Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Monday, December 9, 2013

شیخ محمد فتح اللہ گولن کون ہے ؟ حسن نثار Who is Fateh Muhammad Golin of Turkey?

یہ بات دھیان میں رہے تو اعلیٰ کہ برصغیر کے مسلمانوں پر ترکوں نے صدیوں حکومت کی ہے ’’اردو‘‘ خود ترکی زبان کا لفظ ہے اور ترک آج بھی شلوار کو شلوار کہتے ہی نہیں، دیہاتوں میں پہنتے بھی ہیں۔ محمود غزنوی بھی ترک تھا اور مغل بھی چغتائی ترک تھے جن کے دربار کی زبان فارسی لیکن گھریلو زبان ترکی ہی تھی ۔بابر نے اپنی سوانح بھی ترکی زبان میں ہی لکھی تھی اور بیچ میں جو امیر تیمور آیا وہ بھی برلاس تھا اور برلاس بھی ترکوں کا ہی ایک قبیلہ تھا ۔ امید ہے اس مختصر سی تمہید کے بعد یہ سمجھنا بہت آسان ہو گیا ہو گا کہ ترکی اور ترکوں کے ساتھ ہمارا کیا رشتہ ہے۔گزشتہ دنوں میری پندرہ روزہ غیر حاضری کی وجہ بھی یہی ’’رشتہ داری‘‘ تھی ورنہ اپنی تمام تر کام چوری کے باوجود میں اتنے ناغے کبھی نہ کرتا لیکن ترکی پہنچتے ہی میں کالم تو کیا----خود اپنے آپ کو بھی بھول گیا۔
چپکے چپکے بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں
کبھی کبھی میں میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
میرے نزدیک مکہ اور مدینہ کے بعد استنبول مقدس ترین شہر ہے جو ترک مسلمان سلطان محمد فاتح کی حیران کن معجزاتی فتح سے پہلے قسطنطنیہ کہلاتا تھا اور ہمارے آقا سرور کونین حضرت محمدؐ نے اس شہر کے فاتحین کو جنت کی بشارت دی تھی اور خود ہی سوچ لیں ’’فاتح‘‘ کے مزارپر حاضری کے وقت میری حالت کیسی ہو گی؟ سچ یہ کہ میں ابھی تک اس حالت غیر سے پوری طرح باہر نہیں آ سکا۔ میری روح اس وقت بھی قونیہ میں مولاناروم کے مزار پر بھٹک رہی ہے ۔ میں اس وقت بھی عین اس مقام عالی پر سر جھکائے گم سم کھڑا ہوں جہاں صدیوں پہلے مولانا روم اور شمس تبریز کی پہلی ملاقات ہوئی تھی ۔میں حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مزار سے لیکر سلمان عالیشان کے مقبرے تک برہنہ پا سرگرداں اس سطوت کی تلاش میں ہوں جو جانے کہاں کھو گئی ۔وہ سلمان عالیشان جس کے نام سے کبھی پورا یورپ لرزتا اور تھرتھراتا تھا، وہ سلمان عالیشان جس کے باپ کی موت پر جشن مناتے ہوئے اہل یورپ بھول گئے کہ برگد کے نیچے برگد اگنے والا ہے ۔بیٹا عظیم باپ سے بھی کئی ہاتھ آگے نکلا اور اس مقام پر فائز ہوا کہ اس کے دشمن بھی اسے عالیشان کہنے پر مجبور ہو گئے ۔دنیا بھر کے سمندروں نے اپنے طوفان و طغیان سینوں پر کبھی ایسا کوہ وقار، جی دار اور عالیشان امیر البحر نہیں دیکھا جیسا خضر رئیس خیر الدین باربرو سہ تھا جسے ترک محبت و احترام سے HAYRETTINپاشا کہتے ہیں کہ ترک مراد کو بھی ’’مرات‘‘ کہتے ہیں سمندر کی لہریں خیرالدین باربروسہ کی جنبش ابرو کی منتظر رہا کرتیں کہ وہ خلافت عثمانیہ کی عظمتوں کا امین تھا ۔ اہل یورپ نے جس سلمان کو SULEIMANTHE MAGNIFICENTکہا ۔خیر الدین باربروسہ اس کا سمندری بازوئے شمشیر زن تھا۔ ترک باربروسہ کو باربروس کہتے ہیں اطالوی زبان میں باربروس کا مطلب ہے ’’سرخ داڑھی‘‘ کہ اس سے پہلے یہی لقب اس کے بھائی کا تھا جو الجیریا میں ہسپانویوں کے ساتھ لڑتا ہوا مارا جا چکا تھا۔ خیر الدین سلطنت عثمانیہ کے جزیرے MIDSLLI( LESBOS)میں پیدا ہوا اور MEDITERRANEANپر راج کرتا ہوا استنبول میں فوت ہوا ۔میں امیر البحر کے مزار کے باہر اس کے مجسمہ کے سائے میں کھڑا سوچ رہا تھا ----مجھے اس نسبت پر فخر کرنا چاہیے یا ندامت محسوس کرنی چاہیے۔ سات پہاڑوں کی آغوش میں آسودہ عظیم استنبول تجھے سترسلام عسکری میوزیم میں سلطنت عثمانیہ کے ملٹری بینڈ کو دیکھا اور سنا۔ یہ مارشل موسیقی جنگ کے آغاز اور جنگ کے دوران گونجتی تو اس کی گونج پورے کرہ ارض پر سنائی دیتی۔ یہ طلسمی لیکن ہیبت زدہ میوزک سن کر پہلے میں فشار خون کا شکار ہوا اور پھر یہی خون آنسو بن کر میری آنکھوں سے بہہ نکلا ........ میرے اللہ! میرے آقا! کیسی بلندی ایسی پستی میں کیسے ڈھل گئی کہ زمانہ کبھی جن کی ٹھوکروں میں تھا، آج اس کی ٹھوکروں میں ہیں ....... کیوں؟29 نومبر ٹرکش ایئرلائنز کی فلائیٹ سے لاہور آتے ہوئے میں نے ترکی کے دو انگریزی اخبار اٹھائے۔ روزنامہ "TODAY's ZAMAN"روزنامہ "DAILY NEWS"اب ان دونوں اخباروں کی سرخیاں ملاحظہ فرمائیں ....... زوال کی کچھ کچھ وجوہات سمجھ آجائیں گی۔ "GOV'T, GULEN ROW HEATS UP WITH NEW DOCUMENT."THE BATTLE BETWEEN THE GOVERNMENT AND THE GULEN MOVEMENT TAKES A NEW TWIST WITH THE REVELATION OF A 2004 DOCUMENT TO "FINISH OFF" THE COMMUNITY.دوسرے اخبار کی خبر "GULEN URGES FOLLOWERS TO DEFEND PREP SCHOOLS IN CIVILIZED WAY"یہ گولن موومنٹ کیا ہے جس سے ترک حکومت اتنی الرجک ہے؟ اور یہ محمد فتح اللہ گولن کون ہے جو بظاہر امریکہ لیکن دراصل ترکوں کے دل میں بستا ہے۔ محمد فتح اللہ گولن سے میرا پہلا غائبانہ تعارف سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باعث ہوا جس کا عنوان ہے۔’’نورسرمدی...... فخر انسانیت حضرت محمدؐ‘‘مترجم کا نام ہے محمد اسلام سبحان اللہ سیرت النبی پر کیسی سوہنی سندر کتاب ہے۔ جدید ترکی کے دل کی یہ دھڑکن شیخ محمد فتح اللہ گولن ہے کون؟ انشا اللہ کل کچھ عرض کروں گا ترکی کے مایہ ناز سپوت گولن دی گریٹ کے بارے میں۔ شاید عالم اسلام کے مسائل و امراض کا اصل حل اسی حکیم کے پاس ہے۔ 
اسے اس کے اقوال اور اعمال کی روشنی میں دیکھیں تو محمد فتح اللہ گولن عہد حاضر میں عالم اسلام کا نمائندہ ذہن بھی ہے ضمیر بھی۔ میرے نزدیک نشاۃ ثانیہ کے لئے اس سے بہتر حکمت عملی ممکن نہیں۔ اس آدمی نے ترکی اور ترکی سے باہر فلاحی، تعلیمی،طبی، اشاعتی اور ابلاغی اداروں کا جال بچھادیا ہے۔’’Hizmetموومنٹ ‘‘ کو اردو میں ’’خدمت موومنٹ‘‘ ہی کہیں گے اور یہی دراصل ’’گولن موومنٹ‘‘ ہے جس سے ترکی کے حکمران خوامخواہ خائف ہیں۔ اس موومنٹ کے دنیا بھر میں پھیلے سکول،کالج،یونیورسٹیاں دیکھ کر آدمی دنگ رہ جاتا ہے۔ امریکہ اور منگولیا سے لے کر ہمارے پاکستان تک تعلیمی اداروں کی چین جس کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو لاہور، اسلام آباد سے لے کر سندھ تک’’پاک ٹرک سکول‘‘ دیکھ لیں جو اپنی مثال آپ ہیں، ترکی میں ان کے ہسپتال دیکھ کر ہم حیرت و حسرت کی پھوار میں بھیگ گئے، اشاعتی اداروں کا حال یہ کہ وہاں کا سب سے بڑا ٹی وی چینل اور اخبار بھی اسی موومنٹ کا کارنامہ اور دنیا بھر میں پھیلے فلاحی منصوبے اس کے علاوہ۔ کون سا میدان ہے جس میں یہ موومنٹ اپنی معراج پر دکھائی نہیں دیتی۔ اس بین الاقوامی گولن موومنٹ کی فلاسفی کیا ہے؟
Ideal Human" اور"Ideal society
’’خدمت.......محبت اور برداشت‘‘
"A global civilization of love r tolerance"
کہ اس تصور کی عالم اسلام سے زیادہ شاید ہی کسی اور کو اتنی ضرورت ہو کہ امت کے مسائل کا حل نہ ایٹم بموں میں ہے نہ خود کش جیکٹوں میں اور کامیابی کے لئے شارٹ کٹ کی تلاش میں نکلنے والوں کا انجام ایسا ہوتا ہے۔
تتلیاں اڑتی ہیں اور ان کو پکڑنے والے
سعی ناکام میں اپنوں سے بچھڑجاتے ہیں
عالم اسلام جس قدر اس سوچ کی طرف متوجہ ہوتا چلا جائے گا ،اسی تناسب کے ساتھ دلدل سے باہر نکلتا جائے گا۔ یہ اور بات کہ عالم اسلام کی بیشتر خود غرض اشرافیہ ان تینوں الفاظ سے ہی متنفر ہے۔ یہ ہوس اقتدار کے مارے نہ’’خدمت‘‘ پہ یقین رکھتے ہیں، نہ عوام سے’’محبت‘‘ ان کا منشور ہے نہ’’برداشت‘‘ ان کے بس میں ہے سو یہی وہ مائنڈ سیٹ ہے جو جہاں بس چلے گا، اس گولن تحریک کی مزاحمت کرے گا لیکن فی الحال تو مجھے اس سوال کا جواب دینا ہے کہ برسہا برس سے امریکہ میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے والا یہ باعمل عالم اور صوفی دانش ور محمد فتح اللہ گولن ہے کون؟
صدیوں پہلے رسول کریمؐ کی آل میں سے کچھ لوگ بنو امیہ اور بنو عباس کے ظلم و ستم سے بچنے کے لئے وادی بتلیس کے علاقہ کی طرف آئے۔’’اخلاط‘‘ صوبہ بتلیس میں پہاڑوں کے دامن میں ایک چھوٹا سا گائوں تھا۔ گولن کی پیدائش اناطولیہ میں واقع ایک چھوٹی سی بستی ہے جہاں 9ماہ موسم سرما ہوتا ہے۔ اس بستی کا نام کوروجک ہے جو صوبہ ارضروم کے شہر حسن قلعہ کا ایک نواحی علاقہ ہے۔ گولن کے آبائو اجداد اخلاط سے ہجرت کرکے ہی یہاں آئے تھے اور انہی کے روحانی جمال کا نتیجہ تھا کہ وہاں کے ترک قبائل کے دلوں میں اسلامی روح سرائیت کرگئی یعنی گولن اس گھرانے کے چشم و چراغ ہے جس کی ساخت، ہیئت اور بنت میں ہی دین کامل کی خوشبو رچی بسی ہے۔ والدین دین کی گہری بصیرت سے مالا مال تھے۔ گولن کے دادا شامل آغا دینی مضبوطی کی علامت تھے جنہیں اپنے پوتے کے ساتھ دینی روحانی حوالوں سے قلبی تعلق تھا۔ والد رامز آفندی علم و ادب بالخصوص دین کے حوالہ سے معروف و مقبول شخصیت تھے۔ آپ کی نانی خدیجہ خانم پاشا خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور دادی مونسہ خانم اپنے دینی تشخص کے سبب مشہور تھیں۔
محمد فتح اللہ گولن کا گھرانہ ہی ایسا تھا کہ آپ نے چار برس سے بھی کم عمر میں اپنی والدہ سے قرآن کریم سیکھنا شروع کردیا اور معجزاتی طور پر صرف ایک ماہ میں قرآن کریم ختم کرلیا۔ والدہ آدھی رات کو اٹھتیں اور کم سن فرزند کو جگا کر قرآن پاک کی تعلیم دیتیں۔ آپ کا خاندان علاقہ کے معروف علمائے کرام اور صوفیا کی زیارت و ضیافت گاہ تھا۔ کم سن فتح اللہ گولن کو بچپن میں ہی وہ ماحول نصیب ہوا جو کم کم بچوں کو نصیب ہوتا ہے۔ جن علماء سے متاثر ہوئے ان میں نمایاں ترین شخصیت شیخ محمد لطفی آلوارلی کی تھی۔گولن آج بھی کہتے ہیں’’میں اپنے جذبات، احساسات اور بصیرت میں بڑی حد تک ان سے سنی ہوئی باتوں کا احسان مند ہوں‘‘محمد فتح اللہ گولن نے اپنے والد سے عربی اور فارسی سیکھی۔ قلب گولن میں عشق رسولؐ کا بیج بونے اور آبیاری کرنے والے کوئی اور نہیں، گولن کے گھر والے ہی تھے۔ انتہائی مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے گھرانہ کا ماحول بہت معتدل اور متوازن تھا کہ اعتدال اور میانہ روی دین کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔ دینی علوم کے بعد رسمی علوم اور فلسفہ کی تعلیم کا سلسلہ ’’ارضروم‘‘ شہر تک دراز ہوا۔ تربیت محمد لطفی آفندی کی خانقاہ میں بھی جاری رہی، پھر آپ نے عثمان بکتاش جیسی شخصیت سے نحو،بلاغت،فقہ، اصول فقہ اور عقائد کا علم حاصل کیا۔زمانہ طالبعلمی میں ہی آپ کی رسائل نور اور طلبہ نور کی تحریک سے شناسائی ہوگئی، یہ ایک احیائی و تجدیدی تحریک تھی جس کی بنیاد حضرت بدیع الزماں سعید نورسی نے 20ویں صدی کے دوسرے ربع میں رکھی تھی
عالم اسلام بلکہ عالم اقوام میں تیزی او ر مضبوطی سے ابھرتی ہوئی Hizmet موومنٹ، خدمت موومنٹ یا گولن موومنٹ کے بانی فتح گولن نے دینی اور دنیاوی تعلیم سے آراستہ ہونے کےبعد نہ صرف البرٹ کامو (Albert Camus)، سارتر (Sarter) اور مارکوس (Marcos) جیسے وجودی فلاسفہ کو بغور پڑھا بلکہ مشرق و مغرب کے دیگرشہ دماغوں سے بھی فیض حاصل کیا۔
20سال سے بھی کم عمر میں آپ نے ترکی کے مغربی دروازہ سمجھے جانے والے شہر کرادرنہ کا رخ کیا جہاں انہیں جامع مسجد ’’اچ شرفلی‘‘ کا امام مقر ر کردیا گیا۔ پھر ’’ازمیر‘‘ کی جامع مسجد سے ہوتے ہوئے آپ نے چلتے پھرتے واعظ کے طور پر اک نئے سفر کا آغاز کیا۔ مغربی اناطولیہ کے گردونواح کا دورہ کیا اور 1970 میں تربیتی کیمپ لگانا شروع کردیئے۔
میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں سائنس اور ٹیکنالوجی یعنی علم و ہنر کا پرچارک ہونے کےساتھ ساتھ ہمیشہ یہ بھی لکھتا رہا ہوں کہ لیڈر کی اصل پہچان ہی یہ ہے کہ وہ ٹیچر ہوتاہے سوفتح اللہ گولن کے تربیتی کیمپوں کے نتیجہ میں نور ِ اسلام کے سانچے میں ڈھلے وہ باعمل لوگ پیدا ہونےلگے جو اقوال نہیں اپنےاعمال کے ذریعے تبلیغ کرتے ہیں۔ ایک ایسی ’’کلاس‘‘ معرض وجود میں آنے لگی جس نےاپنے لیڈر و ٹیچر فتح اللہ گولن کی طرح خود کو اپنے پروردگار، دین، وطن اور انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کر دیا۔ یہ روحانیت اور مادیت کاآئیڈیل ملاپ تھا۔ مساجد کے صحنوں میں فرشوں پر سکون سے سونے والا عرشوں کی بات کررہا تھا کہ مولانا روم کی طرح اپنی آغوش، سینے اور گود کو کشادہ رکھو، انسان کو ’’خارج‘‘ کرنے کی بجائے گلے سے لگائو، لوگوں کو مسترد کرنے کی بجائے ان سے محبت کرو۔ اس کے ہاتھوں میں اسلحہ نہیں بلکہ ایمانی حقائق کی الماسی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس کا ترکش علم کے یاقوتی تیروں سے بھرا تھا۔ 12مارچ 1971 کو اس وقت کی حکومت پر فوجی دبائو کے نتیجہ میں آپ کو اس الزام میں گرفتار کرلیا گیا کہ آپ ایک خفیہ تنظیم کے ذریعے لوگوں کے دینی جذبات کو بھڑکا کر ملکی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چھ ماہ تک جیل میں رہے، مقدمہ چلتا رہا، بالآخررہا کردیئےگئے اور پھرسےاپنی مصروفیات کا آغاز کردیا۔ حکومت نے پہلے آپ کو اورمیت بھیجا، پھرمانیسا اوراس کے بعدازمیر میں بورنوا کی طرف منتقل کردیالیکن جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے اور چراغ سےچراغ جلنے کایہ روشن سلسلہ جاری رہا۔ پھرفتح اللہ گولن کی چھوٹی سی جماعت ہر قسم کی منفعت کوپس پشت ڈال کر سکولوں، اکیڈمیوں اورایسے مراکز کے قیام میں منہمک ہوگئی جو مختلف یونیورسٹیوں میں داخلہ کے لئے طلبہ کو تیار کرتے۔ سوویت یونین بکھرنے کے بعد اس جماعت کادائرہ کار پورے عالم اسلام میں بالعموم اورو سطی ایشیائی ریاستوں میں بالخصوص پھیل گیا۔ جب دوسرے لوگ تعمیری کاموں کی بجائے احمقانہ مسائل میں مصروف تھےمثلاً ترکی دارالاسلام ہے یا دارالحرب؟ تو فتح اللہ گولن نے یہ کہہ کراس بحث کو ہی ختم کردیاکہ
’’ترکی دارالخدمت ہے‘‘
یہ ایک جملہ ہمارے ملک کے ان لوگوں کے منہ پر تھپڑ سے کم نہیں جنہوں نے پاکستان کو فروعی مسائل میں الجھایا ہواہے حالانکہ پاکستان نامی اس لرزاں وترساں تھکے ہارے زخموں سے چور ملک کو بھی صرف اورصرف ’’دارالخدمت‘‘ ہونا چاہئے تاکہ خلق خدا سکھ کاسانس لے سکے۔ وقت کے ساتھ ساتھ فتح اللہ گولن ایک ایسی نسل تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے جو بالکل خاموشی کے ساتھ لوگوں کی خدمت کرنے لگی۔ ہم ترکی میں خاموش خدمت کی متعددروشن مثالیں دیکھ کر آئے ہیں۔ اس ’’ہم‘‘ میں میرے ساتھ برادرم حفیظ اللہ نیازی، درویش بابا ڈاکٹراجمل نیازی، توفیق بٹ اور میاں حبیب بھی تھے جنہیں میں کئی سال پہلے ایک یادگار بھارتی د ورے کے دوران ’’شری حبیب‘‘ قرار دے چکا ہوں۔ ہم سب سفر کے دوران یہ سوچتے رہے کہ پاکستان کب ’’دارالخدمت‘‘ قرارپائےگا۔ ہمارا فتح اللہ گولن کب میدان میں اترے گایا ہم یونہی سیاسی قصائیوں کے کھنڈےچھروںسے ذبح ہوتے رہیں گے؟ چوروں کے بعد ڈاکوئوں کی آمد کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟
ہم پاکستانی کب تک ان کے ہاتھوں بیوقوف بنتے رہیں گے جو اہل پاکستان کو تھان دکھاتے ہیں لیکن ’’کٹ پیس‘‘ بھی نہیں دیتے بلکہ الٹا ان کے تن پر سے بچے کھچے کپڑے بھی اتار لیتے ہیں۔
ہم پاکستانی کب تک ان مداریوں کے مدار میں ذلیل و خوار ہوتے رہیںگے جنہوں نے ملک کو آئی ایم ایف کا ایک ایسا تندور بنا دیاہے جہاں عوام لکڑیوں کی طرح جلائے جارہے ہیں اور یہ حکمران اس تندور میں اپنے روغنی نان، تلو ں والے کلچے اور انسانی قیمے والے پراٹھے لگا رہے ہیں، ملک درد میں مبتلا ہے ان کے دورے ہی ختم نہیں ہورہے ۔
پہلے تصحیح نوٹ فرمائیں جو بہت ہی خوشگوار ہے کہ Pak Turk سکولز کی لاہور میں 6، اسلام آباد میں 3، پشاور 2، ملتان 2، کوئٹہ 2، کراچی 3، جام شورو 1 ، حیدرآباد 1، خیرپور 2 ، یعنی کل 22 برانچز جہالت کے خلاف جہاد میں مصروف ہیں۔ ان ’’مشنری‘‘ سکولز کی انشاء اللہ اگلی منزل فیصل آباد ، سیالکوٹ، گجرانوالہ، راولپنڈی ہے اور موٹو وہی یعنی IDEAL HUMAN اور IDEAL SOCIETY بہترین تعلیم اور اعلیٰ ترین کردار سازی جن پر میں مدتوں سے محوماتم تھا ہمارا مسئلہ معاشیات نہیں اخلاقیات کی تباہی ہے اور کیریکٹر بلڈنگ کے بغیر نیشن بلڈنگ ناممکن۔ فتح اللہ گولن موومنٹ کے تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے پنجاب حکومت نے بھی انہیں 100 ایکٹر کے قریب زمین دی ہے جہاں مستقبل قریب میں استنبول کی عظیم درسگاہ ’’فاتح یونیورسٹی‘‘ جیسا عظیم تعلیمی ادارہ پاکستانی یوتھ کو بہترین تعلیم اور تربیت سے آراستہ کررہا ہوگا اور پنجاب یونیورسٹی کی طرح وہاں کوئی تخریب کار طالب علمی کے نقاب میں نہ اساتذہ پر ہاتھ اٹھا سکے گا، نہ بسوں کو نذر آتش کرسکے گا نہ رستے بلاک کر کے عوام کیلئے عذاب کھڑا کرسکے گا، نہ ہاسٹلوں سے اسلحہ اور منشیات برآمد ہوں گی۔ میں نے فاتح قسطنطنیہ کے نام پر قائم استنبول کی ’’فاتح یونیورسٹی‘‘ دیکھی ہے، سبحان اللہ مخلوط تعلیم کے باوجود ایسا ڈسپلن، ایسی پاکیزگی، ایسا ماحول اور تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا وہ معیار کہ میں نے وہیں فیصلہ کرلیا کہ اعلیٰ تعلیم کیلئے اپنے بچوں کو امریکہ، انگلینڈ بھیجنے کی بجائے استنبول بھیجوں گا کہ استنبول ہی کیا، گولن موومنٹ نے ترکی کا کلچر ہی تبدیل کردیا ہے۔ مذہبی جنونیت کی بجائے VOICE OF REASON کے ساتھ ساتھ WISDOM OF HEART کا راج ہے۔ محبت و TOLERANCE اپنے عروج پر کہ کوئی کسی دوسرے کی زندگی میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ ٹائیٹ جینز اور سکارف ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور کوئی رند کسی نمازی کا ایمان خطرے میں نہیں ڈال سکتا اور نہ ہی کسی کو خدائی فوجدار بن کر اپنا آپ مسلط کرنے کی اجازت ہے جو ہمارے ہاں ’’آرڈر آف دی ڈے‘‘ بن چکا۔
اب پھر واپس چلتے ہیں عہد حاضر کے مجدد محمد فتح اللہ گولن کی طرف جس نے طویل ریاضت کے بعد لاکھوں لوگوں پر مشتمل وہ ٹیم تیار کرلی جو خاموشی سے خدمت میں مگن ہے۔ نہ معاوضوں کی خواہش نہ منصبوں کی پرواہ نہ کسی روحانی مرتبے کی تمنا نہ دھونس کا تصور بلکہ یہ تو ایسے مرے مٹے لوگ ہیں جو برائی کا بدلہ بھی برائی سے نہیں دیتے۔ موجودہ ترک حکومت نے گولن موومنٹ کی پراثر وسعت اور فتح اللہ گولن کی بے پناہ مقبولیت سے خائف ہو کر ان کے سکولوں کے خلاف ’’سازش‘‘ کی تو گولن نے اپنے بیشمار چاہنے والوں سے کہا ......’’اپنے پریپ سکولوں (PREP SCHOOLS) کا مہذب طریقے سے دفاع کریں۔‘‘ دوسری طرف ہمارے ٹٹ پونجیئے اپنے پیروکاروں کو توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی، قانون شکنی، دھرنوں، ہڑتالوں، آتش زنی اور مرنے مارنے پر اکساتے ہیں۔ آج گولن موومنٹ عظیم ترکی کے عوام کی امیدوں کا ہی مرکز نہیں بلکہ جہاں جہاں اس کی روشنی اور خوشبو پہنچ رہی ہے مسلمان پروانوں کی طرح ان کی جانب کھنچے چلے آرہے ہیں۔1990ء سے فتح اللہ گولن نے باہمی گفت و شنید، افہام و تفہیم کے ساتھ تمام تر تعصبات سے پاک ایک قائدانہ تحریک کا آغاز کیا جس کی بازگشت ترکی سے باہر بھی سنی جارہی ہے۔ فتح اللہ گولن نے پوپ کی دعوت پر ویٹی کن سٹی میں اس سے ملاقات کی۔ گولن نے ترک معاشرہ میں مکالمہ، رواداری اور برداشت کی دعوت کا آغاز کیا کیونکہ بہت سی قوتیں مختلف قسم کے مذہبی، گروہی، لسانی، فکری اختلافات کو ہوا دے کر ترک معاشرے کا شیرازہ بکھیرنے کی کوشش کررہی تھیں۔ تقریباً وہ صورت حال جس سے آج کا پاکستان دوچار ہے۔ حالات کی یہی وہ گہری مماثلت و مشابہت ہے جو مجھ سے گولن موومنٹ پر پے در پے قسطیں لکھوا رہی ہے ورنہ میں بھی ترکی کی عظمت رفتہ کے قصے سنا رہا ہوتا لیکن میرا اصل مسئلہ اپنے ملک اور عالم اسلام کا مستقبل ہے۔ میرے قارئین اس بات کی گواہی دینگے کہ میںعرصہ دراز سے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی اہمیت، قوم کی کیریکٹر بلڈنگ، ایک دوسرے کو برداشت کرنے، قدیم و جدید کے (BLENT) اعتدال و میانہ روی، مومن کی فراست کے ری وائیول وغیرہ کو تسلسل سے موضوع بناتا رہا ہوں لیکن مجھے اعتراف ہے کہ اپنے ان بکھرے ہوئے احساسات، جذبات و خیالات کو میں نے فتح اللہ گولن کی تحریروں اور زندگی میں خود سے کہیں مدلل، منضبط، مضبوط، منطقی اور مرتب انداز میں دیکھا تو دل تڑپ اٹھا۔یہی وجہ ہے کہ میں شیخ فتح اللہ گولن کے افکار و اعمال کو ان کی حکمت عملی کو ’’امید کی کرن‘‘ قرار دیتے ہوئے سرخوشی کے سے عالم میں ہوں۔یہ حقیقت بھی دھیان میں رہے کہ بہت سے بلند پایہ لوگ نئے افکار و نظریات کے حامل ہوتے ہیں لیکن جب وہ اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں تو ناکام ہو جاتے ہیں جبکہ فتح اللہ گولن کی کہانی بہت مختلف ہے۔(جاری ہے)
(نوٹ: ہوسکے تو گولن موومنٹ اور فتح اللہ گولن بارے ’’نیٹ‘‘ کو ٹٹول کر دیکھئے۔ آپ کے اندر بھی چراغ روشن ہو جائیں گے)
خود پر یہ الزام سن سن کر کان پک گئے تھے کہ....... ’’مایوسی پھیلاتا ہے‘‘ میں راسخ تھا کہ جھوٹ پھیلانے سے بہتر ہے کہ’’مایوسی‘‘ پھیلائی جائے کیونکہ مجھ جیسوں کا رول تو کیمرے،ایکس رے یا ایم آر آئی مشین جیسا ہے، اگر کیمرہ غلاظت کے ڈھیر کی تصویر بنائے اور تصویر میں غلاظت کا انبار نظر آئے تو کیمرے کا کیا قصور؟ اسی طرح اگر ایکس رے مشین یہ دیکھائے کہ بازو دو جگہ اور ٹانگ تین جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے تو یہ کہنا کہ مشین ہی منحوس ہے یا مایوسی پھیلا رہی ہے....... حماقت کے سوا اور کچھ نہیں کہ ایسا سوچنے والے مریض کی ا پنی حالت ہی بد سے بدتر ہوگی....... مشین کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ سچ یہ کہ مجھے پاکستان کیا، پورے عالم اسلام سے ہی کوئی خیر کی خبر سنائی نہ دیتی تھی لیکن اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ جب سیرت النبیؐ کے صدقے فتح اللہ گولن اور پھر ان کی بپا کی ہوئی تحریک سے تعارف ہوا تو میں چونک گیا اور پھر جیسے گہری پیاس پانی کی طرف کھنچتی چلی جاتی ہے، میں بھی خوش گوار تجسس کے ساتھ اس بارے زیادہ سے زیادہ جاننے سمجھنے میں مصروف ہوگیا۔ ترکی اور ترکوں سے محبت یوں بھی مجھے ورثہ میں ملی تھی۔ خلافت عثمانیہ سے لے کر غازی مصطفیٰ کمال تک پرمستند ترین کتاب’’گرے وولف‘‘ والد محترم کی فیورٹ ترین ریڈنگ تھی۔ معجزہ یہ ہوا کہ ترکی جاکر اس عظیم تحریک کے کارنامے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا، تحریک کے بانی کا کردار اور تحریک کی فلاسفی اور اس کا ’’مرکزی خیال‘‘ سمجھنے کے بعد یوں محسوس ہوا جیسے مسائل کا حل مل گیا ہو۔
عظمت رفتہ کے خواب، غلبہ اور نشاۃ ثانیہ جیسے ’’آسیبوں‘‘ نے مجھے بھی گھیرا ہوا ہے۔ کمزور لمحات میں میں بھی’’دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے‘‘ جیسے مصرعے گنگناتا ہوں لیکن اندر ہی اندر پوری طرح قائل ہوں کہ عالم اسلام اگر اپنے پائوں پر ہی سیدھا کھڑا ہوجائے اور مہذب دنیا کے ساتھ صحیح معنوں میں برابری کی سطح پر ہی آجائے تو بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ غلبہ پانا تو دور کی بات ،ہم اگر غیروں کے غلبہ سے نجات بھی حاصل کرسکیں تو یہ قدرت کا بہت بڑا انعام ہوگا لیکن اس عظیم ہدف کے حصول کے لئے حکمت عملی فتح اللہ گولن جیسے باعمل دانشور کی ہی چلے گی۔ بم، بارود اور خود کش جیکٹیں ہی مسائل کا حل ہوتا تو میں اس’’سکول آف تھاٹ‘‘ کی صف اول میں ہوتا کہ مرجانا بہت آسان لیکن باوقار طریقہ سے زندہ رہنا بہت مشکل ہے اور یہی اصل چیلنج بھی ہے۔ موت کے ان گنت ’’شارٹ کٹس‘‘ ہوتے ہیں، آبرومندانہ زندگی کے لئے کوئی شارٹ کٹ ایجاد ہوا نہ ہوگا۔
اب پھر واپس چلتے ہیں گزشتہ قسط کی آخری سطروں کی طرف کہ’’بہت سے بلند پایہ لوگ نئے افکار و نظریات کے حامل ہوتے ہیں لیکن جب وہ اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں تو ناکام ہوجاتے ہیں جبکہ فتح اللہ گولن کی کہانی بہت مختلف ہے‘‘۔
گولن ماڈل یا اس سے ملتا جلتا ماڈل اپنائے آزمائے بغیر مسلمانوں کے لئے منزل مراد کا حصول کم ا ز کم مجھے تو ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ میانہ روی اختیار کرکے مومن اپنی کھوئی ہوئی میراث یعنی علم کے لئے ا ٓگے نہیں آتے تو پیچھے رہ جائیں گے اور یہ خلیج بڑھتے بڑھتے اتنی وسیع ہوجائے گی کہ اسے پاٹنا بھی ممکن نہ رہے گا۔ پاتال میں رینگتے ہوئے لوگوں کا بھلا مریخ کے مکینوں سے کیا مقابلہ؟
عالم اسلام کی نام نہاد اشرافیہ کی فیورٹ بک’’چیک بک‘‘ ہے کہ دنیا کے دولت مند ترین 20حکمرانوں میں سے 10مسلمان ہیں جبکہ فتح اللہ گولن کی تحریر کردہ کتابوں کی تعداد60سے زیادہ ہے جن کا35زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ ان کی تقاریر، مواعظ ،بیانات اور مجالس پر مشتمل ہزاروں کی تعداد میں آڈیو اور ویڈیو کیسٹس کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ کاش، اس تحریک کے کرتا دھرتا ان کے اردو ترجمے پاکستانی عوام کے لئے بھی مہیا کرسکیں کہ شاید مایوسی کے اندھیروں میں ہاتھ پائوں مارتے ہوئے 19کروڑ پاکستانیوں کو اس کی بہت ضرورت ہے۔ ویسے چند درج ذیل کتابوں کا اردو ترجمہ بھی ہوچکا لیکن شاید صحیح طور پر ان کی مارکٹنگ نہیں ہوسکی۔
’’تقدیر.......کتاب و سنت کی روشنی میں‘‘
’’المیزان یا چراغ راہ‘‘
’’روح جہاد اور اس کی حقیقت‘‘
’’اسالیب دعوت اور مبلغ کے اوصاف‘‘
’’اضوأقرآن درفلک و جدان‘‘
’’تخلیق کی حقیقت اور نظریۂ ارتقاء‘‘
’’نور سرمدی، فخر انسانیت حضرت محمدؐ(دو جلدیں)‘‘
’’روح کی محل کی تعمیر‘‘
’’ملاحظات فاتحہ‘‘
’’جنت گمشدہ کی طرف‘‘
اسلام کے بنیادی ارکان‘‘
’’اسلام اور دور حاضر‘‘
’’روح کے نغمے اور دل کے غم‘‘
تراجم میں ذرا بوجھل زبان استعمال کی گئی ہے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ سہل اور عوامی زبان میں ترجمہ ہوتا۔
آپ چاہیں تو مندرجہ ذیل ویب سائٹس پر فتح اللہ گولن کے بارے میں دیگر معلومات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
انگلش http://:fgulen.com
اردو http://pk.fgulen.com
’’شاید کسی کے دل میں اترجائے مری بات‘‘
’’ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے‘‘
اور سب سے بڑھ کر یہ.......
’’ہم نےلو دل جلا کے سرراہ رکھ دیا‘‘
حسن نثارhttp://beta.jang.com.pk/SearchNews.aspx?URL=%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کیا آپ پاکستان کے حالات سے پریشان ہیں؟
 اپنے پیارے وطن کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں؟
مزید اس لنک پر 
http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/11/pakistan-basic-issues-need-immediate.html

If you are concerned about Pakistan and want to do some thing, find more at the link below:
http://peace-forum.blogspot.com/2013/11/pakistan-quagmire-basic-dialogue.html

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
Related:
Free-eBooks: http://goo.gl/2xpiv
Peace-Forum Video Channel: http://goo.gl/GLh75