Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Friday, January 25, 2013

Asma Jahangir: The Interim PM - Choice of Nawaz Sharif

Nawaz Sharif is a man of average intellect who lacks vision. He selected Parvez Musharaf as Army Chief by passing senior Generals who were much batter. This one error cost him and nation dearly. Now he wants Asma Jahangir a highly controversial  secular lady to be next Interim Prime Minister. It appears Nawaz Sharif have not learnt anything from his own follies...
aj
بہت کم لوگ جانتے ہوں گے اور بہت سے جاننے والے بھی شاید بھول چکے ہوں گےکہ 18مئی 1984 کو آقائے نامدار، نبیء آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں سخت بے ادبی کرنے والی گستاخ رسالت خاتون کوئی عیسائی، یہودی یا ہندو کافرہ نہیں بلکہ انجہانی بال ٹھاکرے کی نام نہاد مسلمان داسی عاصمہ جہانگیرتھیں۔ احباب کو یاد دلاتا چلوں کہ اس حیا باختہ و ملعون   خاتون نےمعلم انسانیت اوربعد ازخدا بزرگ ہستی، تاجدارختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر(اس کےمنہ میں خاک) “تعلیم سے نابلد” اور” ان پڑھ” کہہ کرکیا تھا۔ یہ گستاخانہ کلمات امریکی سامراج، تل ابیب مافیہ اور بال ٹھاکرائی ہندوآتہ کی چہیتی عاصمہ جہانگیر نے مغرب رسیدہ، افرنگ زدہ، آوارگیء نسواں کی علمبردارعورتوں کے اسلام آباد میں منعقد کردہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہے تھے۔ اس حوالے سے روزنامہ جسارت کی رپورٹ کے مطابق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
‘خواتین محاذِ عمل اسلا م آباد کے ایک جلسے میں صورتِ حال اس وقت سنگین ہو گئی، جب ایک خاتون مقررعاصمہ جیلانی نے شریعت بل کیخلاف تقریر کرتے ہوئے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غیر محتاط زبان استعمال کی۔ اس پر ایک مقامی وکیل نے احتجاج کیا اورکہا کہ رسولِ خداکے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے۔جس پر دونوں کے درمیان تلخی ہو گئی اور جلسے کی فضا کشیدہ ہو گئی۔عاصمہ جہانگیر نے اپنی تقریر میں “تعلیم سے نابلد” اور” ان پڑھ ” کے الفاظ استعمال کیے تھے۔” (جسارت ،کراچی18مئی 1984ء)
aj2
مسلمز کے قاتل نریندر مودی کے ساتھ
این جی اوز کے کاروبارِ خدمتِ انسانیت کی آڑ میں روشن خیالی کا سیاہ سامراجی لبادہ اوڑھے  عاصمہ جہانگیر جیسے یہ لوگ انساینت کی نام نہاد خدمت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں یا سامراجی آقاؤں کی آلہ کاری کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بدترین دشمن بھارت اور اینٹی اسلام ھندوآتہ لابی کے گماشتے بن کر پاکستان کے سیاسی اور انتظامی اداروں کو تباہ و برباد کرنے کے دجالی مشن پرعمل پیرا ہیں۔ حیف صد حیف کہ ایسے عناصر کو مختاراں مائی جیسے وہ مغرب ساختہ مظلوم کردارنظر تو آتے ہیں جو اسلامی طرزمعاشرت پرعالم دہرکی تنقید اور پاکستانی معاشرے کی تذلیل کیلئے استعمال ہوں لیکن کشمور سے بدین تک سیلاب سے تباہ شدہ بستیوں میں وڈیروں کے ہاتھوں جنسی بربریت کا نشانہ بننے والی معصوم بچیاں نظر نہیں آتیں۔انسانیت اورحب المجبورکی علم بردار اس خاتون کیلئے ملالہ یوسف زئی کے مشکوک دکھوں سے اظہار یکجہتی کیلئے شمعیں جلانا توعین عبادت ہےمگر انسانیت کے قاتل سامراجی بھیڑیوں کے ڈرون حملوں میں مرنے والے معصومین کیلئے آواز اٹھانا کفر و دہشت گردی ہے۔ ملک و قوم کی بدقسمتی ہے کہ تمام اسلام دشمن اور پاکستان مخالف عناصر
aj1
ہنومان کی داسی احمد آباد مندر میں
لابیز کی آلہ کار یہ جوگیاتی محترمہ کبھی بدترین دجالی گروہ فتنہ ء قادیانیت کی سپورٹ کے گھوڑے پر سوار بار کونسل جیسے قانونی اداروں پر قابض ہو کر آزاد عدلیہ کو اپنے اشاروں پر نچانے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہیں اور کبھی اسلام دشمن انجہانی بال ٹھاکرے کی مقدس یاترا اور قدم بوسی کیلئے ہنومانی جوگن کے لباس میں ان کے آستانہ مجوسیہ ممبئی میں جلوہ افروز ہوتی ہیں۔ کچھ حیرت نہیں کہ مسلمان کہلوانے والی یہ لادین ہستی ماتھے پر ہندوآتہ تلک لگائے مہا بھارت اور رامائن کے درس اور گنیش جی کی پوجا پاٹ میں بھی موجود ہوتی ہیں اورہندو رسومات کی ادائیگی بھی عین اسلامی رواداری اور انسان دوستی کا عظیم الشان مظاہرہ سمجھتی ہیں۔ یہی وہ خاتون ہیں جو قائد اعظم کے دیس اسلامی جمہوریہ پاکستان کی معزز شہری اور دانشور بھی ہیں مگر بھارتی ایوانوں میں مہاتمہ گاندھی جی کی تصویر کو پرنام کرتی بھی نظر آتی ہیں۔ اپنے مغربی آقاؤں کے ہر اسلام دشمن مہرے سے ان کی ازلی و ابدی وفا کا یہ عالم کہ احمد آباد گجرات میں بھارتی مسلمانوں کو زندہ جلا دینے والے سفاک قاتل نریندر مودی کو تحائف دینا بھی مہا پن گردانتی ہیں۔ یہ وہ عظیم خاتون ہیں جو بھارتی حکومت کو سکھوں کی لسٹیں فراہم کرنے والے ننگ آدم اعتزاز احسن کی طرح عدلیہ بحالی تحریک میں قومی دولت لوٹنے والوں کے احتساب کا نعرہ لگانے والوں میں بھی سب سے آگے ہوتی ہیں اور پھر قومی دولت لوٹنے والوں کی ہی کھلی حمایت میں آزاد عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی میں بھی جدھردیکھیے یہی نظر آتی ہیں۔ اوجِ منافقت یہ کہ زرداری حکومتی کرپشن کے خلاف مظاہروں میں کرپشن مردہ باد کے نعرے بھی یہی لگاتیں ہیں  اور جناب راجہ رینٹل کی مصدقہ کرپشن کے خلاف سپریم کورٹ کے انصاف پر سب سے بڑھ کر سیخ پا بھی یہی نظرآتی ہیں۔ کمال حسن کارکردگی کہیے یا بدترین منافقت کہ یہی خاتون
aj3
روحانی پیشوا مہاتما گاندھی کو پرنام
امریکی سامراج کے خلاف نعرہ بھی لگا رہی ہوتی ہیں اور پھر اسی سامراج کے اشارے پردین اور دھرتی سےغداری کرنے والے امریکی ایجنٹ ڈاکٹرشکیل آفریدی کو بچانے کیلئے بھی میدان میں کود پڑتی ہیں۔۔۔۔۔ لیکن ہاں! ہرمیڈیا گروپ، ہر نیوز چینل اور پر ایک اینکر ہرایشو پرانکی”معتبر”رائےلینا اشدضروری اورسچی صحافت جانتا ہے، کرپشن کنگ زدراری ٹولہ ہو یا نون لیگ کے جمہوریت بردارسیاست دان، سونامی طوفان کےبازیگر ہوں یا مذہبی جماعتوں کے مومنین، کسی کو اس ننگ دین فتن کے خلاف بولنے کی جرات نہیں ہوتی۔ اکثر ٹاک شوز میں ان کے سیکولر اور کسی بھی پاکستانی کے تن من میں آگ لگا دینے والے نظریات کے جواب میں سیاسی و مذہبی کرداروں کی زبان سےعام طور پر صرف “میں عاصمہ صاحبہ کی بیحد عزت و احترام کرتا ہوں” جیسے روائتی الفاظ سن کر احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں سیاہ ست صرف منافقت کا نام ہے۔ سو سوائے لعنت اللہ علی الکاذبین والمنافقین اورکیا کہا جا سکتا ہے کہ۔۔۔ یہی ہے پیارا پاکستان ۔۔۔۔ منافقت زندہ باد۔۔۔ کفر دوستی زندہ باد۔۔۔ امن کی آشا زندہ باد۔۔ غریب عوام مردہ باد۔۔۔۔۔۔۔ دعا ہے کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر کبھی بھی اپنے پیر بھائی سلمان تاثیر کی طرح روشن خیالوں کی نام نہاد”شہید” نہ بن پائیں لیکن ہاں فوزیہ وہاب جیسے دوسرے گستاخین قرآن و رسالت جیسا پراسرار انجام کون جانے کسے ملے۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر۔
aj4
بھگوان رام کی داسی کی احمد آباد مندر میں پوجا پاٹ ۔۔ سرپرست اعلی انجہانی بال ٹھاکرے کے ساتھ ممب
http://farooqdarwaish.com/blog/?p=2672
<<Free-eBooks Click here>>>