Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

Showing posts with label Israel. Show all posts
Showing posts with label Israel. Show all posts

Bernard Lewis, Zionists and Western Plans to Carve up Middle East and Pakistan. How to Counter these Anti Muslim Plans! اسلامی دنیا اورپاکستان کی تباہی کا منصوبہ – برنارڈ لوئس پلان


While turmoil and anarchy in the Middle East can be attributed the disunity among Arabs, the possibility of execution of well known Zionist plans supported by USA and West, to divide the Middle East in fragmented state lets cannot be ruled out. The “Bernard Lewis Plan” named after its architect Bernard Lewis, a specialist in ‘oriental studies’, the ‘history of Islam’ and the ‘interaction between Islam and the West’ is well known. Yet another  Zionist Plan for the establishment of greater Israel by dividing Middle East known as “Oded Yinon Plan”, also exists. Christian-Zionist lobby has heavy influence in politics and US government. Policies of Trump and earlier rulers clearly indicate US support for Zionism in Israel. The “Bernard Lewis Plan”, “Oded Yinon Plan” and “Christian-Zionism”, all “Three” are fully integrated to achieve their heinous designs against Muslims. ... Keep reading ..... [......]
Bernard Lewis, Zionists and Western Plans to Carve up Middle East and Pakistan. How to Counter these Anti Muslim Plans! اسلامی دنیا اورپاکستان کی تباہی کا منصوبہ – برنارڈ لوئس پلان https://bit.ly/BernardPlan

Sweden recognise Pelistine

IN recognising the State of Palestine on Thursday, the Swedish government has taken an important step that confirms the right of the Palestinian people to self-determination.

Sweden’s traditionally close ties with the State of Israel are now complemented by an equivalent relationship with the other party in the two-state solution that Israelis, Palestinians and a united international community see as the path to lasting Middle East peace. Keep reading....  http://www.dawn.com/news/1141883/showing-the-way

اسراءیل اور مسلمان ممالک Israel and Muslim countries

جس ملک کی قومی آمدنی کا جو حصہ سائنس کی ریسرچ اور ترقی پر خرچ کیاجارہا ہے‘ اس کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ہر دس لاکھ افراد میں سائنسی مطبوعات کے حوالے سے یہ ملک دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔
اس کے ہر دس ہزار ملازمین میں ایک سو چالیس سائنس دان ہیں یا انجینئر۔ یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
امریکہ میں یہ تعداد 85 اور جاپان میں 83ہے۔
ہفتہ روزہ 'نیوزویک‘ نے اس ملک کے ایک شہر کو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے دس با اثر ترین شہروں میں شمار کیا ہے۔

اس کی سات یونیورسٹیاں صرف ریسرچ کے لیے مخصوص ہیں۔ پانچ یونیورسٹیاں دنیا کی ٹاپ کی پچاس یونیورسٹیوں میں شمار ہورہی ہیں۔
اس ملک کے نصف درجن سائنس دان کیمسٹری میں نوبیل انعام حاصل کر چکے ہیں۔

اقتصادیات اور دیگر شعبوں میں انعام اس کے علاوہ ہیں۔ صرف ملٹری کے حوالے سے دس ہائی ٹیک کمپنیاں رات دن کام کررہی ہیں۔
آئی ٹی، ٹیلی کمیونی کیشن، میڈیسن اور دوسرے شعبوں میں مصروف ہائی ٹیک کمپنیاں اس کے علاوہ ہیں۔

2012ء میں یہ ملک دنیا بھر میں دوسرا تعلیم یافتہ ترین ملک قرار دیاگیا ۔ تعلیم کے شعبے میں جتنی بھی سرمایہ کاری ہورہی ہے اس کا 78فیصد اس ملک کی حکومت مہیا کررہی ہے۔ 45فیصد لوگ کالج یا یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ ہیں۔
یہ ملک عالم اسلام کا دشمن ہے۔ اس کی برتری کا بڑا سبب تعلیمی میدان میں اس کی محنت اور سنجیدگی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہم مسلمان کہاں کھڑے ہیں؟
محمد اظھار الحق

Palestine issue.. Need to change strategy?

مسئلہ فلسطین
میرا مخاطب اسرائیل یا امریکہ نہیں،اردو پڑھنے والے وہ لوگ ہیں جو فلسطینیوں پر روارکھے گئے ظلم پر اداس ہیں۔
آج اہلِ فلسطین کے ساتھ ہمدردی کا تقاضا ہے کہ ان کے قتل ِ عام کو رکوایا جائے۔یہی نہیں، اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے کہ آئندہ ایسے واقعات کم سے کم ہوں۔میرے نزدیک تشدد کی مکمل نفی کے سوا اس کی کوئی صورت نہیں۔بد قسمتی سے پہلے الفتح اور اب حماس جیسی تنظیموں نے تشدد کو بطورحکمتِ عملی اختیار کرکے فلسطینیوں کو زخموں کے سوا کچھ نہیں دیا۔اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں مکمل آزادی تو دور کی بات، اب ادھوری آزادی کا تصور بھی خواب وخیال ہو تا جا رہا ہے۔یاسر عرفات نے بعد از خرابیٔ بسیارتشددکو الوداع کہا۔حماس کوابھی تک تشدد پہ اصرار ہے۔اس لائحہ عمل کی ناکامی نوشتۂ دیوار ہے۔فلسطینیوں کا بہتا لہو،تنہا ایسی دلیل ہے جو اس اندازِ فکر کی غلطی پر شاہد ہے۔آج اہلِ فلسطین کو ایک نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ایسی حکمتِ عملی جو اُن کے جانی و مالی نقصان کو کم کر سکے اور مسئلے کے ایک منصفانہ حل کے لیے ان کی جد وجہد کو زندہ رکھ سکے۔میری اس رائے کی بنیاد چند دلائل پر ہے۔
1۔چند دنوں کے تصادم میں264فلسطینی مارے جا چکے اور اس کے مقابلے میں صرف ایک اسرائیلی کی جان گئی ہے۔اگر ہم ان واقعات کی ابتدا کو سامنے رکھیں تو تین اسرائیلی نوجوان اغوا کے بعد قتل ہوئے۔یوں یہ دو سو چونتیس اور چار کی نسبت ہے۔گویا ایک اسرائیلی کے بدلے میں اٹھاون فلسطینیوں کی جان گئی۔ابھی جنگ جاری ہے اور نہیں معلوم کہ یہ نسبت کہاں تک جاتی ہے۔اس سے پہلے،جب بھی تصادم ہوا، نسبت کم و بیش یہی رہی۔ 2008-09ء میںبھی یہی ہوا تھا۔اس وقت 1166 فلسطینیوںکے مقابلے میں تیرہ اسرائیلیوں کی جان گئی تھی۔ تب یہ نسبت ایک اور نوے(90)کی تھی۔مجھے اس قیادت پر حیرت ہے جو اس حکمتِ عملی پر اصرار کرتی ہے جس میں انسانی جان کے ضیاع کا تناسب یہ ہے۔اس قربانی کو بھی گوارا کیا جا سکتا ہے اگر یہ معلوم ہو کہ وہ مقصد پورا ہو رہا ہے جس کے لیے جانیں دی جارہی ہیں۔اس کابھی دور دور تک کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔
2۔ فلسطینی اس وقت کئی سیاسی وعسکری گروہوں میں منقسم ہیں۔ محمود عباس کی جماعت اور حماس کا اختلاف ظاہرو باہر ہے۔یہ اختلاف نظری ہے اور مفاداتی بھی۔برسرِ پیکار گروہ باہم قتل و غارت گری میں بہت سے لوگوں کی جان لے چکے۔اس طرح منقسم قوم کسی منظم ریاست کے خلاف کیسے لڑ سکتی ہے؟
3۔ امتِ مسلمہ‘ جس کو دن میں کئی بار پکارا جاتا ہے، کہیں مو جود نہیں۔ اسی لیے اس پکار کا کوئی جواب نہیں آتا۔مجھے حیرت ہے کہ لوگ اس کے باوجودخلا میں صدا لگاتے اور یہ امید کرتے ہیں کہ جواب آئے گا۔میں بارہا عرض کر چکا کہ امت ایک روحانی وجود تو ہے کوئی سیاسی یا سماجی اکائی نہیں۔ آج مسلمانوں کی قومی ریاستیں ہیں یا مسلکی گروہ‘ سب اپنے اپنے مفادات کی آبیاری کر رہے ہیں۔ 'داعش‘ نے اپنے تئیں خلافت کا اعلان کیا اور القاعدہ نے اسے مسترد کر دیا۔داعش کا اپنا خلیفہ ہے اور القاعدہ کا اپنا۔امت ِ مسلمہ پاکستان جیسے ملکوں میں بعض گروہوں کا رومان ہے۔وہ فلسطینیوں کے لیے صرف احتجاج کر سکتے ہیں اور بس۔کیا اس سے ان کے دکھوں میں کوئی کمی آ سکتی ہے؟
4۔ اسرائیل ایک منظم ریاست ہے اور اس کی پشت پر امریکہ، برطانیہ اور روس جیسی کئی طاقت ور ریاستیں ہیں۔یہ طاقتیں ہر اخلاقی اور بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیل کی حمایت کرتی ہیں۔دنیا کا اس وقت اجماع ہے کہ اسرائیل کو بطور ریاست قائم رہناہے۔فلسطینی ریاست کے بارے میں ابھی تک ابہام ہے۔ فلسطینیوں کی حمایت ایران کی ریاست کرتی ہے یا شام کی۔اس حمایت کی اساس بھی نظریہ یا امت نہیں، ان ریاستوں کے علاقائی مفادات ہیں۔اس وقت حماس کے ساتھ اسلامی جہاد کی تنظیم بھی موجود ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔کہا جاتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کو ایک تشویش یہ بھی ہے کہ حماس کی نسبت اسلامی جہاد سے معاملات کرنا مشکل تر ہو گا، اس لیے حماس سے معاملہ کرنے کی کوشش کی جائے۔شام کی حکومت اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے،اس لیے فلسطینیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔یوں بھی،بشار الاسد کے خانوادے کو امتِ مسلمہ سے جو نسبت ہے، اس کا حال کوئی اخوان سے پوچھے جن کی پیٹھ پر اس خاندان کا تازیانہ مسلسل برستا رہا۔پھر یہ کہ ماضی میں بھی ان ریاستوں کی کوئی مدد فلسطینیوں کے کام نہ آ سکی۔مصر میں اخوان ان کا اخلاقی اور کسی حد تک مادی سہارا تھے۔ان کی بے چارگی ہمارے سامنے ہے۔
سادہ سا سوال ہے کہ ان اسباب کی روشنی میں اہلِ فلسطین کو کیا کر نا چاہیے؟میرا خیال ہے کہ قابلِ عمل حل صرف ایک ہے۔فلسطینی خود کوایک سیاسی قیادت کے تحت منظم کریں اور دوریاستی حل کو قبول کرلیں۔وہ اس بات کی پوری کوشش کریں کہ ان کی ریاست ہر طرح سے خود مختار اور آز اد ہو۔اس کے ساتھ یروشلم کو ایک آزاد شہر قرار دینے کا مطالبہ کیا جائے کیونکہ یہ تینوں ابراہیمی مذاہب کے لیے تقدس رکھتا ہے۔دو ریاستی حل پر اس وقت کم و بیش ساری دنیا متفق ہے۔جب یہ فارمولہ پہلی بار سامنے آیا تو اس میں فلسطینیوں کے لیے بہت کچھ تھا۔جب انہوں نے اسے تسلیم نہیں کیا اور یہ خیال کیا کہ وہ عسکری جدو جہد سے اسرائیل کاخاتمہ کردیں گے توان اسباب کی بنا پر ،جن کا میں نے ذکر کیا، ان کا وجود سمٹتا چلا گیا۔آج اگر اسرائیل 1967ء سے پہلے کی سرحد کو تسلیم کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے خالی کرتا اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کو عملاً تسلیم کرتا ہے تو یہ فلسطینیوں کی بڑی فتح ہو گی۔
اگر تشدد کو خیر باد کہتے ہوئے، فسلطینی اس کے لیے سیاسی جدو جہد کرتے ہیں تو اس کے دو فوائد ان کو فوری طور پر مل سکتے ہیں۔ایک یہ کہ اسرائیلی تشدد میں کمی آ جائے گی۔دوسرا یہ کہ انہیں دنیا کے ایک بڑے حصے کی اخلاقی و سیاسی تائید میسرآ جائے گی۔اس وقت امریکہ میں یہودیوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو اسرائیل کے خلاف ہے۔وہ اس ظلم کی تائید پر آ مادہ نہیں۔خود اسرائیل میں بھی بہت سے یہودی ہیں جو اسرائیل کو خوف کی اس فضا سے نکالنا چاہتے ہیں۔اس کے ساتھ مسلمان قومی ریاستیں بھی اپنے قومی مفادات کو قربان کیے بغیر، فلسطینیوں کی حمایت کر سکیں گی۔اسرائیل آسانی کے ساتھ مقبوضہ علاقوں کو خالی نہیں کرے گا۔اس کے لیے بھی طویل جدو جہد کی ضرورت ہو گی؛ تاہم اس وقت ساری توجہ فلسطینیوں کے قتل عام کو روکنے پر مبذول کی جانی چاہیے۔کاش انہیں ایسی قیادت میسر آئے جوان کی بچوں کو زندگی کا پیغام دے سکے۔پاکستان کی اسلامی تحریک اگر اہلِ فلسطین کو یہ مشورہ دے سکے تو ان کے ساتھ یہی حقیقی ہمدردی ہو گی۔اب اس کے سوا کچھ نہیں ہو گا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہو جائے۔کیا 264 افراد کی جان اس لیے دی گئی؟یہ سچ ہے کہ اسرائیل نے ظلم کیا لیکن سوال یہ ہے کہ فلسطینی قیادت نے اس ظلم کو روکنے کے لیے کیا کیا؟ اس وقت اہلِ فلسطین کو ایک نئی قیادت اور ایک نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔یہ طے ہے کہ موت کو گلیمرائز کرنے والے زندگی کی امید نہیں دے سکتے۔ جو عمومی زندگی میں بھی جنگ کے اصول اپنا تی ہو،قومیں ایسی قیادت کے ہاتھوں برباد ہو جاتی ہیں۔
Khursheed Nadeem dunya.com.pk

Your stake in Palestine

ONE would think it impossible to maintain a flicker of hope when recently Gaza was the site of ceaseless bombs raining down from the skies.

But if there’s one thing the Palestinians have in spades it’s boundless optimism, and never was it more evident than in the aftermath of the United Nations General Assembly vote on the statehood of Palestine.

I watched the vote with my husband, on TV in our hotel room in Tel Aviv with a distinct sense that we were missing the party. A couple of doors down, our Palestinian colleagues were on Facebook attempting to celebrate as best they could.

For six days we had been hosted in turn by the Jordanian, Palestinian and now Israeli offices of the environmental organisation Friends of the Earth-Middle East, and taken to see environmental and heritage sites in their respective countries. All three offices were converging on Tel Aviv the night of the vote, to attend a meeting scheduled the next day.

After a meeting at the Friends of the Earth Israeli office, the various factions disbanded, and we headed back to Bethlehem with the Palestinian organisation.

With the General Assembly vote in hand, the world now braced itself for the inevitable repercussions that would no doubt be born by the newly anointed state.

Meanwhile, the Palestinians accompanying us were in a more buoyant mood and planning for the future. It was during that journey that I learnt the true significance of the vote.

News media identified the immediate benefit of the vote as paving the way for membership to the International Criminal Court, which in turn would allow Palestine to seize the court with claims of war crimes against Israel.

My Palestinian friends in the meanwhile had more laudable ambitions; ones which had more to do with a functioning state than the knee-jerk reaction to immediately confront their oppressor.

Apart from the suggestion to shelve the shekel for a national currency, the possibility of an international airport was also put forward, which struck a chord with me, having encountered the capriciousness of Israeli immigration days earlier.

In fact, since returning from Palestine, I’ve been inundated with queries from Pakistanis as to how I made it into the occupied territories, and I’m afraid the foreign passport I possess was the key to my entry, but not my guarantee.

Israeli immigration seems to welcome only two flavours of tourist: Jewish and Christian evangelical. The rest are likely to receive a grilling, which may vary in intensity.

Needless to say it’s the main impediment to travelling to Palestine, and increases manifold if you’re Palestinian and becomes impossible if you have a passport “not valid for travel in Israel”.

Now consider how an international airport in the West Bank would no longer be subject to Israeli immigration control and visits to Palestine whether for tourism, business or otherwise could become a distinct reality, even for Pakistani passport holders. Admittedly, the Israeli military force destroyed Palestine’s Yasser Arafat International Airport in Gaza in 2001, but control over your airspace (and territorial waters) is a legal right conferred through statehood, and Palestine is now entitled to exercise it.

Israeli restrictions on movement of Palestinians are key to the occupation and one envisages ample resistance to the notion of an international airport in the occupied area. If an international airport is to come, it will come as a response to international pressure.

The General Assembly vote signals a new weariness towards the continuing occupation, and a volatile Middle East in the wake of the Arab Spring has made it harder to predict responses to Israeli excess.

Whilst one may argue that our decision not to recognise Israel prevents Pakistanis from interacting and extending material assistance, the same could also be said of Malaysia, whom the Palestinians hold in far greater esteem for their commitment to the Palestinian cause.

It was embarrassing to note that our being Pakistani held no greater significance in Palestine than the novelty of being the first many had met in the West Bank.

This is an opportunity for Pakistani foreign policy to go beyond claiming the Palestinians as brothers in name, and contribute through gestures of goodwill to the comity of nations.

Leading diplomatic efforts for an international airport would be welcomed by a majority of countries. And though it would not yield the immediate financial rewards Pakistan has grown accustomed to in the form of aid and assistance, it will benefit both economies in the long run in areas such as trade, tourism and education.

After all peace is only achievable if you can imagine new realities.

Never having suffered occupation I don’t think I will ever truly understand how deep the wounds go, but the resolve to build and progress in spite of the numerous challenges brings into stark relief how most of us view Palestinians solely through the prism of the Arab-Israeli conflict.

For those with a less charitable disposition who might view the pursuit for normalcy as naïve, or worse, as facilitating the occupation, I rely on the words of poetess Rafeef Ziadah who movingly responds to a journalist’s stock question: “Don’t you think that everything would be resolved if you would stop teaching so much hate to your children?”

“We Palestinians wake up every morning to teach the rest of the world life, sir” (from We Teach Life, Sir).

The writer is the owner of The Last Word bookshop and co-founder of The Life’s Too Short Short Story Prize.

Protocols of elders of Zion: Wakeup call by Hasan Nisar

The Protocols of the elders of Zion: purports to document the minutes of a late 19th-century meeting of Jewish leaders discussing their goal of global Jewish hegemony. Their proposals to engender such include subverting the morals of the Gentile world, controlling the world's economies, and controlling the press. The Protocols is still widely available today on the Internet and in print in numerous languages. The document reveals through the mouths of the Jewish leaders a variety of plans. For example, the Protocols includes plans to subvert the morals of the non-Jewish world, plans for Jewish bankers to control the world's economies, plans for Jewish control of the press, and - ultimately - plans for the destruction of civilization. The document consists of twenty-four "protocols".   Keep reading >>>>

ہوش ميں آؤ... چوراہا … حسن نثار.)
يہ ايسے اہرام ہيں جن کي بنياديں نمک کي ہيں، يہ ايسے جنگجو ہيں جن کے گھوڑے حنوط شدہ يعني مردہ، جن کي کمانيں کنير کي شاخوں سے بنائي گئي ہيں اور تير مہندي کي شاخوں سے تراشے گئے، ان کي ڈھاليں تربوز کي کھاليں اور زرہ بکتر قرباني کے جانوروں کي کھالوں سے تيار ہوئي ہے، ان کے نيزے بيد کي لچک دار لکڑي سے گھڑ ے گئے اور تلواريں پاپولر نامي درخت سے بنوائي گئي ہيں جس کي لکڑي عموماً خلال اور ماچس کي تيلياں بنانے کے لئے استعمال ہوتي ہے اور يہ آکٹوپس کي غلامي سے نجات چاہتے ہيں?
يہ دراصل کچھ ايسا ”مائنڈ سيٹ“ ہے جن کي عقليں بہت چھوٹي ليکن زبانيں بہت لمبي ہيں? ان کي بودي بڑھکيں سن کر مجھے وہ کيوٹ سا چوہاياد آتا ہے جو غلطي سے شراب کے ڈرم ميں گر گيا اور ڈبکياں کھانے لگا کہ اتفاقاً بروري کے کسي ملازم کي نظر پڑ گئي تو اس نے ”انساني ہمدردي“ کے تحت اس کي زندگي بچانے کے لئے اسے دم سے پکڑ کر باہر پھينک ديا? کچھ دير بعد چوہے کو تھوڑي سي ہوش آئي تو وہ جھومتا جھامتا اپنے گھرکي طرف روانہ ہوا? رستے ميں اسے ايک وحشي جنگلي بلي دکھائي دي جو گہري نيند سو رہي تھي? نشے ميں دھت چوہے نے حقارت سے خونخوار بلي کو ديکھا اور پھر ٹھڈا مارتے ہوئے چلايا…
”اٹھ نرگس! شير گجر تيرا مجرا سننے آيا ہے“
انہيں اصل کہاني کي سمجھ ہي نہيں آرہي کہ امريکہ اور
امريکن تو خود ”مظلوم ترين“مخلوق ہيں? يہ نہيں جانتے کہ امريکہ ميں تو سفيد امريکن بھي ”وائٹ نيگرو“ سے زيادہ کچھ نہيں کيونکہ امريکہ کي ”سپر پاوري“ کے پيچھے دست ستم، دست علم اور دست ہنر کسي اور کا ہے جو دنياميں اسي تناسب سے ہيں جس تناسب سے آٹے ميں نمک اور دھرتي پر خشکي ہوتي ہے? اشارہ ميرايہوديت کي طرف نہيں کہ عام يہودي بھي معصوم ہے? ميرا اشارہ صيہونيت کي طرف ہے جس نے ساري جديددنيا کو اپنے شکنجے اور پنجے ميں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ وہ بيچاري پھڑپھڑا بھي نہيں سکتي? کياجہالت کے يہ امام جانتے ہيں کہ عصر حاضر کا سياسي اور مالياتي نظام کس نے ”ايجاد“ اوروضع کيا؟ اور وہي اسے کنٹرول کر رہے ہيں?
جن کم بختوں کو مرض کا ہي علم نہيں وہ علاج خاک کريں گے? دشمن مغرب ميں تم مشرق ميں ڈھونڈ رہے ہو، دشمن اوپر تم پاتال ميں ڈھونڈ رہے ہو، دشمن مکمل اندھيرے ميں تم روشني ميں ٹامک ٹوئياں مار رہے ہو? صيہونيوں کے ”پروٹوکولز“ ہي پڑھ لو ظالمو! اور اس کھيل کي وہ تاريخ جو ريکارڈ پرموجود ہے کہو تو ميں ”خلاصہ“ پيش کروں؟ اول تو تم نے پڑھنا نہيں دوم يہ کہ تم نے سمجھنا نہيں کہ دلوں دماغوں پر مہريں ثبت ہوچکيں ليکن پھر بھي ميں ”ڈھيٹ ابن ڈھيٹ ابن ڈھيٹ“ تھوڑي سي کوشش ضرور کروں گا کہ شايد… شايد… شايد قبوليت کي کوئي گھڑي ہو اور نہ بھي ہو توکم از کم آئندہ نسليں تو جان سکيں گي کہ ان کے تمام ايلڈرز فارغ اور جاہل نہيں تھے کہ ميں تواکثر بولتا اور لکھتا بھي صرف ان کے لئے ہوں جوابھي نہ سن سکتے ہيں نہ پڑھ سکتے ہيں کہ ان کي سماعتيں اوربصارتيں ابھي بچپن کے مرحلہ ميں ہيں?
ميں نہيں جانتا کہ جہالت کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہوتي ہے سو اس کي بھي خبر نہيں کہ اس کا جواب کہاں سے شروع کرکے کہاں ختم کرنا ہے بہرحال… بہت دور کي بات نہيں جب دنيا کے بيشتر دروازے يہوديوں پر بند کرديئے گئے اور شايد يہي وہ لمحہ تھا جب ان ميں سے ايک اقليت نے پوري دنيا سے انتقام لينے کا فيصلہ کيا ليکن شمشير نہيں تدبير کے بل بوتے پر وہي ”تدبير“ جس کي طرف اقبال? يہ کہتے ہوئے اشارہ کرتاہے:
دين کافر ”فکر و تدبير“ جہاد
دين ملاّ في سبيل اللہ فساد
ايک بار پھر عرض ہے کہ ان کا ”انتقام“ سمجھنے کے لئے يہ کتابچہ پڑھنا ضروري ہوگا:
"Protocols of the meetings of the elders of zion"
اسے پڑھنے سے بہت سا بخار بھي اتر جائے گا اور دماغ سے بہت قسم کے جالے بھي اتر جائيں گے? يہ خفيہ دستاويز پہلي بار دنياکے سامنے پروفيسر نائيلس (Nilus)کي وجہ سے آئي جو روس کے آرتھوڈوکس چرچ کے پادري تھے? انہوں نے پہلي بار روسي زبان ميں اس کا ترجمہ 1905 ميں کيا? بقول پروفيسر نائيلس کہ ”پروٹوکولز“ مختلف خفيہ ميٹنگز کے منٹس (minutes) نہيں بلکہ ان کے بارے ميں ايک رپورٹ ہے? بالشويک انقلاب پر نائيلس کو ترجمہ کے جرم ميں نہ صرف گرفتار اور قيد کيا گيا بلکہ اسے ٹارچر بھي کيا گيا? ”پروٹوکولز“ کے پہلے انگريزي مترجم کا نام تھا Victor e Marsden جو برطانوي ہونے کے ساتھ ساتھ ”مارننگ پوسٹ“ کا نمائندہ بھي تھا? وہ کئي سال روس ميں تعينات رہا اور اس کي بيوي بھي روسي تھي? بالشويک انقلاب کے بعد يہ کتابچہ روسي مہاجرين کے ذريعے نارتھ امريکہ اور جرمني پہنچا?
”پروٹوکولز“ بنيادي طور پر دنيا پہ قبضہ کا بليوپرنٹ تھا اور ہے کہ پہلے مرحلہ ميں عيسائيت اور دوسرے مرحلہ ميں مسلمانوں کو کيسے مغلوب کرنا ہے? دنيا کے تقريباً ہر بڑے حادثہ، سانحہ، واقعہ، جنگ، Slumps، انقلاب، Cost of living ميں اضافہ اور unrest کے پيچھے يہي شيطاني منصوبہ کارفرما ہے اور آج تک کاميابي سے جاري و ساري ہے?
ہنري فورڈ کا ايک انٹرويو جو 17فروري 1921 ميں "New York World" کے اندر شائع ہوا ميں اس آٹوموبيل جينئس نے ”پروٹوکول“ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا:
"The only statement I care to make about the protocols is that they fit in with what is going on. they are sixteen years old and they have fitted the world situation up to this time.|
مصيبت يہ ہے کہ مسلمانوں کے اصل حريف سائبيريا سے زيادہ ٹھنڈے اور سمندروں سے زيادہ گہرے ہيں جبکہ يہ کوئلے کي طرح گرم (جو فوراً راکھ ہوجاتا ہے) ہيں اور انہوں نے نہانے والے ٹب کو ہي سمندر سمجھا ہوا ہے?

کچھ باتيں جوذہنوں ميں راسخ رہيں تو بہتر ہوگا?
دنيا کي بيشترايجادات يہوديوں کي مرہون منت ہيں اور اس سے بھي کہيں زيادہ اہم يہ ناقابل ترديد حقيقت ہے کہ ميڈيا سے لے کر دنيا کے سياسي اور مالياتي نظام بلکہ نظاموں کے ماسٹرمائنڈ بھي صرف اورصرف يہودي ہيں? دنيا ميں کوئي غيرصيہوني يہ دعوي? نہيں کرسکتا کہ وہ عہدحاضر کے انتہائي پيچيدہ اور کثيرالچہرہ مالياتي نظام کے ہر شعبہ کو بخوبي سمجھتا اور اس پر مکمل گرفت رکھتا ہے? يوں سمجھ ليجئے کہ جيسے سپيشلسٹ ڈاکٹر ہے جوکسي ايک عضو کے بارے ميں تو بہت کچھ جانتا ہے ليکن باقي تمام جسم کے بارے ميں تقريباً بے خبر ہے? يقين مانيں کہ آج کي دنياکا مالياتي نظام بھي مکمل طور پر صرف وہي جانتے ہيں جنہوں نے اسے دنياپر مسلط کيا ہے اور يہ حربہ يا ہتھيار اس قدر ہولناک ہے کہ ہمارے سياسي للوپنجو اور جمہوري ماجھے گامے يا غلامي سے نجات کے احمق دعويدار اس کا تصور بھي نہيں کرسکتے? يہ کتنا سيريس اور بھيانک معاملہ ہے اور پوري دنيا پر اس کے کنٹرول يا کمانڈ کا کيا عالم ہے؟ اسے مندرجہ ذيل چند سطروں کي مدد سے سمجھنے کي کوشش کيجئے … بشرطيکہ اللہ توفيق عطا فرمائے? زمانہ وہ ہے جب برطانيہ سپرپاور تھا?
Baron Nathan Rothschild نے 1838 ميں بے حد حقارت سے سو فيصد سچائي بيان کي تھي جب اس نے يہ تاريخي جملہ کہا…
" I care not what puppet is placed on the throne of England to rule the empire........ The man that controls Britain's money supply controls the British empire and I control the money supply."
”مجھے اس کي قطعاً کوئي پرواہ نہيں کہ کون سي کٹھ پتلي برطانيہ عظمي? پر حکومت کرنے کے لئے برطانوي تخت پر سجائي گئي ہے? برطانيہ پر حکومت اس کي ہوتي ہے جس کے ہاتھ ميں برطانيہ کا مالياتي کنٹرول ہو اور وہ ميں ہوں جس کے ہاتھوں ميں برطانوي راج کا مالياتي کنٹرول ہے?“ (روتھ شيلڈ 1838) ?
آج پوري دنيا کا مالياتي کنٹرول کن کے ہاتھوں ميں ہے؟ کچھ ہوش بھي ہے يا نہيں؟ يہ جو دن رات چلاتے رہتے ہيں کہ… ”ہمارے خلاف سازش ہوگئي“ تو ان بڑھک بازوں کے بڑوں کو بھي علم نہيں کہ”سازش“ ہوتي کياہے؟ کي کس نے ہے؟ اور اس کي نوعيت کيا ہے؟
کيا کبھي اس تاريخي تھيسز پر بھي غور کياکہ صليبي جنگوں کے پيچھے صيہوني ہاتھ تھا؟
کيا کبھي سوچا کہ ”گولڈ سٹينڈرڈ“ کس نے متعارف کرايا اور پھر اس کے ساتھ کيسي ٹمپرنگ کي اور کاغذي کرنسي سے پلاسٹک کرنسي تک کي تاريخ کياہے اور کيوں ہے؟
اور کيا تمہيں خبر ہے کہ آج کا ہالي وڈ کبھي سنگتروں کے باغات پر مشتمل تھااوريہاں کي زمينيں کن لوگوں نے خريديں؟ عظيم الشان سٹوڈيوز بنائے تواس کاروباري سرگرمي کے پيچھے ان کے ديگر مقاصد کيا تھے؟ملٹي نيشنل کمپنياں ہوتي کيا ہيں؟ چلتي کيسے ہيں؟ کرتي کيا ہيں؟ اورآج کي دنيا ميں ان کا کردار کيا ہے؟… ايک جملہ چکھو اور پھراس کا زہر اپني روحوں ميں محسوس کرو? کيا کبھي تمہارا دھيان اس طرف گيا کہ کسان تمہارا، دھرتي تمہاري، پاني تمہارا ليکن بيج ان کا، کھادان کي، کيڑے مار دوائيں ان کي اور کسان کو قيمتي مشورے بھي ان کے، تو کيا تم اس جگاڑ کے انجام سے واقف ہو؟؟؟ ذہن ہي نہيں زمينيں بھي بنجر?امريکہ کي غلامي، ڈرون حملے، نيٹو سپلائي، غيرت پريڈ، ٹيڑھي ميڑھي انگليوں سے وکٹري کے جھوٹے نشان، مصنوعي ملين مارچ اور بس باقي ٹائيں ٹائيں فش? يہ تو اتنا بھي نہيں جانتے کہ غلام کس کے ہيں؟ آقا کون ہے؟ اور کب سے کيا کچھ کر رہے ہيں?1095 سے 1271 تک کون آپس ميں لڑتے رہے اور کرہ ? ارض کي وہ کون سي کميونٹي تھي جو انتہائي امير اور دولت مند تھي؟دنيا کي رگوں ميں سود کا اندھيراکس نے اتارا؟ اور کيا يہ 1830 نہيں تھا جب عيسائي پادريوں نے پہلي بار چھوٹي شرح کے سود کو قانوني طور پر قبول کيا؟اور پھر باقاعدہ چل سو چل…وليم گيکر (1895تا1959) بنيادي طورپر نيول کمانڈر ليکن دانشور آدمي تھا?اس نے يہوديو ں کے اعمال، کرتوتوں، منصوبوں پر طويل ريسرچ کے بعد ايک کتاب لکھي جس کا عنوان تھا… "Pawns in the game" وہ صيہونيوں کو بني نوع انسان کا ”شيطاني ٹولہ“ قرار ديتا ہے? ياد رہے کہ ہر يہودي صيہوني نہيں ہوتا ليکن ہر صيہوني يہودي ضرور ہوتا ہے? راتھ شيلڈ کا پس منظر بيان کرتے ہوئے لکھتا ہے? ايک يہودي سنار امثل 1750 ميں فرينکفرٹ (جرمني) ميں آباد ہوا تو اس نے اپني دکان کے آگے A red shield (سرخ ڈھال) کا بورڈ آويزاں کيا? چند سال بعد اس کي موت پر اس کے بيٹے امثل ميئر راتھ شيلڈ نے ان الفاظ کے جرمن متبادل کو لے کر اپني دکان کا نام House of Roth shild رکھا? 1812 ميں اس کي وفات پراس کے پانچ بيٹوں ميں سے ناتھن انتہائي ذہين اور قابل نکلا? 21 سال کي عمر ميں وہ انگلينڈ چلاگيا تاکہ بنک آف انگلينڈ ميں اثر و رسوخ پا کراپنے بھائيوں کے تعاون سے يورپ ميں ايک خودمختار بين الاقوامي بنک قائم کرسکے? صرف 30 سال کي عمر ميں اس نے بارہ اميراور بااثر ترين يہوديوں کے ساتھ ميٹنگ کي جس کامرکزي خيال يہ تھا کہ وہ سب اپنے وسائل و ذرائع کو يکجا کرنے پر رضامند ہوں تو پوري دنيا کي دولت، قدرتي ذرائع اور انساني طاقت کو کنٹرول کياجاسکتا ہے اور آج حقيقت يہ ہے کہ وہ اپنا ہدف حاصل کرچکے ہيں اور اسي لئے پچھلي قسط ميں، ميں نے امريکہ کو ”مظلوم“ اور سفيد امريکنوں کو ”وائٹ نيگروز“ لکھا تھا ?

ہاں تو ميں قصہ سنا رہا تھا راتھ شيلڈ کے منصوبہ کا کہ ”مظلوم ترين“ گلوبل اقليت ہونے کے باوجود دنيا پر کاٹھي کيسے ڈالي جا سکتي ہے? منصوبہ کا خلاصہ بلکہ اس کي چند جھلکياں پيش خدمت ہيں?
”کيونکہ لوگوں کي اکثريت نيکي کي بجائے بدي کي طرف مائل ہوتي ہے اس لئے ان پر حکومت کا بہترين طريقہ تشدد اور دہشت گردي کا استعمال ہے نہ کہ علمي مباحثے? شر وع ميں انساني معاشرہ کو اندھي طاقت سے ہي قابو ميں رکھا جاتا تھا? پھر قانون آ گيا ليکن دراصل قانون کے پردے ميں بھي اندھي طاقت ہي کام کر رہي ہوتي ہے? قانون فطرت بھي يہي ہے کہ حق … صرف طاقت ميں ہي پايا جاتا ہے?
سونے (GOLD) کي طاقت فيصلہ کن ہے? حصول مقصد کے لئے ہر حربہ جائز ہے? ہمارے ذرائع کي طاقت کو لوگوں سے پوشيدہ رہنا ہو گا? عوام پر کنٹرول کے لئے ان کي نفسيات مدنظر رکھنا ہو گي? عوامي طاقت اندھي، بے حس، غير مدلل اور نعروں کے رحم و کرم پر ہوتي ہے? ہم نے ہي سب سے پہلے عوام کے منہ ميں ”آزادي“ … ”مساوات“ اور ”اخوت“ کے الفاظ ڈالے جو ابھي تک يہ احمق طوطے دہرا رہے ہيں? فطرت ميں يہ تينوں لفظ نہيں پائے جاتے? عوام کي فطري و نسلي کبريائي کے کھنڈرات پر ہم نے سرمايہ کي کبريائي قائم کرني ہے? صنعتي سرد بازاري اور مالي پريشانيوں سے ہم اپنا مقصد حاصل کر سکتے ہيں? ہم بيروزگاري اور بھوک پيدا کر کے پسنديدہ نتائج حاصل کر سکتے ہيں? منظم دھوکہ بازي سے جاہل عوام کو بڑے بڑے الفاظ اور نعروں سے بيوقوف بنا کر اپني مرضي سے استعمال کيا جا سکتا ہے? ”انقلابي جنگ“ کے لئے گلي کوچوں ميں لڑنے اور دہشت کي حکمراني پيدا کرنا ضروري ہے کيونکہ لوگوں کو محکوم بنانے کا يہ سب سے سستا طريقہ ہے? عالمي حکومت ہمارا نصب العين ہے جس کے لئے ہر جگہ بڑي اجارہ دارياں اور دولت کے ذخائر کا قيام ضروري ہے? اسلحہ اس خيال سے اس مقدار ميں بنايا جائے کہ جاہل عوام آپس ميں لڑ کر ايک دوسرے کو تباہ کر ديں? نظام نو عالمي حکومت کے ارکان کو آمر مقرر کرے گا اور انہيں سائنس دانوں، ماہرين اقتصاديات و ماليات، صنعت کاروں اور دولت مندوں ميں سے چنے گا? قومي اور بين الاقوامي قوانين کو بدلا نہيں جائے گا بلکہ اسي حالت ميں اس طرح استعمال کيا جائے گا کہ تفہيم ميں تضاد پيدا ہو اور قانون سرے سے ہي غائب ہو جائے?“
اميد ہے روتھ شيلڈ سوچ کا کچھ نہ کچھ اندازہ ہو گيا ہو گا?
1215ء ميں رومن کيتھولک کونسل کي ميٹنگ ہوئي جس ميں سب سے اہم موضوع يورپ کے تمام ملکوں پر ”يہودي يلغار“ تھا? ميٹنگ ميں چرچ کے سربراہوں نے فيصلہ کيا کہ سود کا خاتمہ کر ديا جائے اور يہودي قرض خواہوں کے تجارت ميں بے اصول طريقوں کو جس سے وہ عوام کا استحصال کرتے ہيں روک کر بدعنواني اور بداخلاقي کو چلنے نہ ديا جائے? يہوديوں کو ان کے محلوں تک محدود کيا جائے اور عيسائيوں کو ملازم رکھنے سے روک ديا جائے کيونکہ يہودي جائنٹ سٹاک کمپني کے اصول پر کام کرتے تھے اور عيسائيوں کو فرنٹ پر رکھتے تھے اور جب کوئي واردات ہوتي تو الزام عيسائيوں پر آتا اور سزا بھي وہي بھگتتے? عيسائي عورتوں کو ملازم رکھنے پر بھي پابندي لگائي گئي کيونکہ ان کا بھي بے رحمانہ استعمال کيا جاتا? کچھ اور پابندياں بھي لگيں ليکن کمال ديکھيں کہ چرچ اور رياست کي متحدہ طاقت بھي ان کا کچھ نہ کر سکي? نتيجہ يہ کہ چرچ اور رياست کي عليحدگي کا پتہ پھينکا گيا?
1253 ميں حکومت فرانس نے يہوديوں کو ملک چھوڑنے کا حکم ديا? اکثر يہودي انگلينڈ چلے گئے جہاں 1255ء تک يہودي قرض خواہوں نے چرچ کے بڑوں اور دوسرے شرفاء پر مکمل کنٹرول حاصل کر ليا? راز کھلنے پر 18 يہودي مجرم نکلے اور بادشاہ ہنري سوم نے انہيں سزائے موت دے دي? 1272 ميں ہنري سوم فوت ہوا تو ايڈورڈ اول بادشاہ بنا اور عہد کيا کہ يہوديوں کو سودي کاروبار نہ کرنے دے گا چنانچہ 1275 ميں پارليمنٹ سے يہوديوں کے متعلق خصوصي قانون پاس کروايا جس کا مقصد تھا کہ مقروضوں کو سود خوروں کے شکنجے سے نکالا جائے ليکن يہوديوں نے پرواہ نہ کي لہ?ذا 1290 ميں کنگ ايڈورڈ نے ايک خاص حکم جاري کيا جس کے تحت تمام يہودي انگلينڈ سے نکال ديئے گئے نتيجہ يہ نکلا کہ دوسرے يورپين حکمرانوں نے بھي يہي کيا?
1348 ميں سسکيوني، 1360 ميں ہنگري، 1370 ميں بلجيم اور سلوويکيا، 1420 ميں آسٹريليا، 1444 ميں ہالينڈ، 1492 ميں سپين، 1495 ميں لتھونيا، 1498 ميں پرتگال، 1540 ميں اٹلي اور 1551 ميں بويريا نے انہيں نکال ديا? پناہ ملي تو صرف پولينڈ اور ترکي ميں? بعض مورخين کے نزديک يہ يہوديوں کا ”عہد تاريک“ تھا? اخراج کے نتيجہ ميں يہودي اپنے مخصوص باڑوں، احاطوں ميں رہنے لگے جس نے ان کے اندر نفرت اور جذبہ انتقام کو جنم ديا ليکن انہوں نے بڑھکيں اور نعرے نہيں مارے، خود کش جيکٹيں اور حملے ايجاد نہيں کئے، چھچھوروں کي طرح اچھل کود نہيں کي بلکہ ايک ايسي عالمي انقلابي تحريک کو خاموشي سے منظم کرنا شروع کر ديا جس کے نتيجہ ميں جو دنيا ان پر تنگ کي گئي تھي… آج ان کے ہاتھوں تنگ ہے اور يہ بھي نہيں جانتي کہ ”ولن“ کون ہے? جن ملکوں سے يہودي نکالے گئے تھے انہي ملکوں ميں ايک ايک کر کے داخل ہوئے اور زير زمين کام کرنے کي سٹرٹيجي بنائي گئي? کھلي تجارت کي بجائے بليک مارکيٹ پر توجہ مرکوز کي گئي? غرضيکہ ہر غير قانوني طريقہ اپنايا گيا اور ”جائنٹ سٹاک کميٹي“ کے بادشاہ تو وہ تھے ہي?
1600ء ميں وہ انگلستان ميں آئے اور بادشاہ، حکومت، آجر، اجير، چرچ اور رياست کو لڑانا شروع کر ديا? جب کنگ چارلس اور پارليمنٹ ميں رسہ کشي شروع ہوئي تو انہوں نے کرامويل سے رابطہ بنا کر ايک بہت بڑي رقم اس شرط پر دينے کا وعدہ کيا کہ وہ بادشاہ کو برطرف کر دے? پھر پرتگال کا ايک يہودي کراموئيل کا سب سے بڑا اسلحہ کا ٹھيکے دار بن گيا? سازش پھيلتي گئي اور کراموئيل اس سازش کا حصہ تھا جس نے 18 جون 1647 کو يہودي ڈائريکٹرز کو لکھا،

”مالي امداد کے عوض يہوديوں کي انگلستان ميں واپسي کي وکالت کي جائے گي ليکن جب تک کنگ چارلس زندہ ہے يہ کام ناممکن ہے? چارلس کو مقدمہ چلائے بغير سزائے موت بھي نہيں دي جاسکتي اور اس کے لئے کافي مواد بھي موجود نہيں? اس لئے ميرا مشورہ ہے کہ کنگ چارلس کو قتل کرديا جائے مگر قاتل کے حصول کے لئے ميں کچھ نہيں کرسکتا البتہ اسے بھاگنے ميں مدد دے سکتا ہوں“
يہودي ڈائريکٹر پريٹ نے اس کے جواب ميں 12 جولائي1647ء کو لکھا” جونہي چارلس کو ہٹاديا گيا اور يہوديوں کو واپس آنے کي اجازت دے دي گئي? مالي امداد فراہم کردي جائے گي ،قتل کرنا خطرناک ہے ،بہتر ہوگا کو چارلس کو فرار کا موقع ديا جائے اور پھر اسے گرفتار کرليا جائے، يوں اس پر مقدمہ چلانا اور سزائے موت دينا ممکن ہوگا“?
12نومبر1648ء چارلس کو بھاگنے کا موقع دے کر پکڑ ليا گيا، اسي دوران کراموئيل نے پارليمنٹ کے بہت سے ممبرز کو نکال ديا? اس کے باوجود جب 5دسمبر1648ء کو پارليمنٹ کا اجلاس ہوا تو اکثريت نے فيصلہ کيا کہ بادشاہ جو رعايتيں دينے کو تيار ہے وہ کافي ہيں ليکن کرامويل لڑ گيا? اس نے کرنل پرائيڈ کو حکم ديا کہ ان ارکان کو نکال ديا جائے جنہوں نے بادشاہ کے حق ميں فيصلہ ديا ہے? اس طرح پارليمنٹ ميں صرف50ارکان رہ گئے ? انہوں نے 9 جنوري1649ء کو ايک ايسي عدالت کا اعلان کيا جو بادشاہ پر مقدمہ چلائے گي? بادشاہ کي فرد جرم بنانے کے لئے کوئي انگريز وکيل نہ ملا تو ايک گمنام يہودي کو اس پر مقرر کيا گيا? بادشاہ کے خلاف سماعت ہوئي اور اس طرح انگلينڈ کے شہريوں کي طرف سے ہرگز نہيں بلکہ بين الاقوامي يہيودي مہاجنوں، سود خوروں اور قرض خواہوں کي وجہ سے بادشاہ کو مجرم قرار دے کر اسے سزائے موت ديدي گئي اور پھر 30جنوري1650ء کو لوگوں کے سامنے اس کا سر قلم کرديا گيا? يہ تھا بھيانک انتقام اس جبري خروج کا جو ايڈورڈ اول نے يہوديوں پر مسلط کيا تھا? يہاں يہ بات اچھي طرح سمجھ ليني چاہئے کہ مقصد صرف انتقام ہي نہيں بلکہ انگلينڈ کے مالياتي نظام کے ذريعہ حکومت پر قبضہ بھي ايک بڑا مقصد تھا، پھر انگلينڈ کو دوسرے ملکوں کے ساتھ بہت سي جنگوں ميں ملوث کرکے اکثر بادشاہوں کو کنگال کرنے کے بعد انہيں بڑے بڑے قرض دئيے گئے اور اس طرح تقريباً تمام يورپي اقوام کو ”مقروض“ کرديا گيا?
پھر سازشوں، جوڑ توڑ، ذہين چالوں کي ايک لمبي داستان ہے اور يہ معصوم سا کالم ظاہر ہے اس کا متحمل نہيں ہوسکتا ہم سيدھے شارٹ کٹ مار کر وليم کي تخت نشيني (1699)پر آتے ہيں جس کے بعد اس نے حکم ديا کہ يہودي بنکوں سے بارہ لاکھ پچاس ہزار پونڈ قرضہ ليں? تاريخ آج تک نہيں جانتي کہ يہ قرضہ دينے والے پوشيدہ ہاتھ کن کے تھے? ڈيل کو خفيہ رکھنے کے لئے ميٹنگ چرچ ميں ہوئي، صہيونيت نے مندرجہ ذيل شرائط پر قرض دينا قبول کيا?
1?ان کے نام ظاہر نہ کئے جائيں اور انہيں” بنک آف انگلينڈ“ کے قيام کا چارٹر ديا جائے(نامہ کے ذريعہ يہ تاثر دينا تھا کہ يہ سرکاري ہے)?
2?انہيں قانوني حق ديا جائے کہ وہ سونے (Gold) کو سکے کي بنياد(گولڈ سٹينڈرڈ) بنا سکيں?
3?انہيں ايک پونڈ سونے کے عوض دس پونڈ تک قرضہ دينے کي اجازت دي جائے?
4?پورے قومي قرضہ کو اکٹھا کرنے کے بعد انہيں يہ حق ديا جائے کہ وہ يہ قرضہ اور اس کا سود لوگوں سے براہ راست ٹيکس کے ذريعہ وصول کرسکيں?
کيا ہمارے عظيم قائدين سوچ بھي سکتے ہيں کہ گولڈ سٹينڈرڈ کے نتائج کيا نکلے؟ اگر انگلينڈ کا قرض تب 4سالوں ميں ايک ملين پونڈز سے بڑھ کر16ملين پونڈز ہوگيا تھا اور 1945ء ميں يہ قرض 22 ارب 50 کروڑ 35 لاکھ ہوچکا تھا تو اس آکٹوپس کے سامنے موجودہ دنيا کي حقيقت اور حيثيت کيا ہوگي؟ پاکستان تو کسي شمار قطار اور
کھاتے ميں ہي نہيں کہ چہ پدي چہ پدي کا شوربہ اور پھر امريکہ کي مشکيں کيسے کسي گئيں يہ اک اور طلسم ہوشربا ہے جو کسي ”حضرت صاحب“ کي سمجھ ميں بھي نہ آسکے گي کہ اس کے لئے”درس نظامي“ سے زيادہ علم درکار ہے?
سچ يہ ہے کہ پورا عالم اسلام اپنے اصل حريف سے واقف ہي نہيں کيونکہ يہ”اصل آقاؤں“ کے غلاموں کے غلاموں کے غلاموں کے غلاموں کے سايوں اور پرچھائيوں کا غلام ہے? ان کے حکمرانوں اور فکري و مذہبي ليڈروں کي بھي عموما دو ہي صفات ہيں ،اول جہالت دوم عياشي? يہ تو اتني استعداد بھي نہيں رکھتے کہ وضاحت سے پيش کي گئي کسي بات کو سمجھ بھي سکيں اس لئے ”امريکہ کي غلامي سے نجات“ …”ڈرون حملے بند کرو“ ”امريکہ عراق کے بعد افغانستان ميں بھي شکست کھا چکا“ وغيرہ وغيرہ وغيرہ جيسي لغويات و فروعات کے علاوہ ان کے پلے ہي کچھ نہيں کہ فکري ديواليہ پن اس دنيا سے باخبر ہي نہيں جس ميں ايڑياں رگڑ رہا ہے……شايد يہ سب پچھلے جنم ميں کنوئيں کے مينڈک تھے?
آخر پر چندRevealing quotesجن سے اندازہ لگايا جا سکتا ہے کہ صيہونيت ہے کيا؟ عہد حاضر ميں اس کا کردار کتنا فيصلہ کن ہے؟ اور اس دنيا کي بنت کس قسم کي ہے؟ اور ان کا مائنڈ سيٹ کيا ہے؟ غور سے پڑھو اور ہوش کرو?
"We Jews regard our race as superior to all humanity ,and look forward not to its ultimate union with other races ,but to its triumph over them"
گولڈ ون سمتھ يہودي پروفيسر آف ماڈرن ہسٹري آکسفورڈ يونيورسٹي اکتوبر 81دوسرا پيغام بلکہ تھيٹر ملا حظہ فرمائيے?
"Why are gentiles needed? they will work ,they will plow,The will reap and we will sit like an effendi (Turkish Bossman)and eat.That is why gentiles were created"
Rabbi ova dia, Mentor of TRFP
"The modern Jew is the product of the Talmud"
 Michael Rodkinson)
" The wholw fortune of nations will pass into the hand of the Jewish people:
(Isdor Loeb)
پڑھتا جا… شرماتا جا اور کچھ نہ سيکھنے سمجھنے کي قسم بھي کھا کہ جہالت جيسي راحت کوئي نہيں! کيوں مولانا کيا خيال ہے؟
ايک ہي موضوع پر اوپر نيچے چار کالم……آپ بھي بور ہوئے ہوں گے کيونکہ ميں بھي خاصا بيزارہوا ہوں ليکن کيا کرتا کہ موضوع ہي اتنا نازک اور حساس کہ اس پر چار کيا چار ہزار کالم بھي لکھے جائيں تو کم ہيں? مسئلہ حل ہو نہ ہو ليکن ميري شديد ترين خواہش رہي ہے کہ لوگ اتنا تو جان جائيں کہ مسئلہ ہے کيا؟ علاج تو بہت بعد کي بات ہے ہميں تو يہي خبر نہيں کہ ہمارا مرض کيا ہے؟جب کوئي يہ کہتا ہے کہ ہم فلاں يا ڈھمکاں کے غلام ہيں تو مجھے ان کي عقلوں پر رونا آتا ہے کہ يہ جن کو اپنے ”آقا“ ہونے کا اعزاز بخشتے ہيں وہ تو خود کسي اور کے غلام ہيں? ہمارے سميت يہ دنيا اگر کسي کي غلام ہے تو وہ کوئي ملک نہيں بلکہ نظام در نظام اک ايسا”گلوبل نظام“ ہے جو اس دنيا پرمسلط کيا جاچکا ہے? يہ”گلوبل نظام“ کيا ہے؟ اور کن لوگوں نے اسے کرہ ارض پر مسلط کيا؟ گزشتہ چار کالموں ميں اسي کي طرف چند اشارے کئے گئے? بے شمار فون کالز کے جواب ميں اس
موضوع پر آخري بات اک سادہ سے سوال کي صورت ميں کروں گا کہ کيا ہمارے پيارے”عمامہ، جبہ و دستار“ نے کبھي سوچا کہ……دنيا کا موجودہ ”مالياتي اور اقتصادي نظام“ کس کي”ايجاد“ …کس کي”اختراع“ اور کس کا ”کارنامہ“ ہے؟ اور يہ نظام بني نوع انسان کے ساتھ کيا کچھ کررہا ہے کہ مسلمان تو بني نوع انسان کا ايک جزو ہي ہيں ناں اور ان پر يہ نظام کچھ زيادہ تر” مہربان“ اس لئے ہے کہ اول ان کے پاس اک اپنا ضابطہ حيات ہے جو اور کسي کے پاس نہيں، دوم يہ کہ ان کي تعداد بھي بہت زيادہ ہے اور ان کے ملک بھي جو اور کسي کو ميسر نہيں? اس بات کي تکرارکرتے اک عمر گزر گئي کہ مسلمان سائنس اور ٹيکنالوجي پر فوکس کريں ليکن اب محسوس ہوتا ہے کہ وقت ہي برباد کيا کہ مسلمان تو صديوں ميں ايسے چند ماہرين اقتصاديات بھي پيش نہ کرسکے جو صيہونيت کے مسلط کردہ مالياتي و اقتصادي نظام کا متبادل قابل عمل ماڈل بناتے اور عالم اسلام يکسوئي کے ساتھ اسے اپنانے اور پريکٹس کرنے کے بعد اک دليل کے طور پر اسے دنيا کے سامنے پيش کرتا کہ يہ ہے مالياتي واقتصادي نظام کا اسلامي ماڈل ?



Also read:
  1. The Thirteenth Tribe 
  2. The Protocols of the elders of Zion
  3. Pawns in the Game
  4. Zionism, Bible & Quran
  5. http://en.wikipedia.org/wiki/Conspiracy_theories
  6. Conspiracy Theories in Muslims: http://wikiislam.net/wiki/Muslim_Conspiracy_Theories
  7. Top 10 Conspiracy Theories USA
  8. Financial System, Jewish Perspectivehttp://www.jewishencyclopedia.com/articles/6116-finance
  9. Capitalism-and-islam-what-is-difference?
  10. Capitalism: A Ghost Story: by Arundhati Roy, India : Is it a house or a home? A temple to the new India, or a warehouse for its ghosts? Ever since Antilla arrived on Altamount Road in Mumbai, exuding mystery and quiet menace, things have not been the same. “Here we are,” ...

Visit: http://freebookpark.blogspot.com