Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Sunday, July 17, 2016

ترکی اور پاکستان کے حالات تقابلی جائزہ Turkey and Pakistan- A Comparison


رات ترکی میں ایک ملٹری گروپ کی بغاوت ناکام هونے کے بعد درباری بغلیں بجاکر میڈیا پر یه تاثردینے کی کوشش کررهے هیں که جیسے یه واقعه ترکی میں نهیں بلکه پاکستان میں هواهو, اور پاک آرمی اور جنرل راحیل شریف کوشکست اور نواز شریف ٹولے کوفتح هوئی هو. ترکی واقعه کی آڑ میں پاکستان فوج کے خلاف غیر محسوس طریقے سے زهر اگلاجارها هے.مگر حقیقت یه هے که ترکی اورپاکستان کے حالات میں زمین آسمان کافرق هے.
1 - ترکی میں فوج نے حکومت کاتخته نهیں الٹا بلکه ایک فوجی ٹولے نے حکومت اور اپنی هی فوج کے خلاف بغاوت کی اور آرمی چیف کوبھی یرغمال بنالیا. 
2- ترکی میں نه 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ هے اور نه هی بھوک اور غربت سے عوام خودسوزیوں اور خودکشیوں پر مجبور هیں.
3- ترکی میں نه هی کسان اپنی فصلیں جلانے پرمجبور هیں اور نه هی وهاں کے حکمران سانحه ماڈل ٹاؤن جیسی ریاستی دهشتگردی میں ملوث هیں.
4- ترکی میں نه هی چھوٹوگینگ حکمران پارٹی کے لوگوں کی سرپرستی میں قائم هیں اور نه هی وهاں حکومتی وزراء کی سرپرستی میں Sectarian Gangs ٹارگٹ کلنگ میں ملوث هیں.
5- ترکی میں نه ایک صوبے کاسائز ملک کے کل حصے کا62% هے اورنه هی ترکی میں شهری ایسے جوهڑوں پر پانی پینے پرمجبورهیں جهاں انسان اورگدھے ایک هی جگه سے پانی پی رهے هیں.
6- ترکی میں نه هی حکمران نوازشریف کی طرح بادشاه اور نه هی عوام پانامه لیکس میں گھرے حکمرانوں کی عدم توجه سے هسپتالوں میں  هیپاٹائٹس اور کڈنی فیل هونے پر ایڑیاں رگڑرگڑکر مررهے هیں.
7- ترکی میں نه وهاں کاوزیراعظم اپنے دشمن ملک کے وزیراعظم سے دوستی کرکے اپنی فوج کے خلاف سازشوں میں مصروف هے اور نه هی ترکی میں را کی سازشیں هیں.
8- ترکی میں نه هی وزیرخارجه کے بغیر ملک چلایاجارهاهے اور نه هی وهاں کاوزیراعظم ڈیڑھ ماه تک لندن میں مقیم ره کر اپنے بچوں سے نظام حکومت چلواتارهاهے.
9- ترکی میں نه حکمران میٹروبس, اورنج ٹرین اور نندی پورپاور پراجیکٹ جیسے سکینڈلز میں ملوث هیں اور نه هی وهاں ایک بھائی ملک کاوزیراعظم اور دوسرابھائی وزیراعلی هے.
10- ترکی میں نه هی بینالی آراوز الیکشن کے نتیجے میں وزیراعظم منتخب هوئے اور نه هی طیب اردگان اچھے گول گپے اور دهی بھلے پیش کرنے کی وجه سے صدر بنے.
11- ترکی میں نه هی جمهوریت کے نام پر بدترین آمریت قائم هے اور نه وزیراعظم بینالی , انکے بھائی اور وزراء کے خلاف ریاستی دهشتگردی کرنے پر چوده افراد کے قتل کامقدمه درج هے.
12- ترکی کاوزیراعظم نه نواز شریف کی طرح عوامی حمایت کھوکر ملک کی ناپسندیده ترین شخصیت بن چکاهے اور نه هی وهاں کے باغیوں کےگھر میں نشان حیدرجیسے بڑے اعزازات هیں.
مختصر یه که وهاں نه وزیراعظم نوازشریف جیسا شهنشاه اور نه صدرممنون حسین جیسا بے اختیارهے.
لهذا بغلیں بجانے والے ترکی میں ایک فوجی ٹولے کی بغاوت کو پاک فوج کی کردارکشی کرنے کی بجائے اپنے کرتوتوں پر غورکریں.
............................
ہمارے دانشور جو یہ سنا رہے ہیں کہ شاید اب پاکستان میں ایسا کرنا ممکن نہیں رہے گا وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

طیب اردوان اور ہمارے شریف بادشاہوں میں بڑا فرق ہے۔ اردوان استنبول کے میئر بن کر نچلی سطح پر تبدیلی لائے، بلدیاتی نظام کے ذریعے عوام کے دل جیتے، ترکی کو کھویا ہوا مقام دلوایا۔ ہمارے پاکستانی بادشاہ سلامت اس کے برعکس ہیں۔

میاں نواز شریف سات ماہ پارلیمنٹ میں نہیں جاتے۔ میاں شہباز شریف پنجاب اسمبلی میں اپنا دیدار نہیں کراتے ۔ یہاں فوجی حکمران بلدیاتی ادارے متعارف کراتے ہیں جبکہ سیاسی حکمران انہیں تباہ کر دیتے ہیں۔ جنرل مشرف دورکے بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہوئی تو زرداری اور ان کے بعد نواز حکومت نے ان کا نام تک نہیں لیا۔ سپریم کورٹ پانچ سال سیاسی حکمرانوں سے لڑتی رہی، گزشتہ برس جا کر الیکشن ہوئے لیکن اب تک بلدیاتی اداروںکے چیئرمینوںکے انتخابات نہیں کرائے گئے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اسلام آباد کے میئر کا کیا نام ہے؟ وہ میئر جو لندن کے ایجوائے روڈ پر چارپائی ڈال کر بیٹھا رہا کہ کہیں میاں صاحب کو ہسپتال میں کوئی ضرورت پیش نہ آجائے؟ اسلام آباد کا میئر ایسے شخص کو بنایا گیا جو سی ڈی اے کا ٹھیکدار تھا اور اس نے ایف الیون اور مری میں شاہی خاندان کو گھر تعمیر کر کے دیے۔
بلدیاتی نظام جس سے اردوان نے طاقت حاصل کی اور عوام کے دل جیتے اس پر تو ہمارے حکمران یقین ہی نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک یہ ادارے ان کی اور ان کے حواریوں کی طاقت پرکھلے حملے کے مترادف ہیں۔ لہٰذا سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کرا بھی دیے تو سات ماہ گزرنے کے باوجود انہیں بجٹ دیا نہ چیئرمینوں کا انتخاب ہونے دیا۔ لاہور کا کوئی میئر ہی نہیں ہے۔ ایک کشمیری، خواجہ حسان نے میئر بننا ہے جو ترکی کے دورے پر پچاس لاکھ روپے خرچ بھی کر آئے ہیں۔ مئیر کے الیکشن کی ضرورت ہی نہیں۔ نام ہی کافی ہے!
.....................
پاکستان اور ترکی۔۔۔
یہ عوام کا کمال نہیں کہ انہوں نے سڑکوں پر نکل کر سیاسی قیادت کو بچا لیا، یہ کمال اس سیاسی قیادت کا ہے جس نے اپنے لوگوں کو مجبورکر دیا کہ اگر وہ خوشحال زندگی چاہتے ہیں تو باہر نکلیں۔ سب لوگ اپنے مفاد کے لیے باہر نکلے، طیب اردوان کا اقتدار بچانے کے لیے نہیں۔
ترک عوام کو خراج تحسین پیش کرنے سے پہلے آپ کو ترکوں کی موجودہ قیادت کا بیک گروانڈ دیکھنا ہوگا کہ کیسے طیب اردوان نے استنبول کا میئر بن کر اس شہرکی تاریخ ہی بدل دی۔ لوگوں کی نچلے لیول پر خدمت کر کے ان کے دل جیتے اور ایسے جیتے کہ ترکوں نے اسے استنبول سے اٹھا کر ملک کا وزیراعظم اور پھر صدر بنا دیا اور آج اس کے خلاف فوجی بغاوت ناکام بنا دی۔ یہ بھی نہ بھولا جائے کہ آج ترکی میں دہشت گردی کا سماں ہے۔ چودہ حملوں میں سیکڑوں ترک مارے جا چکے ہیں۔ سیاحت کی صنعت یکدم نیچے آگئی ہے۔ ترکی کے لیے یہ مشکلات کا دور ہے کیونکہ اس کی ایران، شام اور عراق کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں اور ترکی پر الزامات لگ رہے ہیں کہ اس نے شام میں بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی مدد کر کے اپنے لیے مشکلات پیدا کر لی ہیں۔ بعد میں انہی باغی گروپوں نے ترکی کے اندر بھی حملے شروع کر دیے۔ فوج ناراض تھی کہ طیب اردوان کی اس پالیسی کی وجہ سے خطے میں دہشت گردی بڑھ گئی اور ترکی کی اپنی سکیورٹی بھی خطرے میں پڑگئی ہے۔ انسانی حقوق کا حشر ہم دیکھ چکے ہیں۔ دو بڑے میڈیا ہائوسز پر طیب حکومت کا قبضہ ہے اور ایک پر اس کا بیٹا بیٹھا ہے۔ سوشل میڈیا پر سختی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صحافیوں کو سب سے زیادہ ترکی میں قید کیا گیا ہے۔ اردوان پرکمنٹ(تبصرہ) کرنا جرم ہے۔ 2003ء میں ہونے و الی ناکام بغاوت کے بعد بے گناہ فوجیوںکو بھی سزائیں سنائی گئی تھیں جس پر فوج کے کچھ افسران نالاں تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ بغاوت کرنل لیول کے افسروں نے کی تھی، اس میں اعلیٰ فوجی قیادت شامل نہیں تھی۔ اس کے باوجود پچاس فیصد ترک طیب اردوان سے محبت جبکہ باقی پچاس فیصد اس سے نفرت کرتے ہیں۔ انہی محبت کرنے والے پچاس فیصد میں سے لوگ باہر نکلے جبکہ نفرت کرنے والے گھروں میں رہے۔ نتیجہ سامنے ہے۔
http://m.dunya.com.pk/index.php/author/rauf-kalsra/
................
غلط فہمی
بغاوت کے آغاز میں امریکہ کا طرز عمل محتاط اور عملاً باغیوں کے حق میں تھا۔ جان کیری نے جمہوریت کے حق میں آواز بلند کرنے کے بجائے امن برقرار رکھنے پر زور دیا اور ہرگز یہ تاثر نہیں دیا کہ امریکہ فوجی شب خون کا مخالف اور جمہوریت برقرار رکھنے کا خواہش مند ہے۔ یہ اُن لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ فوجی حکمرانی کا دور لد چکا اور عالمی برادری کسی فوجی بغاوت کی حمایت نہیں کر سکتی۔ لہٰذا اس بغاوت میں اردوان کے لیے یہ سبق ہے کہ وہ اندرون ملک سیاسی مخالفین‘ میڈیا اور خدمت تحریک سے مفاہمت کی راہ تلاش کریں اور مخالفین کو اس قدر دیوار سے نہ لگائیں کہ کوئی تیسری قوت اس کا فائدہ اٹھا سکے۔ ترکی میں عوام کی کامیابی پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی خوشی دیدنی ہے مگر ان کی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ اگر اردوان جیسے مقبول سیاستدان کو آمرانہ رجحانات‘ کرپشن کے الزامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر فوجی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو تیسری دنیا اور عالم اسلام کے وہ لیڈر کس باغ کی مولی ہیں جن کا کل اثاثہ بلند بانگ دعوے ‘ بے مغز بیانات اور بیرون ملک جائیدادیں‘ اکائونٹس ہیں جبکہ ان کا دامن تار تار اور چہرہ داغ دار ہے۔
بغاوت کی ناکامی میں عوام کے عزم و حوصلے کے علاوہ اردوان کی جرأت مندی کا دخل ہے جس نے بدترین حالات میں چھٹیاں منسوخ کر کے استنبول آنے کا فیصلہ کیا اور باغیوں کی فضا میں پروا کی نہ ائرپورٹ اور نہ شہر میں۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اس کے اپنے محافظوں میں کوئی باغی ہو سکتا ہے اور ایئرپورٹ پر استقبال کرنے والوں میں بھی۔ جو بے عمل سیاستدان سازشی کہانی سے گھبرا کر دارالحکومت چھوڑ کر اپنی اندرون و بیرون ملک پناہ گاہوں کا رُخ کرتے ہیں اُن کے لیے کبھی عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں نہ ٹینکوں کے آگے لیٹتے‘ اور نہ گولیاں سینے پر کھا کر جمہوریت کا دفاع کرتے ہیں۔ بہادر‘ ایثار پیشہ‘ باصلاحیت اور جذبہ خدمت خلق سے سرشار لیڈر ہی عوام کو سڑکوں پر نکلنے اور باغیوں کا مقابلہ کرنے کی دعوت دیں تو کوئی لبیک کہتا ہے۔ بے ثمر‘ بے فیض جمہوریت کی رخصتی پر لوگ صرف مٹھائیاں ہی تقسیم کر سکتے ہیں اور وہ کرتے ہیں۔ یہی ترکی اور پاکستان‘ ہماری سیاسی قیادت اور اردوان میں فرق ہے۔ مسعود کرمز کو مگر فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔
Irshad Arif dunya . Com.pk
.........
Read more:
Turkey was already undergoing a slow-motion coup – by Erdoğan, not the army

http://www.theguardian.com/commentisfree/2016/jul/16/turkey-coup-army-erdogan

Competing Narratives & Counter Narrative

Let’s revisit the debate on narratives and imagine the kind of alternative narratives that we require in Pakistan. Can the Constitution provide and strengthen such narratives that may weaken the narratives of non-state actors? Alternatively, will the good governance mantra thrown around by the establishment be enough to defeat militancy in Pakistan?
The Constitution of Pakistan is a comprehensive social contract upon which most parties, espousing different thoughts, agree. Many experts believe that the Constitution has the power to eradicate negative narratives, and that this activity will help in laying the foundations for positive thinking. They argue that it is the only document on which all segments of our society — including nationalist, secular, liberal, moderate and religious forces — are in agreement, despite their divergent views and reservations on certain clauses. They can launch campaigns against such clauses. Political parties can contest elections to seek the mandate to amend such clauses. But, ultimately, this is a written, formal social contract built with consensus — and it binds forces of divergent views and values together. The Constitution and democratic system can ensure transparency and accountability.
Of course, someone else could argue that strict systems, authoritarian rule, and monarchies can also bring about some extent of social order. However, this depends on how one defines ‘good governance’. Can a sort of authoritarian discipline, different types of suppression and bans on divergent expressions be thought of as characteristics of good governance? Which would be considered a model of governance: a functional delivery system with all, or limited freedoms? Most importantly, can such paradigms remove multiple ambiguities prevailing in our society? Would it be enough to actually bring the extremists on the right path?
Those who believe the answer to be in the affirmative would then observe that the country does not need a counter-extremism policy, that it deserves applause for what it has attained in the form of a state of ‘new normalcy’. So what, they would say, if it is not up to scratch in terms of global norms, or that our society seems morbid from the outside. There are many states in the world which are surviving with even worse indicators. Why is the world worried about us? May be we have something beyond mere narratives that worries the world.
   BY MUHAMMAD AMIR RANA :The writer is a security analyst.
Published in Dawn, July 17th, 2016

Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits