Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Friday, December 30, 2011

Golden Era of Nawaz Sharif: A Glimpse [Urdu] By Hasan Nisar




میاں صاحب!مستقبل کی بات کریں...چوراہا …حسن نثار
کیا (ن) لیگ میں ایک شخص بھی ایسا نہیں جو اپنے لیڈر کو اک ایسی بات کی تکرار سے رو ک سکے جو بے بنیاد بھی ہے اور مضحکہ خیز بھی۔ میاں نواز شریف تسلسل سے یہ بات دہرائے جارہے ہیں کہ”تبدیلی“ لانے کے دعویدار تو جب لائیں گے لیکن ہم تو کب سے تبدیلی لا بھی چکے۔ ہم نے موٹروے بنائی، ایٹمی دھماکے کئے اور سبز پاسپورٹ کو سربلند کیا اور ہمارے زمانہ میں دہشتگردی کا نام و نشان نہ تھا یعنی میاں صاحب اپنے زمانہ کو ”سنہرا دور“ قرار دینے پر مصر ہیں اور نیوٹرل لوگ اس کا مذاق اڑارہے ہیں۔
لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ وہی سنہرا زمانہ نہیں تھا جب بھوک کے مارے چن زیب نامی اک پاکستانی نے آپ کے گھر کے سامنے کامیاب خود سوزی کی تھی؟ اور یہ عہد خود سوزی تھا ۔
کیا یہ وہی دور نہ تھا جب یہ سرخی بھی کسی اخبار کی زینت بنی کہ……”شیر آٹا کھا گیا“
کیا یہی وہ گولڈن پیریڈ نہیں تھا جب ”ریاض بسرا“ جیسی بلائیں اس ملک میں دندناتی پھرتی تھیں؟
اور کیا یہ اسی زمانے کی بات نہیں جب عدلیہ پر چڑھائی ہوئی اور اس کے نتیجہ میں کچھ متوالے نااہل قرار دئیے گئے؟ اور آج تک …”پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں“ ۔
اور کیا یہی وہ زریں عہد نہیں تھا جس میں اک ڈکٹیٹر کے شب خون پر آپ کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو لاہور جیسے شہر میں لوگوں نے اس قدر مٹھائیاں تقسیم کی کہ سویٹ شاپس خالی ہوگئیں۔
کیا آپ کا دورہی وہ دور نہیں تھا جب ڈالر اکاؤنٹ منجمد کرکے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا گیا تھا اور لاتعداد گھر برباد ہوگئے۔
کیا یہی وہ ”مبارک “ زمانہ نہیں تھا جب فرقہ واریت کا عفریت سرعام نمازیوں تک کا خون پی رہا تھا؟یہاں تک کہ خود ظل سبحانی اور قائد اعظم ثانی بھی قاتلانہ حملہ سے محفوظ نہ رہ سکے اور رائے ونڈ روڈ پر بال بال بچے۔
یہی دور تھا ناں جب سیاسی انتقام بذریعہ احتساب الرحمن ساتویں آسمان پر محو پرواز تھا جس کا ٹارگٹ بینظیر بھٹو نامی وہ خاتون بھی تھی جس کے ساتھ آپ نے ”میثاق جمہوریت“ پر دستخط فرمائے اور آج یہ دستاویز آپ کو بے حد عزیز ہے۔ آصف زرداری صاحب کی زبان پر بھی جمہوری داستان بھی تب ہی رقم کی گئی۔
کیا یہی دور نہ تھا جب ارتکاز طاقت کے شوق میں ہر طاقت کے ساتھ محاذ آرائی کو بڑھاوا دیا گیا جو”بارہ اکتوبر“ کا باعث بنا جس نے ملک کی چولیں ہلا دیں۔
پرویز مشرف پاکستان کے لئے ”بری خبر“ تھے تو اس بری خبر کو جنم کس نے دیا اور جنرل پرویز مشرف کس ”جینئس“ اور”وژنری“ کی چوائس تھے؟ اور کیوں؟
کیا ”پیلی ٹیکسی سکیم“ معیشت کے منکے پر ضرب کاری اک خالصتاً غیر اقتصادی اور سیاسی فیصلہ نہ تھا؟…سستی سیاسی مقولیت و شہرت کی اک بے حد مہنگی کوشش جس کی قیمت ملکی خزانے نے چکائی کہ اچھی سکیم میں ہمیشگی ہوتی ۔
کیا آپ بھول گئے کہ آپ کے سنہری یا آہنی دور حکومت کے دوران قیمتوں میں اضافہ کی شرح کیا تھی؟ فی کس آمدنی کتنی تھی؟ زرمبادلہ کے ذخائر کتنے رہ گئے تھے؟ اور بے روزگاری کا حال کیا تھا؟
کیا یکساں نصاب تعلیم جاری ہوگیا تھا؟ زرعی اصلاحات نافذ کردی گئی تھیں؟ ملاوٹ ختم ہوگئی تھی یا جعلی دوائیں بننی بکنی بند ہوگئی تھیں؟ پاپولیشن مینجمنٹ کی طرف توجہ دی گئی تھی یا لاء اینڈ آرڈر میں کوئی بہتری دیکھی گئی تھی؟ تھانہ کلچر تو آج تک سو فیصد وہی ہے حالانکہ گزشتہ چند سال سے پنجاب پر پھر آپ کی حکومت ہے؟ کوئی انقلابی زرعی پالیسی آئی تھی یا صنعتی؟ کتنے نئے چھوٹے شہروں کی بنیاد رکھی گئی تاکہ دیہی علاقوں سے شہروں پر یلغار کی حوصلہ شکنی ہوسکے؟ مقامی حکومتوں کا حال کیسا تھا؟ انتخابی اصلاحات ہوئی تھیں یا جعلی ووٹرویڈ آؤٹ کیا گیا تھا؟ دہری شہریت پر بین لگایا؟ عطائی ڈاکٹرز ختم کئے؟ میڈیا کا یہ سیلاب بھی مشرف صاحب کا تحفہ ہے ،آپ یا کوئی اور سیاسی ہوتا تو یہ ”جرم“ اور گناہ“ کبھی نہ کرتا؟ پینے کے صاف پانی کی کہانی کا انجام بھی”سرانجام“ ہے اور شرح خواندگی میں کتنا اضافہ ہوا تھا؟
میاں صاحب!
سچ تو یہ ہے کہ آپ… آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کسی نے کبھی کسی حقیقی تبدیلی کے لئے کچھ نہیں کیا۔ بھٹو سیاست کو ڈرائینگ روم سے نکال کر چوراہے میں لایا جو واقعی خوفناک ”تبدیلی“ تھی اور اسی لئے وہ آج تک زندہ ہے… باقی سب ٹوپی ڈرامے اور سطحی سیاست یا ڈنگ ٹپاؤ دھندے اور گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ کر شب دیگ پکانے کے مترادف ہے۔ آپ لوگوں نے تو آج بھی سیکورٹی کی آڑ میں سرکاری سڑکوں پر قبضے کرکے عوام کے رستے روک رکھے ہیں اور آپ کے روٹ ہی ختم ہونے میں نہیں آتے تو آپ سے تبدیلی کی توقع؟؟؟
اے امیر المومنین جیسے منصب کے امیدوار! بڑے لیڈر شخصیات اور واقعات سے ماورا ہو کر نئے موضوعات اور نئے عنوانات کے نقیب ہوتے ہیں۔موٹر ویز، ایٹم بم اور ائیر پورٹس سے نہ عوام کو علم ملتا ہے نہ علاج نہ عزت نفس…یہ”منزلیں“ نہیں بلکہ ان تک پہنچنے کے مختلف”رستے“ ہیں۔ قائدین اپنی قوموں کی اپ گریڈیشن کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ عام آدمی کو موٹر وے، ایٹم بم اور ائیر پورٹ سے کیا لینا دینا؟ایٹم بم آپ کی بے تحاشہ دولت اور غریب کی غربت کا محافظ ہے اور کیا یہ سب مل جل کر بھی اس کا مقدر بدل سکے؟ سو پلیز !ماضی سے نکل کر مستقبل کی فکر کریں، کوئی وژن دیں، کسی نئی حکمت عملی کااعلان کریں۔ آپ کی جلا وطنی جبری تھی اور لمبی بھی، میری جلا وطنی خود ساختہ تھی اور مختصر بھی…جو زخم آپ کو لگے مجھے ان کا بھرپور اندازہ ہے لیکن افسوس آپ کی سمت اور ترجیحات درست نہیں… ماضی پر جزوی مٹی ڈال کر کلی طور پر مستقبل پر فوکس کریں ورنہ سب کچھ”آؤٹ آف فوکس“ ہوجائے گا۔


http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=584882
The Muslim world has the unique distinction of being ruled by the corrupt dictators and kings .The wave of people uprising for change, freedom, democracy and justice has swept across the Middle East. Pakistanis are however ...
The dilemmas of PPP and PML-N politics are even more alarming at another level: both the leaderships are family-based and increasingly ancestral-focused: both have been accused of and charged with massive corruption ...
Corruption in Pakistan is widespread and growing. In the latest Corruption Perception Index, the country is ranked the 34th most corrupt country in the world, up from 42nd last year. Recent polls reveal a pervasive culture of . ...
There are around 1200 elected members at federal and provincial houses in Pakistan , who are perceived to be corrupt. The figure of 1200 corrupt out of total population of 180000000 is very small, rather insignificant fraction ...