Pages
- Home
- FrontPage
- FB
- Delusions
- Save Pakistan
- نظریہ پاکستان
- Electoral Reforms
- ووٹ کی شرعی حیثیت
- Kashmir
- Importance of Pakistan
- Love Pakistan
- Ideology of Pakistan نظریہ پاکستان
- Our Dilemma & Options
- Pak-Pedia
- One God
- Why Religion?
- Why Islam?
- Peace Forum
- Anti Islam FAQs
- Democracy, Shari'a & Khlafah
- Free eBooks
- Faith Forum
- خلافت
- Corruption
- Role of Ulema in Quran
- Reconstruction of Religious Thought
- Tolerance
- Altaf Qamar
- صرف مسلمان Muslim Only
- Free Books
- Islam & Pakistan
- Special Picks
- سلام انڈکس
Featured Post
FrontPage صفحہ اول
Salaam Pakistan is one of projects of "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...
Bernard Lewis, Zionists and Western Plans to Carve up Middle East and Pakistan. How to Counter these Anti Muslim Plans! اسلامی دنیا اورپاکستان کی تباہی کا منصوبہ – برنارڈ لوئس پلان
Sweden recognise Pelistine
IN recognising the State of Palestine on Thursday, the Swedish government has taken an important step that confirms the right of the Palestinian people to self-determination.
Sweden’s traditionally close ties with the State of Israel are now complemented by an equivalent relationship with the other party in the two-state solution that Israelis, Palestinians and a united international community see as the path to lasting Middle East peace. Keep reading.... http://www.dawn.com/news/1141883/showing-the-way
اسراءیل اور مسلمان ممالک Israel and Muslim countries
جس ملک کی قومی آمدنی کا جو حصہ سائنس کی ریسرچ اور ترقی پر خرچ کیاجارہا ہے‘ اس کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ہر دس لاکھ افراد میں سائنسی مطبوعات کے حوالے سے یہ ملک دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔
اس کے ہر دس ہزار ملازمین میں ایک سو چالیس سائنس دان ہیں یا انجینئر۔ یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
امریکہ میں یہ تعداد 85 اور جاپان میں 83ہے۔
ہفتہ روزہ 'نیوزویک‘ نے اس ملک کے ایک شہر کو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے دس با اثر ترین شہروں میں شمار کیا ہے۔
اس کی سات یونیورسٹیاں صرف ریسرچ کے لیے مخصوص ہیں۔ پانچ یونیورسٹیاں دنیا کی ٹاپ کی پچاس یونیورسٹیوں میں شمار ہورہی ہیں۔
اس ملک کے نصف درجن سائنس دان کیمسٹری میں نوبیل انعام حاصل کر چکے ہیں۔
اقتصادیات اور دیگر شعبوں میں انعام اس کے علاوہ ہیں۔ صرف ملٹری کے حوالے سے دس ہائی ٹیک کمپنیاں رات دن کام کررہی ہیں۔
آئی ٹی، ٹیلی کمیونی کیشن، میڈیسن اور دوسرے شعبوں میں مصروف ہائی ٹیک کمپنیاں اس کے علاوہ ہیں۔
2012ء میں یہ ملک دنیا بھر میں دوسرا تعلیم یافتہ ترین ملک قرار دیاگیا ۔ تعلیم کے شعبے میں جتنی بھی سرمایہ کاری ہورہی ہے اس کا 78فیصد اس ملک کی حکومت مہیا کررہی ہے۔ 45فیصد لوگ کالج یا یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ ہیں۔
یہ ملک عالم اسلام کا دشمن ہے۔ اس کی برتری کا بڑا سبب تعلیمی میدان میں اس کی محنت اور سنجیدگی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہم مسلمان کہاں کھڑے ہیں؟
محمد اظھار الحق
Palestine issue.. Need to change strategy?
مسئلہ فلسطین
میرا مخاطب اسرائیل یا امریکہ نہیں،اردو پڑھنے والے وہ لوگ ہیں جو فلسطینیوں پر روارکھے گئے ظلم پر اداس ہیں۔
آج اہلِ فلسطین کے ساتھ ہمدردی کا تقاضا ہے کہ ان کے قتل ِ عام کو رکوایا جائے۔یہی نہیں، اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے کہ آئندہ ایسے واقعات کم سے کم ہوں۔میرے نزدیک تشدد کی مکمل نفی کے سوا اس کی کوئی صورت نہیں۔بد قسمتی سے پہلے الفتح اور اب حماس جیسی تنظیموں نے تشدد کو بطورحکمتِ عملی اختیار کرکے فلسطینیوں کو زخموں کے سوا کچھ نہیں دیا۔اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں مکمل آزادی تو دور کی بات، اب ادھوری آزادی کا تصور بھی خواب وخیال ہو تا جا رہا ہے۔یاسر عرفات نے بعد از خرابیٔ بسیارتشددکو الوداع کہا۔حماس کوابھی تک تشدد پہ اصرار ہے۔اس لائحہ عمل کی ناکامی نوشتۂ دیوار ہے۔فلسطینیوں کا بہتا لہو،تنہا ایسی دلیل ہے جو اس اندازِ فکر کی غلطی پر شاہد ہے۔آج اہلِ فلسطین کو ایک نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ایسی حکمتِ عملی جو اُن کے جانی و مالی نقصان کو کم کر سکے اور مسئلے کے ایک منصفانہ حل کے لیے ان کی جد وجہد کو زندہ رکھ سکے۔میری اس رائے کی بنیاد چند دلائل پر ہے۔
1۔چند دنوں کے تصادم میں264فلسطینی مارے جا چکے اور اس کے مقابلے میں صرف ایک اسرائیلی کی جان گئی ہے۔اگر ہم ان واقعات کی ابتدا کو سامنے رکھیں تو تین اسرائیلی نوجوان اغوا کے بعد قتل ہوئے۔یوں یہ دو سو چونتیس اور چار کی نسبت ہے۔گویا ایک اسرائیلی کے بدلے میں اٹھاون فلسطینیوں کی جان گئی۔ابھی جنگ جاری ہے اور نہیں معلوم کہ یہ نسبت کہاں تک جاتی ہے۔اس سے پہلے،جب بھی تصادم ہوا، نسبت کم و بیش یہی رہی۔ 2008-09ء میںبھی یہی ہوا تھا۔اس وقت 1166 فلسطینیوںکے مقابلے میں تیرہ اسرائیلیوں کی جان گئی تھی۔ تب یہ نسبت ایک اور نوے(90)کی تھی۔مجھے اس قیادت پر حیرت ہے جو اس حکمتِ عملی پر اصرار کرتی ہے جس میں انسانی جان کے ضیاع کا تناسب یہ ہے۔اس قربانی کو بھی گوارا کیا جا سکتا ہے اگر یہ معلوم ہو کہ وہ مقصد پورا ہو رہا ہے جس کے لیے جانیں دی جارہی ہیں۔اس کابھی دور دور تک کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔
2۔ فلسطینی اس وقت کئی سیاسی وعسکری گروہوں میں منقسم ہیں۔ محمود عباس کی جماعت اور حماس کا اختلاف ظاہرو باہر ہے۔یہ اختلاف نظری ہے اور مفاداتی بھی۔برسرِ پیکار گروہ باہم قتل و غارت گری میں بہت سے لوگوں کی جان لے چکے۔اس طرح منقسم قوم کسی منظم ریاست کے خلاف کیسے لڑ سکتی ہے؟
3۔ امتِ مسلمہ‘ جس کو دن میں کئی بار پکارا جاتا ہے، کہیں مو جود نہیں۔ اسی لیے اس پکار کا کوئی جواب نہیں آتا۔مجھے حیرت ہے کہ لوگ اس کے باوجودخلا میں صدا لگاتے اور یہ امید کرتے ہیں کہ جواب آئے گا۔میں بارہا عرض کر چکا کہ امت ایک روحانی وجود تو ہے کوئی سیاسی یا سماجی اکائی نہیں۔ آج مسلمانوں کی قومی ریاستیں ہیں یا مسلکی گروہ‘ سب اپنے اپنے مفادات کی آبیاری کر رہے ہیں۔ 'داعش‘ نے اپنے تئیں خلافت کا اعلان کیا اور القاعدہ نے اسے مسترد کر دیا۔داعش کا اپنا خلیفہ ہے اور القاعدہ کا اپنا۔امت ِ مسلمہ پاکستان جیسے ملکوں میں بعض گروہوں کا رومان ہے۔وہ فلسطینیوں کے لیے صرف احتجاج کر سکتے ہیں اور بس۔کیا اس سے ان کے دکھوں میں کوئی کمی آ سکتی ہے؟
4۔ اسرائیل ایک منظم ریاست ہے اور اس کی پشت پر امریکہ، برطانیہ اور روس جیسی کئی طاقت ور ریاستیں ہیں۔یہ طاقتیں ہر اخلاقی اور بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیل کی حمایت کرتی ہیں۔دنیا کا اس وقت اجماع ہے کہ اسرائیل کو بطور ریاست قائم رہناہے۔فلسطینی ریاست کے بارے میں ابھی تک ابہام ہے۔ فلسطینیوں کی حمایت ایران کی ریاست کرتی ہے یا شام کی۔اس حمایت کی اساس بھی نظریہ یا امت نہیں، ان ریاستوں کے علاقائی مفادات ہیں۔اس وقت حماس کے ساتھ اسلامی جہاد کی تنظیم بھی موجود ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔کہا جاتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کو ایک تشویش یہ بھی ہے کہ حماس کی نسبت اسلامی جہاد سے معاملات کرنا مشکل تر ہو گا، اس لیے حماس سے معاملہ کرنے کی کوشش کی جائے۔شام کی حکومت اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے،اس لیے فلسطینیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔یوں بھی،بشار الاسد کے خانوادے کو امتِ مسلمہ سے جو نسبت ہے، اس کا حال کوئی اخوان سے پوچھے جن کی پیٹھ پر اس خاندان کا تازیانہ مسلسل برستا رہا۔پھر یہ کہ ماضی میں بھی ان ریاستوں کی کوئی مدد فلسطینیوں کے کام نہ آ سکی۔مصر میں اخوان ان کا اخلاقی اور کسی حد تک مادی سہارا تھے۔ان کی بے چارگی ہمارے سامنے ہے۔
سادہ سا سوال ہے کہ ان اسباب کی روشنی میں اہلِ فلسطین کو کیا کر نا چاہیے؟میرا خیال ہے کہ قابلِ عمل حل صرف ایک ہے۔فلسطینی خود کوایک سیاسی قیادت کے تحت منظم کریں اور دوریاستی حل کو قبول کرلیں۔وہ اس بات کی پوری کوشش کریں کہ ان کی ریاست ہر طرح سے خود مختار اور آز اد ہو۔اس کے ساتھ یروشلم کو ایک آزاد شہر قرار دینے کا مطالبہ کیا جائے کیونکہ یہ تینوں ابراہیمی مذاہب کے لیے تقدس رکھتا ہے۔دو ریاستی حل پر اس وقت کم و بیش ساری دنیا متفق ہے۔جب یہ فارمولہ پہلی بار سامنے آیا تو اس میں فلسطینیوں کے لیے بہت کچھ تھا۔جب انہوں نے اسے تسلیم نہیں کیا اور یہ خیال کیا کہ وہ عسکری جدو جہد سے اسرائیل کاخاتمہ کردیں گے توان اسباب کی بنا پر ،جن کا میں نے ذکر کیا، ان کا وجود سمٹتا چلا گیا۔آج اگر اسرائیل 1967ء سے پہلے کی سرحد کو تسلیم کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے خالی کرتا اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کو عملاً تسلیم کرتا ہے تو یہ فلسطینیوں کی بڑی فتح ہو گی۔
اگر تشدد کو خیر باد کہتے ہوئے، فسلطینی اس کے لیے سیاسی جدو جہد کرتے ہیں تو اس کے دو فوائد ان کو فوری طور پر مل سکتے ہیں۔ایک یہ کہ اسرائیلی تشدد میں کمی آ جائے گی۔دوسرا یہ کہ انہیں دنیا کے ایک بڑے حصے کی اخلاقی و سیاسی تائید میسرآ جائے گی۔اس وقت امریکہ میں یہودیوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو اسرائیل کے خلاف ہے۔وہ اس ظلم کی تائید پر آ مادہ نہیں۔خود اسرائیل میں بھی بہت سے یہودی ہیں جو اسرائیل کو خوف کی اس فضا سے نکالنا چاہتے ہیں۔اس کے ساتھ مسلمان قومی ریاستیں بھی اپنے قومی مفادات کو قربان کیے بغیر، فلسطینیوں کی حمایت کر سکیں گی۔اسرائیل آسانی کے ساتھ مقبوضہ علاقوں کو خالی نہیں کرے گا۔اس کے لیے بھی طویل جدو جہد کی ضرورت ہو گی؛ تاہم اس وقت ساری توجہ فلسطینیوں کے قتل عام کو روکنے پر مبذول کی جانی چاہیے۔کاش انہیں ایسی قیادت میسر آئے جوان کی بچوں کو زندگی کا پیغام دے سکے۔پاکستان کی اسلامی تحریک اگر اہلِ فلسطین کو یہ مشورہ دے سکے تو ان کے ساتھ یہی حقیقی ہمدردی ہو گی۔اب اس کے سوا کچھ نہیں ہو گا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہو جائے۔کیا 264 افراد کی جان اس لیے دی گئی؟یہ سچ ہے کہ اسرائیل نے ظلم کیا لیکن سوال یہ ہے کہ فلسطینی قیادت نے اس ظلم کو روکنے کے لیے کیا کیا؟ اس وقت اہلِ فلسطین کو ایک نئی قیادت اور ایک نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔یہ طے ہے کہ موت کو گلیمرائز کرنے والے زندگی کی امید نہیں دے سکتے۔ جو عمومی زندگی میں بھی جنگ کے اصول اپنا تی ہو،قومیں ایسی قیادت کے ہاتھوں برباد ہو جاتی ہیں۔
Khursheed Nadeem dunya.com.pk
Your stake in Palestine
Protocols of elders of Zion: Wakeup call by Hasan Nisar
| The Protocols of the elders of Zion: purports to document the minutes of a late 19th-century meeting of Jewish leaders discussing their goal of global Jewish hegemony. Their proposals to engender such include subverting the morals of the Gentile world, controlling the world's economies, and controlling the press. The Protocols is still widely available today on the Internet and in print in numerous languages. The document reveals through the mouths of the Jewish leaders a variety of plans. For example, the Protocols includes plans to subvert the morals of the non-Jewish world, plans for Jewish bankers to control the world's economies, plans for Jewish control of the press, and - ultimately - plans for the destruction of civilization. The document consists of twenty-four "protocols". Keep reading >>>> |
| ہوش ميں آؤ... چوراہا … حسن نثار.) | |||||||||
| يہ ايسے اہرام ہيں جن کي بنياديں نمک کي ہيں، يہ ايسے جنگجو ہيں جن کے گھوڑے حنوط شدہ يعني مردہ، جن کي کمانيں کنير کي شاخوں سے بنائي گئي ہيں اور تير مہندي کي شاخوں سے تراشے گئے، ان کي ڈھاليں تربوز کي کھاليں اور زرہ بکتر قرباني کے جانوروں کي کھالوں سے تيار ہوئي ہے، ان کے نيزے بيد کي لچک دار لکڑي سے گھڑ ے گئے اور تلواريں پاپولر نامي درخت سے بنوائي گئي ہيں جس کي لکڑي عموماً خلال اور ماچس کي تيلياں بنانے کے لئے استعمال ہوتي ہے اور يہ آکٹوپس کي غلامي سے نجات چاہتے ہيں? يہ دراصل کچھ ايسا ”مائنڈ سيٹ“ ہے جن کي عقليں بہت چھوٹي ليکن زبانيں بہت لمبي ہيں? ان کي بودي بڑھکيں سن کر مجھے وہ کيوٹ سا چوہاياد آتا ہے جو غلطي سے شراب کے ڈرم ميں گر گيا اور ڈبکياں کھانے لگا کہ اتفاقاً بروري کے کسي ملازم کي نظر پڑ گئي تو اس نے ”انساني ہمدردي“ کے تحت اس کي زندگي بچانے کے لئے اسے دم سے پکڑ کر باہر پھينک ديا? کچھ دير بعد چوہے کو تھوڑي سي ہوش آئي تو وہ جھومتا جھامتا اپنے گھرکي طرف روانہ ہوا? رستے ميں اسے ايک وحشي جنگلي بلي دکھائي دي جو گہري نيند سو رہي تھي? نشے ميں دھت چوہے نے حقارت سے خونخوار بلي کو ديکھا اور پھر ٹھڈا مارتے ہوئے چلايا… ”اٹھ نرگس! شير گجر تيرا مجرا سننے آيا ہے“ انہيں اصل کہاني کي سمجھ ہي نہيں آرہي کہ امريکہ اور امريکن تو خود ”مظلوم ترين“مخلوق ہيں? يہ نہيں جانتے کہ امريکہ ميں تو سفيد امريکن بھي ”وائٹ نيگرو“ سے زيادہ کچھ نہيں کيونکہ امريکہ کي ”سپر پاوري“ کے پيچھے دست ستم، دست علم اور دست ہنر کسي اور کا ہے جو دنياميں اسي تناسب سے ہيں جس تناسب سے آٹے ميں نمک اور دھرتي پر خشکي ہوتي ہے? اشارہ ميرايہوديت کي طرف نہيں کہ عام يہودي بھي معصوم ہے? ميرا اشارہ صيہونيت کي طرف ہے جس نے ساري جديددنيا کو اپنے شکنجے اور پنجے ميں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ وہ بيچاري پھڑپھڑا بھي نہيں سکتي? کياجہالت کے يہ امام جانتے ہيں کہ عصر حاضر کا سياسي اور مالياتي نظام کس نے ”ايجاد“ اوروضع کيا؟ اور وہي اسے کنٹرول کر رہے ہيں? جن کم بختوں کو مرض کا ہي علم نہيں وہ علاج خاک کريں گے? دشمن مغرب ميں تم مشرق ميں ڈھونڈ رہے ہو، دشمن اوپر تم پاتال ميں ڈھونڈ رہے ہو، دشمن مکمل اندھيرے ميں تم روشني ميں ٹامک ٹوئياں مار رہے ہو? صيہونيوں کے ”پروٹوکولز“ ہي پڑھ لو ظالمو! اور اس کھيل کي وہ تاريخ جو ريکارڈ پرموجود ہے کہو تو ميں ”خلاصہ“ پيش کروں؟ اول تو تم نے پڑھنا نہيں دوم يہ کہ تم نے سمجھنا نہيں کہ دلوں دماغوں پر مہريں ثبت ہوچکيں ليکن پھر بھي ميں ”ڈھيٹ ابن ڈھيٹ ابن ڈھيٹ“ تھوڑي سي کوشش ضرور کروں گا کہ شايد… شايد… شايد قبوليت کي کوئي گھڑي ہو اور نہ بھي ہو توکم از کم آئندہ نسليں تو جان سکيں گي کہ ان کے تمام ايلڈرز فارغ اور جاہل نہيں تھے کہ ميں تواکثر بولتا اور لکھتا بھي صرف ان کے لئے ہوں جوابھي نہ سن سکتے ہيں نہ پڑھ سکتے ہيں کہ ان کي سماعتيں اوربصارتيں ابھي بچپن کے مرحلہ ميں ہيں? ميں نہيں جانتا کہ جہالت کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہوتي ہے سو اس کي بھي خبر نہيں کہ اس کا جواب کہاں سے شروع کرکے کہاں ختم کرنا ہے بہرحال… بہت دور کي بات نہيں جب دنيا کے بيشتر دروازے يہوديوں پر بند کرديئے گئے اور شايد يہي وہ لمحہ تھا جب ان ميں سے ايک اقليت نے پوري دنيا سے انتقام لينے کا فيصلہ کيا ليکن شمشير نہيں تدبير کے بل بوتے پر وہي ”تدبير“ جس کي طرف اقبال? يہ کہتے ہوئے اشارہ کرتاہے: دين کافر ”فکر و تدبير“ جہاد دين ملاّ في سبيل اللہ فساد ايک بار پھر عرض ہے کہ ان کا ”انتقام“ سمجھنے کے لئے يہ کتابچہ پڑھنا ضروري ہوگا: "Protocols of the meetings of the elders of zion" اسے پڑھنے سے بہت سا بخار بھي اتر جائے گا اور دماغ سے بہت قسم کے جالے بھي اتر جائيں گے? يہ خفيہ دستاويز پہلي بار دنياکے سامنے پروفيسر نائيلس (Nilus)کي وجہ سے آئي جو روس کے آرتھوڈوکس چرچ کے پادري تھے? انہوں نے پہلي بار روسي زبان ميں اس کا ترجمہ 1905 ميں کيا? بقول پروفيسر نائيلس کہ ”پروٹوکولز“ مختلف خفيہ ميٹنگز کے منٹس (minutes) نہيں بلکہ ان کے بارے ميں ايک رپورٹ ہے? بالشويک انقلاب پر نائيلس کو ترجمہ کے جرم ميں نہ صرف گرفتار اور قيد کيا گيا بلکہ اسے ٹارچر بھي کيا گيا? ”پروٹوکولز“ کے پہلے انگريزي مترجم کا نام تھا Victor e Marsden جو برطانوي ہونے کے ساتھ ساتھ ”مارننگ پوسٹ“ کا نمائندہ بھي تھا? وہ کئي سال روس ميں تعينات رہا اور اس کي بيوي بھي روسي تھي? بالشويک انقلاب کے بعد يہ کتابچہ روسي مہاجرين کے ذريعے نارتھ امريکہ اور جرمني پہنچا? ”پروٹوکولز“ بنيادي طور پر دنيا پہ قبضہ کا بليوپرنٹ تھا اور ہے کہ پہلے مرحلہ ميں عيسائيت اور دوسرے مرحلہ ميں مسلمانوں کو کيسے مغلوب کرنا ہے? دنيا کے تقريباً ہر بڑے حادثہ، سانحہ، واقعہ، جنگ، Slumps، انقلاب، Cost of living ميں اضافہ اور unrest کے پيچھے يہي شيطاني منصوبہ کارفرما ہے اور آج تک کاميابي سے جاري و ساري ہے? ہنري فورڈ کا ايک انٹرويو جو 17فروري 1921 ميں "New York World" کے اندر شائع ہوا ميں اس آٹوموبيل جينئس نے ”پروٹوکول“ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: "The only statement I care to make about the protocols is that they fit in with what is going on. they are sixteen years old and they have fitted the world situation up to this time.| مصيبت يہ ہے کہ مسلمانوں کے اصل حريف سائبيريا سے زيادہ ٹھنڈے اور سمندروں سے زيادہ گہرے ہيں جبکہ يہ کوئلے کي طرح گرم (جو فوراً راکھ ہوجاتا ہے) ہيں اور انہوں نے نہانے والے ٹب کو ہي سمندر سمجھا ہوا ہے?
| |||||||||
- The Thirteenth Tribe
- The Protocols of the elders of Zion
- Pawns in the Game
- Zionism, Bible & Quran
- http://en.wikipedia.org/wiki/Conspiracy_theories
- Conspiracy Theories in Muslims: http://wikiislam.net/wiki/Muslim_Conspiracy_Theories
- Top 10 Conspiracy Theories USA
- Financial System, Jewish Perspective: http://www.jewishencyclopedia.com/articles/6116-finance
- Capitalism-and-islam-what-is-difference?
- Capitalism: A Ghost Story: by Arundhati Roy, India : Is it a house or a home? A temple to the new India, or a warehouse for its ghosts? Ever since Antilla arrived on Altamount Road in Mumbai, exuding mystery and quiet menace, things have not been the same. “Here we are,” ...
Visit: http://freebookpark.blogspot.com
-
آج کی دنیا میں اسمبلیوں، کونسلوں، میونسپل وارڈوں اور دوسری مجالس اور جماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر ج...
-
"ہم ایک ایسے اسلامی تصور کا تعاقب کر رہے ہیں جو انسانیت، جمالیات، دانش اور روحانی عقیدت سے خالی ہے … جس کا تعلق طاقت سے ہے...
-
ہمارے بڑے سیاست دانوں کی اصلیت کو کتاب " سرمایہ دارانہ نظام کا کمزور پہلو” (“Capitalism’s Achilles Heel” ) بے نقاب کرتی ہے یہ ایک ...
-
دو قومی نظریہ (انگریزی: Two Nation Theory) بر صغیر کے مسلمانوں کےہندوؤں سے علاحدہ تشخص کا نظریہ ہے۔ Read...
-
علماء کا کام قرآن کریم کے مطابق کیا ہے ؟ لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت یا حکومت و سیاست ؟ What is the R ole of Islamic Scholars in ...
-
Salaam Pakistan is one of projects of "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

