Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

Showing posts with label Power Politics. Show all posts
Showing posts with label Power Politics. Show all posts

Rise and fall of Nations – Law of Quran قرآن کا قانون عروج و زوال اقوام

The Muslim world was in the forefront of human achievement for centuries —
اس دنیا میں وقوع پزیر ہر عمل،  ہر شے قدرت کے مشہور عام قوانین  کے ذریعہ کنٹرول میں ہے۔ کسی قوم کے عروج و زوال کا بھی یہی حال ہے۔ قرآن اس قانون کو اہمیت دیتا ہے …. […..]
The Muslims were foremost military and economic power in the world, the leader in the arts and sciences of civilization. Christian Europe was seen as an outer darkness of barbarism and unbelief from which there was nothing to learn or to fear. And then everything changed. The West won victory after victory, first on the battlefield and then in the marketplace. … Everything that happens in this world is controlled by the well-known Laws of Nature. The same is true of the rise and fall of a nation…. Read the thesis ....

CONTENTS

  1. Quran – On Rise and Fall of Nations
  2. Misconceptions 
  3. What Went Wrong?  [Excepts from book By Bernard Lewis]
  4. Lessons From History:  by Dr Israr Ahmad 
  5. Lessons from History – Durant
  6. The Rise and Fall of the Great Powers: By  Paul Kennedy [Summary]
  7. Rise of Jews, Christian Zionism and Israel [Thesis] 
  8. The Decline Of The Ottoman Empire, 1566–1807  
  9. Islamic Education System & Learning
  10. Muslim Revival Methodology
“Do not yield to those who deny the truth, but launch a Great Jihad (great campaign) against them with the help of the Quran. [to convey its message]. (Quran;25:52)
.
   
~~~~~~~~~~~~~~
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace

https://SalaamOne.com

ایک بار پھر استعمال ہو رہا ہوں, دھوکہ کھا رہا ہوں کہ شائد اس مرتبہ ؟ سادہ عام مسلمان .. پاکستانی


آٹھ سو  (800) سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چلا‘ استعمال ہو رہا ہوں۔مسلسل استعمال!!۔ 
کتنوں ہی کو تخت پر بٹھایا۔
کتنے ہی میرے طفیل حکمران بنے مگر....  میں صدیوں سے وہیں کا وہیں ہوں۔ جیسا تھا‘ ویسا ہی ہوں! ؎ 

ہر شب کواکب کم کنند از روزیٔ من پارہ ای ہر روز گردد تنگ تر سوراخِ این غربال ہا 

ہر رات ستارے آتے ہیں اور میری روزی سے ایک ٹکڑا کم کر دیتے ہیں۔ میری قسمت کی چھلنی کے سوراخ ہر روز زیادہ تنگ ہو رہے ہیں۔
آہ!میری حالت میں کوئی تبدیلی نہیں رونما ہو رہی۔ 
محمد غوری نے مجھے بتایا کہ ہند میں اسلامی سلطنت قائم کرے گا۔ ترائن کے میدانوں میں میں لڑا۔
 پھر قطب الدین ایبک نے وعدہ کیا کہ دہلی کے تخت پر بیٹھ کر انصاف قائم کرے گا۔ میں پاپیادہ اس کے لشکر میں شامل رہا۔ کون سا اسلام اورکون سا انصاف؟
کیا ایبک کیا خلجی اور کیا تغلق۔ نام مسلمانوں کے تھے مگر انصاف کا عالم یہ تھا کہ مخالف کے جسم کے گوشت کا یہ لوگ پلائو پکواتے اور مقتول کے بیوی بچوں کو تحفے میں بھیجتے۔
محل کے صدر دروازے پر ہر وقت لاشیں لٹکی رہتیں۔
پھر میں نے بابر پر اعتبار کیا۔ اس نے لودھیوں کے خلاف ’’جہاد‘‘ کیا تو میں ساتھ تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ بابر نے اپنے خاندان کی بادشاہت قائم کرنا تھی۔
میں پیادے کا پیادہ رہا۔\
 ہر بادشاہ نے مجھے اپنے جلوس میں استعمال کیا۔ اپنا لشکری بنایا۔ کبھی بیگمات کے حفاظتی دستے میں دوڑتا رہا۔ کبھی ایندھن اکٹھا کرتا رہا۔ کبھی گھوڑوں کی مالش کرتا رہا۔ پھر انگریز آ گئے۔ میں کبھی ایک نواب کے محلات دھوتا کبھی دوسرے راجہ کے ہاتھوں کا بنائو سنگھار کرنے پر مامور کیا جاتا!

پاکستان بنا تو ایک بیل گاڑی پر ہچکولے کھاتا اس ارض پاک میں پہنچا۔
جو لوگ پودینے کے خیالی باغات چھوڑ کر آئے تھے۔ حویلیوں پر قابض ہو گئے۔ میں اسی خوشی میں مست رہا کہ مملکت خداداد کا شہری ہو گیا ہوں۔

بھٹو صاحب نے غریبوں کے لئے پارٹی بنائی تو مجھے ایک بار پھر امید لگ گئی کہ اب کے میری حالت ضرور بدلے گی۔ میں نے کراچی سے لے کر لاڑکانہ تک لاہور سے لے کر پشاور تک ان کے جلسوں میں دریاں بچھائیں۔ سٹیج تیار کئے۔ مگر وہی ڈھاک کے تین پات ۔پھل کھانے کا وقت آیا تو نواب‘ جاگیردار‘ زمیندار‘ صنعت کار لے اڑے۔ میں روٹی کپڑا اور مکان تلاش کرتا رہ گیا۔

یہ بھی خلجیوں، لودھیوں، مغلوں کی طرح خاندانی بادشاہت تھی۔

جنرل ضیاء الحق نے اسلام کا نعرہ لگایا تو میں اس کے پیچھے چل پڑا۔ دس سال چلتا رہا۔ اسلام نظر نہ آیا ہاں گیلانی، قریشی، لغاری، چودھری ضرور دکھائی دیتے رہے!

پھر میں نے شریف خاندان سے امید وابستہ کر لی۔ ترقی کے خواب دکھائے گئے۔جائیدادیں اور کارخانے ان کے اپنے زیادہ ہوتے رہے۔ لندن سے جدہ تک۔ دبئی سے لاہور تک۔ اثاثے آسمان کو چھونے لگے۔ اسحاق ڈار نے الگ ایمپائر کھڑی کر لی۔ میں وہیں کا وہیں رہا۔

 پھر عمران خان کی صورت میں ایک اور نجات دہندہ دکھائی دیا۔ اس نے کہا سفارش، چور بازاری، اقربا پروری‘ ختم کر کے میرٹ کی بالادستی قائم کرے گا۔ اتنے لاکھ نوکریاں ملیں گی۔ اتنے لاکھ مکان بنیں گے۔ آئی ایم ایف کے پاس گیا تو خود کشی کر لے گا۔ جو اٹھائی گیرے ہر حکومت کو چوستے، کاٹتے، بھنبھوڑتے رہے۔ ان سے نجات دلائے گا۔

میں چار ماہ عمران خان کے دھرنے میں بیٹھا رہا۔ دن کو دھوپ کاٹی۔ رات کو مچھروں نے کاٹا۔ گرمی بارش طوفان سب کا مقابلہ کیا۔ نعرے لگائے۔ بھوک پیاس برداشت کی
مگر افسوس! عمران خان کی حکومت آئی تو معلوم ہوا ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر میرے ساتھ دھوکہ ہوا۔ ایک بار پھر میرا استحصال کیا گیا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے عمران خان نے انہی عشرت حسینوں‘ انہیں عمر ایوبوں‘ انہی یوسف بیگوں اور انہی ثانیہ نشتروں کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھا لیا جن سے نجات دلانے کے عہد و پیمان کئے تھے۔ وہی فہمیدہ مرزا ،وہی زبیدہ جلال ۔ وہی شیخ رشید !!شفقت محمود جیسے لوگوں کو تعلیم اور قومی ورثہ کی وزارتیں مل گئیں۔

 انہوں نے شریف خاندان کے وفاداروں کو باہر نکال پھینکنے کے بجائے، ان رسہ گیروں کو بیک وقت دو دو مناصب پر بٹھا دیا۔
بیورو کریسی کا ایک گروپ نکلا تو وزیر اعظم کے دفتر میں دوسرا گروہ براجمان ہو گیا۔
پورٹل کا ڈرامہ کھیلا گیا جسے ہائی بیورو کریسی نے جوتے کی نوک پر رکھا۔ عمران خان نے شریف دشمنی میں (یا کسی نامعلوم پُراسرار وجہ سے) عوامی فلاحی منصوبے جہاں تھے وہیں روک دیے۔
دارالحکومت میں ایئر پورٹ میٹرو پر کام رک گیا۔ بڑے بڑے انفراسٹرکچر نامکمل پڑے رہ گئے اور شہریوں کا منہ چڑانے لگے۔ جن شاہراہوں کے لئے گزشتہ حکومت نے فنڈ جاری کئے تھے‘ وہ واپس لے لئے گئے۔
مجھے نوکری ملی نہ مکان!
جس دن ایک وفاقی وزیر نے عوام کو صاف صاف کہہ دیا کہ نوکریاں دینا دلوانا حکومت کا کام ہی نہیں، اس دن آخری امید بھی مر گئی۔

عمران خان بھی خلجیوں، تغلقوں، لودھیوں، مغلوں، انگریزوں، بھٹوئوں اور شریفوں سے مختلف نہ نکلا۔

ان دنوں میں مولانا کے دھرنے میں شریک ہوں!
 یہاں بھی مجھے امید کی کرن نہیں نظر آ رہی! مولانا کوئی معاشی روڈ میپ نہیں دے رہے۔ ان کے پاس کوئی پروگرام‘ کوئی ہوم ورک، کوئی اقتصادی تعلیمی یا سماجی منصوبہ نہیں! میں ہر روز ان کی تقریر سنتا ہوں مگر ابھی تک نہیں معلوم ہوا کہ وہ حکومت میں آ کر کیا کیا منصوبے شروع کریں گے۔ میں توقع کر رہا تھا کہ وہ عمران خان کے نوکریوں اور مکانوں والے منصوبوں کی ناکامی کے اسباب پر روشنی ڈالیں گے اور عوام کو بتائیں گے کہ وہ اس ضمن میں کیا پروگرام رکھتے ہیں۔ یکساں نظام تعلیم کے امکانات پر روشنی ڈالیں گے اور کچھ نہیں تو کم از کم مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کے لئے ہی کسی پیکیج کا اعلان کریں گے۔
 مگر افسوس ! ابھی تک کسی روڈ میپ کسی پروگرام کسی منصوبے کا کہیں کوئی وجود ہے نہ مولانا ذکر ہی کر رہے ہیں!

آج حالت یہ ہے کہ بارش برس رہی ہے۔ دھرنے والا میدان دلدل میں تبدیل ہو رہا ہے۔ چولہے جل سکتے ہیں نہ کوئی سر چھپانے کی جگہ ہے۔ کپڑوں سے پانی اور امید سے ناکامی نچڑ رہی ہے۔

ہر لیڈر کا اپنا جاتی امرا‘ اپنا بلاول ہائوس‘ اپنا بنی گالہ ہے۔
وہ رات دھرنے والوں کے ساتھ نہیں گزارتا۔ آج دارالحکومت کے اخبارات نے یہ خوش خبری بھی سنا دی کہ آٹے اورگندم کی قلت پیش آ رہی ہے کیوں کہ کئی ہزار روٹیوں کا اضافی بوجھ‘ ریستوران اور ڈھابے نہیں اٹھا سکتے۔
 میرے ساتھ دھرنے میں شریک دوسرے ساتھیوں کی اکثریت بھی میری طرح غریب ہے۔ جوتے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ لباس بوسیدہ! زیادہ تر مدارس کے وہ نوجوان ہیں جنہیں معلوم ہی نہیں کہ مولانا کی حکمت عملی کیا ہے۔

 ان کے سامنے مولانا اسرائیل اور قادیان کا ذکر کرتے ہیں۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا نام لیتے ہیں۔

 مگر جب دوسری پارٹیوں کے رہنمائوں سے بات کرتے ہیں تو موصوف مختلف ہوتے ہیں! میری حالت میں کسی مثبت تبدیلی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں!
میں نے اب  ھی سے اگلے کسی دھرنے کے لئے ذہن بنا لیا ہے۔ کیا خبر کوئی دھرنا کسی دن میرے مسائل حل کر دیٖ!
اظھار الحق , dunya. com ,pk
http://pakistan-posts.blogspot.com/

~~~~~~~~~~~~~~
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace

https://SalaamOne.com

قومی قرض ، اسلام ، حکمران اور عوام کی ذمہ داری National debt, Rulers, Islam and role of Pakistanis


پا کستا ن کے حکمران مسلسل  بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور امیر ممالک سے ترقیاتی کاموں کے نام پر سود پر قرض لے رہے ہیں.کچھ کام ہوتے ہیں مگر زیادہ پیسہ کرپشن سے ینن کی جیبوں میں جاتا ہے. جس حرام مآ ل کو غیر ملکوں مینن کاروبار میں لگایا جاتا ہے یا بنکوں میں رکھا جاتا ہے. اس وقت کرپشن سے کماے دو سو ارب ٢٠٠ ڈالر باہر پڑے ہیں. قیمتی جائیدادیں لندن، دبئی وغیرہ میں سب کو معلوم ہیں.

سامراجی، نوآبادیاتی، اسلام دشمن طاقتیں خاص طور پر مسلمان اور تیسری دنیا کے  مما لک کے کرپٹ حکمرانوں کے زریعے عوام کو غلام بنانے کے لیے قرض، سود اور کرپشن    کو ہتھیار کے طور پر استمال کرتے ہیں. تا کیہ عوام اور وسائل پرمکمل کنٹرول حاصل ہو.     پاکستان پر پچھلے چھ سال میں بیرونی قرض دوگنا ہو گیا ہے .ایک اندازے کے مطابق اس وقت ہر پاکستانی فرد پر تقریبا پچھتر ہزار ٧٥٠٠٠ روپے کا قرض بمع سود واجب ادا ہے .

اسلام مینن  قرض ایک ایسا بڑا گناہ ہے کہ قرض کی ادائیگی ذمہ داری کے بغیر نماز جنازہ بھی نہیں ہو سکتی . حکمران سود پر قرض عوام کی مرضی کے بغیر لیتے ہیں. اب جبکہ عوام کوقرضوں کا  علم  ہو گیا ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ حکومت کو فضول قرض لینے سے  منع کر یں ایسے حکمرانوں سیاست دانوں کوسپورٹ نہ کریں نہ ووٹ نہ دیں .
جو لوگ ان کرپٹ سیاست دانوں کو ووٹ دیں وہ اس جرم اور گناہ میں حصہ دار ہیں :
"جو شخص کسی نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے، اسے بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا اور جو برائی اور بدی کی سفارش کرے اس کے لئے بھی اس میں سے ایک حصہ ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے (قرآن ٤:٨٥سورة النساء)
کرپٹ حکمرانوں،ان کے مددگاروں کو سپورٹ کرنے والے کے لواحقین موت پر  ٧٥٠٠٠ ادا کریں ورنہ جنازہ نہ پڑھایا جائے .
اہل علم سے مزید رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے .
"The soul of the believer is attached to his debt until it is repaid for him” (At-Tirmithi no. 1079).
"Whoever takes the wealth of the people and he intends to pay it back, Allah will pay it back for him, and whoever takes it intending to waste it, Allah will waste him" (Al-Bukhari no. 2387).

* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Humanity, Religion, Culture, Ethics, Science, Spirituality & Peace
Peace Forum Magazines
Over 1,000,000 Visits
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *

Traders in Power politics



In every society, there is a conflict between conservative tradition and modern ideas. Those who believe in old traditions want to preserve them and prevent any attempt made to replace them with new and modern values.
Agents of change belonging to different sections of society make efforts to dismantle the old structure and construct a society based on new ideas which could enhance their role and status. Among these, traders are the most active and vibrant agents of social change, which is why they are criticised and condemned by conservatives who wish to uphold the traditional system which provides them security and privileges.
Edmund Burke (d.1797), the conservative thinker of the 18th century and the author of Reflection of French Revolution (1790) critically examines the role of traders during the French Revolution. According to him, besides intellectuals, it was traders who contributed to the destruction of the old political and social institutions of France which preserved stability and peace.
Is modern day consumerism responsible for social change?
According to him, the aristocracy checked radical change and kept the old system in order. As the French traders helped the revolutionary forces to lessen the power of the church, the nobility and the king, French society became chaotic. The traders on the other hand were interested in change because it would open new venues of profit and benefit their commercial activities. Burke, however, did not consider the role of the French traders positive because their endeavours plunged the society into conflict.

Burke also accused the traders of the East India Company of using illegitimate ways and means to accumulate wealth pilfered from India. He pointed out that as the traders belonged to the lower social classes of England, they lacked the high qualities of the English aristocratic culture, which was primarily the reason that they committed crimes in India by making profits from illegal trade as well as accepting a lot of money as bribes from the Indian rulers.
When they came back to England with all the riches that they had accumulated in India, they polluted English politics by buying land and seats in the parliament. They destroyed the institutions of India and created a vacuum in politics which subverted the local values and norms and destabilised the political structure.
Burke, throughout his parliamentarian career, criticised the East India Company and its rulers. His approach towards the role of the traders remained negative and he regarded them as destroyers and not builders.
Adam Smith (d.1790) in his book Wealth of Nations also castigated the role of the East India Company. According to him, when a trading company ruled India with the help of a military force, its interest was limited to trade concessions. Since the company’s interest was to earn more profit, it consequently ruined the industry in the subcontinent and gave no advantage to the English society through its business. He concluded that whenever traders became rulers, they used political power for profit and not for the welfare of people.
Another intellectual who defended the conservative system was Justus Möser (d.1794) who was the inhabitant of a small German state, Osnabrück. He was skeptical about the new changes which came about as a result of the Industrial Revolution.
He was content with the old lifestyle in his small city where artisans manufactured things according to the local needs and shopkeepers sold commodities of daily use. There was no materialistic desire among people to have extra stuff that was not very useful to them.
However, after the industrial revolution, the situation rapidly changed. With mass production in factories, traders were interested in creating consumers for it. There was an invasion of traders in Osnabrück, who brought new products and sold them cheaply in the market. It greatly affected the traditional artisans and shopkeepers who failed to compete with the aggressive traders and they lost their profession as well as their income.
According to Möser, the village life changed when peddlers reached distant places to sell new products. To Möser, it was the end of the old world in which people had been happy and content with what the local artisans produced for their needs. The change increased material desires among people and transformed them into avid consumers.
In The History of Syedwala, Muhammad Ramzan describes how during the colonial period, a family in a village could live on Rs69 for a whole year, excluding the expense of wheat and daily use products. Life was simple and the desire for consumption was limited.
In the capitalist system, the approach is to attract people to buy new products. In the olden days, shopkeepers did not display their commodities and the customers could not see them openly so they bought what they needed. In the new system, the products are displayed to catch the attraction of the consumers and to create a desire for purchasing and ownership. People also enjoy window shopping as a pastime. The question arises as to whether consumerism is a positive change or is it disastrous for the common man who is constantly competing with others to consume the new product.
The process of globalisation can also be examined on the basis of past historical knowledge. As in the past, the industrial revolution wiped out the traditional artisan classes, similarly globalisation is destroying the local industry by importing cheap goods and commodities and transforming people from producers to consumers.
By Mubarak Ali, dawn.com

کرپشن… اُمّ الخبائث



جو شخص کرپشن کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں سمجھتا وہ یا تو پرلے درجے کا احمق ہے یا خود کرپٹ ہے۔ اس کے لیے بہترین نام اُمّ الخبائث ہے یعنی ساری خباثتوں کی ماں۔ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ اس کی کئی قسمیں ہیں۔ دونوں برادرانِ اسلام اپنی سیاسی مشہوری کے لیے اس غریب قوم کا جو کروڑوں روپیہ اتنی بیدردی سے اُڑا رہے ہیں یہ بھی کرپشن کی ایک قسم ہے۔ حال ہی میں صنعت کار اور تاجر طبقے کو جو پانچ سو ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے اسے کرپشن کے علاوہ اور کیا نام دیا جا سکتا ہے‘ اور یہ وہ طبقہ ہے‘ ٹیکس دیتے وقت جنہیں باقاعدہ موت پڑتی ہے اور جن کے اثاثے اور جائیدادیں دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہیں۔ اب آپ خود حساب لگا کر دیکھ لیں کہ ان پانچ سو ارب روپوں سے کتنے کالج‘ سکول اور ہسپتال تعمیر کیے جا سکتے ہیں جبکہ صرف لائن لاسز کا سالانہ نقصان ایک ہزار ارب روپے ہے۔ حکومت اگر اس طرف توجہ دے سکے تو اس سے کم از کم پانچ سو ارب روپے کے نقصان کا ازالہ تو ہو سکتا ہے لیکن بجلی اور گیس چوروں میں بھی یہی طبقہ سب سے آگے ہوتا ہے اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں کیونکہ پنجابی کے ایک محاورے کے مطابق بھینسیں بھینسوں کی بہنیں ہوتی ہیں۔ قصہ مختصر ناجائز مراعات دینا اور لینا دونوں کرپشن کی ذیل میں آتی ہیں۔ 
پھر‘ بدحکومتی جو کرپشن کی بدترین قسم ہے‘ ہر طرف عروج پر نظر آتی ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں نے بیوروکریسی میں بھی اپنے اپنے گروپ بنا رکھے ہیں جنہیں اپنے ڈھب پر لانے اور رکھنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ موجودہ وفاقی اور ہماری صوبائی حکومت کا یہ خاص سٹائل ہے کہ ہمیشہ جی حضوریوں ہی کی دال ان کے ہاں لگتی ہے اور جو بھی افسر قانون اور آئین کے حوالے سے ان کے غلط احکامات ماننے سے سرتابی کرے‘ اُسے نہ صرف کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے بلکہ ہر طرح سے ذلیل و رسوا بھی کیا جاتا ہے۔ محمد علی نیکوکارہ اور طارق کھوسہ سمیت اس کی بیسیوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس طرزِ عمل سے ماتحت افسروں کو بھی یہی پیغام ملا ہے کہ ہاں میں ہاں ملاتے رہو گے تو ترقیاں بھی ملیں گی اور دیگر سہولیات بھی‘ ورنہ عبرت ناک انجام کے لیے تیار رہو‘ حالانکہ افسران حکومت کا کوئی غیرقانونی حکم 
ماننے کے پابند ہی نہیں ہیں لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ جن پر کرپشن کے سب سے زیادہ الزامات ہوں‘ انہیں ترقی دینے میں کوئی دیر نہیں لگتی اور خوشامد نہ کرنے والے باضمیر افسر ہمیشہ محروم ہی رہتے ہیں۔ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ یہ طرزِ حکمرانی بجائے خود ایک طرح کی دہشت گردی ہے۔ لہٰذا اس ناسور کا مقابلہ کرنے والوں کے سامنے یہ اور اس طرح کے کئی چیلنج موجود ہیں جن سے بخوبی عہدہ برآ ہوا جا سکتا ہے۔ اور امید کی جاتی ہے کہ یہ سب کچھ بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا‘ اور یہ مسائل حل کرنا اس 
لیے بھی ضروری اور آسان ہے کہ عوام سول حکمرانوں سے جس قدر بیزار ہیں‘ افواج پاکستان سے اسی قدر محبت رکھتے ہیں ورنہ تو دہشت گردی کا خاتمہ بھی سول حکومت اور اس کے اداروں کا کام تھا اور فوج کو مکمل دفاع کے علاوہ کسی اور مخمصے میں ڈالنا ویسے بھی درست نہیں۔ عوام دیکھ رہے ہیں کہ جہاں سول حکمرانوں کی مقبولیت روز بروز کم ہو رہی ہے اور اس کی رٹ کہیں نظر ہی نہیں آتی اور وزیراعظم بظاہر غصے میں ہی نظر آتے ہیں‘ آرمی چیف جنرل راحیل شریف ہی خارجہ مسائل میں بھی سرخرو ہو رہے ہیں جو ایک انتہائی مشکل کام تھا اور سول حکومت نے اس کے سامنے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے۔ چنانچہ چین ہو یا امریکہ‘ برطانیہ ہو یا سعودی عرب‘ ہر طرف صاحبِ موصوف ہی آ جا رہے ہیں اور وہاں ان کا استقبال بھی بطورِ خاص ہی کیا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ دیکھ لیں کہ موصوف کی بھاگ دوڑ اور کوششوں سے افغانستان کے ساتھ برسوں کے بگڑے ہوئے حالات کیسے درست اور نارمل ہوتے جا رہے ہیں اور وہاں بھارتی عمل دخل بھی کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے‘ بلکہ بھارت کے ساتھ بھی برابری اور ایک باعزت فاصلے سے تعلقات کو استوار کیا جا رہا ہے۔ 
اور‘ یہ سب کچھ اس تاریخی کارنامے کے علاوہ ہے جو آپریشن کی صورت میں زیرِ کار ہے اور قدم قدم پر کامیابیاں ماتھا چوم رہی ہیں۔ چونکہ کراچی میں بطور خاص جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے اور دوسرے علاقوں‘ بالخصوص پنجاب میں بھی لامحالہ یہ مشق روا رکھی جائے گی اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ساتھ جرائم کی جڑ اور سب سے بڑی سہولت کار‘ کرپشن کا خاتمہ اور ناجائز دولت کے وہ انبار بھی پیش نظر رکھے جائیں گے جن کے اصل مالک اس ملک کے محروم عوام ہیں اور جو اس لوٹ مار سے سب سے زیادہ متاثر اور زخم خوردہ ہیں۔ اس کے لیے اس ادارے کو جتنے اختیارات حاصل ہیں اور جنہیں وہ استعمال بھی کر رہا ہے‘ یہ جھاڑو پھیرنے کے لیے وہی کافی ہیں اور دہشت گردی کا اگر خاتمہ مقصود ہے تو اس کے بنیادی اسباب کا قلع قمع کرنا ہوگا ورنہ یہ ساری مشق ادھوری اور بے نتیجہ ہی رہے گی۔ 
آج کا مقطع 
رسیلے غضب تھے، ظفرؔ، اس کے ہونٹ 
وہ شہتوت منہ میں گُھلا دیر تک
By Zafar  Iqbal .. Dunya.com.pk

سیاست علما کا میدان نہیں



سیاست علما کے لیے ممنوع نہیں لیکن یہ ان کا حقیقی میدان نہیں۔ سیاست اس امت کی تاریخ میں کبھی علماکا اصل تعارف نہیں رہا۔ ان کی سیاست بس اتنی تھی کہ حکمرانوں کو انذار کیا جائے، جب اس کی ضرورت ہو۔ ہمارے ہاں جب سیاست علما کی دل چسپی کااصل میدان بنی تو ان کی صفوں سے باصلاحیت لوگ اس طرف کا رخ کرنے لگے۔ یوں مسندِ دعوت وارشاد ان کے حوالے کر دی گئی جو درحقیقت اس کے مستحق نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے ذوق کے مطابق مذہبی اداروں کی تشکیل کی۔ یوں یہ مسلکی اورگروہی مفادات کے تابع ہوگئے۔ ان میں اکثریت ان کی تھی جن کی شہرت رسوخ فی العلم نہیں، شعلہ فشانی تھی۔ انہوں نے مذہبی اداروں کو مسلکی انتہا پسندی کے مراکز میں بدل دیا۔
دوسری طرف افغانستان میں سوویت یونین کا قبضہ ہوا تو ریاست ِ پاکستان نے امریکی تائیدو نصرت کے ساتھ،اس 
معرکے کو مذہبی بنیادوں پر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ریاست کی سرپرستی میں تصورِجہاد کی تفہیم ِ نوسامنے لائی گئی اوراسے نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا۔ یوں جہادی گروہ وجود میں آئے۔ سوویت یونین ختم ہوا تو ریاست نے ان گروہوں کو نیامحاذ دینے کی کوشش کی۔ سب کے لیے یہ اہتمام نہیں ہو سکا۔ یوں ان کے نئے گروہ وجود میں آئے جو ہدف اور حکمتِ عملی، دونوں کے تعین میں خود مختار تھے۔ دوسری طرف امریکہ کا مفاد ختم ہوا تو وہ اس سارے عمل سے لاتعلق ہو گیا، یہاں تک کہ تاریخ نے کروٹ لی اوریہ لوگ خود اس کے لیے چیلنج بن گئے۔ ریاست ِ پاکستان نے پالیسی تبدیل کی اور امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو ان گروہوں نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یوں ریاست پاکستان اور جہادی گروہوں کے مابین ایک نیا معرکہ شروع ہوا۔ اس معرکے میں جہادی گروہوں نے ریاست کے ساتھ پاکستانی سماج کو اپنا ہدف بنا لیا۔ ایک مرحلے پر یہ جہاد اور مسلکی انتہا پسندی ہم آہنگ ہوگئے۔ اب معاملات ریاست کے ہاتھ سے نکل گئے اور مذہبی قیادت بھی بے بس ہوگئی۔ یوں مساجد اور شاہراہیں مقتل بن گئے۔
یہ وہ مر حلہ تھا جب علما کو بروئیِ کار آ نا چاہیے تھا۔ وہ علما جنہوں نے خود کو اس ہنگامہ آرائی سے دور رکھا اور سیاست کو اپنی پہلی ترجیح نہیں بنا یا۔ جنہوں نے اشاعتِ دین کی کوششوں کے ساتھ ،اپنے تئیں نئے فتنوں کے خلاف علمی جہاد کو جاری رکھا۔ انہوں نے جہاد سے متعلق اس نئی تعبیرکو نظرا ندازکیا جس نے جہاد کو ریاست کے بجائے نجی شعبے کے حوالے کردیا۔ جب مختلف لوگوں نے جہادکا فریضہ اپنے ہاتھ میں لیا توہدف کے ساتھ،حکمت عملی کا تعین بھی ان کی صواب دید بن گیا۔ اب کسی کے نزدیک دوسرے مسلک کے لوگوں کومارنا جہاد قرار پایا اورکسی کے اجتہاد میں مو لا نا حسن جان واجب القتل ٹھہرے۔ علما نے اس اہم تبدیلی کو نظر انداز کیا اور یوں پاکستان فسادکاگھر بن گیا۔ اس سے دوسری قوتوں کو مو قع ملا جو پاکستان کی سلامتی کے درپے رہتی ہیں۔ ان کے لیے آسانی ہوگئی کہ وہ اس معاشرے کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کریں اوراسے کمزور کریں۔ پاکستان اس وقت عالمی سیاست کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا بھی مرکز بن چکا

More:

Good Governance and Pakistan پاکستان کا برا مسئلہ "گڈ گورننس" کا نہ ہونا ہے




THE historical judgement on governments is harsh. It says that governments have many butchers and few shepherds. However there is increasing interest in good governance. What is good governance? It is generally understood in its narrow meanings. An attempt is made here to present some of its less-known features.

Accountability, transparency and equality before the law are well-known attributes of a good government. There is rightly more stress on corruption. What Senator Cato said about Rome then is true of Pakistan today: “Simple thieves lie in prison and in stock; public thieves walk abroad in gold and silk.”

Corruption leads to misallocation of resour­­ces. For example, it could lead to misallocation of investment and public infrastructure away from their most productive use. It can also lead to misallocation of talent as self-interested individuals seek rewards in occupations where returns are inflated by corrupt practices.

Self-interested individuals choose to enter public life in order to capture rents. In its insidious form corruption tramples on individual rights at the hands of public servants. Pakistan was ranked 127th among 177 countries in 2013, by Transparency International’s corruption index.


Is poverty of nations the cause or effect of corruption?
It is argued that systems which are more open to trade cause less corruption. Rent-seeking by public servants is minimised. The licensing regimes in our country used to generate a phenomenal amount of corruption.

A strong correlation is found between corruption, the level of income and the enforcement of property rights. Rich countries may not be totally free of corruption but the incidence of corruption is fairly low compared to poor countries. Is poverty of nations the cause or effect of corruption? Poverty has many causes. In the early stages of development, however, corruption can prove a big bane.

Enforcement of property rights is another big issue. The existence of laws does not necessarily lead to enforcement of laws. Pakistani court procedures, the expense involved, both legal and illegal, to secure rights, and delays in adjudicating cases, are unbearable.

Transparency in the government’s dealings is another crucial aspect in the context of good governance. Corruption takes place in the shadows, away from the public gaze. The need is to throw light on those dark corners. In this respect, the Right to Information Act 2013 of the government of Khyber Pakhtunkhwa is worth appreciating.


Moving to the larger context of good government, the standard economic notion is social welfare. The approach can be applied to policies, political processes and institutions. It provides an intellectual underpinning for ideas of government operating in the public interest. In the traditional welfare economic model, good government is largely identified with reference to efficiency and distribution.

Efficiency requires making a choice from a set of alternatives which is most feasible. Feasibility requires taking into account both technological feasibility, budget balance, and so on.

The welfare economic model can be thought of as generating ‘rules for good governance’ using systematic model of the economy and what drives human well-being. This approach displaced the classical approach to the issue which merely catalogued the functions of the government as protecting the society from violence and invasion, establishing an exact administration of justice and the duty of erecting and maintaining certain public works and institutions.

Good policies require good persons to devise and implement those policies. Where will a country get this rare breed from? The modern answer to this is democracy. Democracies are run by politicians. The argument in favour of democracy is that the main sanction for poor performance is electoral — those who perform badly will not be re-elected.

This is a fallacious argument particularly in a country like ours. Those who get elected strive to make more and more money out of their positions whether in government or in opposition, to get re-elected next time. Politics is a money game. How many mega scams of our politicians have we proved and punished? There is growing disenchantment with democracy even in the democratic West.


Information provided by media and civil society is important in thinking about electoral accountability. We should draw a distinction between formal and real accountability. A politician is formally accountable if there is some institutional structure, apart from elections, that allows the possibility of some action against the culprit in the event that he does a poor job. But there is no guarantee that such accountability mechanisms are used effectively. Real accountability requires that those who hold politicians to account have sufficient information to make the system work.

Governments have been variously characterised as democracies, dictatorships, plutocracies, aristocracies and ‘kakistocracies’. The latter refers to when the worst persons are in power. It is left to the imagination of readers in which category they place the government of Pakistan.

By A. Rauf K. Khattak, www.dawn.com , The writer is a former federal secretary.
raufkkhattak@gmail.com       https://www.dawn.com/news/1223405
..............................................
Zahoor's Cartoon
"گڈ گورننس"
نواز شریف حکومت "گڈ گورننس" کے بلند و بانگ دعو ے کرتے نہیں تھکتی اور اس بات پر ہمیشہ زور دیتی رہی ہے کہ یہی گورننس ہے جو انہیں دوسری جماعتوں کی حکومتوں سے ممتاز کرتی ہے مگ؛
1. کیا بجلی کے شعبے میں سرکلر ڈیبٹ کا 800 ارب ہو جانا " گڈ گورننس " ہے؟
2. پاکستان کے تجارتی خسارہ کا 30 ارب ڈالر سے زائد تک جا پہنچنا " گڈ گورننس " ہے؟
3.غیر ملکی قرضہ جات کا 80 ارب ڈالر کے قریب پہنچ جانا " گڈ گورننس " ہے؟
4. بجلی کی پیداوار کے ناکام منصوبے اور اگست کے مہینے میں ملک میں بد ترین لوڈ شیڈنگ " گڈ گورننس " ہے؟
5. تاجروں کی حمایت کھو دینے کے خوف سے براہ راست ٹیکس وصولی میں ناکامی کے بعد عوام پربالواسطہ ٹیکسز کا بوجھ ڈالنا " گڈ گورننس " ہے؟
6. 40 فیصد عوام کا خط غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنا اور ان کے حالات بدلنے کے لئے کوئی جامع منصوبہ نہ ہونا ،" گڈ گورننس " ہے؟
7. تمام تر اخراجات، بیرونی امداد اور منصوبوں کے باوجود اسکولوں میں " نیٹ ان رول منٹ ریٹ" میں کمی بھی شاید " گڈ گورننس " ہے؟
8.پاکستان پانی کی کمی کا شکار ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہونے جا رہا ہے ، اس حوالے سے کسی ایک بھی جامع منصوبہ کا آغاز نہ ہونابھی " گڈ گورننس " ہی ہے؟
9.کیا ہمارے لئے یہ سوال اٹھانا زیادہ اہم نہیں کہ سی پیک معاہدہ کی شرائط کیا ہیں اور چین کو منصوبے سے پہلے اور بعد کیا مراعات دی گئی ہیں؟
10.شاید ہمارے ملک میں نہ کسی نے سری لنکا کو قرضہ دے کر اس کی پورٹ پر چینی قبضے کی کہانی پڑھی ہے اور نہ ہی کسی کو اس میں دلچسپی ہے۔
11. اس ملک میں ہمارے بچوں کا مستقبل پانی کے بغیر کیا ہو گا اس سے بھی ہمارا کوئی تعلق نہیں-
ان سوالات کا تعلق براہ راست پاکستان کے مستقبل سے ہے۔ میں حیران ہوں کہ پی ٹی آئی جیسی جماعت بھی جو بھرپور اپوزیشن کا دعویٰ کرتی ہے، ان معاملات پر نہ تو سنجیدگی سے سوالات اٹھاتی ہے اور نہ ہی حقائق کو پاناما کیس جتنےزور و شور سے عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوئی کوشش کرتی ہے۔ ۔
(افتخار احمد , شطرنج، مہرے اور تماشائی،اقتباس  ، jang.com.pk , August 12, 2017)
..........................................................
گڈ گورننس


گڈ گورننس کا فقدان ہمارے ملک کا ایک اہم ترین مسئلہ بن چکا ہے لیکن اس مسئلے کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا ہے، حالانکہ اس مسئلے سے دیگر اہم مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، مثلاً آج کل ذرایع ابلاغ پر نمایاں ترین مسئلے یعنی سندھ میں رینجرز کے اختیارات کے مسئلے کا تعلق بھی اس سے ہے۔
اگر سندھ میں گڈ گورننس ہوتی تو پھر یہاں کسی بڑے آپریشن اور رینجرز کے بلانے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ پاکستان ہو، اس کا کوئی صوبہ ہو یا کہ کسی صوبے کا کوئی ادارہ ہو، تمام جگہوں پر گڈ گورننس تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ ہمارے وزیراعظم غریبوں کے علاج کے لیے کارڈ اسکیم کا اعلان کررہے ہیں۔ یقیناً یہ اچھی بات ہوگی مگر سرکاری اسپتالوں میں گڈ گورننس کب قائم ہوگی؟ وہ کب حقیقی معنوں میں فعال ہوں گے؟ کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ آخر گڈ گورننس کی راہ میں کیا رکاوٹ ہے؟ اور اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں، اس کا سیدھا سادہ سا حل ہے، آئیے اس پر غور کریں۔
سب سے پہلے کسی بھی ادارے کے سربراہ کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے، نہ کہ سیاسی تعلق کی بنیاد پر یا پھر محض نوازنے کے لیے۔ نوازنے کے لیے کوئی اور طریقہ دریافت کیا جائے بجائے کسی قسم کی وزارت یا کسی ادارے کی سربراہی سونپنے کے۔ یہ بات تو کوئی راز ہی نہیں ہے کہ نوازنے کے لیے دی جانے والی ذمے داری سے ہر بڑا آدمی صرف ’’کمانے‘‘ کا کام کرتا ہے، نہ کہ اپنی ذمے داری کو ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ کام خاصا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن تو نہیں۔

یہ سوال بڑا اہم ہے کہ آخر ہماری حکمراں جماعتوں کو اپنی وزارتوں اور کسی بھی ادارے کے سربراہ کی تقرری کے وقت خود اپنی ہی جماعت میں کوئی باصلاحیت اور ایماندار آدمی کیوں نہیں ملتا؟ اور اگر نہیں ملتا تو کیا کوئی غیر جانبدار شخص بھی نہیں ملتا؟ زیادہ دور کی بات نہیں پچھلی حکومت میں ریلوے کے پورے نظام کو تلپٹ کرکے رکھ دیا گیا تھا، لیکن آج ایک صحیح شخص کے انتخاب نے ریلوے کو پاکستان سے نہ صرف ختم ہونے سے بچایا بلکہ اب یہ ادارہ مزید ترقی اور بہتری کی جانب گامزن ہے (یہاں راقم بحیثیت ایک پاکستانی سعد رفیق اور ن لیگ کو شاباش کہنا چاہے گا کہ انھوں نے ایک بہترین فیصلہ کیا اور پھر عمل بھی کرکے دکھایا)۔
گڈ گورننس قائم رکھنے میں نیب جیسے ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور اس کا طریقہ نہایت آسان ہے مگر مشکل بھی۔ آسان اس طرح ہے کہ اس قسم کے ادارے اگر نیک نیتی کے ساتھ صرف اور صرف کسی بھی ادارے کے سربراہ کی مکمل چھان بین کریں کہ وہ ٹیکس کتنا دیتا ہے؟ اس کے اخراجات کیا ہیں؟ اور گزشتہ دس برسوں میں اس کے اثاثے کیا تھے اور اب کیا ہیں؟ اگر تمام اداروں کے سربراہوں کی اس طرح چھان پھٹک کرلی جائے اور بلاتفریق عدالت کے کٹہرے میں لے آیا جائے تو کسی ادارے کے سربراہ کے لیے یہ آسان نہ ہوگا کہ وہ کرپشن کرسکے۔ درحقیقت کرپشن ہی کسی بھی ادارے کو خراب گورننس اور تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ جن اداروں کے سربراہ کرپشن میں ملوث نہ ہوں وہ ادارے ہی ترقی کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔
اگر سربراہ ہی کرپٹ ہوجائے تو ظاہر ہے کہ نیچے کا عملہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتا ہے، جس سے گڈ گورننس تو ایک طرف، ادارہ ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔ یہاں ڈاکٹر عبدالوہاب کا تذکرہ بے محل نہ ہوگا، جس وقت جامعہ کراچی میں دوران امتحان نقل کا کلچر زور پکڑ گیا تھا اور گڈ گورننس بری طرح متاثر ہورہی تھی، ڈاکٹر عبدالوہاب نے سختی کے ساتھ نظم وضبط کو قائم کیا اور بہت سی خرابیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، نقل کا کلچر جڑ سے ختم کرادیا، نیز جامعہ میں ایوننگ پروگرام شروع کرایا، آج جامعہ کراچی کے اسٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی ہورہی ہے تو اس ایوننگ پروگرام سے حاصل ہونے والی آمدنی سے، ورنہ تو یہاں کے اساتذہ بھی پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی طرح مہینوں مہینوں تنخواہوں سے محروم رہتے۔
کچھ ہی عرصے پہلے ایک اخبار میں یہ خبر شایع ہوئی کہ سندھ میں ایماندار افسران کی کمی ہے، ایک ایک افسر کو کئی کئی ذمے داریاں سونپی جارہی ہیں کیونکہ کرپٹ افسران کسی کارروائی کے خوف سے ملک سے جاچکے ہیں یا جارہے ہیں۔ یہ خبر عیاں کر رہی ہے کہ اس صوبے میں کرپشن کی کیا صورتحال ہے اور گڈ گورننس کس سطح پر ہے۔
مرض کو ابتدائی مرحلے میں توجہ نہ دی جائے تو پھر بڑا آپریشن ناگزیر ہوجاتا ہے۔ سندھ میں آپریشن کا بھی یہی معاملہ ہے، گو قانونی لحاظ سے سندھ حکومت کا موقف اپنی جگہ درست ہے مگر اس حکومت کے ذمے داروں کو یہ سوچنا تو چاہیے کہ عوامی آواز خود یہ محسوس کررہی تھی، اور آج بھی کررہی ہے کہ یہاں کے مرض کا علاج اب بڑا آپریشن ہی ہے۔ کرنے کا کام تو یہ ہے کہ مرض کو دور کرنے کے لیے صوبائی حکومت خود سے بڑا آپریشن کرکے یہاں گڈ گورننس قائم کرے۔
گڈ گورننس کا ایک اور اہم اور بڑا پہلو انصاف کی فراہمی ہے۔ راقم نے ایک بڑے سرکاری افسر سے پوچھا کہ آپ ایماندار افسر ہیں، آپ کوئی بڑا کردار ادا کیوں نہیں کرتے؟ ان کا جواب تھا کہ وہ اپنے طور پر تو یہ کردار ادا کررہے ہیں لیکن ان کی پشت پر کوئی بھی نہیں، ان کا تعلق کسی بھی جماعت یا گروہ سے نہیں، ایسے میں کوئی بڑا کلمہ حق کہنا بہت مشکل ہے، ہاں اگر ہماری عدالتیں اس قدر مضبوط ہوجائیں کہ عوام کا اعتماد ان پر بحال ہوجائے تو ایک میں کیا نہ جانے کتنے ایماندار افسران سر دھڑ کی بازی لگا کر اپنا کردار نبھائیں اور محاذ پر ڈٹ جائیں۔ بلاشبہ انصاف کی فراہمی بھی گڈ گورننس میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔
آج راقم سمیت بہت سے لوگوں کے دن رات کا مشاہدہ ہے کہ مختلف اداروں میں جو ایسوسی ایشنز یا یونینز اپنے ادارے کے ملازمین کو حقوق دلوانے کے لیے بنتی ہیں، وہ خود ہی اپنے ملازمین کا سب سے بڑا استحصال کرتی ہیں اور محض اپنے پسندیدہ ملازمین کے کام کرواتی ہیں اور انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر غیر قانونی کام کروا کر اپنے بینک بیلنس بناتی ہیں۔
یوں جن تنظیموں کا کام لوگوں کو ان کے حقوق دلوانا ہوتا ہے، ظلم و ناانصافی ختم کرنا ہوتا ہے اور ادارے میں گڈ گورننس قائم کرنا ہوتا ہے ان کی جانب سے خود قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور گڈ گورننس کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ ظاہر ہے کہ جب گڈ گورننس کو قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے والے الٹا گڈ گورننس ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے تو پھر ادارے کی انتظامیہ بھی ان کے غیر قانونی کام کرنے کے بعد شتر بے مہار بن جاتی ہے اور ادارے کو ذاتی فوائد حاصل کرنے کے لیے کھل کر نقصان پہنچاتی ہے، کیونکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ اب اسے کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں اور اگر کوئی ہوگا بھی تو اس سے یہ ملازمین کے حقوق دلوانے کے دعویدار خود ہی نمٹ لیں گے۔
راقم کے ایک دوست کا کہنا ہے کہ انصاف اور احتساب وہی کرسکتا ہے جس کا دامن صاف ہو، جب تک قانون نافذ کرنے والے اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں میں ایسے لوگوں کی کثرت نہیں ہوجاتی، گڈ گورننس کا قیام آسان نہیں۔ راقم کا خیال ہے کہ ایسے افراد کی ضرورت تو ہر ادارے میں ہے۔ آئیے پہلے اپنا دامن صاف کرنے کی کو شش کریں اور کچھ دیر اس پہلو پر بھی غور کریں۔

......................................................
Image result for ‫گڈ گورننس کیا ہے‬‎

Crisis of Good Governance

nation.com.pk

Governance is the exercise of authority to address public affairs. This authority can be political, economic or administrative. The use of this authority is always based upon certain rules and laws of society established by its members. Good governance is to run administration according to these defined laws for the welfare of the people. Bad governance means digression or subversion from these laws. Good governance guarantees safety and security of the people and creates an atmosphere conducive to progress and prosperity. Bad governance begets a number of social crises. 

Good governance comes through strong and independent institutions of the state. These institutions need to be built, sustained and stronger than individuals. Unfortunately, a little effort has been made to build institutions on a stable footing in Pakistan since independence and individuals have taken precedence over institutions. Pakistan suffers from a number of crises but the crisis of good governance is on top because it is the core of all other problems. 
Our country is suffering from weak institutional set-up, political instability, rampant corruption, lack of accountability and transparency and bad law and order situation. All these issues have seriously pushed off the country to an abysmal state of poor governance. 

Every government looks down upon the policies of the previous government, throws those away and establishes new ones. Due to bad governance education, health, civic services, agricultural infrastructure are all in bad state. Even the most basic social needs of citizens are not fulfilled. Law and ordered situation is deteriorating and people are being robbed and killed in bright day light. People don’t feel safe and secure. 
Places of worship have to be guarded for the fear of terrorism. This sorry state of law and order scare the investors away from the country thereby severely harming the economy. 
One of the most damaging effects of bad governance is the prevalence of corruption that ultimately results in lawlessness and the biggest hindrance in the way of development. The absence of impartial and independent accountability has resulted in the growth of this monster. It has become a norm in our society rather than an exception. 

Good Governance stands for poverty alleviation. 
It has always been a favourite buzzword in our economic and social development circles. 
Almost every democratic government has launched poverty reduction programs but all proved futile and ended in corruption. Accountability is a crucial point in good governance – the rulers and the institutions of the state are accountable to people. But, it is very hard to find it in Pakistan’s weak institutional set-up. 

Merit or fairness is essential for good governance and the both support each other. But in our country merit is given least importance. Nepotism and favouritism are the order of the day. Our once very strong institutions like PIA, Pakistan Railway, Pakistan Steel etc. are now in state of paralyse.  All the cities in any province is not getting equal share of development. 
Developing one city in any province at the cost of basic facilities, like hospitals, schools and colleges, clean drinking water etc. , of the other cities is another example of bad governance. One city gets the road network, underpasses and overhead bridges and the others don’t have the basic road network. This disparity has created bad feelings among people living in small cities. 
Similarly, unemployment, illiteracy are other aspects which speak volume about sorry state of governance. People at the helm of affairs need to understand that good governance is more than mere management.  It is not only about decision making, policy formulating but also priority settings, implementation and getting results. Transparency, legitimacy, merit and the rule of law are the important pillars of good governance. 
Politicians and other state officials in the power corridor make illegal appointments in various public offices. They could appoint inept people without merit on political grounds, for the sake of money, favouritism and nepotism. 

The civil servants, police and NAB are not fully autonomous in their decree to work. All are under severe political pressure. None of them is granted full independence, to bring the criminals to justice and inquire the cases of big guns. These are powerful institutions, which need considerable attention to de-politicise their structures. These institutions should be given absolute autonomy to bring the corrupt people before the law. 

Good governance is a prerequisite for social harmony, public order, political stability, economic prosperity and certainty about future. It delivers the fruit of progress and development evenly to all and sundry. Good governance is required at all levels of society and state. Government needs to focus seriously on this issue to accomplish satisfactory results. We must not allow the erosion of institutions through the idiosyncratic behaviour of rulers. No state is free of all crises but it is the quality of governance that ensures its survival through any crisis. 

Rauf  A Khattak , The writer is based in Lahore. 
http://nation.com.pk/columns/05-Mar-2017/crisis-of-good-governance

.
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page