videos, posts at social media, blogs & video channels. .Explore the site English and Urdu sections at Index
علم اور افہام و تفہیم کے لئے ایک غیر منافع بخش ای فورم ہے. علم،انسانیت، مذہب، سائنس، سماج، ثقافت، اخلاقیات اورروحانیت امن کے لئے.اس فورم کو آفتاب خان،  آزاد محقق اور مصنف نے منظم کیا ہے. تحقیقی کام بلاگز، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیو چننل اور برقی کتابوں کی صورت میں دستیاب ہے.اس  نیٹ ورک  کو اب تک لاکھوں افراد وزٹ کر چکے ہیں, مزید تفصیلات>>>  Page Index - Salaam One 
 ..........................................................................
 مزید پڑھیں: 
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس <<< لنک پر پڑھیں>>
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل

  3. خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید Reconstruction of Religious Thought in Islam-  http://goo.gl/lqxYuw
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

Secular or Islamic Pakistan- Jinnah & Muhammad Asad اسلامی یا سیکولر پاکستان - جناح اور محممد اسد



.محمد اسد ۔۔۔ عظیم اسلامی سکالر، مفسر قرآن ۔۔۔   علامہ اقبال کے ساتھی ، قائداعظم کا چوائس اور پاکستان کے UNO میں پہلے سفیر ,اسلامی آئین پاکستان اور قرارداد مقاصد کے محرک :

یہودیت چھوڑ کو اسلام قبول کرنے والے محمد اسد(سابق نام: لیوپولڈ ویز) جولائی 1900ء میں موجودہ یوکرین کے شہر لیویو میں پیدا ہوئے جو اس وقت آسٹرو۔ ہنگرین سلطنت کا حصہ تھا۔ بیسویں صدی میں امت اسلامیہ کے علمی افق کو جن ستاروں نے تابناک کیا ان میں جرمن نو مسلم محمد اسد کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ اسد کی پیدائش ایک یہودی گھرانے میں ہوئی۔ 23 سال کی عمر میں ایک نو عمر صحافی کی حیثیت سے عرب دنیا میں تین سال گذارے اور اس تاریخی علاقے کے بدلتے ہوئے حالات کی عکاسی کے ذریعے بڑا نام پایا لیکن اس سے بڑا انعام ایمان کی دولت کی با‌زیافت کی شکل میں اس کی زندگی کا حاصل بن گیا۔ستمبر 1926ء میں جرمنی کے مشہور خیری برادران میں سے بڑے بھائی عبدالجبار خیری کے دست شفقت پر قبول اسلام کی بیعت کی اور پھر آخری سانس تک اللہ سے وفا کا رشتہ نبھاتے ہوئے اسلامی فکر کی تشکیل اور دعوت میں 66 سال صرف کرکے بالآخر 1992ء میں خالق حقیقی سے جا ملے۔
1932ء میں وہ ہندوستان آگئے اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال سے ملاقات کی۔ 1939ء میں وہ اس وقت شدید مسائل کا شکار ہوگئے جب برطانیہ نے انہیں دشمن کا کارندہ قرار دیتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ محمد اسد کو 6 سال بعد، 1945ء میں رہائی ملی۔

1947ء میں قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے اور نئی ریاست کی نظریاتی بنیادوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔( قرارداد مقاصد Objective Resolution,  جو آئین پاکستان کی بنیاد بنا ، اس کے خدوخال میں آپ کی کاوش شامل ہے).

One of the first steps taken by Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah, within days of Pakistan's creation, was to establish the Department of Islamic Reconstruction (DIR) in Lahore in August 1947, with the ultimate objective “to help our community to reconstruct its life on Islamic lines.” In this regard, Jinnah appointed Asad as the DIR's first Director. The DIR was tasked by Jinnah with four primary objectives: (i) drafting of Pakistan's first Constitution; (ii) proposing the framework of Pakistan's economic system; (iii) proposing the framework of Pakistan's education system and (iv) proposing the framework of Pakistan's social system, all along Islamic lines. Asad's work at DIR, within the first months of its establishment, is famously reflected in the Objectives Resolution, which was adopted by the Constituent Assembly of Pakistan on 12 March 1949. 

Soon after the death of Quaid-e-Azam on 11 September 1948, the then Foreign Minister of Pakistan, Sir Zafarullah Khan (Qadiani)  got Asad transferred to the Foreign Ministry of Pakistan. The DIR never recovered from Asad's sudden and unexpected departure, and it was abolished not long after Asad left. Most of the DIR's record was destroyed in a mysterious fire in October 1948, only a month after Jinnah's death. Its only legacy being the Objectives Resolution.
http://www.unsecularjinnah.com/jinnah-asad-and-the-department-of-islamic-reconstruction.html
 انہیں پہلا پاکستانی پاسپورٹ جاری کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں پاکستان کی وزارت خارجہ کے شعبہ مشرق وسطی میں منتقل کردیا گیا جہاں انہوں نے دیگر مسلم ممالک سے پاکستان کے تعلقات مضبوط کرنے کا کام بخوبی انجام دیا۔ انہوں نے 1952ء تک اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
حج بیت اللہ؛ بیت اللہ پر پہلی نظر پڑنے کے 9 دن بعد اسد کی زندگی ایک نئے موڑ پر آگئی، ایلسا خالق حقیقی سے جا ملیں۔ بعد ازاں اسد نے مکہ میں قیام کے دورانشاہ فیصل سے ملاقات کی جو اس وقت ولی عہدتھے اور بعد ازاں سعودی مملکت کے بانی شاہعبدالعزیز السعود سے ملاقات کی۔ انہوں نے مکہ ومدینہ میں 6 سال گذارے اور عربی، قرآن، حدیثاور اسلامی تاریخ کی تعلیم حاصل کی۔

محمد اسد: قیمتی ہیرا: ایک دوسرے جرمن نو مسلم ولفریڈ ہوفمین نے ان کے لئے کہا تھا کہ محمد اسد اسلام کے لئے یورپ کا تحفہ ہیں۔ جبکہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابو الاعلی مودودی نے 1936ء میں محمد اسد کے بارے میں تاریخی جملہ لکھا تھا کہ "میرا خیال یہ ہے کہ دور جدید میں اسلام کو جتنے غنائم یورپ سے ملے ہیں ان میں یہ سب سے زیادہ قیمتی ہیرا ہے"۔

نظریات، افکار، کارنامے: محمد اسد کوئی سرگرم کارکن نہ تھے لیکن فکری اعتبار سے ان کا کارنامہ بڑا واضح ہے اور اس میں چار چیزیں نمایاں ہیں:

1۔پہلی چیز مغربی تہذیب اور یہود عیسائی روایت (Judeo-Christian Tradition) کے بارے میں ان کا واضح اور مبنی برحق تبصرہ و تجزیہ ہے۔ مغرب کی قابل قدر چیزوں کے کھلے دل سے اعتراف کے ساتھ مغربی تہذیب اور عیسائی تہذیبی روایت کی جو بنیادی خامی اور کمزوری ہے اس کا نہایت واضح ادراک اور دو ٹوک اظہار ان کا بڑا علمی کارنامہ ہے۔ مغرب کے تصور کائنات، انسان، تاریخ اور معاشرے پر ان کی گہری نظر تھی اور اسلام سے اس کے تصادم کا انہیں پورا پورا شعور اور ادراک تھا۔ وہ کسی تہذیبی تصادم کے قائل نہ تھے مگر تہذیبوں کے اساسی فرق کے بارے میں انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

2۔وہ اسلام کے ایک مکمل دین ہونے اور اس دین کی بنیاد پر اس کی تہذیب کے منفرد اظہار کو یقینی بنانے اور دور حاضر میں اسلام کی بنیاد پر صرف انفرادی کردار ہی نہیں بلکہ وہ اجتماعی نظام کی تشکیل نو کے داعی تھے اور اپنے اس مؤقف کو دلیل اور یقین کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ اسلام کا یہ جامع تصور ان کے فکر اور کارنامے کا دوسرا نمایاں پہلو تھا۔
3۔ان کا تیسرا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے امت کے زوال کے اسباب کا گہری نظر سے مطالعہ کیا اور اس سلسلے میں جن بنیادی کمزوریوں کی نشاندہی کی ان میں تصور دین کے غبار آلود ہوجانے کے ساتھ سیرت و کردار کے فقدان، دین و دنیا کی عملی تقسیم، اجتہاد سے غفلت اور رسوم و رواج کی محکومی اور سب سے بڑھ کر قرآن و سنت سے بلاواسطہ تعلق اور استفادے کی جگہ ثانوی مآخذ پر ضرورت سے زیادہ انحصار بلکہ ان کی اندھی تقلید بھی شامل ہے۔ ان کی دعوت کا خلاصہ قرآن و سنت سے رجوع اور ان کی بنیاد پر مستقل کی تعمیر و تشکیل تھی۔
4۔محمد اسد کے کام کی اہمیت کا چوتھا پہلو دور جدید میں اسلام کے اطلاق اور نفاذ کے سلسلے میں ان کی حکمت عملی اور اس سلسلے میں تحریک پاکستان سے ان کی وابستگی اور پاکستان کے بارے میں ان کا وژن اور عملی کوششیں ہیں جو قومی تعمیر نو کے ادارے "عرفات" کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی نگارشات، ان کی تقاریر اور پھر ان کی دو کتب Islam at the Crossroads اور Road to Mecca ہیں۔ عرفات کے زمانے میں یہ مضامین دور حاضر میں نفاذ اسلام کا وژن اور اس کے لئے واضح حکمت عملی پیش کرتے ہیں۔ چند امور پر اختلاف کے باوجود محمد اسد کی فکر اور دور جدید کی اسلامی تحریکات کی فکر میں بڑی مناسبت اور یکسانی ہے حالانکہ وہ ان تحریکوں سے کبھی بھی عملا وابستہ نہیں رہے۔
قرآن محمد اسد کی فکر کا محور رہا اور حدیث و سنت کو وہ اسلامی نشاۃ ثانیہ کی اساس سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے تمام بڑے قیمتی مضامین کے باوصف ان کا اصل علمی کارنامہ قرآن پاک ترجمہ و تفسیر اور صحیح بخاری کے چند ابواب کا ترجمہ و تشریح ہے۔ ان کی معروف کتب میں Islam at the Crossroads، Road to Mecca اور The Principles of State and Government in Islam شامل ہیں۔
Road to Mecca علمی، ادبی اور تہذیبی ہر اعتبار سے ایک منفرد کارنامہ اور صدیوں زندہ رہنے والی سوغات ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک کتاب This Law of Ours بھی تحریر کی۔
The Message of Quran: by Muhammad Asad : Download/ Read 
http://freebookpark.blogspot.com/2012/12/the-message-of-quran-by-muhammad-asad.html

محمد اسد۔۔"بندہ صحرائی" ۔۔ خود نوشت سوانح عمری : 
http://kitabosunnat.com/kutub-library/mohammad-asad-banda-e-sehrai

https://en.m.wikipedia.org/wiki/Muhammad_Asad
Those who declare QaideAzam to be secular are distorting history.... 
One of the first steps taken by Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah, within days of Pakistan's creation, was to establish the Department of Islamic Reconstruction (DIR) in Lahore in August 1947, with the ultimate objective “to help our community to reconstruct its life on Islamic lines.” In this regard, Jinnah appointed Asad as the DIR's first Director. The DIR was tasked by Jinnah with four primary objectives: (i) drafting of Pakistan's first Constitution; (ii) proposing the framework of Pakistan's economic system; (iii) proposing the framework of Pakistan's education system and (iv) proposing the framework of Pakistan's social system, all along Islamic lines. Asad's work at DIR, within the first months of its establishment, is famously reflected in the Objectives Resolution, which was adopted by the Constituent Assembly of Pakistan on 12 March 1949. 

Soon after the death of Quaid-e-Azam on 11 September 1948, the then Foreign Minister of Pakistan, Sir Zafarullah Khan, got Asad transferred to the Foreign Ministry of Pakistan. The DIR never recovered from Asad's sudden and unexpected departure, and it was abolished not long after Asad left. Most of the DIR's record was destroyed in a mysterious fire in October 1948, only a month after Jinnah's death. Its only legacy being the Objectives Resolution.

However, a few documents of the DIR survived and are in possession of the Government of the Punjab's Archives. One of these documents, revealed to the media by the Secretary, Archives Wing, Government of the Punjab, on 25 December 2013, is the document titled "Aims & Objects of the Department of Islamic Reconstruction by Muhammad Asad, Director, Department of Islamic Reconstruction". Here are some excerpts from the document: 

http://www.unsecularjinnah.com/jinnah-asad-and-the-department-of-islamic-reconstruction.html
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~  ~ ~ ~  ~





~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
SalaamOneسلام  is a nonprofit e-Forum to promote peace among humanity, through understanding and tolerance of religions, cultures & other human values. The collection is available in the form of e-Books. articles, magazines, videos, posts at social media, blogs & video channels. .Explore the site English and Urdu sections at Index
علم اور افہام و تفہیم کے لئے ایک غیر منافع بخش ای فورم ہے. علم،انسانیت، مذہب، سائنس، سماج، ثقافت، اخلاقیات اورروحانیت امن کے لئے.اس فورم کو آفتاب خان،  آزاد محقق اور مصنف نے منظم کیا ہے. تحقیقی کام بلاگز، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیو چننل اور برقی کتابوں کی صورت میں دستیاب ہے.اس  نیٹ ورک  کو اب تک لاکھوں افراد وزٹ کر چکے ہیں, مزید تفصیلات>>>  Page Index - Salaam One 
 ..........................................................................
 مزید پڑھیں: 
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس <<< لنک پر پڑھیں>>
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل

  3. خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید Reconstruction of Religious Thought in Islam-  http://goo.gl/lqxYuw
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *