Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Tuesday, July 3, 2018

ووٹ کی شرعی حیثیت اور تبدیلی کی خواہش



آج کی دنیا میں اسمبلیوں، کونسلوں، میونسپل وارڈوں اور دوسری مجالس اورجماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے کہ زور و زر اور غنڈا گردی کے سارے طاغوتی وسائل کا استعمال کرکے یہ چند روزہ موہوم اعزازا حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے عالم سوز نتائج ہروقت آنکھوں کے سامنے ہیں اور ملک و ملّت کے ہمدرد و سمجھ دار انسان اپنے مقدور بھر اس کی اصلاح کی فکر میں بھی ہیں،لیکن عام طور پر اس کو ایک ہارجیت کا کھیل اور خالص دنیاوی دھندا سمجھ کر ووٹ لیے اور دیے جاتے ہیں۔ لکھے پڑھے دین دار مسلمانوں کو بھی اس طرف توجہ نہیں ہوتی کہ یہ کھیل صرف ہماری دنیا کے نفع نقصان اور آبادی یا بربادی تک نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے کچھ طاعت و معصیت اور گناہ و ثواب بھی ہے جس کے اثرات اس دنیا کے بعد بھی یا ہمارے گلے کا ہار عذابِ جہنم بنیں گے، یا پھر درجاتِ جنت اور نجاتِ آخرت کا سبب بنیں گے۔

اگرچہ آج کل اس اکھاڑے کے پہلوان اور اس میدان کے مرد، عام طور پر وہی لوگ ہیں جو فکرِآخرت اور خدا و رسولؐ کی طاعت و معصیت سے مطلقاً آزاد ہیں اور اس حالت میں اُن کے سامنے قرآن و حدیث کے احکام پیش کرنا ایک بے معنی و عبث فعل معلوم ہوتا ہے، لیکن اسلام کا ایک یہ بھی معجزہ ہے کہ مسلمانوں کی پوری جماعت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوتی۔ ہر زمانے اور ہرجگہ کچھ لوگ حق پر قائم رہتے ہیں جن کو اپنے ہرکام میں حلال و حرام کی فکر اور خدا اور رسولؐ کی رضاجوئی پیش نظر رہتی ہے۔ نیز قرآن کریم کا یہ بھی ارشاد ہے: وَذَکِّرْ فَاِِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَo(الذّٰریٰت ۵۱:۵۵)، یعنی آپ نصیحت کی بات کہتے رہیں کیونکہ نصیحت مسلمانوں کو نفع دیتی ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ انتخابات میں اُمیدواری اور ووٹ کی شرعی حیثیت اور اُن کی اہمیت کو قرآن و سنت کی رُو سے واضح کردیا جائے۔ شاید کچھ بندگانِ خدا کو تنبیہ ہو اور کسی وقت یہ غلط کھیل صحیح بن جائے۔

 ضرور پڑھیں :  << غیبت، جھوٹ اور بہتان بازی سنگین گناہ>>


اُمیدواری

کسی مجلس کی ممبری کے انتخابات کے لیے جو اُمیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہو وہ گویا پوری ملّت کے سامنے دوچیزوں کا مدعی ہے۔ ایک یہ کہ وہ اس کام کی قابلیت رکھتا ہے جس کا اُمیدوار ہے، دوسرے یہ کہ وہ دیانت و امانت داری سے اس کام کو انجام دے گا۔ اب اگر واقعی میں وہ اپنے اس دعوے میں سچا ہے، یعنی قابلیت بھی رکھتا ہے اور امانت و دیانت کے ساتھ قوم کی خدمت کے جذبے سے اس میدان میں آیا تو اس کا یہ عمل کسی حد تک درست ہے، اور بہتر طریق اس کا یہ ہے کہ کوئی شخص خود مدعی بن کر کھڑا نہ ہو بلکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت اس کو اس کام کا اہل سمجھ کر نام زد کردے اور جس شخص میں اس کام کی صلاحیت ہی نہیں، وہ اگر اُمیدوار ہوکر کھڑا ہو تو قوم کا غدار اور خائن ہے۔ اس کا ممبری میں کامیاب ہونا ملک و ملّت کے لیے خرابی کا سبب تو بعد میں بنے گا، پہلے تو وہ خود غدار و خیانت کا مجرم ہوکر عذابِ جہنم کا مستحق بن جائے گا۔ اب ہر وہ شخص جو کسی مجلس کی ممبری کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اگر اس کو کچھ آخرت کی بھی فکر ہے تو اس میدان میں آنے سے پہلے خود اپنا جائزہ لے لے اور یہ سمجھ لے کہ اس ممبری سے پہلے تو اس کی ذمہ داری صرف اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال ہی تک محدود تھی کیونکہ بہ نصِ حدیث ہرشخص اپنے اہل و عیال کا ذمہ دار ہے اور اب کسی مجلس کی ممبری کے بعد جتنی خلقِ خدا کا تعلق اس مجلس سے وابستہ ہے، اُن سب کی ذمہ داری کا بوجھ اُس کی گردن پر آتا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں اس ذمہ داری کا مسؤل اور جواب دہ ہے۔

ووٹ اور ووٹر

کسی اُمیدوار ممبری کو ووٹ دینے کی ازروے قرآن و حدیث چند حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت شہادت کی ہے کہ ووٹر جس شخص کو اپنا ووٹ دے رہا ہے، اس کے متعلق اس کی شہادت دے رہا ہے کہ یہ شخص اس کام کی قابلیت بھی رکھتا ہے اور دیانت اور امانت بھی۔ اور اگر واقعی میں اس شخص کے اندر یہ صفات نہیں ہیں اور ووٹر یہ جانتے ہوئے اس کو ووٹ دیتا ہے تو وہ ایک جھوٹی شہادت ہے جو سخت کبیرہ گناہ اور وبالِ دنیا و آخرت ہے۔ بخاری کی حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادتِ کاذبہ کو شرک کے ساتھ کبائر میں شمار فرمایا ہے (مشکٰوۃ)۔ اور ایک دوسری حدیث میں جھوٹی شہادت کو اکبر کبائر فرمایا ہے (بخاری و مسلم) ۔ جس حلقے میں چند اُمیدوارکھڑے ہوں اور ووٹر کو یہ معلوم ہے کہ قابلیت اور دیانت کے اعتبار سے فلاں آدمی قابلِ ترجیح ہے تو اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو ووٹ دینا اس اکبر کبائر میں اپنے آپ کو مبتلا کرنا ہے۔ اب ووٹ دینے والا اپنی آخرت اور انجام کو دیکھ کر ووٹ دے محض رسمی مروت یا کسی طمع و خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو اس وبال میں مبتلا نہ کرے۔
دوسری حیثیت ووٹ کی شفاعت، یعنی سفارش کی ہے کہ ووٹر اس کی نمایندگی کی سفارش کرتا ہے۔ اس سفارش کے بارے میں قرآن کریم کا یہ ارشاد ہرووٹر کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے:
Related image

 مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنْ لَّہٗ نَصِیْبٌ مِّنْھَا وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّءَۃً یَّکُنْ لَّہٗ کِفْلٌ مِّنْھَا (النساء ۴:۸۵)

یعنی (جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے اُس میں اس کو بھی حصہ ملتا ہے اور بُری سفارش کرتا ہے تو اُس کی بُرائی میں اُس کا بھی حصہ لگتا ہے)۔

اچھی سفارش یہی ہے کہ قابل اور دیانت دار آدمی کی سفارش کرے جو خلقِ خدا کے حقوق صحیح طور پر ادا کرے، اور بُری سفارش یہ ہے کہ نااہل، نالائق، فاسق و ظالم کی سفارش کر کے اُس کو خلقِ خدا پر مسلط کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے ووٹوں سے کامیاب ہونے والا اُمیدوار اپنے پنج سالہ دور میں جو نیک یا بدعمل کرے گا ہم بھی اس کے شریک سمجھے جائیں گے۔

ووٹ کی ایک تیسری حیثیت وکالت کی ہے کہ ووٹ دینے والا اس اُمیدوار کو اپنا نمایندہ اور وکیل بناتا ہے لیکن اگر یہ وکالت اس کے کسی شخصی حق کے متعلق ہوتی اور اس کا نفع نقصان صرف اس کی ذات کو پہنچتا تو اُس کا یہ خود ذمہ دار ہوتا مگر یہاں ایسا نہیں کیونکہ یہ وکالت ایسے حقوق کے متعلق ہے جن میں اُس کے ساتھ پوری قوم شریک ہے۔ اس لیے اگر کسی نااہل کو اپنی نمایندگی کے لیے ووٹ دے کر کامیاب بنایا تو پوری قوم کے حقوق کو پامال کرنے کا گناہ بھی اس کی گردن پر رہا۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے: ایک شہادت، دوسرے سفارش، تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت۔ تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجبِ ثوابِ عظیم ہے اور اُس کے ثمرات اُس کو ملنے والے ہیں، اسی طرح نااہل یا غیرمتدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بُری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی اور اس کے تباہ کن اثرات بھی اُس کے نامۂ اعمال میں لکھے جائیں گے۔

ضروری تنبیہ

مذکور الصدر بیان میں جس طرح قرآن و سنت کی رُو سے یہ واضح ہوا کہ نااہل، ظالم، فاسق اور غلط آدمی کو ووٹ دینا گناہِ عظیم ہے، اسی طرح ایک اچھے، نیک اور قابل آدمی کو ووٹ دینا ثوابِ عظیم ہے بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے۔

 قرآن کریم نے جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح سچی شہادت کو واجب و لازم بھی فرما دیا ہے۔ ارشاد باری ہے:

قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآءَ بِالْقِسْطِ (المائدہ ۵:۸)
 اور دوسری جگہ ارشاد ہے:
کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ (النساء ۴:۱۳۵)

ان دونوں آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا ہے کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کے لیے ادایگیِ شہادت کے واسطے کھڑے ہوجائیں۔ تیسری جگہ سورۂ طلاق (۶۵:۱) میں ارشاد ہے: 

وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ، یعنی اللہ کے لیے سچی شہادت کو قائم کرو۔ 

ایک آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے۔ ارشاد ہے:

 وَ لَا تَکْتُمُوا الشَّھَادَۃَ ط وَمَنْ یَّکْتُمْھَا فَاِنَّہٗٓ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ ط (البقرہ ۲:۲۸۳)،

 (یعنی شہادت کو نہ چھپاؤ اور جو چھپائے گا اُس کا دل گناہ گار ہے)۔

ان تمام آیات نے مسلمانوں پر یہ فریضہ عائد کردیا ہے کہ سچی گواہی سے جان نہ چرائیں، ضرور ادا کریں۔ آج جو خرابیاں انتخابات میں پیش آرہی ہیں اُن کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نیک اور صالح حضرات عموماً ووٹ دینے ہی سے گریز کرنے لگے جس کا لازمی نتیجہ وہ ہوا جو مشاہدے میں آرہا ہے کہ ووٹ عموماً اُن لوگوں کے آتے ہیں جو چند ٹکوں میں خرید لیے جاتے ہیں اور اُن لوگوں کے ووٹوں سے جو نمایندے پوری قوم پر مسلط ہوتے ہیں، وہ ظاہر ہے کہ کس قماش اور کس کردار کے لوگ ہوں گے۔ اس لیے جس حلقے میں کوئی بھی اُمیدوار قابل اور نیک معلوم ہو، اُسے ووٹ دینے سے گریز کرنا بھی شرعی جرم اور پوری قوم و ملّت پر ظلم کے مترادف ہے، اور اگر کسی حلقے میں کوئی بھی اُمیدوار صحیح معنی میں قابل اور دیانت دار نہ معلوم ہو مگر ان میں سے کوئی ایک صلاحیتِ کار اور خداترسی کے اصول پر دوسروں کی نسبت سے غنیمت ہو تو تقلیلِ شر اور تقلیلِ ظلم کی نیت سے اس کو بھی ووٹ دے دینا جائز بلکہ مستحسن ہے، جیساکہ نجاست کے پورے ازالے پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں تقلیلِ نجاست کو اور پورے ظلم کو دفع کرنے کا اختیار نہ ہونے کی صورت میں تقلیلِ ظلم کو فقہا رحمہم اللہ نے تجویز فرمایا ہے۔ واللّٰہ 
سبحانہ وتعالٰی اعلم۔

خلاصہ یہ ہے کہ انتخابات میں ووٹ کی شرعی حیثیت کم از کم ایک شہادت کی ہے جس کا چھپانا بھی حرام ہے اور اس میں جھوٹ بولنا بھی حرام، اس پر کوئی معاوضہ لینا بھی حرام، اس میں محض ایک سیاسی ہار جیت اور دنیا کا کھیل سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے۔

 آپ جس اُمیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، شرعاً آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریے اور علم و عمل اور دیانت داری کی رُو سے اس کام کا اہل اور دوسرے اُمیدواروں سے بہتر ہے جس کام کے لیے یہ انتخابات ہورہے ہیں۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیں تو اس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں:

۱۔ آپ کے ووٹ اور شہادت کے ذریعے جو نمایندہ کسی اسمبلی میں پہنچے گا، وہ اس سلسلے میں جتنے اچھے یا بُرے اقدامات کرے گا اُن کی ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوگی۔ آپ بھی اس کے ثواب یا عذاب میں شریک ہوں گے۔

۲۔ اس معاملے میں یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ شخصی معاملات میں کوئی غلطی بھی ہوجائے تو اس کا اثر بھی شخصی اور محدود ہوتا ہے، ثواب و عذاب بھی محدود۔قومی اور ملکی معاملات سے پوری قوم متاثر ہوتی ہے، اس کا ادنیٰ نقصان بھی بعض اوقات پوری قوم کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے، اس لیے اس کا ثواب و عذاب بھی بہت بڑا ہے۔

۳۔ سچی شہادت کا چھپانا ازروے قرآن حرام ہے۔ آپ کے حلقۂ انتخاب میں اگر کوئی صحیح نظریے کا حامل و دیانت دار نمایندہ کھڑا ہے تو اس کو ووٹ دینے میں کوتاہی کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔

۴۔ جو اُمیدوار نظامِ اسلامی کے خلاف کوئی نظریہ رکھتا ہے، اس کو ووٹ دینا ایک جھوٹی شہادت ہے جو گناہِ کبیرہ ہے۔

۵۔ ووٹ کو پیسوں کے معاوضے میں دینا بدترین قسم کی رشوت ہے اور چند ٹکوں کی خاطر اسلام اور ملک سے بغاوت ہے۔ دوسروں کی دنیا سنوارنے کے لیے اپنا دین قربان کردینا کتنے ہی مال و دولت کے بدلے میں ہو، کوئی دانش مندی نہیں ہوسکتی۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا ہے کہ ’’وہ شخص سب سے زیادہ خسارے میں ہے جو دوسرے کی دنیا کے لیے اپنا دین کھو بیٹھے‘‘۔
(محمد شفیع ؒ)

براے مھربانی اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بھیجیں یہ آپ کی اخلاقی قومی اورمذہبی ذمہ داری ہے 
Source: http://tarjumanulquran.org/site/publication_detail/374  

* * * * * * * * * * * * * * * * * * *

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کیا آپ پاکستان کے حالات سے پریشان ہیں؟ اپنے پیارے وطن کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں؟ آیے مل کر کچھ کریں 
مزید پڑھیں:
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل


----------------------------------

Monday, May 7, 2018

https://ftc.co/resource-library/blog-entries/what-the-word-of-god-says-about-the-word-of-god-book-by-book

Tuesday, April 24, 2018

قرآن کا تعارف قرآن سے Quran introduced by Quran


قرآن کا بہترین تعارف قرآن خود کراتا ہے :
قرآن کے متعلق الله نے واضح  کر دیا کہ :
Quran Introduces Quran [Keep reading .......]
  1.  قرآن مجید رب العالمین کا نازل کردہ کلام حق ہے (آل عمران 3:60)
  2. قرآن سے ملنے والا علم وہ حق ہے جس کے مقابلے میں ظن و گمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم 53:28)
  3. قرآن مجید کلام الٰہی ہے اور اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرہ 2:2)
  4. اس کلام کو اللہ نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا۔(الحجر15:9)
  5. قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے (الکہف 18:1,2)
  6. قرآن کو واضح عربی کتاب کہا گیا کہ لوگ سمجھ سکیں (یوسف18:1,2)۔
  7.  باطل نہ اس کلام کے آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (الفصلت 41:42)
  8. یہ کتاب میزان ہے۔ یعنی وہ ترازو ہے جس میں رکھ کر ہر دوسری چیز کی قدر وقیمت طے کی جائے گی۔ (الشوریٰ42:17)
  9. یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)
  10.  تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔ (المائدہ5:48)
  11. قرآن کریم  لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ2:213)
  12. یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے۔ (الفرقان25:30)

آیاتِ” محکمات” اور “متشابہات”:
قرآن و سنت اسلام کی بنیاد ہے- قرآن پر عمل سے ہی صحیح اسلام ممکن ہے اور فرقہ واریت کا سد باب کیا جاسکتا ہے- قرآن کی ہر آیات اہم ، قابل غور و فکر و عمل ہے- قرآن سے دوری کی شکایت رسول الله بروز قیامت کریں گے :
وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا ﴿٧٣ الفرقان﴾
اور جب انہیں ان کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ بہرے اور اندھے ہوکر ان پر گر نہیں پڑتے (بلکہ ان میں غور و فکر کرتے ہیں)۔ (25:73الفرقان)
قرآن کو درست طریقه سے سمجھنے کے لیے آیاتِ” محکمات” اور “متشابہات” کے فرق کو مکمل طور پر سمجھنا بہت ضروری ہے- اس میں غلطی گمراہی کا راستہ کھول دیتی ہے اور اس کی سمجھ صراط مستقیم پر ڈال دیتی ہے-
هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِيْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ ( قرآن 3:7 )
اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں: ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دُوسری متشابہات۔ جن لوگوں کو دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور اُن کو معنی پہنانے کی کو شش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخلا ف اِ س کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”ہمارا  اُن پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں” ( قرآن 3:7 )


   
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
SalaamOneسلام  is a nonprofit e-Forum to promote peace among humanity, through understanding and tolerance of religions, cultures & other human values. The collection is available in the form of e-Books. articles, magazines, videos, posts at social media, blogs & video channels. .Explore the site English and Urdu sections at Index
علم اور افہام و تفہیم کے لئے ایک غیر منافع بخش ای فورم ہے. علم،انسانیت، مذہب، سائنس، سماج، ثقافت، اخلاقیات اورروحانیت امن کے لئے.اس فورم کو آفتاب خان،  آزاد محقق اور مصنف نے منظم کیا ہے. تحقیقی کام بلاگز، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیو چننل اور برقی کتابوں کی صورت میں دستیاب ہے.اس  نیٹ ورک  کو اب تک لاکھوں افراد وزٹ کر چکے ہیں, مزید تفصیلات>>>  Page Index - Salaam One 
 ..........................................................................

Saturday, April 14, 2018

" صدق اور امین" قرآن و سنت ، اور آئین پاکستان


اسلامی جمہوریہ پاکستان کےآئین کے مطابق کوئی  بددیانت شخص جو "صادق اور امین" نہیں پارلیمنٹ کا ممبر بننے کا اہل نہیں- یہ شق اسلامی تعلیمات اور قران  کے عیین مطابق ہے- آئین پاکستان کے مطابق کوئی قانون قرآن و سنت کے برخلاف نہیں بنایا جا سکتا-
اب جبکہ سپریم کورٹ نے کچھ طاقتور سیاست دانوں کو اس بنیاد اہل قرار دیا ہے تو مخصوص طریقہ سے سرکاری علماء، نام نہاد دانشوروں اورصحافیوں کے زریعہ سے  میڈیا میں ایک کمپین چلایا جا رہا ہے، جس کا بیانیہ ہے کہ:

بیانیہ :

" صدق اور امین" کی خصوصیات صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات تک محدود تھیں، کوئی شخص رسول اللہﷺ کی طرح  نہیں سکتا ،" صادق اور امین" صرف رسول اللہ ﷺ کی شان ہے…عام مسلمان اور سیاست دان کیسے رسول اللہ کا مقابلہ کر سکتا ہے ... وغیرہ وغیرہ.. لہٰذا اس شق کو آئین پاکستان سے نکال دیا جائے!"
معلوم ہوا ہے کہ جلد ہی ایک آئینی ترمیم لائی جا رہی ہے، جس کوتمام سیاسی پارٹیاں  اکثریت سے منظور کر لیں گی، کیونکہ اشرافیہ کی اکثریت بد دیانت خائین لوگوں پر مشتمل ہے-
یہ ایک قبیح اور دھوکہ پر مبنی بیانیہ اور کوشش ہے جو قرآن و سنت پر عمل درآمد کو روکنے کی سازش ہے- کچھ سادہ لوگ لاعلمی میں اس دھوکہ کا شکار رہے ہیں، حقائق پیش خدمت ہیں:

تجزیہ :

چند بنیادی سولات کے جوابات شکوک و شبھات دور کر دیں گے:
1. کیا " صدق اور امین" کی خصوصیات صرف رسول اللہ کی ذات تک محدود تھیں ؟
2.کیا " صدق اور امین" کی خصوصیات ایک عام انسان ، مسلمان اور مومن میں نہیں ہونا چاہیئں ؟
3." صدق اور امین" کے متلعق حکمرانوں اور مسلمانوں کے لیتے قرآن کے  احکام ہیں؟
4.کیا مسلمانوں کو اللہ کے حکم کے مطابق رسول الله کا اتباع نہیں کرنا چاہئیے؟

پڑھتے جایئں >>>>> http://salaamone.com/sadiq-ameen/
   
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
SalaamOneسلام  is a nonprofit e-Forum to promote peace among humanity, through understanding and tolerance of religions, cultures & other human values. The collection is available in the form of e-Books. articles, magazines, videos, posts at social media, blogs & video channels. .Explore the site English and Urdu sections at Index
علم اور افہام و تفہیم کے لئے ایک غیر منافع بخش ای فورم ہے. علم،انسانیت، مذہب، سائنس، سماج، ثقافت، اخلاقیات اورروحانیت امن کے لئے.اس فورم کو آفتاب خان،  آزاد محقق اور مصنف نے منظم کیا ہے. تحقیقی کام بلاگز، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیو چننل اور برقی کتابوں کی صورت میں دستیاب ہے.اس  نیٹ ورک  کو اب تک لاکھوں افراد وزٹ کر چکے ہیں, مزید تفصیلات>>>  Page Index - Salaam One 
 ..........................................................................
 مزید پڑھیں: 
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس <<< لنک پر پڑھیں>>
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل

  3. خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید Reconstruction of Religious Thought in Islam-  http://goo.gl/lqxYuw
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *

Monday, April 9, 2018

صرف مسلمان Muslim Only

   

مسلمانوں میں فرقہ واریت کی لعنت کو اگرفوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا ، توابتدا میں قرآن کے حکم کے مطابق  صرف ایک درست عمل کی شروعات سے شدت اور منفی رجحانات کو کم کرکہ فرقہ واریت کے خاتمہ کے سفر کا آغاز کے آجاسکتا ہے:

هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  (سورة الحج22:78)

اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم" رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ . (سورة الحج22:78)



1.ہرایک فقہ اور فرقہ کا دعوی ہے کہ وہ قرآن و سنت پر پر عمل پیرا ہیں، جس کو دوسرے قبول نہیں کرتے اور وہ خود دعوی دار ہیں کہ وہ حق پرہیں- ہم سب کو معلوم ہے کہ مسلمان کے علاوہ  تمام لیبل اور مذہبی القاب و نام بعد کے زمانہ کی ایجادات ہیں- تو ایک متفقہ نام "مسلمان" پر جو قرآن و سنت و حدیث اور تاریخ سے مسلسل پر ثابت ہے اور اور اب بھی ہماری اصل پہچان ہے، اس نام "مسلمان"  کو مکمل اصل حالت میں بحال کر دیں-

2. تمام مسلمان اپنے اپنے موجودہ فقہ و نظریات پر کاربند رہتے ہوۓ، الله تعالی کے عطا کردہ  ایک نام پر متفق ہو کر اپنے آپ کو صرف اور صرف “مسلمان” کے نام سے پکاریں، کسی اور نام کی جازت نہ  دیں،جو نام الله نے دیا وہ ہر طرح سے مکمل ہے،تعارف، شناخت یا کسی اور حجت کی وجہ سےفرقہ پرستی کو رد کریں- یہ پہلا قدم ہے- مسلمان کو کسی اکسٹرالیبل (extra label) کی ضرورت نہیں- جب کوئی آپ سے قریبی تعلقات یا رشتہ داری قائم کرنا چاہتا ہو تو تفصیلات معلوم کی جاسکتی ہیں- اپنی مساجد، مدارس، گھروں اور اپنے ناموں کے ساتھ فرقہ وارانہ القاب لگانے سے مکمل اجتناب کریں- نفس کہتا ہے مشکل ہے، مگر اللہ کا حکم بھی ہے، فرمانبردار (مسلم) بن کر اس آزمائش سے گزریں، الله پرتوکل کریں-

3. یہ اقدام اسلام کے ابتدائی دور ، رسول الله ﷺ اور صحابہ اکرام کے زمانہ کے مطابق ہو گا، جس کی خواہش ہر مسلمان دل میں رکھتا ہے- الله اور رسولﷺ یقینی  طور پر آپ سے بہت خوش ہوں گے- اس احسن روایت، سنت کے دوبارہ اجرا پر الله ہم پر رحمتوں اور برکات کی بارش فرمایے گا- اس نیک عمل سے آپ دین و دنیا میں کامیابی کے راستے پر چل پڑیں گے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ (ماآنا علیہ واصحابی) یعنی وہ لوگ جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقے پر ہوں گے وہی جنتی ہیں۔ فیصلہ صرف  الله کا اختیار ہے- تہتر فرقوں والی حدیث مبارکہ میں امت مسلمہ کے اندر تفریق و گروہ بندی کی جو پیشن گوئی تھی وہ خبر،محض بطور تنبیہ و نصیحت کے تھی- بدقسمتی سے مسلمانوں کے مختلف فرقوں نے اس حدیث کو اپنے لئے ڈھال بنا لیا ہے اور (ماآنا علیہ واصحابی) کی کسوٹی سے صرف نظر کرتے ہیں اور ہر ایک گروہ اپنے آپ کو ناجی فرقہ کہتا ہے اور اپنے علاوہ دیگر تمام مکاتب فکر کو ضال و مضل اور بہتر (٧٢) فرقوں میں شمار کرتا ہے- حدیث سے یہ بھی پتا چلا کہ ان تمام گمراہ فرقوں کا شمار بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت میں کیا ہے وہ جہنم میں تو جائیں گے، مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، سزا کاٹ کر اس سے نجات پا جائیں گے (٧٣) واں فرقہ ہی اول وہلہ میں ناجی ہوگا کیونکہ یہی سنت پر ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔

4.کسی صورت میں کوئی گروہ دوسرے مسلمانوں کی تکفیر نہ کریں،یہ پلٹ کر تکفیر کرنے والے پر پڑتی ہے(مفھوم) [ابی داوود ٤٦٨٧] ہر حال میں اس شدت پسندی سے بچنا ہے- جنت ، جہنم کا فیصلہ صرف الله کا اختیار ہے- ہم کو اچھے اعمال میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرناہے-

5. تمام فقہ اور فرقوں کے علماء پر مشتمل ایک فورم تشکیل دیا جا ئے جہاں مسقل بنیاد پر پرکم از کم مشترکہ متفقہ اسلامی نظریات کو یکجا کے جا سکے[ Minimum Common Points of Agreement]. غیر اسلامی رسوم و رواج کو بتدریج  معاشرہ سے پاک کیا جائے- علماء کی جدید طریقه تعلیم اور ٹیکنولوجی سے مناسب تعلیم و تربیت اور معاشی سٹرکچر سرکاری طور پر نافذ کیا جاے- یہ تمام کام حکومت اور علماء کے تعاون سے سرانجام پا سکتے ہیں-

ایک کتاب یا ڈسکشن سیشن سےصدیوں پر محیط مائینڈ سیٹ کو تبدیل تو نہیں کیا جاسکتا مگر اہل عقل کے لیے غور فکر کےدروازے کھل سکتے ہیں ....

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الَّذِينَ كَفَرُوا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿ لأنفال: ٥٥﴾
یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں(9:55)

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ﴿٢٨﴾

"اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بڑا بخشنے واﻻ ہے" (35:28)

"ملسمون" یا "مسلمین" کا اردو، ترجمہ "مسلمان" ہے. اس کے علاوہ اور نام جو اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں مسلمانوں  لیئے جو نام پسند فرمائے ہیں ان میں"یٰایھا الذین اٰمنوا" یعنی اے ایمان والو. واحد کے لیئے "مؤمن" جمع کے لیئے مؤمنون یا مؤمنین اور صفاتی القاب-  موجودہ مشہورمسلمان گروہوں اور فرقوں کے نام جو منہج کے نام پر بزرگ فقیہ وامام ، شہر ، یا کتاب سے منسوب ہیں قرآن و سنت سے ثابت نہیں، بلکہ قرآن کی روح کے خلاف ہیں- اس کا قرآن و سنت کی روشنی میں تحقیقی جائزہ لیا جا رہا ہے-
دین و مذھب کے نام کی اہمیت: 
 کچھ کوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نام سے کیا فرق پڑتا ہے اصل دین تو ایمان اور عمل کا نام ہے- بظاھر تو بات معقول لگتی ہے، آینے اس کا جائزہ لیتے ہیں- اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم  علیہ اسلام کو علم الاسماء  سکھایا ، یعنی ناموں کا علم ۔۔۔۔ نام انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے حضورکرام صلّی اللہ علیہ وسلم نے ایام جاہلیت کے مہمل نام تبدیل کروائے ۔ ترمذی میں ہے کہ  حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم برے ناموں کو بدل کر ان کے عوض اچھے نام رکھ دیا کرتے تھے ۔ (ترمذی111/2)- نام کسی انسان کی زندگی کا وظیفہ ہوتا ہے کیونکہ وہ بار بار پکارا جاتا ہے ۔ اگر آپ اپنے نام کی نسبت  سے کام کرینگے تو آپ کئی گُنا اضافی ملے گا اور اگر آپ کے مخالف چلیں گے توآپ ایک ناکام زندگی گزار کر جائینگے-  اگر دنیا میں مختلف مذاھب کے ناموں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثر مذاھب اپنی  بانی شخصیت کے نام سے منسوب ہیں- بدھ مت، گوتم بدھ کے نام پر، مسیحیت ، عیسایت، حضرت عیسی علیہ السلام، یہودی، یہودا(حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک فرزند) بنی اسرایئل کی نسل  کی شاخ،اسی طرح زرتشت ،بہائی مت، تاؤ مت، کنفیوشس مت وغیرہ- ہندو مت اور جین مت کا بانی کوئی ایک شخص نہیں، ہندومت کے پیروکار اِس کو"سناتن دھرم" (‘لازوال قانون) کہتے ہیں -قدیم ہندومذھب کتاب "ویدا" سے بھی منسوب ہے- لفظ "جین مت" سنسکرت کے ایک لفظ "جِن" سے لیا گیا ہے، جس کے معنی ہے(جذبات،نفس کا) فاتح  - بانی مذہبی شخصیات کے نام پر رواج کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو "محمدی" کہلوانا چاہیئے مگر ایسا نہیں ہوا اگرچہ مغربی مسیحی مستشقرین نے کوسش کی کہ Muhamddans کا نام تقویت پکڑے مگر کامیاب نہ ہو سکے- حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر خود کسی مذھب کے موجد ہوتے تو کسی انسان کے لیے اپنے نام سے بہتر اور کیا نام ہو سکتا ہے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ قرآن الله کی طرف سے نازل وحی ہے جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا نام صرف پانچ مرتبہ آیا- اللہ کا دین اور اس کو قبول کرنے والوں کا نام بھی الله کی طرف سے رکھا گیا- "اسلام" اور "مسلمان" (عربی : الْمُسْلِمِينَ) کی نسبت اس دین کے خالق سے ہے جس کا ایک صفاتی نام "السلام" ہے-

الله کے نزدیک صرف دین اسلام هے :
" ان الدین عندالله الاسلام " اس لئے تمام ایسے لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کو اپنے اپنے زمانه میں قبول کیا اور احکام الہی کے پابند تھے  وه مسلمان تھے- پہلے کے تمام الہامی ادیان " اسلام" پر تھے، فرق صرف شریعت میں رکھتے هیں- قرآن مجید کی اصطلاح ( الْمُسْلِمِينَ)  میں، "مسلمان"  ہونے کا مطلب ہے کہ الله تعالی  کے فر مان ، اور هر قسم کے شرک سے پاک مکمل توحید کے سامنے مکمل طور پرسر تسلیم خم کرنا هے اور یهی وجه هے که قرآن مجید حضرت ابراھیم علیه السلام کو مسلمان کے نام سے متعارف کر تا هے- قرآن مجید کے مطابق الہامی ادیان کے تمام پیرو کار اپنے زمانه میں مسلمان تھے اور اس طرح عیسائی اور یهودی وغیره نئ وحی کے آنے سے پہلےان کا دین منسوخ نه هو نے تک مسلمان تھے ، کیونکه وه پرور دگار عالم کے حضور تسلیم هوئے تھے- بائبل کی موجودہ کتب میں اب بھی خدا کے احکامات کے آگے سر تسلیم کرنے کی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں:
"اور خدا ہمیں اپنی را ہیں بتا ئے گا،اور ہم اس کے راستو ں پر چلیں گے۔”(‏یسعیاہ 2:‏2)، ”‏اَے میرے خدا!‏ میری خوشی تیری مرضی پوری کرنے میں ہے بلکہ تیری شریعت میرے دل میں ہے۔‏“‏ (‏زبور ۴۰:‏۸‏)‏، ”‏میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اُس کا کام پورا کروں۔‏“‏ (‏یوح ۴:‏۳۴؛‏ ۶:‏۳۸‏)
[“Surrender and obedience to the Will of God” in Bible: Psalm 40:8، 112:1, 148:8,103:20, Jeremiah 31:33, 1 John 2:1-29، 2:17، Matthew 12:50، 26:42، 6:10، John 5:30، 4:34 ، Acts 21:14، Romans 12:2، Hebrews 10:7] 

انھیں جو یهودی یا عیسائی کہا جاتا ہے، وه ان کے پیغمبروں کے ناموں سے لوگوں میں مشہور ہوا وہ نام الله کے عطا کردہ نہیں، مگر قرآن میں ان کا انہی مشھور ناموں سے تذکرہ کیا گیا تاکہ پڑھنے والے کو سمجھنے میں آسانی ہو- آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کے بعد وہ "اسلام " اور"مسلمان" کے اعزاز سے محروم ہو گیے-

اس دور میں"اسلام" کا اطلاق آخری رسول و نبی ، محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی کی آخري الہامي کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے- اب "مسلمان" کا نام(عربی:الْمُسْلِمِينَ) ،خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم  جو قرآن کا عملی نمونہ تھے، کی پیروی کرنے والوں پر لاگو هوتا هے- مسلمان، قرآن اور سنت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عمل کرنے والے کو کہا جاتا ہے-  ، کیونکه انهوں نے دین اسلام کو قبول کر کے اور تمام انبیاء اور آسمانی شریعتوں پر اعتقاد رکھ کر اللہ  کے حضور سر تسلیم خم هو نے کا اعلان کیا هے- حقیقی مسلمان وه هے جو احکام و دستورات الهی کو قول و فعل سے تسلیم کرتا ہو، یعنی زبان سے بھی اللہ کی وحدا نیت اور انبیاء علیهم السلام اور خاتم الانبیاء صلی الله علیه وآله وسلم کی رسالت کا اقرار کر ے اور عمل سے بھی دینی احکام اور دستورات ، من جمله دوسروں کے حقوق کی رعایت کرے جیسے اجتماعی قو انین اورشہادہ، نماز، روزه، زکات، حج وغیره جیسے انفرادی احکام کا پابند هو- قرآن مجید میں حقیقی مسلمان کو مومن کے نام سے بھی یاد کیاگیا هے اور بہت صفاتی ناموں سے بھی مگر "مسلمان" ہونے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، کیوں؟  اسلام میں اتحاد پر بہت زور دیا جاتا ہے، جس طرح نماز میں ایک اللہ کی عبادت ایک سمت (قبلہ) کی طرف منہ کرکہ ادا کی جاتی ہے اسی طرح ایک نام "مسلمان" (عربی:الْمُسْلِمِينَ) بھی اتحاد مسلمین کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے- نام سے فرق پڑتا ہے خاص طور پر جو نام الله تعالی نے خود عطا فرمایا ہو.... مکمل تفصیلات اس برقی کتاب پر پڑہیں... یا وزٹ کریں  ............  http://salaamone.com/muslim


  1. دین و مذھب کے نام کی اہمیت
  2. سلام ، اسلام ، مسلم ، مسلمان 
  3. دین اسلام اور مسلمین
  4. مسلمانوں کے صفاتی نام 
  5. قرآن میں "مسلمان" نام کی تاکید اور حکم (امر) ہے
  6. قرآن کو چھوڑنے والے بدترین علماء
  7. فرقہ واریت 
  8. قرآن ، اسلام اور مسلمان 
  9. قرآن کو 'حدیث' بھی کہا گیا
  10. قرآن کی عظمت، آیات کا منکر اورعذاب 
  11. أطِيعُوا الرَّسُولَ
  12. کلام الله پرایمان  عمل مسلمان پرفرض ہے
  13. قرآن و حدیث کی اہمیت 
  14. اہل حدیث 
  15. کتابت حدیث
  16. اسلام، مسلمان -  دین آیات
  17. قرآن ، اسلام، مسلمان -  دین آیات
  18. قرآن راہ ہدایت
  19. فرقہ واریت کی ممانعت
  20. 73 فرقوں والی حدیث
  21. اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان، مسلمان  فروعی اختلافات خارج نہیں کرتے:
  22. اہل ایمان کی بخشش 
  23. فرقہ واریت کا خاتمہ - پہلا قدم 
  24. گروپ ڈسکشن- صفحہ 36 سے آخر تک
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
SalaamOneسلام  is a nonprofit e-Forum to promote peace among humanity, through understanding and tolerance of religions, cultures & other human values. The collection is available in the form of e-Books. articles, magazines, videos, posts at social media, blogs & video channels. .Explore the site English and Urdu sections at Index
علم اور افہام و تفہیم کے لئے ایک غیر منافع بخش ای فورم ہے. علم،انسانیت، مذہب، سائنس، سماج، ثقافت، اخلاقیات اورروحانیت امن کے لئے.اس فورم کو آفتاب خان،  آزاد محقق اور مصنف نے منظم کیا ہے. تحقیقی کام بلاگز، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیو چننل اور برقی کتابوں کی صورت میں دستیاب ہے.اس  نیٹ ورک  کو اب تک لاکھوں افراد وزٹ کر چکے ہیں, مزید تفصیلات>>>  Page Index - Salaam One 
 ..........................................................................
 مزید پڑھیں: 
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس <<< لنک پر پڑھیں>>
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل

  3. خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید Reconstruction of Religious Thought in Islam-  http://goo.gl/lqxYuw
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~