Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Thursday, April 12, 2012

Corruption Cobra: کرپشن کا شیش ناگ



Was Pakistan created after lot of efforts and blood of millions for these corrupt cobras? 

If no, what have you done so far?
Least should express your opinion to people around, create awareness to go out to vote for genuinely good people in next elections....


کرپشن کا شیش ناگ!نقش خیال…عرفان صدیقی
بات خاصی تلخ ہے لیکن در و دیوار پر کندہ ہو جانے والی اس حقیقت سے آنکھیں چرانا بھی خود فریبی ہے۔ موجودہ حکومت کے چار سالہ دور میں کرپشن کا ناسور اس تیزی سے پھیلا ہے کہ انتظامیہ کا شاید ہی کوئی عضو اس کی ہلاکت آفریں زہر ناکی سے محفوظ رہا ہو۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ بد عنوانی سکہ رائج الوقت بن چکی ہے اور ریاستی نظام ایسے سانچے میں ڈھل گیا ہے کہ کرپشن سے گریز کرنے والے سرکاری اہلکار کیلئے آبرومندی کے ساتھ نوکری کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔ جو کرپشن کے ہنر میں جتنا طاق ہے، اتنا ہی نہال ہے۔ جو بد عنوانی کی فنی نزاکتوں پر جتنی دسترس رکھتا ہے، حکمرانوں کے اتنے ہی قریب ہے۔ جس کے دامن پر جتنے زیادہ داغ دھبے ہیں، دربار خاص میں اسے اتنا ہی بلند مقام حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نوعیت اور شدت کی کمی بیشی کے ساتھ کرپشن کا مرض دنیا کے ہر ملک میں موجود ہے۔ بھارت میں بھی کرپشن کی بڑی بڑی وارداتوں کی کہانیاں سامنے آتی رہتی ہیں اور اس وقت بھی وہاں داستان گوئی عروج پر ہے۔ یورپ، امریکہ اور دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک کو بھی بد عنوانی سے پاک قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن ہمارے جیسی ”لت پت“ اور ”شرابور“ کی کیفیت شاید ہی کسی دوسرے ملک میں نظر آئے۔

مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ ہمارے حکمران، ان کے اہل خاندان، ان کے دوست احباب اور ان کے سیاسی دست و بازو بد عنوانی کی اس گنگا میں اشنان کر رہے ہیں۔ جوں جوں پانچ سالہ عہد کی تکمیل کا وقت قریب آ رہا ہے، توں توں کرپشن کی میراتھن میں شریک لوگوں کی گرمیٴ رفتار بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں ساون کی ہریالی کی طرح پھلتی پھولتی کرپشن کا المناک پہلو یہ ہے کہ حکمران خود اس میں ملوث ہیں اور اس کا انتہائی مکروہ زاویہ یہ ہے کہ انتظامیہ نے ان تمام اداروں کو کرپٹ لوگوں کی معاونت، ان کے تحفظ اور ان کی ہر ممکن سرپرستی پر لگا دیا ہے جن کا بنیادی وظیفہ ایسے افراد کو گرفت میں لینا، ان کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کرنا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانا تھا۔ اسے کہتے ہیں کہ جب باڑ خود ہی کھیت کھانے پر آ جائے تو اسے کون بچائے گا۔ یہ ہے وہ کیفیت جو پاکستان کو دوسرے ممالک سے منفرد، ایک ایسے ملک کے طور پر ابھا رہی ہے جہاں کرپشن طرئہ امتیاز ہے، جہاں انتظامیہ خود کرپٹ ہونے کے ساتھ ساتھ کرپشن کی معاون و مددگار ہے اور جہاں کرپٹ عناصر کو ریاستی تحفظ حاصل ہے۔
آج کے ”جنگ“ میں دو خبریں اسی آب و ہوا کی عکاسی کر رہی ہیں جس نے پاکستان کو کرپشن کے گھنے جنگل میں بدل دیا ہے۔ پہلی خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے 21/ارب روپے کے ممنوعہ کیمیکل کوٹہ الاٹمنٹ اسکینڈل کیس میں مبینہ طور پر ملوث، وزیراعظم کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی سمیت دیگر افراد کو نوٹس جاری کر دیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اے این ایف میں حال ہی میں کئے گئے تبادلے منسوخ کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالت کے بغیر کسی افسر کو تبدیل نہ کرے۔ عدالت نے مقدمے کے تفتیشی افسر، بریگیڈیئر فہیم اور ڈپٹی ڈائریکٹر عابد ذوالفقار کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے عہدے کا چارج نہ چھوڑیں اور مقدمہ کی تفتیش کسی بھی دباؤ کو قبول کئے بغیر جاری رکھیں۔ بریگیڈیئر فہیم نے عدالت کو بتایا کہ ان کا اور تفتیشی افسر عابد ذوالفقار کا 9/اپریل کو تبادلہ کر دیا گیا۔ اس سے قبل اے این ایف کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل شکیل حسین کا تبادلہ کر کے عبوری چارج موجودہ قائم مقام سیکرٹری ظفر عباس کو دے دیا گیا۔ بریگیڈیئر فہیم نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ ”موسیٰ گیلانی اور ان کے سیکرٹری توقیر کو تین بار سمن جاری کئے گئے لیکن وہ ایک بار بھی پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے کسی سمن کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ سیکرٹری اے این ایف ظفر عباس نے سارا ریکارڈ اپنے پاس منگوا لیا ہے۔ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری خوشنود لاشاری نے مجھ سے کہا کہ موسیٰ گیلانی کو الگ کر دو۔ وہ بڑے باپ کا بیٹا ہے۔ میں نے کہا کوئی وزیراعظم کا بیٹا ہے یا کسی بادشاہ کا، تفتیش شفاف ہو گی۔ اس پر تمام ریاستی مشینری، تفتیشی ٹیم کے خلاف سرگرم ہو گئی۔ وفاقی سیکرٹری وزیراعظم کے بیٹے کے خلاف تفتیش کو نقصان پہنچانے پر کمربستہ ہیں“۔
دوسری خبر ہمارے دوست، انصار عباسی کی کرید ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ کرپشن کے انسداد اور بد عنوان عناصر کو گرفت میں لینے کیلئے قائم ادارے، قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین، عزت مآب ایڈمرل (ر) فصیح بخاری کو اسلام آباد کے ایک عالی مرتبت سیکٹر میں 1066 مربع میٹر کا ایک پلاٹ الاٹ کیا گیا ہے جس کی قیمت، اندازاً دس کروڑ روپے ہے۔ کرید کے دوران نیب کے ترجمان نے وضاحت کی کہ ایڈمرل بخاری جب ریٹائر ہوئے تو انہیں استحقاق کے مطابق وہ پلاٹ الاٹ نہیں کیا گیا تھا جو مسلح افواج کے سربراہوں کو ریٹائرمنٹ پر ملتا تھا۔ اس زیادتی کی تلافی اب کی جا رہی ہے لہٰذا اسے کسی طرح کی رشوت یا نوازش بے جا نہیں سمجھنا چاہئے۔ انصار عباسی اور جنگ کے سینئر رپورٹر رانا غلام قادر کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جب بخاری صاحب ریٹائر ہوئے تو وزیراعظم نواز شریف نے سروسز چیفس کو ریٹائرمنٹ پر ملنے والی بیشتر مراعات ختم کر دی تھیں جن میں اسلام آباد میں پلاٹ اور ڈیوٹی فری گاڑی درآمد کرنے کی سہولت بھی شامل تھی۔ ایڈمرل (ر) عزیز مرزا نے، جو خود نیول چیف رہے، اس امر کی تصدیق کی اور بتایا کہ نئی حکومتی پالیسی کے تحت انہیں بھی کوئی پلاٹ الاٹ نہیں ہوا۔
یہ ہے وہ ماحول جس میں اس وقت پاکستان سانس لے رہا ہے۔ وزیراعظم صاحب کے صاحبزادے پر یہ پہلا الزام نہیں۔ حج اسکینڈل اور کچھ دوسرے معاملات میں بھی ان کا نام آتا ہے۔ الزام کی بنیاد پر کسی کو مطعون کرنا قرین انصاف نہیں۔ لیکن جب الزام کی زد میں آیا ہوا کوئی فرد، اپنے رشتہ و تعلق، اپنے اثر و رسوخ، اپنے مضبوط دست و بازو اور اپنی سماجی حیثیت کے بل بوتے پر قانون کو جوتی کی نوک پر رکھ لے، تحقیق و تفتیش کا مضحکہ اڑانے لگے، کھوج پر مامور اہلکاروں سے گلی ڈنڈا کھیلنے لگے اور احتساب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہے کہ کر لو جو کرنا ہے تو اس کا واضح مفہوم یہی لیا جا سکتا ہے کہ ریاست مفلوج ہو چکی ہے اور قانون کی فرمانروائی کا وہ تصور سنولا گیا ہے جو کسی بھی مہذب معاشرے کی اساس خیال کیا جاتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کے طور پر، اپنے حلف اور اپنے منصب کی حرمت کو مدنظر رکھتے ہوئے، سید زادئہ ملتان پر لازم تھا کہ وہ اپنے صاحبزادے پر حرف آتے دیکھ کر جناب چیف جسٹس کو خط لکھتے کہ میں اپنی ذات اور اپنے بچوں پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں دیکھنا چاہتا، لہٰذا جناب چیف جسٹس خود اس معاملے کی تحقیقات کا اہتمام کریں۔ اس کے برعکس جو راستہ انہوں نے اپنایا اور جس طرح تحقیقاتی افسروں کو آزادانہ تحقیقات سے روکنے کیلئے نشانے پر دھر لیا، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم کیسی دلدل میں دھنس چکے ہیں اور باڑ کی ہوس کا نشانہ بننے والے اس کھیت کو کیسے بچایا جا سکتا ہے؟ یہ پہلا معاملہ نہیں۔ اس سے قبل بھی انسداد بد عنوانی پر مامور سارے عقاب ان دیانتدار اور بے خوف سرکاری اہلکاروں پر ہی جھپٹتے رہے جو کرپشن کی آزادانہ تحقیقات پر بضد تھے۔
اور عزت مآب ایڈمرل (ر) فصیح بخاری کے بارے میں کیا کہا جائے؟ وہ ایک ایسے منصب پر ہیں جسے کسی بھی گوشے سے ملنے والی کسی بھی رعایت یا نوازش کو ایک لمحہ توقف کئے بغیر یہ کہہ کر ٹھکرا دینا چاہیے کہ میں محتسب کی مسند پر بیٹھا ہوں اور یہ نوازش، بے لاگ احتساب کے تقاضوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس کے بجائے انہوں نے کرپشن کے الزامات میں لت پت حکومت کے نام عرضی گزاری کہ مجھے پلاٹ عنایت فرمایا جائے جس پر علی موسیٰ گیلانی کے والد گرامی، سید یوسف رضا گیلانی نے انہیں دس کروڑ کا پلاٹ عطیہ کر دیا۔ اب وہ اس عطیے کی توجیہات تراش رہے ہیں۔
سو وطن عزیز ہمہ رنگ بد عنوانی کے سیل بلا کی زد میں ہے۔ المیہ محض شیش ناگ کی طرح پھنکارتی کرپشن نہیں، یہ روش ہے کہ حکومت اس شیش ناگ کے سامنے بیٹھی بین بجا رہی ہے تاکہ وہ اسی طرح پھن پھیلائے جھومتا رہے اور انسداد بد عنوانی پر مامور عناصر بچہ جمورا بنے آس پاس جھومر ڈالتے رہیں۔ 
The Muslim world has the unique distinction of being ruled by the corrupt dictators and kings .The wave of people uprising for change, freedom, democracy and justice has swept across the Middle East. Pakistanis are however ...
In all civilised societies mlitary is subservient to the civilian political authority for the defence of country [not in private control to support their corrupt practices]. If 'Memogate' is true, then its a nasty effort by corrupt and ...
While discussing corruption, it was pointed out that there are about 1200 politicians in the assemblies, why corruption by these 1200 people is discussed? Are there only 1200 politicians who are corrupt and no one else?
The news that Imran Khan launched an anti-corruption manifesto at a rally of over 100000 in Karachi yesterday, as a lead up to campaigning for the 2013 elections, filled me with a sense of hope. But a last hope, as Pakistan ...
Corruption in Pakistan is widespread and growing. In the latest Corruption Perception Index, the country is ranked the 34th most corrupt country in the world, up from 42nd last year. Recent polls reveal a pervasive culture of .
While he did not mention the word corruption in his speech, the SC has to give its final verdict on many of his cases and the judges have hinted that there has to be a limit to their patience. Once it runs out, either Zardari has to ...
Every possible corruption discovered in these corporations or in the canal water thefts has to be prosecuted. It simply requires the rule of law. Common Pakistanis are being kidnapped by gangs, who are patronised by ...
There are around 1200 elected members at federal and provincial houses in Pakistan , who are perceived to be corrupt. The figure of 1200 corrupt out of total population of 180000000 is very small, rather insignificant fraction ...