Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Sunday, August 13, 2017

Good Governance and Pakistan پاکستان کا برا مسئلہ "گڈ گورننس" کا نہ ہونا ہے

THE historical judgement on governments is harsh. It says that governments have many butchers and few shepherds. However there is increasing interest in good governance. What is good governance? It is generally understood in its narrow meanings. An attempt is made here to present some of its less-known features.

Accountability, transparency and equality before the law are well-known attributes of a good government. There is rightly more stress on corruption. What Senator Cato said about Rome then is true of Pakistan today: “Simple thieves lie in prison and in stock; public thieves walk abroad in gold and silk.”

Corruption leads to misallocation of resour­­ces. For example, it could lead to misallocation of investment and public infrastructure away from their most productive use. It can also lead to misallocation of talent as self-interested individuals seek rewards in occupations where returns are inflated by corrupt practices.

Self-interested individuals choose to enter public life in order to capture rents. In its insidious form corruption tramples on individual rights at the hands of public servants. Pakistan was ranked 127th among 177 countries in 2013, by Transparency International’s corruption index.

Is poverty of nations the cause or effect of corruption?
It is argued that systems which are more open to trade cause less corruption. Rent-seeking by public servants is minimised. The licensing regimes in our country used to generate a phenomenal amount of corruption.

A strong correlation is found between corruption, the level of income and the enforcement of property rights. Rich countries may not be totally free of corruption but the incidence of corruption is fairly low compared to poor countries. Is poverty of nations the cause or effect of corruption? Poverty has many causes. In the early stages of development, however, corruption can prove a big bane.

Enforcement of property rights is another big issue. The existence of laws does not necessarily lead to enforcement of laws. Pakistani court procedures, the expense involved, both legal and illegal, to secure rights, and delays in adjudicating cases, are unbearable.

Transparency in the government’s dealings is another crucial aspect in the context of good governance. Corruption takes place in the shadows, away from the public gaze. The need is to throw light on those dark corners. In this respect, the Right to Information Act 2013 of the government of Khyber Pakhtunkhwa is worth appreciating.

Moving to the larger context of good government, the standard economic notion is social welfare. The approach can be applied to policies, political processes and institutions. It provides an intellectual underpinning for ideas of government operating in the public interest. In the traditional welfare economic model, good government is largely identified with reference to efficiency and distribution.

Efficiency requires making a choice from a set of alternatives which is most feasible. Feasibility requires taking into account both technological feasibility, budget balance, and so on.

The welfare economic model can be thought of as generating ‘rules for good governance’ using systematic model of the economy and what drives human well-being. This approach displaced the classical approach to the issue which merely catalogued the functions of the government as protecting the society from violence and invasion, establishing an exact administration of justice and the duty of erecting and maintaining certain public works and institutions.

Good policies require good persons to devise and implement those policies. Where will a country get this rare breed from? The modern answer to this is democracy. Democracies are run by politicians. The argument in favour of democracy is that the main sanction for poor performance is electoral — those who perform badly will not be re-elected.

This is a fallacious argument particularly in a country like ours. Those who get elected strive to make more and more money out of their positions whether in government or in opposition, to get re-elected next time. Politics is a money game. How many mega scams of our politicians have we proved and punished? There is growing disenchantment with democracy even in the democratic West.

Information provided by media and civil society is important in thinking about electoral accountability. We should draw a distinction between formal and real accountability. A politician is formally accountable if there is some institutional structure, apart from elections, that allows the possibility of some action against the culprit in the event that he does a poor job. But there is no guarantee that such accountability mechanisms are used effectively. Real accountability requires that those who hold politicians to account have sufficient information to make the system work.

Governments have been variously characterised as democracies, dictatorships, plutocracies, aristocracies and ‘kakistocracies’. The latter refers to when the worst persons are in power. It is left to the imagination of readers in which category they place the government of Pakistan.

By A. Rauf K. Khattak, www.dawn.com , The writer is a former federal secretary.
raufkkhattak@gmail.com       https://www.dawn.com/news/1223405
Zahoor's Cartoon
"گڈ گورننس"
نواز شریف حکومت "گڈ گورننس" کے بلند و بانگ دعو ے کرتے نہیں تھکتی اور اس بات پر ہمیشہ زور دیتی رہی ہے کہ یہی گورننس ہے جو انہیں دوسری جماعتوں کی حکومتوں سے ممتاز کرتی ہے مگ؛
1. کیا بجلی کے شعبے میں سرکلر ڈیبٹ کا 800 ارب ہو جانا " گڈ گورننس " ہے؟
2. پاکستان کے تجارتی خسارہ کا 30 ارب ڈالر سے زائد تک جا پہنچنا " گڈ گورننس " ہے؟
3.غیر ملکی قرضہ جات کا 80 ارب ڈالر کے قریب پہنچ جانا " گڈ گورننس " ہے؟
4. بجلی کی پیداوار کے ناکام منصوبے اور اگست کے مہینے میں ملک میں بد ترین لوڈ شیڈنگ " گڈ گورننس " ہے؟
5. تاجروں کی حمایت کھو دینے کے خوف سے براہ راست ٹیکس وصولی میں ناکامی کے بعد عوام پربالواسطہ ٹیکسز کا بوجھ ڈالنا " گڈ گورننس " ہے؟
6. 40 فیصد عوام کا خط غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنا اور ان کے حالات بدلنے کے لئے کوئی جامع منصوبہ نہ ہونا ،" گڈ گورننس " ہے؟
7. تمام تر اخراجات، بیرونی امداد اور منصوبوں کے باوجود اسکولوں میں " نیٹ ان رول منٹ ریٹ" میں کمی بھی شاید " گڈ گورننس " ہے؟
8.پاکستان پانی کی کمی کا شکار ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہونے جا رہا ہے ، اس حوالے سے کسی ایک بھی جامع منصوبہ کا آغاز نہ ہونابھی " گڈ گورننس " ہی ہے؟
9.کیا ہمارے لئے یہ سوال اٹھانا زیادہ اہم نہیں کہ سی پیک معاہدہ کی شرائط کیا ہیں اور چین کو منصوبے سے پہلے اور بعد کیا مراعات دی گئی ہیں؟
10.شاید ہمارے ملک میں نہ کسی نے سری لنکا کو قرضہ دے کر اس کی پورٹ پر چینی قبضے کی کہانی پڑھی ہے اور نہ ہی کسی کو اس میں دلچسپی ہے۔
11. اس ملک میں ہمارے بچوں کا مستقبل پانی کے بغیر کیا ہو گا اس سے بھی ہمارا کوئی تعلق نہیں-
ان سوالات کا تعلق براہ راست پاکستان کے مستقبل سے ہے۔ میں حیران ہوں کہ پی ٹی آئی جیسی جماعت بھی جو بھرپور اپوزیشن کا دعویٰ کرتی ہے، ان معاملات پر نہ تو سنجیدگی سے سوالات اٹھاتی ہے اور نہ ہی حقائق کو پاناما کیس جتنےزور و شور سے عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوئی کوشش کرتی ہے۔ ۔
(افتخار احمد , شطرنج، مہرے اور تماشائی،اقتباس  ، jang.com.pk , August 12, 2017)
گڈ گورننس

گڈ گورننس کا فقدان ہمارے ملک کا ایک اہم ترین مسئلہ بن چکا ہے لیکن اس مسئلے کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا ہے، حالانکہ اس مسئلے سے دیگر اہم مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، مثلاً آج کل ذرایع ابلاغ پر نمایاں ترین مسئلے یعنی سندھ میں رینجرز کے اختیارات کے مسئلے کا تعلق بھی اس سے ہے۔
اگر سندھ میں گڈ گورننس ہوتی تو پھر یہاں کسی بڑے آپریشن اور رینجرز کے بلانے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ پاکستان ہو، اس کا کوئی صوبہ ہو یا کہ کسی صوبے کا کوئی ادارہ ہو، تمام جگہوں پر گڈ گورننس تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ ہمارے وزیراعظم غریبوں کے علاج کے لیے کارڈ اسکیم کا اعلان کررہے ہیں۔ یقیناً یہ اچھی بات ہوگی مگر سرکاری اسپتالوں میں گڈ گورننس کب قائم ہوگی؟ وہ کب حقیقی معنوں میں فعال ہوں گے؟ کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ آخر گڈ گورننس کی راہ میں کیا رکاوٹ ہے؟ اور اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں، اس کا سیدھا سادہ سا حل ہے، آئیے اس پر غور کریں۔
سب سے پہلے کسی بھی ادارے کے سربراہ کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے، نہ کہ سیاسی تعلق کی بنیاد پر یا پھر محض نوازنے کے لیے۔ نوازنے کے لیے کوئی اور طریقہ دریافت کیا جائے بجائے کسی قسم کی وزارت یا کسی ادارے کی سربراہی سونپنے کے۔ یہ بات تو کوئی راز ہی نہیں ہے کہ نوازنے کے لیے دی جانے والی ذمے داری سے ہر بڑا آدمی صرف ’’کمانے‘‘ کا کام کرتا ہے، نہ کہ اپنی ذمے داری کو ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ کام خاصا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن تو نہیں۔

یہ سوال بڑا اہم ہے کہ آخر ہماری حکمراں جماعتوں کو اپنی وزارتوں اور کسی بھی ادارے کے سربراہ کی تقرری کے وقت خود اپنی ہی جماعت میں کوئی باصلاحیت اور ایماندار آدمی کیوں نہیں ملتا؟ اور اگر نہیں ملتا تو کیا کوئی غیر جانبدار شخص بھی نہیں ملتا؟ زیادہ دور کی بات نہیں پچھلی حکومت میں ریلوے کے پورے نظام کو تلپٹ کرکے رکھ دیا گیا تھا، لیکن آج ایک صحیح شخص کے انتخاب نے ریلوے کو پاکستان سے نہ صرف ختم ہونے سے بچایا بلکہ اب یہ ادارہ مزید ترقی اور بہتری کی جانب گامزن ہے (یہاں راقم بحیثیت ایک پاکستانی سعد رفیق اور ن لیگ کو شاباش کہنا چاہے گا کہ انھوں نے ایک بہترین فیصلہ کیا اور پھر عمل بھی کرکے دکھایا)۔
گڈ گورننس قائم رکھنے میں نیب جیسے ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور اس کا طریقہ نہایت آسان ہے مگر مشکل بھی۔ آسان اس طرح ہے کہ اس قسم کے ادارے اگر نیک نیتی کے ساتھ صرف اور صرف کسی بھی ادارے کے سربراہ کی مکمل چھان بین کریں کہ وہ ٹیکس کتنا دیتا ہے؟ اس کے اخراجات کیا ہیں؟ اور گزشتہ دس برسوں میں اس کے اثاثے کیا تھے اور اب کیا ہیں؟ اگر تمام اداروں کے سربراہوں کی اس طرح چھان پھٹک کرلی جائے اور بلاتفریق عدالت کے کٹہرے میں لے آیا جائے تو کسی ادارے کے سربراہ کے لیے یہ آسان نہ ہوگا کہ وہ کرپشن کرسکے۔ درحقیقت کرپشن ہی کسی بھی ادارے کو خراب گورننس اور تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ جن اداروں کے سربراہ کرپشن میں ملوث نہ ہوں وہ ادارے ہی ترقی کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔
اگر سربراہ ہی کرپٹ ہوجائے تو ظاہر ہے کہ نیچے کا عملہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتا ہے، جس سے گڈ گورننس تو ایک طرف، ادارہ ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔ یہاں ڈاکٹر عبدالوہاب کا تذکرہ بے محل نہ ہوگا، جس وقت جامعہ کراچی میں دوران امتحان نقل کا کلچر زور پکڑ گیا تھا اور گڈ گورننس بری طرح متاثر ہورہی تھی، ڈاکٹر عبدالوہاب نے سختی کے ساتھ نظم وضبط کو قائم کیا اور بہت سی خرابیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، نقل کا کلچر جڑ سے ختم کرادیا، نیز جامعہ میں ایوننگ پروگرام شروع کرایا، آج جامعہ کراچی کے اسٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی ہورہی ہے تو اس ایوننگ پروگرام سے حاصل ہونے والی آمدنی سے، ورنہ تو یہاں کے اساتذہ بھی پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی طرح مہینوں مہینوں تنخواہوں سے محروم رہتے۔
کچھ ہی عرصے پہلے ایک اخبار میں یہ خبر شایع ہوئی کہ سندھ میں ایماندار افسران کی کمی ہے، ایک ایک افسر کو کئی کئی ذمے داریاں سونپی جارہی ہیں کیونکہ کرپٹ افسران کسی کارروائی کے خوف سے ملک سے جاچکے ہیں یا جارہے ہیں۔ یہ خبر عیاں کر رہی ہے کہ اس صوبے میں کرپشن کی کیا صورتحال ہے اور گڈ گورننس کس سطح پر ہے۔
مرض کو ابتدائی مرحلے میں توجہ نہ دی جائے تو پھر بڑا آپریشن ناگزیر ہوجاتا ہے۔ سندھ میں آپریشن کا بھی یہی معاملہ ہے، گو قانونی لحاظ سے سندھ حکومت کا موقف اپنی جگہ درست ہے مگر اس حکومت کے ذمے داروں کو یہ سوچنا تو چاہیے کہ عوامی آواز خود یہ محسوس کررہی تھی، اور آج بھی کررہی ہے کہ یہاں کے مرض کا علاج اب بڑا آپریشن ہی ہے۔ کرنے کا کام تو یہ ہے کہ مرض کو دور کرنے کے لیے صوبائی حکومت خود سے بڑا آپریشن کرکے یہاں گڈ گورننس قائم کرے۔
گڈ گورننس کا ایک اور اہم اور بڑا پہلو انصاف کی فراہمی ہے۔ راقم نے ایک بڑے سرکاری افسر سے پوچھا کہ آپ ایماندار افسر ہیں، آپ کوئی بڑا کردار ادا کیوں نہیں کرتے؟ ان کا جواب تھا کہ وہ اپنے طور پر تو یہ کردار ادا کررہے ہیں لیکن ان کی پشت پر کوئی بھی نہیں، ان کا تعلق کسی بھی جماعت یا گروہ سے نہیں، ایسے میں کوئی بڑا کلمہ حق کہنا بہت مشکل ہے، ہاں اگر ہماری عدالتیں اس قدر مضبوط ہوجائیں کہ عوام کا اعتماد ان پر بحال ہوجائے تو ایک میں کیا نہ جانے کتنے ایماندار افسران سر دھڑ کی بازی لگا کر اپنا کردار نبھائیں اور محاذ پر ڈٹ جائیں۔ بلاشبہ انصاف کی فراہمی بھی گڈ گورننس میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔
آج راقم سمیت بہت سے لوگوں کے دن رات کا مشاہدہ ہے کہ مختلف اداروں میں جو ایسوسی ایشنز یا یونینز اپنے ادارے کے ملازمین کو حقوق دلوانے کے لیے بنتی ہیں، وہ خود ہی اپنے ملازمین کا سب سے بڑا استحصال کرتی ہیں اور محض اپنے پسندیدہ ملازمین کے کام کرواتی ہیں اور انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر غیر قانونی کام کروا کر اپنے بینک بیلنس بناتی ہیں۔
یوں جن تنظیموں کا کام لوگوں کو ان کے حقوق دلوانا ہوتا ہے، ظلم و ناانصافی ختم کرنا ہوتا ہے اور ادارے میں گڈ گورننس قائم کرنا ہوتا ہے ان کی جانب سے خود قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور گڈ گورننس کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ ظاہر ہے کہ جب گڈ گورننس کو قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے والے الٹا گڈ گورننس ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے تو پھر ادارے کی انتظامیہ بھی ان کے غیر قانونی کام کرنے کے بعد شتر بے مہار بن جاتی ہے اور ادارے کو ذاتی فوائد حاصل کرنے کے لیے کھل کر نقصان پہنچاتی ہے، کیونکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ اب اسے کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں اور اگر کوئی ہوگا بھی تو اس سے یہ ملازمین کے حقوق دلوانے کے دعویدار خود ہی نمٹ لیں گے۔
راقم کے ایک دوست کا کہنا ہے کہ انصاف اور احتساب وہی کرسکتا ہے جس کا دامن صاف ہو، جب تک قانون نافذ کرنے والے اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں میں ایسے لوگوں کی کثرت نہیں ہوجاتی، گڈ گورننس کا قیام آسان نہیں۔ راقم کا خیال ہے کہ ایسے افراد کی ضرورت تو ہر ادارے میں ہے۔ آئیے پہلے اپنا دامن صاف کرنے کی کو شش کریں اور کچھ دیر اس پہلو پر بھی غور کریں۔

Image result for ‫گڈ گورننس کیا ہے‬‎

Crisis of Good Governance


Governance is the exercise of authority to address public affairs. This authority can be political, economic or administrative. The use of this authority is always based upon certain rules and laws of society established by its members. Good governance is to run administration according to these defined laws for the welfare of the people. Bad governance means digression or subversion from these laws. Good governance guarantees safety and security of the people and creates an atmosphere conducive to progress and prosperity. Bad governance begets a number of social crises. 

Good governance comes through strong and independent institutions of the state. These institutions need to be built, sustained and stronger than individuals. Unfortunately, a little effort has been made to build institutions on a stable footing in Pakistan since independence and individuals have taken precedence over institutions. Pakistan suffers from a number of crises but the crisis of good governance is on top because it is the core of all other problems. 
Our country is suffering from weak institutional set-up, political instability, rampant corruption, lack of accountability and transparency and bad law and order situation. All these issues have seriously pushed off the country to an abysmal state of poor governance. 

Every government looks down upon the policies of the previous government, throws those away and establishes new ones. Due to bad governance education, health, civic services, agricultural infrastructure are all in bad state. Even the most basic social needs of citizens are not fulfilled. Law and ordered situation is deteriorating and people are being robbed and killed in bright day light. People don’t feel safe and secure. 
Places of worship have to be guarded for the fear of terrorism. This sorry state of law and order scare the investors away from the country thereby severely harming the economy. 
One of the most damaging effects of bad governance is the prevalence of corruption that ultimately results in lawlessness and the biggest hindrance in the way of development. The absence of impartial and independent accountability has resulted in the growth of this monster. It has become a norm in our society rather than an exception. 

Good Governance stands for poverty alleviation. 
It has always been a favourite buzzword in our economic and social development circles. 
Almost every democratic government has launched poverty reduction programs but all proved futile and ended in corruption. Accountability is a crucial point in good governance – the rulers and the institutions of the state are accountable to people. But, it is very hard to find it in Pakistan’s weak institutional set-up. 

Merit or fairness is essential for good governance and the both support each other. But in our country merit is given least importance. Nepotism and favouritism are the order of the day. Our once very strong institutions like PIA, Pakistan Railway, Pakistan Steel etc. are now in state of paralyse.  All the cities in any province is not getting equal share of development. 
Developing one city in any province at the cost of basic facilities, like hospitals, schools and colleges, clean drinking water etc. , of the other cities is another example of bad governance. One city gets the road network, underpasses and overhead bridges and the others don’t have the basic road network. This disparity has created bad feelings among people living in small cities. 
Similarly, unemployment, illiteracy are other aspects which speak volume about sorry state of governance. People at the helm of affairs need to understand that good governance is more than mere management.  It is not only about decision making, policy formulating but also priority settings, implementation and getting results. Transparency, legitimacy, merit and the rule of law are the important pillars of good governance. 
Politicians and other state officials in the power corridor make illegal appointments in various public offices. They could appoint inept people without merit on political grounds, for the sake of money, favouritism and nepotism. 

The civil servants, police and NAB are not fully autonomous in their decree to work. All are under severe political pressure. None of them is granted full independence, to bring the criminals to justice and inquire the cases of big guns. These are powerful institutions, which need considerable attention to de-politicise their structures. These institutions should be given absolute autonomy to bring the corrupt people before the law. 

Good governance is a prerequisite for social harmony, public order, political stability, economic prosperity and certainty about future. It delivers the fruit of progress and development evenly to all and sundry. Good governance is required at all levels of society and state. Government needs to focus seriously on this issue to accomplish satisfactory results. We must not allow the erosion of institutions through the idiosyncratic behaviour of rulers. No state is free of all crises but it is the quality of governance that ensures its survival through any crisis. 

Rauf  A Khattak , The writer is based in Lahore. 

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
Facebook: fb.me/AftabKhan.page