Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Saturday, October 29, 2016

Pakistan Politics, Corruption, Bad Governance & Development- Facts & Fiction


The keen interest in Pakistan politics by people is appreciated. But mostly people are not aware of ground realities. Economy $ , etc are worth enjoying if there is rule of law, safety and security for the people. Corruptiin in Police and all government departments has reached the level whereby poor people are treated worst thing animals. There is nothing in sight to see any improvement because rulers are busy in mega projects to make money. 22% people are under nourished, child labour, no schooling for majority. No health care... hell with mega projects and economic growth if the benefits are not transfered to people but to Panama. IK has many limitations but is honest. In KPK there is independent police and improvements in health, education and other fields. Though not perfect , we can expect something batter...can't have worst governance than Sharifs. Stay blessed.

22% population is undernourished in Pakistan, reveals Global Hunger Index:
Pakistan has 22 per cent of its population undernourished, though it improved from a previous “alarming” hunger level among developing countries, the Global Hunger Index revealed on Tuesday.

Ranked 108 among 118 countries on the index, Pakistan remained on a “serious” level, scoring 33.4 against 35.1 in the 2008 index:

The country performed worst than neighbours India and Bangladesh, which scored 28.5 and 27.1 respectively, but better than Afghanistan’s 34.8. Another 43 countries, including India, Nigeria and Indonesia, showed “serious” hunger levels.

The hunger index ranks countries based on undernourishment, child mortality, child wasting (low weight for height) and child stunting (low height for age).
http://tribune.com.pk/story/1197875/22-population-undernourished-pakistan-reveals-global-hunger-index/

There remain 5.1 million Pakistani children of primary school age who are out of school. This is the second highest in the world and is over twice as many as in India. Of the poorest 20%, a tragic 2 in 3 girls do not go to school; one of the worst gender inequalities in the world...   http://www.carepakistan.org/the-state-of-education-in-pakistan.html

Pakistan Corruption Rank
Pakistan is the 117 least corrupt nation out of 175 countries, according to the 2015 Corruption Perceptions Index reported by Transparency International. Corruption Rank in Pakistan averaged 107.90 from 1995 until 2015, reaching an all time high of 144 in 2005 and a record low of 39 in 1995. Corruption Rank in Pakistan is reported by the Transparency International.
http://www.tradingeconomics.com/pakistan/corruption-rank

Wednesday, October 19, 2016

جمہوریت کے حوالے سے تین اہم مغالطے Three important Misconceptions about Democracy in Pakistan

Image result for failure of democracy in pakistan in urdu


ہمارے ہا ں جو مختلف فکری بحثیں اہل علم و قلم میں چلتی رہتی ہیں، ان میں سیاسی اعتبارسے نمایاں ترین جمہوریت کی بحث ہے۔ہر کچھ عرصے کے بعد یار لوگوں کو جمہوریت کا مقدمہ لڑنے کا خیال آ جاتا ہے۔ نت نئے دلائل تراشے جاتے اور حکومت وقت پر تنقید کرنے والوں کوصبر وتحمل سے کام لینے کا بھاشن دیا جاتا ہے۔ایسا مجبوراً اس لئے بھی کرنا پڑتا ہے کہ ہمارے بیشتر سیاستدان جمہوریت کا محض نام لیتے اور اسے اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں، ورنہ ان کا جمہوریت اور جمہوری نظام سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا ۔ ان میں سے اکثر ڈکٹیٹرشپ کی پیداوار ہیں اور کسی نہ کسی آمر نے انہیں سیاسی قوت بخشی۔ کسی نے آمرِ وقت کو ڈیڈی کہا تو کسی نے اپنی خدمت سے وہ مقام حاصل کر لیا کہ ڈکٹیٹر اپنی اولاد کے بجائے سیاسی جانشینوں کو دعا ئیں دینے اور اپنی عمر بھی اسے لگ جانے کا مژدہ سناگیا۔جب تک اسٹیبلشمنٹ ان کی مجبوری تھی، انہوں نے اس کے ساتھ ہاتھ ملائے رکھا اور جب ان کی بے پناہ ، لامحدود قوت حاصل کرنے کی خواہش کے سامنے اسٹیبلشمنٹ رکاوٹ بنی، تب انہیں سب خامیاں اسی میں نظر آنے لگیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ موجودہ سیاسی نظام یا حکمران جماعت پر تنقید کرتے ہیں، ان کا مقصد جمہوریت یا سیاست کو مطعون کرنا ہرگز نہیں ہوتا۔میرے جیسے لوگ غیر جمہوری رویوں کی اصلاح چاہتے اور جمہوریت کے نام پرسیاسی استحصال سے بیزار ہیں۔اس حوالے سے تین چار عام فکری مغالطے پائے جاتے ہیں، انہیں سمجھ لیا جائے تواس ایشو کی تفہیم مشکل نہیں اورخلط مبحث سے بچا جا سکتا ہے۔

جمہوریت بمقابلہ آمریت : 
سب سے پہلا مغالطہ یہی ہے۔ پاکستان میں جیسے ہی کسی سویلین حکومت پر تنقید ہو، اس کے حامی فوری طور پر آمریت کی دہائی دینے لگتے ہیں۔ انہیں یہی لگتا ہے کہ کہیں کسی آمر کے لئے راہ ہموار نہ کی جا رہی ہو۔ شائد اس لئے کہ ماضی میں فوجی آمر آتے بھی رہے ہیں اور ہرباراہل قلم کے ایک حلقے نے بھی ان کا استقبال کیا۔ماضی کے تلخ تجربات اپنی جگہ، مگر بہرحال جمہوری اصلاحات کی بات ہم لوگوں نے ہی کرنی ہے۔ اگر ہماری انتخابی نظا م سو گنا مہنگا ہوچکا ہے، تین چار ارب کا الیکشن تین چار سو ارب تک جاپہنچا ہے تو اس خطرناک حد تک پہنچے الیکشن سسٹم کو نیچے لانا، لوئرمڈل کلاس نظریاتی کارکنوں کو دوبارہ اس میں شامل کرنے کی بحث انٹیلی جنشیا ہی نے کرنی ہے ۔اس طرح صرف جمہوریت جمہوریت کی رٹ لگائے رکھنا اور سیاسی جماعتوں کو غیر جمہوری انداز میں چلانے رکھنے پر تنقیدکا پورا جواز بنتا ہے۔اب یہی دیکھ لیجئے کہ مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس تین ، ساڑھے تین سال بعد ہو رہا ہے۔ وہ بھی اس لئے کہ الیکشن کمیشن کی پابندی ہے اور نام نہاد سہی ،پارٹی الیکشن کرانے مقصود ہیں۔ دنیا کے کسی جمہوری ملک میں اس کا تصور تک نہیں کہ حکمران جماعت کئی سال تک اپنی مرکزی کمیٹی کا اجلاس تک نہ بلائے ،مگر جس ملک میں کئی کئی ہفتے، مہینے کابینہ کا اجلاس تک نہ بلایا جائے، وہاں سیاسی جماعت بیچاری کی کیا اوقات ہے۔ اس لئے جمہوریت کا نام لیوا سیاستدانوں پر تنقید لازمی ہوگی،مگر براہ کرم اس نکتہ چینی کو آمریت کی حمایت میں نہ ڈالا جائے۔ اصل موازنہ اچھی جمہوریت بمقابلہ بری جمہوریت کا بنتا ہے۔ جمہوریت بمقابلہ آمریت والے فارمولے کا کوئی بھی سنجیدہ اہل قلم حامی نہیں ہوسکتا۔ دنیا بھر میں یہ بات اب طے ہوچکی ہے کہ حکومت چلانا سیاستدانوں کا کام ہے، فوج کا نہیں۔فوج اپنے معاملات دیکھے ، جسے اس کے علاوہ کوئی اور نہیںنمٹا سکتا، زیادہ سے زیادہ عسکری ماہرین کی آئوٹ پٹ نیشنل سکیورٹی امور میں چاہیے ہوتی ہے، کابینہ کی ڈیفنس کمیٹی یا نیشنل سکیورٹی کونسل کے ذریعے یہ کام آسانی سے ہوسکتا ہے۔ 

1. نام نہاد جمہوریت :
 اصل اعتراض یہی ہے کہ ملک میں نام نہاد جمہوریت قائم ہے۔ سیاستدانوں کو صرف اپنے اقتدار کے لئے جمہوریت کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے ، جس نظام نے انہیں حکومت دی اور دوسروں سے ممتاز بنایا، اس کے ان پر کچھ قرض بھی ہیں۔ اب یہی دیکھ لیں کہ دنیا بھر میں بلدیاتی اداروں کو جمہوری نظام کی پہلی اور سب سے اہم سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے بہت سے ممالک میں بیشتر محکمے اور ذمہ داریاں لوکل گورنمنٹ یعنی بلدیاتی اداروں کے پاس ہیں ۔ نیویارک کے میئر کی طاقت دنیا کے کئی ممالک کے سربراہان سے زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں حال یہ ہے کہ پورا ایک سال ہوگیا، مگرپنجاب اور سندھ میںبلدیاتی ادار ے فنکشنل ہی نہیں ہوسکے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن اور سندھ میں پیپلزپارٹی حکمران ہیں، دونوں کی قیادت جمہوریت کی رٹ لگاتی اور خود کو اس کا عظیم چیمپین سمجھتی ہیں، مگر ان کی پوری کوشش ہے کہ بلدیاتی ادا رے اپنا کام شروع نہ کر سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں مسلم لیگ ن کے حامی جیتے ہیں، ایسا نہیں کہ انہیںخدشہ ہے کہ زیادہ تر اضلاع میںا پوزیشن کے میئروغیرہ بن کر حکومت کو ٹف ٹائم دے سکیں گے۔ کسی ایک ضلع میں بھی اپوزیشن کی اکثریت موجود نہیں۔ اس کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی حکومت اورخود جناب وزیراعظم کو ذرا بھر جلدی نہیں کہ بلدیاتی نظام اپنا کام شروع کر ے اور لوگ مقامی سطح پر اپنے منتخب کونسلرز،چیئرمین وغیرہ سے کام کرا سکیں۔

2. موروثی سیاست:
 جب موروثی سیاست پر تنقید ہو تومسلم لیگ ن یا دیگر سٹیٹس کو کی حامی جماعتوں کے کارکن اور میڈیا میں موجود ان کے حامی برہم ہوجاتے ہیں۔ انہیں شائد یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اس تنقید سے موجودہ یا آنیوالے سیاسی شہزادوں، شہزادیوں کا کیرئر خطرے میںپڑ جائیگا۔ اس لئے بڑے شدومد سے اس کی مخالفت کی جاتی اور مختلف ممالک سے اس کی مثالیں ڈھونڈ کر پیش کی جاتی ہیں۔ یہاں بھی اعتراض بہت سادہ ہے۔ آئین ہر ایک کو سیاست کرنے کا حق دیتا ہے۔ ہم میں سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی بڑے سیاستدان کے بیٹے یا بیٹی کو سیاست کرنے سے روک سکے۔ کوئی روکنا بھی نہیں چاہتا۔ یہ البتہ کہا جاتا ہے اور ایسا منطقی اعتبار سے درست ہے کہ اپنے بڑے باپ یا ماں کی وجہ سے کسی کو سیاست میں جمپ نہ ملے۔ جو بھی آنا چاہتا ہے، وہ آئے اور سیاسی کارکن کے طور پر اپنا کیرئر شروع کرے۔ جمہوری مراحل سے گزرنے کے بعد اگر اس میں ہمت یا قوت ہوگی تو وہ پارٹی میں اہم منصب حاصل کر لے گا۔ اس کے برعکس عام مشاہدہ یہی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں دراصل خاندانی جائیداد کے طور پر ڈیل کی جاتی ہیں۔ لیڈر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کس بچے کو سامنے لے آنا ہے اور پھر تمام ضابطے ، دستور 
توڑ کر اسے مرکزی جگہ مل جاتی ہے۔ بعض اوقات تو بغیر الیکشن لڑے ہی اہم ذمہ داریاں تفویض کر دی جاتی ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ صاحبزادہ ایم این اے ہے،اسکی جگہ مرکز اور قومی اسمبلی ہے، مگر والد صاحب کی اشیرواد پر صوبائی معاملات وہ چلا رہا ہے، بلکہ کبھی تو پوری پوری صوبائی حکومت اس کے حوالے کر دی جاتی ہے۔ ہم نے تو ایسا بھی دیکھا کہ یونیورسٹی میںتعلیم حاصل کرنے والے نوجوان کو ملک کی سب سے بڑی جماعت کا سربراہ بنا دیا گیا اور پھر وہ منظر دیکھا گیا کہ سیاست میں بال سفید کرنیوالے تجربہ کار سیاستدان سرجھکائے بیٹھے ہیں اور برخوردار صدارت فرما رہے ہیں۔ یہ وہ نام نہاد جمہوریت اور موروثی سیاست ہے ، جس سے بیزاری ظاہر کرنا اور اس پر تنقید کرنا ہم سب کے لئے لازمی ہے۔ 

3. وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا:
یہ وہ فقرہ ہے جس کی مدد سے ہر قسم کی تنقید ٹالی جا سکتی ہے۔ بڑی سے بڑی بات کے جواب میںصرف یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ سیاستدانوں کو وقت ہی کتنا ملا؟ وقت گزرنے کے ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ یہ فقرہ نہ صرف غلط اورکوڑا کرکٹ صاف کرنے کے بجائے قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش ہے۔ بھائی خود بخود کیوں سب ٹھیک ہوجائے گا؟ جب استحصال کرنے والوں کو آپ روکیں گے ہی نہیں، ان کی غیر مشروط حمایت کریں گے تو وہ اپنے طور طریقے آخر کس بنا پر تبدیل کر لیں گے؟مجھے تویہ لگتا ہے کہ آمروں سے زیادہ نقصان جمہوریت کو ایسے ہی نادان دوستوں نے پہنچایا ہے۔ جمہوری نظام کی خامیوں کو دور کرنے، سیاستدانوں کو ٹف ٹائم دینے کی جنہوں نے کوشش ہی نہیں کی۔ جب سویلین حکومتوں کے بلنڈرز کی وجہ سے سب کچھ جاتا رہے، تب ایسے ہمدردوں کو احساس ہوتا ہے، مگرتب تک آمریت کی سیاہ رات امڈ آتی ہے اور پھر برسوں تک جدوجہد کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا-[عامرہاشم خاکوانی ، دنیا ]
http://dunya.com.pk/index.php/author/amir-khakwani/2016-10-17/17186/85850867#tab2

Image result for nawaz sharif king

سویلین حکومت آخر کن امور میں بالادستی چاہتی ہے؟

حکومتوں کے کرنے کے چار پانچ کام سب سے اہم سمجھے جاتے ہیں ۔

1. پہلا کام اپنے شہریوں کی جان ومال کا تحفظ یعنی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بہتر کرنا۔

2. اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو صحت، تعلیم کی سہولتیں دینا، صاف پانی کی فراہمی

3.  سستے انصاف کو یقینی بنانا اور

4. مارکیٹ اکانومی کو اس طرح ریگولرائز کرنا کہ عام آدمی کا استحصال نہ ہو ، ضروریات زندگی کی اشیا مناسب داموں میں ملیں اور ان سب کے ساتھ 

5. روزگار کے مواقع پیدا کرنا۔ 

اب ایک منٹ کے لئے ٹھیرکر سوچ لیںکہ سویلین حکومت کو یہ سب کام کرنے کے لئے کس پر بالادستی قائم کرنے کی ضرورت ہے؟

کیا اسٹیبلشمنٹ نے ہماری صوبائی حکومتوں کو مجبور کر رکھا ہے کہ وہ پولیس کے نظام کی اصلاح نہ کریں؟

کرپٹ پولیس اہلکاروں کو نکالنے، ظالم افسران کے احتساب، ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے معاملہ کو سفارش اور سیاسی اثرورسوخ سے پاک کرنے سے کس نے روکا ہے؟کیا پولیس افسران اپنے من پسند تھانوں میں پوسٹنگ کے لئے لاکھوں کی رشوتیں اسٹیبلشمنٹ کو دیتے ہیں؟

 اسی طرح تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات لانے سے کس نے روکا ہے؟ 

عام آدمی کو ہسپتالوں میں ذلیل ہونے سے کس نے بچانا ہے؟

 لاہور میں آخری ہسپتال پچیس تیس سال پہلے جناح ہسپتال کی شکل میں بنا تھا۔ اس کے بعد ہسپتال بنانے سے کس نے روکا؟ 

آج لاہور ایک کروڑ آبادی کا شہرہے، بھائی صاحب کس نے کہا ہے کہ یہاں اور ہسپتال نہ بنائو، سرکاری سکولوں، کالجوں کی حالت بہتر نہ بنائی جائے۔ صاف پانی مہیا نہ کیا جائے۔

 ساٹھ ستر ارب روپے سے لاہور کے پندرہ بیس ٹرانسپورٹ روٹس میں سے ایک روٹ پر میٹرو بس چلائی گئی، ڈیڑھ سو ارب سے زائد سے اورنج ٹرین بن رہی ہے، تیس ارب روپے جیل روڈ کو سگنل فری بنانے کی عیاشی پر خرچ ہوئے۔ 

اس کا چوتھا حصہ بھی اگر درست طریقے سے خرچ کیا جاتا تو شہر کو صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو جاتی۔ جناح جیسے دو ہسپتال بن جاتے، سیوریج ٹھیک ہو جاتا اور لاہوریوںکی تکلیف میں نمایاں کمی ہو جاتی۔

کس نے سویلین حکمرانوں کو ایسا کرنے سے روکا؟ 

کراچی کی حالت تو لاہور سے بھی گئی گزری ہے، اسے دیکھ کر ہی خوف آتا ہے۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ صرف چار پانچ سال پہلے تک دالوں کی قیمتیں کنٹرول میں تھیں، پھر اچانک اس میں کارٹل مافیا آگیا یا کچھ ہوا کہ دال ماش اور مسر، مونگ وغیرہ دوگنی مہنگی ہوگئیں۔ اب تو دال مرغی کے گوشت سے بھی زیادہ مہنگی ہوچکی۔ کسی نے سوچا کہ ایسا کیوں ہوا اور اس کو کس طرح ٹھیک کرنا ہے، مہنگائی کم کرنے کا کیا فارمولہ بنایا جائے؟ جب شاہی خاندان خود کاروبار شروع کر دے، مرغیوں کی فیڈ سے لے کر دودھ، دہی اور نجانے کس کس شعبے میں گھس جائے تو پھر

 ناجائز منافع خوری کو کس نے روکنا ہے؟

اگر صرف اپنی پسند کی خارجہ پالیسی نہ بنانے کا دکھ دامن گیر ہے تو صرف ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی سویلین حکمران نے ملک میں ایک بھی ایسا اچھا تھنک ٹینک بنایا ہے جو خارجہ پالیسی بنانے کے حوالے سے سفارشات دے سکے؟ نیشنل سکیورٹی ایشوز پر سویلین کی معاونت کے لئے کو ن سے تھنک ٹینک یا یونیورسٹیوں کی اکیڈیمیا کی دانش کو بروئے کار لانے کا میکنزم بنایا گیا؟ چرچل نے دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی یو بوٹس کے خالصتاً عسکری ایشو پر انگلش یونیورسٹیوں کی معاونت حاصل کی۔

بھارت سے تعلقات کیسے ہونے چاہییں،اس پر اپنی علمی، ماہرانہ 'ان پٹ‘ دینے کے لئے کون سے اور کتنے تھنک ٹینک بنائے گئے؟

 یا پھر یہی کافی ہے کہ شہنشاہ معظم نے ایک سہانی صبح اٹھ کر سوچا کہ یار بہت ہوگئی، آج سے بھارت ہمارا دوست ہے۔ کیا اس طرح خارجہ پالیسی بنتی ہے؟

 اس طرح سویلین بالادستی قائم کی جاتی ہے؟

 اگر ایسا ہی ہے توہمیں یہ عرض کرنے کی اجازت دیں کہ حضور والا! اصل مسئلہ بالادستی نہیں اہلیت اور ناکافی تیاری کا ہے۔ سویلین کی راہ میں اصل رکاوٹ وہ خود اور ان کی بیڈ گورننس ہے۔ [عامرہاشم خاکوانی ، دنیا ] 
http://dunya.com.pk/index.php/author/amir-khakwani/2016-10-20/17222/37214722#tab2




Related: