Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

Showing posts with label Altaf Qamar. Show all posts
Showing posts with label Altaf Qamar. Show all posts

پنجاب پولیس سے ایف آئی اے اور واپسی


مَیں اے ایس پی گوجر خان تعینات تھا۔ محکمہ پولیس میں خدمت کا چھٹا سال تھا ۔محکمانہ قواعد وضوابط کے مطابق اب تک میری اگلے رینک میں ترقی ہو جانا چاہئے تھی ، لیکن نہیں ہوئی تھی ۔ بالآخر دسمبر 1982ء کے آخری ہفتے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہم پچیس اے ایس پیز کے بیچ (batch) میں سے پہلے پندرہ کو بطور ایس پی ترقی کے لئے کلیئر کردیا، جن میں ایک میں بھی تھا۔ ہم تمام پندرہ اے ایس پی صوبہ پنجاب میں تعینات تھے۔ اب صوبائی حکومت کو ہمیں بطور ایس پی کسی جگہ تعینات کرناتھا۔حکومت نے وقفے وقفے سے ایک ایک دو دو افسران کو ایس پی تعینات کرنا شروع کر دیا، لیکن رفتار بہت کم تھی ۔ہمیں خوشی اور اطمینان اس بات پر تھا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہم سب کو پنجاب میں ہی رہنے دیا تھا،چنانچہ تعیناتی میں قدرے تاخیر کو ہم خوش دلی سے برداشت کررہے تھے۔ 

پہلے چھ ماہ میں حکومت پنجاب نے صرف پانچ چھ افسران کوتعینات کیا ۔ اسی اثنا میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بیچ کے بقیہ دس افسران کو بھی ترقی کے لئے کلیئر کردیا۔ یہ تمام دو دو تین تین کی تعداد میں صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان میں تعینات تھے۔ اِن سب کی اپنے اپنے صوبوں میں بہت جلد بطور ایس پی تعیناتیاں ہوگئیں، لیکن صوبہ پنجاب میں 1983ء کے آخر تک یعنی پورا ایک سال گزرنے کے باوجود صرف آٹھ نوافسران کو ہی اگلے درجہ میں ترقی دی جا سکی،جس سے مجھ سمیت باقی رہ جانے والے افسران میں بے چینی پیدا ہونا شروع ہوگئی ۔ بس ایک بات ڈھارس بندھاتی تھی کہ اپنے صوبے میں بیٹھے ہیں، کچھ دیر اور انتظار سہی۔ اسی انتظار میں ڈیڑھ سال گزر گیا۔ اُدھر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہمارے بعد والے بیچ کوترقی دیناتھی۔ انہوں نے حکومتِ پنجاب کو لکھا کہ اِن باقی ماندہ افسران کو ایس پی کی پوسٹوں پر تعینات کریں یا پھر ہمیں واپس بھیج دیں تا کہ اِن کو دوسرے صوبوں یا محکموں میں کھپا کر اگلے بیچ کو ترقی دی جاسکے،کیونکہ جب تک ہم سینئر بیٹھے تھے اگلے بیچ کو ترقی نہیں دی جاسکتی تھی۔ اس دباؤ پر ایک آدھ اور افسر کو تعیناتی مل گئی، لیکن بالآخر جون 1984ء میں حکومتِ پنجاب نے باقی ماندہ چار اے ایس پیزریاض نعیم، جاوید نور، پرویز اختر اور مجھے پنجاب سے سرنڈر کر دیا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے فوراً ہم چاروں افسران کو ترقی دے کر ایف آئی اے میں بھیج دیا۔ اس فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی کہ ڈیڑھ سال انتظار کے بعد بھی بالآخر پنجا ب سے نکلنا ہی پڑا ۔اس اثناء میں ہمارے کئی ساتھی بطور ایس پی دوسری تعیناتی پر جاچکے تھے۔ بہر حال قہر درویش بر جان درویش، ہم چاروں افسران نے جون 1984ء میں ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز جو اُن دنوں اسلام آبادمیں سپر مارکیٹ کے قریب چائنہ چوک میں واقع تھا رپورٹ کردی۔ پولیس سروس آف پاکستان کے 1951ء بیچ کے جناب محمد اعظم قاضی اس وقت ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے تھے۔ڈی جی صاحب نے ہم چاروں کو ایف آئی اے ہیڈکوارٹر ز میں ہی تعینات کر دیا۔ ریاض نعیم کو ڈپٹی ڈائریکٹر کرائمز ونگ، جاوید نور کو اپنا پی ایس او(PSO)،پرویز اختر کو ڈپٹی ڈائریکٹر اکنامک انکوائری ونگ اور مجھے ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن ۔ جناب خاور زمان ڈی آئی جی (بعد میں آئی جی اسلام آباداور سندھ) میرے ڈائریکٹر تھے ۔ ان جیسے قابل افسر اب ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔ اُ ن کی انگریزی تحریر اور تقریر لاجواب تھی۔ فائلوں پر صفحوں کے صفحے اپنی خوبصورت ہینڈ رائٹنگ میں لکھتے اور کیاخوب لکھتے۔ میں نے ان کی کچھ تحریروں کی فوٹو کاپیاں کرواکر مدت تک بطور نمونہ اور راہنمائی اپنے پاس رکھیں۔ مَیں جناب خاور زمان کی شفیق اور تجربہ کار رہنمائی میں ایک بالکل نئی قسم کی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھاتارہا۔ میں اُن کا پرنسپل سٹاف آفیسرہونے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد، راولپنڈی ڈویژن ، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات پر مشتمل امیگریشن وِنگ کے شمالی زون کا انچارج بھی تھا۔پاکستان بھر کی امیگریشن چیک پوسٹز، گلگت، طورخم ،چمن، تفتان، کراچی، کھوکھراپار، واہگہ اور تمام انٹرنیشنل ائیرپورٹس سے صرف جائز اور قانونی دستاویزات کے حامل افراد کو مُلک میں آنے اور مُلک سے جانے کی اجازت دینا،اور خاص طور پر جن افراد کے پاکستان میں آنے یا پاکستان سے نکلنے پر پابندی ہے اُن پر خاص نظر رکھنا کہ کہیں جُل دے کر نکل نہ جائیں یا داخل نہ ہوجائیں، اور جولوگ اس کی خلاف ورزی کرتے پکڑے جائیں اُن کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کرنا ہمارے فرائض منصبی میں شامل تھا۔ 

اس کے ساتھ ساتھ مُلک بھر کی تمام ریکروٹنگ ایجنسیوں پر نظر رکھناکہ وہ صرف جائز اور قانونی دستاویزات پر تمام قانونی تقاضے پورے کرکے بندوں کو باہر بھجوائیں۔ خلاف ورزی پرخلاف ورزی کرنے والوں اور اُن کے سہولت کاروں کو قانون کی گرفت میں لانا بھی ہمارے فرائض میں شامل تھا۔ میری اِس پوسٹنگ کے دوران حکومتِ پاکستان نے ایک اہم فیصلہ کیا کہ پاکستان سے چین آنے جانے والوں کی امیگریشن جو گلگت کے قریب ہوتی ہے،درۂ خنجراب جو پاکستان اور چین کی سرحد ہے کے کہیں آس پاس ہونی چاہئے ،ناکہ سرحد سے دواڑھائی سوکلومیٹر اندر آکر گلگت کے قریب ۔یہ کام میرے ذمہ لگاکہ میں علاقے کا سروے کرکے تجویز کروں کہ درہ خنجراب (سرحد) کے قریب ترین کس جگہ پر یہ چیک پوسٹ قائم کی جائے اور پھر منظوری کے بعد قائم بھی کروں۔ اس مقصد کے لئے میں دوبار گلگت اور پھر آگے درہ خنجراب تک گیا، لیکن صورت حال یہ تھی کہ درہ خنجراب سے نیچے مِیل ہامِیل تک نہ کوئی بندہ بشر نظر آتا تھااورنہ سڑک کے کنارے کوئی آبادی کہ جس کے قریب چیک پوسٹ قائم کی جاسکے کہ جہاں چیک پوسٹ کے ملازمین کو رہنے سہنے اور کھانے پینے کی سہولتیں میسر آسکیں۔ بہرحال میں نے پورے علاقہ کا سروے کیا اور بالآخر درہ خنجراب ،جو کہ ساڑھے پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور شاہراہ ریشم کا بلند ترین مقام ہے اورجسے دُنیاکی چھت بھی کہتے ہیں اورجہاں سے پاکستان اور چین دونوں طرف اُترائی شروع ہوجاتی ہے، سے بیس پچیس کلومیٹر نیچے جہاں اُترائی کے پیچ وخَم کے بعد قدرے ہموار زمین شروع ہوتی ہے چند گھروں پر مشتمل ایک چھوٹے سے گاؤں سوست (Sust)کو امیگریشن کی چیک پوسٹ کے لئے منتخب کرلیا۔ اس وقت وہاں اِ س پوسٹ کو قائم کرنے کے لئے کوئی کمرہ یامکان سڑک کے کنارے دستیاب نہ تھا، چنانچہ فیصلہ کیاگیاکہ جب تک پختہ دفتر تعمیر نہیں ہوتا یہ چیک پوسٹ خیموں میں قائم کی جائے گی۔ امیگریشن کی چیک پوسٹ کے ساتھ ہی کسٹمز والوں کی بھی چیک پوسٹ قائم ہوناتھی۔ اس کے بارے میں بھی یہی فیصلہ ہوا۔ میں واپس آیا۔ اور پھر اس چیک پوسٹ کے لئے تمام سازوسامان اور سٹاف راولپنڈی سے بھجوایا گیا اور غالباً مئی 1986ء میں اس چیک پوسٹ نے سڑک کے کنارے لگائے گئے دو خیموں میں اپنا کام شروع کردیا۔2002ء میں میرا اس علاقے میں دوبارہ جانے کا اتفاق ہوا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں اب ایک پورا شہر آباد تھا ۔ 

ایف آئی اے ،کسٹمز ، پولیس اور کئی دوسرے سرکاری اداروں کے باقاعدہ پختہ دفاتر، ریسٹ ہاؤسز، بینک، ہوٹل، ریسٹورنٹ، نجی دفاتر و ادارے ،ہر قسم کے ملکی اور غیر ملکی سامان سے لدے پڑے بازار اور بے شمار گھر۔ میری اس پوسٹنگ کے دنوں میں افغانستان میں روس کی پروردہ حکومتوں کے خلاف مجاہدین کی مزاحمت شروع ہو چکی تھی۔بارڈر کھلے پڑے تھے،مجاہدین بلا روک وٹوک اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر آ جا رہے تھے اور افغانستان کی اِس خانہ جنگی کی کیفیت میں افغان مہاجرین کثرت سے پاکستان کا رُخ کررہے تھے۔ زیادہ تر تو قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں ہی کیمپوں میں رہ رہے تھے، لیکن بے شمار پاکستان بھر کے مختلف شہروں میں بکھر گئے، مختلف کاروبار کرنے لگے، جائیدادیں خرید لیں اور یہیں رہنے بسنے لگے۔ لگتا تھا کہ یہ اب کبھی واپس نہیں جائیں گے، لیکن ابھی عوام الناس میں اس صورتِ حال اور اس کے متوقع اثرات کا زیادہ شعور پیدا نہ ہوا تھا۔مَیں نے اِن دنوں ایک انکوائری رپورٹ لکھتے ہوئے واضح طور پراپنے خدشات کا اظہار کر دیا کہ حالات جس ڈگر پر جارہے ہیں اِسے دیکھ کر لگتاہے کہ جلد پاکستان میں منشیات اور اسلحہ کا طوفان آئے گا اور یہ ایک نئے سماجی اور فوجداری کلچر کو جنم دے گا، اور اس کے جلُو میں روس اور انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کا تانا بانا بُنیں گے۔ یہ بات بعد میں حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی۔
میری تعیناتی کے تقریباً ایک سال بعد میرے ڈائریکٹر جناب خاور زمان بطور انسپکٹر جنرل ترقی یاب ہو کر ایف آئی اے سے رُخصت ہوگئے۔ ان کے جانے کے بعد میں کوئی آٹھ نو ماہ بطور قائم مقام ڈائریکٹر امیگریشن کام کرتارہا۔ اب میرا نیچے پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے امیگریشن ونگ کے ذیلی یونٹوں اور اوپر ڈائریکٹر جنرل سے براہ راست رابطہ رہتاتھا۔ اِس دوران ایک دو ڈی آئی جی صاحبان ایف آئی اے میں نئے تعینات ہوئے ۔ڈی جی صاحب نے اُن کو دوسری خالی جگہوں پر تعینات کردیا، لیکن امیگریشن جیسا اہم ترین وِنگ میرے ہی زیرِ کنٹرول رہنے دیا۔یہ اُن کا مجھ پر اور میرے کام پر اعتماد کا مظہر تھا،جس کا بظاہر اُنہوں نے کبھی اظہار نہ کیا۔ ڈی جی صاحب بظاہر ایک بہت سخت گیر انسان تھے۔ اکثر ڈائریکٹر صاحبان اُ ن کے سامنے جانے اور بات کرنے سے کتراتے تھے، لیکن جب میرا اُن سے براہ راست رابطہ شروع ہواتو میں نے اُنہیں بہت شفیق اور درگذرکرنے والا پایا۔حد درجہ دیانتدار ،بے حد محنتی، بااصول اور اپنے کام کے ماہر۔ ہماری موجودگی میں ہی ریٹائرہوگئے۔اس موقع پر ہم نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ڈی جی صاحب کی ملازمت کا آخری دن تھا۔ تمام افسر اور پورا ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرزاپنے معمول کے مطابق کام کر رہا تھا۔روٹین کی فائلیں ڈی جی صاحب کے پاس جا رہی تھیں اور روٹین کے احکامات لے کر واپس آ رہی تھیں۔ ڈی جی صاحب اس طرح کام کر رہے تھے جیسے ابھی اُنہوں نے مہینوں اور رہنا ہے۔ شام چار بجے کے قریب وہ معمول کے مطابق تنِ تنہا اپنے دفتر سے نکلے ،گاڑی میں بیٹھے اور گھر روانہ ہو گئے۔تمام سٹاف کو منع کردیاگیا تھا کہ کوئی ان کو الوداع کہنے کے لئے باہر نہ آئے۔

ڈائریکٹر صاحبان نے غالباً دن کو ہی اُن کے دفتر میں اُن سے الوداعی ملاقاتیں کرلی تھیں۔ ہم نے اپنے کمروں کی کھڑکیوں سے اُن کو ہر روز کی طرح اپنے دفتر سے نکلتے اور گاڑی میں بیٹھ کر جاتے دیکھا۔ معمول کے مطابق پندرہ منٹ کے بعد گاڑی اُن کو اُن کے گھر چھوڑ کر واپس آ گئی اور پھر کبھی اُن کے پاس واپس نہ گئی۔اُن دنوں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کے پاس گھر اور دفتر کے لئے صرف یہی ایک گاڑی ہوتی تھی۔ سرکاری گھر بھی وہ ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل ہی چھوڑ کر اپنے نوتعمیر شدہ گھر میں شفٹ ہوچکے تھے۔ ہم چاروں بیچ میٹس کو ایف آئی اے میں کام کرتے تقریباً دو سال ہونے کو تھے۔ جب ہم بجھے دل کے ساتھ ایف آئی اے میں رپورٹ کرنے آئے تھے تو میں سوچا کرتاتھا کہ دیکھیں ہم میں سے کون سب سے پہلے پولیس میں واپس جاتاہے۔ ریاض نعیم ایک بہت سینئر ڈی آئی جی مرزا نعیم الدین کے بیٹے ہیں۔ ہمارے ڈی جی صاحب بطور اے ایس پی جناب مرزا نعیم الدین کے ماتحت کام کرچکے تھے۔ جاوید نور(اب مرحوم) ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جس میں کچھ اعلیٰ فوجی افسران بھی تھے۔ پر ویز اخترایک ایس ایس پی منظور احمد خان کے داماد اور اُن کے چچا سسر جناب مشکور احمد خان اُن دنوں ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تھے ،جبکہ میرے خاندان میں دُور دُور تک نہ کوئی سرکاری ملازم تھا اور نہ کوئی سیاست دان ۔ میں خیال کرتا تھا کہ یہ سب لوگ اپنے اپنے تعلقات اور اثرورسوخ کی بناء پر جلد ایف آئی اے سے نکل جائیں گے، میں اکیلا رہ جاؤں گا ۔تاہم دوسال ہونے کو آئے تھے اور ہم میں سے کوئی بھی اپنی پوری خواہش کے باوجود ایف آئی اے سے نہ نکل سکا۔
پنجا ب میں ہمارے وقتوں کے آئی جی جناب لئیق احمد خان کی جگہ جناب صباح الدین جامی آچکے تھے ،جن کو دیکھنا اور ملنا تو کُجا ہم جیسے جونیئر افسروں نے اُن کا کبھی نام بھی نہ سُنا تھا۔ خود انہوں نے سترہ سال کے بعد پولیس کی وردی دوبارہ پہنی تھی۔سوکسی طرف سے اُمید کی کوئی کرن نظر نہ آتی تھی۔ اِنہی دِنوں ایک روز میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایکسچینج کے آپریٹر نے بزر دے کر کہا ’’سر!آئی جی پنجاب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں‘‘۔مَیں نے حیرت اور بے یقینی کی ملی جلی کیفیت میں پوچھا ’’آئی جی پنجاب ؟‘‘ اس نے کہا،جی ہاں، آئی جی پنجاب‘‘۔ مَیں نے پھر پوچھا ’’مجھ سے ،یعنی الطاف قمر سے؟‘‘ اُ س نے کہا ’’جی ہاں سر!آپ سے۔ ‘‘ میں گڑ بڑا گیا ۔آئی جی پنجاب نے مجھ سے کیا بات کرنی ہے؟ اگر ایف آئی اے سے متعلق کوئی بات ہے تو وہ ڈی جی یا میرے ڈائریکٹر سے بات کرتے۔بہرحال مَیں نے تُھوک نگلتے ہوئے کہا ’’ملائیں‘‘۔ہمارے آپریٹر نے آئی جی صاحب کے آپریٹر کو لائن دے دی ۔ اُس نے میرا نام کنفرم کرکے لائن آئی جی صاحب کو دے دی۔ ’’ہیلو قمر! کیا حال ہے؟میں جامی بول رہاہوں۔‘‘ میں اضطراری اور اضطرابی کیفیت میں بولا ’’سر! السلام علیکم۔ میں ٹھیک ہوں سر!‘‘بولے ’’ایف آئی اے میں ہی دل لگالیاہے۔ پنجاب نہیں آنا؟‘‘ میرے سر پر حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔مَیں نے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے کہا ’’سر!اس سے زیادہ خوشی کی بات میرے لئے کیا ہو سکتی ہے‘‘۔وہ بولے ’’اچھا! باقی سب ٹھیک ہے ؟‘‘ مَیں نے کہا’’سر! سب ٹھیک ہے۔ اللہ کا شکر ہے‘‘۔ آئی جی صاحب نے فون بندکردیا۔مَیں کتنی ہی دیر شدتِ جذبات سے گُم سُم بیٹھا رہا ۔یہ سب کیا ہوا ؟ حقیقت ہے یا وہم؟ مجھے نارمل ہونے میں کچھ دیر لگی۔ دوچار دن گزرگئے ۔مَیں سوچتا رہا کہ مَیں کس سے پوچھوں کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ آئی جی کے پرسنل سٹاف میں اُن کا پی ایس، پی ایس او ، اور ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز ہوتے ہیں۔ کس سے پوچھوں اور کس طرح پوچھوں! بات تو آپریٹروں کے ذریعے براہِ راست ہوئی تھی! اسی سوچ بچار میں ایک ہفتہ گذر گیا کہ اچانک ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں خبر اُڑی کہ الطاف قمر کے پنجاب کے آرڈر ہوگئے ہیں۔حیرت پر حیرت! ابھی آرڈر کی کاپی کی تلاش میں ہی تھا کہ پتہ چلا کہ حکومتِ پنجاب نے میری تعیناتی بطورایڈیشنل ایس پی(ایس پی سیکورٹی اینڈ ٹریفک) راولپنڈی کردی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کاخاص کرم اور آئی جی صاحب کی خاص مہربانی تھی کہ بیٹھے بٹھائے ذرا سی بھی تگ ودو کے بغیر میری پنجاب پولیس میں واپسی ہوگئی۔ اورپھر پورے دوسال ایف آئی اے میں گزار کر اپنے ساتھیوں کو وہیں حیران وششدر چھوڑ کرمیں نے جولائی 1986ء میں براہ راست راولپنڈی میں ایس پی سیکیورٹی اینڈ ٹریفک کا چارج سنبھال لیا۔

dailypakistan.com.pk

http://dailypakistan.com.pk/E-Paper/Lahore/2017-08-06/page-16/detail-2

ایبٹ آباد میں ورود



5جولائی 1989ء کو مَیں نے ایس ایس پی ایبٹ آباد کا چارج سنبھالا۔صوبہ خیبرپختونخوا کے خوبصورت ترین خطوں میں سے ایک خطہ ہزارہ، اور ہزارہ کی خوبصورت ترین وادیوں میں سے ایک وادی، ایبٹ آباد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے براستہ ریحانہ (صدر ایوب خان کا آبائی گاؤں) 110 کلومیٹر، براستہ حسن ابدال 143 کلو میٹر، صوبائی دارالحکومت پشاور سے 155 کلومیٹر اور جی ٹی روڈ پر واقع حسن ابدال کیڈٹ کالج سے تقریباً 70کلومیٹر کے فاصلے پر شاہراہِ قراقرم(KKH) جسے شاہراہِ ریشم (Silk Route)بھی کہتے ہیں پر واقع ہے۔ شاہراہِ قراقرم اب چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا حصہ بن گئی ہے۔ یہی وہ شہر ہے، جہاں سے کچھ سال قبل اسامہ بن لادن پکڑا اور ماراگیا۔ پہلے صرف برصغیر پاک و ہند کے عوام اور سیر وسیاحت کے شوقین غیر ملکی باشندے ہی اس شہر کو اپنی خوبصورتی اور پُرفضا سیاحتی مقام ہونے کے ناطے سے جانتے تھے، لیکن اسامہ بن لادن والے واقعہ کے بعد تو اب ساری دنیا اس شہر کے نام اور محلِ وقوع سے واقف ہوگئی ہے۔ 

1849ء میں خطہ ہزارہ کے سکھوں کے قبضے سے نکل کر انگریزوں کے قبضے میں آنے کے بعد کیپٹن جیمز ایبٹ اس خطے کا پہلا نگرانِ اعلیٰ اور ڈپٹی کمشنر مقرر ہوا۔ اُس وقت ہری پور اس خطے کا صدر مقام ہواکرتا تھا ۔ جیمز ایبٹ نے سب سے پہلے موجودہ ایبٹ آباد کے مقام پر ایک فوجی چھاؤنی بنائی اور پھر اس کے ساتھ ہی ایک شہر کی بنیاد رکھی۔ جیمز ایبٹ کے بعد آنے والے ڈپٹی کمشنر نے 1853ء میں اس نئے شہر کے خدوخال نکل آنے پر اسے (تب)میجر جیمز ایبٹ کے نام سے موسوم کرکے اِسے ضلع ہزارہ کا ہیڈ کوارٹر بنالیا۔ یہ شہر چارو ں طرف سے سربن اورشملہ کی خوبصورت پہاڑیوں کے درمیان ایک پیالہ نما قطعہ زمین پرواقع ہے۔کہتے ہیں کہ زمانہ قبل از تاریخ میں یہ پیالہ ایک جھیل تھی جو رفتہ رفتہ خشک ہوکر ایک خوبصورت واد ی میں تبدیل ہوگئی۔ سواسوسال تک پورا خطہ ہزارہ ایک ضلع اور پشاور ڈویژن کا حصہ رہا۔

 1976ء میں ضلع ہزارہ کو ڈویژن کا درجہ دے کر اسے تین اضلاع ایبٹ آباد، مانسہرہ اور کوہستان میں تقسیم کردیاگیا۔ ایبٹ آباد کاشہر ہزارہ ڈویژن اور ضلع ایبٹ آباد دونوں کا ہیڈکوارٹرز قرار پایا۔1991ء میں ایبٹ آباد کی تحصیل ہری پور کو ضلع کا درجہ دے دیاگیا۔اسی طرح 1993ء میں تحصیل بٹگرام کو ضلع مانسہرہ سے الگ کرکے ضلع بنادیاگیا۔ 2012ء میں ضلع مانسہرہ ہی سے کالا ڈھاکہ اور اس کے گردونواح کے علاقے کو کاٹ کر طورغر کے نام سے ایک مزید ضلع بنادیاگیا۔ 2017ء میں ضلع کوہستان کو بھی لوئر کوہستان اور اَپر کوہستان کے نام سے دواضلاع میں تقسیم کردیاگیا۔ یوں یہ خطہ ہزارہ جو 1976ء تک ایک ضلع تھا ،آج سات اضلاع پر مشتمل ایک ڈویژن ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ ہزارہ نا م کا کوئی ضلع اس ہزارہ ڈویژن میں وجود نہیں رکھتا۔ میرے وقت تک ہری پور ضلع ایبٹ آباد کا ہی حصہ تھا۔ میرے بعد یہ الگ ضلع بنا۔ یوں میں متحدہ ایبٹ آباد کا آخری ایس ایس پی تھا۔ ایبٹ آباد شہر کو گھوم پھر کر دیکھیں تو یہ فوجی اور تعلیمی اداروں کا ایک بہت بڑا کیمپس دکھائی دیتاہے۔

اس شہر کی آب وہوا اس قدر عمدہ ہے کہ انگریز کے وقت سے ہی اِسے رہائشی (boarding) تربیتی اور تعلیمی اداروں کے لئے موزوں ترین سمجھاجاتاہے۔ ایبٹ شہر میں واقع پاکستان ملٹری اکیڈمی،بلوچ رجمنٹ، فرنٹیئر فورس رجمنٹ اور آرمی میڈیکل کور کی مرکزی تربیت گاہیں اورنتھیا گلی کے قریب کالا باغ کے مقام پر ائیر فورس کی تربیت گاہ میری تعیناتی سے بہت پہلے سے یہاں قائم تھیں۔ تعلیمی اداروں میں پاکستان بھرمیں اپنی منفرد شناخت رکھنے والے ادارے آرمی برن ہال سکول اور ایبٹ آباد پبلک سکول بھی مجھ سے پہلے موجود تھے۔ ایوب میڈیکل کالج میرے سامنے تعمیر اور فعال ہوا، جبکہ فرنٹیئر میڈیکل کالج، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کامسٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، پاکستان انٹرنیشنل پبلک سکول اینڈ کالج میرے بعد قائم ہوئے۔ ان کے علاوہ درجنوں دیگر سرکاری اوراعلیٰ معیارکی پرائیویٹ درسگاہیں ایبٹ آباد میں علم کی روشنی پھیلارہی ہیں۔ اِن تعلیمی اداروں کی بدولت ایبٹ آبادکی شرح خواندگی ملک بھر میں سب سے زیادہ (87فیصد)ہے۔ نتھیاگلی، ڈونگا گلی، چھانگلہ گلی، خیرہ گلی،ایوبیہ، ٹھنڈیانی اور میراں جانی ضلع ایبٹ آباد کی خوبصورت پہاڑی چوٹیاں اور سیرگاہیں ہیں۔ خانپور ڈیم، تربیلا ڈیم اور حطار انڈسٹریل اسٹیٹ بھی میرے وقت تک ضلع ایبٹ آباد کا حصہ تھی۔

مجھ سے پہلے پولیس سروس آ ف پاکستان کے بڑے بڑے نامور سپوت ضلع ہزارہ یا ایبٹ آباد کے ایس ایس پی رہے۔ اِن میں سے بہت سے بعد ازاں کسی نہ کسی صوبے کے آئی جی تعینات ہوئے۔بعض دودواور تین تین صوبوں کے بھی آئی جی رہے۔ جب میں نے ضلع ایبٹ آباد کا چارج سنبھالا اُس وقت جناب بریگیڈئیر (ر) امیر گلستان جنجوعہ صوبہ سرحد کے گورنر، جناب آفتاب احمد خان شیرپاؤ اس کے وزیر اعلیٰ، جناب عمر آفریدی اس کے چیف سیکرٹری اور جناب محمد عباس خان اس کے انسپکٹر جنرل پولیس تھے۔ جناب عبدالحمید خان ہزارہ ڈویژن کے کمشنر، جناب میجر (ر) فقیر ضیاء معصوم اس کے ڈی آئی جی (بعد میں آئی جی بلوچستان )اور جناب عطاء اللہ خان ضلع ایبٹ آباد کے ڈپٹی کمشنر (بعد میں وفاقی سیکرٹری)تھے۔ ایک رینکر افسر عبدالحمید خان ایبٹ آباد کے ایس پی ہیڈکوارٹرز اور موجودہ کمانڈنٹ فرنٹیئر کانسٹیبلری لیاقت علی خان اے ایس پی سٹی ایبٹ آباد تھے جو چند ماہ بعدمیرے دور میں ہی ترقی یاب ہوکریہیں ایس پی ہیڈکوارٹرز تعینات ہوگئے۔ائیر مارشل اصغر خان، گوہرایوب خان(بعد میں سپیکر قومی اسمبلی اور وزیرِخارجہ) ،سردار مہتاب احمد خان عباسی(بعد میں وزیراعلیٰ سرحد اور گورنر خیبرپختونخوا)، جاوید الرحمن عباسی (موجودہ ڈپٹی سپیکرقومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی کے والد)،امان اللہ جدون، بابا حیدرزمان(تب چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل ایبٹ آباد)،راجہ سکندر زمان (بعد میں نگران وزیرِاعلیٰ)، یوسف ایوب (تب صوبائی وزیر)، پیر صابر شاہ(بعد میں وزیراعلیٰ سرحد)،محمد ایوب تنولی(تب صوبائی وزیر)اور حبیب الرحمن تنولی وغیرہم اُن دنوں ضلع ایبٹ آباد کے سرکردہ سیاستدان تھے۔ ایبٹ آباد کا چارج سنبھالنے کے بعد میں نے نہایت توجہ اور دلجمعی کے ساتھ اپنے فرائض کی بجاآوری شروع کر دی، تاہم میرے دماغ میں ایک اُلجھن موجود تھی کہ میری طرف سے کسی توقع ، کوشش یاسفارش کے بغیر اور حکومت کی طرف سے کوئی اشارہ دیئے ، مشورہ کئے یا رضامندی جانے بغیر مجھ جیسے نووارداور اجنبی کی صوبے کی اس اہم پوسٹ پر تعیناتی کیسے اور کس بنیاد پر کی گئی ؟ تاہم کچھ دنوں بعد ایک باوثوق ذریعے سے ملنے والی معلومات سے یہ عُقدہ کسی حد تک حل ہوگیا۔ ہوا درحقیقت یوں تھاکہ جن دنوں میں نے صوبہ سرحد میں حاضری کررکھی تھی، لیکن ابھی میری کسی جگہ پوسٹنگ نہیں ہوئی تھی، ایبٹ آباد میں ایک بہت اہم واقعہ ہوگیا۔ ہزارہ ڈویژن کے ڈی آئی جی جناب مظہر شیرخان بہت یارباش قسم کے آدمی تھے۔ ہری پور کی ترین فیملی کے کچھ لوگوں سے ان کی دوستیاں تھیں ۔ یہ بے تکلف دوست تقریباً ہر روز شام کو ڈی آئی جی ہاؤس میں محفل جماتے ، تاش شطرنج کھیلتے، کھاتے پیتے اور خوش گپیاں کرتے۔

ایک دن نہ جانے کیاہوا کہ ڈی آئی جی مظہر شیر خان او ر اشر ف ترین اور امان اللہ ترین (تب سپیکر سرحد اسمبلی) کے درمیان کسی بات پر تلخی ہوگئی۔ اشرف ترین نے غصے میں ریوالور نکالا اور ڈی آئی جی صاحب کو وہیں اُن کے اپنے گھر میں قتل کردیا اور بھاگ نکلا۔ اس اندوہناک واقعہ پر صوبے بھر میں ایک کہرام مچ گیا، لیکن اس سے زیادہ بُرا یہ ہوا کہ یہ قتل ایبٹ آباد میں پختون بمقابلہ ہزارہ وال مخاصمت کا رنگ اختیار کرگیا ۔لسانی اور علاقائی عصبیتیں جاگ اُٹھیں۔ دونوں اقوام خم ٹھونک کر ایک دوسرے کے مقابل آکھڑی ہوئیں۔ یہاں تک کہ (جیساکہ مجھے بتایاگیا) ہزارہ سے تعلق رکھنے والے عوام وخواص پرکیا موقوف ، پولیس کے ہزارہ سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی اکثر یت نے مقتول ڈی آئی جی کاجنازہ نہ پڑھا۔ قتل کے اس افسوس ناک واقعہ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے لسانی اور علاقائی تعصب ،اوراس کے عملی مظاہرے نے صوبائی حکومت کو ہلاکر رکھ دیا۔ صوبائی حکومت ایبٹ آباد کی انتظامیہ سے سخت نالاں ہوئی ۔ اندریں حالات فیصلہ کیا گیا کہ ایبٹ آباد کی پوری انتظامیہ کو تبدیل کردیاجائے۔ مقتول ڈی آئی جی کی جگہ فوری طور پر جناب میجر (ر) فقیر ضیاء معصوم کو نیا ڈی آئی جی، جبکہ جناب عبدالحمید خان اور جناب عطاء اللہ خان طورو کو بالترتیب نیا کمشنر ہزارہ ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد تعینات کردیاگیا۔ اسسٹنٹ کمشنر اور سب ڈویژنل پولیس افسرایبٹ آباد بھی تبدیل کردیئے گئے۔ ایس ایس پی کو بھی بدلنے کا فیصلہ ہوچکاتھا ،لیکن چونکہ امن وامان کی صورت حال کو کنٹرول کرنا تھا، خصوصاً اِس قتل کیس کی تفتیش ،ملزمان کی گرفتاری اور مقدمے کو چالان عدالت کرنے جیسے بہت سے اہم مراحل ابھی طے ہوناباقی تھے ،نیز کچھ دنوں کے بعد پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت صوبائی اسمبلی کے بجٹ سیشن کوپہلی بارایبٹ آباد میں منعقد ہونا تھااورصوبائی حکومت اِسے منسوخ کرکے کسی قسم کی کمزوری کا کوئی تاثر نہیں دینا چاہتی تھی، چنانچہ ایک تجربہ کار ،تمام حالات وواقعات اور لوگوں سے بخوبی واقف اوراعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل ایس ایس پی جناب فیاض طورو کو ان امور کی تکمیل تک روک لیا گیا۔ اس دوران نئے ایس ایس پی کا تقرر زیرِ غور رہا۔ صوبے کے بڑوں نے دیگر ناموں کے ساتھ ساتھ میرے نام پر بھی غور کیا۔ اُن معروضی حالات میں انہیں کو ئی غیر متنازعہ ،غیر جانبدار، ترجیحاً صوبہ غیر کا اور مناسب سینیارٹی کا کوئی افسر درکارتھا۔ میں نہ پختون تھا ،نہ ہزارہ وال۔ میں نے صوبہ سرحد میں اس سے پہلے کہیں کام نہیں کیا تھا۔ میرا صوبے کی کسی علاقائی، لسانی، مذہبی یاسیاسی شخصیت، گروہ، گروپ یا پارٹی سے کوئی تعلق یا تعارف نہیں تھا۔ میری سنیارٹی بھی مطلوبہ معیار کے مطابق تھی اور میری آخری پوسٹنگ بھی ایبٹ آباد سے ہر اعتبار سے کہیں زیادہ مشکل ضلع گوجرانوالہ کے ایس ایس پی کی تھی، لہٰذا بڑوں نے اس موقع پر مجھے ا س پوسٹ کے لئے موزوں سمجھا اور فیصلہ ہوا کہ متذکرہ بالا ضروری امور کی تکمیل کے بعد مجھے ایس ایس پی ایبٹ آباد لگادیاجائے، لیکن میں ان تمام حالات اورسوچ سے بے خبر اپنی پوسٹنگ کے لئے یاددہانی اور درخواست کرنے کی غرض سے وقت سے ذرا پہلے ہی آئی جی صاحب کے سامنے جاپیش ہوا ۔ انہوں نے مجھے ٹالنے یا مزید انتظار کرنے کا کہنے کی بجائے کمال مہربانی کرتے ہوئے اسی دن میری ایبٹ آباد تقرری کا پروانہ جاری کروا دیا، تاہم پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق چارج بیس روز بعد بجٹ سیشن کے اختتام پر میرے حوالے کیا گیا۔ یہ سب ایک اندرونی انتظامی حکمت عملی تھی جس کا وزیراعلیٰ ،آئی جی اور چیف سیکرٹری کے سوا شاید کسی اور کو علم نہ تھا۔ بہرحال جو بھی ہوا اور جس طرح بھی ہوا،اب مجھے اپنے انتخاب کو درست ثابت کرناتھا۔


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

صوبہ سرحد (خیبر پختوں خواہ ) میں آمد


گوجرانوالہ سے حالات کے جبر کا شکار ہو کر نکلے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں بطور ایک’’ مجرم ‘‘رپورٹ کیے تقریباً تین ہفتے ہو چلے تھے۔ میں یہ تمام عرصہ لاہور میں اپنے گھر گوشہ نشین رہا اور مسلسل سوچتا رہا کہ وفاقی حکومت میرے ساتھ کیا سلوک کرے گی ۔جواب ملتا کہ اگر معاملات دفتر کے لگے بندھے معمول کے مطابق چلے (جس کا امکان بہت کم تھا)تو حکومت مجھے صوبہ سندھ، بلوچستان یا سرحد میں سے کسی ایک میں بھیج دے گی۔ نامہرباں ہوئی تو ایف آئی اے، اِنٹیلجنس بیورو یا پولیس اکیڈمی بھیج دے گی۔ زیادہ نامہربان ہوئی تو مجھے کسی وفاقی دفتر میں سیکشن افسر لگادے گی۔ اگر غصے میں ہوئی تو اوایس ڈی بناکر بٹھا چھوڑے گی۔ اگرزیادہ غصے میں ہوئی تو غیر معینہ مدت کے لئے بغیر کسی پوسٹنگ کے یونہی معلق رکھے گی(جیسا کہ میں اُس وقت تھا) اور پھر بھول جائیگی، اور اس دوران میں تنخواہ سے بھی محروم رہوں گاکیونکہ اس کے لئے کسی نہ کسی پوسٹ پر تعینات ہونا ضروری ہوتا ہے، خواہ وہ اوایس ڈی کی ہی ہو۔اور اگر بہت ہی زیادہ غصے میں ہوئی تو انضباطی کارروائی کا آغاز بھی کرسکتی ہے۔ میں اس موضوع پر جتنا سوچتا اُتنا ہی اُلجھتا چلاجاتا۔ اور پھر ایک دن میں نے فیصلہ کیا کہ گھر بیٹھے رہنے سے یہ معاملہ حل نہیں ہوگا ۔مجھے باہر نکلنااور اپنا راستہ بناناہوگا۔ 

مجھے اس بات کا اچھی طرح ادراک ہوچکاتھا کہ ہمارے سارے ملازمتی معاملات وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ راؤ عبدالرشید خاں کے ہاتھ میں ہیں اور ان تک پہنچے بغیر بات نہیں بنے گی۔ میں نے اُن سے براہ راست ملنے کا فیصلہ کرلیا ۔میرے یہ فیصلہ کرنے میں ہمارے ایک سینئر پولیس افسر جناب خالد لطیف کی ایک موقع پر ہم جونیئر افسران کو کی گئی ایک نصیحت کو بہت دخل تھا ۔ آپ نے کہا تھا کہ ’’یادرکھیں ! افسر اپنی سفارش خود ہوتاہے۔ جب کبھی کوئی ایساموقع پیش آئے ، متعلقہ بندے سے خود بات کریں۔ ادھر اُدھر سے مت کہلوائیں۔‘‘ راؤ عبدالرشید خاں صاحب سے میرا بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی تعارف نہ تھا ۔ میں نے کبھی اُن کو دیکھا تک نہ تھا۔ 1978میں جب ہم پولیس کالج سہالہ میں پولیس کی ابتدائی تربیت حاصل کررہے تھے وہ جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں ذوالفقار علی بھٹوکے خصوصی ساتھی اور معاون ہونے کے’’ الزام‘‘ میں جبری ریٹائرکئے جاچکے تھے۔ میرا ان سے کُل تعارف مشہور صحافی منیر احمد منیر کو دیئے گئے ان کے ایک طویل انٹرویو پر مبنی کتاب ’’جومیں نے دیکھا‘‘ کے توسط سے تھا ۔ میں نے پیپلز پارٹی کے ایک پرانے رہنماکے ذریعے راؤ صاحب سے ملاقات کا وقت لیا اور وقت مقررہ پر اسلام آباد اُن کے دفتر جاپہنچا ۔

راؤ عبدالرشید خاں صاحب بہت دبنگ، اکھڑ ، سخت گیر اور بڑے بڑوں کو خاطر میں نہ لانے کی شہرت رکھتے تھے ۔ جس کی چند جھلکیاں میں گوجرانوالہ میں دیکھ چکا تھا۔ خلاف توقع بڑی شفقت اور ملائمت سے ملے ۔میں نے حوصلہ پاکر انہیں گوجرانوالہ کی ساری صورتحال تفصیل سے بتائی اور کہا کہ آپ لوگوں کو یہاں مرکز میں صورت حال کی بہت غلط رپورٹنگ ہوتی رہی ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ ضمنی انتخابات کے دوران اول تو کسی قسم کی کوئی دھاندلی ہوئی ہی نہیں ، لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہوئی تھی تو بتائیں کیا اس میں کسی بھی اعتبار سے پولیس ملوث تھی؟ کیا الیکشن والے دن دھاندلی کی کوئی ایک بھی شکایت کسی بھی فریق کی طرف سے کی گئی؟ کوئی ایک بھی جعلی ووٹر یا ووٹ پکڑ ا گیا؟پوری انتخابی مہم کے دوران کسی بھی جگہ پولیس نے پیپلز پارٹی کے خلاف یا مسلم لیگ کے حق میں کوئی کام کیا؟ میں نے شناختی کارڈ والے واقعہ کی بھی تفصیل اور اس ضمن میں پولیس کی مثبت کارروائی کاذکرکیا ۔ میں نہ جانے کیاکچھ بولتاچلاگیا اور وہ سنتے چلے گئی۔ آخر میں میں نے بالکل کھلے الفاظ میں شکایتاً یہ بھی کہہ دیا کہ وفاقی حکومت نے ہم دونوں (مجھے اور میرے ڈی آئی جی ) کو انتہائی نیک نیتی اور غیرجانبداری سے کام کرنے کے باوجود جانبداری کا الزام لگاکر بطور ملزم واپس بلاکر ہمارے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔ راؤ صاحب خاموشی اور انہماک کے ساتھ سب کچھ سنتے اور اگلی نسل کے ایک نوجوان پی ایس پی افسر کو اپنے بے کراں تجربہ کی روشنی میں کھنگالتے، ٹٹولتے اور تولتے رہے ۔اور پھرشاید اُنہیں اگلی نسل کے اس جونیئر افسر کی صاف گوئی ، سچائی اور بے باکی بھاگئی۔ جب میں چُپ ہوا تو قدرے مسکرا کر نہایت متانت اور نرمی سے بولے ’’تو پھر اب کیاہوسکتاہے؟میں آپ کو اب پنجاب تو واپس نہیں بھیج سکتا۔‘‘ میں نے کہا ’’سر!میں بھی سمجھتاہو ں کہ اب یہ ممکن نہیں۔ اگر آپ بھیج بھی دیں تو اب پنجاب والے ہمیں قبول نہیں کریں گے۔ میری اب آپ سے صرف اتنی درخواست ہے کہ میں چونکہ لاہور کا رہنے والا ہوں ، مجھے کہیں دُور دراز بھیجنے کی بجائے کہیں قریب ہی تعینات کر دیں ۔ اس لحاظ سے صوبہ سرحدہی قریب ترین ہے۔ 
‘‘ انہوں نے اثبات میں سرہلادیا اور میں سلام اور شکریہ اداکرکے باہر نکل آیا۔ اُسی روز میری خدمات حکومتِ سرحد کے سپرد کردی گئیں۔ میں نے صوبہ سرحد میں کبھی نوکری نہیں کی تھی اور نہ وہاں کسی کو جانتاتھا۔ مجھے صرف یہ علم تھا کہ وہاں کے آئی جی محمد عباس خان ہیں(جو بعد میں آئی جی پنجاب بھی رہے۔ پولیس سروس آ ف پاکستان کا ایک بہت بڑا نام۔) اوراُن کی شہرت بہت اچھی ہے، اور بس۔ میرا اُن سے کوئی تعارف یا ملاقات نہیں تھی ۔ خود اُنہوں نے تو شاید کبھی میرا نام بھی نہ سُنا ہوگا ۔نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے ایک دوروز بعد میں ایک شام پشاور پہنچا ۔ فرنٹیئ کانسٹیبلری کے ریسٹ ہاؤس میں قیام کیا ۔ اگلی صبح لوگوں سے پوچھتا پوچھاتا چیف سیکرٹری کے دفتر پہنچا ۔ چیف سیکرٹری جناب عمر آفریدی دفتر میں موجود نہ تھے ۔ میں نے ڈپٹی سیکرٹری سروسز کے پاس اپنی حاضر ی کی رپورٹ کی ، اپنا لاہور کا ایڈریس اور رابطہ نمبر دیا اور درخواست کی کہ پوسٹنگ کی کوئی تجویز بنے یا پوسٹنگ آرڈر نکلے تو براہ کرم اطلاع کردیں ۔ وہاں سے آئی جی آفس آیا ۔ آئی جی صاحب موجود تھے۔ سرسری سی ملاقات ہوئی۔ میں نے اُنہیں مختصراًبتایاکہ میں پنجاب سے ٹرانسفر ہوکر آیاہوں۔چیف سیکرٹری آفس میں حاضری کردی ہے ۔ کسی مناسب جگہ پر تعیناتی کرادیجئے۔ آئی جی صاحب سے ملاقات کے بعد میں نے وہیں سے گاڑی کا رُخ موڑا اور رات تک لاہور لوٹ آیا۔ پشاور رپورٹ کئے جب ایک ماہ گذر گیا اور وہاں سے کوئی خیر خبر نہ آئی تو میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے ایک بار پھر پشاور جاناچاہیے اور آئی جی صاحب سے دوبارہ درخواست کرنی چاہیے کہ وہ مجھے کسی مناسب جگہ تعینات کردیں۔ چنانچہ یونیورسٹی ٹاؤن میں زرعی یونیورسٹی کا ریسٹ ہاؤس بُک کروایا، فیملی کو ساتھ لیا اور پشاور کی راہ لی۔ ارادہ یہ تھا کہ آٹھ دس دن رہیں گے۔ پہلے آئی جی صاحب سے ملاقات ہوگی اور اس کے بعد پشاور اور آس پاس کو خوب اچھی طرح گھوم پھر کر دیکھیں گے اور اگر اِس دوران پوسٹنگ ہوگئی تو اس کے مطابق نیا لائحہ عمل تیار کریں گے، ورنہ واپس لوٹ آئیں گے۔ شام پشاور پہنچ کر اگلی صبح امید وبیم کی کیفیت میں آئی جی صاحب سے ملنے روانہ ہوا۔ میں صوبہ میں نووارد تھا، نہ کوئی کام اور ماحول کاتجربہ اور نہ کسی سے کوئی تعلق وتعارف ۔ اس لئے میری زیادہ سے زیادہ توقع یہ تھی کہ جب کبھی مجھے لگانا ہوا توکسی دفتری پوسٹ پر لگادیاجائے گا۔بہرحال دفتر پہنچا ۔آئی جی صاحب تشریف رکھتے تھے۔ اطلاع کروائی ۔ 
آئی جی صاحب نے فوراً بلالیا ۔ وہ اکیلے تھے۔ میں سلام کرکے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔وہ فائلیں دیکھنے اور ڈاک نکالنے میں مصروف تھے ۔ میں کافی دیر خاموش بیٹھا رہا۔ انہوں نے میری طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھااور نہ کوئی بات کی۔ میں اس سردمہری سے مایوس ہوکر اُٹھ کھڑا ہوا اور اجازت چاہی ۔ آئی جی صاحب نے اشارے سے بیٹھنے کیلئے کہااور خود بدستور ڈاک نکالنے میں مصروف رہے۔ مزید کچھ دیر میں انہوں نے اپنا کام مکمل کیا ، آخری فولڈر بند کیا اور میری طرف متوجہ ہوئے ۔ رسمی علیک سلیک کے بعد حرفِ مدعازبان پرلانے کیلئے میں ابھی مناسب الفاظ ہی سوچ رہاتھا کہ خود ہی بولے ’’میں آپ کو ایس ایس پی ایبٹ آباد لگارہاہوں‘‘ اور پھر ساتھ ہی مجھے ایبٹ آباد کے بارے میں ضروری معلومات اور ہدایات دینا شروع کردیں۔ حیرت سے میری زبان گُنگ ہوگئی۔ ایس ایس پی ایبٹ آباد صوبہ خیبر پختونخوا کی ایک اہم اور پرائز پوسٹ سمجھی جاتی ہے جہاں کسی تجربہ کار اور علاقائی سیاست کی اونچ نیچ او ر اہل علاقہ کو سمجھنے والے، یا اہلِ اقتدار کے کسی قریبی عزیز ،یاپھر کسی چہیتے افسر کو لگایاجاتاہے۔عالمِ حیرت میں اضطراری طور پر میرے منہ سے نکلاکہ’’سر! آرڈر ہوگئے ہیں‘‘ کہنے لگے’’نہیں! ابھی ہوجاتے ہیں۔میں چیف سیکرٹر ی کو کہتاہوں۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے انٹر کام اُٹھا یا اور چیف سیکرٹری کو میرا نام بتاکر کہا کہ اس کے ایس ایس پی ایبٹ آباد کے آرڈر کردیں۔ حیرت پر حیرت، کیا یوں بھی ہوتاہے! میں آئی جی صاحب کا ٹھیک طرح سے شکریہ بھی ادانہ کرسکا اور بھیگی آنکھوں سے سلام کرکے باہر نکل آیا۔کچھ دیر تک اپنے حواس بحال کئے اورپھر ڈپٹی سیکرٹری سروسز کے پاس پہنچا۔ وہاں اطلاع پہنچ چکی تھی اور پھر ایک آدھ گھنٹے میں میرے بیٹھے بیٹھے محکمہ سروسز سے میرے ایس ایس پی ایبٹ آباد کے آرڈر جاری ہو گئے۔ اگلے روز میں نے ایس ایس پی ایبٹ آباد جناب فیاض احمد طو روکو جو مجھ سے ایک بیچ سینئر تھے فون کیا اور پوچھا کہ میں کب آؤں۔ انہوں نے کہا وہ آئی جی صاحب سے بات کرکے جواب دیں گے ۔(آج جناب فیاض احمد طورو کا شمار پولیس سروس آف پاکستان کے چند بہترین اور نیک نام افسروں میں ہوتاہے)شام تک مجھے آئی جی آفس سے مطلع کیاگیا کہ چونکہ ان دنوں ایبٹ آبادمیں سرحد اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہورہاہے ،ساری صوبائی اسمبلی ،گورنر ،وزیراعلیٰ اور پوری صوبائی کابینہ وہیں موجود ہے۔سکیورٹی اورپروٹوکول کے علاوہ اِن لوگوں سے ذاتی جان پہچان اورواقفیت بھی بہت ضروری ہے ، لہذا فیصلہ کیاگیا ہے کہ موجود ہ ایس ایس پی اسمبلی کے موجود ہ سیشن کے اختتام تک بدستور اپنے فرائض انجام دیتے رہیں۔ آپ جولائی کے پہلے ہفتے میں آ پس میں طے کرکے چارج لیں۔ میں نے کہا کہ بہت اچھا! میں نے اس وقت کو غنیمت جانااور اپنے مجوزہ پروگرام کے مطابق پہلے پشاور کو اچھی طرح گھوم پھرکر دیکھااور پھر سوات، بحرین اور کالام کا رُخ کیا۔ پچھلے چند ماہ کی موسم اورحالات وو اقعات کی حدت اورتپش نے میرے جسم اور رُوح دونوں کو جُھلسا کر رکھ دیا تھا۔اِن حالات میں یہ سیروتفریح میری اور میری فیملی کیلئے قدرت کی طرف سے جھونکاء جانفزاء اور جنت نظیر وادیوں پر مشتمل پاکستان کے سب سے خوبصورت صوبے کی طرف سے ایک خیرمقدمی تحفہ تھا۔ہفتہ بھر کی بھرپور سیروسیاحت کے بعدہم تازہ دم ہوکر لاہور لوٹ آئے۔ بالآخر 4جولائی 1989کو میں لاہور سے سیدھا ایبٹ آباد پہنچا۔ اگلی صبح جناب فیاض احمد طورو نے اپنے دفتر میں میرا استقبال کیااور انتہائی پُروقار انداز میں ایس ایس پی ایبٹ آباد کا چارج میرے حوالے کرکے خود ایس ایس پی پشاور کا چارج سنبھالنے کیلئے پشاور روانہ ہوگئے


http://dailypakistan.com.pk/E-Paper/Lahore/2017-06-20/page-16/detail-6


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

حا لات کا جبر اور میرا پنجاب چھوڑنا

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

Kon jeeta kon haara? کون جیتا کون ہارا؟





الطاف قمر سابق انسپکٹر جنرل پولیس اپنے تجربات کو دلچسپ انداز میں تحریر کر رہے ہیں -  "کون جیتا کون ہارا؟" اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ، ملاحظہ فرمائیں..  پی ڈی ایف فائل :https://goo.gl/Wmk1sa




.
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

Altaf Qamar - Pakrna Ishtehari Mulzim پکڑنا اشتہاری ملزم کا اور صدر پاکستان کے سامنے پیشی

الطاف قمر سابق انسپکٹر جنرل پولیس اپنے تجربات کو دلچسپ انداز میں تحریر کر رہے ہیں -  "پکڑنا اشتہاری ملزم کا اور صدر پاکستان کے سامنے پیشی" اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ، ملاحظہ فرمائیں..  پی ڈی ایف فائل :https://goo.gl/NM5oqu


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

لگنا میرا اے ایس پی ٹریفک راولپنڈی Altaf Qamar as ASP Traffic Rawalpindi

الطاف قمر صاحب پاکستان کے چند مائہ ناز ایماندار اور پروفیشنل پولیس افسروں میں ایک ہیں جو انسپکٹر جنرل پولیس کے اعلی عھدہ سے ریٹائر ہوۓ۔ دوستوں کے اصرارپر انہوں نے اپنے طویل کیرئیر کے تجربات کو ہماری راہنمائی کے لئیے لکھنا شروع کیا ہے۔ تلخ حقائق اور امید کی کرنیں ایک اچھے مستقبل کی نوید ہیں-  
اس سلسلہ کی تیسری تحریر میں وہ راولپنڈی میں بطور ASP ٹریفک  کے تجربات دلچسپ انداز میں بیان کرتے ہیں - لنک پرpdf ملاحظہ کریں: https://goo.gl/x3OPsm



Image result for asp traffic



~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

Driving Rules - Road Safety Awareness

• Obey Traffic Lights/Signals
• Always follow road sign especially mandatory road signs (signs in circle shape)
• A valid driving license is required and must.
• Minimum driving age is 18 years.
• Use of mobile while driving is prohibited
• Seat belt is mandatory for driver
• Seat belt is mandatory for person seating at front seat
• Helmet is mandatory for motorcycle riding.
• Follow speed standard/limit
• Driving under the influence of alcohol or drug is prohibited
• Follow Lane discipline
• Do not change more than one lane once.
• Red signal crossing is prohibited
• Left hand driving- keep to the left of the road
• Overtaking from right hand side
• Give proper signal while changing lane
• Turning without signal is prohibited
• Overloading is prohibited
• Stop before the stop line
• Stopping on zebra-crossing is prohibited
• Use of high beam light is illegal
• Display plate L if you are learner
• If the center line is continuous/unbroken then overtaking not allowed
• Broken white lines mean overtaking allowed
• Single yellow lines mean parking not allowed
• Double yellow line means stopping not allowed
• Overtaking not allowed at bend/curve/bridge
• Give way to traffic coming from hand side.
• Use of horn is prohibited near school/hospital/masjid