Pages
- Home
- FrontPage
- FB
- Delusions
- Save Pakistan
- نظریہ پاکستان
- Electoral Reforms
- ووٹ کی شرعی حیثیت
- Kashmir
- Importance of Pakistan
- Love Pakistan
- Ideology of Pakistan نظریہ پاکستان
- Our Dilemma & Options
- Pak-Pedia
- One God
- Why Religion?
- Why Islam?
- Peace Forum
- Anti Islam FAQs
- Democracy, Shari'a & Khlafah
- Free eBooks
- Faith Forum
- خلافت
- Corruption
- Role of Ulema in Quran
- Reconstruction of Religious Thought
- Tolerance
- Altaf Qamar
- صرف مسلمان Muslim Only
- Free Books
- Islam & Pakistan
- Special Picks
- سلام انڈکس
Featured Post
FrontPage صفحہ اول
Salaam Pakistan is one of projects of "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...
Ideological Confusion - نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل
کرپشن… اُمّ الخبائث
Why Prime Minister should be Honest and Trustworthy?
IF voters wanted the same kind of scrutiny for electoral candidates that their would-be domestic help is subjected to, we would end up with honest and competent prime ministers.
by Idrees Khawaja, dawn.com, The writer is associated with Air University and the Pakistan Institute of Development Economics, Islamabad. idreespide1@gmail.com , Twitter: @khawajaidrees11
https://www.dawn.com/news/1349836/pm-has-your-cash
اجڑنا ریس کورس لاہور کا- الطاف قمر انسپکٹر جنرل پولیس (ر)
| Follow @AftabKhanNet | Facebook Page |
|
Valentine’s Day Pagan roots: Catholic & Muslim views [English & Urdu]
Misunderstood Concept of sin & forgiveness
رمضان اور تصورِ مذہب
رمضان کا آغاز ہو چکا۔اس کے مظاہر ہمیں مساجد میں نظر آئیں گے یا پھرکچوریوں اور سموسوں کے لیے، دکانوں کے سامنے لگی لمبی قطاروں میں۔اس کا ظہور ہو گا مگر صرف کلچر کی سطح پر۔روزے کا مقصود تقویٰ ہے۔ کیا تقویٰ یہی کچھ ہے؟
رمضان کی دستک سنائی دیتی ہے تو گرانی بازاروں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔عام آ دمی اس طرف کا رخ کرتے ہوئے گھبرا تا ہے۔جیسے جیسے رمضان کے دن قریب آتے ہیں،کھانے پینے کی اشیاء عوام کی پہنچ سے دور بھاگنے لگتی ہیں۔قیمتیں جیسے آ سمان کو چھوناچاہتی ہیں۔جوتاجر اس کا ذمہ دار ہے، نماز ِ تراویح کے لیے سب سے پہلی صف میں بیٹھا ہو تا ہے۔مسجد کے لیے چندہ بھی وہی سب سے زیادہ دیتا ہے۔ مدارس اسی کے دم سے آ باد ہیں۔وہ جب مسجد سے نکلتا ہے تواس کا رخ دین سے دنیا کی طرف ہو تا ہے۔وہ دکان میں بیٹھتا ہے تو اس کی نظر صرف منافع پر ہو تی ہے۔اس کی خواہش ہوتی ہے کہ سال بھر کی آ مدن اس ایک مہینے میں ہو جا ئے۔کبھی آپ نے سوچا ایسا کیوں ہو تا ہے؟
اس کا تعلق ہمارے تصور مذہب سے ہے۔اہلِ مذہب نے اس تاجر کو کچھ مصدقہ کچھ غیر مصدقہ باتیںیاد کرا دی ہیں۔ان سے وہ یہ سیکھتاہے کہ نجات کے لیے یہ لازم نہیں کہ انسان زندگی کے ہر روپ میں اور ہر دن مسلمان ہو۔وہ اگرتمام عمر میںنیکی کا کوئی ایک کام کر دیتا ہے تو یہ اس کی بخشش کے لیے کا فی ہے۔مثال کے طور پر اگراس نے اپنے ایک بچے کو قرآن مجید حفظ کرا دیا تو قیامت کے روز نہ صرف اس کی نجات ہو جا ئے گی بلکہ اسے سونے کا تاج بھی پہنا یا جا ئے گا۔یا جس نے مسجد میں ایک اینٹ لگائی، جنت میں اس کا محل بن جا ئے گا۔یہ سب باتیں، اسے مسجد کا امام اور مدرسے کا مہتمم سنا تا ہے۔اس طرح وہ یہ سمجھ لیتا ہے اس کے بعد اب وہ آزاد ہے، چاہے تو نا جائز منا فع کمائے چاہے توگناہ کا کوئی اور کام کرے۔اب وہ ایک بچہ مدرسے کے حوالے کر دیتا اور یہ خیال کرتاہے کہ بخشش کا سامان ہو گیا۔اس کا دوہرا فائدہ ہے۔ مدرسے اور تاجر کا کاروبار دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ تاجر مطمئن ہے کہ اس نے اپنی نجات کا اہتمام کر لیا۔اس وقت اگر ہمارے مدارس کا نظام قائم ہے تو اسی تاجر کے دم سے۔
مسجد کی تعمیر میں حصہ لینا بلا شبہ نیکی ہے اور اس کا اجر بھی ہے۔اسی طرح بچوں کو حافظِ قرآن بنا نا بھی نیکی ہے۔لیکن یہ نیکی کرنے کے بعد بھی،ایک انسان اپنے اعمال کے لیے اسی طرح جواب دہ رہتا ہے جس طرح وہ آدمی جس نے اپنے بیٹے کو حافظ نہیں بنا یا۔اگر وہ ناجائز منافع کماتا ہے تو اسے اس جرم کی سزا بھگتنی ہے۔قر آن مجید اس بارے میں دو اور دو چار کی طرح واضح ہے۔ اللہ کے آ خری رسول ﷺ نے بھی یہ بات سمجھا نے میںکوئی کمی نہیں چھوڑی۔ہمارے محدثین نے روایت کو پرکھنے کے باب میں یہ اصول بتا دیا کہ اگر کسی روایت میں ایک چھوٹی نیکی کا بڑا اجر یا کسی چھوٹے جرم کی بڑی سزا بتائی گئی ہے تو وہ مو ضوع ہے۔یعنی گھڑی ہوئی ہے۔ نیکیوں کے درجات ہیں اور برائیوں کے بھی۔ ایک بات البتہ واضح ہے۔اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیںکہ انسان تادمِ مرگ اللہ کا بندہ بن کر جئے۔ اس کے ذمہ کچھ فرائض ہیں جو اس نے بہر صورت ادا کرنے ہیں، جیسے نماز۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک آ دمی نماز نہ پڑھے اور یہ خیال کرے کہ چو نکہ اس نے بیٹے کو حافظ بنا دیا ہے، اس لیے قیامت کے روز سونے کا تاج اس کا حق ہو گیا۔ ایک شخص ایک کاروبار کرتے وقت کسی اخلاقی ضابطے کو کام میں نہ لائے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ اس طر ح حا صل کی گئی دولت سے وہ رمضان دستر خوان سجا دے تو اس کی بخشش کا سامان ہو جا ئے گا۔ وہ ناجائز طریقے سے پانچ کروڑ کمائے اور پھر ایک کروڑ غریبوں پر خرچ کر کے یہ گمان کرے کہ یہ ناجائز کمائی اب جائز ہو گئی ہے۔اس نے انسانوں پر جو ظلم کیا، اس کی تلافی ہوگئی ہے۔
بد قسمتی سے اس وقت غالب تصورِ دین یہی ہے۔ایک تاجر رمضان کے مہینے میں ناجائز منافع خوری سے دو لاکھ کماتا اور پھر مسجد میں دینی تقریب کے لیے دو ہزار دے کر یہ خیال کرتا ہے کہ اس نے لوگوں کو لوٹنے کا جو جرم کیا تھا، اب معاف ہو جا ئے گا۔افسو س لوگ اس دینی بصیرت سے صرفِ نظر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حقوق کے معاملے میں بہت حساس ہے۔ اللہ کی شریعت حقوق اللہ کی پامالی کو گناہ کہتی ہے لیکن جرم نہیں‘ کہ دنیا کے نظامِ تعزیرات میں اس کے لیے کوئی سزا لکھ دی گئی ہو۔ حقوق العباد کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ اگر کسی انسان کا حق پامال ہوا تو وہ گناہ بھی ہے اور جرم بھی۔ گویادنیا میں سزا ملے گی اور آ خرت میں بھی۔پھر یہ بھی ہے کہ حقوق اللہ کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی ہو جا ئے تو اس کی تلافی اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی ہے۔روزہ اللہ کا حق ہے۔ اگر چھوٹ جا ئے تو اللہ کا حکم ہے کہ ساٹھ غریبوں کو کھا نا کھلا دیا جائے۔جب غلامی کا نظام مو جود تھا تو اللہ تعالیٰ نے غلام کو آ زاد کرانے کو بہت سی کوتاہیوں کے لیے تلافی بنا دیا۔
ہم نے دین کے باب میں ترتیب کو الٹ دیا۔قرآن مجید کو روایت اور فقہ پر حاکم ہوناچاہیے تھا۔ ہم نے روایت اور فقہ کوقرآن پر حاکم بنا دیا۔ حقوق اللہ کی تلافی بندوں کی خدمت میں تھی، ہم نے حقوق العباد کی تلافی دوسری نیکیوں میں تلاش کر نا چاہی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب اپنی روح سے خالی ہو گیا۔اکثریت کے لیے وہ چند رسوم کا مجموعہ ہے یا چند غلط فہمیوں کا۔ایک بڑی غلط فہمی کا میں نے ذکر کر دیا جو رمضان کے ساتھ ہے۔غور کیجیے تو ایسی کئی غلط فہمیاں ہیں جو ہماری زندگی کا احاطہ کئے ہو ئے ہیں۔لوگ مذہب سے الگ نہیں ہو نا چاہتے لیکن خواہش یہ رکھتے ہیں کہ وہ ان کی ضروریات، تعصبات یا خواہشات کے تابع ہو جائے۔یوں مذہب کے نام پر ایسی ایسی تعبیرات معاشرے میں مقبول ہونے لگتی ہیں جن میں سب کچھ ہو تاہے لیکن مذہب نہیں۔' ،مذہبی شخصیت‘ ہر چیز کا سراغ دیتی ہے لیکن نہیں دیتی تو پروردگار کا۔
یہ صرف پاکستان کا معاملہ نہیں، ہم مسلمانوں کا عالمگیر مسئلہ ہے۔شریعت و طریقت سے لے کرشریعت و آئین کی بحث تک،تصورِ جہاد سے تصورِ عبادت تک،مذہب تفہیمِ نو کا متقاضی ہے۔ وہ تفہیم جو قرآن مجید اور اسوۂ پیغمبر کی گہری بصیرت سے پھو ٹتی اور روحِ عصر کے مطالبات کو جانتی ہو۔رمضان میں دینی درس کے حلقے متحرک ہو جا تے ہیں۔کاش اس کا اہتمام ہو کہ یہ غورو فکر کے حلقے بن جا ئیںاوردین کے باب میں پھیلی غلط فہمیوں کا کسی حد تک ازالہ ہو۔رمضان میں لوگ یہی جان لیں کہ ناجائز منافع کمانا جرم ہے۔ یہ اللہ کے بندوں کے ساتھ ظلم ہے۔اس کی تلافی مدرسے کو چندہ دینے سے نہیں ہو سکتی۔
Khursheed Nadeem dunya.com.pk
Main task of of Ulema, Islamic Scholars lalid down by Quran
لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت یا حکومت و سیاست ؟
What is the Role of Islamic Scholars in Society, according to Quran?
Preaching and Teaching Islam or Power Politics?
If some one is pious and religious but does not know driving, no one will take a chance to travel in the bus driven by such a person, as it will risk the life. The piety and religious knowledge is not sufficient for safe driving. Politics and running government is the job of people expert in this field. One is required to deal with many internal and external forces, to take all people along. Under Chartre of Media Muslims and non Muslims were given equal rights. Traveling in a bus driven by inexperienced driver or government by no political simple devoted people involves risks, risk of life, it could be like committing suicide, forbidden in Islam:
الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
(122:9 سورة التوبة)
Please read explanation of this verse by Molana Abu Ala Modudi <<here>>
Prophet Muhammad (pbuh) preached Islam, migrated to Medina, he did not grab power by force, people accepted him as their spiritual and political leader due to his strong character and qualities.
Present day Muslim societies need Dawah to know and practice true teachings of Islam. If scholars leave this primary task, who will reform society? No amount of jugelary of words and explanation can change the clear meanings of Quran 9:122.
[Short link to this post: http://goo.gl/qBZFHk]
وہ سمجھتے ہیں کہ وہحضرت عمر ، ابوبکر ، عثمان یا علی رضی الله کی طرح ہیں .
امام ابو حنیفہ ما لک ، حمبل، شافی نے علماء کے کردار کا عملی نمونہ پیش کیا ہے ایک ایسا انسان جو بہت نیک پرہیز گار ہو مگر ڈرائیونگ سے نہ واقف ہو اس کو ایسی بس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا دیں جو مشکل دشوار پہاڑی راستے پر رہی ہو تو یہ خود کشی نہیں تو اور کیا ہے . اپنی نیکی اور اسلام علم کے باوجود ہم کبھی خطرہ مول نہیں لیں گے
معصوم عوام کی جان اور اپنے آپ ہلاکت میں ڈالنا خود کشی کی مانند ہے.
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ
اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو
قرآن ٢:١٩٥
وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ
اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو
قرآن ٤: ٢٩
Nor kill (or destroy) yourselves
کچھ لوگمذہب دین اسلام کی الٹی تاویلیں کر کہ سیاست میں ہیں اور کچھ انتہا پسندی اور دہشت گردی قتل و غارت تباہی میں مشغول ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں .اسلام مین علماء کی زمداری واضح طور پر مقرر کر دی گی ہے . ان کا کام ہے د ین اسلام کی تعلیم دینا اور اسلام کی دعوت، تبلیغ کرنا
کر دیا . یہ بہت بڑی بات ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے ؟
. آج ہماری سوسائٹی کو دین کو سمجھنے کی جتنی ضرورت ہے شائد کبھی پہلے نہ تھی سوسائٹی مذہب سے دور ہے عبادت پر زور ہے مگر اسلام کی روح اعلی اخلاق اور انسانیت کی اقدار سے دور ہیں . علماء کو چاہیے سوسائٹی کی اخلاقی مذہبی تربیت اور تعلیم دعوه پر توجیہ دیں . مگر افسوس علماء نے اس کا م کو چھوڑ کر سیاست اور حکومت طاقت حاصل کرنے کو اپنا مقصد بنا لیا ہے .ان میں کچھ لوگ اچھی نیت رکھتے ہیں مگر نتیجہ ظاہر ہے . اگر کوئی ڈاکٹر اپنا کم چھوڑ کر انجینرنگ کا کم کرے تو نتیجہ ہم کو معلوم ہے . اگر سوسائٹی کی دینی تعلیم و تربیت درست ہو تو ہم کو اچھے سیاست دن اچھے حکمران اچھے تاجر اچھے پولیس الغرض ہر شعبے میں اچھے لوگ مل جیئں گے
. پیارے نبی محمد صل الله وسلم کی زندگی
ہمارے سامنے مثال ہے پہلے تبلیغ دعوه سے سو سا ٹی کو تیار کیا .
مدینہ والوں نے آپ کو اپنا دینی و سیاسی لیڈر حکمران مان لیا آپ نے اقتدارپرزبر
دستی طاقت سے قبضہ نہ کیا
الله سبحان تعالیٰ نے علماء کا کام اور ذمداری بیان کر دی ہے
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي
الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
(122:9 سورة التوبة)
اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ (غیر مسلمانہ روش سے) پرہیز کرتے
ؤ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو او ر میرے غضب سے بچوباطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو
(قرآن٤٢- ٢:٤١)
تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟
(قرآن٢:٤٤)
ایک اور پواینٹ "اسلام مذہب نہیں بلکہ دین " ہے جو انسانی زندگی کے تمام . معاملات میں رہنمائی کرتا ہے. سیاست دین سےعلیحدہ نہیں سکتی
بلکل درست اسلام دین ہے مگر یہ نہیں کی اسلام ملا ہے علماءاسلام میں ہیں اسلام ملا میں نہیں . اسلام وسیع ہے اسلام مسلمان کی زندگی میں ہے سیاست میں بھی. ایک مسلم سیاست دان اچھا مسلم تو اچھے کام گا. قرآن علماء کی بنیادی ذمہ داری بیان کرتا ہے اگر وہ یہ کم کرلیں تو کافی ہے اچھے مسلمان اچھے سیاستدان خود گندے کھیل میں شامل ہو کر اپنا اصل کام چھوڑ دینا درست نہیں
اگر سیاست میں حصہ لینا ہے تو شوق سے لیں مگر دین اسلام کی اڑ میں نہیں اپنے عالم ھونے پر ووٹ کے لیے بھیک نہ مانگیں اپنے کردار سے اہل ثابت کر کہ شوق سے اقتدار میں آیئں وعدہ کریں پورا کریں
علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں . یہ ایک بد دیانتی اور اسلام پر ظلم ہے
اسلامی ملک میں زیادہ مسلمان ہیں کون اچھا بہتر مسلمان ہے الله جانتا ہے اپنے آپ کو قاضی مت بنیں جو کچھ سامنے ہے اس پر اکتفا کریں
موددی صاحب نے جماعت اسلامی کو سیاسی جماعت بنایا تو ان کے کچھ ساتھیوں نے اختلاف کیا اور جماعت سے علیحدہ ہو گئے [ Machi goth 1956] انہوں نے کفر نہیں کیا آج وقت نے سا بت کیا کہ ووھہ درست تھے مودودی صاحب بھی اپنے اس اقدام پر شاید پچھتا تے ہوں
Abdul Fattah al-Sisi: New face of Egypt's old guard
http://peaceforumnet.blogspot.com/2014/03/abdul-fattah-al-sisi-new-face-of-egypts.html
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
Our Prophet warned the Ummah that knowledge would be extinguished from the earth and that people would be misled by ignorant leaders and so-called scholars. Abdul-Allah b. Umar (ra) reported the Prophet saying: ”Allah will not cause extinction of knowledge by taking it away from the servants, but He will cause extinction of knowledge by taking away the learned ones. When no learned man remains, the people will then take the illiterate as their leaders. They will seek religious verdicts from them and they will deliver those verdicts without knowledge and the people will go astray and lead each other into error.” Bukhari and Muslim.
http://goo.gl/Z58Kld
http://www.youtube.com/watch?v=o_uMc_4Q2ck
The future of the political Islam - YouTube
www.youtube.com/watch?v=mnhYntMOUFYMar 6, 2014 - Uploaded by Abrar HouseThe future of the political Islam Speaker: Professor Tariq Ramadan* ... in classic Islamic scholarship from Al ...
The Importance of Islamic Knowledge and Scholars part 3 of 4 - YouTube
www.youtube.com/watch?v=g38dEfnobGIApr 21, 2012 - Uploaded by AbuSumaya2The Importance of Islamic Knowledge and Scholars part 3 of 4 ... Watch Later Muslim Scholar On The ...
Knowledge and the importance of Islamic Scholars | Imam Shafi Abdul Aziz - YouTube
www.youtube.com/watch?v=V5bCGb8iq6gJun 6, 2012 - Uploaded by Imam Shafi Abdul Azizimportance of scholars. ... Knowledge and the importance of Islamic Scholars | Imam Shafi Abdul Aziz. Imam ...
لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت یا حکومت و سیاست ؟
What is the Role of Islamic Scholars in Society, according to Quran?
Preaching and Teaching Islam or Power Politics?
<<Clck Here>>
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Humanity, Religion, Culture, Ethics, Science, Spirituality & Peace
Peace Forum Network
-
Why is it that the military in Pakistan continues to be above reproach? This is an old question which has only come up for some real dis...
-
ہمارے بڑے سیاست دانوں کی اصلیت کو کتاب " سرمایہ دارانہ نظام کا کمزور پہلو” (“Capitalism’s Achilles Heel” ) بے نقاب کرتی ہے یہ ایک ...
-
آج کی دنیا میں اسمبلیوں، کونسلوں، میونسپل وارڈوں اور دوسری مجالس اور جماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر ج...
-
The echo of rigging in Election 2013 was again in the air in 2018. In 2013 all looser parties claimed that the elections were rigged. PT...
-
For the past few years I have been researching literature written on the life of Pakistan`s founder, Mohammad Ali Jinnah; and also scholarly...
-
Salaam Pakistan is one of projects of "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...
-
The cyclical nature of Islamic history dictated that after a period of weakness and invasion, a new, powerful Muslim empire woul...

