Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

Counter Narrative to Terrorism ?خوارج ، تکفیری دہشت گردی کے خلاف بیابیہ کی ضرورت



Image result for ostrich head in sand
.

فرار کب تک؟

پانی سر سے گزر چکا۔ حقائق تلخ ہیں لیکن اب سامنا کیے بغیر چارہ نہیں۔دہشت گردی کے تین اسباب ظاہر و باہر ہیں۔



 ایک دین کی وہ تعبیر جو اس وقت غالب ہے اور کم و بیش تمام مذہبی سیاسی جماعتیں جسے قبول کرتی ہیں، یہ الگ بات کہ کھل کر اعتراف نہ کریں۔ دوسرا قومی سلامتی کا وہ بیانیہ جو مذہب سے وابستہ ہے۔ تیسرا علاقائی سیاست جس میں دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ تینوں اسباب کو سمجھے اور ان کا تدارک کیے بغیر اصلاح کا کوئی امکان نہیں۔

آ ج دین کی غالب تعبیر یہی ہے کہ اسلام سیاسی غلبے کے لیے آیا ہے اور اس کی جدوجہد مطالباتِ دین میں سے ہے۔

 ایک عالمی خلافت کا قیام مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے۔ دنیا دو حصوں میں منقسم ہے۔ حزب اﷲ یعنی وہ مسلمان جو اس غلبے کے لیے متحرک ہیں۔ دوسرے حزب الشیطان۔ یہ وہ ہیں جو اسلام کو نہیں مانتے یا وہ مسلمان جو ان سے تعلقات رکھتے ہیں۔ قومی ریاست کا وجود اور موجودہ سرحدیں استعمار کی دَین ہیں‘ بطور مسلمان ہم جنہیں قبول کرنے کے پابند نہیں۔ ہم قربِ قیامت کے دور سے گزر رہے ہیں جس کے بارے میں پیش گوئیاں موجود ہیں کہ اس دور میں کفر اور اسلام کے مابین فیصلہ کن معرکہ برپا ہونا ہے۔ دنیا میں اس کے لیے صف بندی ہو رہی ہے۔ پاکستان کو اس معرکے میں مرکزی کردار ادا کرنا ہے۔ اسی وجہ سے قدرت نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا ہے۔

دین کی یہ تعبیر زبان اور قلم سے پیش کی جاتی ہے۔ ہمارا میڈیا اس کی اشاعت و ترویج کرتا ہے۔ اس کے ماننے والے پاکستان میں اکثریت میں ہیں۔ ریاست نے اس کا کوئی متبادل بیانیہ مرتب نہیںکیا۔ وہ اس باب میں شدید ابہام کا شکار ہے۔ ریاست نہ تو اس بیانیے کی اشاعت کو روک سکی ہے اور نہ ہی اس کی غلطی واضح کر سکی ہے۔ پاکستان میں مذہبی سیاست کے علمبردار فی الجملہ اسی تعبیر کو مانتے ہیں۔

دوسرا سبب قومی سلامتی کا بیانیہ ہے جو مذہبی ہے۔

 پاکستان ایک قومی ریاست ہے جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ ہم نے اس قومی ریاست کی سلامتی کے لیے جو بیانیہ ترتیب دیا‘ اس کی بنیاد مذہب میں ہے۔ اس قومی ریاست کے دفاع کو ہم جہاد کہتے ہیں۔ اس کے لیے اگر کوئی رضاکارانہ جدوجہد کرتا ہے تو ریاست اس کی تحسین اور تائید کرتی ہے۔ ریاست نے اس بات کو نظر انداز کیا کہ مذہب ایک عالمگیر وحدت کا نام ہے جو روحانی اساسات رکھتا ہے۔ مذہب کو اگر ایک ایسی قومی ریاست کے دفاع کے لیے استعمال کیا جائے جس کی متعین سرحدیں ہیں تو اس سے تضاد واقع ہو گا۔ قومی سلامتی کے دفاع کے لیے وہی بیانیہ اختیار کیا جا سکتا ہے جو اس کی سرحدوں میں مقید رہ سکے۔ مذہب یہ نہیں کہتا کہ صرف پاکستان کا دفاع کیا جائے اور افغانستان کا نہیں۔ کیا افغانستان مسلمانوں کا ملک نہیں ہے؟ جو آدمی مذہبی بنیادوں پر پاکستان کا دفاع کرتا ہے، اسے افغانستان کے دفاع سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ افسوس کہ ریاست نے تجربات کے باوجود اس پہلو کو نظر انداز کیا۔ ریاست کا دفاعی بیانیہ تا دمِ تحریر مذہب پر کھڑا ہے۔

تیسرا سبب علاقائی مفادات ہیں۔ 

افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں۔ افغانستان کا الزام ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر وہ لوگ موجود ہیں جو افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ اب دکھائی یہ دیتا ہے کہ جواباً افغانستان ان عناصر کے لیے پناہ گاہ بن چکا جو پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ دونوں ریاستیں، یہ تاثر ملتا ہے کہ قومی مفاد کے نام پر عوام کے جان و مال سے بے نیاز ہو رہی ہیں۔
ان اسباب پر اگر اتفاق رائے ہو تو حل تلاش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ پہلے سبب کا حل یہ ہے کہ منظم طریقے سے دین کی اس تعبیر کی غلطی کو واضح کیا جائے۔ ریاست اس باب میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت، سب سے پہلے اس تعبیر کی اصلاح کو ہدف بنانا چاہیے تھا۔ اب تک ایسا نہیں ہو سکا۔ ریاست کے ذمہ داران ابھی تک ابہام کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دہشت گردوں کو سہولت کار میسر ہیں۔ ریاست نے دہشت گردوں کو ہدف بنایا لیکن ان اسباب کو نہیں۔مذہبی سیاست کے علمبرداروںکو بھی اپنا نقطۂ نظر واضح کرنا ہو گا۔ انہیں بتانا ہو گا کہ کیا اس تعبیرِ دین کو وہ درست مانتے ہیں؟ اگر نہیں تو ان کا جوابی بیانیہ کیا ہے؟ میرے نزدیک اب لازم ہے کہ یہ جماعتیں اس باب میں اپنا موقف دو اور دو چار کی طرح قوم کے سامنے پیش کریں اور بتائیں کہ وہ داعش یا عسکری تنظیموں سے کیسے مختلف ہیں؟ ان کا اختلاف اگر ہے تو یہ نظری ہے یا حکمتِ عملی کا؟

دوسرا سبب بھی لازم ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بنے۔ اگر قومی سلامتی کا وہی بیانیہ باقی رہنا ہے جس کی بنیاد مذہب پر ہے تو پھر عسکری تنظیموں کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ عسکری تنظیمیں جب بن جاتی ہیں تو ان کی سرگرمیوں کو محدود رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ پاکستان کی گزشتہ چالیس سالہ تاریخ اس کی شہادت ہے۔ لازم ہے کہ قومی سلامتی کے بیانیے میں عسکری ذمہ داری فوج اور ریاست کے پاس ہو۔ اس کے علاوہ کسی کو یہ حق نہ ہو کہ وہ دفاعِ پاکستان کے نام پر ہتھیار اٹھائے۔ اس کی ایک فرع یہ ہے کہ کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کو یہ حق نہ ہو کہ وہ دفاع پاکستان کے باب میں ایسی پالیسی کو فروغ دے جو ریاست کی حکمت عملی سے متصادم ہو۔ پاکستان کی سلامتی کے لیے اب ناگزیر ہے کہ اسے قومی سلامتی کے خود ساختہ محافظوں سے نجات دلائی جائے۔

تیسرے سبب کے خاتمے کے لیے اب ناگزیر ہے کہ افغانستان کے ساتھ دو اور دو چار کی طرح بات کی جائے۔ دسمبر 2014ء کے حادثے کے بعد جنرل راحیل شریف افغانستان گئے تھے۔ بعد کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدم اعتماد کی فضا ختم نہیں ہو سکی۔ اب ناگزیر ہے کہ افغانستان اور پاکستان یہ طے کریں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہو گیا ہے کہ مجرموں کے باہمی تبادلے کا معاہدہ کیا جائے۔ محض فہرست دینے سے بات نہیں بنے گی۔ جواباً وہ ایک فہرست ہمیں تھما دیں گے۔

2017ء پاکستان کے لیے فیصلہ کن ہے۔ پاکستان کی معیشت ایک نئے دور میں داخل ہو چکی۔ ساری دنیا اعتراف کر رہی ہے کہ اب مستقبل پاکستان کا ہے۔ بھارت میں موجود تمام امکانات کو کھنگالا جا چکا ۔ اب دنیا کی نظرپاکستان پر ہے۔ اس مرحلے پر دہشت گردی ایک بار پھر پاکستان کے مفاد کے در پے ہے۔ اگر قومی سلامتی مطلوب ہے تو لازم ہے کہ قومی سلامتی کا نیا بیانیہ ترتیب دیا جائے۔ اس کے لیے ان تین اسباب کو ہدف بنائے بغیر کو ئی راستہ نہیں۔ ریاست کو اب منفعلانہ کے بجائے فاعلانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔
By Khursheed Nadeem , Dunya.com.pk


Source  Dunya : http://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2017-02-18/18597/46227587#tab2
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Related: 

  1. Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل ؟: دہشت گردی ایک اختلافی نظریہ ہے جس کی بہترین وضاحت اس قدیم کہاوت سے ہوتی ہے؛ “ایک شخص کا دہشت گرد دوسرے کے نزدیک آزادی کا مجاہد ہے”... 
  2. National Counter-terrorism Narrative
  3. http://takfiritaliban.blogspot.com



~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 

لگنا میرا اے ایس پی ٹریفک راولپنڈی Altaf Qamar as ASP Traffic Rawalpindi

الطاف قمر صاحب پاکستان کے چند مائہ ناز ایماندار اور پروفیشنل پولیس افسروں میں ایک ہیں جو انسپکٹر جنرل پولیس کے اعلی عھدہ سے ریٹائر ہوۓ۔ دوستوں کے اصرارپر انہوں نے اپنے طویل کیرئیر کے تجربات کو ہماری راہنمائی کے لئیے لکھنا شروع کیا ہے۔ تلخ حقائق اور امید کی کرنیں ایک اچھے مستقبل کی نوید ہیں-  
اس سلسلہ کی تیسری تحریر میں وہ راولپنڈی میں بطور ASP ٹریفک  کے تجربات دلچسپ انداز میں بیان کرتے ہیں - لنک پرpdf ملاحظہ کریں: https://goo.gl/x3OPsm



Image result for asp traffic



~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

Driving Rules - Road Safety Awareness

• Obey Traffic Lights/Signals
• Always follow road sign especially mandatory road signs (signs in circle shape)
• A valid driving license is required and must.
• Minimum driving age is 18 years.
• Use of mobile while driving is prohibited
• Seat belt is mandatory for driver
• Seat belt is mandatory for person seating at front seat
• Helmet is mandatory for motorcycle riding.
• Follow speed standard/limit
• Driving under the influence of alcohol or drug is prohibited
• Follow Lane discipline
• Do not change more than one lane once.
• Red signal crossing is prohibited
• Left hand driving- keep to the left of the road
• Overtaking from right hand side
• Give proper signal while changing lane
• Turning without signal is prohibited
• Overloading is prohibited
• Stop before the stop line
• Stopping on zebra-crossing is prohibited
• Use of high beam light is illegal
• Display plate L if you are learner
• If the center line is continuous/unbroken then overtaking not allowed
• Broken white lines mean overtaking allowed
• Single yellow lines mean parking not allowed
• Double yellow line means stopping not allowed
• Overtaking not allowed at bend/curve/bridge
• Give way to traffic coming from hand side.
• Use of horn is prohibited near school/hospital/masjid

What are Pakistan’s economic interests in Afghanistan?



In Afghanistan the ‘new great game’ or ‘pipeline diplomacy’ as it is sometimes called, with regard to the control of energy resources in Central Asia and its distribution routes is shaping up. In recent years, the abundant energy resources in Central Asia, largely untapped, have triggered a race among the big powers for gas and oil pipelines in and around the region.

Pakistan’s interest in Central Asia sharply increased after the Soviet Union collapse. General Naseerullah Babar, who was central to Pakistan’s attempts to navigate these newly available potential economic opportunities, while negating the military dimension of ‘strategic depth’, said in an interview, that “the talk about strategic depth is nonsense … We realized that Afghanistan is a perfect corridor for goods from Central Asia. Those countries needed an Asian outlet, especially for oil and gas. We wanted to take advantage of that.”

Pakistan’s own location is vital in this whole economic dimension in Afghanistan’s context. As Pakistan’s geo-economic significance stems from its position at the junction of ‘three Asias’ – West, Central and South. Moreover, Pakistan and Afghanistan’s geo-strategic setting between the energy-loaded Middle East and Central Asia, and the energy-keen, growing economies of India and China naturally triggers some strong potential drivers for economic development in both Afghanistan and Pakistan. Moreover, Pakistan needs energy for its economic revitalization and the Turkemanistan-Afghanistan-Pakistan-India pipeline (TAPI), with all its hurdles, provides an energy source that will be in Pakistan’s capital stock for fifty years of more.

The DailyBrief
Must-reads from across Asia - directly to your inbox
The port of Gwadar, at the cusp of South, West, and Central Asia, is also important in this context. Gwadar, situated at the foot of Pakistan’s land mass, is the most suitable gateway to connect energy-hungry India and China with the energy rich Central Asia. The TAPI pipeline project, if it goes ahead, would go through Afghanistan and Pakistan before getting to India and/or China. Historically, instability in Afghanistan and hostile relations between Pakistan and India have meant that India has been reluctant to get this project underway.

While there are large potential economic dividends, there is also a great deal of friction around competing energy supply routes. On a regional level, while India and China are potential rivals for control of energy resources in Central Asia, China’s investment in the port of Gwadar is compelling India to look for other potential alternative routes to avoid Pakistan. The Iranian port of Chabahar is a part of this calculation of India’s. And perhaps it would be plausible to argue that with India’s fast growing economy, which is in dire need of energy resources, Pakistan might be interested in spoiling India’s economic plans by blocking its interest in Afghanistan, the only suitable route for the supply of these. As Kaur argues that, ‘Afghanistan is no longer a corner where nodes of terrorist networks can be hidden. It is a strategically situated route for the transport of Central Asian oil’ and a place of strategic importance for the regional players.

In the post-9/11 milieu Pakistan has lost its strategic dominance in Afghanistan, while India has increased its influence. In this context, some argue that “instability in Afghanistan serves Pakistan’s interests in making it more attractive” to key states and major energy companies alike, and it is more likely that they would favor energy routes that pass through Pakistan.

Similarly, but from a different perspective, some have argued that Pakistan may now have a good strategic reason to maintain a porous border with Afghanistan because the recognition of the Durand Line as an international border would restrain Pakistan’s scope for interference in Afghanistan. From this perspective, Pakistan not just hopes to achieve interference in Afghanistan; rather it wishes to stretch it down to Central Asia. Nevertheless, the politics of growing regional pipeline diplomacy will shape the future of geopolitics not only in South Asia but also in West and Central Asia and Pakistan sees this as a vital interest.
What are Pakistan’s economic interests in Afghanistan?
by Umair Jamal, atimes.com

http://www.atimes.com/search/?q=Umair%20jamal
More:

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace 

Peace Forum Network
Visited by Millions
       
Facebook Page

My entry to Police آنا میرا پولیس میں - الطاف قمر


الطاف قمر صاحب پاکستان کے چند مائہ ناز ایماندار اور پروفیشنل پولیس افسروں میں ایک ہیں جو انسپکٹر جنرل پولیس کے اعلی ترین عھدہ سے ریٹائر ہوۓ۔ دوستوں کے اصرارپر انہوں نے اپنے طویل کیرئیر کے تجربات کو ہماری راہنمائی کے لئیے لکھنا شروع کیا ہے۔ تلخ حقائق اور امید کی کرنیں شائید ایک اچھے مستقبل کی نوید ہو؟
اس سلسلہ میں اپنی  پہلی تحریر میں وہ پولیس سروس کو جوائن کرنے کی تفصیلات مختصر طور پر بیان کرتے ہیں -  درج ذیل لنک پر ملاحظہ کریں:


الطاف قمر کی مزید تحریریں:

اجڑنا ریس کورس لاہور کا- الطاف قمر انسپکٹر جنرل پولیس (ر)

الطاف قمر صاحب پاکستان کے چند مائیہ ناز ایماندار اور پروفیشنل پولیس افسروں میں ایک ہیں۔ انہوں نے اپنے طویل کیرئیر کے تجربات کو ہماری راہنمائی کے لئیے لکھنا شروع کیا ہے۔ تلخ حقائق اور امید کی کرنیں شائید ایک اچھے مستقبل کی نوید ہو؟
انہوں نے اپنے کیرئیر کی پہلی پوسٹنگ اور لاہور ریس کورس، جو ئے کا  اڈہ بند کرنے کی داستان دلچسپ انداز میں بیان کی ہے۔ اس میں ہمارے معاشرے کے چہرے کے دونوں رخ نظر آتے ہیں ۔۔۔ اس لنک پر ملاحظہ کریں:
https://goo.gl/0dRUwf

الطاف قمر کی مزید تحریریں: http://pakistan-posts.blogspot.com/2016/08/altafqamar.html
More:

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace 

Peace Forum Network
Visited by Millions
       
Facebook Page

انڈیا میں ایک اور نیا پاکستان ؟

ہندو کی فطرت‘آبادی اور خوف میں اضافہ
بھارت کے سینئر صحافی اور بظاہر غیر متعصب ہندو‘ کلدیپ نیر اپنے ملک میں ایک لبرل دانشور کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے زیر نظر مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی کے تین سالہ دورِاقتدار میں‘ بھارتی وزیراعظم کس سمت میں چل نکلا ہے؟ موجودہ صورت حال میںبر سر اقتدار پارٹی‘ بی جے پی نے خوف و دہشت کی جو فضا پیدا کر دی ہے‘ اب بھارت کے بظاہرغیر مذہبی آئین کا دعویٰ کبھی حقیقت میں نہیں بدل پائے گا۔ ان کا حالیہ مضمون ''کیا پاکستان ہندوستان کو تقسیم کر رہا ہے؟‘‘۔۔۔۔ یہ ہے ہندو ذہنیت کی خصوصیت۔ متحدہ ہندوستان میں بھی ان کی بھاری اکثریت تھی‘ اس کے باوجود بھی وہ‘ مسلمانوں سے ہمیشہ ٹکرانے کے موڈ میں رہا کرتے تھے۔ پاکستان معرض وجود آنے کے بعد بھی ہندوئوں نے مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے کی مہم چلائی اور بی جے پی کی موجودہ حکومت آنے کے بعد تو سارے پردے اٹھا دئیے گئے۔ بھارتی آبادی کے تمام اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب وہاں مسلمانوں کی تعداد بیس فیصد کے قریب ہو چکی ہے لیکن کلدیپ نیر بھی یہی لکھتا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی 14.8 فیصد ہے۔ آبادی کے اتنا کم کرنے کے باوجود‘ مخصوص ہندو خوف آج بھی موجود ہے۔کلدیپ نیر جیسے سینئر صحافی نے اپنے مضمون کی جو سرخی لگائی ہے‘ اسے دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہندوئوں کی تعداد میں خواہ کتنا اضافہ ہوتا جائے، ان کے ذہنوں میں مسلمانوں کا خوف بڑھتا ہی رہے گا۔ آج کے حالات میں بھی انہیں ڈر یہی ہے کہ پاکستان‘ بھارت کو تقسیم نہ کر ڈالے۔ مجھے یہ مضمون پڑھ کر خوف زدہ ہندو قوم کی حالت پر تعجب ہوا۔ لطف اندوز ہونے کے لئے آپ بھی اس مضمون کا مطالعہ کریں:
''بھارتی وزیر داخلہ‘ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان دوبارہ مذہب کی بنیاد پر ہندوستان کو تقسیم کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے تاریخ کو آسانی کی خاطر فراموش کر دیا ہے۔ پاکستان ایک نتیجہ تھا نہ کہ سبب۔ اس وقت معاشرہ تقسیم ہو گیا تھا۔ ہندو اور مسلمان دونوں ایسے موڑ پر پہنچ گئے تھے جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔ نتیجتاً دونوں الگ الگ خیموں میں بٹ گئے اور ان کے درمیان رابطہ برائے نام ہی رہ گیا۔ یہ درست ہے کہ محمد علی جناحؒ کی قیادت میں مسلم لیگ ایک خود مختار مسلم ملک کے قیام کی خواہاں تھی، لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ انہوں نے کیبنٹ مشن پلان کو تسلیم کر لیا تھا، جس میں مرکز کو تین معاملات یعنی دفاع‘ امور خارجہ اور مواصلات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ وہ تو نہرو نے یہ کہا تھا کہ قانون ساز اسمبلی کسی چیز میں تبدیلی کر سکتی ہے۔ اس کی وجہ سے جناح نے کیبنٹ مشن پلان کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ انہیں کانگریس پر ''اعتماد‘‘ نہیں ہے جو ہندوستان کے اتحاد کی نمائندگی کی دعویدار ہے۔ بہتر ہو گا اگر راج ناتھ اپنی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندو راشٹر کے قیام کے منشور کو بدل دیتے۔ وہ ایک انتقامی جذبہ کے تحت ایسا کر رہی ہے۔ مرکز میں بر سر اقتدار آنے کے بعد‘ بی جے پی نے مختلف اداروں میں اعلیٰ منصب والے لوگوں کو بدل دیا ہے‘ کیونکہ اس کے محسن آر ایس ایس کی طرف سے اسی طرح کے احکام صادر کئے گئے۔ جواہر لعل نہرو کی تعلیمات کے نقیب 'نہرو سنٹر‘ میں بھی اتھل پتھل مچائی گئی جبکہ یہ ادارہ تحریک آزادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے چیف ایگزیکٹو‘ ستیش ساہنی آر ایس ایس کے پکے معتقد ہیں۔ گجندر چوہان کو فلم انسٹی ٹیوٹ پونہ کا سربراہ بنائے جانے کے بعد سے اس کے طلبا مستقل عتاب کا شکار ہیں؟ شدہ شدہ احتجاج و مظاہرے کے بعد بھی حکومت اپنے موقف سے نہیں ہٹی۔ دیگر اداروں میں بھی اسی انداز میں تقرریاں عمل میں آئی ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایسا کوئی پالیسی فیصلہ نہیں لیا ہے‘ جس سے فلسفہ ہندوتوا کی عکاسی ہوتی ہو لیکن ان کی تقریروں اور اقدامات سے مذہب پسندوں کی طرف میلان کا اشارہ ملتا ہے۔ معاشرے میں نرم ہندوتوا کی جھلک پائی جاتی ہے۔ چاہے وزیر اعظم یہ کہیں یا نہ کہیں۔ عوام نے بہر حال غالب اکثریت سے انہیں لوک سبھا میں پہنچایا ہے اور وہ پارٹی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ملک کے12کروڑ مسلمان (یعنی 14.8 فیصد) ملک کے انتظامی امور میں شاید ہی کسی شمار و قطار میں آتے ہوں۔ مرکز میں کابینہ کے درجے کا صرف ایک مسلمان وزیر ہے اور اس کے پاس بھی کوئی پورٹ فولیو نہیں ہے۔ مسلم فرقے کی طرف سے اب کوئی مطالبہ ہوتا نہیں ہے، گویا اس نے دوسرے درجے کی شہریت قبول کر لی ہے۔ دراصل وہ(مسلمان ) دفاعی کیفیت میں ہیں اور ملک کی تقسیم کے لئے خود کو الزام دے رہے ہیں۔ میں نے ایک بار جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی سے وابستہ ایک مسلم دانشور سے سوال کیا کہ یہ فرقہ پر اسرار طور پر خاموش کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اب صرف اپنے جان و مال کا تحفظ درکار ہے اور یہ کہ اسے احساس ہو گیا ہے کہ اکثریتی فرقے کو ملک کے تئیں اس کی وفاداری میں شک ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فرقے کے لوگوں کے ذہن میں یہ احساس بیٹھ گیا ہے کہ ملک کے بٹوارے میں ان کا ہاتھ تھا اوراگر وہ حکومت سے کچھ مطالبات کریں گے تو انہیں غلط سمجھا جائے گا۔ وزیرداخلہ‘ راج ناتھ سنگھ نے اس شک کو بھی اجاگر کیا ہے جو شدت پسند ہندوئوں کے ذہن میں مسلمانوں کے بارے میں ہے۔ اوسط ہندو‘ اوسط مسلمان کے لئے گنجائش رکھتا ہے اور دونوں ہی لیڈروں کے اکسانے کے باوجود‘ وہ ایک دوسرے کے ساتھ معاملات اور لین دین کرتے ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات میں حیرت انگیز طور پر کمی آئی ہے اور ایسی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں کہ ایسے مواقع پر دونوں فرقوں نے‘ ایک دوسرے کے لئے باز آباد کاری میں حصہ لیا ہے۔ ہندوستان کو لازماً اعتراف کرنا چاہیے کہ اس نے جمہوریت کو صحیح معنوں میں مستحکم نہیں کیا ہے؛ حالانکہ اسے قائم کر دیا گیا ہے۔ اس کا بھر پور مظاہرہ انتخابات کے زمانے میں دیکھا جاتا ہے۔ جمہوری اقدار کے فقدان کی وجہ سے‘ ہندوئوں کے مشکوک احساس ذمہ داری کا مظاہرہ ہوتا ہے جو کہ اکثریت میں ہیں۔ در حقیقت اقلیتی فرقے کو راحت کا احساس دلانا اور ان میں اعتماد پیداکرنا اکثریت کی ذمہ داری ہے۔
میں حال ہی میں سری نگر میں تھا۔ میری رہنمائی کے لئے ایک مسلم انجینئر کو مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے شکایت کی کہ ان کے مذہب کی وجہ سے انہیں ملک میں کہیں اور ملازمت نہیں مل سکی۔ پرائیویٹ سیکٹر کو جب یہ معلوم ہوا کہ وہ مسلم ہیں تو متعلقہ ملازمت کی تمام اہلیتیں رکھنے کے باوجود‘ انہیں نہیں رکھا گیا۔ ان کے کشمیری ہونے کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہو گیا۔ دیگر مسلمانوں کو بھی ملک میں کہیں بھی ملازمت حاصل کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں انہیں تعصب کی وجہ سے جگہ نہیں ملتی۔ مسابقتی امتحان میں اچھے نمبر لانے میں دشواری انہیں اس لئے ہوتی ہے کہ ان کی تعلیم مہنگی فیس وصول کرنے والے پرائیویٹ سکولوں میں نہیں ہوتی۔ سرکاری سکولوں میں اچھی سہولتیں اور ماحول نہ ہونے کہ وجہ سے ان کی مشکلات اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ جب میں ''اسٹیٹس مین دہلی'' کا ایڈیٹر تھا تو انگلینڈ سے اپنی تعلیم مکمل کر کے ہندوستان آنے والے ایک مسلم ملازم نے شکایت کی تھی کہ انہیں ایک اچھے علاقے میں مکان نہیں مل پایا۔ میں یہ جان کر ششدر رہ گیا کہ وہ سچ کہہ رہے تھے اور یہ کہ کسی ہندو کے گھر میں مسلمان کرایہ دار کا ہونا ممکن نہیں تھا۔ یہ صورت حال1960ء کی دہائی کی ہے۔ آج بھی اکثریتی فرقے کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
وزیر داخلہ کو یہ یقینی بنانے کے لئے اقدام کرنا چاہیے کہ مسلمانوں کو ہندو اکثریتی علاقوں میں مکان کرایہ پر ملے۔ ورنہ ایسے پر ہجوم علاقے وجود میں آتے جائیں گے جہاں مسلمان خود کو محفوظ سمجھیں۔ معمول کی افطار پارٹیاں منعقد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ‘ جو ہر حکومت اور اس کی دیکھا دیکھی پارٹی لیڈران‘ اقلیتی فرقے کو رجھانے کے لئے کرتے رہتے ہیں۔ ممبئی جیسے مہذب شہر میں بھی فساد ہونے کے دوران‘ اپنی شناخت چھپانے کے لئے مسلمانوں کو اپنے نام کی تختیاں ہٹانی پڑیں۔ افسوس کہ ان کے ہندو ہمسائے ان میں اتنا اعتماد پیدا نہ کر سکے کہ وہ خود کو محفوظ محسوس کریں اور بلا جھجک ان کے ساتھ مل جل کر رہ سکیں۔ جس چیز کی انہیں ضرورت ہے وہ ہے تحفظ کا احساس۔ اور یہ احساس جگانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے لئے حفاظتی افواج کو مذہبی ترغیبات سے بالا تر ہونا پڑے گا۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ فساد زدہ علاقوں میں تعینات فورسز‘ جانب داری اور تعصب پر اتر آتی ہیں۔ امن بر قرار رکھنے کے لئے اکثر فوج طلب کرنی پڑتی ہے کیونکہ اس کا کردار آلودہ نہیں ہوتا۔ راج ناتھ سنگھ کو چاہیے کہ وہ اپنے زیر نگرانی فورسز کو مذہبی تعصب سے نجات دلانے کے لیے اقدامات کریں۔ اس کے بجائے وہ تقریریں کر کے ملک کی تقسیم کے تباہ کن نتائج کا الزام پاکستان پر رکھ رہے ہیں۔‘‘
نذیر ناجی
Source: http://m.dunya.com.pk/index.php/author/nazeer-naji/2016-12-22/17945/40362658#sthash.RFKyjltv.dpuf
More: http://www.rjgeib.com/biography/milken/crescent-moon/asian-subcontient/hindu-islam-history/hindu-islam.html

آرمی میں جانے کا کیا مطلب ہے؟

بلال جیسے بیٹے‘ جو یہ نہیں کہتے میں بڑا ہو کر ٹین پرسنٹ بنوں گا۔ جو اس فولادی عزم کا اظہار نہیں کرتے کہ
 میں بڑا ہو کر اتنی فیکٹریاں لگائوں گا، جدہ میں اتنے کارخانے قائم کروں گا اور لندن میں اتنے مکان خریدوں گا۔ وہ کہتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ سکول صبح کھل جائے تو صبح ہی واپس جائوں گا، بڑا ہو کر فوج میں جائوں گا اور اپنے شہید دوستوں کا بدلہ لوں گا! 
بلال بچہ ہے مگر دودھ پیتا بچہ نہیں! اس بچے کو معلوم ہے کہ آرمی میں جانے کا کیا مطلب ہے؟ آرمی میں جانے کا مطلب ہے بھاری بوٹ‘ سر پر لوہے کا خود! اور ہاتھ میں بندوق! راتوں کی مشقیں اور دن کے خوفناک تربیتی مراحل۔ گھنے جنگل‘ بلند پہاڑ‘ گہری کھائیاں‘ چٹانوں کے خون منجمد کر دینے والے خطرناک کنارے‘ دشمن کی گولیاں! مٹی کے بستروں پر مشتمل مورچے‘ آگ‘ خون‘ دھول‘ دھماکے اور شہادت! مگر عزم دیکھیے! ابھی چند گھنٹے پہلے اس کے ساتھی اُس کی آنکھوں کے سامنے گولیاں کھا کر زمین پر گرے اور ابھی اُس نے اعلان کیا کہ وہ ڈرنے والا نہیں‘ وہ بدلہ لے گا!
اس ملک کی بھی کیا قسمت ہے! کوئی نشے میں دُھت‘ طبلہ بجاتے ہوئے کہتا ہے‘ میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں‘ اور کوئی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے‘ میں ڈرتا نہیں! کوئی عرب بادشاہ کے بخشے ہوئے درہم و دینار سے اپنا کشکول بھرتا ہے اور کہتا ہے سب سے پہلے پاکستان! اور کوئی اس درہم و دینار پر تُھوک کر‘ جان ہتھیلی پر رکھتا ہے‘ رُوح آسمان کی طرف بھیجتا ہے اور اپنا لاشہ سخت کھردری زمین پر گرا کر کہتا ہے۔۔۔۔ سب سے پہلے پاکستان! 
آرمی اور دہشت گرد، دونوں مسلح ہیں۔ دونوں موت کے مسافر! مگر فرق کیا ہے؟ فرق یہ ہے کہ آرمی کا جوان‘ خواہ سپاہی ہے یا افسر‘ بھاگتا ہے نہ چھپتا ہے۔ سینے پر گولی کھاتا ہے۔ دہشت گرد سینے پر گولی نہیں کھاتا۔ کھا ہی نہیں سکتا! دہشت گردی کا لغت میں ایک ہی معنی ہے۔۔۔ بزدلی! حد درجہ بزدلی! وہ مار کر چُھپتا ہے‘ چُھپ کر مارتا ہے۔ اپنے ساتھیوں کو موت کے مُنہ میں ڈال کر‘ کسی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر‘ گم ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی موت بھی گمنام ہوتی ہے۔ اس کی قبر کا مقام بھی متنازعہ ہوتا ہے۔ دہشت گرد موت کے لیے لڑتا ہے۔ آرمی کا جوان زندگی کے لیے لڑتا ہے۔ دہشت گرد لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے‘ آرمی کا جوان لوگوں کو بچانا چاہتا ہے!
اُس پروردگار کی قسم! جس نے اِس مظلوم قوم کو بلال جیسے بچے عطا کیے‘ اس ملک کے مقدر میں روشنی ہے۔ صرف روشنی! چاندنی سے دُھلی ہوئی روشنی! سورج کی کرنوں سے بُنی ہوئی روشنی! اندھیرا چَھٹ کر رہے گا! اُفق روشن ہوں گے! باغ مخملیں سبزہ زاروں سے آراستہ ہوں گے۔ پرندے اُڈاریاں ماریں گے۔ کُنج پھولوں سے بھر جائیں گے۔ اس سرزمین پر وہ وقت ضرور آئے گا جب پانی افراط سے ہو گا اور میٹھا ہو گا! جب زمین سونا اگائے گی! جب فیکٹریوں سے بھوک نہیں‘ زندگی پیدا ہو گی! جب حکمران خود سودا سلف خریدیں گے‘ جب ہماری اسمبلیوں میں‘ ایک ایک پیسے کا حساب لینے والے ارکان بیٹھے ہوں گے۔ لوٹ مار ہمیشہ نہیں چل سکتی! ملک باقی رہے گا۔ ملک لوٹنے والے چھلنی میں سے نیچے گر جائیں گے‘ تاریخ کے گھٹا ٹوپ اندھے اندھیرے میں اُتر جائیں گے۔
یہ ملک صرف ڈاکٹر عاصم اور ایان علی نہیں پیدا کر رہا! یہاں صرف گلو بٹ نہیں پیدا ہوتے۔ یہاں صرف وہ دکاندار نہیں جو اپنی ہر صبح کا آغاز مرغیوں کی قیمت مقرر کرنے اور دودھ بیچ کر منافع کمانے سے کرتے ہیں۔ یہاں صرف وہ حکمران نہیں پیدا ہو رہے جن کی سوچ کی بلندی قیمتی گھڑی سے اُوپر نہیں جا سکتی۔ یہاں صرف ٹانگوں کے ساتھ بم باندھنے والے ''سیاست دان‘‘ نہیں پیدا ہو رہے۔ اس قوم میں بلال جیسے آہنی انسان بھی پیدا ہو رہے ہیں! اس ملک کی سرحدوں پر مورچے خالی نہیں‘ آباد ہیں! افغان سرحد سے گولی آتی ہے تو گولی بھیجنے والے کو مارنے والے موجود ہیں! یہ ملک چند مراعات یافتہ اجنبیوں کا نہیں! اسی سرزمین پر جینے اور اسی سرزمین پر مرنے والوں کا حق ہے۔ 
مراعات یافتہ اجنبی! ہاں، مراعات یافتہ بھی اور اجنبی بھی! چودہ سال حکومت پاکستان کے خزانے سے گورنری کی تنخواہ لینے والا برطانوی شہریت کا مالک عشرت العباد بیٹے کی شادی کہاں کر رہا ہے؟ کراچی میں؟ نہیں‘ دبئی میں! مبیّنہ طور پر یہ شادی ''اساطیر اٹلانٹس دی پام‘‘ دبئی میں 22 دسمبر 2016ء کو ہو رہی ہے۔ یہ مراعات یافتہ اجنبی‘ یہ غیر ملکی‘ کلائیو اور کرزن کی طرح یہاں صرف حکومت کرنے آتے ہیں۔ اس کے بعد یہ دبئی‘ لندن، جدہ اور نیویارک میں پائے جاتے ہیں!
تیرہ دسمبر کو وزیراعظم پاکستان نے پشین کا دورہ کرنا تھا۔ اُسی دوپہر کو پشین ریسٹ ہائوس میں وزیراعظم کے لیے ظہرانے کا پروگرام تھا۔ مبینہ طور پر کوئٹہ کے فائیو سٹار ہوٹل کی طرف سے ظہرانے کا جو خرچ بتایا گیا وہ پانچ ہزار پانچ سو روپے فی کس تھا۔ کل خرچ چونتیس لاکھ پچیس ہزار روپے بتایا گیا۔ اس میں روشنیوں، دیگر انتظامات‘ سٹاف کے رات کو وہاں رہنے کے اخراجات بھی شامل تھے۔ عین آخری وقت موسم کی خرابی کے سبب وزیراعظم کا دورہ منسوخ ہو گیا۔ ہماری اطلاع کے مطابق یہ بل‘ بلوچستان حکومت کی طرف سے ہوٹل کو ادا کرنا پڑا کیونکہ ہوٹل کو کیا معلوم تھا کہ دورہ منسوخ ہو جائے گا۔ اس پر قیاس کیجئے کہ جہاں بھی سواری جاتی ہے کتنا خرچ ہوتا ہے۔ ہر ظہرانے پر‘ ہر عشائیے پر‘ جہاں ٹھہرنا ہوتا ہے وہاں کی آرائش و تزئین پر!
مگر وہ سامنے دیکھیے‘ غور سے دیکھیے‘ سیاہ اندھیرے میں‘ دور‘ اُفق پر روشنی کی ایک نازک سی کرن شگاف ڈال رہی ہے! یہ شگاف بڑا ہو گا، اندھیرا چھٹ جائے گا۔ قائداعظمؒ جیسے حکمران ضرور لوٹیں گے جن سے کابینہ کے اجلاس کے لیے چائے کا پوچھا گیا تھا تو جواب دیا تھا‘ گھر سے پی کر آئیں‘ قومی خزانہ وزیروں کے لیے نہیں! قُدرت کے مضبوط ہاتھ چَھلنی کو ہلائے جا رہے ہیں! اس چھلنی سے کوئی نہیں بچے گا!
By Muhammad Izhar ul Haq --- Dynya.com.pk
- See more at: http://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2016-12-19/17914/97717719#tab2


Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Religion, Culture, Science, Peace
A Project of Peace Forum Network: Overall 3 Million visits/hits