Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Monday, November 28, 2011

Political Terminologies: لغتِ حکمرانی کی اصطلاحات!

.

لغتِ حکمرانی کی اصطلاحات!


ایسے کئی فقرے اور اصطلاحات ہیں جن کا مطلب و مفہوم ایک عام سی ڈکشنری میں کچھ اور ہے لیکن لغتِ حکمرانی میں کچھ اور ۔جیسے ،
(قوم کو اعتماد میں لینا)
یعنی جب کوئی معاملہ ہاتھ سے نکل جائے تو معاملے کی جڑ بتائے بغیر عوام کی تائید و حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ۔مثلاً جب بلوچستان میں شمشی ایئر بیس متحدہ عرب امارات کے توسط سے امریکی ڈرونز کے استعمال کے لئے دیا گیا تب قوم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا لیکن اب چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد یہ اڈہ امریکیوں سے خالی کرانے کی بابت قوم کو اعتماد میں لیا جارہا ہے۔
( مثبت سوچ )
مراد یہ کہ حکمرانوں کی پالیسیوں پر بے جا تنقید نہ کی جائے اور غلطیوں سے درگذر کیا جائے۔ لغتِ حکمرانی کے مطابق تنقید کا صرف ایک مطلب ہے یعنی بے جا تنقید۔
( پاکستانیت)
ایک مضبوط وفاق، مضبوط فوج ، اچکن ، اردو اور قائدِ اعظم کے وہ فرمودات ، اقبال کے وہ اشعار اور اسلام کی وہ تعلیمات جنہیں اسٹیبلشمنٹ نے بہت احتیاط سے منتخب کیا ہے۔ پاکستانیت کے لازمی اجزائے ترکیبی ہیں۔اس سے ہٹ کر کوئی بھی تصور ، لباس ، زبان یا نظریہ علاقائی ، قومیتی یا انفرادی سوچ کے دائرے میں تو آتا ہے پاکستانیت کے دائرے میں نہیں ۔
( قومی مفاد )
اس اصطلاح کا کوئی جامد مفہوم نہیں بلکہ حکمرانوں کی طبیعت و مفادات کے تحت بدلتا رہتا ہے۔جیسے کل طالبان کی حمایت قومی مفاد تھی۔آج طالبان کی مخالفت قومی مفاد میں ہے۔ ہوسکتا ہے کل پھر طالبان کی حمایت قومی مفاد بن جائے۔ لہذا مشورہ یہی ہے کہ قومی مفاد کی ازخود تشریح سے پرہیز کرتے ہوئے حکومتِ وقت کے مزاج پر نگاہ رکھیں۔ تاکہ آپ کو بروقت علم ہوسکے کہ بینگن کس دور میں اچھا ہے اور کس دور میں محض ایک گھٹیا سبزی۔
( اصولوں پر سودے بازی نہیں کی جائے گی )
یہ جملہ عموماً بے اصولی پر ہونے والی سودے بازی پوشیدہ رکھنے کے کام آتا ہے۔اپنے طور پر اس جملے کا کوئی مفہوم نہیں۔
( مملکتِ خدادا )
عام طور پر اس کا مطلب ہے وہ ملک جو خدا نے عطا کیا۔ لیکنِ لغتِ حکمرانی کے حساب سے مراد ایک ایسا ملک جو خدا نے دیا۔خدا ہی اسے چلا رہا ہے اور وہی چلاتا رہے گا۔ ہم تو صرف اس کے عاجز بندے ہیں۔ لہذا خدا کے واسطے ہمارے آسرے پر مت رہنا۔۔
( عوام )
یہ اصطلاح ایسے ریوڑ کے لئے استعمال ہوتی ہے جس پر بوجھ بھی لادا جا سکتا ہے، بوقتِ ضرورت کمیلے میں بھی لایا جاسکتا ہے۔سینگ پھنسوا کر تماشا بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ کبھی کبھار پولنگ سٹیشنوں تک بھی ہنکالا جاسکتا ہے۔ یہ ریوڑ چارے کا بھی محتاج نہیں۔ خود ہی گھاس پھونس تلاش کرکے پیٹ بھر لیتا ہے۔ اسے بہت زیادہ چوکیداری کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ اگر بھاگے گا بھی تو کہاں تک کتنا بھاگے گا اور کس کے پاس بھاگےگا۔پھر بھی اسے باڑوں میں کھروں کے پاس سے زنجیر گذار کر رکھا جاتا ہے ۔جانے کیوں ؟
( فلاح و بہبود کے عوامی منصوبے )
عام لغت میں بھلے اس کا کوئی بھی مطلب ہو مگر لغتِ حکمرانی میں اس سے مراد عوام کے پیسے سے بنائے جانے والے وہ منصوبے ہیں جو منصوبہ سازوں اور انہیں عملی جامہ پہنانے والوں کی فلاح و بہبود کی ضمانت دے سکیں۔
میرا خیال ہے کہ آج کے لئے لغتِ حکمرانی کی اتنی تشریح ہی کافی ہے۔ویسے بھی لغت ایک بور مضمون ہے ۔اب آپ چاہیں تو کسی بھی چینل پر کوئی گرما گرم ٹاک شو دیکھ کر وقت گذار سکتے ہیں۔
ایک وقت ہی تو ہے گذارنے کے لئے ۔اور ہے بھی کیا !