Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Wednesday, December 28, 2011

Pakistan, at long last, may have found the leader it needs Imran Khan

The news that Imran Khan launched an anti-corruption manifesto at a rally of over 100,000 in Karachi yesterday, as a lead up to campaigning for the 2013 elections, filled me with a sense of hope. But a last hope, as Pakistan now hangs by a thread. From assassinations to suicide bombings, corruption to terrorism, little seems to be going well.
We forever ask ourselves why Pakistan struggles to find its feet and to develop into a great nation like its neighbour India, one of the world's leading economies. With an abundance of natural resources, human capital and powerful friends, it should be doing better. But those who control this country have always fallen at the hurdle of corruption. Propelled by ambition for money and power, its leaders do not consider the common people – 180 million of them – in their plans. Typically, people in Pakistan go into politics to make money, not to make a difference.

Statistically, Pakistan is a disaster: 24 per cent live beneath the poverty line; 70 per cent are under 30 and face very limited opportunities; 15 per cent are unemployed. Only 2 per cent of the annual GDP is spent on education, hence there are 6m primary school-aged children not enrolled. It has one of the lowest literacy rates in the world.

But after such depressing figures, can there be a light at the end of the tunnel? With elections in 2013, I ask myself time and again, will there be a different outcome, or will the charade of puppet leaders continue to stifle our prosperity? I believe this may be the turning point. Because for the first time in my life, there is a credible candidate who is everything a Pakistani politician is not: Imran Khan, the sportsman turned politician. What Imran brings to the table is something so extraordinary, that he may well be our best shot at good fortune. He has already satisfied any craving for recognition and wealth, becoming one of the most famous cricketers in the world and being hailed as a phenomenal philanthropist. He doesn't need to become the leader of Pakistan to line his pockets or rub shoulders with the famous.

He's the real deal. He has sacrificed much to be in politics. He lives fairly modestly, considering his achievements, and is probably one of the most dedicated servants of Pakistan – taking the time to travel the length and breadth of the country to inspire people not to give up, to assure them that someone is looking out for them, who understands them, their needs, their frustrations, their deficiencies and their potential. He is likened to many a common man in Pakistan, resilient, hard-working, just waiting for his break – and in 2013 he might just get what he has been waiting for.

So, all things considered, is Imran the country's last hope? For me, it comes down to evaluating the considered risk and return. If I was investing in someone to run Pakistan, would it be Imran Khan? Could he deliver the necessary change? I would say he is definitely an investment worth making.

James Caan is the Founding Chairman of the British Pakistan Foundation and a former panellist on the BBC's 'Dragon's Den'
http://www.independent.co.uk/opinion/commentators/james-caan-pakistan-at-long-last-may-have-found-the-leader-it-needs-6281803.html

MoreImran Khan Address: Karachi 25 Dec, Biggest gathering after Lahore: - All Updates Videos, Comments & Analysis
ادارتی صفحہ
 
Shareمیاں صاحب!مستقبل کی بات کریں...چوراہا …حسن نثار
کیا (ن) لیگ میں ایک شخص بھی ایسا نہیں جو اپنے لیڈر کو اک ایسی بات کی تکرار سے رو ک سکے جو بے بنیاد بھی ہے اور مضحکہ خیز بھی۔ میاں نواز شریف تسلسل سے یہ بات دہرائے جارہے ہیں کہ”تبدیلی“ لانے کے دعویدار تو جب لائیں گے لیکن ہم تو کب سے تبدیلی لا بھی چکے۔ ہم نے موٹروے بنائی، ایٹمی دھماکے کئے اور سبز پاسپورٹ کو سربلند کیا اور ہمارے زمانہ میں دہشتگردی کا نام و نشان نہ تھا یعنی میاں صاحب اپنے زمانہ کو ”سنہرا دور“ قرار دینے پر مصر ہیں اور نیوٹرل لوگ اس کا مذاق اڑارہے ہیں۔
لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ وہی سنہرا زمانہ نہیں تھا جب بھوک کے مارے چن زیب نامی اک پاکستانی نے آپ کے گھر کے سامنے کامیاب خود سوزی کی تھی؟ اور یہ عہد خود سوزی تھا ۔
کیا یہ وہی دور نہ تھا جب یہ سرخی بھی کسی اخبار کی زینت بنی کہ……”شیر آٹا کھا گیا“
کیا یہی وہ گولڈن پیریڈ نہیں تھا جب ”ریاض بسرا“ جیسی بلائیں اس ملک میں دندناتی پھرتی تھیں؟
اور کیا یہ اسی زمانے کی بات نہیں جب عدلیہ پر چڑھائی ہوئی اور اس کے نتیجہ میں کچھ متوالے نااہل قرار دئیے گئے؟ اور آج تک …”پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں“ ۔
اور کیا یہی وہ زریں عہد نہیں تھا جس میں اک ڈکٹیٹر کے شب خون پر آپ کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو لاہور جیسے شہر میں لوگوں نے اس قدر مٹھائیاں تقسیم کی کہ سویٹ شاپس خالی ہوگئیں۔
کیا آپ کا دورہی وہ دور نہیں تھا جب ڈالر اکاؤنٹ منجمد کرکے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا گیا تھا اور لاتعداد گھر برباد ہوگئے۔
کیا یہی وہ ”مبارک “ زمانہ نہیں تھا جب فرقہ واریت کا عفریت سرعام نمازیوں تک کا خون پی رہا تھا؟یہاں تک کہ خود ظل سبحانی اور قائد اعظم ثانی بھی قاتلانہ حملہ سے محفوظ نہ رہ سکے اور رائے ونڈ روڈ پر بال بال بچے۔
یہی دور تھا ناں جب سیاسی انتقام بذریعہ احتساب الرحمن ساتویں آسمان پر محو پرواز تھا جس کا ٹارگٹ بینظیر بھٹو نامی وہ خاتون بھی تھی جس کے ساتھ آپ نے ”میثاق جمہوریت“ پر دستخط فرمائے اور آج یہ دستاویز آپ کو بے حد عزیز ہے۔ آصف زرداری صاحب کی زبان پر بھی جمہوری داستان بھی تب ہی رقم کی گئی۔
کیا یہی دور نہ تھا جب ارتکاز طاقت کے شوق میں ہر طاقت کے ساتھ محاذ آرائی کو بڑھاوا دیا گیا جو”بارہ اکتوبر“ کا باعث بنا جس نے ملک کی چولیں ہلا دیں۔
پرویز مشرف پاکستان کے لئے ”بری خبر“ تھے تو اس بری خبر کو جنم کس نے دیا اور جنرل پرویز مشرف کس ”جینئس“ اور”وژنری“ کی چوائس تھے؟ اور کیوں؟
کیا ”پیلی ٹیکسی سکیم“ معیشت کے منکے پر ضرب کاری اک خالصتاً غیر اقتصادی اور سیاسی فیصلہ نہ تھا؟…سستی سیاسی مقولیت و شہرت کی اک بے حد مہنگی کوشش جس کی قیمت ملکی خزانے نے چکائی کہ اچھی سکیم میں ہمیشگی ہوتی ۔
کیا آپ بھول گئے کہ آپ کے سنہری یا آہنی دور حکومت کے دوران قیمتوں میں اضافہ کی شرح کیا تھی؟ فی کس آمدنی کتنی تھی؟ زرمبادلہ کے ذخائر کتنے رہ گئے تھے؟ اور بے روزگاری کا حال کیا تھا؟
کیا یکساں نصاب تعلیم جاری ہوگیا تھا؟ زرعی اصلاحات نافذ کردی گئی تھیں؟ ملاوٹ ختم ہوگئی تھی یا جعلی دوائیں بننی بکنی بند ہوگئی تھیں؟ پاپولیشن مینجمنٹ کی طرف توجہ دی گئی تھی یا لاء اینڈ آرڈر میں کوئی بہتری دیکھی گئی تھی؟ تھانہ کلچر تو آج تک سو فیصد وہی ہے حالانکہ گزشتہ چند سال سے پنجاب پر پھر آپ کی حکومت ہے؟ کوئی انقلابی زرعی پالیسی آئی تھی یا صنعتی؟ کتنے نئے چھوٹے شہروں کی بنیاد رکھی گئی تاکہ دیہی علاقوں سے شہروں پر یلغار کی حوصلہ شکنی ہوسکے؟ مقامی حکومتوں کا حال کیسا تھا؟ انتخابی اصلاحات ہوئی تھیں یا جعلی ووٹرویڈ آؤٹ کیا گیا تھا؟ دہری شہریت پر بین لگایا؟ عطائی ڈاکٹرز ختم کئے؟ میڈیا کا یہ سیلاب بھی مشرف صاحب کا تحفہ ہے ،آپ یا کوئی اور سیاسی ہوتا تو یہ ”جرم“ اور گناہ“ کبھی نہ کرتا؟ پینے کے صاف پانی کی کہانی کا انجام بھی”سرانجام“ ہے اور شرح خواندگی میں کتنا اضافہ ہوا تھا؟
میاں صاحب!
سچ تو یہ ہے کہ آپ… آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کسی نے کبھی کسی حقیقی تبدیلی کے لئے کچھ نہیں کیا۔ بھٹو سیاست کو ڈرائینگ روم سے نکال کر چوراہے میں لایا جو واقعی خوفناک ”تبدیلی“ تھی اور اسی لئے وہ آج تک زندہ ہے… باقی سب ٹوپی ڈرامے اور سطحی سیاست یا ڈنگ ٹپاؤ دھندے اور گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ کر شب دیگ پکانے کے مترادف ہے۔ آپ لوگوں نے تو آج بھی سیکورٹی کی آڑ میں سرکاری سڑکوں پر قبضے کرکے عوام کے رستے روک رکھے ہیں اور آپ کے روٹ ہی ختم ہونے میں نہیں آتے تو آپ سے تبدیلی کی توقع؟؟؟
اے امیر المومنین جیسے منصب کے امیدوار! بڑے لیڈر شخصیات اور واقعات سے ماورا ہو کر نئے موضوعات اور نئے عنوانات کے نقیب ہوتے ہیں۔موٹر ویز، ایٹم بم اور ائیر پورٹس سے نہ عوام کو علم ملتا ہے نہ علاج نہ عزت نفس…یہ”منزلیں“ نہیں بلکہ ان تک پہنچنے کے مختلف”رستے“ ہیں۔ قائدین اپنی قوموں کی اپ گریڈیشن کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ عام آدمی کو موٹر وے، ایٹم بم اور ائیر پورٹ سے کیا لینا دینا؟ایٹم بم آپ کی بے تحاشہ دولت اور غریب کی غربت کا محافظ ہے اور کیا یہ سب مل جل کر بھی اس کا مقدر بدل سکے؟ سو پلیز !ماضی سے نکل کر مستقبل کی فکر کریں، کوئی وژن دیں، کسی نئی حکمت عملی کااعلان کریں۔ آپ کی جلا وطنی جبری تھی اور لمبی بھی، میری جلا وطنی خود ساختہ تھی اور مختصر بھی…جو زخم آپ کو لگے مجھے ان کا بھرپور اندازہ ہے لیکن افسوس آپ کی سمت اور ترجیحات درست نہیں… ماضی پر جزوی مٹی ڈال کر کلی طور پر مستقبل پر فوکس کریں ورنہ سب کچھ”آؤٹ آف فوکس“ ہوجائے گا۔
 
Print Version