فرار کب تک؟
آ ج دین کی غالب تعبیر یہی ہے کہ اسلام سیاسی غلبے کے لیے آیا ہے اور اس کی جدوجہد مطالباتِ دین میں سے ہے۔
دین کی یہ تعبیر زبان اور قلم سے پیش کی جاتی ہے۔ ہمارا میڈیا اس کی اشاعت و ترویج کرتا ہے۔ اس کے ماننے والے پاکستان میں اکثریت میں ہیں۔ ریاست نے اس کا کوئی متبادل بیانیہ مرتب نہیںکیا۔ وہ اس باب میں شدید ابہام کا شکار ہے۔ ریاست نہ تو اس بیانیے کی اشاعت کو روک سکی ہے اور نہ ہی اس کی غلطی واضح کر سکی ہے۔ پاکستان میں مذہبی سیاست کے علمبردار فی الجملہ اسی تعبیر کو مانتے ہیں۔
دوسرا سبب بھی لازم ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بنے۔ اگر قومی سلامتی کا وہی بیانیہ باقی رہنا ہے جس کی بنیاد مذہب پر ہے تو پھر عسکری تنظیموں کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ عسکری تنظیمیں جب بن جاتی ہیں تو ان کی سرگرمیوں کو محدود رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ پاکستان کی گزشتہ چالیس سالہ تاریخ اس کی شہادت ہے۔ لازم ہے کہ قومی سلامتی کے بیانیے میں عسکری ذمہ داری فوج اور ریاست کے پاس ہو۔ اس کے علاوہ کسی کو یہ حق نہ ہو کہ وہ دفاعِ پاکستان کے نام پر ہتھیار اٹھائے۔ اس کی ایک فرع یہ ہے کہ کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کو یہ حق نہ ہو کہ وہ دفاع پاکستان کے باب میں ایسی پالیسی کو فروغ دے جو ریاست کی حکمت عملی سے متصادم ہو۔ پاکستان کی سلامتی کے لیے اب ناگزیر ہے کہ اسے قومی سلامتی کے خود ساختہ محافظوں سے نجات دلائی جائے۔
تیسرے سبب کے خاتمے کے لیے اب ناگزیر ہے کہ افغانستان کے ساتھ دو اور دو چار کی طرح بات کی جائے۔ دسمبر 2014ء کے حادثے کے بعد جنرل راحیل شریف افغانستان گئے تھے۔ بعد کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدم اعتماد کی فضا ختم نہیں ہو سکی۔ اب ناگزیر ہے کہ افغانستان اور پاکستان یہ طے کریں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہو گیا ہے کہ مجرموں کے باہمی تبادلے کا معاہدہ کیا جائے۔ محض فہرست دینے سے بات نہیں بنے گی۔ جواباً وہ ایک فہرست ہمیں تھما دیں گے۔
2017ء پاکستان کے لیے فیصلہ کن ہے۔ پاکستان کی معیشت ایک نئے دور میں داخل ہو چکی۔ ساری دنیا اعتراف کر رہی ہے کہ اب مستقبل پاکستان کا ہے۔ بھارت میں موجود تمام امکانات کو کھنگالا جا چکا ۔ اب دنیا کی نظرپاکستان پر ہے۔ اس مرحلے پر دہشت گردی ایک بار پھر پاکستان کے مفاد کے در پے ہے۔ اگر قومی سلامتی مطلوب ہے تو لازم ہے کہ قومی سلامتی کا نیا بیانیہ ترتیب دیا جائے۔ اس کے لیے ان تین اسباب کو ہدف بنائے بغیر کو ئی راستہ نہیں۔ ریاست کو اب منفعلانہ کے بجائے فاعلانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔
- Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل ؟: دہشت گردی ایک اختلافی نظریہ ہے جس کی بہترین وضاحت اس قدیم کہاوت سے ہوتی ہے؛ “ایک شخص کا دہشت گرد دوسرے کے نزدیک آزادی کا مجاہد ہے”...
- National Counter-terrorism Narrative
- http://takfiritaliban.blogspot.com
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں






