Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

Showing posts with label Oppression. Show all posts
Showing posts with label Oppression. Show all posts

Military Army mindset & politics

بے جا تکرار
فوج کو ثالث ‘ ضامن یا سہولت کاربنایا جائے۔ فرق کیا ہے؟ فوج کی ذمہ داریاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بنیادی طور پر یہ ادارہ ملکی سلامتی کا ذمہ دار ہے۔ سرحدوں کادفاع کرتا ہے۔ اندرون ملک سلامتی اور یکجہتی کو لاحق خطرات میں خدمات انجام دیتا ہے۔ سیلاب‘ زلزلے اور دیگر قدرتی آفات میں عوام کی مدد کرتا ہے۔ اس کے یہی فرائض انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ فوج کو جہاں بھی پکارا جائے‘ اسے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر ‘ خدمات فراہم کرنے کا عمل شروع کرنا پڑتا ہے۔ جنگ ‘ سیلاب‘ زلزلہ یا بدامنی ‘کسی بھی حالت میں فوج کے پاس مہلت نہیں ہوتی۔اسے ہر ممکن تیزرفتاری کے ساتھ جاب پر پہنچنا پڑتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ فوجی ‘ ہر لمحے ڈیوٹی پر مستعد رہتا ہے۔ ڈیوٹی کہیں بھی ہو‘ فوجی کی جان ہمیشہ خطرے میں ہوتی ہے۔ جنگ ہو‘ تو دشمن کی گولیوں‘ راکٹوں یا بموں کا نشانہ۔ سیلاب ہو‘ تو طوفانی لہروں کا ہدف۔ زلزلہ ہو‘ تو گرتی ہوئی عمارتوں اور چٹانوں کے خطرات۔ ہمہ وقت تیاری سے لے کر‘ زندگی قربان کرنے کی ہمہ وقت تیاری تک‘ فوجی کی زندگی کبھی محفوظ نہیں ہوتی۔ ایسی صورتحال اور فضا میں رہنے کے لئے‘ جس خاص ذہنی اور جسمانی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے‘ اس میں سماجی برائیوں کے لئے فرصت ہی نہیں ہوتی۔ فوجی کی زندگی میں ریشہ دوانی‘ سازش‘ جوڑتوڑ‘ دھوکہ‘ فریب کاری اور دروغ جیسی چیزوں کا گزر ہی نہیں۔ اسی لئے وہ سیاست نہیں جانتا۔ہمارے ملک میں جتنے بھی فوجی حکمران آئے ‘ ان کا عرصہ اقتدار کتنا ہی طویل رہا ہو‘ وہ کامیاب سیاستدان ہرگز نہیں تھے۔ سب کے سب حتمی نتیجے میں سیاستدانوں سے مات کھاتے رہے۔ سب نے کسی نہ کسی انداز میں‘ معاشرے اور ملک کی دفاعی صلاحیت کونقصان پہنچایا۔ ایوب خان اور یحییٰ نے کشمیر اور مشرقی پاکستان میں جنگیں ہاریں۔ ضیاالحق اور پرویزمشرف نے‘ افغانستان کی جنگوں میں الجھ کر‘ پاکستان کی سٹریٹجک اور دفاعی طاقت کو نقصان پہنچانے کے علاوہ‘ پاکستان کے سماجی ڈھانچے کو بھی درہم برہم کر دیا۔ ملک کا کوئی حصہ دہشت گردوں سے محفوظ نہ رہا۔ اپنے پروفیشن پر یقین رکھنے اور فخر کرنے والے فوجی‘ اس ریکارڈ پر رشک نہیں کر سکتے۔ اکثر وہ آمروں کے دفاع سے گریزاں رہتے ہیں اور جو اس بیکارمشق میں پڑتے ہیں‘آخر میں انہیں لاجواب ہونا پڑتا ہے۔
میں نے کل کے کالم میں ان فوجی سربراہوں کا ذکر کیا تھا‘جنہیں اپنے منصب کے دوران اقتدار پر قابض ہونے کے مواقع ملے اور بعض کو تو پلیٹ میں رکھ کر اقتدار پیش کیا گیا‘ لیکن وہ ترغیب میں نہیں آئے۔ اقتدار وہ چیز ہے‘ جس کے لئے سیاستدان اپنی جان‘ عزت اور شہرت ہرچیز قربان کر دیتا ہے۔ قومی تاریخ میں‘ ایسا سیاستدان شاید ہی کوئی ہو‘ جسے اقتدار پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا گیا ہو اور اس نے انکار کر دیا ہو‘ لیکن فوج میں جتنی مثالیں اقتدار پر قبضے کی ہیں‘ اس سے زیادہ یا برابر مثالیں‘ اقتدار کو ٹھکرانے کی ہیں۔ ایک فوجی کی تربیت اور فطرت ثانیہ میں‘ وطن کو جو تقدس اور مقام حاصل ہوتا ہے‘ اس کا عام شہری تصور نہیں کر سکتا اور جو فوجی پس منظررکھنے والے خاندانوں میں پیدا ہو کر‘ فوج کا حصہ بنتے ہیں‘ ان کی شخصیت کی ساخت ہی مختلف ہوتی ہے۔ سپاہ گری‘ ان کے خون اور پرورش میں شامل ہو جاتی ہے۔ ان کی مائیں اور خاندان کے بزرگ ‘ جنوں اور پریوں کی کہانیاں نہیں سناتے‘ آبائو اجداد کے جنگی کارنامے بتاتے ہیں۔ وہ خود بھی فوج اور اپنے خاندان کے برگزیدہ افراد سے متاثر ہوتے ہیں اور ان میں ایک منفرد جذبہ اور عزم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کی شہرت اور وقار پر دھبہ نہیںلگنے دیں گے۔عام شہریوں اور خصوصاً سیاستدانوں کو فوجیوں کے ساتھ معاملات کرتے وقت‘ ان باتوں کا بطور خاص خیال رکھنا چاہیے اور انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہر فوجی ایک طرح کا نہیں ہوتا۔ بعض اپنی ترکیب میں مختلف اور منفرد ہوتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ چیف آف آرمی سٹاف‘ جنرل راحیل شریف انہی میں شامل ہیں۔گزشتہ چند روز میں انہیں جس تجربے سے گزرنا پڑا‘ میں صرف تصور کر سکتا ہوں کہ ان پر کیا گزری ہو گی؟ سیاستدان پر جھوٹ یا غلط بیانی کا الزام لگ جائے‘ تو یہ ان کے لئے روزمرہ کی بات ہوتی ہے اور ایک فخرمند فوجی کی سچائی پر ذرا سا شک بھی کر لیا جائے‘ تو یہ اس کے لئے کاری زخم کی طرح ہوتا ہے۔ ہمارے سیاستدانوں نے‘ جنرل راحیل شریف کے ساتھ گزشتہ چند روز میں جو کھیل کھیلا ہے‘ وہ اس فخرمند جنرل کی شایان شان نہیں۔ جنرل راحیل سے بات کرتے وقت‘ یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ان کا تعلق پیشہ سپاہ گری میں‘ امتیازی مقام رکھنے والے کس خاندان کے ساتھ ہے۔ نشان حیدر وہ اعزاز ہے‘ جو صرف وطن پر جان قربان کرنے والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ جس خاندان میں ایک نشان حیدر آ جائے‘ اس کی فخرمندی کا عالم ہی اور ہوتا ہے۔ ایسے خاندان سے دور کا تعلق رکھنے والے بھی باعزت اور قابل احترام سمجھے جاتے ہیں۔ ان سے بات کرتے وقت محتاط رہنا پڑتا ہے۔ ہمارے لوگوں اور ہمارے میڈیا نے‘ جنرل راحیل شریف کو جس گندی بحث کا موضوع بنایا‘ وہ نشان حیدر سے نسبت رکھنے والے خاندان کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کس طرح۔
جنرل راحیل شریف کے حوالے سے‘ میڈیا میں ایک خبر آئی کہ وزیراعظم نے جنرل راحیل شریف کے ساتھ ایک ملاقات میں‘ فوج سے درخواست کی ہے کہ وہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ثالث اور ضامن کا کردار ادا کرے۔ حکومت کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز اراکین نے لگی لپٹی رکھے بغیر اس خبر کو غلط قرار دیا۔ یہ خبر وزیراعظم اور پاک فوج دونوں کے ذرائع سے ‘میڈیا میں بھیجی گئی۔ دونوں میں الفاظ مختلف تھے‘ لیکن حقیقت یہی تھی کہ وزیراعظم نے فوج سے کوئی کام کرنے کے لئے کہا ہے۔ اس ''کہنے کو‘‘ آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ حکم‘ درخواست‘ خواہش‘ فرمائش۔ مدعا یہی رہتا ہے کہ وزیراعظم نے‘ فوج سے کوئی کام کرنے کے لئے کہا۔ اس کام کی نوعیت فوج کے مقررہ پیشہ ورانہ فرائض کے دائرے میں نہیں آتی۔ فوج کی کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ حکومت جب اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ کشمکش یا محاذ آرائی کی کیفیت میں پھنس جائے‘ تو فوج کسی بھی طرح اس کی مدد کرنے کی پابند ہے۔ یہ معاملات حکومتوں کو خود نمٹاناہوتے ہیں اور اگر اپوزیشن کے ساتھ حکومت کا کوئی تنازعہ مذاکرات میں حل نہ ہو سکے‘ تو حکومت کے لئے دو ہی راستے ہوتے ہیں۔ یا اپوزیشن کو اپنی بات طاقت کے زور سے منوا لے یا دلائل سے قائل کر لے۔ تیسرا راستہ یعنی فوج سے مدد لینا کسی بھی اعتبار سے مناسب نہیں۔ جب کوئی حکومت ایسی صورت حال میں پھنس جائے کہ مخالفین ‘ دلیل سے قائل نہ ہوں اور احتجاجی تحریک کے ذریعے دبائو بڑھاتے جا رہے ہوں‘ تو حکومت کے پاس واحد راستہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ عوام کی طرف رجوع کر کے‘ فیصلے کا اختیار ان کے ہاتھ میں دے دے‘ کیونکہ جمہوریت میں عوام ہی حکمرانی کے فیصلوں میں حتمی اختیار رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے فوج کو سہولت کاری کے لئے کہا ہو؟ مدد کے لئے کہا ہو؟ معاونت کے لئے کہا ہو؟ یا ساتھ دینے کے لئے؟ حقیقت یہی ہے کہ وزیراعظم نے اپوزیشن کے ساتھ جھگڑے میں فوج سے مدد کے لئے کہا۔ فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے‘ آئی ایس پی آر نے ایک پریس ریلیز میں یہ خبر جاری کر دی۔ اس میں کچھ بھی لکھا گیا ہو‘ مدعا یہی تھا کہ وزیراعظم نے فوج کو ایسے کام کے لئے کہا‘ جو اپوزیشن سے‘ ان کے تنازعے کا حل نکالنے کے لئے مددگار ثابت ہو۔ حکومت سیاسی طور پر فوج سے کی گئی اس فرمائش کو کچھ بھی کہہ لے‘ ثالثی‘ ضامنی یا سہولت کاری۔ حکومت نے بہرطور فوج سے کچھ مانگا ہے۔ یہی بات فوج نے اپنی پریس ریلیز میں کہی ہے۔ جب وزیرداخلہ اور وزیراعظم نے اس حقیقت کی بھاری بھرکم تردید کی‘ توآئی ایس پی آر کے سربراہ‘ میجرجنرل عاصم باجوہ نے اس ملاقات کے حوالے سے اپنی ٹویٹ میں لکھا :ـ"COAS was asked by the Govt to play facilitative role for resolution of current impasse, in yesterday's meeting, at #PM House."
لفظ"Impasse" کا مطلب پیچیدگی۔ وہ صورتحال جس سے بچناممکن نہ ہو۔ تعطل۔سخت مشکل۔بند گلی ہے۔گویا وزیراعظم نے یہ کہا کہ فوج‘ ان کی حکومت کو بندگلی ‘ تعطل یا پیچیدگی سے نکالنے کے لئے سہولت کاری کرے۔ان الفاظ کو آپ جتنا بھی توڑمروڑ لیں‘ مفہوم ایک ہی نکلتا ہے کہ وزیراعظم نے اپنی حکومت کو مشکل‘ پیچیدگی یا بند گلی سے نکالنے کی خاطر‘ سہولت کاری کے لئے کہا۔ خدالگتی کہیے کہ حکومت اور فوج کے سربراہوں کے مابین دوطرفہ کمیونیکیشن میں اس سطح کی تکرارمناسب ہے؟ جو وزیراعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کے درمیان ہو رہی ہے؟ اگر جواب میں معذرت کے ساتھ کہہ دیا جائے کہ''سوری سر! اس بحث میں پڑنا ہمارے فرائض میں شامل نہیں۔‘‘ تو صورتحال کیا ہو گی؟

N.Naji. dunya.com.pk

AZADI MARCH PTI IS THE MOST HISTORICAL MOMENT OF PAK AND BIGGEST THREAT TO STATUS QUO FORCES – DR. FARRUKH SALEEM

Our ancestors expelled colonial rulers in 1947 after great struggle and sacrifices so that people could freely live in peace in line with Islamic values of freedom, equality and justice, but oppressors rule through their proxies, the corrupt ruling elite. We must break all the shackles of slavery, regain independence and dignity! We have enormous potentials,reject plunderers and support competent and honest leadership. 
Imran Khan has declared war against Status Quo forces, the Corrupt Ruling Elite. All evil forces stands one one side,  against Imran Khan
Where your stand? 
Freedom is Priceless







* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Humanity, Religion, Culture, Ethics, Science, Spirituality & Peace
Peace Forum Network
Over 1,000,000 Visits
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *

Nawaz Sharif: From King like prime minister to Deputy commissioner type Joker

Besieged Prime Minister Nawaz Sharif has been assured by military that there will be no coup, but in return he must “share space with the army”, according to a government source who was privy to recent talks between the two sides.  

Last week, as tens of thousands of protesters advanced on the federal capital to demand his resignation, Sharif dispatched two emissaries to consult with the army chief.

He wanted to know if the military was quietly engineering the twin protest movements by cricket star-turned-politician Imran Khan and activist cleric Tahirul Qadri, or if, perhaps, it was preparing to stage a coup.

According to a government insider with a first-hand account of the meeting, Sharif's envoys returned with good news and bad: there will be no coup but if he wants his government to survive, from now on it will have to share space with the army.

The army's media wing declined to comment.

Thousands of protesters marched to parliament on Tuesday, using a crane and bolt cutters to force their way past barricades of shipping containers, as riot police and paramilitaries watched on after being told not to intervene.

Military spokesman General Asim Bajwa tweeted a reminder to protesters to respect government institutions and called for a “meaningful dialogue” to resolve the crisis.

Even if, as seems likely, the Khan and Qadri protests eventually fizzle out due to a lack of overt support from the military, the prime minister will emerge weakened from political crisis.

Sharif may have to be subservient to the generals on issues he wanted to handle himself — from the fight against Taliban to relations with India and Pakistan's role in neighbouring, post-Nato Afghanistan.

“The biggest loser will be Nawaz, cut down to size both by puny political rivals and the powerful army,” said a government minister who asked not to be named.

“From this moment on, he'll always be looking over his shoulder.”

A year ago, few would have predicted that Sharif would be in such trouble: back then, he had just swept to power for a third time in a milestone poll that marked the first transition from one elected government to another.

But in the months that followed, Sharif — who had crossed swords with the army in the past — moved to enhance the clout of the civilian government in a country that has been ruled by the military for more than half of its history.

He irked the generals by putting former military head Pervez Musharraf, who had ended Sharif's last stint as prime minister in a 1999 coup, on trial for treason.

Sharif is also said to have opposed a military offensive to crush Taliban insurgents and sought reconciliation with India.

India rapprochement at risk

Sources in Sharif's government said that with civilian-military relations in such bad shape, Sharif suspected that the street protests to unseat him were being manipulated from behind the scenes by the army.

He also feared that if the agitations turned violent, the army would exploit the situation to seize power for itself.

However, the two close aides who went to see army chief Raheel Sharif in the garrison town of Rawalpindi last Wednesday were told that the military had no intention of intervening.

“The military does not intend to carry out a coup but ... if the government wants to get through its many problems and the four remaining years of its term, it has to share space with the army,” said the insider, summing up the message they were given.

“Sharing space” is a familiar euphemism for civilian governments focusing narrowly on domestic political affairs and leaving security and strategic policy to the army.

The fact that the military is back in the driving seat will make it harder for Sharif to deliver the rapprochement with India that he promised when he won the election last year.

Indian media speculated this week that Sharif had already been forced by the generals to scuttle peace talks.

New Delhi on Monday called off a meeting between foreign ministry officials of the two countries, which had been set to take place on Aug 25, because Pakistan announced its intention to consult Kashmiri separatists ahead of the meeting.

The Himalayan region of Kashmir has been a bone of contention between India and Pakistan since both gained independence in 1947. The two nations have fought three wars, two of them over Kashmir, and came close to a fourth in 2001.

The Pakistani army's predominance could also mean it could torpedo the government's relationship with Afghanistan, where a regional jostle for influence is expected to intensify after the withdrawal of most foreign forces at the end of this year.

Paying the price

Few believed that the army would back Khan's bid for power even if it used him to put Sharif on the defensive.

“Even the army knows that Imran Khan may be a great pressure cooker in the kitchen, but you can't trust him to be the chef,” said a former intelligence chief who declined to be named.

Sharif may now pay the price for miscalculating that the military may have been willing to let the one-time cricket hero topple him.

“Thinking that Imran could be a game-changer, Nawaz has conceded the maximum to the army,” a Sharif aide said.

“From a czar-like prime minister, they (the army) have reduced him to a deputy commissioner-type character who will deal with the day-to-day running of the country while they take care of the important stuff like Afghanistan and India. This is not a small loss.”

But Sharif's aides say a stint in jail under Musharraf, followed by exile from Pakistan and five years as leader of the opposition party, have made him realise that he needs to share power to survive.

“This is not the old Nawaz, the wild confrontationalist,” said an adviser to the prime minister in Lahore, the capital of his Punjab province power base.

“This is the new Nawaz who has learnt the hard way that politics is about living to fight another day.”

Dawn.com

Open Letter to Sharif brothers: شریف برادران کے نام کھلا خط :


Open letter to Sharif brothers: 

While Pakistan Army is busy fighting the terrorists,  Shahbaz Sharif & Nawaz Sharif in Punjab are busy in converting thousands of peaceful citizens to terrorism.

Tyranny, oppression, injustice causes terrorism.  We may not agree with the political views of Tahir Qadri. But his supporters have the right of peaceful protest, or gather for reciting Holy Quran, supplicate the martyrs.  
The use of brute force to stop them is like pushing them towards dead end.  Violence creates more violence. Now thousands of people have been booked in terrorism cases registered by police. Thus producing thousands of terrorists overnight. 

Learn some lessons form Lal Masjid episode. TUQ followers have religiously motivation. TUQ who is champion of peace and opposed to terrorism, if orders them to fight back they will die for him. There is no need to push them to wall.

Punjab's 100 million people are without petrol, transport, which law allows the state to oppress citizens?  

It is good or bad for Pakistan? While you enjoy protection by thousands of policemen, common people are victim of terrorism:
  1. Please have pity upon the people of Pakistan. 
  2. Do not use brute state power to save your dictatorial rule.
  3. Do not oppress your political opponents. 
  4. Resort to dialogue to deal with your political opponents. 
http://Aftabkhan.blog.com


شریف برادران کے نام کھلا خط :

پاک فوج وزیرستان مینن دہشت گردوں سے لڑ رہی ہے . مگر شہباز شریف ، نواز شریف پنجاب میں ہزاروں پرامن لوگوں کو دشت گرد بنا رہی ہے .
ظلم ، جبر ، نا انصافی دہشت گردی کو جنم دیتی ہے . میں طاہر قادری صاحب کے سیاسی طریقہ کار سے پوری طرح متفق نہیں ہوں . مگر ان کو پر امن احتجاج ، شہدا کے لیے قرآن خوانی دعا کا حق ہے .
ان کو روک کر اور طاقت کے بجا استمال سے دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا . تشدد پر امن لوگوں کو تشدد پر اکساتا ہے . اب ہزاروں لوگوں پر دہشت گردی کے مقدمات درج کر کہ ہزاروں دہشت گرد بنا ڈالے ہیں .
واہ شریف برادران فوج دہشت گرد ختم کر رہی ہے اور آپ نیے دہشت گرد ایک دن میں بنا رہے ہینن . 
پنجاب کے ١٠ کروڑ عوام کو پیٹرول ٹراسپورٹ بند کر کے آئیں قانون کی دھجیاں اڑا دی گیئں . 

یہ پاکستان سے محبت ہے یا دشمنی ؟ عوام دہشت گردی سے تانگ ہیں آپ تو ١١٠٠ پولیس کی حفاظت میں ہیں . اس ملک اور عوام پر رحم کراینن . اپنی بادشاہت کو بچانے کے لیے امن کو داؤ پر نہ لگاؤ . سیسی معاملات کو بات چیت سے حل کرو . 



Related:
Open Letter to Sharif brothers: شریف برادران کے نام کھلا خط : http://t.co/rDWpEIBKIl

Dr.Tahir ul Qadri vis Sharif Relationship - Myth & Reality: Watch video <<<Click here>>>>


* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Humanity, Religion, Culture, Ethics, Science, Spirituality & Peace
Peace Forum Network
Over 1,000,000 Visits
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *

What should Pakistani do in present situation?

ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟
ایک اہم سوال جو اکثر جگہوں پر پوچھا بھی جاتا ہے اور بے شمار ڈسکشن فورمز میں بھی زیر بحث آ رہا ہے ، یہ ہے کہ اس افراتفری اور مایوسیوں کے دور میں جب ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہیں،کہیں سے مثبت خبریں نہیں مل رہیں، لیڈرشپ کا فقدان ہے، جس پر بھروسہ کرو، وہی مایوس کرتا ہے، جماعتیں یا تنظیمیں بھی جمود کا شکار ہیں ... ایسی حالت میں ایک فرد کیا کردار ادا کر سکتا ہے ؟ اس سوال کا جواب کھوجنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ ایک خاصا بڑا حلقہ اس تمام صورتحال سے مایوس ہو کر لاتعلق ہوچکا ہے، وہ صرف اپنے ذاتی معاملات پر فوکس کرتے اور اجتماعی منظرنامے سے کٹ چکے ہیں۔ ان سے بات کی جائے تو نہایت مایوسی اور لاتعلقی سے جواب دیتے ہیں،'' یہ سب چور ہیں، کسی کا ساتھ دینے کا فائدہ نہیں‘‘۔ جب استفسار کیا جائے کہ آپ اپنے طور پر کچھ کریں تو لہجے میں کڑواہٹ بھر کر بولیں گے،'' ہمارے پاس اتنا وقت نہیں، ویسے بھی یہاں کچھ نہیں ہونے والا‘‘۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس منفی اور قنوطیت زدہ صورتحال کو دیکھ کر شدت پسندی پر مائل ہوجاتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس بگاڑ کو سنوارنے کا واحد طریقہ کسی ایسے گروہ کو برسراقتدار لے آنا ہے ،جو ڈنڈے کے زور پر سب ٹھیک کر دے۔ مجرموں کو سرعام پھانسی پر لٹادیا جائے، تب جرائم ختم ہوجائیں گے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ اہل مغرب یہ تجربہ ایک دو صدی پہلے کر چکے ہیں، جب لندن میں ڈبل روٹی چرانے جیسے جرائم کی سزا بھی موت رکھی جاتی تھی، مگر اس سب کے باوجود جرائم کم نہیں ہوئے۔ پھر انہوںنے تعلیم و تربیت پر توجہ دی، سکول کی سطح پر بچوں کی اخلاقی تربیت کا نصاب بنایا، ان میں چند اہم اخلاقی سچائیاں ڈالیں پھر محروم طبقات کے لئے ریلیف کا انتظام کیا، نظم ونسق بہتر بنانے کے لئے ادارے بنائے، انہیں اس قدر مضبوط اور مستحکم کیا کہ بدعنوان عناصر سرائیت نہ کر سکیں، عدلیہ کی آزادی یقینی بنائی، پولیس کے نظام کو اس قدر طاقتور، آزاد اور خود مختار بنایا کہ آج برطانوی وزیراعظم برملا یہ کہہ سکتا ہے کہ برطانوی حکومت بھی پولیس کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ یہ وہ ماڈرن سٹیٹ ہے، جسے تشکیل دئیے بغیر، ڈنڈے کے زور پر معاملات بہتر نہیں بنائے جا سکتے۔
ایک حلقہ اس پیچیدہ اور گنجلک صورتحال سے نکلنے کا واحد حل ڈی کنسٹرکشن یعنی سب کچھ تلپٹ کر دینے میں دیکھتا ہے۔ مثلاً ہمارے لبرل ، سیکولر دانشور اور لکھنے والوں کے خیال میں یہ منتشر سماجی صورتحال مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے ہے۔ ان کے خیال میں واحد حل سیکولر ازم ہے، تمام شدت پسندوں کا صفایا کر دیا جائے، مذہبی قوتوں کی ایسی سرکوبی کہ وہ گردن نہ اٹھا سکیں... اور پھر'' گلیاں ہوون سنجیاں ، وچ مرزا یار پھرے‘‘ کے مصداق سیکولر ہی ہر طرف چھائے نظر آئیں۔ مذہبی بیزاری میں یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اسلام پاکستانی سماج کے فیبرک کا بنیادی جز ہے۔ مذہبی شدت پسندی کم کرنے کے لئے سیکولر ازم کی نہیں بلکہ مذہب کی اصل تعلیمات پھیلانے اور دینی فکر کی درست تعبیر وتشریح کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں ایک شدت کا علاج دوسری طرز کی شدت سے کیا جاتا ہے۔ حل سادہ ہی ہے، درمیان کی جگہ کو مزید کشادہ کیا جائے، اعتدال اور
توازن کی راہ اپنائی جائے، رویوں اور سوچ کی تربیت اور تہذیب کی جائے۔ ماضی میں یہ کام بڑے بھونڈے طریقے سے کیا گیا۔ سوات میں آپریشن کے بعد وہاں فیشن شو کرا کر سمجھا گیاکہ سوات کا معاشرہ تبدیل ہوگیا ہے۔ یہ سراسر غلط ہے۔ ہر علاقے کی اپنی روایات ہیں، ان کا احترام روا رکھنا ہوگا۔ سماج میں شدت کم کرنی ہے تو پھر اس میں علم وادب کی روشنی بھرنی ہوگی۔ پچھلے تین چار عشروں کے دوران ہمارے آس پاس اور ہمارے درمیان بہت خون بہا، بڑی تلخیاں اور کڑواہٹیں مزاجوں میں در آئیں۔ انہیں آہستہ آہستہ نکالنا ہوگا، نرمی لانی ہوگی، علمی ، ادبی، ثقافتی ڈیرے پھر سے آباد کرنے، محفلیں پھر سے سجانی ہوں گی۔ یہ کام بڑی حکمت اور دانش سے کرنا ہوگا۔
یہ کام حکومت اور مختلف سماجی شعبوں کے کرنے کے ہیں، مگر کچھ کام انفرادی طور پر بھی کئے جا سکتے ہیں۔ایک عام آدمی پریشان ہو کر سوچتا ہے کہ اس قدر بگڑی صورتحال میں وہ کیا کرے؟ اس کے ذمے دو تین کام ہیں۔ سب سے پہلے تو اسے خود خیر کا پیام بر بننا ہو گا۔ اپنے اندر نرمی، شائستگی ، حلم اور برداشت لانی ہوگی۔دنیا کے کامل ترین انسان حضورﷺ کی پیروی میں اپنے اخلاق، معاملات کو بہتر بنانا ہو گا۔ یہ کام انقلاب لانے کی جدوجہد سے زیادہ اہم ہے۔ قدرت جب محاسبہ کرے گی تو سب سے پہلے بطور فرد ہی جواب دینا ہوگا۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا کس قدر خیال رکھا گیا؟ اپنی ذات سے خیر کے کتنے کام ہوئے؟ روزانہ کی بنیاد پر بیلنس شیٹ بنائی جائے، رات کو دیکھا جائے کہ آج پورے دن میں کتنی نیکی کمائی؟ اپنے اندر بہتری لانے ، خود کو صادق اور امین بنانے کے بعد ہی دعوت کا کام شروع ہوتا ہے ۔سب سے اہم ذمہ داری ان لوگوں تک دعوت بلکہ مسلسل دعوت کا پیغام پہنچانا ہے، جو رعیت ہیں۔ اہل خانہ، شاگرد، زیر اثر لوگ وغیرہ۔ اگلے مرحلے میں اپنے محلے اور آس پاس کے لوگوں تک خیر کے اثرات پہنچنے چاہییں۔ یہ دعوت وتربیت کا کام نہایت تحمل، سمجھداری اور حکمت سے کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے اچھا طریقہ صوفیا کرام کا ہے، وہ کبھی وعظ نہیں کرتے تھے، اپنی ذات کو رول ماڈل بنا دیتے تھے۔ لوگ ان کو دیکھ کر خود ہی سیکھ اور سمجھ لیتے تھے۔ جب صوفی اپنی محفلوں میں کسی کی غیبت نہیں کرتا، کسی پر تبصرہ نہیں کرتا، کسی مشکل، کٹھنائی، حتیٰ کہ سخت موسم تک کا شکوہ نہیں کرتا... تو وہاں جانے والے لوگوں کی ازخود تربیت ہو جاتی ہے۔ ہم نے لاہور کے صوفی سکالر سرفراز شاہ صاحب کی محفلوں سے یہی سیکھا۔ اٹھارہ برسوں کے دوران ایک بار بھی شاہ صاحب کی زبان سے کسی کے خلاف کوئی جملہ یا تبصرہ یا طنزیہ مسکراہٹ تک نہیں دیکھی۔
تیسرے مرحلے میں فرد کو اہل خیر یا خیر کی قوتوں کا سپورٹر ہونا چاہیے۔ جہاں اچھا کام ہوتا دکھائی دے، اس کا ساتھ دے، عملی طور پر ممکن نہ ہو تو اخلاقی سپورٹ ہی کر دی جائے۔ اچھا کام کرنے والے خیراتی اداروں، دعوتی تنظیموں، علمی کام کرنے والے اداروں، لائبریریاں قائم کرنے والوں، کتابیں پھیلانے، انہیں ڈسکس کرنے والوں ، سماج میں علمی ذوق پیدا کرنے کی کوششیں کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ۔ کم سے کم درجہ یہ ہونا چاہیے کہ اگر اچھے کام کا حصہ نہیں بن سکتے تو تنقید سے باز رہا جائے۔ جو لوگ عملی کام کر رہے ہیں، وہ زبانی باتیں کرنے والے سے ہر حال میں بہتر ہیں۔ چوتھا مرحلہ جو بہت اہم ہے کہ چھوٹے چھوٹے نیکی کے سیل یا مرکز بنائے جائیں۔ ایسے حلقے جو خیر کی کاشت کریں، خیر پھیلائیں اور ایک دوسرے کی اچھے کاموں میں حوصلہ افزائی کریں۔ ایک وقت آئے گا جب یہ تمام سیل اکٹھے ہو کر بڑے نیٹ ورک میں تبدیل ہوجائیں گے اور پھر معاشرے میں بامقصد ٹھوس تبدیلی کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ چھوٹے شہروں اور اہم مراکز سے دور رہنے والے بھی اپنی اپنی جگہ پر یہ سب کر سکتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ رب تعالیٰ کو جدوجہد اور کوشش پسند ہے، نتائج قدرت نے دینے ہیں، انسان کا کام صرف اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔
Aamir Hashim Khakwani dunya.com.pk