Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Thursday, January 23, 2014

لال مسجد Madaris -Need of reforms : key for Peace & Progress


مدارس کا وجود اس لحاظ سے غنیمت جانیے کہ وہ اپنے طور پر دس پندرہ لاکھ یتیم، غریب اور بے آسرا بچوں کو اپنی چھت تلے پناہ دیتے ہیں۔ انہیں مفت رہائش و خوراک بھی مہیا کرتے ہیں اور مذہبی تعلیم بھی، ورنہ ان میں سے بہت سے بچے کشکول اٹھائے سڑکوں پر گدائی کرتے نظر آئیں اور کچھ چوری، ڈاکے اور دوسرے جرائم میں پس دیوار زنداں ہوں۔ کوئی گلی محلوں میں چرس اور ہیروئین کا زہر بیچ رہا ہو اور کوئی خود نشے کی لت میں گرفتار 'جہاز‘ بنا اڑتا پھرے۔ مگر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ مدارس کی تعلیم کے بعد ایک نوجوان سماج میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟ وہ فقہی اختلافات پر افہام و تفہیم کا راستہ لیتا ہے یا بم و بارود کا؟ مدارس کے فارغ التحصیل نوجوان بحیثیت مجموعی قوم کے پیداواری عمل (Productive Activity) میں اپنا کتنا حصہ ڈالتے ہیں؟ وہ قوم اور سماج کو اپنی محنت سے کتنا فائدہ پہنچاتے ہیں اور علم و ادب کے گیسو کس طرح سنوارتے ہیں؟ ان سے کتنی سائنسی ایجادات سرزد ہوتی ہیں اور وہ ریسرچ کے میدان میں کیا کیا معرکے مارتے ہیں؟
ان معاملات میں مدارس کی تہی دامنی تکلیف دہ حقیقت سے کم نہیں کہ شاید دوچار مدارس کے سوا ان طلبہ کو کوئی ایسی ٹیکنالوجی یا ہنر نہیں سکھایا جاتا جس کے ذریعے وہ عملی زندگی میں اپنے لیے خود روزی کما سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان مدارس کا کوئی فارغ التحصیل نوجوان نہ تو ہمیں کھیتوں کھلیانوں میں ہل چلاتا نظر آتا ہے اور نہ کسی صنعت، فیکٹری یا ورکشاپ میں مصروف کار دکھائی دیتا ہے۔ جب کوئی مبلغ دین اپنی روٹی کمانے سے ہی لاچار ہو تو وہ سماج کے لیے 'رول ماڈل‘ کیسے بن پائے گا؟ لوگوں کو تو اسوۂ حسنہ پر چلنے کی تلقین کرے مگر خود محنت شاقہ سے جی چرائے۔ آپؐ نے تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں کی مشقت سے اپنے لیے روٹی کمائی جبکہ ہم بچوں کو پڑھارہے ہیں کہ وہ یہی آیات سنا کر روزی کمائیں۔ اسلام میں تھیوکریسی کا کوئی تصور نہیں۔ نہ پنڈت کا اور نہ پادری کا مگر آج ہماری حالت علامہ اقبال کے اس شعر سے کہیں زیادہ خراب تر دکھائی دے رہی ہے؛
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ
ملائیت نے آج تک عورت کے حقوق کی حمایت میں کوئی فتویٰ جاری نہیں کیا۔ کوئی غریب اور بے آسرا عورت اگر دارودوا اور علاج کے بغیر مرتی ہے تو مرتی رہے۔ اگر کسی کو سر پر چھت میسر نہیں تو نہ ہو۔ اگر کوئی مطلقہ عورت سڑکوں پر بھیک مانگتی پھرتی ہے تو شرع کی توہین نہیں ہوتی۔ کسی پر جبر و تشدد ہوتا ہے تو یہ اس کا ذاتی مسئلہ...ہاں البتہ اگر اس نے نیل پالش لگا لی تو نہ اس کا وضو جائز ہے اور نہ نماز۔ اگر اس نے گاڑی چلا لی تو قابل تعزیر ٹھہری۔ کوئی پوچھے ! اگر اس کا گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھنا گرفت کے قابل نہیں تو پھر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ جانے سے کونسا زلزلہ آ جائے گا؟ آخر وہ زمانہ قدیم میں اونٹ اور گھوڑے کی پیٹھ پر بھی تو سوار ہوتی رہی ہو گی۔
طالبان کے پہلے شرعی دور میں علم و ہنر سے بے بہرہ طالبان‘ ڈنڈے ہاتھوں میں لیے افغانستان کے کوچہ و بازار میں گھوما کرتے۔ جس گھر سے ریڈیو یا ٹی وی کی آواز ابھرتی، وہیں گرفت ہو جاتی۔ کسی گاڑی سے کیسٹ پلیئر یا موسیقی کی کیسٹ کا مل جانا ناجائز بم رکھنے سے بھی بڑا جرم تھا۔ طالبانی ٹولیاں سڑکوں پر داڑھی کی پیمائش بھی کرتیں اور عورتوں کے حجاب کو بھی پوری سختی کے ساتھ کنٹرول کیا جاتا۔ کسی عورت کو طالبانی شرع کے مطابق یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ اکیلی ہسپتال تک جا سکے۔ اگر سرراہ کسی کے پائوں کا ناخن بھی نظر آ جاتا تو اس کی ٹانگوں پر قمچیاں ماری جاتیں۔
یہ تب کا ذکر ہے جب لال مسجد کے مولانا غازی انٹیلی جنس کے گھیرے میں تھے۔ میں اُن سے ملنے گیا، اُن سے میری سلام دُعا تھی، میں نے اُن سے کہا کہ اگر دس گیارہ ہزار نوجوانوں کا یہ پرجوش لشکر میرے پاس ہوتا تو میں صرف پانچ سال کے اندر
اندر اس ملک کا نقشہ بدل کر رکھ دیتا۔ میں ان بچیوں سے لائبریری پر قبضہ کروانے کی بجائے انہیں اس لائبریری میں موجود علوم جدیدہ پر مبنی ساری کتب حفظ کروا دیتا۔ ان کے ہاتھ میں لاٹھی کی بجائے قلم کا ہتھیار دیتا۔ کلاشنکوف اور راکٹ لانچر کی بجائے خود بھی جھاڑو اٹھاتا اور انہیں بھی یہی ترغیب دیتا۔ ہم ہفتے میں دو دن غریب بستیوں میں جا کر گندی نالیاں اور کوچے صاف کرتے اور ساتھ ساتھ یہ ورد بھی کرتے جاتے، ''صفائی نصف ایمان ہے۔‘‘ ہم ہفتے میں ایک بار ہسپتالوں کے اندر دارودوا کے لیے ترستے اور بلکتے مریضوں کے پاس جاتے اور تپتی دھوپ میں اُن کے جلتے ورثاء کا دکھ درد بھی بانٹتے۔ جو بچہ سڑک پر بھیک مانگتا نظر آتا، اسے اپنے ہسپتال اور اپنے مکتب میں لے آتے۔ جو روکھی سوکھی خود کھاتے، وہ اسے بھی کھلاتے اور اسے زیورِ تعلیم سے آراستہ کرتے۔ اپاہجوں اور معذوروں کے لیے صدقات جمع کرتے تاکہ ہر چوراہے پر کوئی انہیں بھیک مانگتا ہوا نہ دیکھے۔ ہم فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی بجائے ہر مسلمان، ہر ہندو اور ہر عیسائی کے صحن میں حاضری دیتے۔ اسلام کے نام پر ڈنڈے لہرانے، کف بدہان ہونے کی بجائے سماج کے مفلوک الحال طبقات کی خدمت کرتے۔ نہ سماج پر درے برساتے اور نہ لوگوں پر کفر کے فتوئوں کی چاند ماری کرتے۔
عورتوں کے پائوں دیکھنے کی بجائے ان کو سماجی تحفظ دیتے۔ یہی انسانی فریضہ بھی ہے اور یہی اللہ کا راستہ بھی۔ یہی دین کا طریقہ بھی ہے اور یہی دنیا میں رہنے کا سلیقہ بھی۔
جب تک حکومت ان مدارس کے طلبہ و طالبات کو دین کی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید علوم و فنون سے آراستہ کرنے کی پالیسی نہیں اپنائے گی‘ فتنہ و فساد اور فرقہ واریت کا بازار گرم رہے گا۔
By Raja Anwar:
http://dunya.com.pk/index.php/author/raja-anwar/2014-01-23/5802/47953613#tab2