Posts

Showing posts from January, 2014

کچھ اس سے زیادہ نہیں اوقات ہماری Dialogue or Danda

ایک شخص کی کسی کے ساتھ لڑائی ہوگئی جس نے مُکا مار کر اس کے دو دانت توڑ دیئے۔ اُس کے ایک دوست کو پتہ چلا تو وہ اظہارِ ہمدردی کے لیے چلا آیا جس پر وہ بولا:
''کوئی لڑائی نہیں‘ صرف تُوتکار ہوئی تھی‘‘۔
''اور یہ تمہارے اگلے دو دانت؟‘‘ دوست نے حیران ہو کر کہا تو اس نے جواب دیا۔
''یہ تو میں نے پہلے ہی نکلوا دینے تھے‘‘۔
کون نہیں جانتا کہ ہم اس وقت دہشت گردوں‘ جنہیں طالبان بھی کہا جاتا ہے‘ کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں لیکن حکومت اگر اسے تُوتکار ہی سمجھتی ہے تو اُسے اپنے شکستہ دانتوں پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہیے اور جس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اس قوم کے ساتھ کبھی سچ نہیں بولا گیا۔ اگرچہ وزیراعظم نے اپنے طویل سوچ بچار کے بعد فریقِ مخالف کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے تو اسے بھی اتمامِ حجّت ہی سمجھنا چاہیے بلکہ مزید اتمامِ حجّت‘ کیونکہ بقول صدر ممنون حسین‘ حکومت حجّت تو پہلے ہی تمام کر چکی ہے۔ اور لطف یہ ہے کہ طالبان نے بھی مذاکرات پر آمادگی کا مظاہرہ کر کے حجّت ہی تمام کی ہے اور حکومت کے نہلے پر دہلا ہی مارا ہے کیونکہ حکومت کی طرح وہ بھی سمجھت…

Hypocrisy or Sharia Rule? منافقت اور شریعہ کا نعرہ

''اسلام اپنے پیروکاروں کوجو بنیادی اصول سکھاتا ہے وہ سچائی اور دیانت داری ہے، لیکن افسوس، آج دنیا بھر میں مسلمانوں کا شمار انتہائی بددیانت افراد میں ہوتا ہے۔ اس ضمن میں کسی سرچ انجن پر جانے کی ضرورت نہیں، اپنے وطن پاکستان کے حالات پر نظر ڈال لیں تو سب کچھ واضح ہوجائے گا‘‘ ایک شخص قتل کا ارتکاب کرتا ہے، اگر قاتل گمنام شخص ہے تو جب مقتول کے مدعی ایف آئی آر درج کراتے ہیں تو وہ اکثر ان افراد کو بطور ملزم نامزد کردیتے ہیں جن سے مقتول کے خاندان کی دشمنی ہوتی ہے۔ ایسا کسی واقعاتی شہادت کے بغیر کیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں مدعی خاندان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص قاتل نہیں۔ جب کوئی شخص کسی کی جائیداد یا زمین کرائے پر حاصل کرتا ہے تو اس پر قبضہ جماکر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ کیس عدالت میں جاتا ہے تو ملزم وہاں مہنگے وکلا کی خدمات حاصل کرتے ہوئے کیس کو لٹکا دیتا ہے۔ ہماری ماتحت عدالتیں بھی جلدی فیصلے سنانا پسند نہیں کرتیں؛ چنانچہ وہ کیس برسوں چلتا رہتا ہے۔ اس دوران وہ شخص زمین پر بدستور قبضہ جمائے بیٹھا رہتا ہے جبکہ اس کا جائزمالک دربدر خوار ہورہاہوتا ہے۔ ایک آدمی اپنی بیوی کوطلاق دیتا ہے لیکن …

Terrorism & Ideology of TTP not Islamic

اللہ کے آخری رسولؐ نے ارشاد فرمایا: اللہ نے عقل کو پیدا کیا تو اس سے کہا کہ چل پھر کے دکھا۔ پھر اس پہ ناز فرمایا اور یہ ارشاد کیا کہ کسی کو جو کچھ بھی دوں گا‘ تیرے طفیل دوں گا اور جو بھی لوں گا‘ تیری وجہ سے لوں گا۔ قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کا بار بار ناچیز حوالہ دیتا ہے: جو ہلاک ہوا‘ وہ دلیل سے ہلاک ہوا‘ جو جیا وہ دلیل سے جیا۔  جانور اور آدمی کا بنیادی فرق کیا ہے؟ عقل و شعور۔ غوروفکر کی استعداد اور علم۔ روزِ ازل فرشتوں نے جب آدمی کو اللہ کا خلیفہ بنانے پر تعجب کیا تو ان کے درمیان ایک مقابلے کا اہتمام کیا گیا۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ آدم علیہ السلام نے تو سوالوں کے جوابات فرفر دیئے۔ فرشتوں نے یہ کہا: تو پاک ہے‘ ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں‘ جو تو نے ہمیں عطا کیا۔  فرد یا قوم‘ تخلیقی اندازِ فکر کے بل پر آدمی آگے بڑھتا ہے۔ روایتی مذہبی طبقے کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ماضی میں زندہ رہتا ہے اور ہیجان کا شکار ہوتا ہے۔ دنیا بدل گئی۔ صنعتی انقلاب اور سائنس نے زندگی کو یکسر تبدیل کردیا۔ ہمارا مذہبی آدمی مگر قبائلی عہد میں جیتا ہے۔ خود دین کو بھی وہ پچھلی دو صدیوں میں جنم لینے والے مکاتبِ فکر کے ذر…

لال مسجد Madaris -Need of reforms : key for Peace & Progress

مدارس کا وجود اس لحاظ سے غنیمت جانیے کہ وہ اپنے طور پر دس پندرہ لاکھ یتیم، غریب اور بے آسرا بچوں کو اپنی چھت تلے پناہ دیتے ہیں۔ انہیں مفت رہائش و خوراک بھی مہیا کرتے ہیں اور مذہبی تعلیم بھی، ورنہ ان میں سے بہت سے بچے کشکول اٹھائے سڑکوں پر گدائی کرتے نظر آئیں اور کچھ چوری، ڈاکے اور دوسرے جرائم میں پس دیوار زنداں ہوں۔ کوئی گلی محلوں میں چرس اور ہیروئین کا زہر بیچ رہا ہو اور کوئی خود نشے کی لت میں گرفتار 'جہاز‘ بنا اڑتا پھرے۔ مگر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ مدارس کی تعلیم کے بعد ایک نوجوان سماج میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟ وہ فقہی اختلافات پر افہام و تفہیم کا راستہ لیتا ہے یا بم و بارود کا؟ مدارس کے فارغ التحصیل نوجوان بحیثیت مجموعی قوم کے پیداواری عمل (Productive Activity) میں اپنا کتنا حصہ ڈالتے ہیں؟ وہ قوم اور سماج کو اپنی محنت سے کتنا فائدہ پہنچاتے ہیں اور علم و ادب کے گیسو کس طرح سنوارتے ہیں؟ ان سے کتنی سائنسی ایجادات سرزد ہوتی ہیں اور وہ ریسرچ کے میدان میں کیا کیا معرکے مارتے ہیں؟
ان معاملات میں مدارس کی تہی دامنی تکلیف دہ حقیقت سے کم نہیں کہ شاید دوچار مدارس کے سوا ان طلبہ کو…

Confusion in negotiations with TTP Terrorists

مذاکرات سے مراد کیا ہے؟ مذاکرات کس لیے؟ اگرچہ یہ سوالات ہنوز جواب طلب ہیں، لیکن ہم اس سے ایک عمومی مفہوم اخذ کر سکتے ہیں۔ طالبان جو کچھ کر رہے ہیں ،ہم متفق ہیں کہ درست نہیںکر رہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس سے باز آ جائیں۔اس کے لیے ہم ان سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور انہیں گفت و شنید سے یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے طرزِ عمل سے رجوع کر لیں۔اگر مطمح نظر یہی تھا تو اس کے کچھ مضمرات تھے۔سب سے پہلے تو ہمیں یہ جانناتھا کہ طالبان کا نظریہ کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ ان کے مطالبات کیا ہیں۔ تیسرا یہ کہ سماج میں ان کے نقطۂ نظر کی کتنی پذیرائی ہے۔ اس کے بعد ہم اس قابل ہوتے کہ ایک متبادل نقطۂ نظر (Alternate Narrative) مرتب کرتے۔ میرے علم میں نہیں ہے کہ حکومت میں کسی بھی سطح پر یہ بحث اس طرح اُٹھائی گئی ہو۔
طالبان کا ایک دینی استدلال ہے۔ مذاکرات کا آغاز ہو نہیں سکتا جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ ان کی تعبیرِ دین درست نہیں۔ یہ کام ظاہر ہے کہ علما اور دینی سکالرز کا تھا۔ حکومت کو سب سے پہلے اہلِ علم کو تلاش کرنا چاہیے تھا جو طالبان کے دینی استدلال کی غلطی واضح کر سکتے۔اس کے بعد ان تک علماء کی معرفت یہ نقطۂ…

مذہبی سیاسی جماعتیں Religious Islamic political parties & Islamic Republic of Pakistan

بالآخر جمعیت علمائے اسلام وفاقی کابینہ تک پہنچ گئی۔کیا اس طرزِ سیاست کا دور دور تک نفاذِ اسلام سے کوئی تعلق ہے؟ مو لا نا فضل الرحمن اقتدار کے دروازے پرایک مدت سے دستک دے رہے تھے۔پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کی کھڑکی کھلی۔مولا نا نے اس پر اکتفا نہیں کیا۔ پھر کشمیر کمیٹی کا دروازہ نما دریچہ واہوا۔اقتدار کے ایوانوں سے آنے والے لطیف جھونکوں سے جمعیت کی فضامزید خوش گوار ہوئی لیکن مو لانا چند کلیوں پہ کہاں قناعت کرنے والے ہیں۔ان کی 'تکبیرِمسلسل‘ سے ان پر وفاقی کابینہ کا 'شاہ در‘ بھی کھل گیا۔میرے نزدیک اس عمل میں کوئی بات ناجائز ہے نہ قابل ِگرفت۔سیاست اقتدار کے لیے ہوتی ہے۔یہ فراست اور بصیرت کا امتحان ہے۔مو لا نا کو یہ فن آتا ہے کہ کس طرح اپنے جثے سے زیادہ حصہ وصول کیا جائے۔اگر دینے والوں کو اعتراض نہیں تو ہمیں کیا اعتراض۔میرا اعتراض مگر ایک اور پہلو سے ہے۔یہ سب کچھ سیاست نہیں، اسلام کے نام پر ہو تا ہے۔اسے مذہب کا سیاسی استعمال کہتے ہیں اور آج اسلام اور ریاست کے لیے اگرکوئی بات سب سے زیادہ نقصان دہ ہے تو یہی ہے۔مو لا نا فضل الرحمن اس کار ِ خیر میں تنہا نہیں۔یہ بدعت اب ہماری سیاست کے…