Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Thursday, February 23, 2017

Money making online انٹرنیٹ سے کمائی


Image result for earn money online

The easiest way to make money online is to create a blog or website and start displaying Google ads, the more visitors you have on your website, the more will be earning. Through Google adsense, you'll earn money via clicks and impressions.
http://time.com/money/4255564/how-to-make-money-online/

Needless to say, that Internet has become a money making machine. In my opinion, more money is made via internet than what people & companies are making physically. This is now trillions dollars industry. Thousands of companies are operating online, millions of people full-time working online and trillions of dollars are spent and earned through the internet. Addition to that, it’s growing very rapidly and dramatically. So why shouldn’t you be diving into this industry and start making money today? Well, it’s up to you. But today, I’m sharing with you (600+) ways through which you can make money on the internet.


بہت سے نوجوان جاننا چاہتے کہ کیا یہ واقعی ممکن ہے کہ ہم گھر بیٹھے کمپیوٹر پر کام کر کے ہزاروں لاکھوں کما سکتے ہیں۔ اس بارے میں عرض کر دوں کہ چونکہ یہ شعبہ پاکستان میں نیا ہے اور لوگوں کو اس بارے میں آگاہی نہیں ہے اس لئے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید انٹرنیٹ سے پیسے کمانا ممکن نہیں اور یہ فرضی کہانیاں ہیں۔ اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو حقیقت یہ ہے کہ چند پاکستانی ویب سائٹس تو ایسی ہیں جو انٹرنیٹ کے ذریعے گزشتہ سترہ اٹھارہ برس سے کما رہی ہیں جبکہ آج کل فیس بک اور یوٹیوب نے تو ہر فرد کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ بھی یہ کام کر سکے۔اس وقت جو غیرملکی ویب سائٹ بلاگ سے سب سے زیادہ پیسے کما رہی ہے وہ ہفنگٹن پوسٹ ہے ۔ اس کی مالک آریانہ ہفنگٹن ہیں اور اس کی آمدنی 23لاکھ تیس ہزار ڈالر یا پچیس کروڑ روپے ماہانہ ہے۔دوسرے نمبر پر ٹیک کرنچ ہے۔ اس کا مالک مائیکل ایرینگٹن ماہانہ آٹھ لاکھ ڈالر یا آٹھ کروڑ روپے کما رہا ہے۔ اگر آپ پاکستانی ویب سائٹس کے بارے میں جاننے کے متمنی ہیں تو الیکسا ڈاٹ کام پر جا کر رینکنگ دیکھیں اور جو پاکستانی ویب سائٹس دنیا کی پہلی ایک ہزار ویب سائٹس میں موجود ہیں‘ ان کے بارے میں اتنا سمجھ لیں کہ وہ ماہانہ کم از کم پچاس لاکھ سے ایک کروڑروپے تک کما رہی ہیں۔ یہ ویب سائٹس سوشل میڈیا پر اپنی تشہیری مہم چلاتی ہیں‘ وہاں اپنی خبریں اور دیگر مواد شیئر کرتی ہیں جس کے بعد فیس بک اور ٹوئٹر وغیرہ پر ان کا مواد پھیل جاتا ہے۔لوگ یہ چیزیں ایک دوسرے کو فارورڈ کرتے رہتے ہیں جس سے ویب سائٹس پر ٹریفک بڑھتی ہے۔ ٹریفک بڑھنے سے ویب سائٹ کے صفحات اور امپریشنز میں اضافہ ہوتا ہے اور نتیجتاًآمدنی بھی بڑھتی ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ سے کمائی بغیر ہاتھ ہلائے ہو جاتی ہے۔ یہ تاثر درست نہیں۔ جس طرح عام کاروبار میں لوازمات کا خیال رکھنا پڑتا ہے‘ اسی طرح اس میدان میں بھی مسلسل توجہ‘ وقت اور محنت درکارہوتی ہے۔اگر آپ اس پر روزانہ ایک گھنٹہ دیں گے اور باقی وقت فیس بک یا یوٹیوب پر چیزیں دیکھنے میں گزار دیں گے تو آپ ایک روپیہ بھی نہیں کما پائیں گے۔

ویب سائٹس سے آمدنی ان پر موجود گوگل یا دیگر کمپنیوں کے اشتہارات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ایک ہزار لوگ کسی ایک اشتہار پر کلک کرتے ہیں تو اکائونٹ میں تقریباً ایک ڈالر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی ویڈیو ایک لاکھ لوگوں نے دیکھ لی تو انہیں اس حساب سے ڈالر بھی آئیں گے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ یوٹیوب پر ویڈیو کے دوران جو اشتہار چلتے ہیں اگر پندرہ یا تیس سیکنڈ کا اشتہار کوئی صارف مکمل دیکھے گا تب ہی یوٹیوب چینل کے مالک کے اکائونٹ میں کچھ پیسے آئیں گے۔ صرف ویڈیوز دیکھنے والوں کی تعداد سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب تک لوگ اشتہارات کو کلک نہیں کریں گے تب تک بات نہیں بنے گی۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پاکستانی چونکہ دو نمبری کرنے میں ماہر ہیں اس لئے ہمارے ذہن میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ اگر ویڈیوز کو دیکھ کر یا اشتہارات کو کلک کر کے پیسے کمائے جا سکتے ہیں تو یہ کون سا مشکل کام ہے۔ ہم خود ہی بیٹھ کر ان اشتہارات کو بار بار کلک کرنا شروع کر دیں تو اس طرح ایک دن میں ہزاروں ڈالر کما لیں گے تو اس بھول میں مت رہیے۔ جنہوں نے یہ انٹرنیٹ بنایا ہے وہ کوئی بیوقوف نہیں ہیں۔ انہوں نے ہر چیز کا توڑ رکھا ہے۔ آپ جب انٹرنیٹ پر جاتے ہیں تو آپ کی چند معلومات بھی ساتھ ہی شیئر ہوجاتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم آپ کے زیراستعمال انٹرنیٹ کا آئی پی ایڈریس ہوتا ہے۔ یہ آئی پی ایڈریس ہی ہوتا ہے جس کے ذریعے سائبر کرائم والے انٹرنیٹ پر جرائم کرنے والوں کے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگر آپ ایک ہی آئی پی ایڈریس سے بار بار کلک کریں گے تو گوگل والے آپ کا اکائونٹ ہمیشہ کے لئے بند کر دیں گے اور آپ کے اکائونٹ میں موجود رقم بھی ضبط ہو جائے گی۔ اگر آپ جعلی آئی پیز کے ذریعے کوشش کریں گے اور دیگر
ممالک کے آئی پی استعمال کر کے اشتہارات پر کلک کریں گے تب بھی آپ کسی نہ کسی جگہ پکڑے جائیں گے اور گوگل ایڈ سینس آپ کو بتا دے گا کہ آپ کے اکائونٹ پر فلاں مرتبہ فلاں جگہ سے مشتبہ حرکات نوٹ کی گئی ہیں اور آپ ہکے بکے رہ جائیں گے۔فیس بک پر آمدنی Affiliateپروگرامز سے ہوتی ہے جو مختلف ویب سائٹس آفر کرتی ہیں۔ آپ فیس بک پیج بنانے کے بعد Affiliateپروگرامز کے لئے اپلائی کرتے ہیں۔ آپ کی پوسٹ جتنی زیادہ دلچسپ ہو گی اور لوگ جتنا زیادہ اس کو شیئر کریں گے اس پر موجود اشتہارات اتنی زیادہ مرتبہ کھلیں گے اور ان پر کلک کرنے کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ یہاں بھی یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ آپ کی خود کی گئی کلکس آپ کے اکائونٹ کی بندش کا باعث بن سکتی ہیں۔ 
یوٹیوب اس وقت انٹرنیٹ سے آمدنی کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے لئے آپ کو سب سے پہلے اپنا اکائونٹ بنانا پڑتا ہے۔اس کے بعد آپ اس میں ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہیں۔ یوٹیوب ان ویڈیوز پر اشتہارات دیتا ہے جو آپ نے خود بنائی ہوں۔آپ اپنے علاقے کی سیرگاہوں‘ شاپنگ مرکز‘ ہوٹلز اور عوامی تقریبات کی دلچسپ ویڈیوز بنا سکتے ہیں‘ آپ تعلیم کے موضوع پر ای لیکچر دے سکتے ہیں‘ آپ گھر کی دیواروں کو خود پینٹ کرنے کا طریقہ بتا سکتے ہیں‘ گاڑی کی ٹیوننگ کرنا سکھا سکتے ہیں‘ گاڑیوں کے نئے ماڈلز اور دیگر گاڑیوں کا موازنہ بتا سکتے ہیں‘ کسی موبائل کا لاک کوڈ کھولنے کا طریقہ بتا سکتے ہیں‘ نئے موبائلز کے بارے میں ری ویو دے سکتے ہیں‘ اپنے ملک کی بڑی خبروں پر تجزیہ کر کے ویڈیو بنا سکتے ہیں‘ پھلوں اور سبزیوں کے فوائد بارے بتا سکتے ہیں‘ میڈیکل سائنس‘ انجینئرنگ‘ معاشیات‘ ٹیکنالوجی‘ گلیمر‘ باغبانی جیسے ہزاروں موضوعات ایسے ہیں جن پر آپ ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے بعد آپ اسے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ جو لوگ کمنٹس دیں ان کا فوری جواب دیں۔اس طرح لوگوں کے انٹرایکشن میں اضافہ ہو گا۔آمدنی شروع کرنے کے لئے آپ کو اپنا اکائونٹ گوگل ایڈ سینس کے ساتھ لنک کرنا پڑے گا۔اٹھارہ برس یا اس سے اوپر کے صارف یہ سروس حاصل کر سکتے ہیں۔یہاں آپ کو پے پال اکائونٹ یا اپنے بینک اکائونٹ کی ضروری معلومات دینا ہوں گی تاکہ جب یوٹیوب کے اکائونٹ میں پیسے آئیں تو وہ آپ کے بینک اکائونٹ میں ٹرانسفر کئے جا سکیں۔یو ٹیوب اکائونٹ میں آپ اپنی ویڈیوز سے متعلق تمام تفصیلات دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے لوگوں نے ویڈیوز کو لائیک کیا‘ کتنوں نے اشتہارات پر کلک کیا وغیرہ وغیرہ۔
موبائل فون انڈسٹری کی تیزی سے پھیلتی صنعت نے اب موبائل فون کو بھی آمدنی کا بڑا ذریعہ بنا دیا ہے۔موبائل فون پر ہم جو ایپس ڈائون لوڈ کرتے ہیں انہیں بنانے والے بھی پیسے کماتے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں صرف ایپس بنانے کے لئے بھی پیسے دیتی ہیں ۔ گوگل کے اشتہارات ان موبائل ایپس پر بھی چلتے ہیں ۔ کئی ایپس لاکھوں کی تعداد میں ڈائون لوڈ ہوتی ہیں‘ ان پر کمنٹس بھی ہزاروں میں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان سے خاطر خواہ آمدنی بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ وہ ایپس زیادہ مقبول ہوتی ہے جو لوگوں کی ضرورت بن جاتی ہے۔ واٹس ایپ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہ اب ہر فرد کی ضرورت ہے۔ اسے یاہو کے دو سابق ملازمین نے آج سے آٹھ برس قبل بنایا تھا۔دو ہزار چودہ میں فیس بک نے واٹس ایپ کو چودہ بلین ڈالر میں خرید لیا جو اس کی اب تک کی سب سے بڑی خرید تھی۔پاکستانی بھی ایپس بنا رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایپ عالمی مقبولیت حاصل نہیں کر سکی۔ کریم ٹیکسی کی ایپ البتہ خاصی مقبول ہوئی ہے۔یہ بین الاقوامی کمپنی اوبر کی طرز پر چل رہی ہے جس سے فون پر چند منٹ میں ٹیکسی منگوائی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت آئی ٹی کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ حکومت اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ انٹرنیٹ سے آمدنی کو نصاب کا حصہ بنائیں کیونکہ بھارت اور دیگر ممالک اس سے اربوں ڈالر زرمبادلہ کما رہے ہیں اور ہم لوگ ابھی تک اس مخمصے میں پڑے ہیں کہ پتہ نہیں انٹرنیٹ سے کمائی ہوتی بھی ہے یا نہیں!
Ammar Chaudhry


Source: http://dunya.com.pk/index.php/author/ammar-chaudhry/2017-02-23/18656/11924795#tab2
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

Monday, February 20, 2017

Avenging Terror


IN a prescient statement to the UN Security Council on Feb 13, Pakistan’s permanent representative, after describing the actions taken to restrain terrorism in Pakistan, asserted: “What Pakistan continues to face today are externally supported terrorists.” As if on cue, successive terrorist attacks occurred in Lahore, Peshawar and Sehwan over the next three days.


Immediately after the atrocity at the shrine of Lal Shahbaz Qalandar in Sehwan, the ISPR spokesman said: “Recent terrorist acts are being executed on directions from hostile powers and from sanctuaries in Afghanistan. We shall defend and respond.” The army chief himself declared: “Each drop of the nation’s blood shall be revenged ... immediately. No more restraint for anyone.”

It is not always easy to avenge terror, or eliminate it, since the terrorists are often unknown or in hiding. This is not so in case of the recent terror strikes in Pakistan. We know the terrorists. The attacks have been claimed by the militant Islamic State group and the Tehreek-i-Taliban Pakistan’s subsidiary, Jamaatul Ahrar. We know where they are based: in sanctuaries in Afghanistan adjacent to Pakistan’s border. We know the ‘hostile powers’ that have sponsored these attacks: the intelligence agencies of Afghanistan and India.

Revenge is serious business. It must be exacted after cold calculation of the options, their effectiveness and probable consequences.

The sponsors of the terror war against Pakistan cannot be allowed impunity.
As a first step, the Torkham border crossing has been closed. This will punish the Afghan regime economically. But it may not punish the terrorists or their sponsors directly, nor meaningfully restrain their cross-border movement.

This will require full implementation of the plan to ‘seal’ the border with selective fencing, check posts and technological means to monitor cross-border infiltration. Adequate funds must be allocated to implement this plan expeditiously.

The speedy repatriation of the millions of Afghan refugees is another component of ‘defensive’ measures. Many terrorists are hiding in plain sight among the refugees. Repatriation has been slowed by UN appeals and by some Pakistani agencies on the refugee ‘gravy train’. Their resistance must be overcome. People or groups associated with militant movements and drugs and criminal mafias and the relatives of hostile Afghan leaders should be expelled forthwith.

GHQ has initiated a more direct response by demanding from the Afghan representatives in Islamabad that they take action against or hand over 76 identified terrorists who have been provided sanctuaries in Afghanistan. The demand made to Kabul was also conveyed to the US commander of the coalition forces in Afghanistan, since they exercise dominant influence over the Afghan regime and especially the Afghan intelligence agency, which is the main local sponsor of the anti-Pakistan terrorists. American whining about the Afghan Taliban and the Haqqani network should not be entertained until the US obliges its Kabul clients to take action against the TTP and IS terrorists targeting Pakistan.

Sartaj Aziz’s phone call to the Afghan national security adviser to urge cooperation against the ‘common threat’ of terrorism is unlikely to produce any result and may have detracted from the more robust message conveyed by GHQ to the Afghans. Pakistan’s counterterrorism cooperation with Kabul and the coalition to stabilise Afghanistan should be made conditional on their acting against the anti-Pakistan terrorists operating from Afghan territory.

Following the Foreign Office protest after the Lahore Mall atrocity, the Afghan charge d’affaires in Islamabad reportedly argued that the Kabul authorities could not be held accountable since there are large areas of Afghan territory that are outside its control. If this is indeed the case, and the Afghan National Army and the US-led coalition forces cannot act against the TTP and IS ‘safe havens’, Pakistan’s forces should be allowed to cross over and eliminate them. Most of these safe havens are within striking distance of the Pakistan-Afghan border.

If Kabul and the US refuse to act, or to facilitate a Pakistani operation, Pakistan may be left with no option but to take unilateral action against these safe havens and the terrorists hiding there. Other countries, like Iran or Turkey, would not hesitate to resort to such action if targeted by foreign-based terrorists. India is unlikely to use this as a pretext for cross-LoC ‘strikes’, given its vulnerability in held Kashmir.

The sponsors of the terror war against Pakistan — the Afghan and Indian intelligence agencies — cannot be allowed impunity. With the evidence in its hands, Pakistan can move the relevant UN Security Council bodies to have both these agencies declared sponsors of terrorism. At the very least, Pakistan should move the UN to conduct an impartial investigation into the role of these agencies in supporting the IS-linked TTP and its associates, as well as the Baloch insurgents. Pakistan’s agencies should no longer hesitate to reveal their ‘sources’ in establishing the sponsorship of terrorism by the Afghan and Indian agencies.

Nor can India be allowed to attack Pakistan with impunity in the west through Afghanistan. Pakistan should not foreclose the option of extending moral and material support to the ongoing indigenous Kashmiri freedom struggle. This struggle cannot be equated with terrorism; it is a legitimate movement for self-determination and implementation of UN Security Council resolutions. Pakistan’s support to the Kashmiri struggle is now both a political and moral responsibility and a strategic compulsion.

Threats and blandishments from India or its American friends cannot deflect Pakistan from protecting and promoting its own interests, objectives and security. An equitable peace with India — whe­ther in the West or the East — can be negotiated only if Pakistan displays courage and determination.

Everything must be done to avoid US sanctions. But many of the penalties entailed by sanctions have been already imposed against Pakistan, such as the halt in US military assistance and blockage of the so-called Coalition Support Funds. Unless Pakistan changes the equation, the price for restoring American largesse will be acceptance of the Indian-US agenda in South Asia. In the past, when under US sanctions, Pakistan has mobilised nationally to achieve its strategic goals, such as its nuclear and missile capabilities. These capabilities are its ultimate defence against external blackmail and aggression today. Pakistan’s leaders and its people must again rise to face the strategic challenges the nation confronts now.

BY MUNIR AKRAM — The writer is a former Pakistan ambassador to the UN.
Published in Dawn February 19th, 2017
Related: 
http://takfiritaliban.blogspot.com/
http://www.terrorism-research.com/
.
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

Counter Narrative to Terrorism ?خوارج ، تکفیری دہشت گردی کے خلاف بیابیہ کی ضرورت

Image result for ostrich head in sand
.

فرار کب تک؟

پانی سر سے گزر چکا۔ حقائق تلخ ہیں لیکن اب سامنا کیے بغیر چارہ نہیں۔دہشت گردی کے تین اسباب ظاہر و باہر ہیں۔

 ایک دین کی وہ تعبیر جو اس وقت غالب ہے اور کم و بیش تمام مذہبی سیاسی جماعتیں جسے قبول کرتی ہیں، یہ الگ بات کہ کھل کر اعتراف نہ کریں۔ دوسرا قومی سلامتی کا وہ بیانیہ جو مذہب سے وابستہ ہے۔ تیسرا علاقائی سیاست جس میں دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ تینوں اسباب کو سمجھے اور ان کا تدارک کیے بغیر اصلاح کا کوئی امکان نہیں۔

آ ج دین کی غالب تعبیر یہی ہے کہ اسلام سیاسی غلبے کے لیے آیا ہے اور اس کی جدوجہد مطالباتِ دین میں سے ہے۔

 ایک عالمی خلافت کا قیام مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے۔ دنیا دو حصوں میں منقسم ہے۔ حزب اﷲ یعنی وہ مسلمان جو اس غلبے کے لیے متحرک ہیں۔ دوسرے حزب الشیطان۔ یہ وہ ہیں جو اسلام کو نہیں مانتے یا وہ مسلمان جو ان سے تعلقات رکھتے ہیں۔ قومی ریاست کا وجود اور موجودہ سرحدیں استعمار کی دَین ہیں‘ بطور مسلمان ہم جنہیں قبول کرنے کے پابند نہیں۔ ہم قربِ قیامت کے دور سے گزر رہے ہیں جس کے بارے میں پیش گوئیاں موجود ہیں کہ اس دور میں کفر اور اسلام کے مابین فیصلہ کن معرکہ برپا ہونا ہے۔ دنیا میں اس کے لیے صف بندی ہو رہی ہے۔ پاکستان کو اس معرکے میں مرکزی کردار ادا کرنا ہے۔ اسی وجہ سے قدرت نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا ہے۔

دین کی یہ تعبیر زبان اور قلم سے پیش کی جاتی ہے۔ ہمارا میڈیا اس کی اشاعت و ترویج کرتا ہے۔ اس کے ماننے والے پاکستان میں اکثریت میں ہیں۔ ریاست نے اس کا کوئی متبادل بیانیہ مرتب نہیںکیا۔ وہ اس باب میں شدید ابہام کا شکار ہے۔ ریاست نہ تو اس بیانیے کی اشاعت کو روک سکی ہے اور نہ ہی اس کی غلطی واضح کر سکی ہے۔ پاکستان میں مذہبی سیاست کے علمبردار فی الجملہ اسی تعبیر کو مانتے ہیں۔

دوسرا سبب قومی سلامتی کا بیانیہ ہے جو مذہبی ہے۔

 پاکستان ایک قومی ریاست ہے جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ ہم نے اس قومی ریاست کی سلامتی کے لیے جو بیانیہ ترتیب دیا‘ اس کی بنیاد مذہب میں ہے۔ اس قومی ریاست کے دفاع کو ہم جہاد کہتے ہیں۔ اس کے لیے اگر کوئی رضاکارانہ جدوجہد کرتا ہے تو ریاست اس کی تحسین اور تائید کرتی ہے۔ ریاست نے اس بات کو نظر انداز کیا کہ مذہب ایک عالمگیر وحدت کا نام ہے جو روحانی اساسات رکھتا ہے۔ مذہب کو اگر ایک ایسی قومی ریاست کے دفاع کے لیے استعمال کیا جائے جس کی متعین سرحدیں ہیں تو اس سے تضاد واقع ہو گا۔ قومی سلامتی کے دفاع کے لیے وہی بیانیہ اختیار کیا جا سکتا ہے جو اس کی سرحدوں میں مقید رہ سکے۔ مذہب یہ نہیں کہتا کہ صرف پاکستان کا دفاع کیا جائے اور افغانستان کا نہیں۔ کیا افغانستان مسلمانوں کا ملک نہیں ہے؟ جو آدمی مذہبی بنیادوں پر پاکستان کا دفاع کرتا ہے، اسے افغانستان کے دفاع سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ افسوس کہ ریاست نے تجربات کے باوجود اس پہلو کو نظر انداز کیا۔ ریاست کا دفاعی بیانیہ تا دمِ تحریر مذہب پر کھڑا ہے۔

تیسرا سبب علاقائی مفادات ہیں۔ 

افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں۔ افغانستان کا الزام ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر وہ لوگ موجود ہیں جو افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ اب دکھائی یہ دیتا ہے کہ جواباً افغانستان ان عناصر کے لیے پناہ گاہ بن چکا جو پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ دونوں ریاستیں، یہ تاثر ملتا ہے کہ قومی مفاد کے نام پر عوام کے جان و مال سے بے نیاز ہو رہی ہیں۔
ان اسباب پر اگر اتفاق رائے ہو تو حل تلاش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ پہلے سبب کا حل یہ ہے کہ منظم طریقے سے دین کی اس تعبیر کی غلطی کو واضح کیا جائے۔ ریاست اس باب میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت، سب سے پہلے اس تعبیر کی اصلاح کو ہدف بنانا چاہیے تھا۔ اب تک ایسا نہیں ہو سکا۔ ریاست کے ذمہ داران ابھی تک ابہام کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دہشت گردوں کو سہولت کار میسر ہیں۔ ریاست نے دہشت گردوں کو ہدف بنایا لیکن ان اسباب کو نہیں۔مذہبی سیاست کے علمبرداروںکو بھی اپنا نقطۂ نظر واضح کرنا ہو گا۔ انہیں بتانا ہو گا کہ کیا اس تعبیرِ دین کو وہ درست مانتے ہیں؟ اگر نہیں تو ان کا جوابی بیانیہ کیا ہے؟ میرے نزدیک اب لازم ہے کہ یہ جماعتیں اس باب میں اپنا موقف دو اور دو چار کی طرح قوم کے سامنے پیش کریں اور بتائیں کہ وہ داعش یا عسکری تنظیموں سے کیسے مختلف ہیں؟ ان کا اختلاف اگر ہے تو یہ نظری ہے یا حکمتِ عملی کا؟

دوسرا سبب بھی لازم ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بنے۔ اگر قومی سلامتی کا وہی بیانیہ باقی رہنا ہے جس کی بنیاد مذہب پر ہے تو پھر عسکری تنظیموں کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ عسکری تنظیمیں جب بن جاتی ہیں تو ان کی سرگرمیوں کو محدود رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ پاکستان کی گزشتہ چالیس سالہ تاریخ اس کی شہادت ہے۔ لازم ہے کہ قومی سلامتی کے بیانیے میں عسکری ذمہ داری فوج اور ریاست کے پاس ہو۔ اس کے علاوہ کسی کو یہ حق نہ ہو کہ وہ دفاعِ پاکستان کے نام پر ہتھیار اٹھائے۔ اس کی ایک فرع یہ ہے کہ کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کو یہ حق نہ ہو کہ وہ دفاع پاکستان کے باب میں ایسی پالیسی کو فروغ دے جو ریاست کی حکمت عملی سے متصادم ہو۔ پاکستان کی سلامتی کے لیے اب ناگزیر ہے کہ اسے قومی سلامتی کے خود ساختہ محافظوں سے نجات دلائی جائے۔

تیسرے سبب کے خاتمے کے لیے اب ناگزیر ہے کہ افغانستان کے ساتھ دو اور دو چار کی طرح بات کی جائے۔ دسمبر 2014ء کے حادثے کے بعد جنرل راحیل شریف افغانستان گئے تھے۔ بعد کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدم اعتماد کی فضا ختم نہیں ہو سکی۔ اب ناگزیر ہے کہ افغانستان اور پاکستان یہ طے کریں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہو گیا ہے کہ مجرموں کے باہمی تبادلے کا معاہدہ کیا جائے۔ محض فہرست دینے سے بات نہیں بنے گی۔ جواباً وہ ایک فہرست ہمیں تھما دیں گے۔

2017ء پاکستان کے لیے فیصلہ کن ہے۔ پاکستان کی معیشت ایک نئے دور میں داخل ہو چکی۔ ساری دنیا اعتراف کر رہی ہے کہ اب مستقبل پاکستان کا ہے۔ بھارت میں موجود تمام امکانات کو کھنگالا جا چکا ۔ اب دنیا کی نظرپاکستان پر ہے۔ اس مرحلے پر دہشت گردی ایک بار پھر پاکستان کے مفاد کے در پے ہے۔ اگر قومی سلامتی مطلوب ہے تو لازم ہے کہ قومی سلامتی کا نیا بیانیہ ترتیب دیا جائے۔ اس کے لیے ان تین اسباب کو ہدف بنائے بغیر کو ئی راستہ نہیں۔ ریاست کو اب منفعلانہ کے بجائے فاعلانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔
By Khursheed Nadeem , Dunya.com.pk


Source  Dunya : http://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2017-02-18/18597/46227587#tab2
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Related: 

  1. Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل ؟: دہشت گردی ایک اختلافی نظریہ ہے جس کی بہترین وضاحت اس قدیم کہاوت سے ہوتی ہے؛ “ایک شخص کا دہشت گرد دوسرے کے نزدیک آزادی کا مجاہد ہے”... 
  2. National Counter-terrorism Narrative
  3. http://takfiritaliban.blogspot.com



~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page