Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

Showing posts with label Social Media. Show all posts
Showing posts with label Social Media. Show all posts

Pakistan; A Secular or Islamic Democratic Republic سیکولر یا اسلامی پاکستان



The debate for Secular Pakistan, will never end because, the history does not support this conflicting ideology of few ... 

The point is very simple... Qaid e Azam was not a hypocrite to exploit the religious feelings of Muslims to create a country,  then show his real intentions... No .. he was not a hypocrite... but was a democrat...

As a democrats one has to respect the feelings of majority... The will of people is reflected through votes.  All the constituent assemblies unanimously adopted Objective Resolution in Constitution of Pakistan.. which remains there in every constitution ... (Should we asdume that the People changed their mind from Secular to Islamic Pakistan?)

However if people change their mind  and expunge it through constitutional amendment,  no one,  even founder of this country could do anything even if he was alive.. I don't see this happening in foreseeable future ..

Now is the time to move forward and make efforts for a modern democratic Islamic Republic of Pakistan.. not a Sectarian Theocracy or Secular. We are moving in same direction,  people reject  #Sectarianism  #Secularism and #Extremism, but lot is yet to be done ... 

Let's move forward without digging out settled issues 🌹 
#Pakistan #Islam #Muslims

Quran on Law

Those who do not judge by what God has sent down have been declared as Kafir, wrongdoers! rebellious (Quran 5:44-47)

Social media سوشل میڈیا



اوجِ کمال بھی اس کے لیے چھوٹا لفظ ہے ، وہ کمال جو سوشل میڈیا نے کر دکھایا۔ آج پاکستان ہی کے نہیں بڑے بڑے عالمی تجزیہ کار اور سیاسی فتویٰ باز بھی سوشل میڈیا کے نام سے کانپ اٹھتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے مغرب میں اپنی تاریخ کا سب سے بڑا معجزہ بھی اسی سال برپا کیا جس کے سامنے وکی لیکس بھی ہیچ ہیں ، میری مراد اسرائیل کی غزہ پر حالیہ بربریت سے ہے ۔ سکائی نیوز، فاکس، بی بی سی اور سی این این سمیت مغرب کے بڑے میڈیا ہاؤسز نے ہمیشہ اسرائیل کے جنگی جرائم کو سینسر کیا۔ سوشل میڈیا کے دلیرانہ کردار سے پہلے فلسطینیوں پر ہر حملے میں اسرائیل جو واردات چاہتاکرگزرتا،اسے پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔ مجھے برطانیہ کے عالمی شہرت یافتہ تجزیہ نگار نے بتایا، اگر اسرائیل کے موقف کے خلاف ہلکی سی خبر یا کوئی بے ضرر تصویر چل جاتی تو پوری دنیا کے یہودی فون ، تار(hate mail) کے ذریعینفرت انگیز ردِ عمل کا اظہار کر کے عالمی میڈیا منیجروں کے گھٹنے ٹکواکر ناک سے لکیریں کھچواتے تھے۔
غزہ کے شہیدوں کا خونِ مسلسل رنگ لایا۔ سوشل میڈیا نے اس جنگ میں پروپیگنڈے اور ہمدردی کے عالمی محاذ پر اسرائیل کو شکست دے دی ۔ ثبوت یہ ہیں:
1۔ سویڈش وزیراعظم نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایسا اعلان کیا جس نے اسرائیل کے مغربی حامیوں کے چھکے چھڑا دیے۔ Stephon Lofve نے کہا: فلسطین کامسئلہ حل کرنے کے لیے سویڈن بہت جلد خودمختار فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔ سوشل میڈیا کی سینسر شپ ماورا دنیا کی ایجاد سے پہلے کسی گورے ملک کے گورے وزیراعظم کی گوری پارلیمنٹ میں ایسے اعلان کا خواب بھی نہیں دیکھاجاسکتا تھا۔
2۔ سوشل میڈیا کی بدولت آج دنیا کے بہت سے ملکوں میں اسرائیل کے جنگی جرائم کو عالمی فوجداری عدالت میں اٹھانے کے لیے با اثر آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔
3۔ غزہ جارحیت کے بعد کرہ ارض کے گورے براعظموں میں فلسطینیوںکی حمایت میں تاریخی جلوس نکلے۔ ان میں مغربی رائے عامہ کے لیڈروں ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور نوجوان شرکاء کی تعداد عرب و عجم کے مسلمانوں سے ہزاروں نہیں لاکھوں گُنا زیادہ رہی۔
4 ۔ پوری دنیا کے صہیونی جَتھے اکٹھے ہوکر بھی اسرائیل کی ننگی جارحیت کے حق میں قابلِ ذکر دباؤ پیدا کر سکے نہ انہیںکہیں پذیرائی ملی۔ 
سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں سرمایہ داری نظامِ کے خلاف احتجاج کی دیوارِ چین کھڑی کی۔ ہمارے بادشاہوں اور ان کے میر منشیوں کے لیے مائی باپ کا درجہ رکھنے والے آئی ایم ایف کے ہر اجلاس کا گھیراؤ ہوتا ہے۔ غریب ملکوںکا خون چوسنے والی اس عالمی ادارے کی جونکیں جہاں جاتی ہیں سوشل میڈیا وہاں احتجاج منظم کردیتا ہے۔ مغرب میں جوتے مہنگے ہونے کے باوجود اکثر احتجاجوں میں آئی ایم ایف سے'اظہارِ اُلفت‘ کے لیے ان کا استعمال عام ہے۔ عالمی بینک کی کہانی بھی اس سے مختلف نہیں ۔ اس کے ما لیاتی اوراخلاقی سکینڈل ایک طرف، دنیا کے ایسے معاشرے جہاں رائے عامہ منظم ہے وہاں آمروں، بادشاہوں اور شہزادوںکے اس پسندیدہ بینک کی دُرگت بنانے والے رضاکار ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں، جو لاٹھی گولی کی عالمی سرکار سے یوں کہتے ہیں:
اے خاک نشینو اُٹھ بیٹھو ، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تحت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے 
کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں، سر بھی بہت 
چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے 
دنیامیں تبدیلی کی دو تازہ لہریں اٹھیں۔۔۔۔۔ پہلی Transformation کہلا سکتی ہے، یہ مسلح جدوجہد ہے۔ اس کا آغاز تیونس کی میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں نے کیا۔ جن رشوت خوروں نے غریب کے پڑھے لکھے بچے کو سڑک پر چھابڑی لگانے سے روکا‘ ظالم سماج میں تبدیلی کی آگ سے بھر ے اس نوجوان نے پٹرول چھڑک کر خودکو نذرِ آتش کر دیا۔ پھر یہ لہر مصر سے ہوتی ہوئی لیبیااور شام پہنچی ۔اس کا تازہ چہرہ داعش ہے۔ دوسری لہر Transition سوسائٹی کا ارتقاء ہے۔ مسلم ممالک کے اقتدار پر قابض دولت کے پجاری بزدل اور لا لچی حکمران اور ٹوڈی بادشاہ اس تبدیلی سے لرز رہے ہیں۔
آہنی دیوار میں قید معاشروںمیں سوشل میڈیا نے نئی نسل میں تبدیلی کے شعلے بلند کیے۔ خلیج کے کچھ ملکوں میں عورت گاڑی نہیں چلا سکتی۔ سعودی یونیورسٹی کے دو طلباء نے 70 ء کی انقلاب آفرین دہائی میں bell fast,one way ticket to the moon ,respoteen والے بینڈ بیٹل کی ایک دھن کی پیروڈی کی ہے۔گانا تھاNo women ,No cry۔ دنیا بھر میں مشہورگانا عورتوں کے خلاف پابندی پہ یوں جوڑا گیا:No women ,No drive۔اس امیچوردُھن نے آٹھ بادشاہتوں میں تھرتھلی مچادی۔ سوشل میڈیا نہ ہوتا تو یہ جوان اپنی پچھلی دو نسلوں کی طرح غلا می کا کلچہ، پابندیوں کے دہی کے ساتھ کھا کھاکر پھولتے رہتے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایک کے بعد دوسری اور پھر تیسری نہ ختم ہونے والی جنگ میں ہر بادشاہ سلامت کلاشنکوف، پیٹرو ڈالر اور جہاز تک جھونک چکے ہیں۔ یہ واردات بھی سوشل میڈیا پر بیٹھے نوجوانوں نے پکڑ لی؛ چنانچہ آج مڈل ایسٹ کا سب سے مقبول ترین تبصرہ یہ ہے: جنگ کے تاجر اپنی خاندانی حکمرانی بچانے کے لیے آگ اور بارود کا کھیل کھیل رہے ہیں تاکہ بڑی طاقتیں اسرائیل کے تحفظ کے نام پر خلیج میں موجود رہیں۔ 
آئیے،کچھ گھر کی خبر لیں! آج کاپاکستان تبدیلی کا آتش فشاں ہے۔ ایک بات کہتا چلوں، فیصلہ اب بھی ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ تبدیلی ارتقاء والی ہو یا فنا (Destruction) والی، تبدیلی بس تبدیلی ہے۔ سٹیٹس کوکے کارندے کوئی کام نہیں کرتے۔ ان کی تعلیم بھی واجبی۔ یہ اپنے گوشواروں اور کاغذاتِ نامزدگی میں روزگارکے خانے میں ''سیاست‘‘ لکھتے ہیں ۔ وہ جلوس کو شر پسندی، نعروں کو بغاوت، جلسے کو جمہوریت دشمنی، ریلی کو آئین شکنی اور دھرنے کو غداری سمجھتے ہیں۔ ان کے چمچوں اورکڑچھوںکا حال مرزا کی صاحباں جیسا ہے جو چاہتی ہے فقیرکی وہ کٹیا جل جائے جس میں دیا روشن رہتا ہے۔گلیاں ویران اور سنسان ہو جائیں تاکہ اس میں ایک طرف صاحباں اور دوسری طرف اس کا یار مرزا گھومتا نظر آئے۔کئی خواتین و حضرات اس ذلت آمیز ندامت کو جمہوری مفاہمت کہتے ہیں۔کچھ بے روزگار بابے 80,80 سال کی عمرکے بعد بھی پاکستان کو مضبوط کرنے کے لیے اس نظام کے ذریعے غریبوں سے ویسی ہی محبت کرتے ہیں جیسا عشق دیمک لکڑی کے ساتھ کرتی ہے۔ ظاہر ہے دیمک کی معشوق لکڑی عشق کی تکمیل پر مٹی بن جاتی ہے۔ زمینی حقیقت تو یہ ہے پاکستان ایک نہیں دو ہیں۔ اب یہ مشرقی اور مغربی پاکستان نہیں بلکہ رعایا کا پاکستان اورمافیازکا پاکستان ہیں۔ رعایا کے لیے ہر روز نیا ٹیکس ہے۔ جگّا اور بھتّہ سے لے کر چولہے اور تعلیم تک ، ہر روز مزید مہنگائی ہے۔پیاز، ٹماٹر ،دھنیا اور شلجم سے لے کر دال اور جوار باجرے تک بڑے کارخانہ دار اور کاروباری مافیاز جو بجلی اورگیس سرکاری اہلکاروں کی مدد سے چوری کرتے ہیں، بل اس کا رعایا ادا کرتی ہے۔ تھانیدار،کوتوال اور چوکیدارکی تنخواہ کے کوڑے رعایاکی پیٹھ پر پڑتے ہیں جبکہ حفاظت مافیازکی ہوتی ہے۔ ہر شہرکی ہر سڑک کا کچھ نہ کچھ حصہ بند ہے۔ جہاںکوئی نہ کوئی زمینی خدا کالے ناگ کے طور پر ناکہ لگا کر بیٹھا ہے۔ ہرگلی میں نوگو ایریا ہے جہاں داخل ہونے والے خوش قسمت ہوں تو انہیں جوتے پڑتے ہیں‘ بدبخت ہوں توگولیاں ۔ ہر شاہراہ پر بڑی گاڑیاں دندناتی ہیں جو موٹر سائیکل والے کو مکھی اور چھوٹی کار والے کوکیڑا سمجھتے ہیں۔ بارش کے موسم میں یہ اپنی شان اور طاقت کے اظہارکے لیے پانی کے جوہڑ سے فراٹے بھرکرگزرتے ہیں۔ سکول کے بچے اورکالج کی لڑکیاں جب کیچڑ اورگند سے منہ صاف کرتے ہیں تو انہیں گاڑی چلانے کا مزہ آ جاتا ہے۔ زیادہ زمین کی ملکیت چند خاندانوں کے پاس ہے۔کچھ جاگیردار کئی کئی لاکھ مربع زمین کے مالک بھی ہیں۔ ایک مربع میں دو سوکنال ہوتی ہے، ایک کنال میں بیس مرلے ۔ بے زمین کاشتکار ، بے گھر ہاری ، سڑکوں پر سونے والے مزدور اور کچی آبادیوں کے مکین جانتے ہی نہیں کہ زمین یا پلاٹ کی الا ٹمنٹ کا مطلب کیا ہے؟ سوشل میڈیا بغاوت کا نام ہے، بغاوت کے بغیر سماج کبھی نہیں بدلا۔ 
Babar  Awan

Pakistan Enters 3G: A question of scale, speed, reliability

Free%20Books%20%26%20Articles

The long-awaited 3G and 4G Spectrum Auction commenced and closed yesterday, after eight rounds of bidding as a result of which, the Government of Pakistan has managed to successfully raise $1.1 billion.
Out of the four telecom providers competing in this auction, Mobilink, Telenor and Ufone managed to secure 3G licences, where as Zong owned by China Mobile, is the only one to have secured both a 3G and a 4G license.
Third Generation mobile broadband internet providers must offer peek data transfer rates of at least 200kbps apart from meeting technical standards for speed and reliability. This does not mean it’s restricted to that speed; some 3G providers exceed more than 10 times that.


To be able to call them selves Fourth Generation the network provider must offer peak data rates of at least 100Mbps for high mobility communication (users in trains or cars), and at least 1Gbps for low mobile communication (pedestrians and stationary users).
It is a strange thing to note that according to a PEW research report published in February, only 53 per cent of Pakistanis own a cellphone, out of those only 3 per cent are smartphone users.
Given that, there is said to be 180 million of us, all this fuss is essentially over 6 million subscribers.
Since this is still a business venture and telecoms have spent a fortune on putting systems in place to facilitate this technology, in addition to the licenses themselves, what we all do not realise is that billions are intended to be made through just 6 million people. Even if you quadruple those - billions through 24 million, it still does not sound that great.
Tariff plans are sure to be the next cause for concern for the data hungry lot, as with speed improvements there will be a new kind of internet usage, which includes game downloads while using mobile data, multiplayer games being played over mobile internet and not restricting them to Wi-Fi only access points.
Even though these tasks may not be painfully slow, there is no guarantee that they will not be painfully expensive. Personally, the excitement is coupled with anxiety about the scale, speed and reliability of the infrastructure put into place.
Additionally with the availability of third and fourth generation mobile broadband internet, people would want to use more out of their cellphones which may not be entirely possible since there is a lack of services provided in Pakistan.
These application assisted services generally come hand in hand with such speeds like map functionality and speech-based assistance which uses grid systems to guide you to closest Chinese restaurant or list book shops in the area.
By Bilal  Rohi Dawn.com


* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Humanity, Religion, Culture, Ethics, Science, Spirituality & Peace
Peace Forum Network
Over 1,000,000 Visits
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *

Malicious Scandle out of an incidence

سانحے میں سکینڈل
جو لو گ حامد میر کی آڑ لے کر‘پاک فوج کی شہرت پر دھبہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں‘ وہ نہ تو حامدمیر کے دوست ہیں ‘نہ اپنے ادارے کے اور نہ ہی اپنے پروفیشن کے۔ حامد میر کے نام پر جو مہم چلائی جا رہی ہے‘ اس کا ہدف پاک فوج ہے۔ ابھی تک حامد میر کا اپنا موقف سامنے نہیں آیا۔ جہاں تک ان کے بھائی عامر میر کا تعلق ہے‘ ان کا انٹرویو پہلے دن لیا گیا‘ جب وہ شدید صدمے کی حالت میں تھے۔ انہوں نے حامدمیر سے منسوب کرتے ہوئے جو باتیں بتائی ہیں‘ ہر قابل ذکر صحافی کی زندگی میں ایسے مراحل آتے ہیں۔ جب کوئی نہ کوئی ریاستی یا سماجی طاقت اپنے اپنے مقاصد اور مفادات کے تحت صحافیوں پر دبائو ڈالتی ہے۔ کئی بار دھمکیوں پر عمل بھی ہو جاتا ہے اور کئی بار بات ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے معاملات پر صحافی نجی محفلوں یا گھر کے اندر جو بات چیت کرتا ہے‘ اس کی بنیاد وہ معلومات یا اطلاعات ہوتی ہیں‘ جنہیں وہ مصدقہ نہیں سمجھتا اور جس بات پر اسے پورا یقین آ جائے‘ تو وہ اپنی تحریر یا باضابطہ گفتگو میں اس کا اظہار کر دیتا ہے۔حامد میر کے بارے میں یہ سوچنا کہ وہ خبر کی تصدیق ہونے کے بعد خاموش رہ گئے ہوں گے‘ ان کے مزاج کے مطابق نہیں۔ جو شخص برستی گولیوں میں گھس جاتا ہے۔ تشدد اور دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے ہوئے سوات کے اندر جا کر‘ دہشت گردوں کے خلاف جلوس نکال دیتا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کی ناپسندیدہ سرگرمیوں پر کھل کر تنقید کرتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ سوچنا کہ وہ اپنی زندگی کو لاحق خطرے کی صورت میں اس کا اظہار نہیں کرے گا‘ خلاف حقیقت ہے۔
یہاں تو ایسے ایسے صحافی موجود ہیں‘ جو تین میں ہیںنہ تیرہ میں‘ صرف اپنی اہمیت جتانے کے لئے دعوے کرتے رہتے ہیں کہ انہیں کسی ایجنسی کی طرف سے دھمکی ملی ہے۔ آئی ایس آئی کے خلاف خبریں چھاپتے ہیں۔ تبصرے کرتے ہیں۔ اپنی مظلومیت کی داستانیں سناتے ہیں اور دندناتے بھی پھرتے ہیں۔ حامد میر تو عالمی شہرت رکھنے والے صف اول کے صحافی ہیں۔ وہ اگر اپنی زندگی کو لاحق خطرے کی طرف اشارہ بھی کر دیتے‘ تو دنیا بھر کا میڈیا ان کے ساتھ آ کھڑا ہوتا۔ یہ بات ہم سب سے زیادہ آئی ایس آئی کو معلوم ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کی شہرت یافتہ پرائم ایجنسی ایسی بیوقوفی کرے گی اور اگر کرتی بھی‘ تو حامد میر ڈنکے کی چوٹ پر اس کا اظہار کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔ میں ان ریٹائرڈ جنرل حضرات سے متفق ہوں‘ جنہوں نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی جیسی اعلیٰ پیشہ ورانہ شہرت رکھنے والی ایجنسی‘ اس طرح کا بھونڈا اور ناکام آپریشن نہیں کرتی۔ جو لوگ ناکام قاتلانہ حملے کا الزام آئی ایس آئی پر لگارہے ہیں‘ ان کی اپنی معلومات ناقص ہیں۔ جو لوگ یہ ظاہر کرنے میں لگے ہیں کہ آئی ایس آئی انہیں ہراساں کرتی رہی ہے‘ وہ خود اپنی تردید کرتے ہیں۔ صحافی مشکل ہدف نہیں ہوتا۔ دہشت گردوں نے صحافیوں پر جتنے حملے کئے ہیں۔ سب کے سب کامیاب ہوئے۔ کیا آئی ایس آئی نیم تربیت یافتہ دہشت گردوں سے بھی گئی گزری ہے؟ دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں بہت سے کام رازداری کے ساتھ کرتی ہیں۔ ایسے کاموں کی برسوں بلکہ عشروں میں بھی ہوا باہر نہیں نکلتی۔ راز ہمیشہ راز رہتے ہیں۔ جب تک رازداری کی ضرورت ختم نہیں ہوتی‘ خفیہ واقعات منظرعام پر نہیں آتے۔
پاکستان میں عام طور سے آئی ایس پی آر ‘ میڈیا سے رابطے رکھتی ہے۔ اسے صف اول کے تمام کمانڈروں کی طرف سے ایسی معلومات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے‘ جن کی اشاعت قومی مفاد میں ہو۔ بعض حساس مسائل پر میڈیا کے قابل ذکر لوگوں سے آئی ایس آئی براہ راست رابطوں میں رہتی ہے اور انہیں مختلف واقعات کا پس منظر بتا کر‘ توقع کی جاتی ہے کہ وہ پیشہ ورانہ فائدہ ضرور اٹھائیں گے لیکن قومی مفاد کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ دنیا کی کونسی بڑی خفیہ ایجنسی ہے جس کے میڈیا سے رابطے نہیں ہوتے؟ بگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہے‘ جب کوئی فریق حدود سے تجاوز کرنے لگے۔ مثلاً ایجنسی کی طرف سے حساس نوعیت کی معلومات پر میڈیا کو اعتماد میں لیا جائے اور وہ شخص پیشہ ورانہ اصول توڑتے ہوئے‘ ان معلومات کو عام کر دے‘ جو رازداری کی شرط پر دی جاتی ہیں‘ تو یقینا کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن ہر کیس میں ایجنسی کسی صحافی کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ ان دنوں آپ کئی صحافیوں کے بیانات پڑھ اور سن رہے ہوں گے۔ جن میں وہ اپنے ساتھ آئی ایس آئی کی زیادتیوں کی تفصیل بتاتے ہیں۔ درحقیقت وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ آئی ایس آئی کسی نہ کسی وجہ سے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی رہی۔ ایسے لوگ اگر پھر بھی آزادی سے پھر رہے ہیں‘ تو اس کا مطلب ہے کہ آئی ایس آئی نے ناراضی کے باوجود ‘ ان کے
ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی۔آئی ایس آئی میں تینوں فورسز کے ملازمین لائے جاتے ہیں۔وہ دفاعی معاملات کی حساسیت اور رازداری کے اصولوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جب انہیں کسی شخص پر یقین ہو جائے کہ اس کی سرگرمیاں قومی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہیں‘ تو پھر وہ ایک فوجی کی طرح ہی ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ کیا سی آئی اے‘ را‘ موساد اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کے کارندے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر‘ دشمن کے شہروں اور اڈوں میں داخل ہو کر حساس معلومات حاصل نہیں کرتے؟ اگر کوئی صحافی‘ کسی بھی ذریعے سے یہ جان لے کہ کونسا شخص ‘ کہاں پر خفیہ ڈیوٹی انجام دے رہا ہے اور اسے شائع یا نشر کر دے‘ تو کیا اسے معاف کیا جا سکتا ہے؟ کیا پاکستان کی سلامتی اور آزادی سے تعلق رکھنے والی حساس معلومات شائع کی جا سکتی ہیں؟ اور کیا خفیہ ایجنسیوں کے پاس اپنی شکایت عدالتوں میں لے جانے کی گنجائش ہوتی ہے؟انہیں ہر حالت میں اپنی رازداری کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ ایسا کرنے کے لئے‘ قانون کی مدد نہیں لی جا سکتی۔ ایجنسیوں کو کئی بار قانون کی مدد لئے بغیر کچھ کام کرنے پڑتے ہیں۔ دنیا کا ہر ملک‘ ان کے اس حق کو تسلیم کرتا ہے۔ جن اصولوں کا اطلاق عام محکموں پر کیا جاتا ہے‘ دفاعی معاملات میں نہیں کیا جا سکتا۔ ایک غیرمصدقہ الزام عائد کر کے‘ آئی ایس آئی کے سربراہ کی نمایاں تصویر مسلسل دکھانا کسی بھی طرح موزوں نہیں۔ یہ سلوک تو پولیس کے کانسٹیبل کے ساتھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کی پرائم سیکرٹ ایجنسی کے سربراہ کو قاتلانہ حملے میں ملوث کر کے‘ بار بار اس کی تصویر دکھانا انتہائی نامناسب بات ہے۔ دنیا بھر میں خفیہ ایجنسیوں کے افسران اور عملے کی تشہیر نہیں کی جاتی۔ مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی ''را‘‘ کے سربراہ کی تصویر دیکھی ہو اور وہ بھی اس پر ایک فرضی الزام کے ساتھ۔ کوئی قانون‘ کوئی پیشہ ورانہ مجبوری یا اختیار‘ ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم ایک عام شہری پر محض تہمت کی تشہیر کریں۔ عام طور پر خفیہ اداروں کے افسر اور اہلکار اپنی پیشہ ورانہ حیثیت ظاہر نہیں کرتے۔ آپ کو یاد ہو گا کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد میں‘ سی آئی اے کے سٹیشن چیف کا نام ظاہر ہو گیا تھا۔ اسے 24گھنٹے کے اندر اندر واپس بلا لیا گیا۔ خفیہ اداروں میں کام کرنے والوں کے بارے میں اتنی احتیاط برتی جاتی ہے۔
جس نامور صحافی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا‘ اس کا نام لے کر جو الزامات لگائے گئے‘ میں نہیں سمجھتا کہ حامد میر جب تفصیلات معلوم کریں گے تو خود سے منسوب کر کے نشر کی گئی باتوں سے اتفاق بھی کریں گے۔ ہمیں ان کا موقف جاننے کے لئے صحت یاب ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔ چوہدری شجاعت حسین کا یہ بیان قابل توجہ ہے کہ ''وزیراعظم نے اپنے ماتحت ادارے کے سربراہ پر لگے ہوئے الزام کا جواب کیوں نہیں دیا؟‘‘اپنے ماتحت محکموں کی ساکھ اور نیک نامی کو بچانے کی ذمہ داری منتخب قیادت کی ہوتی ہے۔ خاص طور پر خفیہ محکمے کا سربراہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے میڈیا پر نہیں آ سکتا۔ آئی ایس آئی کے تمام عہدیدار‘ اچانک شروع کی گئی مہم پر یقینا حیران ہوئے ہوں گے اور جب ان کے وزیراعظم اور وزیردفاع کی طرف سے دفاع نہ ہوا‘ تو مایوسی پھیلنا فطری امر تھا۔ چیف آف آرمی سٹاف ‘جنرل راحیل شریف نے خود آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر جا کر اپنے ساتھیوں کے حوصلے بڑھائے اور آگے بڑھ کر محکمے کا دفاع کیا۔ کل تین وزیر اچانک حرکت میں آئے۔ وزیردفاع نے ''پیمرا ‘‘میں درخواست جمع کروائی اور چوہدری نثار علی خان اور وزیراطلاعات نے بیانات جاری کئے۔ یہی سب کچھ بروقت ہو جاتا‘ تو فوج کو اپنی ساکھ بچانے کے لئے خود آگے آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بیشک حکومت اور مسلح افواج پر لگائے گئے الزامات‘ اداروں کے لئے تکلیف دہ تھے۔ لیکن میں گزارش کروں گا کہ ردعمل میں اعتدال سے کام لیا جانا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ اس سانحے اور آئی ایس آئی کے خلاف مہم کے جواب میں‘ سخت اقدامات کئے جائیںجیسے کہ آزادی اظہار پر پابندی یا اسی طرح کے دوسرے اقدامات جو میڈیا پر دبائو ڈالنے کا ذریعہ بنیں۔میڈیا نے اپنے قومی اداروں کا بڑھ چڑھ کر دفاع کیا ہے۔جن لوگوں نے صدمے کی حالت میں غیرمتوازن ردعمل ظاہر کیا‘ انہیں بھی نظرانداز کر دینا چاہیے۔البتہ جن افراد نے فوج کے ادارے کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی‘ انہیں تنبیہہ ضرور کرنا چاہیے۔ حامد میر پر قاتلانہ حملے کا سانحہ ایسا نہیں‘ جس میں سے سکینڈل نکالا جاتا۔
By Nazir Naji dunya.com.pk

Social Media for Intelligence gathering, Propaganda and Crime control by Police

We have commonly seen that in developing societies the institution of the police lacks the initiative to make optimum use of technology and social media.

Extremist groups fight simultaneously at the physical level and on cyberspace. To execute their immediate agenda and launch attacks, the terrorists make use of physical space, sometimes for a few hours, or a few minutes.

However, in order to wage a psychological war they ensure their continuous presence on social networking sites. The proliferation and effects of such sites have generated a new debate on how to counter their presence and ensure surveillance of social networking sites.

Referring to the Rawalpindi incident on Muharram 10, the Punjab law minister condemned the negative use of social media. There is an impression that social media fanned the flames of hatred after the incident.

An example from India would be useful in this regard.

In September, hate-inciting, fake YouTube videos and doctored photographs were used to cause widespread rioting in Muzaffarnagar, UP. Fifty people lost their lives.

To reinforce their influence, extremist groups increasingly rely on social media but our law enforcement and regulatory agencies still don`t know how to tackle the challenge.

Social media can be effective-ly used to bring the police and community on one page. In mega urban centres, apart from the physical presence of the law enforcers, people expect the online presence of the police.

Technology has introduced innovations but also added to the existing challenges facing law enforcement officers. At the other, end, extremists have easily moved from websites to more active social media.

Recently in Nairobi, militants attacking a shopping mall used social media to claim responsibility.

The Syrian Electronic Army, a group of computer hackers, has resurfaced with a different account after their previous one was suspended by Twitter. Misuse of social media for furthering its mission has resulted in a global debate on how to regulate unbridled social media sites.

Social media has enabled protesters to quickly organise and communicate with each other. To keep the protesters under control, police must know how to monitor these types of communications. Further, social media sites are also helpful in identifying witnesses, victims and perpetrators.

Police need to learn quickly about social media to keep pace. Many police forces around the world have started to use it for engagement, intelligence and investigation, and often release pictures or videos of wanted criminal and terrorist suspects on their websites.

The websites of police departments in Pakistan, on the contrary, are neither public friendly nor interactive.

This is a pity as police websites could help in the introductionof e-policing in urban areas.

In the case of emergencies, sites such as Twitter and Facebook are effective ways to disseminate crime alerts, investigation updates, safety alerts and to counter propaganda.

According to a study conducted by the International Association of Chiefs of Police, `81pc of 728 [US police] departments surveyed said they used social networking`.

To detect criminal activities many countries have equipped and empowered law enforcement agencies to monitor social media. To identify rioters in the 2011 riots, the London Metropolitan Police used social media during the investigation process. Help was taken from the extensive CCTV network that captured images of the rioters and these images were posted online with an appeal to the public to identify the suspects.

On the eve of mega events like the G20 conference and London Olympics, the London police monitored sites using Radian 6 and Repknight software. During the Olympics, the police monitored 32 million social media articles and 10,300 tweets.

At home, in the age of mass communication, our law-enforcement agencies lack clearly defined media policies. In the absence of such policies, police are facing persistent and blatant bashing on the media.

Communication is important for effective policing.

Gone are the days when police officers seeking information depended solely on khuli kutcheris or `open courts` and touring villages. Traditional methods can be retained but social media would be a critical addition to the current means of policing. Increasedpublic say and interaction will automatically help improve relations between the law enforcers and the community.

Social media sites have proved helpful in the collection of evidence. It has also helped identify the location of suspects. Several criminal cases have been cracked thanks partially to social media, as police kept tabs on suspects, the less sophisticated of whom bragged about their exploits and updated their pages naming the people and places they had visited.

According to the findings of a four-year study comparing the effects of social media and radical ideology, social networks were the major drivers behind the evolving of violent extremists. More than 100 current and former extremists were interviewed for the study, which found that social media enabled people to develop associations with extremists and terrorist groups.

Says Greg Barton, the director of Australia`s Monash University`s Global Terror Research Centre, `Terrorists and radicals are often lonely individuals who lack any sense of belonging`. Consequently, those with such inclination are easily trapped by extremist organisations often through social media.

Many websites in Pakistan inject extremism, and there`s no reason why the police should not counter this negative narrative through the same means by promoting deradicalisation via social media.

In other words, social media can be effectively used for peace.• The writer is a deputy inspector general of the police.
http://epaper.dawn.com/DetailImage.php?StoryImage=24_11_2013_009_007
alibabakhel@hotmail.com
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Social Media “Tactical Intelligence Collection”: Spying and Propaganda using Facebook, Twitter

This path-breaking article was first published by GR in February 2012.
new study by the Mediterranean Council for Intelligence Studies’ (MCIS) 2012 Intelligence Studies Yearbook points to the use of social media as “the new cutting edge in open-source tactical intelligence collection”. IntelNews.org’s Joseph Fitsanakis, who co-authored the study, reports:
We explain that Facebook, Twitter, YouTube, and a host of other social networking platforms are increasingly viewed by intelligence agencies as invaluable channels ofinformation acquisition. We base our findings on three recent case studies, which we believe highlight the intelligence function of social networking. (Joseph Fitsanakis, Research: Spies increasingly using Facebook, Twitter to gather data, intelNews.org, February 13, 2012)
What the study fails to mention, however, is the use of social media by intelligence agencies for other purposes. The study leads us to believe that social media is solely an intelligence gathering tool, when in fact, a number of reports have shown that it is used for propaganda including the creation of fake identities in support of covert operations. Those practices are discussed in Army of Fake Social Media Friends to Promote PropagandaSocial Media: Air Force ordered software to manage army of Fake Virtual People and Pentagon Seeks to Manipulate Social Media for Propaganda Purposes, published on Global Research in 2011.
The MCIS study is partly based on the “Arab Spring” framework which allegedly “prompted the US government to begin developing guidelines for culling intelligence from social media networks”. (Ibid.)
Again, this leaves out the fact that the U.S. Government provides “activist training” to foreign nationals to destabilize their country of origin. This tactic is detailed in Tony Cartalucci’s latest article,Egypt: US-funded Agitators on Trial: US “Democracy Promotion” = Foreign-funded Sedition.
“Cyber dissidence” is sponsored among others by CIA-linked Freedom House. The First of The Bush Institute’s Human Freedom Events, Co-Sponsored by Freedom House was titled “The Conference on Cyber Dissidents: Global Successes and Challenges”.
The Conference on Cyber Dissidents highlighted the work, methods, courage and achievements of its eight dissident guest speakers, from seven nations. Five of these nations are places where freedom has been extinguished (all rated “not free” by Freedom House): China, Cuba, Iran, Syria, and Russia. Two others are places where freedom is in peril (both rated “partly free” by Freedom House) because of an authoritarian government accumulating more power, as in Venezuela, or because of the threat of internal terrorist groups, as in Colombia. (The Conference on Cyber Dissidents: Global Successes and Challenges, The George W. Bush Presidential Center)
Countries where “freedom has been extinguished” and which are U.S. allies, such as Bahrain or Saudi Arabia, are not listed above. The only U.S. ally listed is Colombia and its freedom is said to be threatened by terrorist groups, rather than by its governement. It is worth noting that the Colombian government has been accused of spying on its journalists and the Inter-American Commission on Human Rights (IACHR) says freedom of expression ‘barely exists’ in Colombia.
The goal of “activist training” by U.S. NGOs is to destabilize America’s political enemies in the name of freedom. “Cyber dissidence” is in turn used by intelligence agencies for covert operations.
http://www.globalresearch.ca/social-media-tactical-intelligence-collection-spying-and-propaganda-using-facebook-twitter/29288


کھلا خط پاکستان کے نام
پاکستان کی ترقی ، خوشحالی اور امن کے لییے کچھ بنیادی معاملات طے کرنا ضروری ھیں. اس وقت پاکستانی سوسائٹی فکری طورپرتین بڑے حصوں تقسیم ہو چکا ہے : ایک طرف  "اشرافیہ , لبرل طبقہ"   دوسری طرف "خاموش اکثریت" ؛ تیسری طرف "مذہبی  شدت پسند دہشت گرد اور ان کے ہمدرد". ایسے حالات میں ضروری ہے کہ کنفیوژن کو دور کیا جائے تاکہ اکثریت ایک نقطہ نظر پر متفق ہو  جائے. اور پھر تمام توانایوں کو مرکوز کرکہ عظیم مقاصد ، امن . خوشحالی . ترقی کی طرف رواں دواں ہوں. اگر ہم کچھ بنیادی سوالات کا جواب موجودہ تناظرمیں قرآن سنت کی  روشنی میں معلوم کر لیں. ان پر قومی مباحثہ ہو جس میں میڈیا ، دانشور ، مذہبی سکالرز علماء ، سیاسی مفکرین ، سول سوسائٹی ، فوجی ماہرین ،  قانون ، خارجہ امور کے ماہرین اور تمام دوسرے متعلقہ ماہرین  اور عوام حصہ لیں . پھر جس پر سب یا اکثریت متفق ہو ان پر پھر ڈٹ کرعمل کریں تو پاکستان ایک ترقی یافتہ باعزت ملک، قوم  بن سکتا ہے. بنیادی مکالمہ کےسوال درج ذیل ہیں ....
http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/11/pakistan-basic-issues-need-immediate.html
http://goo.gl/W8wiEN 
کھلا خط آپ کے نام، پاکستان کے لیے :
Related:
Free-eBooks: http://goo.gl/2xpiv
Peace-Forum Video Channel: http://goo.gl/GLh75