Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

دین ، سیاست ، شدت پسندی کا رجحان اور قرآن و سنت ؟



توہین قرآن و توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

فرانس اور اسلام فوبیا کے شکار مغربی ممالک میں وقفہ وقفہ سے توہین قرآن، توہین  رسالت صلی اللہ علیہ وسلم، کی جاتی ہے جو دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب ہے۔ ہم پاکستانی مسلمان اس معاملہ میں بہت جذباتی ہیں ، ہونا بھی چاہئیے کہ ہم قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت، احترام  کرتے ہیں۔ حکومت کو عوامی جزبات کے مطابق مزید اعلی ترین سفارتی اقدامات اور کوششیں کرنا چاہیں تاکہ وہ لوگ ان مزموم حرکات سے باز آئیں۔ عوام میں بھی شعور پیدا کریں کہ جزبات کی رو میں بہہ کر قرآن و سنت کے برخلاف اقدامات سے پرہیز کریں۔  سیاسی مزہبی رانماووں اورعوام میں بھی شعور پیدا کریں کہ جزبات کی رو میں بہہ کر قرآن و سنت کے برخلاف فتنہ و فسادی اقدامات سے پرہیز کریں۔

http://pakistan-posts.blogspot.com/2021/04/militant-politics.html |

وارننگ : جو حضرات قرآن کو صرف تلاوت تک محدود کرتے ہیں اور ھدایت ، عمل کے لیے کس دینی رہنما ، مولانا ، یا شخصیت کے احکمات کو ترجیح دیتے ہیں ( یہود و نصاری یہی کرتے ہیں) ، وہ اس تحریر سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے :

 اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ --- ‎﴿٣١﴾‏

"انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں (علماء و مشائخ) کو پروردگار بنا لیا ہے(صرف ان کی بات مانتے ہیں)،--" (قرآن 9:31)

قرآن کی آیات کا انکار کفر ہے: 

هٰذَا هُدًى‌ ‌ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ  ۞ 

یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار  (کفر) کیا  (القرآن - سورۃ نمبر 45 الجاثية، آیت نمبر 11)

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الۡبُكۡمُ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞

یقیناً اللہ کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گُونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (قرآن 8:22)

الله کا فرمان ہے :

اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَـنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِؕ ۞ 

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا (القرآن - سورۃ نمبر 85 البروج، آیت نمبر 10 )

رسول ﷺ کو تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں"  (القرآن 9:128)

اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّ ؕ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا‏ ۞ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ۞ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَيۡرِ مَا اكۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا (القرآن57،58، 33:56)

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو۔ ۞ (القرآن 33:56)

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ (القرآن 33:57)

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچاتے ہیں، انہوں نے بہتان طرازی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا ہے (القرآن 33:58)

رسول ﷺ سے محبت کا تقاضہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات ، احکام کو تسلیم کریں۔ لوگوں کو فرانس میں توہین رسالت کے نام پر آحتجاج سے راستے بند کرکہ، تشدد ، توڑ پھوڑ، گھیراو جلاو، قتل و غارت گری، فتنہ و فساد سے عوام اور رسول اللہ ﷺ کی تکلیف نہ پہنچائیں اورقرآن کے واضح احکام پر عمل کرکہ اللہ اور  رسول اللہ ﷺ سے اپنی سچی محبت کو ثابت کریں جو دوسری سیاسی جماعتوں اور دنیا کے لئیے مثال بنیں .. اگر ایسا نہیں کرتے تو شیطانی نفس کے غلام ، نبی ﷺ کے دشمن قرار پاتے ہیں: 

رسول ﷺ  سے محبت کا تقاضہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات ، احکام کو تسلیم کریں اور ان پر عمل کرکہ اپنی سچی محبت کو ثابت کریں ، دوسروں کے لیے مثال بنیں ..

وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيۡنَ الۡاِنۡسِ وَالۡجِنِّ

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بنا دیے انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین .. (القرآن - سورۃ نمبر 6 الأنعام، آیت نمبر 112)

 رسول ﷺ سے محبت کے دعوے اور قرآن و سنت کی خلاف درزی کرنا کیسے درست عمل ہو سکتا ہے - جس بات اور عمل سے  رسول  ﷺ کو اذیت پہنچتی ہے ووہی عمل کرنا ہے .. یہ محبت ہے یا دشمی ، یا گستاخی, یا جہالت؟

فرانس کا ملعون  صدرجو کہ رسول ﷺ کو اذیت پہنچاتا ہے اور یہی کام جو مسلمان دوسرے طریقہ سے کرے،  تو وہ سوچے کہ فرانس کے  ملعون  صدراور اس شخص میں کیا فرق رہ گیا ہے؟

لَـقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ‏ ۞ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِىَ اللّٰهُ ۖ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ‌ ؕ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ۞

(لوگو) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے ۞ پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو (اے رسول ! ان سے) کہہ دو کہ : میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔۞ (القرآن - سورۃ نمبر 9 التوبة, آیت نمبر 128-129)

"امر بالمعروف نہی عن المنکر"  کا تقاضا ہے کہ ایسے لوگوں کو برائی سے روکنا چاہئیے اپنی استطاعت کے مطابق ۔۔۔ نہ کہ من گھڑت  تاویلوں سے ان کی حمائیت کریں ۔۔۔  

کسی اچھے کام  کے حصول کے لئیے "مقصد اور طریقہ" دونوں ہی قرآن سنت کے مطابق ہوں تو درست ہو سکتا ہے۔ 

اَمْ لَہُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِہِ اللہُ۝۰ۭ﴾(شوریٰ :۲۱)

'' کیا ان لوگوں نے ایسے شریک بنا رکھے ہیں جو ان کے لیے دین کا ایسا طریقہ مقرر کرتے ہیں جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔''

ایک انسان کا قتل انسانیت کا قتل

 اَنَّهٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِى الۡاَرۡضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيۡعًا ؕ وَمَنۡ اَحۡيَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحۡيَا النَّاسَ جَمِيۡعًا ‌ؕ

 "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی" (قرآن 5:32)

فسادی ، فتنہ پرور، دہشت گرد

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ۞ 

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں(القرآن 2:11)

دین اسلام ، حب  رسول اللہ ﷺ خااتم النبیین ،  کے نام پر کچھ لوگ ملک میں فتنہ وفساد ، انارکی پھلا رہے ہیں ۔ ان کی اصل حقیقت کا جائیزہ لیتے ہیں ۔

*انسانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی باتیں زندگانی دنیا میں بھلی لگتیہیں اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ بناتے ہیں حالانکہ وہ بدترین دشمن ہیں  (قرآن 2:204)*

اور جب آپ کے پاس سے نہ پھیرتے ہیں تو زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کھیتیوں اورنسلوں کو برباد کرتے ہیں جب کہ خدا فساد کو پسند نہیں کرتا ہے (2:205)

 جب ان سے کہا جاتاہے کہ تقویٰ الٰہی اختیار کرو تو غرور گناہ کے آڑے آجاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے جہّنم کافی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے (2:206) 

اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اپنے نفس کو مرضی پروردگار کے لئے بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے (2:207)

 ایمان والو! تم سب مکمل طریقہ سے اسلام میں داخل ہوجاؤ اور شیطانی اقدامات کا اتباع نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے (2:208) 

پھر اگر کھلی نشانیوں کے آجانے کے بعد لغزش پیدا ہوجائے تو یاد رکھو کہ خدا سب پر غالب ہے اور صاحبِ حکمت ہے (2:209)

 یہ لوگ اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ابر کے سایہ کے پیچھے عذابِ خدا یا ملائکہ آجائیں اور ہر امر کا فیصلہ ہوجائے اور سارے امور کی بازگشت تو خدا ہی کی طرف ہے  (سورة البقرة:  210)

جانوروں سے بدتر ، بے عقل لوگ

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الۡبُكۡمُ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞

یقیناً اللہ کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گُونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (قرآن 8:22)

لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ( 7۔ الاعراف :179)

 ان کے دل ہیں، لیکن ان سے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں، لیکن ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں یہ چوپائے کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔ یہ لوگ  بیخبر ہیں۔

مسلمان قرآن کی ان آیات پر غور کریں اور عمل کریں ، قرآن کی آیات کا انکار کفر ہے: 

هٰذَا هُدًى‌ ‌ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ  ۞ 

یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار  (کفر) کیا  (القرآن - سورۃ نمبر 45 الجاثية، آیت نمبر 11)

احتجاج سیاسی کلچر کا حصہ ہے جسے تمام سیاسی پارٹیاں اختیار کرتی ہیں، تو دینی معاملہ میں اس پر پابندی کیوں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج کو تسلیم کیا جاتا ہے مگر احتجاج قانون کے دائیرہ میں پرامن ہونا چاہئیے جب احتجاج میں تشدد شامل ہو جائیے جس سے عوام اور کی زندگی اور پراپرٹی کو خطرہ ہو تو ریاست اور قابون حرکت میں آتے ہیں۔  فتنہ و فساد کا خاتمہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ دین کے نام ایسی حرکات کرنا جس کی دین بھی اجازت نہیں دیتا ایک غلط مثال قائیم کرنا ہے۔ بلکہ دین اسلام،  رسول اللہ ﷺ کے نام پر سیاست کرنے والے دوسروں کے لئیے عمدہ مثال قائم کریں نہ کہ منفی۔

سیاسی کلچر 

حکومت کو عوامی جزبات کے مطابق مزید اعلی ترین سفارتی اقدامات اور کوششیں کرنا چاہیں تاکہ وہ لوگ ان مزموم حرکات سے باز آئیں۔ سیاسی مزہبی رانماووں اورعوام میں بھی آگاہی و شعور پیدا کریں کہ جزبات کی رو میں بہہ کر قرآن و سنت کے برخلاف فتنہ و فساد مت کریں ایسے اقدامات جن سے عوام اور ریاست کے لئیے پریشانی اور تکلیف ہو وہ دینی، قانونی اور اخلاقی طور پر ممنوع ہیں۔  

~~~~~~~~~

جاوید چودھری کہتے ہیں کہ وہ  سیاسی پروگرام کرتا ہے لیکن اس کا آغاز بھی درود شریف سے کرتا ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ ماننا ہوگا ہم خوداذیتی کا شکار ہیں اور ہمارا مرض اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کوئی بھی پاگل شخص دنیا کے کسی کونے میں بھونکتا ہے اور ہم یہاں اپنے منہ پر تھپڑ مارنا شروع کر دیتے ہیں‘۔

گستاخی فرانس میں ہوتی ہے لیکن سڑکیں ہم اپنی بلاک کر کے بیٹھ جاتے ہیں

 گاڑیاں ہم اپنے لوگوں کی توڑ دیتے ہیں‘ 

دکانیں‘ گھر اور ایمبولینس ہم اپنے بھائیوں کی جلا دیتے ہیں‘ 

موبائل فون اور انٹرنیٹ بھی ہم نے اپنا بند کر دیا ہے‘ 

کیا یہ عقل مندی ہے؟ 

کیا اس سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا‘؟

دنیا ہماری اس خامی سے واقف ہے چناں چہ یہ جان بوجھ کر سال دو سال بعد یہ ایشو چھیڑ دیتی ہے اور ہم ڈنڈے لے کر اپنے لوگوں پر پل پڑتے ہیں‘ ہم اپنی پولیس اور اپنی ایمبولینسوں کا حشر کر دیتے ہیں۔

ہم اپنی سڑکیں بند کر دیتے ہیں

 آپ یقین کریں یہ گستاخی صرف اور صرف ہمیں ڈسٹرب کرنے کے لیے جان بوجھ کر کی جاتی ہے اور ہم ہر بار اس ٹریپ میں آ جاتے ہیں

دنیا میں 58 اسلامی ملک ہیں لیکن جب بھی گستاخی ہوتی ہے ان 58 ملکوں میں پاکستان واحد ملک ہوتا ہے جس میں ہم لوگ خود اپنا نقصان کرتے ہیں

سوال یہ ہے ہم اگر سب مر بھی جائیں‘ ہم اگر پورے ملک کو آگ بھی لگا دیں تو اس سے گستاخی کرنے والوں کا کیا بگڑے گا؟

یہ ملعون آرام سے اپنی زندگی انجوائے کرتے رہیں گے لیکن ہم ایک دوسرے کے ہاتھوں مر جائیں گے۔

کیا ہم گستاخی رکوانا چاہتے ہیں یا پھر اپنے آپ کو اذیت دینا چاہتے ہیں؟ 

میرا خیال ہم گستاخی رکوانا چاہتے ہیں

ہمیں اس کے لیے کیا طریقہ استعمال کرنا چاہیے؟

اس کا حل صرف اور صرف سفارتی دباؤ ہے اور یہ دباؤ جب تک پوری اسلامی دنیا سے نہیں آئے گا یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکے گا

لہٰذا ہمیں چاہیے ہم اسکالر تیار کریں‘ انھیں انگریزی‘ فرنچ‘ جرمن اور چینی زبان سکھائیں اور یہ اسکالر دنیا کو بتائیں ہم مسلمان رسول اللہ ﷺ کی حرمت پر کمپرومائز نہیں کرتے‘دنیا اس سے سمجھے گی ورنہ ہم اپنے آپ کو مارتے مارتے مر جائیں گے اور یہ مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔  (جاوید چودھری ، کالم سے اقتباس)

~~~~~~~~~

بیشک الله تعالی اور اسکےفرشتے نبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ھیں، اۓ ایمان والو تم بھی آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر درودو سلام بھیجاکرو،

اللهم صل علي محمد وعلي ال محمد كما صليت علي ابراهيم وعلي ال ابراهيم انك حميد مجيد.  اللهم بارك علي محمد وعلي ال محمد كماباركت على ابرهيم وعلى آل ابرهيم انك حميد مجيد

~~~~~~~~~~

امر باالمعروف ، نہی عن المنکر ہر مسلمان کا فرض ہے 

گونگے شیطان بن کر جہالت ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی، گمراھی کا ساتھ مت دیں ، اچھائی، نیکی کا حکم دیں برائی سے منع کریں: 

مَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنۡ لَّهٗ نَصِيۡبٌ مِّنۡهَا‌ ۚ وَمَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنۡ لَّهٗ كِفۡلٌ مِّنۡهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقِيۡتًا ۞ 

جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے  (القرآن - سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 85)

اس پوسٹ کو شئیر یا کاپی پیسٹ کرکہ "امر باالمعروف ، نہی عن المنکر" میں شامل ہو جائیں۔ روز قیامت آپ اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں تو کہہ سکیں کہ، یا اللہ میں نے فرض ادا کردیا تھا ۔ جزاک اللہ 

مزید پڑھیں 

  1. علماء اور دور جدید: علماء کا کام قرآن کریم کے مطابق کیا ہے ؟  لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت یا حکومت و سیاست ؟
  2. Rise and fall of Nations – Law of Quran قرآن کا قانون عروج و زوال اقوام
  3. Al Khilafah الخلافة - Possible in 21St Century ... >>>>  
  4. سید احمد بریلوی شہید اور شاہ اسماعیل دہلوی شہید کی جہاد تحریک 
  5. http://pakistan-posts.blogspot.com/2021/04/militant-politics.html 
  6. https://m.facebook.com/

خُذِ الۡعَفۡوَ وَاۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰهِلِيۡنَ ۞ 

نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، نیکی کی تلقین کیے جاؤ، اور جاہلوں سے نہ الجھو

(القرآن - سورۃ نمبر 7 الأعراف, آیت نمبر 199)

حُب ِ رسولﷺ اور اس کے تقاضے
حُب ِ رسولﷺ ہر مومن بندہ کی زندگی کا جزو لاینفک ہوتا ہے اور ہر قیمت پر ہونا چاہیے کیونکہ انسانیت کے اس محسن سے نعوذباللہ محبت نہ کرنا اور اسے اپنی زندگی کا آئیڈیل نہ سمجھنا ضعف ِ ایمان کے مترادف ہے۔لیکن بدقسمتی ہماری یہ رہی ہے کہ یہاں پرنبیﷺ کی محبت کے دعوے تو کیے جاتے ہیں جبکہ اس محبت کے منشاء کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔رسالت مآب ﷺکے اسوہ حسنہ کا بنیادی تقاضا تو یہ ہے کہ انسانی معاشرے میں امن کا بول بالا ہو، بھائی چارہ اور برداشت ہو، باہمی تنازعات کو احسن طریقے سے نمٹایا جاتا ہو اور ایک انسان دوسرے انسان کی جاں، مال، عزت اور آبرو کو مقدس سمجھتا ہو ۔آپﷺ سے سچی محبت تقاضا کرتی ہے کہ انسانی معاشرے میں زندگی بحال ہو اور در فساد ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند ہو علی ھذا القیاس۔جبکہ ہمارا معاملہ ان تقاضوں سے یکسر مختلف ہے۔اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی اس ریاست کی تقریبا اٹھانوے فیصد آبادی کلمہ گو مسلمانوں پر مشتمل ہے اس ریاست میں نبیﷺ ہی کی محبت کے نام پرنبی ﷺ کی محبت کے دعویداروں نے اپنی حرکیات سے زندگی کا پہیہ جام کیے رکھا۔کیا اس مقدس نام کے تحت ایک دوسرے کو کاٹنا ، ایک دوسرے سے نفرت ، بغض اور عداوت رکھنا رسول اللہ ﷺ کی محبت کی نفی نہیں ۔ سات دہائیوں پر مشتمل ہماری تاریخ کا اگر کنگال کر جائزہ لیا جائے تو اس لمبے عرصے میں محمدﷺ سے محبت کی پینگیں بڑھانے والوں نے کیا کیا نہیں کیا؟ رسول ﷺ کے عشق کے نام یہاں محبت ایک آنے کی نہیں بانٹی گئی جبکہ اس نام ہی پر ان کی نفرت اور قتل وغارت کی داستانوں کے اوپرکتابیں لکھی جاسکتی ہے۔پہلے طالبان اور اس جیسی بے شمار دیگر تنظیموں کے لوگوں نے اللہ ،رسول اور شریعت مطہرہ کے نام پر کشت و خون کا بازار گرم کیا تھاکہ مسجدوں، مدارس اور مقبروں تک کا امن غارت کر دیا گیا تھا۔ جس کا نتیجہ نہ صرف انسانی جانوں کی ضیاع کی صورت میں نکلا بلکہ اسلام کی سلامتی اور حقانیت کے اوپر بھی لوگوں کوکلام کرنے کا موقع مل گیا ۔اب پچھلے چند سال سے ایک مذہبی جماعت یہ کام بھرپور انداز میں انجام دے رہی ہے یہاں تک کہ ماضی کی تنظیموں کی انتہا پسندی میں اس کے سامنے ہیچ محسوس ہوتی ہیں۔ سوال تو یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا اشتعال، شورش اور گالم گلوچ میرے رسول ﷺ کی محبت کی نفی نہیں۔ ماضی کے دنوں میں اس تنظیم کے کارکنوں کے ہاتھوں سے کونسا فساد بپا نہیں ہوا ؟ ان کے بپھرے ہوئے احتجاجی مظاہروں کے قرب وجوار میں کس کس راہگیر کو تکلیف اور کس کس پولیس اہلکار کو صدمہ نہیں پہنچا ؟ کیا یہ ایک معمولی بات ہے کہ دو تین دن تک اس کے جنونیوں کے ہاتھوںنہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے او دو معصوم پولیس کانسٹیبلزسمیت پانچ دیگر افراد جان کی بازی ہار گئے ۔کیا اچھا اور کیا بجاکہا ہے استاد افتخار عارف نے : رحمت سید لولاک پر کامل یقین لیکن امت سید لولاک سے خوف آتا ہے المیہ تو یہ ہے کہ جب ایسے جنونی عناصرکی ریاست ہی کی گود میں انتہاء پسندی کی پرورش ہو رہی ہوتی ہے، تو حکومت بے حسی کا مظاہرہ کرتی ہے یہاں تک کہ شرپسند عناصر حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنا شروع کر دیتے ہیںاور بعد میں جب یہ رحمت کے بجائے الٹا زحمت اور دردسر بن جاتے ہیں تو پھر اس سے نمٹنے کا پلان سرکار وقت کے پاس نہیں ہوتا۔ پچھلے سال نومبر میں تواسی حکومت ہی نے معاہدہ کیا تھا ۔کیا حکومت کویہ ادراک نہیں تھا کہ ہوش کے بجائے جوش کا راستہ اختیار کرنا پہلے ملک اور عوام کے مفاد میں ثابت ہواتھا ،نہ ہی آج ایسے پیچیدہ مسائل سے جوش کے ذریعے خود کو نکالا جاسکتا ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ ریاست کے اندر ریاست کو للکارنے والوں سے نپٹنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریاستی مشینری ناقابل شکست قوت ہوتی ہیںلیکن شرط یہ ہے کہ ریاستی حکام کے پاس دوربینی، اعلی ظرفی، خلوص اور اعلی دماغ بھی ہو۔ ہمارے ہاں ریاست کا ڈھانچہ اور طاقت موجود ہے لیکن اس کے استعمال کرنے والے حکمت اور دوربینی سے بھی عاری ہیں اور خلوص اور اعلی ظرفی سے بھی تہی مغز اور خالی ، جس کا نتیجہ لازمی طور پر بھیانک اور تباہ کن نکلے گا۔ ریاست کے علاوہ اس طرح کی مذہبی جنونیت کو رام کرنے کیلئے وسیع تر تربیت کا اہتمام کرنا بھی ناگزیر ہوتا ہے، جس کا بھی ہمارے پاس کوئی پروگرام نہیں۔ جنونیت کو بام عروج پر پہنچانے میں جس طرح ہمارے بعض ناعاقبت اندیشوں کا دانستہ یا نادانستہ طور پر ہاتھ رہا ہے، وہی لوگ ایسے عناصر کو رام کرنے کا فریضہ بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں۔کیا اب وقت نہیں آیا ہے کہ یہ لوگ اس بھیانک تجربے کو مزید دہرانے سے تائب ہوجائیں۔کیا ان لوگوں کا فرض نہیں بنتا ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو حُب ِنبی کے بنیادی تقاضوں سے آگاہ کریں بات بات پر مشتعل ہونے کی بجائے انہیں برداشت اور اعتدال کا فلسفہ ازبر کرادیں؟ جب تک اسوہ نبیﷺ کی حقیقی روح کو سمجھنے کی سعی نہیں کی جاتی، میرا نہیں خیال کہ یہاں پرمثبت سوچ پروان چڑھے سکے گی اور بے لگام شدت پسندی کا در بند ہوگا۔ ( محمد حسین ہنرمل 92 نیوز)

25 لاکھ ووٹ لئیے ،،، اب مزید بڑھائیں گے ۔۔ الیکشن تک کوئی نہ کوئی تحریک ضروری ہے ان کی آکسیجن ہے ۔۔ غریب لوگ مروا کر لاشوں پر سیاست ۔۔۔ جب عوام کی آنکھوں سے جہالت کا پردہ اٹھ گیا تو یہ فارغ ہو جائیں گے۔ 

ایسی سچوایشن پیدا کرتے ہیں کہ ناموس رسالت  صلی اللہ علیہ وسلم کے اکلوتے دعوے دار نظر آتے ہیں 

ان کو معلوم ہے کہ فرانسیسی سفیر نکالنے کا کیا مطلب ہے اور یہ آسان نہیں ۔۔

 مگر ایسے مطالبے پبلک میں ان کا امیج بناتے ہیں ۔ سفیر نکالیں یا نہ نکالیں ان کا مقصد شور شرابہ اور ناموس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکلوتے دعوے دار کے طور پر نظر آنا ہے ۔ جو انہوں نے حاصل کرلیا ۔۔ قرآن و سنت کو روندتے ہوئے عوام اور انٹلیکچوئیل ، میڈیا ، سب لوگ ان کے حمائیتی ہمدرد  نظر آتے ہیں ، صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ۔۔۔ 

جو مخالفت کرے (کہ یہ فساد فتنہ قرآن و سنت کے خلاف ہے)  اس پر دشمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،  کا لیبل لگا کر ذلیل کرو ۔۔ بلکہ لوگ قتل بھی ہوئے جھوٹے الزامات پر۔۔ اس لئیے اکثر  لوگ خاموشی کو بہتر سمجھتے ہیں۔ 

سوال ہے کہ باقی مزہبی جماعتیں کیوں ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہائی جیک کرنے دیتی ہیں؟ 

کیا باقی دینی جماعتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کم محبت کرتی ہیں؟ 

وہ متبادل بہتر  احتجاج کیوں نہیں پیش کرتیں؟

عام مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار یکجہتی و محبت کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ لوگ ہی ملتے ہیں باقی کدھر غائب؟ 

یہ گروہ کھلا خالی میدان پا کر  میلہ لوٹ جاتا ہے ( یہ صرف سیاسی استعارہ ہے) 

عام  مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ثابت کرنے کے لئیے اس ( فتنہ و فسادی گروہ ، کیونکہ یہ قرآن اوف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے برخلاف ہے ) کی بینڈ ویگن میں سوار ہو جاتا ہے کہیں ساتھی اس پر کم مسلمانی کا فتوی نہ لگا دیں ۔ اگر کوئی دوسرا آپشن ہو تو ادھر جائیے؟ 

اور یہ لوگ اس تمام ہمدردیوں کو کیش کرکہ اپنے کھاتے میں ڈال لیتے ہیں ۔ 

یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا ؟ 

واللہ اعلم 

(یہ ایک سیاسی پوسٹ ہے ، الفاظ سیاسی ہیں سخت ہیں ، مگر ان سے کوئی غلط توہین آمیز نتیجہ اخز نہ کرے )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اہل بیت، صحابہ اکرام (رضی اللہ)  سے محبت پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے ، اسلام کی مقدس ہستیاں ہمارے دل میں رہتی ہیں اور ہمیں پیار ہے ان سب سے۔ اور پیار کا بہترین اظہار قرآن و سنت پر عمل کرنے سے، جو جان بوجھ کر  عمل نہیں کرتا وہ ان کے خلاف ہے اور گستاِخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ جس کا حساب دنیا اور آخرت میں دے گا ۔  


ٱللَّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .

ٱللَّٰهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .

اے ﷲ! رحمتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آل پر، جس طرح تونے رحمتیں نازل کیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کا مستحق بڑی بزرگی والا ہے۔

’’اے ﷲ! تو برکتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آل پر، جس طرح تونے برکتیں نازل فرمائیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کا مستحق بڑی بزرگی والا ہے۔‘‘


مگر نظام  اسلام  کے نفاز کے جھوٹے دعوے دار جو قرآن کی آیات کا عملی انکار کرتے ہیں ، قتل انسانی ، فتنہ و فساد کو جائئز سمجھتے ہیں۔

 اور ان کے مددگار و سہولت کار، جن کی زبانیں اور قلم، keypads گنگ ہوجاتے ہیں ان کی بدعملی اور دوغلے پن کی مزمت نہیں کرسکتے۔ جنہوں نے اسلام کو اپنا کاروبار  سیاست بنا رکھا ہے ، ہر وقت اسلام ، اسلام اسلام کے کھوکھلے نعرے لگاتے ہیں ان سے نفاز اسلام کی  توقعات کرنا اتنی ہی  حماقت ہے جتنی کسی سیکولر ، بے دین پارٹی ، گروہ سے ۔۔ ان کی زبان اور عمل میں مطابقت نہیں جوکہ منافقین کی خصوصیت ہے ، منافقین کفار سے بھی خطرناک ہیں کہ اسلام کا لیبل لگا رکھا ہوتا ہے ۔ 

اللہ ہمیں منافقین ، شیطانوں کے شر سے محفوظ رکھے۔

جاوید چودھری کی زندگی کا بہترین کالم

اور شاید میں پہلی بار اس سے مکمل اتفاق کر رہا ہوں ۔ آپ بھی پڑھیے اور سوچیے جوں کا توں چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ’’چاچا چنڈ‘‘ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ کو چنڈ یا چپیڑ کہتے ہیں‘ چاچا چنڈ کو چاچا چنڈ اسی لیے کہا جاتا تھا کہ اسے جب بھی کوئی چاچا چنڈ کہہ کر چھیڑتا تھا تو وہ غصے میں آ جاتا تھا اور وہ پہلے خود کو گالیاں دیتا تھااور پھر اپنے منہ پر تھپڑ مارنا شروع کر دیتا تھا۔ وہ اس دوران روتا جاتا تھا‘ اپنے آپ کو ننگی گالیاں دیتا جاتا تھا اور اپنے منہ پر تھپڑ مارتا جاتا تھا اور لوگ ہنستے جاتے تھے یہاں تک کہ اس کے منہ‘ دانتوں اور ناک سے خون بہنے لگتا تھا‘ چاچے کا بیوی بچہ کوئی نہیں تھا‘ والدین فوت ہو چکے تھے‘ بھائی کنارہ کش ہو گئے تھے‘ صرف ایک بہن تھی‘ وہ بے چاری گالیاں اور چیخیں سن کر ننگے پاؤں دوڑتی ہوئی گلی میں آتی تھی‘ چھیڑنے والوں کو بددعائیں دیتی تھی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے شانت کرنے کی کوشش کرتی تھی‘ وہ اپنے پلو سے اس کا منہ صاف کرتی تھی اور اسے بچے کی طرح اپنے سینے سے چمٹا لیتی تھی‘ چاچا چنڈ ہچکیاں لے لے کر روتا تھا‘ پورا محلہ کھی کھی ہنستا تھا اور آخر میں دونوں بہن بھائی روتے‘ منہ صاف کرتے ہوئے گھر واپس چلے جاتے تھے۔ وہ دونوں چھوٹے سے پرانے مکان میں رہتے تھے‘ بہن نے بیٹھک میں کریانے کی دکان بنا رکھی تھی‘ وہ ان دونوں کا واحد ’’سورس آف انکم‘‘ تھا‘ بہن بھائی کو اندر بند کر کے سارا دن دکان چلاتی تھی‘ شام کو ہانڈی روٹی کا بندوبست کرتی تھی‘ اپنے ہاتھ سے بھائی کو کھانا کھلاتی تھی اور یوں یہ دونوں رو دھو کر سو جاتے تھے‘ یہ دونوں بہن بھائی محلے کی واحد انٹرٹینمنٹ تھے چناں چہ لوگ آتے جاتے ان کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر چاچا چنڈ کا نعرہ لگا جاتے تھے‘ یہ نعرہ سن کر چاچا چنڈ کمرے میں بے چین ہو جاتا تھا اور اس کی بہن جھولی پھیلا کر تنگ کرنے والے کو بددعائیں دیتی تھی۔ محلے کے بزرگوں کو بہن بھائی سے ہمدردی تھی‘ وہ نوجوانوں کو بدتمیزی سے روکتے رہتے تھے مگر جوان خون کہاں سمجھتا ہے چناں چہ پورے محلے کے بچوں اور جوانوں نے اسے تفریح بنا لیا تھا اور وہ انھیں جہاں نظر آ جاتا تھا وہ چاچا چنڈ کے نعرے لگانا شروع کر دیتے تھے‘ وہ ابتدا میں غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا تھا لیکن جب اس کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا تھا تو وہ اپنے منہ پر تھپڑ مارنا شروع کر دیتا تھا‘ لوگ ہنستے جاتے تھے اور اس کا جنون بڑھتا جاتا تھا‘ ڈاکٹروں کا خیال تھا وقت گزرنے کے ساتھ اس کا جنون کم ہو جائے گا۔ یہ شاید ہو بھی جاتا مگر لوگ یہ ہونے نہیں دے رہے تھے‘ وہ جتھوں کی شکل میں اس کے گھر کے سامنے آتے تھے‘ کورس میں چاچا چنڈ‘ چاچا چنڈ کے نعرے لگاتے تھے اور وہ کمرے میں بند بھی اپنے آپ کو تھپڑ مارنے لگتا تھا‘ اس کی بہن بے چاری دکان بند کر کے اندر جاتی تھی‘ اسے سینے سے لگاتی تھی اور دونوں پہروں روتے رہتے تھے‘ چاچا چنڈ کا اختتام بہت ٹریجک ہوا‘ بہن دکان کا سودا خریدنے کے لیے منڈی گئی ہوئی تھی‘ چاچا چھت پر مرچیں سکھا رہا تھا اور اسکول سے چھٹی ہو گئی۔ بچے بستے لے کر واپس آ رہے تھے‘ انھیں چھت پر چاچا نظر آ گیا اور انھوں نے گلی میں کھڑے ہو کر چاچا چنڈ‘ چاچا چنڈ کے نعرے لگانا شروع کر دیے‘ چاچا انھیں اور پھر اپنے آپ کو گالیاں دینے لگا‘ گالیاں سن کر بچوں کے نعروں میں جوش آ گیا‘ چاچا نے تھوڑی دیر بعد اپنے منہ پر تھپڑ مارنا شروع کر دیے‘ بچے اچھل اچھل کر کورس میں چاچا چنڈ‘ چاچا چنڈ کہنے لگے‘ چاچے کا جنون بڑھنے لگا‘ یہ تماشا دیکھ کر محلے کے نوجوان بھی بچوں کے ساتھ شامل ہو گئے اور یوں تماشا تھیٹر میں تبدیل ہو گیا‘ چاچے کی بہن گھر پر موجود نہیں تھی لہٰذا اسے کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں تھا‘ چاچے کا جنون بڑھتا رہا‘ بڑھتا رہا یہاں تک کہ وہ چھت کی منڈیر پر کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے آپ کو طویل گالی دی اور نیچے کود گیا‘ نیچے گلی میں پانی کا نلکا تھا‘ وہ سیدھا نلکے پر گرا‘ نلکے کا پائپ اس کے سر میں ترازو ہو گیا‘ اس کا جسم پھڑکا اور اس نے نلکے کے ساتھ لٹکے ہوئے دم دے دیا‘ ہجوم پر سکتہ طاری ہو گیا‘ یہ سکتہ ایک بچے نے توڑا‘ اس کے منہ سے نکلا ’’اوئے چاچا چنڈ مر گیا جے‘‘ ہجوم نے جھرجھری لی اور سارے بچے اور نوجوان بھاگ گئے اور وہاں گلی میں اس کی لاش اور اس کا خون رہ گیا‘ چاچا چنڈ دنیا سے رخصت ہو گیا۔ ہم سب انسان مختلف نفسیاتی عارضوں کا شکار ہوتے ہیں‘ ان میں سب سے خوف ناک عارضہ ’’خود اذیتی‘‘ہوتا ہے‘ اس کا شکار اپنے آپ کو تکلیف دے کر لذت محسوس کرتا ہے‘ خود اذیتی کے شکار لوگ اپنے جسم کو بلیڈ سے تھوڑا تھوڑا کاٹتے رہتے ہیں‘ یہ شیشے کے ٹکڑے نگل لیتے ہیں یا پھر لوہے کی گرم سلاخوں سے خود کو داغنا شروع کر دیتے ہیں‘ لوگ ٹرین کے نیچے بھی لیٹ جاتے ہیں اور یہ سانپ کے بل میں بھی ہاتھ ڈال دیتے ہیں‘ خود اذیتی کے شکار لوگوں کی یہ حرکتیں مختلف ٹریگر(Trigger) کی محتاج ہوتی ہیں‘ یہ لوگ جوں ہی ٹریگر دیکھتے ہیں‘ یہ اپنے آپ کو کاٹنا چھیلنا شروع کر دیتے ہیں‘ چاچاچنڈ بھی خود اذیتی کا شکار تھا اور ’’چاچاچنڈ‘‘ کا فقرہ اس کے لیے ٹریگر کی حیثیت رکھتا تھا‘ یہ لفظ جوں ہی اس کے کان کے پردے پر گرتا تھا اس کا دوران خون تیز ہو جاتا تھا اور وہ اپنے منہ پر تھپڑ مارنے لگتا تھا چناں چہ اس بے چارے کا انجام وہی ہوا جو عموماً ایسے کیسز میں ہوتا ہے۔ یہ بیماری صرف افراد کو نہیں ہوتی بعض اوقات قومیں بھی خود اذیتی کا شکار ہو جاتی ہیں اور جب یہ اس مرض کا شکار ہوتی ہیں تو پھر اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو اس وقت اس ملک میں نکل رہا ہے‘ ہم سب الحمد للہ مسلمان ہیں‘ ہم سب عاشق رسولؐ بھی ہیں‘ ہم میں کون ہو گا جو حرمت رسولؐ کو اپنی زندگی سے اہم نہیں سمجھے گا‘ مسلمان تو پیدا ہی عشق رسولؐ کے ساتھ ہوتا ہے‘ ہماری مائیں ہمیں پیدائش سے پہلے اللہ اور اس کے رسولؐ سے متعارف کرا دیتی ہیں‘ ہمارے کانوں میں ماں کی آواز سے پہلے اذان دی جاتی ہے اور اس میں اشہداَن لا الٰہ اِلااللہ اور اشہدان محمد الرسول اللہ ﷺ پر زور دیا جاتا ہے‘ ہم میں سے ہر پہلے شخص کے نام میں محمد اور دوسرے میں احمد آتا ہے‘ درود شریف پانچ بڑی تسبیحات میں شامل ہے۔ میں سیاسی پروگرام کرتا ہوں لیکن اس کا آغاز بھی درود شریف سے کرتا ہوں لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ ماننا ہوگا ہم خوداذیتی کا شکار ہیں اور ہمارا مرض اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کوئی بھی پاگل شخص دنیا کے کسی کونے میں بھونکتا ہے اور ہم یہاں اپنے منہ پر تھپڑ مارنا شروع کر دیتے ہیں‘ گستاخی فرانس میں ہوتی ہے لیکن سڑکیں ہم اپنی بلاک کر کے بیٹھ جاتے ہیں‘ گاڑیاں ہم اپنے لوگوں کی توڑ دیتے ہیں‘ دکانیں‘ گھر اور ایمبولینس ہم اپنے بھائیوں کی جلا دیتے ہیں‘ موبائل فون اور انٹرنیٹ بھی ہم نے اپنا بند کر دیا ہے‘ کیا یہ عقل مندی ہے؟ کیا اس سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا‘ دنیا ہماری اس خامی سے واقف ہے چناں چہ یہ جان بوجھ کر سال دو سال بعد یہ ایشو چھیڑ دیتی ہے اور ہم ڈنڈے لے کر اپنے لوگوں پر پل پڑتے ہیں‘ ہم اپنی پولیس اور اپنی ایمبولینسوں کا حشر کر دیتے ہیں۔ ہم اپنی سڑکیں بند کر دیتے ہیں‘ آپ یقین کریں یہ گستاخی صرف اور صرف ہمیں ڈسٹرب کرنے کے لیے جان بوجھ کر کی جاتی ہے اور ہم ہر بار اس ٹریپ میں آ جاتے ہیں‘ دنیا میں 58 اسلامی ملک ہیں لیکن جب بھی گستاخی ہوتی ہے ان 58 ملکوں میں پاکستان واحد ملک ہوتا ہے جس میں ہم لوگ خود اپنا نقصان کرتے ہیں‘ سوال یہ ہے ہم اگر سب مر بھی جائیں‘ ہم اگر پورے ملک کو آگ بھی لگا دیں تو اس سے گستاخی کرنے والوں کا کیا بگڑے گا‘ یہ ملعون آرام سے اپنی زندگی انجوائے کرتے رہیں گے لیکن ہم ایک دوسرے کے ہاتھوں مر جائیں گے۔ کیا ہم گستاخی رکوانا چاہتے ہیں یا پھر اپنے آپ کو اذیت دینا چاہتے ہیں؟ میرا خیال ہم گستاخی رکوانا چاہتے ہیں‘ ہمیں اس کے لیے کیا طریقہ استعمال کرنا چاہیے؟اس کا حل صرف اور صرف سفارتی دباؤ ہے اور یہ دباؤ جب تک پوری اسلامی دنیا سے نہیں آئے گا یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکے گا لہٰذا ہمیں چاہیے ہم اسکالر تیار کریں‘ انھیں انگریزی‘ فرنچ‘ جرمن اور چینی زبان سکھائیں اور یہ اسکالر دنیا کو بتائیں ہم مسلمان رسول اللہ ﷺ کی حرمت پر کمپرومائز نہیں کرتے‘دنیا اس سے سمجھے گی ورنہ ہم اپنے آپ کو مارتے مارتے مر جائیں گے اور یہ مسئلہ جوں کا توں رہے گا


 یہ  فساد فل ارض ہے 

http://takfiritaliban.blogspot.com/2013/08/blog-post.html


ہم نے بہت بحث مباحثہ کیا ۔۔ 

اس طرح ہمیں مختلف آرا کا علم ہوتا ہے 

اور علم میں اضافہ ہوتا ہے 

جہاں تصحیح کی ضرورت ہو تو ممکن ہے 


1. *ایک بات ہے کہ کسی انسان کے زاتی خیالات قران و سنت سے بہتر کیسے ہو سکتے ہیں چاہے وہ کوئی علامہ یا مولانا یا کچھ بی ہو ۔*

2۔ *قرآن جب ناحق قتل اور فتنہ فساد کو حرام قرآر دیتا ہے تو اسے کوئی حلال کیسے کہ سکتا ہے ؟* 

3۔ جب سنت حکمران کے خلاف خروج کو اس کے کھلم کھلا کفر  نماز نہ پڑھنے سے مشروط کرتی ہے تو کسی مطالبہ نہ ماننے  پر بغاوت فساد قتل و غارت کا کیا جواز ہے؟

جبکہ حکومت دوسرے اقدام بھی مسلسل کر رہی ہو۔ 

4۔ کیا اقلیت کو اجازت ہے کہ وہ اپنے مطالبات کو نہ ماننے پر تشدد اور امن و امان کا مسلہ کھڑا کرے؟ 

5۔ پہلے تکفیری طالبان بھی شریعت نفاز کے نام پر 70000 معصوم لوگوں کو ہلاگ کر چکے۔ اور معلوم ہوا کہ اسلام پاکستان دشمنوں سے رابطے تھے اور ہیں۔

*اگر کوئی بھائی قرآن ، سنت کے ریفرنس سے راہنمائی کر سکتا ہے جزاک اللہ ۔ ورنہ یہ رمضان کے مبارک مہینہ میں وقت کا ضیاع ہے۔*

صرف قرآن و سنت سے واضح  دلیل،، interpretation ، اگر ، مگر نہیں ! 

؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

تحریک لبیک کے بھائیو، اور دیگر پاکستان کے مسلمانوں کبھی یہ بھی تو سوچو 👈 آخر کیا وجہ ہے، کہ ترکی، مصر، انڈونیشیا، ملائشیا، اردن، بنگلہ دیش اور دیگر 50 سے زائد اسلامی ممالک نے فرانس کے سفیر کو اپنے ممالک سے کیوں نہیں نکالا ؟؟؟ 👈 کیا پاکستان کے علاوہ دیگر 54 اسلامی ممالک میں لوگوں کو دین اور شریعت کا پتہ نہیں ہے ؟؟ 🚨 پاکستانی عوام، عام طور پر ترکی اور طیب اردگان سے بڑے متاثر ہیں۔ مگر طیب اردگان نے بھی فرانس کا سفیر اپنے ملک سے نہیں نکالا۔ تو کیا اب طیب اردگان، عاشق رسول نہیں ہے ؟؟ 🔥 کیا 54 اسلامی ممالک، کی حکومتیں اور عوام عاشق رسول نہیں ہیں، معاذاللہ، کیونکہ ان ممالک میں فرانس کے سفیر کو نکالنے کے لیئے مظاہرے بھی نہیں ہو رہے ہیں۔ 📝✒️ مغربی ممالک میں اس معاملے کے مستقل حل کے لیئے، اس معاملے کو سب سے پہلے OIC ، عالمی عدالت انصاف اور پھر اقوام متحدہ میں بھرپور طریقے سے اٹھانا چاہیئے، وہ کام کریں، جس کا ان پر کچھ اثر بھی ہو۔۔۔ 🚨 پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے، اور دنیا کئی ممالک اس کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ حکومت میں موجود مسلمانوں کی مجبوریاں اور حکمت کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔ 🌟🌟🌟🌟 🙏🙏 تحریک والوں سے درخواست۔۔۔ آپ کی نیت پر شک نہیں۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔ 🚨 کیا عالمی برادری، تحریک لبیک کے ان مظاہروں سے متاثر ہو رہی ہے ؟؟ 🔥 نہیں۔۔۔ بالکل نہیں۔۔۔ 💚 عمران حکومت سے کئی اختلافات اپنی جگہ، مگر وہ بھی مسلمانوں کی ہی حکومت ہے۔۔۔۔ ہو سکتا ہے، کہ، تحریک لبیک والے زیادہ بہتر مسلمان ہوں۔۔ مگر عمران خان، نواز شریف، زرداری، مولانا فضل الرحمان، بھی مسلمان ہی ہیں، اور پاکستانی مسلمانوں کی اکثریت کی یہ لوگ ہی نمائندگی کرتے ہیں۔ 👈 ہو سکتا ہے، کہ، حکومت کی کئی مجبوریاں ہوں، کہ وہ فرانس کے سفیر کو نہیں نکال پا رہی ہے۔۔ ہو سکتا ہے، کہ FATF ، کا مسئلہ ہو۔ 🔥 یہ ایک حقیقت ہے، کہ ، بحیثیت مجموعی ہم 54 ممالک کے مسلمان انتہائی کمزور اور نکمے ثابت ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے تو فرانس کے خبیث صدر کو اس گستاخی کی ہمت ہوئی ہے۔ 🙏🙏 اس وقت دنیا کے کئی ممالک پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ خدا کے لیئے سب معاملے کی نزاکت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ 🤲 تحریک لبیک، کی نیت پر ہمیں شک نہیں۔۔۔ مگر حکومت، ن لیگ، پیپلزپارٹی، مولانا فضل الرحمان ان سب کی نیتوں پر بھی شک کرنا چھوڑ دیں۔ 🙏 ہوسکتا ہے، کہ کچھ لوگ زیادہ اچھے مسلمان ہوں۔۔۔ مگر دوسرے مسلمانوں اور پاکستان کی حکومت کی مجبوریاں بھی سمجھنے کو کوشش کریں۔۔۔۔ 🌟👈 یاد رہے، کہ، عمران خان، نواز شریف، زرداری، مولانا فضل الرحمان، بھی مسلمان ہی ہیں، اور پاکستانی مسلمانوں کی اکثریت کی یہ لوگ ہی نمائندگی کرتے ہیں، لہذا دوسرے مسلمانوں کی نیتوں پر شک کرنا چھوڑ دیں، اور اپنے ملک پاکستان، کی حکومت کی مجبوریاں بھی سمجھنے کی کوشش کریں ۔ 🌹 الحمدللہ رب العالمین ، ہم سب مسلمان ہیں۔۔۔۔ کمزور ہی سہی۔۔ مگر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ، کے ہی امتی ہیں۔۔۔۔ 🔥 دوبارہ سوچیں، کیا 54 اسلامی ممالک، کی حکومتیں اور عوام عاشق رسول نہیں ہیں، معاذاللہ، کیونکہ ان ممالک میں فرانس کے سفیر کو نکالنے کے لیئے مظاہرے بھی نہیں ہو رہے ہیں۔ 🤲🤲 اللہ تعالٰی ، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے طفیل ہم سمیت تمام دیگر مسلمانوں کے تمام گناہ فوری معاف فرمائے اور ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور ہمارے تمام گناہ فوری معاف فرمائے اور ہم سب کو ہمیشہ خوش و خرم اور آباد رکھے۔ آمین

مزید: >>>>>



   ~~~~~~~~~~~~~~
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace