پاکستان بچاؤ Let's Save Pakistan

Let's Save Pakistan

While Pakistan has been brought to the brink of political and economic disaster, should we keep watching as silent spectators? 

"No Exit from Pakistan" America’s Tortured Relationship with Islamabad by Daniel S.Markey "پاکستان کا پیچھا نہیں چھوڑنا " پاکستان کے ساتھ امریکہ کے ٹارچرشدہ تعلقات پر کتاب از ڈینیئل مارکی: اقتباسات

This book tells the story of the tragic and often tormented relationship between the United States and Pakistan. Pakistan’s internal troubles have already threatened U.S. security and international peace, and Pakistan’s rapidly growing population, nuclear arsenal, and relationships with China and India will continue to force it upon America’s geostrategic map in new and important ways over the coming decades. Read more »

یہ کتاب امریکہ اور پاکستان کے درمیان المناک اور اکثر عذاب میں مبتلا تعلقات کی کہانی بیان کرتی ہے۔ مصنف کے خیال میں پاکستان کے اندرونی مسائل پہلے ہی امریکی سلامتی اور بین الاقوامی امن کو خطرے میں ڈال چکے ہیں اور پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، ایٹمی ہتھیاروں اور چین اور بھارت کے ساتھ تعلقات اسے آنے والی دہائیوں میں نئے اور اہم طریقوں سے امریکہ کے جیوسٹریٹیجک تعلقات کےمنصوبوں پر اثرانداز ہوتے رہیں گے۔ (اس لے امریکہ کے لے  پاکستان کو تنہا اکیلا، آزاد  چھوڑنا ممکن نہیں )

پاکستان میں سیاسی عدم استحکام - اسلامی نظام کے نفاز کی ایک حکمت عملی (سٹریٹیجی) Strategy for Political Stability


حالیہ حالات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی ترقی میں کیا مشکلات اور رکاوٹیں ہیں۔  پتھروں سے سر ٹکرانے کی بجائے ان میں سے راستے نکالنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان پر بظاہر سیاستدان حکمران طبقہ ہے مگر ان پر اثر انداز اداروں میں فوج،  عدلیہ( بنچ و بار)، بیوروکریسی اور میڈیا نمایاں ہیں۔
فی الحال فوری طور پر (Short term) تمام اسٹک ہولڈرز کو ڈائیلاگ کی ضررت ہے تاکہ معاشی بحران سے نکلا جائے اور مستقبل کا سیاسی outline بھی طے کرلیا جائے یا مکالمہ جاری رکھیں- قومی حکومت بنانے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے اور پھر الیکشن کا پلان ہو- 
طویل مدتی (long tern)  اداروں اور سیاستدانوں میں چیک اینڈ بیلنس ملکی مفاد میں ہے اگر یہ قانون کی حدود میں رہے۔ جب کوئی فرد یا افراد  سیاست میں ضرورت سے زیادہ اس طرح سے involve ہو جائیں کہ دوسرے طاقت کے ستون  اس کے تحت ہوجائیں تو فرعونیت جنم لیتی ہے جوکہ ایک خوفناک (mindset) ہے۔ 
Power corrupts and absolute power corrupts absolutely 
انسانی کمزوریاں ایک حقیقت ہے ان کا (arm twisting) کے لئیے بےجا استعمال سیاسی عدم استحکام کا باعث ہے۔

The Debt of Freedom آزادی کا قرض

حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جب مجوزہ پاکستان سے باہرکے قریبی علاقوں کے مسلمانوں نے اپنے گھر بار اور مال واسباب سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ اپنی جانیں بچانے کیلئے پاکستان کی طرف ہجر ت کرنا چاہی تو ہندوؤں اور سکھوں نے انہیں اپنی تلواروں، کرپانوں، برچھیوں اور نیزوں کی نوک پر رکھ لیا۔ شہروں کے شہر ، قصبوں کے قصبے ، گاؤں کے گاؤں اور محلوں کے محلے مسلمانوں کے وجود سے صاف کردیئے گئے ، اس طرح کہ بچے ، جوان ،بوڑھے اور بوڑھیاں تہِ تیغ کردی گئیں اور جوان لڑکیوں اور عورتوں کو وحشیانہ آبروریزی کے بعد یاذبح کردیاگیا ، جلادیاگیا ، ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا یا باندیوں کی طرح گھروں میں ڈال لیاگیا، اور ان کے گھر بارلُوٹ لئے گئے ۔ ا س دوران وحشت اور جنون کے عالم میں انسانیت سے گرے ہوئے ایسے ایسے شرمناک ، لرزہ خیز، بھیانک اور کریہہ مناظر دیکھنے میں آئے کہ جنہیں کوئی ذی حِس انسان نہ سناسکتاہے ، نہ سن سکتاہے اور نہ لکھ سکتاہے۔ شیطنت اور بربریت کے دوران 10لاکھ سے زائد مسلمان مردوں ،عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو شہید کیاگیا ، لاکھوں زخمی اور لاکھوں عمر بھر کیلئے معذور ہوگئے۔ڈیڑھ لاکھ کے قریب جوان مسلمان خواتین اغوا کرلی گئیں یا بزورروک لی گئیں۔جان و مال اور عزت وآبروکے تحفظ سے محروم اَسی لاکھ سے زائد مسلمان ہندوستان کے مختلف علاقوں سے راستے میں اپنے پیاروں کو گنواتے ، کٹواتے ، مرتے اور مارتے خالی ہاتھ پاکستان ہجرت کر آئے ۔

Pakistan Army Chief Delusions


Gen Syed Asim Munir Shah, Frontier Force Regiment, was appointed Pakistan’s new Army Chief on Nov 24 even after much delay and deliberate attempts to make the issue controversial. A lingering `technical issue’ had been complicating the appointment, pertaining to the date from which the seniority and pecking order of eligible panelists should apply. Asim Munir was slated to retire on Nov 27, two days before Gen Bajwa retiring on Nov 29. This glitch was overcome through a Cabinet resolution, with relevant Rules of Business relating to the Army Act, 1952 being used to authorize the PM, Shahbaz Sharif `to retain his services’. Asim Munir may count himself to be rather lucky at this quirk of fate which left him as the senior most among three star Generals when the COAS selection sweepstakes came up. 
Pakistan Army Chief Delusions: https://bit.ly/COAS-Delusions

"Flawed national and operational strategy proved to be disastrous for Pakistan , both politically and militarily power, national and operational strategy, the methodology of crisis and conflict management, and higher direction of war in which we had been found wanting in 1971." 


There was an apprehension whether the President, Dr Arif Alvi would accept the summary sent by the PM on Munir’s appointment. Under Art 243(4) of the 1973 Constitution, this advice would be `binding’ but under Art 48 (1) thereof, the President could delay accepting the PM’s advice. Former PM Imran Khan told a private TV channel on Nov 23 that Dr Alvi was in touch with him and would consult him on the appointment of the COAS. Sure enough, President Alvi rushed to Lahore to meet Imran as soon as he received the summary. However, no constitutional crisis ensued as the President returned to Islamabad the same evening and signed his assent. Better sense seems to have prevailed on the Pakistan Tehrik e Insaf (PTI) leadership not to enter into a fresh confrontation with the new Army leadership. Keep reading »

Ideological Confusion - نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل



"ہم ایک ایسے اسلامی تصور کا تعاقب کر رہے ہیں جو انسانیت، جمالیات، دانش اور روحانی عقیدت سے خالی ہے … جس کا تعلق طاقت سے ہے نہ کہ روح سے، عوام کو  حصول اقتدار کے لیے متحرک کیا جاتا ہے نا کہ ان کی مشکلات کے خاتمے اور تمناؤں کے حصول کے لیے." (اقبال احمد)

“We are chasing an Islamic order ‘stripped of its humanism, aesthetics, intellectual quests and spiritual devotions…. concerned with power not with the soul, with the mobilization of people for political purposes rather than with sharing and alleviating their sufferings and aspirations.”[Eqbal Ahmad]

پاکستان کو درپیش چیلنجز اور ایک ممکنہ حل؟


پاکستان مفاد پرستوں کی پناہ گاہ اور چراگاہ بن چکا ہے ۔۔ مفاد پرست ٹولہ ایک بہت بڑا گینگ ہے جس کی جڑیں roots بہت گہری ہین ، ان کا ہرجگہ برانچیز، نیٹ ورک قائم ہے ۔۔ یہ مل جل کر سائینٹیفک طریقہ سے 22 کروڑ عوام کے ملک میں لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں ۔۔۔ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے لاکھوں تک ہو سکتے ہیں، ان میں بھی درجات classes ہیں لیکن ان سب کے مفادات آپس میں لنکڈ ہیں ۔۔
10 کروڑ میں سے 5 کروڑ ووٹ ڈالتے ہیں (الیکشن 2018) اور 1 کروڑ 68 لاکھ ووٹ لے کر PTi حکومت بناتی ہے اور 1 کروڑ 28 لاکھ نون لیگ ، 68 لاکھ Ppp ..
ووٹ کیسے پڑتے ہین، دھاندلی کا شور ہارنے والے ڈالتے ہیں مگر اپنی باری پر وہ الیکٹورل ریفارمز نہیں کرتے ۔۔ Pti نے دھرنے دئیے مگر ریفارمز نہیں کئیے ۔۔ کیونکہ امید ہے کہ اسی نظام سے دوبارہ موقع مل سکتا ہے پرفارمنس جو بھی ہو ۔۔ یہی حال نون اور زرداری پارٹی کا ہے ۔۔
یہ جمہوریت نہیں فراڈ ہے ۔۔
حل کیا ہے؟
دانشور بہت سے حل تجویز کرتے ہیں ، یہ ہونا چاہئئے ، ایسا ہونا چاہئئے مگر یہ کیسے ممکن یوگا یہ مشکل ہے ۔ کتابیں، اخبارات ، رسائل میڈیا تجاویز اور مشوروں سے بھرے پڑے ہیں ۔ ٹھیک ہے ان پر سوچ بچار کرتے رہیں۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔
حل سادہ، کارآمد workable ہونا چاہئیے ، لمبی چوڑی تھیوریاں ، جن پر عمل درآمد ممکن نہیں لکھنے کی حد تک ہیں ۔۔ ایسا حل تجویز کریں جس پر عمل درآمد ممکن اور آسان ہو ۔۔
ایک تجویز ہے کہ ۔۔۔۔
ایک mass movement.. لانچ کریں ، سوشل میڈیا سے ، ابھی آغاذ کریں ۔۔۔
صرف ایک نعرہ ۔۔۔
"ووٹ صرف مستحق کو میرٹ پر دو"
Vote on Merit Only
امیدوار کسی پارٹی کا بھی ہو یا آزاد ہو صرف نیک ، ایماندار، اہل competent ... ہو ۔۔
اس مقصد کے حصول لے لئیے ، اپنے اپنے لیول ، حلقہ احباب میں، سوشل میڈیا گروپس میں پریشر گروپ قائم کریں ۔۔۔
جو کام 70 سال میں نہ ہوا راتوں رات نہی بلکہ بتدریج Evolutionary process سے ہوگا ۔۔۔ نئے لیڈر ابھریں گے ۔۔
سیاسی پارٹیوں کو فیملی کنٹرول سے آزاد کروانا ہے ۔۔ پارٹیوں کو اندھا دھند ذاتی پسند یا مفادات کی بنیاد پرمکمل سپورٹ مت کریں بلکہ مشروط سپورٹ کریں ۔۔ خاص طور پر صرف اہل امیدواروں کی نامزدگی سپورٹ کریں ۔
اگر اسمبلی میں 5 یا 10 % اچھے لوگ ہوں گے تو بھی وہ پالیسیوں پر اثر انداز ہوں گے ۔۔ پھر یہ تعداد بڑھتی جائیے گے ۔۔۔
آئیے ہم پارٹیوں کو نہیں افراد ، امیدواروں کو سپورٹ کریں ۔ یہ ایک سٹریٹجک شفٹ ہے جس پر عمل درامد کے طریقہ کار پر مزید سوچ بچار کی جا سکتی ہے ۔۔۔keep thought process alive ۔۔۔ مگر رک مت جائیں ۔۔ کھڑے ، ساکن پانی میں بدبو ہوتی ہے ۔۔ حرکت میں برکت ہے ۔۔۔

Must read
2. نظریاتی اور فکری کنفیوزن اور ممکنہ حل : http://pakistan-posts.blogspot.com/2016/01/the-biggest-problem-of-muslims-solution.html

شکوہ ‏، ‏جواب ‏شکوہ ‏، ‏علامہ ‏اقبال ‏



 ”شکوہ“ اقبال کے دل کی آواز ہے اس کا موثر ہونا یقینی تھا۔ اس سے اہل دل مسلمان تڑپ اُٹھے اور انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ مسلمانوں کے حوصلہ شکن زوال کے اسباب کیا ہیں۔ آخر اللہ کے وہ بندے جن کی ضرب شمشیر اور نعرہ تکبیر سے بڑے بڑے قہار و جبار سلاطین کے دل لرز جاتے تھے کیوں اس ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے
علامہ اقبال نے ”شکوہ میں ایسا انداز اختیار کیا ہے جس میں مسلمانوں کے عظیم الشان، حوصلہ افزا اور زندہ جاوید کارنامے پیش کیے گئے۔ لہٰذا اس نظم کے پڑھنے سے حوصلہ بلند ہوتا ہے قوت عمل میں تازگی آتی ہے۔ جو ش و ہمت کو تقویت پہنچتی ہے۔ عظیم الشان کارنامے اس حسن ترتیب سے جمع کر دیے گئے ہیں کہ موجودہ پست حالی کی بجائے صرف عظمت و برتری ہی سامنے رہتی ہے۔ گویا یہ شکوہ بھی ہے اور ساتھ ہی بہترین دعوت عمل بھی۔ اس لحاظ سے اردو زبان میں یہ اپنی نوعیت کی بالکل یگانہ نظم ہے۔ بقول تاثیر”شکوہ لکھا گیا تو اس انداز پر سینکڑوں نظمیں لکھی گئیں ملائوں نے تکفیر کے فتوے لگائے اور شاعروں نے شکوہ کے جواب لکھے لیکن شکوہ کا درست جواب خود اقبال ہی نے دیا۔“Read more »

پاکستان کی سلامتی , ترقی اور ہمارا کردار What can we don for Pakistan?



پاکستان کی سلامتی , ترقی اور ہمارا کردار:  مختصر تجزیہ، آپشنز اور قابل عمل تجویز 》》》
By Brig Aftab Khan (r)

ووٹ کی شرعی حیثیت اور تبدیلی کی خواہش



<<Translate to English>>

آج کی دنیا میں اسمبلیوں، کونسلوں، میونسپل وارڈوں اور دوسری مجالس اورجماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے کہ زور و زر اور غنڈا گردی کے سارے طاغوتی وسائل کا استعمال کرکے یہ چند روزہ موہوم اعزازا حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے عالم سوز نتائج ہروقت آنکھوں کے سامنے ہیں اور ملک و ملّت کے ہمدرد و سمجھ دار انسان اپنے مقدور بھر اس کی اصلاح کی فکر میں بھی ہیں،لیکن عام طور پر اس کو ایک ہارجیت کا کھیل اور خالص دنیاوی دھندا سمجھ کر ووٹ لیے اور دیے جاتے ہیں۔ لکھے پڑھے دین دار مسلمانوں کو بھی اس طرف توجہ نہیں ہوتی کہ یہ کھیل صرف ہماری دنیا کے نفع نقصان اور آبادی یا بربادی تک نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے کچھ طاعت و معصیت اور گناہ و ثواب بھی ہے جس کے اثرات اس دنیا کے بعد بھی یا ہمارے گلے کا ہار عذابِ جہنم بنیں گے، یا پھر درجاتِ جنت اور نجاتِ آخرت کا سبب بنیں گے۔

Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Pakistan-Posts  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to ...