Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

دین ، سیاست ، شدت پسندی کا رجحان اور قرآن و سنت ؟



توہین قرآن و توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

فرانس اور اسلام فوبیا کے شکار مغربی ممالک میں وقفہ وقفہ سے توہین قرآن، توہین  رسالت صلی اللہ علیہ وسلم، کی جاتی ہے جو دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب ہے۔ ہم پاکستانی مسلمان اس معاملہ میں بہت جذباتی ہیں ، ہونا بھی چاہئیے کہ ہم قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت، احترام  کرتے ہیں۔ حکومت کو عوامی جزبات کے مطابق مزید اعلی ترین سفارتی اقدامات اور کوششیں کرنا چاہیں تاکہ وہ لوگ ان مزموم حرکات سے باز آئیں۔ عوام میں بھی شعور پیدا کریں کہ جزبات کی رو میں بہہ کر قرآن و سنت کے برخلاف اقدامات سے پرہیز کریں۔  سیاسی مزہبی رانماووں اورعوام میں بھی شعور پیدا کریں کہ جزبات کی رو میں بہہ کر قرآن و سنت کے برخلاف فتنہ و فسادی اقدامات سے پرہیز کریں۔

http://pakistan-posts.blogspot.com/2021/04/militant-politics.html |

وارننگ : جو حضرات قرآن کو صرف تلاوت تک محدود کرتے ہیں اور ھدایت ، عمل کے لیے کس دینی رہنما ، مولانا ، یا شخصیت کے احکمات کو ترجیح دیتے ہیں ( یہود و نصاری یہی کرتے ہیں) ، وہ اس تحریر سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے :

 اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ --- ‎﴿٣١﴾‏

"انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں (علماء و مشائخ) کو پروردگار بنا لیا ہے(صرف ان کی بات مانتے ہیں)،--" (قرآن 9:31)

قرآن کی آیات کا انکار کفر ہے: 

هٰذَا هُدًى‌ ‌ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ  ۞ 

یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار  (کفر) کیا  (القرآن - سورۃ نمبر 45 الجاثية، آیت نمبر 11)

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الۡبُكۡمُ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞

یقیناً اللہ کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گُونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (قرآن 8:22)

الله کا فرمان ہے :

اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَـنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِؕ ۞ 

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا (القرآن - سورۃ نمبر 85 البروج، آیت نمبر 10 )

رسول ﷺ کو تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں"  (القرآن 9:128)

اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّ ؕ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا‏ ۞ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ۞ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَيۡرِ مَا اكۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا (القرآن57،58، 33:56)

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو۔ ۞ (القرآن 33:56)

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ (القرآن 33:57)

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچاتے ہیں، انہوں نے بہتان طرازی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا ہے (القرآن 33:58)

رسول ﷺ سے محبت کا تقاضہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات ، احکام کو تسلیم کریں۔ لوگوں کو فرانس میں توہین رسالت کے نام پر آحتجاج سے راستے بند کرکہ، تشدد ، توڑ پھوڑ، گھیراو جلاو، قتل و غارت گری، فتنہ و فساد سے عوام اور رسول اللہ ﷺ کی تکلیف نہ پہنچائیں اورقرآن کے واضح احکام پر عمل کرکہ اللہ اور  رسول اللہ ﷺ سے اپنی سچی محبت کو ثابت کریں جو دوسری سیاسی جماعتوں اور دنیا کے لئیے مثال بنیں .. اگر ایسا نہیں کرتے تو شیطانی نفس کے غلام ، نبی ﷺ کے دشمن قرار پاتے ہیں: 

رسول ﷺ  سے محبت کا تقاضہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات ، احکام کو تسلیم کریں اور ان پر عمل کرکہ اپنی سچی محبت کو ثابت کریں ، دوسروں کے لیے مثال بنیں ..

وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيۡنَ الۡاِنۡسِ وَالۡجِنِّ

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بنا دیے انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین .. (القرآن - سورۃ نمبر 6 الأنعام، آیت نمبر 112)

 رسول ﷺ سے محبت کے دعوے اور قرآن و سنت کی خلاف درزی کرنا کیسے درست عمل ہو سکتا ہے - جس بات اور عمل سے  رسول  ﷺ کو اذیت پہنچتی ہے ووہی عمل کرنا ہے .. یہ محبت ہے یا دشمی ، یا گستاخی, یا جہالت؟

فرانس کا ملعون  صدرجو کہ رسول ﷺ کو اذیت پہنچاتا ہے اور یہی کام جو مسلمان دوسرے طریقہ سے کرے،  تو وہ سوچے کہ فرانس کے  ملعون  صدراور اس شخص میں کیا فرق رہ گیا ہے؟

لَـقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ‏ ۞ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِىَ اللّٰهُ ۖ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ‌ ؕ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ۞

(لوگو) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے ۞ پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو (اے رسول ! ان سے) کہہ دو کہ : میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔۞ (القرآن - سورۃ نمبر 9 التوبة, آیت نمبر 128-129)

"امر بالمعروف نہی عن المنکر"  کا تقاضا ہے کہ ایسے لوگوں کو برائی سے روکنا چاہئیے اپنی استطاعت کے مطابق ۔۔۔ نہ کہ من گھڑت  تاویلوں سے ان کی حمائیت کریں ۔۔۔  

کسی اچھے کام  کے حصول کے لئیے "مقصد اور طریقہ" دونوں ہی قرآن سنت کے مطابق ہوں تو درست ہو سکتا ہے۔ 

اَمْ لَہُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِہِ اللہُ۝۰ۭ﴾(شوریٰ :۲۱)

'' کیا ان لوگوں نے ایسے شریک بنا رکھے ہیں جو ان کے لیے دین کا ایسا طریقہ مقرر کرتے ہیں جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔''

ایک انسان کا قتل انسانیت کا قتل

 اَنَّهٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِى الۡاَرۡضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيۡعًا ؕ وَمَنۡ اَحۡيَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحۡيَا النَّاسَ جَمِيۡعًا ‌ؕ

 "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی" (قرآن 5:32)

فسادی ، فتنہ پرور، دہشت گرد

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ۞ 

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں(القرآن 2:11)

دین اسلام ، حب  رسول اللہ ﷺ خااتم النبیین ،  کے نام پر کچھ لوگ ملک میں فتنہ وفساد ، انارکی پھلا رہے ہیں ۔ ان کی اصل حقیقت کا جائیزہ لیتے ہیں ۔

*انسانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی باتیں زندگانی دنیا میں بھلی لگتیہیں اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ بناتے ہیں حالانکہ وہ بدترین دشمن ہیں  (قرآن 2:204)*

اور جب آپ کے پاس سے نہ پھیرتے ہیں تو زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کھیتیوں اورنسلوں کو برباد کرتے ہیں جب کہ خدا فساد کو پسند نہیں کرتا ہے (2:205)

 جب ان سے کہا جاتاہے کہ تقویٰ الٰہی اختیار کرو تو غرور گناہ کے آڑے آجاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے جہّنم کافی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے (2:206) 

اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اپنے نفس کو مرضی پروردگار کے لئے بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے (2:207)

 ایمان والو! تم سب مکمل طریقہ سے اسلام میں داخل ہوجاؤ اور شیطانی اقدامات کا اتباع نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے (2:208) 

پھر اگر کھلی نشانیوں کے آجانے کے بعد لغزش پیدا ہوجائے تو یاد رکھو کہ خدا سب پر غالب ہے اور صاحبِ حکمت ہے (2:209)

 یہ لوگ اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ابر کے سایہ کے پیچھے عذابِ خدا یا ملائکہ آجائیں اور ہر امر کا فیصلہ ہوجائے اور سارے امور کی بازگشت تو خدا ہی کی طرف ہے  (سورة البقرة:  210)

جانوروں سے بدتر ، بے عقل لوگ

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الۡبُكۡمُ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞

یقیناً اللہ کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گُونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (قرآن 8:22)

لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ( 7۔ الاعراف :179)

 ان کے دل ہیں، لیکن ان سے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں، لیکن ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں یہ چوپائے کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔ یہ لوگ  بیخبر ہیں۔

مسلمان قرآن کی ان آیات پر غور کریں اور عمل کریں ، قرآن کی آیات کا انکار کفر ہے: 

هٰذَا هُدًى‌ ‌ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ  ۞ 

یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار  (کفر) کیا  (القرآن - سورۃ نمبر 45 الجاثية، آیت نمبر 11)

احتجاج سیاسی کلچر کا حصہ ہے جسے تمام سیاسی پارٹیاں اختیار کرتی ہیں، تو دینی معاملہ میں اس پر پابندی کیوں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج کو تسلیم کیا جاتا ہے مگر احتجاج قانون کے دائیرہ میں پرامن ہونا چاہئیے جب احتجاج میں تشدد شامل ہو جائیے جس سے عوام اور کی زندگی اور پراپرٹی کو خطرہ ہو تو ریاست اور قابون حرکت میں آتے ہیں۔  فتنہ و فساد کا خاتمہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ دین کے نام ایسی حرکات کرنا جس کی دین بھی اجازت نہیں دیتا ایک غلط مثال قائیم کرنا ہے۔ بلکہ دین اسلام،  رسول اللہ ﷺ کے نام پر سیاست کرنے والے دوسروں کے لئیے عمدہ مثال قائم کریں نہ کہ منفی۔

سیاسی کلچر 

حکومت کو عوامی جزبات کے مطابق مزید اعلی ترین سفارتی اقدامات اور کوششیں کرنا چاہیں تاکہ وہ لوگ ان مزموم حرکات سے باز آئیں۔ سیاسی مزہبی رانماووں اورعوام میں بھی آگاہی و شعور پیدا کریں کہ جزبات کی رو میں بہہ کر قرآن و سنت کے برخلاف فتنہ و فساد مت کریں ایسے اقدامات جن سے عوام اور ریاست کے لئیے پریشانی اور تکلیف ہو وہ دینی، قانونی اور اخلاقی طور پر ممنوع ہیں۔  

~~~~~~~~~

جاوید چودھری کہتے ہیں کہ وہ  سیاسی پروگرام کرتا ہے لیکن اس کا آغاز بھی درود شریف سے کرتا ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ ماننا ہوگا ہم خوداذیتی کا شکار ہیں اور ہمارا مرض اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کوئی بھی پاگل شخص دنیا کے کسی کونے میں بھونکتا ہے اور ہم یہاں اپنے منہ پر تھپڑ مارنا شروع کر دیتے ہیں‘۔

گستاخی فرانس میں ہوتی ہے لیکن سڑکیں ہم اپنی بلاک کر کے بیٹھ جاتے ہیں

 گاڑیاں ہم اپنے لوگوں کی توڑ دیتے ہیں‘ 

دکانیں‘ گھر اور ایمبولینس ہم اپنے بھائیوں کی جلا دیتے ہیں‘ 

موبائل فون اور انٹرنیٹ بھی ہم نے اپنا بند کر دیا ہے‘ 

کیا یہ عقل مندی ہے؟ 

کیا اس سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا‘؟

دنیا ہماری اس خامی سے واقف ہے چناں چہ یہ جان بوجھ کر سال دو سال بعد یہ ایشو چھیڑ دیتی ہے اور ہم ڈنڈے لے کر اپنے لوگوں پر پل پڑتے ہیں‘ ہم اپنی پولیس اور اپنی ایمبولینسوں کا حشر کر دیتے ہیں۔

ہم اپنی سڑکیں بند کر دیتے ہیں

 آپ یقین کریں یہ گستاخی صرف اور صرف ہمیں ڈسٹرب کرنے کے لیے جان بوجھ کر کی جاتی ہے اور ہم ہر بار اس ٹریپ میں آ جاتے ہیں

دنیا میں 58 اسلامی ملک ہیں لیکن جب بھی گستاخی ہوتی ہے ان 58 ملکوں میں پاکستان واحد ملک ہوتا ہے جس میں ہم لوگ خود اپنا نقصان کرتے ہیں

سوال یہ ہے ہم اگر سب مر بھی جائیں‘ ہم اگر پورے ملک کو آگ بھی لگا دیں تو اس سے گستاخی کرنے والوں کا کیا بگڑے گا؟

یہ ملعون آرام سے اپنی زندگی انجوائے کرتے رہیں گے لیکن ہم ایک دوسرے کے ہاتھوں مر جائیں گے۔

کیا ہم گستاخی رکوانا چاہتے ہیں یا پھر اپنے آپ کو اذیت دینا چاہتے ہیں؟ 

میرا خیال ہم گستاخی رکوانا چاہتے ہیں

ہمیں اس کے لیے کیا طریقہ استعمال کرنا چاہیے؟

اس کا حل صرف اور صرف سفارتی دباؤ ہے اور یہ دباؤ جب تک پوری اسلامی دنیا سے نہیں آئے گا یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکے گا

لہٰذا ہمیں چاہیے ہم اسکالر تیار کریں‘ انھیں انگریزی‘ فرنچ‘ جرمن اور چینی زبان سکھائیں اور یہ اسکالر دنیا کو بتائیں ہم مسلمان رسول اللہ ﷺ کی حرمت پر کمپرومائز نہیں کرتے‘دنیا اس سے سمجھے گی ورنہ ہم اپنے آپ کو مارتے مارتے مر جائیں گے اور یہ مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔  (جاوید چودھری ، کالم سے اقتباس)

~~~~~~~~~

بیشک الله تعالی اور اسکےفرشتے نبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ھیں، اۓ ایمان والو تم بھی آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر درودو سلام بھیجاکرو،

اللهم صل علي محمد وعلي ال محمد كما صليت علي ابراهيم وعلي ال ابراهيم انك حميد مجيد.  اللهم بارك علي محمد وعلي ال محمد كماباركت على ابرهيم وعلى آل ابرهيم انك حميد مجيد

~~~~~~~~~~

امر باالمعروف ، نہی عن المنکر ہر مسلمان کا فرض ہے 

گونگے شیطان بن کر جہالت ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی، گمراھی کا ساتھ مت دیں ، اچھائی، نیکی کا حکم دیں برائی سے منع کریں: 

مَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنۡ لَّهٗ نَصِيۡبٌ مِّنۡهَا‌ ۚ وَمَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنۡ لَّهٗ كِفۡلٌ مِّنۡهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقِيۡتًا ۞ 

جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے  (القرآن - سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 85)

اس پوسٹ کو شئیر یا کاپی پیسٹ کرکہ "امر باالمعروف ، نہی عن المنکر" میں شامل ہو جائیں۔ روز قیامت آپ اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں تو کہہ سکیں کہ، یا اللہ میں نے فرض ادا کردیا تھا ۔ جزاک اللہ 

مزید پڑھیں 

  1. علماء اور دور جدید: علماء کا کام قرآن کریم کے مطابق کیا ہے ؟  لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت یا حکومت و سیاست ؟
  2. Rise and fall of Nations – Law of Quran قرآن کا قانون عروج و زوال اقوام
  3. Al Khilafah الخلافة - Possible in 21St Century ... >>>>  
  4. سید احمد بریلوی شہید اور شاہ اسماعیل دہلوی شہید کی جہاد تحریک 
  5. http://pakistan-posts.blogspot.com/2021/04/militant-politics.html 
  6. https://m.facebook.com/

Coronavirus Myths ، facts and Prevention کورونا وائرس- حقائق ، خرافات اور سازش کے نظریات

دعوی - افواہ : ابلتے ہوئے پانی ، نمک اور سنتری کے چھلکے کے مرکب سے بھاپ کو سانس لینے سے نئے کورونا وائرس کی روک تھام یا افاقہ ہوگا۔
  • COVID-19 - Authentic information , Questions and answers ...WHO ... >>>
  • کوویڈ ۔19 : اہم ترین مستند معلومات ، سوالات اور جوابات... ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن .... >>>>
حقائق: 
بھاپ وائرس کی علامتوں کو راحت بخش ثابت کرسکتی ہے ، لیکن یہ اس کی روک تھام یا علاج نہیں کرے گی۔ فیس بک اور ٹویٹر پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی فوٹو اور ویڈیو پوسٹوں میں ، لوگوں کو بھاپ میں سانس لیتے ہوئے مرکب سے بھرے ہوئے ابلتے پانی کے ایک برتن پر کھڑے دیکھا جاسکتا ہے۔ کچھ معاملات میں ، کٹی ہوئی پیاز سے خوشبو دار تیل تک دوسری اشیاء شامل کی گئی ہیں۔ ویڈیو کی مختلف حالتوں سے سوشل میڈیا پر ہزاروں آراء موصول ہوئیں۔ "بھاپ سی نمک اور اورینج کے چھلکے۔ بھاپ کو 15 منٹ کے لئے سانس لیں۔ فرض کریں کہ کورونا وائرس کو جسم میں داخل ہونے سے روکیں۔ اس کو سوشل میڈیا پر دیکھا اور ہاں میں یہ کر رہا ہوں ، “مرکب کی تصویر والی ایک فیس بک پوسٹ نے کہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سانس لینے سے بھاپ سے وائرس کی علامات سے نجات مل سکتی ہے ، جیسے ناک کی بلغم کی جھلیوں یا گلے کے پچھلے حصے کو راحت بخش بنانا ، لیکن یہ وائرس کو ختم نہیں کرے گا۔ امریکن پھیپھڑوں کی ایسوسی ایشن کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر البرٹ رجو نے کہا ، "یہ طرز عمل مددگار ثابت ہوسکتے ہیں ، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ان کو علاج کے طور پر یا بنیادی وائرس کے علاج کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔" آن لائن پوسٹس نے مشورہ دیا ہے کہ بھاپ سے گرمی وائرس کو بھی ختم کردے گی ، جس کے بارے میں ماہرین نے خبردار کیا ہے ، خاص طور پر اگر کوئی شخص چولہے پر ابلتے ہوئے پانی کے ایک برتن پر کھڑا ہونے کا انتخاب کرتا ہے۔ وینڈربرلٹ یونیورسٹی میں متعدی بیماری کے ماہر ڈاکٹر ولیم شیفنر نے اس عمل سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا ، "تھوڑی سی گرم نمی ان وائرس کو چوٹ پہنچانے والی نہیں ہے۔ "لوگوں کو اس بارے میں بہت ، بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ ابلتے ہوئے پانی کے ایک برتن پر جھکا رہے ہیں تو آپ کو ہر طرح کی غلطیاں ہوسکتی ہیں۔

  1.  مشہور لیکن مکمل طور پر غلط کہانیوں اور نظریوں کا ایک مجموعہ۔ ان میں سے کوئی بھی جائز نہیں ہے ، حالانکہ انھیں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے انہیں چیک کیا۔ حقائق یہ ہیں >>>>>
  2.  کورونا وائرس کی 21 خرافات اور سازش کے نظریات جن سے آپ کو دور رہنا چاہئے >>>>
  3. کورونا وائرس: جعلی صحت کے مشوروں کو آپ کو نظرانداز کرنا چاہئے >>>>
  4. کورونا وائرس کے بارے میں سازش کے نظریات .... >>>>>
  5. کرونا وائرس، سوشل میڈیا ٹوٹکے، تین سو افراد ہلاک، 1000 سے زیادہ تشویش ناک >>>>>



بھاپ سانس کیا ہے؟

 ناک کے راستے کو سکون بخشنے اور کھولنے اور سردی یا ہڈیوں کے انفیکشن کی علامات سے راحت حاصل کرنے کے لئے بھاپ سے بھر پور گھریلو علاج میں سے ایک ہے۔

 اسے بھاپ تھراپی بھی کہا جاتا ہے ، اس میں پانی کے بخارات کی سانس شامل ہوتی ہے۔  گرم ، نم ہوا ہوا ناک کے حصئوں ، گلے اور پھیپھڑوں میں بلغم کو ڈھیلی دے کر کام کرنے کا سوچا جاتا ہے۔  اس سے آپ کے ناک کے راستے میں سوجن ، سوجن ہوئی خون کی رگوں کی علامتوں سے نجات مل سکتی ہے۔

 اگرچہ بھاپ سانس کسی انفیکشن کا علاج نہیں کرسکتی ہے ، جیسے کہ نزلہ یا فلو، کرونا وائرس   اس سے آپ کو بہت بہتر محسوس کرنے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ آپ کا جسم اس سے لڑتا ہے۔  لیکن کسی بھی گھریلو علاج کی طرح ، بہترین طریقوں کو سیکھنا ضروری ہے تاکہ آپ اس عمل میں خود کو تکلیف نہ پہنچائیں۔

بھاپ سانس لینے کے کیا فوائد ہیں؟

 ہڈیوں کی خون کی وریدوں میں سوجن کی وجہ سے ایک بھٹی ناک کی متحرک ہوتی ہے۔  شدید اوپری سانس کے انفیکشن ، جیسے نزلہ یا سینوس انفیکشن کی وجہ سے خون کی نالیوں میں جلن پیدا ہوسکتی ہے۔

 نم ، گرم بھاپ میں سانس لینے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ناک کے حصئوں میں جلن اور سوجن ہوئی خون کی نالیوں کے احساس کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔  نمی آپ کے سینوس میں بلغم کو پتلی کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے ، جس کی مدد سے وہ آسانی سے خالی ہوجاتا ہے۔  اس سے کم سے کم وقت کے لئے آپ کی سانسیں معمول پر آسکیں گی۔

 بھاپ سانس کی علامتوں سے کچھ وقتی ریلیف مل سکتا ہے، علاج نہیں :

  1.  عام سردی
  2.  فلو (انفلوئنزا)
  3.  ہڈیوں کے انفیکشن (متعدی سائنوسائٹس)
  4.  برونکائٹس
  5.  ناک الرجی
  6. ( اضافی نوٹ ۔۔۔ اب شامل کریں کرونا وائرس علاج نہیں )
 اگرچہ بھاپ سے سانس لینے سے سردی اور دوسرے اوپری سانس کے انفیکشن کی علامات سے نجات مل سکتی ہے ، لیکن حقیقت میں یہ آپ کے انفیکشن کو تیزی سے دور نہیں کرتا ہے۔

 بھاپ سانس لینا دراصل انفیکشن کے ذمہ دار وائرس کو نہیں مارتا ہے۔  بہترین طور پر ، آپ کا جسم آپ کی سردی سے لڑنے کے بعد بھاپ سے سانس لینے سے آپ کو قدرے بہتر محسوس ہوتا ہے۔

 عام سردی کے ساتھ بالغوں میں بھاپ تھراپی کا جائزہ لینے والے چھ کلینیکل ٹرائلز کا ایک جائزہ ملا جلا نتیجہ تھا۔  کچھ شرکاء کو علامات سے راحت ملی ، لیکن دوسروں نے ایسا نہیں کیا۔  مزید برآں ، کچھ شرکاء کو بھاپ سانس سے ناک کے اندر تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ ایک اور حالیہ کلینیکل ٹرائل نے دائمی سائنوس علامات کے علاج میں بھاپ سانس کے استعمال پر غور کیا۔  تاہم ، اس مطالعے میں یہ نہیں ملا کہ بھاپ سانس زیادہ تر سینوس علامات کے لیے  فائدہ مند ہے ، سوائے سر درد کے۔

 اگرچہ کلینیکل اسٹڈیز کے نتائج کو ملایا گیا ہے ، لیکن حتمی ثبوت سے یہ دعوی کیا گیا ہے کہ بھاپ سے سانس دور ہونے میں مدد ملتی ہے۔

  1.  سر درد
  2.  بھیڑ والی (بھٹی ہوئی) ناک
  3.  گلے میں جلن
  4.  ہوا کی راہ کی بھیڑ کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری
  5.  خشک یا جلن ناک حصئوں
  6.  کھانسی
 بھاپ کو کس طرح سانس لینا ہے
 آپ کو درج ذیل مواد کی ضرورت ہوگی۔

  1.  ایک بڑا کٹورا
  2.  پانی
  3.  پانی کو گرم کرنے کے لئے ایک برتن یا کیتلی اور چولہا یا مائکروویو
  4.  تولیہ
 عمل یہاں ہے:

  1.  ابلتے پانی کو گرم کریں۔
  2.  احتیاط سے پیالے میں گرم پانی ڈالیں۔
  3.  تولیہ کو اپنے سر کے پچھلے حصے پر رکھیں۔
  4.  ٹائمر آن کریں۔
 اپنی آنکھیں بند کرو اور آہستہ آہستہ اپنے سر کو گرم پانی کی طرف نیچے کرو جب تک کہ آپ پانی سے 8 سے 12 انچ دور نہ ہوں۔  پانی سے براہ راست رابطہ کرنے سے بچنے کے لئے  انتہائی محتاط رہیں۔

 کم سے کم دو سے پانچ منٹ تک اپنی ناک کے ذریعے آہستہ اور گہری سانس لیں۔

 ہر سیشن کےلیے  10 سے 15 منٹ سے زیادہ دیر تک بھاپ نہ لگائیں۔  تاہم ، اگر آپ کے پاس ابھی بھی علامات پیدا ہو رہے ہیں تو ، آپ فی دن دو یا تین بار بھاپ سانس دہرا سکتے ہیں۔

 آپ آن لائن یا دواخانے میں بھی الیکٹرک بھاپ انحلر (جسے واپورائزر بھی کہتے ہیں) بھی خرید سکتے ہیں۔  ان کے لییے ، آپ کو صرف اشارے کی سطح پر پانی شامل کرنے اور سسٹم میں پلگ کرنے کی ضرورت ہے۔  بھاپ بنانے والی مشین بھاپ بنانے کے لئے بجلی کا استعمال کرتی ہے جو مشین سے باہر ہونے سے پہلے ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔  کچھ بخارات ایک بلٹ ان ماسک کے ساتھ آتے ہیں جو آپ کے منہ اور ناک کے ارد گرد فٹ بیٹھتے ہیں۔
بھاپ بخارات جراثیم سے جلدی سے گندا ہوسکتے ہیں ، لہذا آپ کو بیکٹیریل اور کوکیی نشوونما کو روکنے کے لیے اسے اکثر دھونے کی ضرورت ہوگی۔  استعمال کے دوران ہر چند دن بعد بالٹی اور فلٹر سسٹم کو بھی دھو لیں۔


 اگر آپ آن لائن دیکھیں تو کرونا سے بچاؤ اور علاج سے متعلق بہت سے طریقے اور ٹوٹکے دستیاب ہیں۔ کہیں آپ کو لہسن کھانے کا مشورہ ملے گا اور کہیں پیاز سے اس کا علاج ممکن بتایا جا رہا ہے۔ اور بدقسمتی سے بہت سے لوگ نہ صرف ان ٹوٹکوں، جو کہ زیادہ تر ڈس انفارمیشن یہ جھوٹی خبر اور مفروضوں پرمشتمل ہیں، پر یقین کر رہے ہیں بلکہ ان کو آگے بھی پھیلا رہے ہیں۔  ڈس انفارمیشن انٹرنیٹ پر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے.... >>>>>
Links 

کرونا اور علماء پاکستان کا رویہ - لمحہ فکریہ Corona & Attitude of Ulema of Pakistan - Point to Ponder


کرونا وائرس نے دنیا میں تباہی مچا کر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے- اس وبا سے مسلمان ، کافر ، گورا ، کالا سب بلا تفریق متاثر ہو رہے ہیں-
We cannot move forward as Pakistani and Muslim, unless we tackle this menace of this ignorant , extremist class who are in full control of religion and mislead more ignorant  public. Islam is to be rescued. ... Read more at end of this page ... or <<here>>
 مسلمان تقدیر اور موت پر مکمل ایمان رکھتا ہے لیکن تدبیر سے منہ نہیں چھپا تا کیونکہ یہی اسلام کی تعلیم ہے- الله پر توکل ، دعا  کے ساتھ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنا سنت رسول اللهﷺ سے ثابت ہے جن کا انکار گناہ، تکبر اور جہالت ہے-

ضرور پڑھیں :[ اسلام میں سہولتیں اور آسانیاں ]
ایمان مکمل طور پر ایک ذاتی معاملہ ہے ، جس کی پیمائش نہیں کی جاسکتی ،  جو بھی شخص اسلام کے 6 بنیادی اصولوں اور 5 ستونوں پر یقین کرنے کا اعلان کرتا ہے اسے مسلمان سمجھا جاتا ہے چاہے اس کے  عمل میں کوئی کمی بھی ہو۔

معاشرہ میں ہمیں بہت سے لوگ دوسروں کے مقابلے میں "زیادہ مسلمان" نظر آتے ہیں، ظاہری نمائش اور سرگرمیوں کی وجہ سے  ، پھر بھی یہ ان کے اعتقاد کی پیمائش کا آلہ نہیں ہے ، ایمان کی حقیقت صرف اللہ کے علم میں ہے۔  تاہم یہ مذہبی لوگ صرف اپنے آپ کو مذہب پر قابو پانے کا حقدار سمجھتے ہیں ، جو کہ درست نہیں کیونکہ اسلام میں پاپائیت نہیں ، مذہبی معاملے پر کسی بھی شخص کی  رائے کی صداقت کے لئے قران و سنت سے  دلیل کے ساتھ مشروط ہے۔ 

اللہ نے کسی انسان  کو اپنی ذاتی رائے کو اللہ کی طرف سے پیش کرنے کا اختیار نہیں دیا ہے۔  یہودیوں اور عیسائیوں کو ان کے علمائے کرام کو رب کا درجہ دینے کی مذمت کی گئی ( قرآن 9:31)  (لہذا علماء کی اس طرح اندھی پیروی شرک ہے)

کورونا وائیرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لئے ، ماہرین ، معاشرتی دوری اور بھیڑ بھاڑ ، اکٹھ ، مجمع اکٹھا نہ کرنا ،  جیسے بچاؤ کے اقدامات کا مشورہ دیتے ہیں۔  اسے پاکستانی مذہبی ٹھیکیداروں نے سراسر مسترد کردیا ہے۔  قران و حدیث اور منطق ، عقیل دلائل اور کسی بھی حوالہ کو مسترد کرتے ہوئے وہ نماز (جماعت) کے اجتماعات کو عارضی طور پر معطل کرنے پر تیار نہیں ، حالانکہ دو  مکہ و مدینہ حرمین شریفین ، مشرق وسطی ، ترکی ، مشرق بعید اور پوری دنیا میں یہ اقدامات بغیر کسی بحث و مباحثہ کے نافذ کئیے گئے ہیں۔  .

صدر پاکستان نے الازہر سے رابطہ کیا جس نے عوامی تحفظ کے لئے نماز کے  اجتماعات کو معطل کرنے کے لئے فتویٰ جاری کیا مگر اس کو بھی قبول نہیں کیا ان  کو عوامی زندگی کا کوئی احترام نہیں ہے۔

پاکستانی مزہبی پیسواوون کی اس مذہبی ذہنیت کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے ، جو اس قوم اور ملک کے لئے مہلک ہے۔

 طاقتور ریلیجیئس اسٹیبلشمنٹ (ہاں حیرت نہ کریں ، یہ حقیقت ہے) اس مذہبی مافیا کی طاقت ور  اکثریت  نے  ( خفیہ اور کھلے عام ) دہشت گرد ٹی ٹی پی کی حمایت کی ، جس کے نتیجے میں عوامی جانوں کے بڑے نقصان کے باوجود دہشت گردوں کو عوامی ہمدردی ملی  (دہشت گردی میں 70،000 سے زیادہ جانیں ضائع ہوگئیں اور 100 بلین ڈالر  معیشت کو نقصان)- بہت سے  اہل حق علماء نے دہشت گردوں کی مخالفت کیاور دہشت گردی کا شکار ہوے اللہ جنت میں ان کے درجات  بلند فرمایے-

پاکستان اس وقت  تک ترقی نہیں کر سکتا  جب تک ہم اس جاہل ، مزہبی انتہا پسند طبقے کی اس زہنیت سےچھٹکارا  نہیں حاصل  کر لیتے جو مساجد ، مذہب کو کنٹرول کرکہ  زیادہ جاہل عوام کو گمراہ  کرتے ہیں۔  اسلام کو ان جہلا کے شکنجے بچایا جانا صروری ہے۔

ضروری ہے کہ جو حضرات  اپنے آپ کو قرآن و سنت کو ترجیح دینے والے فرمان بردار علماء حق  میں شمار کرتے ہیں وہ خاموش مت بیٹھیں اور اصلاح کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں- تنقید اور مخالفت کا دلیری سے قرآن و سنت کی طاقت  سے  سامنا کریں- ان کی مصلحت پسندی جہالت کی حمایت ہے-

اس مقصد  کے حصول کے لئے دانشورانہ ، سرکاری اور معاشرتی سطح پر گہری مطالعہ اور ٹھوس نتیجہ پر مبنی مختصر مدت اور طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہے اگر ہم بحثیت پاکستانی مسلمان ، پاکستان اور اسلام کی ترقی میں سنجیدہ ہیں؟


***************
پاکستان میں نمازِ جمعہ اور باجماعت نمازوں کے اجتماعات محدود رکھنے کی حکومتی ہدایات کے ردعمل میں لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ آیا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے یہ حفاظتی اقدامات درست ہیں یا نہیں۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جمعہ مبارک (#JummahMubarak)، مساجد (Mosques) اور جمعہ ( Juma) جیسے الفاظ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ’مساجد پر پابندی نامنظور‘ کے نام سے ایک ٹرینڈ ایسا بھی ہے جس میں لوگ اس ہدایت کی مخالفت کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ’پرے فرام ہوم‘ (#Prayfromhome) یعنی گھر میں نماز پڑھیں بھی ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں لوگوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہوں میں قیام کرتے ہوئے نماز ادا کریں اور مساجد میں جانے سے گریز کریں کیونکہ اس سے کووڈ 19 کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔


بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومتی ہدایات کے باوجود مساجد میں بڑی تعداد میں لوگ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے موجود تھے۔ >>>  BBC  Report 
--------------
🔰 کچھ قرآنی سورتوں کے فضائل !🔰

🔰 سورہ فاتحہ قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت ہے (بخاری 4474)

🔰 ایک حدیث میں سورہ فاتحہ کو ایسا نور کہا گیا ہے جو پہلے کسی کو نہیں عطا کیا گیا (مسلم 817)

🔰 جس گھر میں سورہ بقرہ تلاوت کی جاتی ہے شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے (ترمذی 2877)

🔰 جو ہر نماز کے بعد آیت الکرسی کی تلاوت کرتا ہے اسے جنت میں داخلے سے صرف موت نے روک رکھا ہے (نسائی 30/6)

🔰 سوتے وقت آیت الکرسی کی تلاوت کرنے والے پر ساری رات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک محافظ مقرر رہتا ہے اور ساری رات شیطان اس کے قریب نہیں آسکتا (بخاری 2311)

🔰 ایک حدیث میں آیت الکرسی کو قرآن کی سب سے عظیم آیت قرار دیا گیا ہے (مسلم 810)

🔰 جو شخص رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات تلاوت کرے گا یہ اسے (ہر قسم کے نقصان شیطان اور تمام آفات سے بچاؤ کے لئے) کافی ہو جائیں گی (مسلم 807)

🔰 جو سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرے کرے گا وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا جائے گا (مسلم 809)

🔰 جو شخص سورہ الملک کی تلاوت کرتا رہا تو سورت اس کے حق میں سفارش کرے گی حتی کہ اسے بخش دیا جائے گا (ترمذی 2886)

🔰 سورہ اخلاص اجر و ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے (مسلم 811)

🔰 ایک آدمی کو سورہ الاخلاص سے بہت محبت تھی اور اس محبت کی وجہ سے وہ اس صورت کو ہر نماز کی قرآت کے اختتام پر پڑهتا تها الله تعالى نے اس کی اس صورت سے محبت کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دیا (ترمذی 2901)

🔰رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا (شیطان سے پناہ مانگنے کے لیے) سورہ الفلق اور سورہ الناس جیسی قرآن میں اور کوئی آیات نہیں (مسلم 814)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہر مسلمان کو قرآن کریم پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین​

     ●□■○■□●○
لاک ڈاون میں منتخب "مضامین قرآن" 🔰 قرآن فہمی میں آپ کا مددگار ! 🤷‍♂
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30] 
~~~~~~~~~~~~~~~~~


گمراہ علماء دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہیں :

علماء سوء جنت کے دروازوں پہ بیٹھے اپنے اقوال سے لوگوں کو جنت کی طرف بلاتے ہیں، جبکہ اپنے افعال کے ذریعہ وہ جہنم کی دعوت دیتے ہیں. جب کبھی انکے اقوال لوگوں کو بلاتے ہیں کہ آؤ، تو انکے افعال کہتے ہیں کہ انکی بات نہ سنو، کیونکہ جس بات کی یہ دعوت دیتے ہیں اگر وہ سچی ہوتی تو سب سے پہلے وہ خود اسے قبول کرتے.
یہ لوگ بظاہر تو رہبر ہیں لیکن در حقیقت رہزن ہیں. [الفوائد لابن القیم: 112]

كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لَغَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَى أُمَّتِي " قَالَهَا ثَلَاثًا. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذَا الَّذِي غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: "أَئِمَّةً مُضِلِّينَ "

"ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
میں ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ تھا اور میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :
"مجھے میری امت کے لئے دجال سے بھی زیادہ خدشہ (ایک اور چیز کا) ہے"
آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا ۔ میں نے کہا ! اے اللہ کے رسول ﷺ ، وہ کیا چیز ہے جس کا آپ دجال کے علاوہ اپنی امت پر خوف کر تے ہیں ؟ تو فرمایا "گمراہ ائمہ"  ( مسند امام احمد 20335، 21334 اور 21335] ۔

ابن تیمیہ سے روایت ہے :
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بے شک اسلام کی بنیادیں ایک کے بعد ایک تباہ و برباد ہو جائےگیں۔ اگر اس میں ایسے لوگ پیدا ہو جائےجو نا واقف ہوں گے کہ جہالت کیا ہے ۔ (مجمو'الالفتاوى 10/301، القیم اپنی فوائد میں بھی اسے لائے ہیں)

عمر بن الخطاب نے زیاد رضی اللہ عنہ سے کہا :

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَنبَأَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: «هَلْ تَعْرِفُ مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: «يَهْدِمُهُ زَلَّةُ الْعَالِمِ، وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْكِتَابِ وَحُكْمُ الْأَئِمَّةِ الْمُضِلِّينَ»

کیا آپ جانتے ہے اسلام کن چیزوں سے تباہ ہوگا؟ میں (زیاد) نے کہا نہیں- انہوں (عمر) نے کہا: اسلام تباہ ہوگا ،علماء کے غلطیوں سے ، الله کی کتاب کے بارے میں منافقین کے بحث و دلائل سے، اور گمراہ ائمہ کے رائے سے [ مشكوةألمصابیح89/1حدیث:269، محض الثواب 2/717، الدارمی1/295، مسند الفاروق 2/536، تلبيس الجاهمييا [4/191

بدترین علماء 

وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
" اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔" (بیہقی)
یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں " رسم قرآن" سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔
مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔
اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)
افتراق کی سبب دو چیزیں ہیں، عہدہ کی محبت یا مال کی محبت۔ سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:
”ماذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لھا من حرص المرء علی المال و الشرف لدینہ” دو بھوکے بھیڑئیے ، بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور عہدہ کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دہ ہے۔   (الترمذی:۲۳۷۶ وھو حسن)
~~~~~~~~~~~~~~~~~

Corona & Attitude of Ulema of Pakistan - Point to Ponder

Faith is entirely a personal matter, which cannot be measured or quantified. Anyone who declares to believe in 6 Fundamentals and 5 Pillars of Islam is considered as a Muslim even if he lacks in practice.

We find many people looking "more Muslim" than others due to their outlook and activities in display, yet it's not a measuring  tool for their level of faith , which is only known to Allah. However they consider ONLY themselves  to be entitled to  exercise control on religion, which is contested because authenticity of any opinion on religious matter is conditional to the reference and authority from Holy Scripture. 
Allah has not authorized anyone to present their personal opinions to be Divine. The Jews and Christians were condemned for taking their scholars indulging in such practices as Lord (Rabb) (9:31). (Hence such blind following is Shirk,  polytheism)

To control the spread of Corona Panadamac, experts advise preventive measures like social distancing and Quarantine. This have been outrightly rejected by Pakistani religious contractors. No amount of  references from Holy Books or logic could convince them to temporarily  suspend the prayer (Salah) congregations, though in the two Holiest Mosques,  in Middle East,  Turkey,  Far East and all around the world  these measures has been implemented without any debate. 

The President of Pakistan contacted Al-Azhar which issued Edict (Fatwa) to suspend prayer congregations for public safety. Even this has been resisted by our  Holy (Hollow)  Men, who have no regard for public life. 

There is need to deeply analyse this religious mindset of Pakistani clergy,  which is fatal for this nation and country. 

The Powerful Religious Establishment ( yes don't be surprised,  it's reality ) mafia supported TTP, overtly and covertly (many big names)  resulting in public sympathy despite huge loss of public life (over 70,000 lives lost in terrorism and over  $100 Bn loss to economy). Some genuine Scholars opposed and were martyred by terrorists.

We cannot move forward as Pakistani and Muslim, unless we tackle this menace of this ignorant , extremist class who are in full control of religion and mislead more ignorant  public. Islam is to be rescued. 
Those who claim to be genuine Scholars of Islam should not sit home in silence like hypocrites. They must come forward and debate to convince ignorant ulema.  

This requires deep study and concrete  result oriented short term and long term measures  at  intellectual, governmental and societal level.

References / Links for Further Study
  1. http://trueorators.com/quran-tafseer/9/31
  2. http://forum.mohaddis.com/threads.26172
  3. https://www.bbc.com/urdu/pakistan-52061647

  1. ضرور پڑھیں :[ اسلام میں سہولتیں اور آسانیاں ]
    ~~~~~~~~~~~~~~
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace

https://SalaamOne.com

Quran: Only One Book قرآن – مضامین



Don't Discard Quran:

Quran is the Only Last, Complete, Protected Divine Book of Guidance, without any doubt, all other books are human efforts, cannot claim to be complete, free from error and doubt, yet Muslims have discarded Quran: "The Messenger will say, Lord, my people did indeed discard the Quran" (Quran 25:30)

The Qur’an the well preserved, last book for guidance of humanity, contains more than six thousand verses encompassing hundreds of topics. To properly comprehend and to ponder over a subject, one has to fully understand it. To facilitate the reader in understanding the Quran and to spread it, Quran Subjects – Web Network” has been launched, comprising Blogsites, FB Page, Twitter and Flipboard Magazine, here are the links. ... [keep reading.....]

  قرآن کو نظر انداز مت کریں

قرآن ہدایت کی واحد، آخری ، مکمل ، محفوظ کتاب اللہ ہے ، بلاشک و شبہ جبکہ باقی تمام کتابیں انسانی تحریریں، جو مکمل ہونے، غلطی، شک و شبہ سے مبرا ہونے کا دعوی نہیں کر سکتیں. مگر پھر بھی مسلمان قرآن کو نظر انداز کرتے ہیں: 
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" ( الفرقان 25  آیت: 30)
  قرآن کو نظر انداز مت کریں .....[.......]

قرآن مضامین :
قرآن مجید واحد کتاب ہے جو پوری انسانیت کے لیےقیامت تک رہنمائی اور ہدایت کا ذریعہ ہے،اللہ تعالیٰ نے اس کتابِ ہدایت میں انسان کو پیش آنے والے مسائل کے حل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے. موجودہ دور میں ہرشخص دنیاوی آسائشات عوام کےحصول میں مگن ہے، قرآن کو تلاوت کرتے ہیں اور ہر ایک لفظ پرثواب حاصل کرتے ہیں ، کچھ لوگ ترجمہ بھی پڑھتے ہیں ، مزید گہرائی میں جانے کے لیے مفسرین نے تفاسیر لکھیں ہیں، مگر دنیوی مصرفیات کی وجہ سے اکثر قرآن پر تدبر و فکر سے محروم رہتے ہیں ، "قرآن مضامین QURAN SUBJECTS" " اسی طرف کوشش ہے...پڑھتے جائیں  .....[...........] 


5.Quran Subjects Mag: https://flip.it/aJQcrm


ایک بار پھر استعمال ہو رہا ہوں, دھوکہ کھا رہا ہوں کہ شائد اس مرتبہ ؟ سادہ عام مسلمان .. پاکستانی


آٹھ سو  (800) سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چلا‘ استعمال ہو رہا ہوں۔مسلسل استعمال!!۔ 
کتنوں ہی کو تخت پر بٹھایا۔
کتنے ہی میرے طفیل حکمران بنے مگر....  میں صدیوں سے وہیں کا وہیں ہوں۔ جیسا تھا‘ ویسا ہی ہوں! ؎ 

ہر شب کواکب کم کنند از روزیٔ من پارہ ای ہر روز گردد تنگ تر سوراخِ این غربال ہا 

ہر رات ستارے آتے ہیں اور میری روزی سے ایک ٹکڑا کم کر دیتے ہیں۔ میری قسمت کی چھلنی کے سوراخ ہر روز زیادہ تنگ ہو رہے ہیں۔
آہ!میری حالت میں کوئی تبدیلی نہیں رونما ہو رہی۔ 
محمد غوری نے مجھے بتایا کہ ہند میں اسلامی سلطنت قائم کرے گا۔ ترائن کے میدانوں میں میں لڑا۔
 پھر قطب الدین ایبک نے وعدہ کیا کہ دہلی کے تخت پر بیٹھ کر انصاف قائم کرے گا۔ میں پاپیادہ اس کے لشکر میں شامل رہا۔ کون سا اسلام اورکون سا انصاف؟
کیا ایبک کیا خلجی اور کیا تغلق۔ نام مسلمانوں کے تھے مگر انصاف کا عالم یہ تھا کہ مخالف کے جسم کے گوشت کا یہ لوگ پلائو پکواتے اور مقتول کے بیوی بچوں کو تحفے میں بھیجتے۔
محل کے صدر دروازے پر ہر وقت لاشیں لٹکی رہتیں۔
پھر میں نے بابر پر اعتبار کیا۔ اس نے لودھیوں کے خلاف ’’جہاد‘‘ کیا تو میں ساتھ تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ بابر نے اپنے خاندان کی بادشاہت قائم کرنا تھی۔
میں پیادے کا پیادہ رہا۔\
 ہر بادشاہ نے مجھے اپنے جلوس میں استعمال کیا۔ اپنا لشکری بنایا۔ کبھی بیگمات کے حفاظتی دستے میں دوڑتا رہا۔ کبھی ایندھن اکٹھا کرتا رہا۔ کبھی گھوڑوں کی مالش کرتا رہا۔ پھر انگریز آ گئے۔ میں کبھی ایک نواب کے محلات دھوتا کبھی دوسرے راجہ کے ہاتھوں کا بنائو سنگھار کرنے پر مامور کیا جاتا!

پاکستان بنا تو ایک بیل گاڑی پر ہچکولے کھاتا اس ارض پاک میں پہنچا۔
جو لوگ پودینے کے خیالی باغات چھوڑ کر آئے تھے۔ حویلیوں پر قابض ہو گئے۔ میں اسی خوشی میں مست رہا کہ مملکت خداداد کا شہری ہو گیا ہوں۔

بھٹو صاحب نے غریبوں کے لئے پارٹی بنائی تو مجھے ایک بار پھر امید لگ گئی کہ اب کے میری حالت ضرور بدلے گی۔ میں نے کراچی سے لے کر لاڑکانہ تک لاہور سے لے کر پشاور تک ان کے جلسوں میں دریاں بچھائیں۔ سٹیج تیار کئے۔ مگر وہی ڈھاک کے تین پات ۔پھل کھانے کا وقت آیا تو نواب‘ جاگیردار‘ زمیندار‘ صنعت کار لے اڑے۔ میں روٹی کپڑا اور مکان تلاش کرتا رہ گیا۔

یہ بھی خلجیوں، لودھیوں، مغلوں کی طرح خاندانی بادشاہت تھی۔

جنرل ضیاء الحق نے اسلام کا نعرہ لگایا تو میں اس کے پیچھے چل پڑا۔ دس سال چلتا رہا۔ اسلام نظر نہ آیا ہاں گیلانی، قریشی، لغاری، چودھری ضرور دکھائی دیتے رہے!

پھر میں نے شریف خاندان سے امید وابستہ کر لی۔ ترقی کے خواب دکھائے گئے۔جائیدادیں اور کارخانے ان کے اپنے زیادہ ہوتے رہے۔ لندن سے جدہ تک۔ دبئی سے لاہور تک۔ اثاثے آسمان کو چھونے لگے۔ اسحاق ڈار نے الگ ایمپائر کھڑی کر لی۔ میں وہیں کا وہیں رہا۔

 پھر عمران خان کی صورت میں ایک اور نجات دہندہ دکھائی دیا۔ اس نے کہا سفارش، چور بازاری، اقربا پروری‘ ختم کر کے میرٹ کی بالادستی قائم کرے گا۔ اتنے لاکھ نوکریاں ملیں گی۔ اتنے لاکھ مکان بنیں گے۔ آئی ایم ایف کے پاس گیا تو خود کشی کر لے گا۔ جو اٹھائی گیرے ہر حکومت کو چوستے، کاٹتے، بھنبھوڑتے رہے۔ ان سے نجات دلائے گا۔

میں چار ماہ عمران خان کے دھرنے میں بیٹھا رہا۔ دن کو دھوپ کاٹی۔ رات کو مچھروں نے کاٹا۔ گرمی بارش طوفان سب کا مقابلہ کیا۔ نعرے لگائے۔ بھوک پیاس برداشت کی
مگر افسوس! عمران خان کی حکومت آئی تو معلوم ہوا ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر میرے ساتھ دھوکہ ہوا۔ ایک بار پھر میرا استحصال کیا گیا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے عمران خان نے انہی عشرت حسینوں‘ انہیں عمر ایوبوں‘ انہی یوسف بیگوں اور انہی ثانیہ نشتروں کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھا لیا جن سے نجات دلانے کے عہد و پیمان کئے تھے۔ وہی فہمیدہ مرزا ،وہی زبیدہ جلال ۔ وہی شیخ رشید !!شفقت محمود جیسے لوگوں کو تعلیم اور قومی ورثہ کی وزارتیں مل گئیں۔

 انہوں نے شریف خاندان کے وفاداروں کو باہر نکال پھینکنے کے بجائے، ان رسہ گیروں کو بیک وقت دو دو مناصب پر بٹھا دیا۔
بیورو کریسی کا ایک گروپ نکلا تو وزیر اعظم کے دفتر میں دوسرا گروہ براجمان ہو گیا۔
پورٹل کا ڈرامہ کھیلا گیا جسے ہائی بیورو کریسی نے جوتے کی نوک پر رکھا۔ عمران خان نے شریف دشمنی میں (یا کسی نامعلوم پُراسرار وجہ سے) عوامی فلاحی منصوبے جہاں تھے وہیں روک دیے۔
دارالحکومت میں ایئر پورٹ میٹرو پر کام رک گیا۔ بڑے بڑے انفراسٹرکچر نامکمل پڑے رہ گئے اور شہریوں کا منہ چڑانے لگے۔ جن شاہراہوں کے لئے گزشتہ حکومت نے فنڈ جاری کئے تھے‘ وہ واپس لے لئے گئے۔
مجھے نوکری ملی نہ مکان!
جس دن ایک وفاقی وزیر نے عوام کو صاف صاف کہہ دیا کہ نوکریاں دینا دلوانا حکومت کا کام ہی نہیں، اس دن آخری امید بھی مر گئی۔

عمران خان بھی خلجیوں، تغلقوں، لودھیوں، مغلوں، انگریزوں، بھٹوئوں اور شریفوں سے مختلف نہ نکلا۔

ان دنوں میں مولانا کے دھرنے میں شریک ہوں!
 یہاں بھی مجھے امید کی کرن نہیں نظر آ رہی! مولانا کوئی معاشی روڈ میپ نہیں دے رہے۔ ان کے پاس کوئی پروگرام‘ کوئی ہوم ورک، کوئی اقتصادی تعلیمی یا سماجی منصوبہ نہیں! میں ہر روز ان کی تقریر سنتا ہوں مگر ابھی تک نہیں معلوم ہوا کہ وہ حکومت میں آ کر کیا کیا منصوبے شروع کریں گے۔ میں توقع کر رہا تھا کہ وہ عمران خان کے نوکریوں اور مکانوں والے منصوبوں کی ناکامی کے اسباب پر روشنی ڈالیں گے اور عوام کو بتائیں گے کہ وہ اس ضمن میں کیا پروگرام رکھتے ہیں۔ یکساں نظام تعلیم کے امکانات پر روشنی ڈالیں گے اور کچھ نہیں تو کم از کم مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کے لئے ہی کسی پیکیج کا اعلان کریں گے۔
 مگر افسوس ! ابھی تک کسی روڈ میپ کسی پروگرام کسی منصوبے کا کہیں کوئی وجود ہے نہ مولانا ذکر ہی کر رہے ہیں!

آج حالت یہ ہے کہ بارش برس رہی ہے۔ دھرنے والا میدان دلدل میں تبدیل ہو رہا ہے۔ چولہے جل سکتے ہیں نہ کوئی سر چھپانے کی جگہ ہے۔ کپڑوں سے پانی اور امید سے ناکامی نچڑ رہی ہے۔

ہر لیڈر کا اپنا جاتی امرا‘ اپنا بلاول ہائوس‘ اپنا بنی گالہ ہے۔
وہ رات دھرنے والوں کے ساتھ نہیں گزارتا۔ آج دارالحکومت کے اخبارات نے یہ خوش خبری بھی سنا دی کہ آٹے اورگندم کی قلت پیش آ رہی ہے کیوں کہ کئی ہزار روٹیوں کا اضافی بوجھ‘ ریستوران اور ڈھابے نہیں اٹھا سکتے۔
 میرے ساتھ دھرنے میں شریک دوسرے ساتھیوں کی اکثریت بھی میری طرح غریب ہے۔ جوتے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ لباس بوسیدہ! زیادہ تر مدارس کے وہ نوجوان ہیں جنہیں معلوم ہی نہیں کہ مولانا کی حکمت عملی کیا ہے۔

 ان کے سامنے مولانا اسرائیل اور قادیان کا ذکر کرتے ہیں۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا نام لیتے ہیں۔

 مگر جب دوسری پارٹیوں کے رہنمائوں سے بات کرتے ہیں تو موصوف مختلف ہوتے ہیں! میری حالت میں کسی مثبت تبدیلی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں!
میں نے اب  ھی سے اگلے کسی دھرنے کے لئے ذہن بنا لیا ہے۔ کیا خبر کوئی دھرنا کسی دن میرے مسائل حل کر دیٖ!
اظھار الحق , dunya. com ,pk
http://pakistan-posts.blogspot.com/

~~~~~~~~~~~~~~
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace

https://SalaamOne.com