Pages
- Home
- FrontPage
- FB
- Delusions
- Save Pakistan
- نظریہ پاکستان
- Electoral Reforms
- ووٹ کی شرعی حیثیت
- Kashmir
- Importance of Pakistan
- Love Pakistan
- Ideology of Pakistan نظریہ پاکستان
- Our Dilemma & Options
- Pak-Pedia
- One God
- Why Religion?
- Why Islam?
- Peace Forum
- Anti Islam FAQs
- Democracy, Shari'a & Khlafah
- Free eBooks
- Faith Forum
- خلافت
- Corruption
- Role of Ulema in Quran
- Reconstruction of Religious Thought
- Tolerance
- Altaf Qamar
- صرف مسلمان Muslim Only
- Free Books
- Islam & Pakistan
- Special Picks
- سلام انڈکس
Featured Post
FrontPage صفحہ اول
Salaam Pakistan is one of projects of "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...
Destruction if National Action Plan (NAP) نیشنل ایکشن پلان کا دھڑن تختہ ۔۔۔۔ !
What are the advantages and disadvantages of using the First-past-the-post voting system?
In public elections, FPTP is the second most widely used voting system in the world, after Party-List PR. It is principally used in the electoral systems that are either are, or were once, British Colonies. FPTP is currently used to elect members of the House of Commons in the UK, both chambers of the US Congress and the lower houses in both Canada and India. The use of FPTP voting systems used to be more widespread, but many countries have now adopted other alternative voting systems.
The advantages and benefits of a FPTP voting system
It’s simple to understand.
It doesn’t cost much to administer.
It’s is fairly quick to count the votes and work out who has won; meaning results can be declared relatively quickly after the polls close.
In a political environment, FPTP enables voters to clearly express a view on which party they think should form the next government.
FPTP is ideally suited to a two-party system and generally produces single-party governments, although the 2010 UK General Election was an obvious exception
Single-party governments by and large don’t have to rely on support from other parties to pass legislation, though as the UK has found that is not always necessarily the case as the current Coalition Government demonstrates.
Some would argue that FPTP voting systems encourage broad-church centrist policies and discourage extremist points of view
The disadvantages and shortcomings of FPTP voting systems
Representatives can get elected with small amounts of public support, as the size of the winning margin is irrelevant: what matters is only that they get more votes than other candidates.
FPTP encourages tactical voting, as voters often vote not for the candidate they most prefer, but against the candidate they most dislike.
FPTP is regarded as wasteful, as votes cast in a constituency for losing candidates, or for the winning candidate above the level they need to win that seat, count for nothing.
FPTP can severely restrict voter choice. Parties are not homogenous and do not speak with one unified voice. Parties are more coalitions of many different viewpoints. If the preferred-party candidate in a constituency has views with which a voter doesn’t agree, he or she doesn’t have a means of expressing that at the ballot box.
Rather than allocating seats in line with actual support, FPTP rewards parties with what is often termed ‘lumpy’ support; that is, with just enough votes to win in each particular area. With smaller parties, this works in favour of those with centralised support.
With relatively small constituency sizes, the way boundaries are drawn can have important effects on the election result.
Having small constituencies often leads to a proliferation of safe seats, where the same party is all but guaranteed re-election at each election. This not only effectively disenfranchises a region’s voters, but it leads to these areas being ignored when it comes to framing policy.
If large areas of the country are effectively electoral deserts for any particular party, not only is the area ignored by that party, but also ambitious politicians from the area will have to move away from their locality if they aspire to have influence within their party.
Because FPTP restricts a constituency’s choice of candidates, the representation of minorities and women suffers, as the ‘safest’ looking candidate is the one most likely to be offered the chance to stand for election
Although encouraging two-party politics can be advantageous, in a multi-party culture, third parties with significant support can often be greatly disadvantaged.
For an independent assessment of your organisation’s electoral needs and impartial advice and guidance about the electoral system that best fits your requirements speak to UK-Engage.
http://www.uk-engage.org/2013/06/what-are-the-advantages-and-disadvantages-of-using-the-first-past-the-post-voting-system-2/
Electoral Reforms in Pakistan;http://pakistan-posts.blogspot.com/2011/06/political-reforms-for-stable-democracy.html
..............
Interrogating democracy
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
Books, Articles, Blogs, Magazines, Videos, Social Media
Overall 2 Million visits/hits
Chaos in Kashmir: A Question of Identity
Chaos in Kashmir: A Question of Identity
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
Books, Articles, Blogs, Magazines, Videos, Social Media
Overall 2 Million visits/hits
ترکی اور پاکستان کے حالات تقابلی جائزہ Turkey and Pakistan- A Comparison
رات ترکی میں ایک ملٹری گروپ کی بغاوت ناکام هونے کے بعد درباری بغلیں بجاکر میڈیا پر یه تاثردینے کی کوشش کررهے هیں که جیسے یه واقعه ترکی میں نهیں بلکه پاکستان میں هواهو, اور پاک آرمی اور جنرل راحیل شریف کوشکست اور نواز شریف ٹولے کوفتح هوئی هو. ترکی واقعه کی آڑ میں پاکستان فوج کے خلاف غیر محسوس طریقے سے زهر اگلاجارها هے.مگر حقیقت یه هے که ترکی اورپاکستان کے حالات میں زمین آسمان کافرق هے.
1 - ترکی میں فوج نے حکومت کاتخته نهیں الٹا بلکه ایک فوجی ٹولے نے حکومت اور اپنی هی فوج کے خلاف بغاوت کی اور آرمی چیف کوبھی یرغمال بنالیا.
2- ترکی میں نه 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ هے اور نه هی بھوک اور غربت سے عوام خودسوزیوں اور خودکشیوں پر مجبور هیں.
3- ترکی میں نه هی کسان اپنی فصلیں جلانے پرمجبور هیں اور نه هی وهاں کے حکمران سانحه ماڈل ٹاؤن جیسی ریاستی دهشتگردی میں ملوث هیں.
4- ترکی میں نه هی چھوٹوگینگ حکمران پارٹی کے لوگوں کی سرپرستی میں قائم هیں اور نه هی وهاں حکومتی وزراء کی سرپرستی میں Sectarian Gangs ٹارگٹ کلنگ میں ملوث هیں.
5- ترکی میں نه ایک صوبے کاسائز ملک کے کل حصے کا62% هے اورنه هی ترکی میں شهری ایسے جوهڑوں پر پانی پینے پرمجبورهیں جهاں انسان اورگدھے ایک هی جگه سے پانی پی رهے هیں.
6- ترکی میں نه هی حکمران نوازشریف کی طرح بادشاه اور نه هی عوام پانامه لیکس میں گھرے حکمرانوں کی عدم توجه سے هسپتالوں میں هیپاٹائٹس اور کڈنی فیل هونے پر ایڑیاں رگڑرگڑکر مررهے هیں.
7- ترکی میں نه وهاں کاوزیراعظم اپنے دشمن ملک کے وزیراعظم سے دوستی کرکے اپنی فوج کے خلاف سازشوں میں مصروف هے اور نه هی ترکی میں را کی سازشیں هیں.
8- ترکی میں نه هی وزیرخارجه کے بغیر ملک چلایاجارهاهے اور نه هی وهاں کاوزیراعظم ڈیڑھ ماه تک لندن میں مقیم ره کر اپنے بچوں سے نظام حکومت چلواتارهاهے.
9- ترکی میں نه حکمران میٹروبس, اورنج ٹرین اور نندی پورپاور پراجیکٹ جیسے سکینڈلز میں ملوث هیں اور نه هی وهاں ایک بھائی ملک کاوزیراعظم اور دوسرابھائی وزیراعلی هے.
10- ترکی میں نه هی بینالی آراوز الیکشن کے نتیجے میں وزیراعظم منتخب هوئے اور نه هی طیب اردگان اچھے گول گپے اور دهی بھلے پیش کرنے کی وجه سے صدر بنے.
11- ترکی میں نه هی جمهوریت کے نام پر بدترین آمریت قائم هے اور نه وزیراعظم بینالی , انکے بھائی اور وزراء کے خلاف ریاستی دهشتگردی کرنے پر چوده افراد کے قتل کامقدمه درج هے.
12- ترکی کاوزیراعظم نه نواز شریف کی طرح عوامی حمایت کھوکر ملک کی ناپسندیده ترین شخصیت بن چکاهے اور نه هی وهاں کے باغیوں کےگھر میں نشان حیدرجیسے بڑے اعزازات هیں.
مختصر یه که وهاں نه وزیراعظم نوازشریف جیسا شهنشاه اور نه صدرممنون حسین جیسا بے اختیارهے.
لهذا بغلیں بجانے والے ترکی میں ایک فوجی ٹولے کی بغاوت کو پاک فوج کی کردارکشی کرنے کی بجائے اپنے کرتوتوں پر غورکریں.
............................
ہمارے دانشور جو یہ سنا رہے ہیں کہ شاید اب پاکستان میں ایسا کرنا ممکن نہیں رہے گا وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔
طیب اردوان اور ہمارے شریف بادشاہوں میں بڑا فرق ہے۔ اردوان استنبول کے میئر بن کر نچلی سطح پر تبدیلی لائے، بلدیاتی نظام کے ذریعے عوام کے دل جیتے، ترکی کو کھویا ہوا مقام دلوایا۔ ہمارے پاکستانی بادشاہ سلامت اس کے برعکس ہیں۔
میاں نواز شریف سات ماہ پارلیمنٹ میں نہیں جاتے۔ میاں شہباز شریف پنجاب اسمبلی میں اپنا دیدار نہیں کراتے ۔ یہاں فوجی حکمران بلدیاتی ادارے متعارف کراتے ہیں جبکہ سیاسی حکمران انہیں تباہ کر دیتے ہیں۔ جنرل مشرف دورکے بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہوئی تو زرداری اور ان کے بعد نواز حکومت نے ان کا نام تک نہیں لیا۔ سپریم کورٹ پانچ سال سیاسی حکمرانوں سے لڑتی رہی، گزشتہ برس جا کر الیکشن ہوئے لیکن اب تک بلدیاتی اداروںکے چیئرمینوںکے انتخابات نہیں کرائے گئے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اسلام آباد کے میئر کا کیا نام ہے؟ وہ میئر جو لندن کے ایجوائے روڈ پر چارپائی ڈال کر بیٹھا رہا کہ کہیں میاں صاحب کو ہسپتال میں کوئی ضرورت پیش نہ آجائے؟ اسلام آباد کا میئر ایسے شخص کو بنایا گیا جو سی ڈی اے کا ٹھیکدار تھا اور اس نے ایف الیون اور مری میں شاہی خاندان کو گھر تعمیر کر کے دیے۔
بلدیاتی نظام جس سے اردوان نے طاقت حاصل کی اور عوام کے دل جیتے اس پر تو ہمارے حکمران یقین ہی نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک یہ ادارے ان کی اور ان کے حواریوں کی طاقت پرکھلے حملے کے مترادف ہیں۔ لہٰذا سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کرا بھی دیے تو سات ماہ گزرنے کے باوجود انہیں بجٹ دیا نہ چیئرمینوں کا انتخاب ہونے دیا۔ لاہور کا کوئی میئر ہی نہیں ہے۔ ایک کشمیری، خواجہ حسان نے میئر بننا ہے جو ترکی کے دورے پر پچاس لاکھ روپے خرچ بھی کر آئے ہیں۔ مئیر کے الیکشن کی ضرورت ہی نہیں۔ نام ہی کافی ہے!
.....................
پاکستان اور ترکی۔۔۔
یہ عوام کا کمال نہیں کہ انہوں نے سڑکوں پر نکل کر سیاسی قیادت کو بچا لیا، یہ کمال اس سیاسی قیادت کا ہے جس نے اپنے لوگوں کو مجبورکر دیا کہ اگر وہ خوشحال زندگی چاہتے ہیں تو باہر نکلیں۔ سب لوگ اپنے مفاد کے لیے باہر نکلے، طیب اردوان کا اقتدار بچانے کے لیے نہیں۔
ترک عوام کو خراج تحسین پیش کرنے سے پہلے آپ کو ترکوں کی موجودہ قیادت کا بیک گروانڈ دیکھنا ہوگا کہ کیسے طیب اردوان نے استنبول کا میئر بن کر اس شہرکی تاریخ ہی بدل دی۔ لوگوں کی نچلے لیول پر خدمت کر کے ان کے دل جیتے اور ایسے جیتے کہ ترکوں نے اسے استنبول سے اٹھا کر ملک کا وزیراعظم اور پھر صدر بنا دیا اور آج اس کے خلاف فوجی بغاوت ناکام بنا دی۔ یہ بھی نہ بھولا جائے کہ آج ترکی میں دہشت گردی کا سماں ہے۔ چودہ حملوں میں سیکڑوں ترک مارے جا چکے ہیں۔ سیاحت کی صنعت یکدم نیچے آگئی ہے۔ ترکی کے لیے یہ مشکلات کا دور ہے کیونکہ اس کی ایران، شام اور عراق کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں اور ترکی پر الزامات لگ رہے ہیں کہ اس نے شام میں بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی مدد کر کے اپنے لیے مشکلات پیدا کر لی ہیں۔ بعد میں انہی باغی گروپوں نے ترکی کے اندر بھی حملے شروع کر دیے۔ فوج ناراض تھی کہ طیب اردوان کی اس پالیسی کی وجہ سے خطے میں دہشت گردی بڑھ گئی اور ترکی کی اپنی سکیورٹی بھی خطرے میں پڑگئی ہے۔ انسانی حقوق کا حشر ہم دیکھ چکے ہیں۔ دو بڑے میڈیا ہائوسز پر طیب حکومت کا قبضہ ہے اور ایک پر اس کا بیٹا بیٹھا ہے۔ سوشل میڈیا پر سختی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صحافیوں کو سب سے زیادہ ترکی میں قید کیا گیا ہے۔ اردوان پرکمنٹ(تبصرہ) کرنا جرم ہے۔ 2003ء میں ہونے و الی ناکام بغاوت کے بعد بے گناہ فوجیوںکو بھی سزائیں سنائی گئی تھیں جس پر فوج کے کچھ افسران نالاں تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ بغاوت کرنل لیول کے افسروں نے کی تھی، اس میں اعلیٰ فوجی قیادت شامل نہیں تھی۔ اس کے باوجود پچاس فیصد ترک طیب اردوان سے محبت جبکہ باقی پچاس فیصد اس سے نفرت کرتے ہیں۔ انہی محبت کرنے والے پچاس فیصد میں سے لوگ باہر نکلے جبکہ نفرت کرنے والے گھروں میں رہے۔ نتیجہ سامنے ہے۔
http://m.dunya.com.pk/index.php/author/rauf-kalsra/
................
غلط فہمی
بغاوت کے آغاز میں امریکہ کا طرز عمل محتاط اور عملاً باغیوں کے حق میں تھا۔ جان کیری نے جمہوریت کے حق میں آواز بلند کرنے کے بجائے امن برقرار رکھنے پر زور دیا اور ہرگز یہ تاثر نہیں دیا کہ امریکہ فوجی شب خون کا مخالف اور جمہوریت برقرار رکھنے کا خواہش مند ہے۔ یہ اُن لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ فوجی حکمرانی کا دور لد چکا اور عالمی برادری کسی فوجی بغاوت کی حمایت نہیں کر سکتی۔ لہٰذا اس بغاوت میں اردوان کے لیے یہ سبق ہے کہ وہ اندرون ملک سیاسی مخالفین‘ میڈیا اور خدمت تحریک سے مفاہمت کی راہ تلاش کریں اور مخالفین کو اس قدر دیوار سے نہ لگائیں کہ کوئی تیسری قوت اس کا فائدہ اٹھا سکے۔ ترکی میں عوام کی کامیابی پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی خوشی دیدنی ہے مگر ان کی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ اگر اردوان جیسے مقبول سیاستدان کو آمرانہ رجحانات‘ کرپشن کے الزامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر فوجی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو تیسری دنیا اور عالم اسلام کے وہ لیڈر کس باغ کی مولی ہیں جن کا کل اثاثہ بلند بانگ دعوے ‘ بے مغز بیانات اور بیرون ملک جائیدادیں‘ اکائونٹس ہیں جبکہ ان کا دامن تار تار اور چہرہ داغ دار ہے۔
بغاوت کی ناکامی میں عوام کے عزم و حوصلے کے علاوہ اردوان کی جرأت مندی کا دخل ہے جس نے بدترین حالات میں چھٹیاں منسوخ کر کے استنبول آنے کا فیصلہ کیا اور باغیوں کی فضا میں پروا کی نہ ائرپورٹ اور نہ شہر میں۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اس کے اپنے محافظوں میں کوئی باغی ہو سکتا ہے اور ایئرپورٹ پر استقبال کرنے والوں میں بھی۔ جو بے عمل سیاستدان سازشی کہانی سے گھبرا کر دارالحکومت چھوڑ کر اپنی اندرون و بیرون ملک پناہ گاہوں کا رُخ کرتے ہیں اُن کے لیے کبھی عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں نہ ٹینکوں کے آگے لیٹتے‘ اور نہ گولیاں سینے پر کھا کر جمہوریت کا دفاع کرتے ہیں۔ بہادر‘ ایثار پیشہ‘ باصلاحیت اور جذبہ خدمت خلق سے سرشار لیڈر ہی عوام کو سڑکوں پر نکلنے اور باغیوں کا مقابلہ کرنے کی دعوت دیں تو کوئی لبیک کہتا ہے۔ بے ثمر‘ بے فیض جمہوریت کی رخصتی پر لوگ صرف مٹھائیاں ہی تقسیم کر سکتے ہیں اور وہ کرتے ہیں۔ یہی ترکی اور پاکستان‘ ہماری سیاسی قیادت اور اردوان میں فرق ہے۔ مسعود کرمز کو مگر فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔
Irshad Arif dunya . Com.pk
.........
Read more:
Turkey was already undergoing a slow-motion coup – by Erdoğan, not the army
http://www.theguardian.com/commentisfree/2016/jul/16/turkey-coup-army-erdogan
Competing Narratives & Counter Narrative
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
Books, Articles, Blogs, Magazines, Videos, Social Media
Overall 2 Million visits/hits
-
ہمارے بڑے سیاست دانوں کی اصلیت کو کتاب " سرمایہ دارانہ نظام کا کمزور پہلو” (“Capitalism’s Achilles Heel” ) بے نقاب کرتی ہے یہ ایک ...
-
آج کی دنیا میں اسمبلیوں، کونسلوں، میونسپل وارڈوں اور دوسری مجالس اور جماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر ج...
-
Salaam Pakistan is one of projects of "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...
-
"ہم ایک ایسے اسلامی تصور کا تعاقب کر رہے ہیں جو انسانیت، جمالیات، دانش اور روحانی عقیدت سے خالی ہے … جس کا تعلق طاقت سے ہے...
-
The echo of rigging in Election 2013 was again in the air in 2018. In 2013 all looser parties claimed that the elections were rigged. PT...
-
https://youtu.be/i766yxRKAes حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جب مجوزہ پاکستان سے باہرکے قریبی علاقوں کے مسلمانوں نے اپنے گھر بار اور م...


