Posts

Showing posts from July, 2014

What should Pakistani do in present situation?

ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟
ایک اہم سوال جو اکثر جگہوں پر پوچھا بھی جاتا ہے اور بے شمار ڈسکشن فورمز میں بھی زیر بحث آ رہا ہے ، یہ ہے کہ اس افراتفری اور مایوسیوں کے دور میں جب ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہیں،کہیں سے مثبت خبریں نہیں مل رہیں، لیڈرشپ کا فقدان ہے، جس پر بھروسہ کرو، وہی مایوس کرتا ہے، جماعتیں یا تنظیمیں بھی جمود کا شکار ہیں ... ایسی حالت میں ایک فرد کیا کردار ادا کر سکتا ہے ؟ اس سوال کا جواب کھوجنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ ایک خاصا بڑا حلقہ اس تمام صورتحال سے مایوس ہو کر لاتعلق ہوچکا ہے، وہ صرف اپنے ذاتی معاملات پر فوکس کرتے اور اجتماعی منظرنامے سے کٹ چکے ہیں۔ ان سے بات کی جائے تو نہایت مایوسی اور لاتعلقی سے جواب دیتے ہیں،'' یہ سب چور ہیں، کسی کا ساتھ دینے کا فائدہ نہیں‘‘۔ جب استفسار کیا جائے کہ آپ اپنے طور پر کچھ کریں تو لہجے میں کڑواہٹ بھر کر بولیں گے،'' ہمارے پاس اتنا وقت نہیں، ویسے بھی یہاں کچھ نہیں ہونے والا‘‘۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس منفی اور قنوطیت زدہ صورتحال کو دیکھ کر شدت پسندی پر مائل ہوجاتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس بگاڑ کو سنوارنے کا واحد طریقہ ک…

Palestine issue.. Need to change strategy?

مسئلہ فلسطین
میرا مخاطب اسرائیل یا امریکہ نہیں،اردو پڑھنے والے وہ لوگ ہیں جو فلسطینیوں پر روارکھے گئے ظلم پر اداس ہیں۔
آج اہلِ فلسطین کے ساتھ ہمدردی کا تقاضا ہے کہ ان کے قتل ِ عام کو رکوایا جائے۔یہی نہیں، اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے کہ آئندہ ایسے واقعات کم سے کم ہوں۔میرے نزدیک تشدد کی مکمل نفی کے سوا اس کی کوئی صورت نہیں۔بد قسمتی سے پہلے الفتح اور اب حماس جیسی تنظیموں نے تشدد کو بطورحکمتِ عملی اختیار کرکے فلسطینیوں کو زخموں کے سوا کچھ نہیں دیا۔اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں مکمل آزادی تو دور کی بات، اب ادھوری آزادی کا تصور بھی خواب وخیال ہو تا جا رہا ہے۔یاسر عرفات نے بعد از خرابیٔ بسیارتشددکو الوداع کہا۔حماس کوابھی تک تشدد پہ اصرار ہے۔اس لائحہ عمل کی ناکامی نوشتۂ دیوار ہے۔فلسطینیوں کا بہتا لہو،تنہا ایسی دلیل ہے جو اس اندازِ فکر کی غلطی پر شاہد ہے۔آج اہلِ فلسطین کو ایک نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ایسی حکمتِ عملی جو اُن کے جانی و مالی نقصان کو کم کر سکے اور مسئلے کے ایک منصفانہ حل کے لیے ان کی جد وجہد کو زندہ رکھ سکے۔میری اس رائے کی بنیاد چند دلائل پر ہے۔
1۔چند دنوں کے تصادم میں…

35 Punctures.. in Election 2013

Image
News Hour - 14th July 2014by zemtv
PMLN Finally Accepted Of Doing Rigging In...by zemtv انتخابی عمل میں خفیہ سکینڈل کا انکشاف
More details <<Click here>>
سوال یہ ہے کہ 11مئی 2013ء کے انتخابات سے پہلے 28اپریل 2013ء کو گزٹ نوٹی فیکیشن کا اجراء ہونے کے بعد ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسران نے 93حلقوں کی پولنگ سکیم 9یا 10مئی 2013ء کو کیسے تبدیل کر دی‘ جب کہ گزٹ نوٹی فکیشن کے اجراء کے بعد صرف الیکشن کمیشن آف پاکستان ہی تبدیلی کرنے کا مجاز ہے اوروہ سول سوسائٹیاں جو انتخابی عمل کا بغور جائزہ لیتی ہیں ان کی رپورٹ کے مطابق تبدیل شدہ پولنگ سکیم میں ہر حلقے میں 15سے 20ہزار ووٹوں کا فرق واضح نظر آتا ہے۔ 24اکتوبر1990ء کے انتخابات کے انعقاد کے دوران سکھر کے حلقے سے انتخابات میں ناکام امیدواروں نے اس وقت کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین جسٹس نعیم احمد اور ارکان کمیشن جسٹس خلیل الرحمن اور جسٹس امیر الملک مینگل کے پاس عذرداری داخل کی کہ سکھر کے ڈسٹرکٹ سیشن جج رانا بھگوان داس نے پولنگ سٹیشن کی فہرست اور گزٹ نوٹی فیکیشن میں تبدیلی کی تھی۔ اس پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رانا بھگوان داس کو الیکشن کمیشن ا…