Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

نا اہل جھوٹے خائین سابق وزیر اعظم کا گمراہ کن جھوٹا بیانیہ : حقیقت ، تجزیے




نا اہل جھوٹے خائین سابق وزیر اعظم کا گمراہ کن جھوٹا بیانیہ کی حقیقت:
میاں نواز شریف سمیت مسلم لیگ نون پوری کوشش سے سادہ لوح عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر ٹھونسنے کی کوشش کررہی ہے کہ میاں صاحب کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملنے پر انہیں اقامہ کی بنیاد پر نااہل کر دیا گیا ہے‘ بھلا یہ بھی کوئی جرم ہے؟ اگر سچ سننے کی تاب رکھتے ہیں توجناب والا امارات کی جس ایف زیڈ ای کمپنی کا آپ اقامہ رکھتے ہیں جس کے آپ چیئر مین ہیں وہی لندن اورورجن آئی لینڈ میں آپ کی بارہ کمپنیوں کی اصلی ماں ہے اور یہی وہ ڈالروں کی مشین ہے جو پاکستان لندن اور پھر دنیا کے چھ دوسرے ممالک سے اکٹھے کئے جانے والے سرمائے کو اس کمپنی کے گودام میں جمع کرتی ہے ۔
میاں نواز شریف نے اجلاس کو بڑے فخر سے بتایا ''اﷲکا شکر ہے کہ مجھے پر پاکستان کاایک پیسہ لوٹنے کا الزام بھی ثابت نہیں ہو سکا مجھے جس الزام کے تحت نااہل کیا گیا وہ یہ ہے کہ دوران جلا وطنی متحدہ عرب امارات میں چند روزہ قیام کے بعد واپس برطانیہ آنے کیلئے قانونی تقاضے پورے کرنے کی خاطربیٹے حسن نواز کی بنائی گئی کمپنی کی چیئرمین شپ قبول کرنا پڑی۔

حضور والا ! پاکستان سے روزانہ ہزاروں لوگ دوبئی جاتے ہیں۔ دوبئی کا ویزہ تو دس پندرہ ہزار روپے زائد دینے پر ٹکٹ لینے کے ساتھ ہی مل جاتا ہے ِ خدا کا خوف کریں اس قدر جھوٹ ! آپ قوم کو یہ کیوں نہیں بتاتے کہ یہی وہ کمپنی ہے اور اقامہ ہے جس کے ذریعے آپ نے ڈالروں کے گودام بھرے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی بے گناہی اور معصومیت ثابت کرنے کے لیے سپریم کورٹ پر کیچڑ اچھالا ہے

آپ اپنے قانونی ماہرین سے کہیں کہ وہ سپریم کورٹ سے نا اہل کئے گئے اراکین اسمبلی کے فیصلوں کا ریکارڈ دکھائیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اب تک متعدد اراکین اسمبلی انہیں الزامات پر نا اہل کئے جا چکے ہیں۔

اگر آپ یا آپ کے ترجمانوں کی فوج ظفر موج سر جوڑ کر جائنٹ انٹیرو گیشن ٹیم کی رپورٹ کے تمام حصوں کا مطالعہ کرے تو یہ بات ظاہر ہو جائے گی۔ آپ کی بیرون ملک جو 13 کمپنیاں سامنے آئیں ہیں ان میں سے 9 برطانیہ، تین برٹش ورجن آئی لینڈ اور ایک متحدہ عرب امارات میں واقع ہے اور ۔۔۔۔امارات کی''کیپیٹل ایف زیڈ ای ‘‘ کمپنی ان تمام کمپنیوں کا سٹیٹ بینک ہے؟ ۔

قوم کو جس جھوٹ اور پراپیگنڈے کے ذریعے گمراہ کیا جا رہا ہے ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ شریف خاندان کی ان تیرہ کمپنیوں میں سے بارہ کمپنیاںنہ جانے کیوں سخت خسارے میں جا رہی ہیں اور صرف متحدہ امارات والی یہی ایک کمپنیFZE انہیں مسلسل بھر پور منا فع دیئے جا رہی ہے جس کے بارے میں قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ تو میرے بیٹے نے صرف امارات میں ایک دو دن قیام کیلئے قائم کی تھی تاکہ شرائط پوری کرکے لندن میں رہا جا سکے ۔۔۔۔
جناب والا !قوم کو سچ بتائیں کہ یہی وہ ایف زیڈ ای کمپنی ہے جس کے ذریعے دوسری کمپنیوں کو پاکستان کے اندر اور باہر اپنے وسیع کاروبار کیلئے سرمایہ فراہم کیا جاتا رہا۔۔۔۔
مسلم لیگ نواز کے ترجمانوں کو اب یہ بھی بتانا پڑے گا کہ برطانیہ میں قائم بارہ کمپنیوں کو خسارہ کیوں ہو رہا ہے؟
ایسا تو نہیں کہ FZE کے نام سے کام کرنے والی کمپنی جو جبل علی امارات میں قائم ہے وہاں ٹیکس کی چھوٹ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کا سرمایہ گھوم پھر کر اسی میں واپس آتا رہا اور اسی کمپنی سے کالے دھن کی سفیدی کیلئے سرمایہ پاکستان پہنچایا جاتا رہا۔
معاشی اور تفتیشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جس کمپنی کی بنیاد پر میاں نواز شریف کو اس کا چیئر مین ثابت ہونے پر نا اہل قرار دیا گیا ہے در اصل یہ منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کی جانے والی سرنگ کا پہاڑ ہے۔

حضور سچ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کی'' کیپیٹل ایف زیڈ ای‘‘ کمپنی ہی شریف خاندان کی تمام منی لانڈرنگ کی ماں ہے۔
دنیا کے ہر حصے سے گھومتے ہوئے ڈالروں کے چشمے اسی دریا میں گرتے ہیں۔سپریم کورٹ کے جاری کردہ احکامات کے تحت جب نیب کی جانب سے تیار کئے گئے ریفرنس قوم کے سامنے آئیں گے تو پھر سب جان جائیں گے کہ '' یہ لوگ سپریم کورٹ اور پھر افواج پاکستان پر اندھیرے میں ہی تیر چلاتے رہے ہیں (ماخوز)
(منیر بلوچ ، دنیا ، dunya. com .pk(Image result for Panama JIT




دانشور، کالم  نگار ، اہینکروں سے سوالات :
بڑے بڑے سینیر دانشور اور کالم  نگار ، اہینکر جن کا پانامہ کیس پر سٹینڈ ان کی شخصیت سے متصادم نظر آتا ہے۔ تکنیکی اور قانونی موشگافیوں کو ایک طرف رکھیں۔ یہ intellectuals  بتائین:
1۔ کیا نواز شریف صاحب کے لیئے منا سب ہے کہ وہ اپنے کاروبار چلائیں اور حکمرانی بھی کریں؟
2۔ان کا انداز حکمرانی اور پاکستان کے اداروں کو ذاتی غلام بنانا درست ہے؟
3۔ نظریہ پاکستان پر تنقید اور انڈیا سے مشکوک قربت اور کشمیر پر پر اسرار خاموشی ، مولانا فضل اور اچکزئی ، عاصمہ جہانگیر اور سیکولر قسم کے لوگوں سے قربت کا کیا مطلب  ہے؟
4۔ دہشت گردی کی جنگ میں ( نیشنل ایکشن پلان )  NAP کی غیر فعالیت 256 دن باہر دورے اور NAP کے چند اجلاس؟
5۔ مقروض ملک کے سربراہ حکومت کا شاہانہ لائف سٹائل
6۔ فوج سے ہر وقت پنگا جبکہ وہ سیاست سے دور ہے، ڈان لیک ایک مثال
7۔ فوج کے ماضی میں سیاسی کردار کو اب چھوڑ کر مل جل کر آگے چلیں مگر موصوف لڑائی پر بضد ۔۔۔ جبکہ  bad governance موجود
8۔ کرپشن کے خاتمہ پر کوئی اقدام نہیں NAB  کو غیر موثر کر دیا
9۔ زرداری سے مکمل مکا کرکہ باریاں لگا لیں،  سندھ کو ظالموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔
10.عوام کا تحفظ ، پولیس گردی،سرکاری دفاتر میں رشوت ،حرام خوری۔ معاشی ا صتحسال
11۔ اکثریت آبادی تعلیم ، صاف پانی ، بنیادی صحت سے محروم۔


اور بہت کچھ ۔۔۔ اللہ کی پکڑ سخت ہوتی ہے ، بھٹو اپنے ظلم کے ایک کام پر پکڑا گیا، جبکہ قتل خود نہ کیا حکم دیا ۔۔ یا نہیں انجام کو پہنچا
جب دانشور نواز شریف کی معصومیت کا رونا روتے ہیں تو وہ اس کے باقی اعمال کو نظر انداز کرتے ہیں،  مگر اللہ کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔
انسان کو اس کی مجموعیت TOTALITY میں دیکھی


~~~~~~~~~~~~~~~~~~~


فیصلہ قانونی لحاظ سے بہت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔
فیصلہ قانونی اصولوں اور نظائر کے عین مطابق ہے۔
تاہم قانونی اصولوں سے ناواقفیت کی بنا پر ، اور کچھ ذاتی صدمے کی وجہ سے ، ہمارے کئی دوستوں کو اس فیصلے کی سمجھ نہیں آرہی اور وہ طرح طرح کے سوالات اٹھارہے ہیں ۔ ہم ان میں سے چند اہم سوالات پر یہاں مختصر بحث کریں گے۔
.........................................................


نواز شریف کی نااہلی کا تکنیکی پہلو
سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم نواز شریف کوآئین کے آرٹیکل 62 کے تحت 'دیانت دار' نہ ہونے پر مملکت کے سربراہ کے عہدے سے نااہل قرار دے دیا۔

سرپیم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کی نااہلی کا حکم جاری کرنے کا سبب شریف خاندان کے مالی معاملات کی تفتیش کے لیے تشکیل دی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے 10 والیم پر مشتمل رپورٹ کا مرہون منت نہیں تھا، درحقیقت ججز نے یہ کہتے ہوئے تقریباً ان سارے معاملات کو تفتیش اور جائزے کے لیے احتساب عدالت کو بھیج دیے ہیں کہ یہ اعلیٰ عدلیہ کے دائرے میں نہیں آتے۔

تاہم جے آئی ٹی نے متحدہ عرب امارات سے ججوں کے لیے نواز شریف کی نااہلی کا حکم صادر کرنے کے لیے ایک اہم ٹینکیکل پہلو نکال لایا کیونکہ یہ ایک ایسا الزام تھا جس کو نواز شریف کے وکیل مسترد نہ کر سکے۔

اقامہ نے نواز شریف کو گرادیا

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ انھیں متحدہ عرب امارات کےجبل علی فری زون اتھارٹی (جافزا) سے براہ راست ثبوت ملے ہیں جو نواز شریف کے نہ صرف کمپنی کے چیئرمین ہونے کی تصدیق کرتے ہیں بلکہ 7 اگست 2006 سے 20 اپریل 2014 کے دوران وزیراعظم کا عہدہ حاصل کرنے کے ایک سال بعد بھی دس ہزار درہم تنخوا حاصل کی لیکن کاغذات نامزدگی میں اس کو شامل نہیں کیا۔

نواز شریف کی جانب سے ابتدا میں اس کو مسترد کیا گیا تھا۔

اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے سوالاٹ اٹھائے جانے کے بعد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث احمد نے عدالت کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ وزیراعظم کے چھوٹے بیٹے حسن نواز کیپٹل ایف زیڈ ای کے مالک ہیں اور نواز شریف اس کے چیئرمین ہیں تاہم ان کا زور اس بات پر تھا کہ وزیراعظم اس کے علامتی چیئرمین ہیں اور انھوں نے کوئی تنخوا حاصل نہیں کی۔

خواجہ حارث کا موقف تھا کہ اس انتظام کا مقصد متحدہ عرب امارات میں اقامہ حاصل کرنا تھا۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے قوانین کے مطابق تمام ملازمین کو متحدہ عرب امارات ویج پروٹیکشن سسٹم (ڈبلیو پی ایس) کے تحت بینک کے ذریعے تنخوا جاری کرنا لازمی ہے اور قانون کی پاسداری میں ناکام کمپنی کو بلیک لسٹ قرار دے کر ختم کردیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم کے عہدے کو تیکنیکی اعتبار سے اسی نقطے نے گرادیا۔

سپریم کورٹ نے جمعے کو اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ 'اس عدالت کے لیے دوسرا نقطہ جو ابھر کر سامنے آیا وہ مدعا علیہ نمبر ایک (نواز شریف) بطور چیئرمین کیپٹل ایف زیڈ ای تنخوا کے حق دار تھے اور تنخوا کے حوالے سے 1976 کے پیپل ایکٹ (روپا) کے سیکشن 12(2) کے تحت ظاہر کرنا ضروی تھا اور اس میں ناکامی کی صورت میں وہ نااہلی کے حق دار ہیں'۔

روپا میں اصطلاح 'اثاثہ' کی تعریف نہیں کی گئی ہے اسی لیے عدالت کو اس کا مطلب نکالنے کے لیے بلیک لاز ڈکشنری پرانحصار کرنا پڑا جہاں سے انھیں درج ذیل نتائج موصول ہوئے:

1)نقد، مشینری، اشیا، زمین اور عمارت جو جنس کی صورت میں حاصل کی جائے۔

2)دوسروں کے خلاف نفاذ کے قابل دعویٰ جیسا کہ قابل وصول اکاؤنٹس۔

3)کاپی رائٹ اور ٹریڈ مارک جیسے حقوق وغیرہ۔

4) خیرسگالی جیسا ایک مفروضہ

عدالت کا کہنا تھا کہ 'لفظ 'قابل وصولی' کی تعریف بلیک لاز ڈکشنری میں اوپر بیان کیے گئے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ایسی کوئی چیز جو حاصل کی جاسکتی ہو یا جو موجودہ وقت میں قابل ادا نہ ہو'۔

سپریم کورٹ نے لفظ 'قابل وصولی' کا مطلب بزنس ڈکشنری سے بھی حاصل کیا۔

یوں نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ ہوگیا۔

عدالت کےمطابق 'اوپر دیے گئے بیان کے بعد اس کی تعریف نئے سرے سے وضع کی گئی کہ تنخوا کے حق دار چاہے وہ تنخوا وصول کرے یا نہ کرے وہ قانونی اور عملی مقاصد کے لیے اس کو اثاثہ تصور کیا جائے گا'۔

'جب یہ قانونی اور عملی طور پر اثاثہ قرار پایا تو مدعا علیہ نمبر ایک کو روپا کے سیکشن 12(2) کے تحت اپنے کاغذات نامزدگی میں اس کو ظاہر کرنے کی ضرورت تھی'۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کے وکیل نے خود تصدیق کی کہ وزیراعظم نے ضرورت کے تحت اقامہ حاصل کیا اور وہ کیپٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین کے طور پر اور وہ تنخوا کے حق دار تھے تاہم وہ تنخوا حاصل نہ کرنے کے حوالے سے زور دیتے رہے۔

عدالت نے وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ 'مدعاعلیہ نمبرایک کی جانب سے انکار نہیں کیا گیا کہ وہ کپیٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین کے طور پر تنخوا کے حق دار تھے اس لیے ان کی جانب سے تنخوا کو ظاہر نہ کرنا باوجود اس کے کہ وہ قابل وصول تنخوا کوحاصل نہ کرنا بھی ان کے اثاثوں میں شمار ہوتا ہے'۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو 2013 کے عام انتخابات میں روپا کے سیکشن 12(2) کے تحت اپنے کاغذات نامزدگی میں قابل وصول تنخوا کو ظاہر نہ کرنے پر 'بددیانت' قرار دیا۔

عدالت نے کہا کہ 'مدعاعلیہ نمبر ایک نے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے اور قانون کی خلاف ورزی پر اس کو غلط معلومات فراہم کرنے کے زمرے میں شمار کیاجائے گا اس لیے وہ روپا کے سیکشن 99(1) (ایف) اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت دیانت دار نہیں رہے۔
پانچوں ججز نے مشترکہ طور پر فیصلہ دیا کہ نواز شریف کو جانا پڑے گ
(ازین صدیقی, Dawn. Com (



!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!




ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر 1 میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا۔

فیصلہ سنانے سے قبل ججز نے اپنے چیمبر میں مشاورت کی۔

عدالت عظمٰی کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ابتدا میں 20 اپریل کے فیصلے کا حوالہ دیا، جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل نے فیصلہ پڑھ کر سنایا، جس کے تحت پانچوں ججوں نے متفقہ طور پر وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔

25 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے پانچ جج صاحبان کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف نااہل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نواز شریف نے ’کیپیٹل ایف زیڈ ای‘ سے متعلق کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے، نواز شریف عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 12 کی ذیلی شق ’ٹو ایف‘ اور آرٹیکل 62 کی شق ’ون ایف‘ کے تحت صادق نہیں رہے، نواز شریف کو رکن مجلس شوریٰ کے رکن کے طور پر نااہل قرار دیتے ہیں، الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کرے، نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نواز شریف وزیر اعظم نہیں رہیں گے۔

سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اگر قومی احتساب بیورو (نیب) نے حدیبیہ پیپر ملز کی اپیل سپریم کورٹ میں داخل کی تو اسے سنا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے نیب کو نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف لندن کے 4 فلیٹس سے متعلق ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا جبکہ نواز شریف، حسن اور حسین نواز کے خلاف عزیزیہ اسٹیل ملز، ہل میٹل سمیت بیرونی ممالک میں قائم دیگر 16 کمپنیوں سے متعلق بھی ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اسحٰق ڈار نے ظاہر آمدن سے زائد اثاثے بنائے اُن کے کے خلاف بھی ریفرنس داخل کیا جائے، فریقین کے اقدامات سے بلواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ثابت ہو تو شیخ سعید، موسیٰ غنی، کاشف مسعود، جاوید کیانی اور سعید احمد کے خلاف بھی نیب کارروائی کرے۔

سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں نیب کو تمام ریفرنسز دائر کرنے کے لیے ٹائم فریم بھی دیا گیا۔

عدالتی حکم میں کہا گیا نیب احتساب عدالت راولپنڈی میں عدالتی فیصلے کے ڈیڑھ ماہ کے اندر ریفرنسز داخل کرے، ریفرنسز جے آئی ٹی کی جانب سے جمع کردہ مواد، ایف آئی اے اور نیب کو حاصل دستاویزات کی روشنی میں داخل کیا جائے، جے آئی ٹی کے بیرون ممالک کو لکھے گئے خطوط کو بھی مدنظر رکھا جائے جبکہ احتساب عدالت ان ریفرنسز کا فیصلہ دائر کیے جانے کے 6 ماہ کے اندر کرے۔

عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا احتساب عدالت جعلی ٹرسٹ ڈیڈ، جھوٹی دستاویزات اور بیان حلفی کسی فرد کی جانب سے داخل کرانے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حق رکھتی ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلے میں کہنا ہے کہ صدر مملکت جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے آئین و قانون کے تحت تمام ضروری اقدامات اٹھائیں۔

فیصلے میں چیف جسٹس کو یہ درخواست کی گئی کہ وہ سپریم کورٹ کے ایک جج کو نامزد کریں، جو عدالتی فیصلے کو اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرانے کے ساتھ نیب اور احتساب عدالت کے معاملات کی نگرانی بھی کریں۔

عدالت نے حکم دیا کہ جے آئی ٹی ممبران کی ملازمتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، سپریم کورٹ کے علم میں لائے بغیر جے آئی ٹی ممبران کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔

فیصلے میں جے آئی ٹی ممبران اور ان کے عملے، پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کے وکلاء کی تعریف بھی کی گئی







روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں کرپشن کو
روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں منی لانڈرنگ کو
روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں ٹیکس چوروں کو
روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو
روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں رشوت خوروں کو
روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں پانامہ لیک کو
روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں مودی کے یاروں کو

روک سکو تو روک لو نوازشریف کو  

‎اسلام آباد، جے آئی ٹی کی رپورٹ 254  صفحات پر مشتمل ہے
ابتدائیہ
�جے آئی ٹی کا سربراہ نامزد ہونا میرے لئے باعث عزت اور فخر کی بات ہے، واجد ضیاء
�عتماد کرنے اور جے آئی ٹی کاسربراہ بنانے پر سپریم کورٹ کا مشکور ہوں، واجد ضیاء
�محسوس کرتا ہوں کہ ہم سچ تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے اور رپورٹ جمع کرارہے ہیں،واجد ضیاء
�جے آئی ٹی کے ممبران کی غیر معمولی صلاحیتیوں کے بغیر ہدف کا حصول ممکن نہیں تھا، واجد ضیاء
�جے آئی ٹی کے ممبران نے انتہائی عزم اور غیر جانبداری سے اپنا کام مکمل کیا، واجد ضیاء
�بطور سربراہ تفتیش کے تمام پہلوئوں کی ذمہ داری میں اپنے سر لیتا ہوں، واجد ضیاء
�ساتھ دینے پر جے آئی ٹی ممبران اور تمام اسٹاف کا مشکور ہوں، سربراہ جے آئی ٹی
�جے آئی ٹی اراکین کو ملنے والی دھمکیاں سپریم کورٹ کے علم میں ہیں،واجد ضیاء
� ہوسکتا ہے جے آئی ٹی اراکین کو مستقبل میں بھی دھمکیاں ملیں اور نشانہ بنایا جائے، واجد ضیاء
�جے آئی ٹی رپورٹ / گلف اسٹیل ملز (صفحہ ایک تا 51) (عامر عباسی)
�سپریم کورٹ نے گلف سٹیل ملز سے متعلق پانچ سوالات کی تحقیقات کا حکم دیا، جے آئی ٹی
� گلف سٹیل ملز کی تفتیش کےلیے طارق شفیع، نواز شریف، حسین و حسن نواز کا بیان لیا،رپورٹ
�حسین نواز کی دستاویزات کی تصدیق کےلیے متحدہ عرب امارات بھیجیں، رپورٹ
�باہمی قانونی معاونت کے تحت متحدہ عرب امارات حکومت سے تصدیق کرائی، رپورٹ
�طارق شفیع، نواز شریف، مریم نواز، حسن اور حسین نواز گلف سٹیل کے شواہد نہیں دے سکے،رپورٹ
�شریف خاندان کا شواہد جمع نہ کرانا نیب اور قانون شہادت آرڈیننس کے تحت جرم ہے، رپورٹ
�طارق شفیع کی جانب سے جمع کرائے گئے بیان حلفی وکیل کے تیار کردہ تھے ،رپورٹ
�طارق شفیع نے نہ تو بیان خلفی پڑھے نہ ہی وہ اس کے متن سے اگاہ تھے،رپورٹ
�طارق شفیع کی جمع کرائی گئی تمام دستاویزات جھوٹی اور حقائق کے منافی تھیں،رپورٹ
�اسلام آباد؛ طارق شفیع کے بیان حلفی اور زبانی بیان میں تضاد تھا، رپورٹ
�بیان حلفی کے مطابق گلف سٹیل ملز میں میاں شریف اور محمد حسین پاٹنرز تھے،رپورٹ
�اسلام آباد؛ زبانی بیان میں طارق شفیع نے کہا میاں شریف اکیلے مالک تھے،رپورٹ
�گلف سٹیل ملز کے 25 فیصدشئیر فروخت کرنے کا دعویٰ جھوٹ اور جعلی تھا، رپورٹ
�دبئی سے جدہ سکریپ مشینری کا دعویٰ بھی مشکوک ہے ، جے آئی ٹی رپورٹ
�متحدہ عرب امارات نے شریف خاندان کے 25 فیصد شیئر فروخت کرنے کی تصدیق نہیں کی،رپورٹ
�اپارٹمنٹس خریدنے اور کاروبار کی تمام دستاویزات جعلی ثابت ہوئیں، جے آئی ٹی رپورٹ
�شریف خاندان منی ٹریل ثابت کرنے کیلئے ایک بھی دستاویز پیش نہیں کر سکا،رپورٹ
�من گھڑت کہانی ثابت کرنے کے لئے دستاویزات کے بجائے گواہوں کے بیانات ہی کافی ہیں،رپورٹ
�طارق شفیع اور حسین نواز کے بیانات میں تضاد ہی ساری کہانی بیان کر دیتا ہے،رپورٹ
�طارق شفیع کے مطابق 1978سے 1980تک گلف سٹیل کے معاملات شہباز شریف دیکھت تھے،رپورٹ
�شہباز شریف کے مطابق انہوں نے گلف سٹیل کے معاملات میں کردار ادا نہیں کیا، رپورٹ
�گلف سٹیل کے فروخت کی دستاویزات پر طارق شفیع کے علاوہ کوئی اور دستخط کررہا تھا،رپورٹ
�دبئی حکام نے 25 فیصد شئیر 12 ملین درہم کے فروخت ہونے کی تصدیق بھی نہیں کی،رپورٹ
�۔12ملین درہم وصول کرنے اور الثانی خاندان کو دینے کی کوئی بھی دستاویز نہیں دی گئی،رپورٹ
�گلف سٹیل کی فروخت ،قطری خط ، طارق شفیع کا بیان ایک دوسرے سے متصادم ہیں،رپورٹ
�اسلام آباد؛ فہد بن جاسم کو کاروبار کے لئے12 ملین درہم دینا فسانہ ہے حقیقت نہیں، رپورٹ
�شریف خاندان نے گلف سٹیل کی فروخت کے وقت 14ملین درہم دینے تھے، رپورٹ
�شریف خاندان گلف اسٹیل سے 12 ملین کی سرمایہ کاریی کیسےکر لی؟ رپورٹ
�گواہوں کے بیانات کے مطابق طارق شفیع نے 12ملین درہم وصول کئے نہ ہی فہد جاسم کو دیئے،رپورٹ
�گلف سٹیل ملز کی فروخت اور فہد بن جاسم کے ساتھ کاروبار کا دعویٰ سپریم کو گمراہ کرنے کے لئے تھا، رپورٹ
�(صفحات 52 تا 151) (عمران وسیم)
�وزیراعظم کے بچوں کی جانب سے پیش کئے گئے دستاویزات میں عدم مطابقت پائی گئی، رپورٹ
�اسلام آباد، مریم نواز نیسکول اور نیلسن کمپنیوں کی بینیفیشل مالک ہیں، رپورٹ
�اسلام آباد، مریم نواز لندن فلیٹس کی 2012 سے پہلے کی مالک ہیں، رپورٹ
�لندن جائیدادوں کی ملکیت کے حوالے سے مریم نواز کی موجودہ حیثیت ریکارڈ کے بغیر چیک نہیں ہوسکتی، رپورٹ
�مریم نواز کی جانب سے آف شور کمپنیوں کی پیش کی گئی ٹرسٹ ڈیڈ اور خودساختہ ہے، رپورٹ
�ٹرسٹ ڈیڈ عدالت کو گمراہ کرنے اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے، رپورٹ
�اسلام آباد، جے آئی ٹی کو مطلوبہ دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں، رپورٹ
�مریم نواز اور حسین نواز نے جان بوجھ کر حقائق کو چھپایا، رپورٹ
�قطری شہزادے کی جانب سے شریف خاندان کی سرمایہ کاری کی تفصیلات جعلی قرار
�جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کی فراہم کردہ تفصیلات خودساختہ قرار دے دیں
�قطری دستاویزات شریف خاندان کی منی ٹریل کی خلاف پر کرنے کیلئے بنائی گئی، رپورٹ
�مریم اور حسین نواز کے درمیان لکھی گئی ٹرسٹ ڈیڈ اور جعلی قرار
�اسلام آباد، بلاشبہ مریم نواز لندن فلیٹ کی مالک ہیں، رپورٹ
�حسین نواز، حسن نواز اور مریم نواز کی فراہم کردہ دستاویزات جعلی اور خودساختہ ہیں، رپورٹ
�یہ تسلیم شدہ ہے کہ لندن فلیٹس 1993 سے شریف خاندان کے زیراستعمال ہیں، رپورٹ
�لندن فلیٹس پر قبضے کے حوالے سے نوازشریف اور انکے بچوں کے بیانات میں تضاد ہے، رپورٹ
�حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے اپنا مؤقف بار بار تبدیل کرتے رہے، رپورٹ
�اسلام آباد، مریم نواز اور حسین نواز نے ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کئے، رپورٹ
�دونوں نے آف شور کمپنیوں کے بیرئر سرٹیفیکیٹس کو کبھی دیکھا ہی نہیں، رپورٹ
�میاں شریف کے انتقال کے بعد شریف خاندان کے اثاثوں کی تقسیم ہوئی، رپورٹ
�جائیداد کی تقسیم میں لندن فلیٹس یا بیرون ملک کسی جائیداد کا ذکر نہیں، رپورٹ
�شریف فیملی کی خواتین خاندان کے مردوں کے حق میں اپنی وراثتی جائیداد کے حق سےدستبردار ہوئیں، رپورٹ
�لندن فلیٹ کے حوالے سے میاں شریف اور نوازشریف کا کوئی بھی وارث حسین نواز کے حق میں دستبردار نہیں ہوا، رپورٹ
�۔90 کے اوائل میں لندن فلیٹ کی مالک نوازشریف بشمول شریف فیملی تھی، رپورٹ
�نوازشریف نے لندن فلیٹ میں اپنی بینیفیشل ملکیت چھپانے کیلئے آف شور کمپنیوں اور اپنے بچوں کو استعمال کیا، رپورٹ
�اسلام آباد، الثانی خاندان کا لندن فلیٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا، رپورٹ
�التوفیق کمپنی کو 8 ملین ڈالر الثانی خاندان کی جانب سے ادا کرنے کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا، رپورٹ
�سال 2000 میں حسن اور حسین نواز کے پاس انفرادی آمدن کے کوئی ذرائع نہیں تھے، رپورٹ
�سال 2000 میں حسن اور حسین نواز اپنے خاندان کے زیرکفالت تھے، رپورٹ
�حسین اور حسن نواز کے پاس لندن فلیٹ خریدنے کے کوئی ذرائع آمدن نہیں تھے، رپورٹ
�لندن کے فلیٹس قطری خاندان کی جائیدادیں نہیں تھیں، رپورٹ
�قطری سرمایہ کاری کے بدلے لندن فلیٹس کا ملنا محض افسانہ ہے، رپورٹ
�نوازشریف، حسین، حسن اور مریم نواز قطری خط کے مندرجات دستاویزی طور پر ثابت کرنے میں ناکام رہے، جے آئی ٹی
�اسلام آباد، پہلا قطری خط سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے، جے آئی ٹی
�لندن فلیٹس کے سرٹیفیکیٹس قطر میں کس کے پاس تھے شواہد نہیں ملے، جے آئی ٹی
�شریف فیملی اور الثانی خاندان کے درمیان دیرپا تعلقات کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی، جے آئی ٹی
�دبئی اسٹیل مل کے قیام اور فروخت کیلئے ٹھوس دستاویزات فراہم نہیں کئے گئے، جے آئی ٹی
�جے آئی ٹی نے وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کا بیان حلفی مسترد کردیا، جے آئی ٹی
�طارق شفیع نے کبھی بھی گلف اسٹیل مل کی فروخت سے ملنے والے 12 ملین درہم وصول نہیں کئے، رپورٹ
�شریف فیملی نے اپنے بیانات میں کبھی قطری سرمایہ کاری کا ذکر نہیں کیا، جے آئی ٹی
�طارق شفیع کے پہلے بیان حلقی میں قطری سرمایہ کاری کا کوئی ذکر نہیں تھا، رپورٹ
�پناما پیپرز منظرعام پر آنے کے بعد طارق شفیع اور حسین نواز لندن میں اکٹھے تھے، جے آئی ٹی
�(جے آئی ٹی رپورٹ / کیسز کی تفصیلات) (صفحات 152 تا 196) (عدیل وڑائچ )
�جے آئی ٹی کی نیب میں لندن فلیٹس کی خریداری سے متعلق ریفرنس دوبارہ کھولنے کی سفارش۔۔۔ یہ معاملہ سترہ اٹھارہ سال سے نیب میں زیر التواء ہے۔�سارا پنامہ کیس اسی کے گرد گھومتا ہے۔ موجودہ پنامہ کیس میں سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کی کارروائی سے ایسے نئے ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں جس کی بنیاد پر یہ سفارش کی جاتی ہے کہ نیب کو حکم دیا جائے کہ کسی تاخیر کے بغیر ہی کیس کی تحقیقات مکمل کی جائیں۔ �نیب میں 2000ء سے رائیونڈ اراضی خریدنے اور اس کیلئے اختیارات کا غلط استعمال کرکے رائیونڈ محل تک سڑک بنوانے سے متعلق دو معاملات زیر التواء ہیں۔اتنے عرصے میں اب تک تحقیقات میں پیش رفت نہیں ہوئیں۔ اسے بھی کسی بھی تاخیر کے بغیر مکمل کی جائے۔
�شریف ٹرسٹ کو سامنے رکھ کر بے نامی جائیداد بنانے کا بھی الزام ہے۔ جلد از جلد مکمل کی ا جائے۔
�نوازشریف کیخلاف ایف آئی اے میں غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات بھی مکمل کی جائیں۔
�بطور وزیراعلیٰ پنجاب نوازشریف کیخلاف ایل ڈی اے میں غیر قانونی پلاٹوں کی تحقیقات جلد مکمل کی جائیں۔
�(دوبارہ کھولنے کی سفارش)
�نیب کو حکم دیا جائے کہ نوازشریف ، سیف الرحمان کیخلاف ہیلی کاپٹر خریداری کیس کا دوبارہ جائزہ لے اور سپریم کورٹ کے ذریعے ہائیکورٹ سے کیس دوبارہ کھولنے کیلئے رابطہ کیا جائے۔ کیونکہ خریداری میں قطری تعلق جعلی ہے۔
�شریف خاندان کیخلاف ایف آئی اے اور نیب کے حدیبیہ سمیت 3 مقدمات کھولنے کی سفارش
�رائونڈ اسٹیٹ میں اضافی مینشن بنانے کا ریفرنس دوبارہ کھولنے کی سفارش
�اس کے علاوہ ریکارڈنہ ہونے کے باعث ایک ریفرنس کا نیب نے ذکر نہیں کیا ۔ وہ امریکا میں ٹرسٹ کے قیام سے متعلق ہے۔ اس کا حدییبہ پیپر ملز کیس سے بنیادی تعلق بنتا ہے اس لئے نیب کو حکم دیا جائے کہ اسے بھی دوبارہ کھولا جائے۔
�ایف آئی اے کو حدیبیہ انجیئرنگ کیس بھی دوبارہ کھولنے کا حکم دیا جائے۔ حدیبیہ پیپرز ملز بھی دوبارہ کھولا جائے۔
�ایس ای سی پی میں چودھری شوگر ملز کیس بھی دوبارہ کھولنے کا حکم دیا جائے۔
�(حدییبہ پیپرز ملز کیس)
�شریف خاندان کیخلاف ایف آئی اے اور نیب کے حدیبیہ سمیت 3 مقدمات کھولنے کی سفارش
�موصول اضافی شواہد کی روشنی میں تینوں مقدمات دوبارہ کھولے جانے کیلئے بہترین ہیں،رپورٹ
�عدالت ان کیسز میں نامزد لوگوں کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے سکتی ہے، رپورٹ
�جے آئی ٹی کی سعید احمد اور جاوید کیانی کے نام ملزمان کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش
�جے آئی ٹی کو ملنے والے شواہد ایف آئی اے اور نیب کی تحقیقات میں ربط ثابت کرتے ہیں،رپورٹ
�شریف خاندان کیخلاف حدیبیہ پیپرز ملز سے متعلق ایف آئی اے اور نیب کے سمیت 3 مقدمات دوبارہ کھولنے کی سفارش
�موصول اضافی شواہد کی روشنی میں تینوں مقدمات دوبارہ کھولے جانے کیلئے بہترین ہیں،رپورٹ
�عدالت ان کیسز میں نامزد لوگوں کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے سکتی ہے، رپورٹ
�جے آئی ٹی کی سعید احمد اور جاوید کیانی کے نام ملزمان کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش
�جے آئی ٹی کو ملنے والے شواہد ایف آئی اے اور نیب کی تحقیقات میں ربط ثابت کرتے ہیں،رپورٹ
�جے آئی ٹی رپورٹ / ذرائع آمدن سے زائد اثاثے اور سفارشات (صفحہ 201 تا 254) (عدیل وڑائچ)
�(نوازشریف)
�ریکارڈ کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے 84-1983ء سے ریٹرنز فائل کرنے شروع کئے، رپورٹ�وزیراعظم نے 15 جون کو بیان میں کہا کہ وہ اپنے والد کی کمپنیوں میں شیئر ہولڈر رہ چکے ہیں،رپورٹ
�وزیراعظم کا موقف تھا کہ وہ 1985ء کے بعد کاروبار میں متحرک نہیں رہے، جے آئی ٹی رپورٹ
�مگر وزیراعظم نے 2010ء سے 2013ء کے درمیان چودھری شوگر ملز سے 24ملین تنخواہ لی،رپورٹ
�چودھری شوگر ملز سے تنخواہ وصول کرنا وزیراعظم کے ٹیکس ریٹرنز میں بھی درج ہے،رپورٹ
�وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کے درمیان بینک ٹرانزکشنز کا پتہ چلایا گیا، جے آئی ٹی رپورٹ
�۔2009ء سے 2017ء تک حسین نواز نے اپنے والد کو 1.4 ارب روپے بھجوائے، رپورٹ
�وزیراعظم نوازشریف نے 822 ملین روپے مریم نواز کے بینک اکائونٹ میں منتقل کئے،رپورٹ
�وزیراعظم نوازشریف نے 2013ء کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں غلط بیانی کی، رپورٹ
�وزیراعظم نواز شریف نے 45 ملین روپے کی ٹرانزکشن سے متعلق غلط بیانی کی، رپورٹ
�وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ان کے والد 70ء کی دہائی میں اربوں کے اثاثوں کے مالک تھے، رپورٹ
�وزیراعظم کا یہ بیان ان کے والدین کے ٹیکس ریٹرنز سے ثابت نہیں ہوسکا، جے آئی ٹی
�مالی تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد اس نیتیجے پر پہنچے ہیں کہ وزیراعظم کے اثاثے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، رپورٹ
�برطانیہ اور متحدہ عرب امارت سے تحفے کے طور پر 880 ملین پاکستان منتقل کئے گئے، رپورٹ
�مدعا علیہان بیرون ملک سے آنے والے تحائف کے ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہے، رپورٹ
�وزیراعظم نے اثاثے بناکر بچوں کے نام منتقل کئے، مگر ان کے واضح ذرائع آمدن نہیں تھے،رپورٹ
�نوازشریف کے مطابق اثاثے 70ء کی دہائی میں ان کے والد کے سرمایئے کی بنیاد پر بنے،رپورٹ
�نوازشریف کے اثاثوں کا مالی تجزیہ ان کے اس موقف کو درست ثابت نہیں کرتا، رپورٹ
�وزیراعظم کی پہلی وزارت عظمیٰ کے دوران ان کے اثاثوں میں اضافہ ہوا، رپورٹ
�قاضی خاندان اور سعیداحمد کے نام بے نامی اکائونٹس سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی گئی،رپورٹ
�یہ بے نامی اکائونٹس قرضے لینے اور شریف خاندان کے اثاثوں بنانے کیلئے استعمال کئے گئے،رپورٹ
�شریف خاندان کی بینک اسٹیمنٹس اور ویلتھ اسٹیمنٹس میں تضادات پائے گئے ہیں، رپورٹ
�نوازشریف نے ویلتھ اسٹیمنٹ میں اتفاق شوگر ملز کے حصص ظاہر نہیں کئے،رپورٹ
�نوازشریف 04-2003ء کے درمیان اتفاق شوگر ملز کے 48 ہزار حصص کے مالک تھے،رپورٹ
�وزیراعظم نوازشریف 2009ء سے 2013ء تک اتفاق شوگر ملز کے 1000 شیئرز رکھتے تھے،رپورٹ
�میاں شریف نے بھی بادی النظر میں اپنے ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنائے، رپورٹ
�میاں شریف کی دولت میں 4.3 گنا اضافہ 93-1992ء کے دوران ہوا، جے آئی ٹی
�نوازشریف نے 1970ء میں فیکٹریاں قومیائے جانے کا بیان دیا، جے آئی ٹی
�فیکٹریاں قومیائے جانے کے باجود شریف خاندان کی دولت میں واضح کمی نہیں ہوئی،رپورٹ
�(مریم نواز)�۔
90ء کی دہائی میں مریم نواز کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جے آئی ٹی�
اثاثوں کے تجزیئے اور ایف بی آر ریکارڈ کے مطابق مریم نواز نے اثاثے چھپائے،ٹیکس چوری کی،رپورٹ
�مریم نواز نے ذرائع آمدن کے بغیر نہ صرف اثاثے بنائے بلکہ کروڑوں روپے قرض بھی دیا، رپورٹ
�اسلام آباد؛ مریم نواز نے 2008ء میں کروڑوں روپے کے تحفے وصول کئے، جے آئی ٹی
�مریم نواز نے تحفے میں ملنے والی رقم زرعی زمین خریدنے کیلئے استعمال کی، جے آئی ٹی
�زرعی آمدن چونکہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتی ہے اس لئے فنڈز کو قانونی بنانے کیلئے استعمال کیا گیا،رپورٹ
�بادی النظر میں مریم نواز کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، جے آئی ٹی
�(حسین نواز)
�حسین نواز کے اثاثے 1990ء کی دہائی میں غیر معمولی طور پر بڑھے، جے آئی ٹی
�متعدد مرتبہ کہنے کے باجود حسین نواز ذرائع آمدن کی کوئی تفصیل نہ دے سکے،رپورٹ
�شریف خاندان 1990ء کی دہائی میں اقتدار کے ایوانوں میں تھا، جے آئی ٹی �جے آئی ٹی کو یقین یہ ہے کہ شریف خاندان کے اثاثوں میں اضافہ غیر قانونی طور سے ہوا، رپورٹ
�حسین نواز کو شریف خاندان کی پراکسی کے طور پر استعمال کیا گیا، جے آئی ٹی
�(حسن نواز)
�حسن نواز کے اثاثوں میں بھی 90ء کی دہائی میں اضافہ ہوا، جے آئی ٹی
�حسن نواز کو بھی پراکسی کے طور پر استعمال کیا گیا، جے آئی ٹی رپورٹ
�حسن نواز کی کمپنیاں خسارے میں تھیں مگر ان کے ذریعے برطانیہ میں جائیدادیں خریدی گئیں،رپورٹ
�خسارے کی کمپنیوں سے پاکستان میں شریف خاندان کی کمپنیوں کو قرض دیئے گئے،رپورٹ
�حسن نواز نے بھی متعدد مواقع کے باوجود اپنے ذرائع آمدن کا کوئی ثبوت دیا، رپورٹ
�بادی النظر میں حسن نواز کے اثاثے بھی ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے،رپورٹ
�(اسحاق ڈار)
�اسحاق ڈار نے بادی النظر میں 1981ء سے 2002ء تک ٹیکس چوری کی، رپورٹ
�اسحاق ڈار نے 1981ء سے 2002ء تک انکم ٹیکس ریٹرنز ہی فائل نہیں کئے،رپورٹ
�اسحاق ڈار کے اثاثوں میں 09-2008ء میں بے پناہ اضافہ ہوا مگر انھوں نے ذرائع آمدن نہیں بتائے،رپورٹ
�اسحاق ڈار کی مالی تفصیلات اور ایف بی آر ریکارڈ میں تضاد پایا گیا، جے آئی ٹی
�اسحاق ڈار نے اپنے ہی ادارے کو 169 ملین روپے خیرات میں دیئے، جے آئی ٹی
�اسحاق ڈار نے چندے کی رقم اپنی رسائی میں رکھی اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ ذاتی خرچہ ظاہر کیا، رپورٹ
�اسحاق ڈار اتنی بڑی رقم پر ٹیکس استثنیٰ لیکر ٹیکس چوری کی، جے آئی ٹی
�اسحاق ڈار کے اثاثوں اور ذرائع آمدن میں مطابقت نہیں، جے آئی ٹی
�نوازشریف ، مریم، حسین اور حسن کے اثاثوں اور ذرائع آمدن میں مطابقت نہیں،رپورٹ
�شریف خاندان کی پاکستانی کمپنیوں کی مالی حالت ان کی جائیداد سے مطابقت نہیں رکھتی،رپورٹ
�شریف خاندان کی ظاہر کی گئیں جائیداد اور ذرائع آمدن میں عدم مساوات ہے، جے آئی ٹی
�سعودی عرب،برطانیہ اوریو آئی اے کی کمپنیوں سے نوازشریف اور حسین کو رقم کی غیر قانونی منتقلی ہوئی، رپورٹ
�جے آئی ٹی رپورٹ میں شریف خاندان کی 3مزید آف شورکمپنیز کا انکشاف
�الاناسروسز،لینکن ایس اے اورہلٹن انٹرنیشنل سروسزکا انکشاف
�اس سے قبل نیلسن، نیسکول اورکومبرگروپ نامی کمپنیزمنظرعام پرآئی تھیں
�آف شور کمپنیزبرطانیہ میں شریف خاندان کے کاروبارسے منسلک ہیں،رپورٹ
�آف شورکمپنیزبرطانیہ میں موجودکمپنیوں کورقم فراہمی کیلئےاستعمال ہوتی ہیں،رپورٹ
�آف شور کمپنیز کے پیسے سے برطانیہ میں مہنگی ترین جائیدادیں خریدی گیئں،رپورٹ
�پیسہ برطانیہ،سعودی عرب،یواے ای اور پاکستان کی کمپنیوں کو بھی ملتا رہا،رپورٹ
�نوازشریف اور حسین نواز یہ فنڈز بطورتحفہ اور قرض وصول کرتے رہے،رپورٹ
�تحفے اور قرض کی وجوہات سے جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کیا جاسکا،رپورٹ
�آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے خسارے میں چلنے والی کمپنیوں کے ذریعے برطانیہ میں مہنگی جائیدادیں بنائی گئیں، رپورٹ
�جے آئی ٹی وزیراعظم، مریم، حسین اور حسن کیخلاف نیب آرڈیننس کے تحت کارروائی کی سفارش کرتی ہے، رپورٹ
�شق 9 کی ذیلی شق اے پانچ کے تحت عوامی عہدہ رکھنے والے یا دوسرے شخص ، یا اس کے زیر کفالت افراد کا ذرائع آمدن سے زائد اثاثے رکھنا جرم ہے، رپورٹ
�جے آئی ٹی رپورٹ میں قانون شہادت آرڈر 1984ء کے آرٹیکل 122 اور 117 کا حوالہ
�قانون شہادت آرڈر کے تحت بار ثبوت ملزم پر ہوتا ہے، جے آئی ٹی رپورٹ
�تمام مدعا علیہان ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہے، جے آئی ٹی رپورٹ
�شریف خاندان اپنے اثاثوں اور ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہا، جے آئی ٹی رپورٹ

~~~~~~~~~~~~~~
نواز شریف کے کارنامے ۔۔ فیکٹ شیٹ:

٭عوامی مقبولیت کی بجاۓ جنرل ضیاء ڈکٹیٹر سے آغاز

٭الیکشن میں آئی ایس آئی سے پیسے لینا
چھانگا مانگا کی سیاست کا آغاز

٭کرپشن کی وجہ سے نااہلی پر سپریم کورٹ کی عمارت پر حملہ

٭مرحوم جج سپریم کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ کے بقول نوازشریف نے ان کو پیسے سے خریدنے کی ناکام کوشش کی

٭آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی جبری ریٹائرمنٹ

٭منی لانڈرنگ کے پیسے سے 1992 میں لندن فلیٹس کی خفیہ خریداری

٭صدر غلا اسحٰاق سے پنگا
٭صدر غلام اسحٰاق کا نوازشریف کو نااہل کرنا

٭صدر غلام اسحاٰق نے کہا تھا کبھی نوازشریف پہ اعتبار نہ کرنا یہ اقتدار کی خاطر صوبوں کو لڑا دے گا

٭نوابزادہ نصراللہ خان نے کہا تھا نوازشریف جب مشکل میں ہوتا ہے تو پاٶں پکڑتا ہے اور جب اقتدار میں ہوتا ہے تو گریبان پکڑتا ہے

٭بےنظیر اور اس کی والدہ نصرت بھٹو کی شرمناک کردار کشی کی ٭شرمناک جھوٹی ممظ اور ہیلی کاپٹر سے ان کی جعلی برہنہ تصاویر شہریوں پہ پھینکوانا

٭جنرل ضیاء کے تلوے چاٹے اور بھٹو جیسے بین الاقوامی مقبول لیڈر کی پھانسی میں گھٹیا کردار

٭کارگل جنگ کے دوران امریکی حکم پر اپنی فوج کی مخالفت کر کے فوج کو بھاری جانی نقصان پہنچانا

٭جنرل پرویز مشرف کی جبری نااہلی کی گھٹیا سازش

٭پرویز مشرف کا نوازشریف کو قید کر لینا

٭نوازشریف کا بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ جدہ جانے کا معاہدہ کرنا مگر معاہدہ سے انکار کرنا

٭سعودی وزیرخارجہ کا معاہدے کی تصدیق کرنا

بےنظیر سے مل کر پرویزمشرف سے ٭معاہدہ کر کے ملک واپس آنا

دھاندلی کر کے دوبارہ وزیراعظم بننا

٭امریکی صحافی عورت سے دوستی کی خواہش کا اظہار اور اس صحافی کا نوازشریف کی اس حرکت کا پوری دنیا کے سامنے لانا نوازشریف نے آج تک اس حرکت کی تردید نہیں کی

٭پنجاب پولیس میں ناجائز بھرتیاں کر کے پولیس کو سیاسی بنا دینا

٭ججوں کو خرید لینا

٭کرپشن کرنا اور کرپٹ لوگوں کو اوپر لے کے آنا

٭اداروں سے ایماندار لوگوں کو زبردستی نکالنا اور اپنی مرضی کے لوگ لگانا

٭پی آئی اے, سٹیل مل، ریلوے پہ نااہل لوگ بٹھا کے ان اداروں کو تباہ کرنا

ایف آئی اے, نیب کو تباہ کرنا

٭اسحٰق ڈار کا نوازشریف کے لیے منی لانڈرنگ کا اعتراف

٭ووٹوں کی خاطر اپنی جماعت میں ہر علاقے کے مافیاز کو شامل کرنا

٭کرپٹ عناصر کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا

٭ادارے تباہ کرنارشوت اور کرپشن کا کلچر عام کرنا

٭ماڈل ٹاٶن میں میڈیا کے سامنے 14 افراد کو پولیس کے ذریعے قتل کروانا اور کسی کو سزا نہ ملنا بلکہ قتل میں ملوث لوگوں کو بیرون ملک بھجوا دینا

٭الیکشن دھاندلی پہ کمیشن سے انکار اور پی ٹی آئی کو دھرنے پہ مجبور کرنا

٭ہزاروں مسلمانوں کے قاتل مودی سے ذاتی تعلقات کی بنا پر اس کو اپنے گھر بلا کر کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات سے کھیلنا

٭انڈیا میں جا کر اپنی فوج کے خلاف یہ کہہ کر ہرزہ رسائی کرنا کہ پاکستانی فوج نے آپ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا

٭انڈیا میں جا کر دو قومی نظریہ کی یہ کہہ کر تردید کرنا کہ مسلمانوں اور ہندٶوں کلچر ایک ہی ہے

٭پانامہ میں نوازشریف کی اربوں روپے کی کمپنیوں کا انکشاف ہونا

٭قطر سے ذاتی سطح پہ کھربوں روپے کی ایل پی جی کی مہنگی ڈیل کرنا

٭ملک کو وزیرخارجہ کے بغیر چلانا

٭اپنی بیٹی کو بغیر کسی سرکاری عہدے کے اربوں روپے کے یوتھ قرضہ سکیم کی ہیڈ بنا دینا

٭پانامہ لیکس آنے سے پہلے حسین نواز کا پری پلانڈ انٹرویو کروانا

٭پانامہ لیکس میں نام آنے کی وجہ سے پوری دنیا میں ملکی بدنامی کا باعث بننا

٭پانامہ سے بچنے کے لیے شہر شہر ائیرپورٹوں یونیورسٹیوں ہسپتالوں اور بڑے بڑے پراجیکٹ کے اندھادھند اعلانات کرنا مگر کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہ کرنا

٭ خود پانامہ کا سامنا کرنے کی بجاۓ پوری حکومت کو آگے کر دینا

٭اسمبلی میں اور قوم کے سامنے جھوٹ بولنا

٭اپنے وزیروں سے سپریم کورٹ کو دھمکیاں دلوانا

٭مریم کو مریم صفدر سے مریم نواز بنا کر وزیراعظم ہاٶس میں رکھنا

٭مریم نواز کا وزیراعظم ہاٶس میں میڈیا سیل چلانا

٭مریم نواز کا ملکی فوج کے خلاف سازش کر کے فوج کو دنیا میں بدنام کرنے کی مذموم کوشش کرنا

٭گو نواز گو کے نعرے کا بین الاقوامی سطح پہ مقبول ہو جانا

دوستو! یہ ہیں نوازشریف اور شریف فیملی کے چند کرتوت جن میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ دنیا کے کسی مہذب ملک میں ان میں سے ایک کرائم بھی کیا ہوتا تو آج یہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑ رہا ہوتا یا پھانسی کے پھندے پر چڑھا دیا گیا ہوتا
~~~~~~~~~~~~~~~~~~ داستان کرپشن
کتابوں میں پڑھا تھا کہ کسی بستی کے رہنے والے لوگ حد درجہ گناہوں میں مبتلا ہوچکے تھے اور ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے فرشتے کو حکم دیا کہ اس بستی کو تباہ کر آئے۔ فرشتے نے پوچھا کہ یا اللہ، اس بستی میں ایک بہت نیک اور پرہیزگار بزرگ بھی رہتا ہے، اگر حکم ہو تو اسے چھوڑ دیا جائے؟
اللہ تعالی نے فرمایا کہ اسے سب سے پہلے ہلاک کرو!
انگلش کا محاورہ ہے کہ طاقت انسان کو کرپٹ بناتی ہے اور حد سے زیادہ طاقت انسان کو حد سے زیادہ کرپٹ بناتی ہے۔
1983 میں میاں شریف اپنے بڑے بیٹے نوازشریف کا ہاتھ پکڑ کر اسے گورنر ہاؤس لے گیا اور اسے گورنر، جنرل جیلانی کی زیرسرپرستی دے دیا۔
نوازشریف خاندان کی پیپلزپارٹی سے نفرت دیکھتے ہوئے اسے فی الفور صوبائی وزیرخزانہ کا عہدہ مل گیا اور پھر طاقت کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا۔
اگلے دو سال میں نوازشریف نے ایک طرف اپنے خاندان کی ملوں میں 5 گنا اضافہ کرلیا، دوسری طرف پلاٹوں، پرمٹس اور ڈسکریشنری فنڈز کا بے دریغ استعمال شروع کیا۔ اگلے دو سال بعد غیرجماعتی انتخابات ہوئے اور نوازشریف جنرل ضیا کی رضامندی سے وزیراعلی بن گیا۔
1985 سے 1990 تک پنجاب میں نوازشریف نے بطور وزیراعلی اپنے استحقاق کو استعمال کرتے ہوئے ساڑھے تین ہزار سے زائد قیمتی سرکاری پلاٹ اپنے عزیز و اقارب میں ریوڑھیوں کی طرح بانٹے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوازشریف نے استحقاقی فنڈز کو استعمال کرتے ہوئے ساڑھے 3 ارب سے زائد رقم ڈونیشن اور چیریٹی کی مد میں سیاسی رشوت کے طور پر تقسیم کی۔ تیسرے نمبر پر نوازشریف نے اپنے حلقے میں ووٹ لینے کیلئے اپنے کارکنان کو بغیر کوالیفیکیشن کے سرکاری نوکریاں دیں۔ ایک وقت تھا جب گوالمنڈی کے ہر گھر میں کوئی نہ کوئی نوجوان یا تو پولیس کانسٹیبل تھا، یا پھر محکمہ مال، کارپوریشن، ایل ڈے اے وغیرہ میں مفت کی روٹیاں توڑتا تھا۔
طاقت انسان کو کرپٹ بناتی ہے!
پلاٹوں، فنڈز اور نوکریوں کی یہ نوازشات اخبارات میں صحافیوں پر بھی ہوئیں اور پھر نوائے وقت سے لے کر جنگ اخبار تک، جتنے بھی دائیں بازو یا بائیں بازو سے ٹوٹ کر آنے والے صحافی تھے، سب کے سب نوازشریف کے زرخرید غلام بن گئے۔ آپ اس دور کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں، عبدالقادر حسن، مجیب شامی، نذیرناجی، الطاف حسن قریشی، زیڈ اے سلہری، ارشاد احمد عارف سمیت جتنے بھی مشہور کالم نویس ہوا کرتے تھے، سب کے سب نوازشریف کی مدح سرائی میں مصروف رہا کرتے تھے۔
یہ وہ دور تھا جب نوازشریف نے نہ تو موٹروے بنائی تھی، نہ ہی پیلی ٹیکسی کی سکیم لانچ کی تھی، نہ ہی لاہور میں انڈرپاس بنایا تھا، اور نہ ہی لیپ ٹاپ تقسیم کئے تھے، اس کے باوجود بھی ان کالم نویسوں نے نوازشریف کو اس صدی کا سب سے بہترین لیڈر ثابت کرنے کی کوششیں جاری رکھیں کیونکہ پلاٹس، پرمٹس، فنڈز اور نوکریوں کی کشش اتنی زیادہ تھی کہ ان کی آنکھیں چکاچوند ہوچکی تھیں۔
میڈیا کے زریعے امیج بلڈنگ کا فن نوازشریف نے اس وقت ہی سیکھا اور آج اس کی ٹیکنیک کو ماسٹر کرچکا ہے۔ 80 کی دہائی ہو یا 2017 کا زمانہ، ہر طرح کے صحافیوں اور کالم نویسوں کی کثیر تعداد آج بھی آپ کو نوازشریف کے گرد ہی منڈلاتی نظر آئے گی کیونکہ وجہ آج بھی وہی ہے، فنڈز، نوکریاں اور سرکاری مراعات۔
حد سے زیادہ طاقت انسان کو حد سے زیادہ کرپٹ بناتی ہے۔
نوازشریف کو ملی ہوئی اس طاقت نے پھر اسے کرپشن کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اپنی بند فیکٹریوں پر اربوں روپے کے قرض لیتا گیا اور انہیں معاف کرواتا گیا ۔ ۔ ۔ ٹیکس چوری، رشوت، ٹھیکوں میں کمیشن، الغرض ناجائز آمدنی کا کوئی ایک سورس ایسا نہ تھا جو نوازشریف نے بطور حکمران آزمایا نہ ہو۔ ملکی ادارے تباہ، معیشت دگرگوں اور عوام کا سفر پستی کی طرف جاری رہا اور نوازشریف کی فیملی ایمپائر میں ہر سال کئی گنا اضافہ ہوتا گیا۔
35 سال میں پہلی دفعہ نوازشریف قانون کے شکنجے میں آیا ہے اور آج بھی آپ کو ذہنی غلام یہ کہتے نظر آئیں گے کہ نوازشریف ہی کیوں، زرداری اور دوسرے کرپٹ لیڈروں کو بھی پکڑا جائے۔
بات یہ ہے کہ اگر زرداری کرپٹ ہے، جو کہ وہ یقینناً ہے، تو پھر نوازشریف نے اسے کیوں نہیں پکڑا؟ اگر آپ کے خیال میں دوسرے سیاستدان، جج اور بیوروکریٹ نوازشریف سے زیادہ کرپٹ ہیں تو پھر ان دونوں بھائیوں نے ان احتساب کا نظام وضع کرکے ان کے خلاف کاروائی کیوں نہ کی؟
مختصراً عرض ہے کہ موجودہ نظام کا سب سے کرپٹ ترین شخص نوازشریف ہے۔ یہ اس سسٹم اور معاشرے میں کرپشن کا ایک سمبل بن چکا ہے۔ اگر اس سمبل کے خلاف کاروائی ہوتی ہے تو یہ دوسرے لوگوں کیلئے ایک بہت بڑا میسج بنے گا کہ اگر نوازشریف نہ بچ سکا تو ان کی بھی خیر نہیں۔
ویسے بھی یہ اللہ کی سنت ہے کہ اگر گناہگاروں کی بستی میں جس شخص کی ذمے داری تھی کہ وہ دوسروں کو گناہوں سے روکتا لیکن وہ اس میں ناکام رہا، تو سب سے پہلے اسے تباہ کیا جائے۔
ہم نے تو پہلے ہی بہت دیر کر دی اس کرپٹ ترین شخص کو سزا دینے میں۔ جو شخص بھی اس کی سزا میں رکاوٹ بنے گا اور نوازشریف کو بچانے کیلئے نت نئی تاویلیں گھڑے گا، انشا اللہ تباہی اس کا بھی مقدر ہوگی!!!
 (Credit :Shahid Saki(


مسلم لیگ ن کے کارکنان سے دلی ہمدردی ہے کہ شریف برادران نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اور تیس سال سے انکو بیوقوف بنا کر حکومت کرتے رہے.  مکافات عمل ہے اور الٹا پہیہ گھومنا ہی تھا.  اسلئے تمام کارکنان سے گزارش ہے کہ سب نے اپنی قبر میں جانا ہے جسطرح جے آئی ٹی کے سامنے یہ خاندان انفرادی طور ہر پیش ہوا ہے اسطرح اللہ کے سامنے بھی ہم سب نے اکیلے اکیلے جانا ہے.  وہاں کسی کو کوئی نہ بچا سکے گا اور سب لوگ اپنے جزا و گناہ کا بھار اٹھائیں گے تو پھر کہیں یہ نہ ہو کہ آپ کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو لیکن دوسری طرف کرپٹ حکمرانوں کی حمایت کے گناہ دوسرا پلڑا بھاری کر دیں.  اسلئے کسی کے گناہوں کا بوجھ مت اٹھائیں اور نہ انکی حمایت میں اس قدر جائیں کہ واپسی کا راستہ نہ رہے اگر آپ کو عمران خان سے نفرت ہے تو کوئی اور لیڈر ڈھونڈھ لو مسلم لیگ میں یا باہر جماعت اسلامی نیک لوگ ہیں۔




Politics for Pakistan: ♤♡◇♧
Supporting a favourite political party or leader for good manifesto and works is part of political process. ....... One thing which bothers .... is ... that …

Why we have to support every action of our favourites irrespective of its obvious demerits....
1)  Is our favourite political leader inerrant?    
2). Does he enjoy some special privileges or powers from above?
3) Is he a normal human being who can go wrong?
4) Can you use your mind to differentiate between right and wrong?
5) Can your fair criticism put him on right direction and save him from humiliation?
Please look inward to find honest answers ... correct your approach ...
Be realistic... Support Pakistan


JIT on Panama Papers: https://goo.gl/qED96g
Related:
http://pakistan-posts.blogspot.com/p/corruption.html

Panama Papers Leaks - Offshore Companies and Corruption allegations Nawaz Sharif Family, Pakistani Stalwarts



Arguably the most dangerous nation on Earth, Pakistan is a bubbling cauldron of corruption and crime, where grasping politicians, greedy generals, drug smugglers, and terrorists intermix in a volatile web, made more ...

King of corruption Zardari appoints his frontman "Raja Rental" [Sindhi by birth disguised as Punjabi] pas new PM of Pakistan. ...MQM, PML Q , ANP and all those 211 MNAs who voted for him are party to this corruption.
.
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

The political face of JuD

Related image

THE Jamaatud Dawa (JuD) has transformed its political wing into a political party, so the latter is not entirely new. Long-established but informal and not involved in electoral politics, the political wing of the under-watch militant group has been reincarnated as a political party, the Milli Muslim League (MML), whose registration with the Election Commission of Pakistan (ECP) is under process.

The move comes at a time when the country is heading towards a new election amidst political turbulence. Some political analysts see in it an attempt by certain establishment quarters to unite and launch a far-right political alliance to curtail the growing anti-establishment sentiments in mainstream politics. They believe the establishment is dry-cleaning its assets to launch them as part of that larger electoral alliance, which could include groups and parties that were part of the Difa-i-Pakistan Council. This was formed to campaign for the severing of ties with the US and to reject the government’s decision to grant India the status of Most Favoured Nation.

In a low-key launching ceremony in Islamabad, MML leaders said that the party will have two immediate goals: to defy attempts to repeal Articles 62 and 63 of the Constitution; and to protect the ideology of Pakistan. The second goal is apparently set to support the Kashmiri freedom struggle. This is the modus operandi of all far-right parties — to garb their real agendas in ideological objectives with a view to seeking broader national support and outclassing their opponents.

It would be unique if the political wing of a militant group were to be registered with the ECP.

However, security analysts see the move in the context of growing international pressure on Pakistan for not taking enough action against the Security Council’s designated terrorist groups allegedly operating in the country. In particular, the concerns of the Financial Action Task Force, an international watchdog tracking terror financing, have become more serious. The FATF is not happy with the government’s stance vis-à-vis JuD chief Hafiz Saeed and the entities linked to him, especially the Falah-i-Insaniyat Foundation, the JuD’s charity wing. FATF’s Asia Pacific group is urging Pakistan to take tough decisions against JuD and its affiliated entities. According to reports, banning the Tehreek-i-Azadi of Jammu Kashmir, one of the many groups set up by Hafiz Saeed, and putting him under protective custody were part of government efforts to avoid sanctions on international financial transactions.

Notwithstanding how analysts interpret the arrival of the MML, hardly anyone sees its establishment as part of Pakistan’s reintegration or de-radicalisation efforts. There is no sign that the government has evolved a de-radicalisation policy framework or that it is interested in bringing banned groups into the mainstream. The MML’s establishment thus appears to be an attempt by a militant group to legitimise its actions and avert international sanctions.

Secondly, the JuD and its charities need some breathing space in the country’s mainstream media, and political and intelligentsia discourses, that are increasingly criticising it. The JuD is not happy with the government’s measures to put a ban on the coverage of its activities. On the other hand, the group continues to project itself as the custodian of Pakistan’s ideological interests as a partner of the security establishment. The establishment, too, is not dispelling this impression.

As far as reintegration is concerned, this is a serious affair and is needed to counter terrorism. The contours of a reintegration plan that could be effective in our context have been discussed many times. To recall, a process of independent consultations with different expert groups recently advocated parliamentary oversight of such a process. The findings propelled the suggestion of a high-powered truth and reconciliation commission to review policies that produced militancy and the mainstreaming of those willing to shun violence. This commission may deliberate on whether or not to identify wrongs committed in the past. Expert groups opposed the idea of a general amnesty for repentant groups, and suggested a proper mechanism to study the behaviour of militant groups to decide on the extent of their reintegration.

One may call the formation of MML forced reintegration. External pressures and the changing internal security dynamics have forced the JuD and its masters to exploit the reintegration policy rhetoric. The MML is a JuD political wing and it would be a unique case in our history if the political wing of a militant organisation were to be registered with the ECP as a political party.

Yet, some are hopeful that through the formation of the MML, the JuD will make its formal entry into democratic electoral politics, which it has thus far deemed haram. There is still plenty of literature being produced by the JuD against democracy and the Constitution — or man-made legislation. A brief background of the party’s anti-democratic ideology and practices can be found in a book Qafila Dawat-o-Jihad, written by Ameer Hamza, a JuD founder. Indeed, the JuD has the same worldview and anti-democratic attitude that are espoused by international terrorist groups such as Al Qaeda and the militant Islamic State group. Interestingly, to save their cadres from joining the IS, the JuD has published more than 20 booklets against the latter and its ideology of takfir — declaring some fellow Muslims or Muslim rulers to be outside the pale of Islam. These books also include Urdu translations of writings by Saudi scholars.

Participation in the democratic process may provide an opportunity for JuD leaders to further review their narrow social views and ideology. As far as mainstream politics is concerned, the MML will act as a far-right party and follow a pro-establishment agenda. There was space for such a party that can organise and bring scattered far-right elements under one banner. In the past, the Jamaat-i-Islami and the Jamiat Ulema-i-Islam provided such services. But with time, both have tended to distance themselves from the establishment. Far-right parties cannot damage the electoral base of mainstream parties but can challenge their views on religious, social and regional issues. Perhaps this is one of the purposes behind the MML’s establishment.


Muhammad Amir Rana، a security analyst.
https://www.dawn.com/news/1351281/the-political-face-of-jud
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

Why Prime Minister should be Honest and Trustworthy?


IF voters wanted the same kind of scrutiny for electoral candidates that their would-be domestic help is subjected to, we would end up with honest and competent prime ministers.
What characteristics do we look for in a domestic helper? Honesty and competence. How do we assess their level? Some basic background checks work. Her credentials are established with the help of people for whom she might have worked. Thus we try to evaluate her integrity and experience, and then make a decision using this information.
Consider a household whose every member is away from home during the day. Also assume that there is a trade-off between honesty and competency. What quality would such a household value most in a domestic helper if she is expected to work at home while the family is away? The logical answer is honesty — especially if there are valuables at home.
Voters do not assess the honesty level of candidates.
The prime minister sits on taxpayers’, and therefore voters’, money. As voters cannot directly prevent the theft or misuse of their money they vote in a prime minister as the custodian of their money. Should the voters or taxpayers expect the custodian to be honest? Yes, they should. Should they expect the prime minister to be competent? Yes, they should, because he is paid a salary out of their money. Do the voters try to assess the honesty and competency level of the candidates to the National Assembly, one of whom will be the prime minister? No. Why? Do voters even expect the politicians to be honest, let alone try and figure out their honesty level? No. In fact, the voters knowingly vote for people with questionable reputations. Why?
If an elected politician can help a voter find a job, land a plot, a contract, a subsidy or a prized posting then the voter does not care how the politician handles the national exchequer. However, such beneficiaries are few.
The indifference of society in general to the integrity of politicians is better explained by what economists refer to as ‘tragedy of the commons’ ie the overuse or neglect of community resources leading to their depletion. The concept has been applied to water, pastures, parks and a number of community resources referred to as the ‘commons’. The national exchequer is also one such ‘common’ resource which is neglected by its joint owners — the taxpayers. Why?
A small fraction of voters know that it is their money that politicians or public officials siphon or misuse, but still they do not care. Again, why? Because the politicians siphon off the common pool called ‘national exchequer’ in which the share of an individual voter is minuscule, no matter how big a taxpayer he or she is. It is this smallness of an individual’s share in the common pool that makes the national exchequer similar to a ‘common’ to which the ‘tragedy of the commons’ applies.
On top of this, given the literacy level, a large majority of taxpayers do not even know that the national exchequer is composed of the money contributed by the entire community. Misleading numbers, like only ‘1.2 million taxpayers in the country’, or statements like ‘less than one per cent of Pakistanis pay taxes’ add to the dilemma. The common man does not realise that he or she as a consumer of goods and services ends up paying taxes collected as withholding taxes, corporate tax, custom duties etc. — there are over 100 million mobile phone users in Pakistan; and anybody who has ever paid money to buy a Sim is, in fact, a taxpayer.
It is not uncommon to see references being made to the use of taxpayers’ money in developed countries while debating one or the other government decision. Pakistanis who have won USAID grants for one or the other project would have noticed that their award letter says “from the people of America”. On the other hand, it is not uncommon for politicians at the helm in Pakistan to favour their hometowns in making use of development funds with little criticism from taxpayers.
To elect honest prime ministers, the first task then is to make people aware that the prime minister is sitting on their money, that it is extremely difficult to have good systems which tell people that their money is being put to good use and that the prime minister can potentially steal your money. Therefore, electing an honest prime minister is essential.
To push the ‘who pays’ reality into the public mind, let’s scribble ‘paid by Pakistanis’ on every public building, motorway, metro, hospital and school. Also let’s scribble on the office wall of every public servant ‘salary paid by Pakistanis’.
PM has your cash
by Idrees Khawaja, dawn.com, The writer is associated with Air University and the Pakistan Institute of Development Economics, Islamabad.   idreespide1@gmail.com  , Twitter: @khawajaidrees11
https://www.dawn.com/news/1349836/pm-has-your-cash
Related:
ووٹ کی شرعی حیثیت 

پنجاب پولیس سے ایف آئی اے اور واپسی


مَیں اے ایس پی گوجر خان تعینات تھا۔ محکمہ پولیس میں خدمت کا چھٹا سال تھا ۔محکمانہ قواعد وضوابط کے مطابق اب تک میری اگلے رینک میں ترقی ہو جانا چاہئے تھی ، لیکن نہیں ہوئی تھی ۔ بالآخر دسمبر 1982ء کے آخری ہفتے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہم پچیس اے ایس پیز کے بیچ (batch) میں سے پہلے پندرہ کو بطور ایس پی ترقی کے لئے کلیئر کردیا، جن میں ایک میں بھی تھا۔ ہم تمام پندرہ اے ایس پی صوبہ پنجاب میں تعینات تھے۔ اب صوبائی حکومت کو ہمیں بطور ایس پی کسی جگہ تعینات کرناتھا۔حکومت نے وقفے وقفے سے ایک ایک دو دو افسران کو ایس پی تعینات کرنا شروع کر دیا، لیکن رفتار بہت کم تھی ۔ہمیں خوشی اور اطمینان اس بات پر تھا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہم سب کو پنجاب میں ہی رہنے دیا تھا،چنانچہ تعیناتی میں قدرے تاخیر کو ہم خوش دلی سے برداشت کررہے تھے۔ 

پہلے چھ ماہ میں حکومت پنجاب نے صرف پانچ چھ افسران کوتعینات کیا ۔ اسی اثنا میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بیچ کے بقیہ دس افسران کو بھی ترقی کے لئے کلیئر کردیا۔ یہ تمام دو دو تین تین کی تعداد میں صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان میں تعینات تھے۔ اِن سب کی اپنے اپنے صوبوں میں بہت جلد بطور ایس پی تعیناتیاں ہوگئیں، لیکن صوبہ پنجاب میں 1983ء کے آخر تک یعنی پورا ایک سال گزرنے کے باوجود صرف آٹھ نوافسران کو ہی اگلے درجہ میں ترقی دی جا سکی،جس سے مجھ سمیت باقی رہ جانے والے افسران میں بے چینی پیدا ہونا شروع ہوگئی ۔ بس ایک بات ڈھارس بندھاتی تھی کہ اپنے صوبے میں بیٹھے ہیں، کچھ دیر اور انتظار سہی۔ اسی انتظار میں ڈیڑھ سال گزر گیا۔ اُدھر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہمارے بعد والے بیچ کوترقی دیناتھی۔ انہوں نے حکومتِ پنجاب کو لکھا کہ اِن باقی ماندہ افسران کو ایس پی کی پوسٹوں پر تعینات کریں یا پھر ہمیں واپس بھیج دیں تا کہ اِن کو دوسرے صوبوں یا محکموں میں کھپا کر اگلے بیچ کو ترقی دی جاسکے،کیونکہ جب تک ہم سینئر بیٹھے تھے اگلے بیچ کو ترقی نہیں دی جاسکتی تھی۔ اس دباؤ پر ایک آدھ اور افسر کو تعیناتی مل گئی، لیکن بالآخر جون 1984ء میں حکومتِ پنجاب نے باقی ماندہ چار اے ایس پیزریاض نعیم، جاوید نور، پرویز اختر اور مجھے پنجاب سے سرنڈر کر دیا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے فوراً ہم چاروں افسران کو ترقی دے کر ایف آئی اے میں بھیج دیا۔ اس فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی کہ ڈیڑھ سال انتظار کے بعد بھی بالآخر پنجا ب سے نکلنا ہی پڑا ۔اس اثناء میں ہمارے کئی ساتھی بطور ایس پی دوسری تعیناتی پر جاچکے تھے۔ بہر حال قہر درویش بر جان درویش، ہم چاروں افسران نے جون 1984ء میں ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز جو اُن دنوں اسلام آبادمیں سپر مارکیٹ کے قریب چائنہ چوک میں واقع تھا رپورٹ کردی۔ پولیس سروس آف پاکستان کے 1951ء بیچ کے جناب محمد اعظم قاضی اس وقت ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے تھے۔ڈی جی صاحب نے ہم چاروں کو ایف آئی اے ہیڈکوارٹر ز میں ہی تعینات کر دیا۔ ریاض نعیم کو ڈپٹی ڈائریکٹر کرائمز ونگ، جاوید نور کو اپنا پی ایس او(PSO)،پرویز اختر کو ڈپٹی ڈائریکٹر اکنامک انکوائری ونگ اور مجھے ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن ۔ جناب خاور زمان ڈی آئی جی (بعد میں آئی جی اسلام آباداور سندھ) میرے ڈائریکٹر تھے ۔ ان جیسے قابل افسر اب ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔ اُ ن کی انگریزی تحریر اور تقریر لاجواب تھی۔ فائلوں پر صفحوں کے صفحے اپنی خوبصورت ہینڈ رائٹنگ میں لکھتے اور کیاخوب لکھتے۔ میں نے ان کی کچھ تحریروں کی فوٹو کاپیاں کرواکر مدت تک بطور نمونہ اور راہنمائی اپنے پاس رکھیں۔ مَیں جناب خاور زمان کی شفیق اور تجربہ کار رہنمائی میں ایک بالکل نئی قسم کی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھاتارہا۔ میں اُن کا پرنسپل سٹاف آفیسرہونے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد، راولپنڈی ڈویژن ، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات پر مشتمل امیگریشن وِنگ کے شمالی زون کا انچارج بھی تھا۔پاکستان بھر کی امیگریشن چیک پوسٹز، گلگت، طورخم ،چمن، تفتان، کراچی، کھوکھراپار، واہگہ اور تمام انٹرنیشنل ائیرپورٹس سے صرف جائز اور قانونی دستاویزات کے حامل افراد کو مُلک میں آنے اور مُلک سے جانے کی اجازت دینا،اور خاص طور پر جن افراد کے پاکستان میں آنے یا پاکستان سے نکلنے پر پابندی ہے اُن پر خاص نظر رکھنا کہ کہیں جُل دے کر نکل نہ جائیں یا داخل نہ ہوجائیں، اور جولوگ اس کی خلاف ورزی کرتے پکڑے جائیں اُن کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کرنا ہمارے فرائض منصبی میں شامل تھا۔ 

اس کے ساتھ ساتھ مُلک بھر کی تمام ریکروٹنگ ایجنسیوں پر نظر رکھناکہ وہ صرف جائز اور قانونی دستاویزات پر تمام قانونی تقاضے پورے کرکے بندوں کو باہر بھجوائیں۔ خلاف ورزی پرخلاف ورزی کرنے والوں اور اُن کے سہولت کاروں کو قانون کی گرفت میں لانا بھی ہمارے فرائض میں شامل تھا۔ میری اِس پوسٹنگ کے دوران حکومتِ پاکستان نے ایک اہم فیصلہ کیا کہ پاکستان سے چین آنے جانے والوں کی امیگریشن جو گلگت کے قریب ہوتی ہے،درۂ خنجراب جو پاکستان اور چین کی سرحد ہے کے کہیں آس پاس ہونی چاہئے ،ناکہ سرحد سے دواڑھائی سوکلومیٹر اندر آکر گلگت کے قریب ۔یہ کام میرے ذمہ لگاکہ میں علاقے کا سروے کرکے تجویز کروں کہ درہ خنجراب (سرحد) کے قریب ترین کس جگہ پر یہ چیک پوسٹ قائم کی جائے اور پھر منظوری کے بعد قائم بھی کروں۔ اس مقصد کے لئے میں دوبار گلگت اور پھر آگے درہ خنجراب تک گیا، لیکن صورت حال یہ تھی کہ درہ خنجراب سے نیچے مِیل ہامِیل تک نہ کوئی بندہ بشر نظر آتا تھااورنہ سڑک کے کنارے کوئی آبادی کہ جس کے قریب چیک پوسٹ قائم کی جاسکے کہ جہاں چیک پوسٹ کے ملازمین کو رہنے سہنے اور کھانے پینے کی سہولتیں میسر آسکیں۔ بہرحال میں نے پورے علاقہ کا سروے کیا اور بالآخر درہ خنجراب ،جو کہ ساڑھے پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور شاہراہ ریشم کا بلند ترین مقام ہے اورجسے دُنیاکی چھت بھی کہتے ہیں اورجہاں سے پاکستان اور چین دونوں طرف اُترائی شروع ہوجاتی ہے، سے بیس پچیس کلومیٹر نیچے جہاں اُترائی کے پیچ وخَم کے بعد قدرے ہموار زمین شروع ہوتی ہے چند گھروں پر مشتمل ایک چھوٹے سے گاؤں سوست (Sust)کو امیگریشن کی چیک پوسٹ کے لئے منتخب کرلیا۔ اس وقت وہاں اِ س پوسٹ کو قائم کرنے کے لئے کوئی کمرہ یامکان سڑک کے کنارے دستیاب نہ تھا، چنانچہ فیصلہ کیاگیاکہ جب تک پختہ دفتر تعمیر نہیں ہوتا یہ چیک پوسٹ خیموں میں قائم کی جائے گی۔ امیگریشن کی چیک پوسٹ کے ساتھ ہی کسٹمز والوں کی بھی چیک پوسٹ قائم ہوناتھی۔ اس کے بارے میں بھی یہی فیصلہ ہوا۔ میں واپس آیا۔ اور پھر اس چیک پوسٹ کے لئے تمام سازوسامان اور سٹاف راولپنڈی سے بھجوایا گیا اور غالباً مئی 1986ء میں اس چیک پوسٹ نے سڑک کے کنارے لگائے گئے دو خیموں میں اپنا کام شروع کردیا۔2002ء میں میرا اس علاقے میں دوبارہ جانے کا اتفاق ہوا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں اب ایک پورا شہر آباد تھا ۔ 

ایف آئی اے ،کسٹمز ، پولیس اور کئی دوسرے سرکاری اداروں کے باقاعدہ پختہ دفاتر، ریسٹ ہاؤسز، بینک، ہوٹل، ریسٹورنٹ، نجی دفاتر و ادارے ،ہر قسم کے ملکی اور غیر ملکی سامان سے لدے پڑے بازار اور بے شمار گھر۔ میری اس پوسٹنگ کے دنوں میں افغانستان میں روس کی پروردہ حکومتوں کے خلاف مجاہدین کی مزاحمت شروع ہو چکی تھی۔بارڈر کھلے پڑے تھے،مجاہدین بلا روک وٹوک اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر آ جا رہے تھے اور افغانستان کی اِس خانہ جنگی کی کیفیت میں افغان مہاجرین کثرت سے پاکستان کا رُخ کررہے تھے۔ زیادہ تر تو قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں ہی کیمپوں میں رہ رہے تھے، لیکن بے شمار پاکستان بھر کے مختلف شہروں میں بکھر گئے، مختلف کاروبار کرنے لگے، جائیدادیں خرید لیں اور یہیں رہنے بسنے لگے۔ لگتا تھا کہ یہ اب کبھی واپس نہیں جائیں گے، لیکن ابھی عوام الناس میں اس صورتِ حال اور اس کے متوقع اثرات کا زیادہ شعور پیدا نہ ہوا تھا۔مَیں نے اِن دنوں ایک انکوائری رپورٹ لکھتے ہوئے واضح طور پراپنے خدشات کا اظہار کر دیا کہ حالات جس ڈگر پر جارہے ہیں اِسے دیکھ کر لگتاہے کہ جلد پاکستان میں منشیات اور اسلحہ کا طوفان آئے گا اور یہ ایک نئے سماجی اور فوجداری کلچر کو جنم دے گا، اور اس کے جلُو میں روس اور انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کا تانا بانا بُنیں گے۔ یہ بات بعد میں حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی۔
میری تعیناتی کے تقریباً ایک سال بعد میرے ڈائریکٹر جناب خاور زمان بطور انسپکٹر جنرل ترقی یاب ہو کر ایف آئی اے سے رُخصت ہوگئے۔ ان کے جانے کے بعد میں کوئی آٹھ نو ماہ بطور قائم مقام ڈائریکٹر امیگریشن کام کرتارہا۔ اب میرا نیچے پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے امیگریشن ونگ کے ذیلی یونٹوں اور اوپر ڈائریکٹر جنرل سے براہ راست رابطہ رہتاتھا۔ اِس دوران ایک دو ڈی آئی جی صاحبان ایف آئی اے میں نئے تعینات ہوئے ۔ڈی جی صاحب نے اُن کو دوسری خالی جگہوں پر تعینات کردیا، لیکن امیگریشن جیسا اہم ترین وِنگ میرے ہی زیرِ کنٹرول رہنے دیا۔یہ اُن کا مجھ پر اور میرے کام پر اعتماد کا مظہر تھا،جس کا بظاہر اُنہوں نے کبھی اظہار نہ کیا۔ ڈی جی صاحب بظاہر ایک بہت سخت گیر انسان تھے۔ اکثر ڈائریکٹر صاحبان اُ ن کے سامنے جانے اور بات کرنے سے کتراتے تھے، لیکن جب میرا اُن سے براہ راست رابطہ شروع ہواتو میں نے اُنہیں بہت شفیق اور درگذرکرنے والا پایا۔حد درجہ دیانتدار ،بے حد محنتی، بااصول اور اپنے کام کے ماہر۔ ہماری موجودگی میں ہی ریٹائرہوگئے۔اس موقع پر ہم نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ڈی جی صاحب کی ملازمت کا آخری دن تھا۔ تمام افسر اور پورا ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرزاپنے معمول کے مطابق کام کر رہا تھا۔روٹین کی فائلیں ڈی جی صاحب کے پاس جا رہی تھیں اور روٹین کے احکامات لے کر واپس آ رہی تھیں۔ ڈی جی صاحب اس طرح کام کر رہے تھے جیسے ابھی اُنہوں نے مہینوں اور رہنا ہے۔ شام چار بجے کے قریب وہ معمول کے مطابق تنِ تنہا اپنے دفتر سے نکلے ،گاڑی میں بیٹھے اور گھر روانہ ہو گئے۔تمام سٹاف کو منع کردیاگیا تھا کہ کوئی ان کو الوداع کہنے کے لئے باہر نہ آئے۔

ڈائریکٹر صاحبان نے غالباً دن کو ہی اُن کے دفتر میں اُن سے الوداعی ملاقاتیں کرلی تھیں۔ ہم نے اپنے کمروں کی کھڑکیوں سے اُن کو ہر روز کی طرح اپنے دفتر سے نکلتے اور گاڑی میں بیٹھ کر جاتے دیکھا۔ معمول کے مطابق پندرہ منٹ کے بعد گاڑی اُن کو اُن کے گھر چھوڑ کر واپس آ گئی اور پھر کبھی اُن کے پاس واپس نہ گئی۔اُن دنوں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کے پاس گھر اور دفتر کے لئے صرف یہی ایک گاڑی ہوتی تھی۔ سرکاری گھر بھی وہ ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل ہی چھوڑ کر اپنے نوتعمیر شدہ گھر میں شفٹ ہوچکے تھے۔ ہم چاروں بیچ میٹس کو ایف آئی اے میں کام کرتے تقریباً دو سال ہونے کو تھے۔ جب ہم بجھے دل کے ساتھ ایف آئی اے میں رپورٹ کرنے آئے تھے تو میں سوچا کرتاتھا کہ دیکھیں ہم میں سے کون سب سے پہلے پولیس میں واپس جاتاہے۔ ریاض نعیم ایک بہت سینئر ڈی آئی جی مرزا نعیم الدین کے بیٹے ہیں۔ ہمارے ڈی جی صاحب بطور اے ایس پی جناب مرزا نعیم الدین کے ماتحت کام کرچکے تھے۔ جاوید نور(اب مرحوم) ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جس میں کچھ اعلیٰ فوجی افسران بھی تھے۔ پر ویز اخترایک ایس ایس پی منظور احمد خان کے داماد اور اُن کے چچا سسر جناب مشکور احمد خان اُن دنوں ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تھے ،جبکہ میرے خاندان میں دُور دُور تک نہ کوئی سرکاری ملازم تھا اور نہ کوئی سیاست دان ۔ میں خیال کرتا تھا کہ یہ سب لوگ اپنے اپنے تعلقات اور اثرورسوخ کی بناء پر جلد ایف آئی اے سے نکل جائیں گے، میں اکیلا رہ جاؤں گا ۔تاہم دوسال ہونے کو آئے تھے اور ہم میں سے کوئی بھی اپنی پوری خواہش کے باوجود ایف آئی اے سے نہ نکل سکا۔
پنجا ب میں ہمارے وقتوں کے آئی جی جناب لئیق احمد خان کی جگہ جناب صباح الدین جامی آچکے تھے ،جن کو دیکھنا اور ملنا تو کُجا ہم جیسے جونیئر افسروں نے اُن کا کبھی نام بھی نہ سُنا تھا۔ خود انہوں نے سترہ سال کے بعد پولیس کی وردی دوبارہ پہنی تھی۔سوکسی طرف سے اُمید کی کوئی کرن نظر نہ آتی تھی۔ اِنہی دِنوں ایک روز میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایکسچینج کے آپریٹر نے بزر دے کر کہا ’’سر!آئی جی پنجاب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں‘‘۔مَیں نے حیرت اور بے یقینی کی ملی جلی کیفیت میں پوچھا ’’آئی جی پنجاب ؟‘‘ اس نے کہا،جی ہاں، آئی جی پنجاب‘‘۔ مَیں نے پھر پوچھا ’’مجھ سے ،یعنی الطاف قمر سے؟‘‘ اُ س نے کہا ’’جی ہاں سر!آپ سے۔ ‘‘ میں گڑ بڑا گیا ۔آئی جی پنجاب نے مجھ سے کیا بات کرنی ہے؟ اگر ایف آئی اے سے متعلق کوئی بات ہے تو وہ ڈی جی یا میرے ڈائریکٹر سے بات کرتے۔بہرحال مَیں نے تُھوک نگلتے ہوئے کہا ’’ملائیں‘‘۔ہمارے آپریٹر نے آئی جی صاحب کے آپریٹر کو لائن دے دی ۔ اُس نے میرا نام کنفرم کرکے لائن آئی جی صاحب کو دے دی۔ ’’ہیلو قمر! کیا حال ہے؟میں جامی بول رہاہوں۔‘‘ میں اضطراری اور اضطرابی کیفیت میں بولا ’’سر! السلام علیکم۔ میں ٹھیک ہوں سر!‘‘بولے ’’ایف آئی اے میں ہی دل لگالیاہے۔ پنجاب نہیں آنا؟‘‘ میرے سر پر حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔مَیں نے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے کہا ’’سر!اس سے زیادہ خوشی کی بات میرے لئے کیا ہو سکتی ہے‘‘۔وہ بولے ’’اچھا! باقی سب ٹھیک ہے ؟‘‘ مَیں نے کہا’’سر! سب ٹھیک ہے۔ اللہ کا شکر ہے‘‘۔ آئی جی صاحب نے فون بندکردیا۔مَیں کتنی ہی دیر شدتِ جذبات سے گُم سُم بیٹھا رہا ۔یہ سب کیا ہوا ؟ حقیقت ہے یا وہم؟ مجھے نارمل ہونے میں کچھ دیر لگی۔ دوچار دن گزرگئے ۔مَیں سوچتا رہا کہ مَیں کس سے پوچھوں کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ آئی جی کے پرسنل سٹاف میں اُن کا پی ایس، پی ایس او ، اور ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز ہوتے ہیں۔ کس سے پوچھوں اور کس طرح پوچھوں! بات تو آپریٹروں کے ذریعے براہِ راست ہوئی تھی! اسی سوچ بچار میں ایک ہفتہ گذر گیا کہ اچانک ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں خبر اُڑی کہ الطاف قمر کے پنجاب کے آرڈر ہوگئے ہیں۔حیرت پر حیرت! ابھی آرڈر کی کاپی کی تلاش میں ہی تھا کہ پتہ چلا کہ حکومتِ پنجاب نے میری تعیناتی بطورایڈیشنل ایس پی(ایس پی سیکورٹی اینڈ ٹریفک) راولپنڈی کردی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کاخاص کرم اور آئی جی صاحب کی خاص مہربانی تھی کہ بیٹھے بٹھائے ذرا سی بھی تگ ودو کے بغیر میری پنجاب پولیس میں واپسی ہوگئی۔ اورپھر پورے دوسال ایف آئی اے میں گزار کر اپنے ساتھیوں کو وہیں حیران وششدر چھوڑ کرمیں نے جولائی 1986ء میں براہ راست راولپنڈی میں ایس پی سیکیورٹی اینڈ ٹریفک کا چارج سنبھال لیا۔

dailypakistan.com.pk

http://dailypakistan.com.pk/E-Paper/Lahore/2017-08-06/page-16/detail-2