Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

Showing posts with label Corruption. Show all posts
Showing posts with label Corruption. Show all posts

Pakistanis under Electric Shocks : Causes and Solutions


بجلی کے نرخ میں تسلسل سے اضافہ ہوتا ہے ، جس کے نتیجہ میں مہنگائی، انفلیشن بڑھتی ہے، پھر ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا - عوام شور کرتے ہیں  مگر اسباب پر غورنہیں کرتے اور نہ ان کو معلوم ہے کہ اس ظلم کا ذمہ دار عوام دشمن کون ہے؟ 
سیاست اپنی جگه مگر نواز شریف اور بےنظیر زرداری نے  پاکستانی عوام اور آیندہ کی نسلوں کو IPPs سے غلط ڈیل کرکہ ہمیشہ کے لے غلام بنا دیا- بجلی کی اصل قیمت بل کا صرف 29% ہے اور 71%  بھتہ ہے-
 بجلی کا یونٹ اگر 50 روپیہ ہو تو اس میں میں صرف 15 روپہ بجلی کی قیمت اور 35 روپیہ IPPs کو capacity charges کا بھتہ ہے۔ حکومت کی طرف سے ادائیگی صلاحیت پر نہ کہ استعمال شدہ بجلی پر، یعنی اگر ایک انٹپنڈنٹ پاور پلانٹ (IPP) کی صلاحیت 100میگا واٹ ہے مگر بجلی کی کمپنیوں نے صرف 20 میگا واٹ (20%) استعمال کی جیسا کہ مارچ میں ہوا ، سردی کی وجہ سے لوڈ کم رہا اور ڈیمزاور دوسری بجلی بجلی کافی تھی  تو پھر بھی  انٹپنڈنٹ پاور پلانٹ (IPP) کو اس کی صلاحیت  پر 100میگا واٹ کی ادائیگی کی جاتی ہے- صرف ایک سہ ماہی کی یہ ادائیگی 99 ارب روپیہ تھی تو سالانہ چار سو ارب بن جاتے ہیں- کیا یہ سیاست دان اپنے ذاتی کاروبار میں بھی ایسے گھاٹے کے معاہدے کرتے ہیں؟  ایسا کیوں؟ کیا رشوت (kickbacks) یا  نااہلی یا دونوں؟ واللہ اعلم -  
اور لوگ پھر ان کو ووٹ دیتے ہیں  کیوں؟ زبردستی،  ذاتی مفادات ، لا علمی، احمق یا قیمہ والے نان ؟
اور مقتدر ادارے اور افراد جوپاک وطن اور عوام کی حفاظت میں جانیں قربان کرتے ہیں، کیاان کو کرپشن اور عوام پی ظلم نظر نہیں آتا؟  وہ ظلم کے لیے قرابانیاں نہیں دیتےان کو اس ظلم اور تباہی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے-
جب بجلی مہنگی، ہر چیز مہنگی، انفلیشن ، پروڈکشن کوسٹ زیادہ (non competitive products), ایکسپورٹ کم، فارن ایکسچَانج کم ، ڈالر مہنگا ، امپورٹس مہنگی، GDP اور سالانہ ترقی کی شرح ، گروتھ ریٹ کم،  بے روزگاری، کم آمدنی، برین ڈرین، کشتیوں میں مہاجرین کی اموات ، غرض ایک پورا چکر ہے جو آپس میں مربوط طور پر لنک ہے- اور پھرIMF، دوست ممالک سے قرض ان پر سود ، امریکہ اور دوسرے ممالک سے بھیک اور غلامانہ خارجہ پالیسی ، قومی مفادات پر سمجھوتہ -
صرف ایک حکومت نے کوشش کی، 2020 میں انکوئیری کروائی اور IPP سے renegotiate کرکے 3 بلین$ تک کی کمی پر رضامند کیا مگرجلد ہی فارغ ہو گیئی، سیاسی وجوہات کے علاوہ ممکن ہے بجلی مافیا کا بھی کوئی کردار بھی ہو؟ پھر جو ڈہل ہوئی تھی وہ کھڈے لگ گئی۔۔۔ معاملہ400 سے 500 بلین سالانہ کا بھتہ ہے۔۔  جو عوام سے مہنگا ٘پٹرول،  بجلی اور ٹیکسز لگا کر پورا کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ ابدی ہے (for ever) ہے کوئی سٹریٹجی نہیں، اسے ختم کرنے کی کوئی زکر بھی نہیں کرتا۔۔
عوام عقل کرو ۔۔ مہنگائی پر شور تو کرتے ہو ، ووٹ پھر انہی لٹیروں کو دیتے ہیں، سیاسی اختلاف میں ان کی کرپشن کا دفاع بھی کرتے ہو۔۔۔ اگرکس شخص کے نام سے تکلیف ہے تو ہھر جماعت اسلامی یا کسی فرشتہ کو ووٹ دو مگر چوروں کا ساتھ مت دو۔
 جوبرآئی یا اچھائی کا ساتھ دے وہ اسں می حصہ دار ہے (قرآن 4:85)
مقتدر ادارے ان سے مزاکرات کریں تو IPPs صرف اصل خرچہ اور منافع لینے پر مان جائیں گے، آخر 2020 میں حکومت نے مزاکرات کئیے تو مان گئے تھے، کوشش تو کرو، ریاست اور ادارے  مضبوط چیز ہے ان کی بات سے انکار مشکل ہوتا ہے۔ اس ریاستی طاقت کو مثبت طور پر عوامی فلاح کے لئیے استعمال  کریں۔ تو IPPs لوٹ مار 71% (capacity charges) نہیں لیں گے ۔۔ اور عوام کو 12 یا 15 روپیہ کا یونٹ ملے گا ، مہنگائی کم ہوگی، انفلیشن کم ہو گی ، پروڈکشن کاسٹ کم ہوگی تو ایکسپورٹ بڑھے گی، فارن ایکسچینج آئے گا، ڈالر کا ریٹ کم ہوجائے گا۔۔۔ عوام کو ریلیف ملے گا ، ترقی کا سفر شروع ہوگا۔۔۔ یہ کوئی خواب نہیں ، نہ شیخ چلی کی داستان ہے- ایک حقیقت ہے ، جسے پورا کرنا ہے - پاکستان زندہ باد 

CAPITALISM’S ACHILLES HEEL: Dirty Money and How to Renew the Free-Market System RAYMOND W. BAKER ; Page 76-85 on Pakistan: Bhuttos & Sharif's [اردو ترجمہ کے ساتھ with Urdu Translation]


ہمارے بڑے سیاست دانوں کی اصلیت کو کتاب " سرمایہ دارانہ نظام کا کمزور پہلو”  (“Capitalism’s Achilles Heel” ) بے نقاب کرتی ہے یہ ایک ناقابل تسخیر چیلنجنگ کتاب ہے ، جو کارپوریٹ ایگزیکٹو ، معاشی ماہر ، مفکر ، سیاست دان ، اور انسانی حقوق کے کارکن کے لئے بھی لکھی گئی ہے۔ 

مصنف ریمنڈ ڈبلیو بیکر (پیدائش: 30 اکتوبر ، 1935) ایک امریکی تاجر ، اسکالر ، مصنف ، اور "مالیاتی جرم پراتھارٹی " ہے۔ وہ واشنگٹن ، ڈی سی میں تحقیقاتی اور وکالت کرنے والی تنظیم گلوبل فنانشل انٹیگریٹی  (Global Financial Integrity) کے بانی اور صدر ہیں، جو کہ غیر قانونی مالی بہاؤ کو کم کرنے پر کام کرتے ہیں۔

 ریمنڈ ڈبلیو بیکر نےاس کتاب میں معیشت کے معیار زندگی کو فروغ دینے اور بین الاقوامی معاشی حالتوں کو ختم کرنے کے لئے سرمایہ دارانہ نظام کے پھیلاؤ کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ "گندا پیسہ اور آزاد بازار کے نظام کی تجدید کا طریقہ"  (Dirty Money and How to Renew the Free-Market System ) اعلی پاکستانی خاندانوں ، سیاسی رہنماؤں اور آرمی جنرلوں کے منی لانڈرنگ اسکینڈلز کی ایک مستند کہانی۔

یہ کتاب مغربی حکومتوں کے لئے چیلینج ثابت ہوسکتی ہے۔ مالیاتی استحکام ، تشکیل دیئے جانے والے اور غریبوں کے درمیان انصاف ، اور جمہوریت کی پیشرفت سب کو باہمی تعاون کے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ دولت ، سرمایہ کی لوٹ مار کو چھڑوانے اور چھپانے کے مواقع کو کم کیا جاسکے۔ Read more »

Why Electoral Reforms in Pakistan?

The echo of rigging in Election 2013 was again in the air in 2018. In 2013 all looser parties claimed that the elections were rigged.  PTI came forward to launch a protest movement. The Election Commission and the incumbent government failed to address the massive rigging allegations of PTI (Pakistan Tehreek Insaf). The resultant protests created political instability. ultimately the Judicial Commission probed, pointed out massive "irregularities" (legal term used for rigging) but cleared the elections, people kept guessing. Ultimately after over two and a half year's lengthy legal procedure case of NA-122 rigging allegations was decided by the Tribunal, which termed Ayaz Sadiq's election null and void and to hold by-elections.... The 2018 Elections brought PTI in power, oppositions (PML n was previously in power) again claim rigging... There was a protest march at Islamabad by religious party, supported by opposition but it failed. Surprisingly the opposition always level allegations of rigging but when same party is in power they do not try to introduce electoral reforms. May be they feel comfortable to win again through same "System"?

The present Electoral System has been analysed at macro level, to evolve a system suitable to our environments,  leaving micro details of conduct to the experts to sort out minor irregularities.

Energy, Economic & Political Crisis - Simple Solutions

The President Alvi, also talked about the ‘oil lobby’ for hampering the development of alternate energy resources and said that he “personally knows” that the use of solar panels and coal was discouraged by this lobby. He added had coal been used as a primary fuel in power generation, Pakistan would not have been facing the trouble that it was currently in. [Dawn,19 Feb 2023]

NEPRA places 200% extra burden on Solar Net Metering, making the cost of 3 Solar Units equal to 1 unit being sold to the public, procured at much higher rate from IPPs, hence making Solar lose its price advantage/ edge, making it an unattractive option for the public. (Details below)

ECC (Economic Coordination Committee) meeting was held on 5 March 2023, presided over by Federal Minister for Finance and Revenue Senator Ishaq Dar. The ECC  deferred summary submitted by the Ministry of Industries and Production on Solar Panel & Allied Equipment Manufacturing Policy 2023.


We need to identify the objective, is it is people oriented, we need to focus on the uplift and welfare of people. All strategies and action plans should focus on it.......

Pakistan’s Quagmire پاکستان - امن اور ترقی کا راستہ کیسے ؟



آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں. ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے. آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
Pakistan is in a state of turmoil, in order to get out of this quagmire some basic issues need to be settled. Ideologically the Pakistani society can be divided in to three main groups: <<Click to read in English as webDoc>>

پاکستان کی ترقی ، خوشحالی اور امن کے لییے کچھ بنیادی معاملات طے کرنا ضروری ھیں. اس وقت پاکستانی سوسائٹی ، معاشره فکری طورپرتین بڑے حصوں تقسیم ہو چکا ہے 

ایک طرف  اشرافیہ , لبرل طبقہ ہے جو مذہب کوہر شخص کا ذاتی معاملہ سمجھتا ہے،ان کے مطابق مذہب، اسلام کا  قانون، سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں . مذہیب عبادت گاہوں تک محدود ہو.کچھ معتدل لوگ اقلیت میں  ہیں. یہ  اشرافیہ لبرل طبقہ  اگر چہ تعداد میں قلیل ہے مگربہت طاقتور ہے .اشرافیہ کل آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر پورے یه پاکستان کی پچاس فیصد سے زیادہ دولت پر قابض ہیں. ٩٩ فیصد پاکستانی ٥٠٠ ڈالر اوسط سالانہ آمدنی  پرغربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں.   حکومت ،معشیت،جاگیریں، کاروبار، بیورو کریسی، فوج، سیاست دان، میڈیا سب  کچھ ان کے قبضہ  اور کنٹرول میں ہے. ان میں کچھ لوگ راے  عامہ ھموار کرنے کے لیے مذہب اسلام کا نام استمال کرتے ہیں. یہ صرف دکھا وہ ہے. طاقت اور پیسے کے زور پر یہ مخالف کوکچل دیتے ہیں 
یہاں اشرافیہ سے مراد ان کے ھمدرد ، فائدہ اٹھانے والے مدد گار اور دوسرے طبقات کے امیدوار بھی شامل ہیں 
کسی صورت میں یہ طاقت چھوڑنے کو تیار نہیں ، یہ مختلف بھیس بدل کر پاور میں رہتے ہیں
ان میں کچھ شدت پسند لوگ بھی ہیں جو مذھبی یا مذہب کی طرف مائل لوگوں کوچاہے وہ معتدل مزاج ہوں، ان کو  جاہل، دقیانوسی ، کم عقل، قابل  نفرت سمجھتے ہیں. ان کے خیال میں تمام مصیبتوں کی بنیاد مذہب اور مذھبی لوگ ہیں. ان کو لبرل فاشسٹ بھی کہا جا سکتا ہے
مذہب سے ان کی نفرت کی دو بڑی ممکنہ وجوھات ہو سکتی ھیں. اول: مغربی ترقی اور ثقافت سے مرعوب. دوئم: مذہبی لوگوں کی قدامت پسندی، جدید دنیا وی ترقی،سائنس ٹیکنالوجی سے بیزاری، صرف عبادات پر ترجیح، مکالمہ کی بجاے اپنی مخصوص فکراور نکتہ نظرکو مذہب کی آڑ میں دوسروں پر زبردستی نافذ کرنے کی کوشس اور اس میں شدت پسندی، دہشت گردی کے استعمال کو جائز سمجھنا. اگر چہ مذہبی لوگوں کی اکثریت معتدل مزاج اور امن پسند ھے


 دوسری طرف خاموش اکثریت ہے

 "اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔" - قرآن ٢:١٤٣ 

اکثریت اسلام کو مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے تمام جگہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں . اور اس کو قیام پاکستان کا مقصد سمجھتے ہیں
ان میں بہت سے امن پسند  معتدل علماء اکرام اور سوسائٹی کے تمام  طبقات کے معتدل  لوگ شامل ہیں. جو دہشت گردی کے خلاف ہیں بہت سے اپنی زندگی اس نیک مقصد میں قربان کر کہ شہید ہو گئے . مگر ان کی آواز دہشت گردی اور لبرل لوگوں کے درمیان گم جاتی ہے . کیوں کہ وہ انصاف اور عوام کے استحصال کے بھی خلاف حق کی آواز بلند کرتے ہیں 

 عوام اسلام سے جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں اور مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں مگر عام طور پر ذاتی زندگی میں اسلام کی اعلی  اقدار سے دور ہیں . جھوٹ دھوکہ ، نا انصافی ،کرپتشن کا دور دورہ ہے. شریعت کا نفاذ اپنے پر نہیں کرتے مگر دوسروں پر نافذ کرنا چاہتے ہیں. عبادات پر زور ہے مگر حقوق العباد پس پشت ہیں. ان کا مسلہ معاشی اور معاشرتی انصاف اور امن ہے جو اسلامی نظام کے زریعے حاصل کرنے کی امید کر سکتے ہیں.


تیسری تعارف اسلامی شدت پسند دہشت گرد اور ان کے خاموش ہمدرد 

   عوام کی  اکثریت شدت پسندی کے بجاے پر امن طریقے سے 
شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں . جبکہ کچھ شدت پسند لوگ اور گروہ جیسے طالبان ، طاقت کے زور پر اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں . اس کے لیے وھ دہشت گردی اور قتل و غارت کو جائزاسلامی طریقہ سمجھتے ہیں . اس سے تمام قابل زکر علماء اوراکثرمذہبی جماعتیں بظاھر اختلاف  کرتے ہیں . مگر خاموشی سے اںدورن خانہ ان کے حمایت کرتے  معلوم ہوتے ہیں


 امام مسجد , خطیب صاحبان کا سوسائٹی میں بہت اثر ہے . جمعہ کے خطبات ور مذھبی اجتما ع میں وھ جو چاہیں تقریر کریں . کسی کی جرات نہیں کہ اختلاف  کر سکے.اکثر خطیب صاحبان دہشت گردوں کی خاموش حمایت کرتے معلوم ہوتے ہیں ان کی مذمت نہیں کرتے ، گول مول بات کرتے ہیں. شائد ان کا
 خیال ھوکہ اس طرح وہ بھی  پاور گیم کا حصہ بن جایں گے

 تمام حکمران فوجی یا سول جمہوری, عوام کے استحصال میں ملوث ہیں ، کرپشن نا انصافی نے عوام کو بدحال کر دیا ہے . وہ امید سے ہر ایسے لوگوں کے پیچھے چلنے کو تیار ہیں جو ان کو انصاف خوشحالی کی امید دکھاتا ہے . مذہبی شدت پسند لوگوں کو وہ ردعمل میں امید لگاتے ہیں . جیسے پرانے لوگ کہتے ہیں کیہ انگریز کا دور اچھا تھا قانون کی حکمرانی تھی وغیرہ وغیرہ . مذہبی لوگ اپنے آپ کو اس لیڈرشپ کے خلا کو پر کرنے کا اهل سمجھتے ہیں. پاور طاقت کا اپنا مزہ ہوتا ہے . ان میں کم لوگ ادراک رکھتے ہیں. کچھ نیک نیت ہیں مگر یہ ان کے بس کا کام نہیں

سوسائٹی فکری طور پر  تقسیم ہو چکی ہے
ایسے حالات میں ضروری ہے کہ کنفیوژن کو دور کیا جائے تاکہ اکثریت ایک نقطہ  نظر پر متفق ہو  جائے. اور پھر تمام توانایوں کو مرکوز کرکہ عظیم مقاصد ، امن . خوشحالی . ترقی کی طرف رواں دواں ہوں
یاد رھے کہ الله تعالیٰ نے مسلمانوں کو تین اقسام میں تقسیم فرمایا ہے: 

ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم  مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ سورة فاطر٣٢ 

پھر ہم نے اس کتاب (قرآن) کا وارث ایسے لوگوں کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چُن لیا (یعنی امّتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو)، سو ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے درمیان میں رہنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے اﷲ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والے بھی ہیں، یہی (آگے نکل کر کامل ہو جانا ہی) بڑا فضل ہے،  
 اگر ہم کچھ بنیادی سوالات کا جواب موجودہ تناظرمیں قرآن سنت کی  روشنی میں معلوم کر لیں. ان پر قومی مباحثہ ہو جس میںآپ, میڈیا ، دانشور ، مذہبی سکالرز علماء ، سیاسی مفکرین ، سول سوسائٹی ، فوجی ماہرین ،  قانون ، خارجہ امور کے ماہرین اور تمام دوسرے متعلقہ ماہرین  اور عوام حصہ لیں . پھر جس پر سب یا اکثریت متفق ہو ان پر پھر ڈٹ کرعمل کریں تو پاکستان ایک ترقی یافتہ باعزت ملک، قوم  بن سکتا ہے  اور کچھ نہیں تو کم از کم عوام میں ایک فکری،  شعوری آگاہی پیدا ہو جائے گی . عوام دھوکہ سے بچ جائیں گے 
کچھ سوالات بظاھر معمولی معلوم ہوتے ہیں مگر گہرے اثرات رکھتے ہیں. 

 :بنیادی مکالمہ کےسوال درج ذیل ہیں 
انسان کا کیا مقصد حیات ہے؟
پاکستان بنانے کا مقصد ؟
. متفقہ آیین پاکستان  جو الله کی حاکمیت اعلی کا اقرار کرتا ہے اور  قرآن سنت کو اول قرار دے, کیا  اس کا مکمل انکار درست ہے ؟ 
کیا اسلامی جمہوریت  جس میں حاکمیت الله کی اور قانون شریعت  کا ہو غیر اسلامی ہے ؟
خلافت میں اگر خلیفہ منتخب ہو گا تو پھر اسلامی جمہوریت میں کیا فرق ہے ؟  
آیین فقط قرار داد مقاصد شامل کرنے سے اسلامی نہیں بنتا اس پر عمل درآمد بھی ہو؟
اسلامی نظریاتی کونسل فقط ایک  سفارشی ادارہ ہے . اس کی تشکیل نو اور اختیارات بھی ہونا چاہے ؟
 اگر موجودہ آیین اور جمہوریت اسلامی نہیں تو متبادل نظام کیا ہے؟ اس کو جمہوری طریقے سے نافذ کریں گے یا ڈکٹیٹر شپ سے ، کیا یہ سب کو قبول ہو گا ؟ 
عام حالات میں اشرافیہ کواگر ختم نہیں تو کم از کم مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ عوامی امنگوں کا خیال کرتے ہوۓ امن، خوشحالی اور ترقی کے اقدام اٹھاے. جب اس کو معلوم ہو کہ اس میں اشرافیہ کی اپنی سروائیول اور ان کا اپنا بھی فائدہ ہے تو وہ کچھ گنجائش دے گی. دہشت گرد اس میں کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں.  اسے کیا اقدام کئے جائیں جو اشرافیہ کوعوام کے فائدہ میں رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرے؟ 
 آیین کے مطابق جمہوری طریقے سے حکومت شوری پارلیمنٹ کا انتخاب سیکشن 62 ، 63 کے سختی سے نفاذ سے قبول ہے  یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس ؟
پاکستان میں نفاذ شریعت کی تعریف اجماع جمہور کے مذہب اسلام  کی ہو گی یا اقلیت شیعہ ، دیوبندی، اہل  حدیث ، تکفیری ، خوارج ، کے مطابق ؟
  اسلامی ریاست میں  چند افراد کے نظریے کی شریعت کے نفاذ کے نام پر بغاوت اور جنگ قتال جائز ہے ؟
 کیا اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کے بعد "دار-الحرب " اور "دارلسلام "  کا قدیم اجتہادی نظریہ ختم ہو کر دنیا اب "دار-الامن " ہے علاوہ ان علاقوں کے جن پر دوسرے لوگ  قابض ہیں؟
 کسی تبدیلی کی صورت میں حکومت پاکستان کے ماضی میں کئے گیے بین الاقوامی میثاق اور معاہدوں کی پاسداری کی کیا اہمیت اور سٹیٹس ہوگا ؟
کیا  حکومت پاکستان دنیا میں مسلم مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لیے یا کسی اور وجہ سے اخلاقی ، مالی امداد یا جہاد  قتال  کا  فیصلہ کرے گی، یا گروہ ، افراد یا علماء کریں گے یا حکومت سب کے مشورے سے کرے گی ؟ اسی صورت میں بین الاقوامی معاہد و ن کی کییا حیثیت ہو گی ؟ 
غیر مسلمان اقوام سے عام تعلقات  ،تعلیمی . جدید ٹیکنالوجی کا حصول ، تبلیغی، اسلامی دعوت , تجارتی اور دفاعی معاہدے، جدید اسلحہ کا حصول اپنے فائدے کے لیے  ممنوع ہے یا جائز ؟
کیا بین الاقوامی سرحدوں کا احترم ہو گا یا ساری زمین الله کی ہے کوئی سرحد نہیں ہو گی ؟
کیا پاکستان ساری دنیا سے جنگ کرے گا اور تباہ و برباد ہو جائے گا ؟
حکومت پاکستان موجودہ نواز شریف  اور سابقہ حکمران  مشرف،  زرداری تمام امریکہ کی پٹھو  ہیں جوامریکا کی غلام ہیں . وہ سب اس کا انکار کرتے ہیں . اس دعوے کی حقیقت کیسے معلوم ہو گی ؟
 کیا حکومت  کے خلاف اس قسم کے الزمات پر بغاوت جائز ہے ؟
کیا جو  عوام بغاوت نہیں کرتے وہ کیا حکومت کے ساتھی ہیں ، مرتد ہیں سب واجب قتل ہیں ، اور جہنمی ہیں . ان کو مارنا ثواب ہے ؟
 انسانی حقوق کیا ہیں ؟ یا انسانی حقوق وہ ہیں جو حکومت وقت دے ؟
کیا پاکستان میں غیر مسلمانوں کے لیے جگہ نہیں اور یہ سب واجب قتل ہیں ؟
کفار ملکوں میں مسلمانوں پر جوابا " ظلم کا کون ذمہ دار ہوگا ؟
پاکستان میں غیر مسلم اقلیت  کے برابر حقوق "میثاق مدینہ" اور آیین کے مطابق  یا کچھ اور ؟
ا قلیت کی مذہبی آزادی، عبادت کا حق اور چرچ ، مندر گردواروں کی حفاظت یا تباہی ؟
 اختلاف رائے کا حق ہو گا . ظالم حکمران کیسے تبدیل کیا جا سکے گا ؟
ریاست میں گروہ ، جتھوں اور پرائیویٹ ملیشیا  کی تشکیل کی اجازت ہو گی ؟ ان کو کنٹرول کون کرے گا ؟
 کیا امر با المعروف نہی عن المنکر ، (نیکی کی ترغیب اور برائی سے اجتناب ) کے لیے حکومت ، افراد، مذہبی اور سوشل تنظیموں کے طریقہ کار اور دائرہ اختیار کو طے کرنے کی ضرورت ہے؟
سماجی اوراخلاقی برایوں نے معاشرے کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کر دیا ہے. اس ضمن میں حکومت، افراد اورمذہبی اور سوشل تنظیموں کی کوششوں میں ربط کی ضرورت اور طریقہ کار؟   
کیا دینی مذہبی تعلیم پر حکومت کا کسی حد تک کنٹرول ہو؟  نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جانے . مدارس کے طلبا دین کے ساتھ دنیاوی ، سائنس کی تعلیم حاصل کریں  مزید امام مسجد کے علاوہ دوسرے کام حصول روزگار کے لیے کر سکیں؟
کیا عوام کا دشت گردی خودکش حملوں سے قتال جائز ہے؟   
فوج، پولیس اور دوسرے قومی دفاعی ادارے اور ان کے افراد مساجد ، گرجوں عوامی اجتماع کی جگہوں پر  طالبان کے خود کش حملوں اور دہشت گردی کو روکیں یا نہیں؟
عوام کی جان اور پراپرٹی کی حفاظت کون کرے گا؟ 

اہل علم ، دانشور حضرات اور تمام عوام الناس سے قرآن ، سنّت ، تاریخی حقائق  اورموجودہ حالات کے تناظر میں  رہنمائی کی  درخواست ہے . اس پیغام کو پھیلائیں تاکہ ایک قومی مکالمے کا آغاز ہو . ہم مل کر ان مسائل کا حل پا سکیں . اور کچھ نہیں تو کم از کم عوام میں ایک فکری،  شعوری آگاہی پیدا ہو جائے گی . عوام دھوکہ سے بچ جائیں گے .
آپ جو کوئی بھی ہیں جہاں بھی ہیں ان  اہم سوالات کے جواب درج ذیل لنکس اور دوسرے علمی ذریے سے معلوم کریں. ان کا آزادانہ تجزیہ کریں اور اپنے اردگرد حلقہ احباب کو بتاییں ، ان سے ڈسکسس کریں. اس طرح لوگوں کو گمراہ ہونے سے بچائیں. دین اسلام کے نام پر دھوکے کی سیاست اور دہشت کرنے والوں کی شیطانی چالوں سے خود بچیں اور دوسروں کو  بھی بچائیں. اس طرح کم از کم  آپ نے اپنا مذھبی اور انسانی فرض ادا کردیا
مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا
جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا،  اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا - قرآن ٤:٨٥
 الله ہماری مدد فرماے  . آمین 


غلطیوں سے درگزر کریں ، گوگل سے ٹائپ کیا
https://www.facebook.com/aftabkhaan 
http://aftabkhan.blog.com
.. http://t.co/H3Ot5U4uDx

  مزید مطالعہ کریں
پاکستان بچاؤ Save Pakistan & Save Pak Army 

Save Pak FB

FrontPage صفحہ اول WakeUp Pakistan! جاگو پاکستان

پاکستان آزادی سے اب تک : کیا کھویا ، کیا پایا؟

Pakistan’s Quagmire پاکستان - امن اور ترقی کا راستہ

Rise and fall of Nations – Law of Quran
 قرآن کا قانون عروج و زوال اقوام


 مسلم وعلماء کے نام کھلا خط :
  1. Short Web link: http://goo.gl/xNolSV  
  2. Google Document: https://goo.gl/xAtokS

Following links will help to find answers to most of issues raised above:
  1. https://dl.dropboxusercontent.com/u/12798195/FreeBooks/PakistanQuagmare.htm
  2. https://docs.google.com/document/d/1nVCHvCIZiTj3Ndknh-KduN40M4LvinosfituBXQoflA/edit?usp=sharing
  3. http://freebookpark.blogspot.com/2012/06/creation.html
  4. http://pakistan-posts.blogspot.com/p/why-pakistan.html
  5. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/04/shariah-or-democracy-conflict-or.html
  6. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/04/blog-post.html
  7. http://pakistan-posts.blogspot.com/2012/09/objectives-resolution-supremacy-of.html
  8. http://pakistan-posts.blogspot.com/2011/06/political-reforms-for-stable-democracy.html
  9. http://faithforum.wordpress.com/jihad-myth-and-reality/
  10. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/illogical-logic-of-takfiri-taliban-to.html
  11. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/10/blog-post.html
  12. http://pakistan-posts.blogspot.com/2012/09/objectives-resolution-supremacy-of.html
  13. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/the-dreadful-doctrine-of-terror-takfeer.html
  14. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/09/rebellion-by-khawarij-takfiri-taliban_440.html
  15. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/learning-science-in-islam.html
  16. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/refutation-of-takfirirs-form-quran.html
  17. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/11/pakistan-basic-issues-need-immediate.html
  18. Ideology of Pakistan - Fact or Fiction - An Analysis - نظریہ پاکستان - حقیقت یا افسانہ: تجزیہ 
  19. Caliphate: Relevant or Redundant: http://goo.gl/245yB  
  20. Islamic Society & Culture:https://t.co/HNUuOUuK  
  21. Islam: A General Introduction: By Sheikh Ali Tantawi
  22. Urdu Translation: "Islam: A General Introduction: By Sheikh Ali Tantawi"

قومی قرض ، اسلام ، حکمران اور عوام کی ذمہ داری National debt, Rulers, Islam and role of Pakistanis


پا کستا ن کے حکمران مسلسل  بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور امیر ممالک سے ترقیاتی کاموں کے نام پر سود پر قرض لے رہے ہیں.کچھ کام ہوتے ہیں مگر زیادہ پیسہ کرپشن سے ینن کی جیبوں میں جاتا ہے. جس حرام مآ ل کو غیر ملکوں مینن کاروبار میں لگایا جاتا ہے یا بنکوں میں رکھا جاتا ہے. اس وقت کرپشن سے کماے دو سو ارب ٢٠٠ ڈالر باہر پڑے ہیں. قیمتی جائیدادیں لندن، دبئی وغیرہ میں سب کو معلوم ہیں.

سامراجی، نوآبادیاتی، اسلام دشمن طاقتیں خاص طور پر مسلمان اور تیسری دنیا کے  مما لک کے کرپٹ حکمرانوں کے زریعے عوام کو غلام بنانے کے لیے قرض، سود اور کرپشن    کو ہتھیار کے طور پر استمال کرتے ہیں. تا کیہ عوام اور وسائل پرمکمل کنٹرول حاصل ہو.     پاکستان پر پچھلے چھ سال میں بیرونی قرض دوگنا ہو گیا ہے .ایک اندازے کے مطابق اس وقت ہر پاکستانی فرد پر تقریبا پچھتر ہزار ٧٥٠٠٠ روپے کا قرض بمع سود واجب ادا ہے .

اسلام مینن  قرض ایک ایسا بڑا گناہ ہے کہ قرض کی ادائیگی ذمہ داری کے بغیر نماز جنازہ بھی نہیں ہو سکتی . حکمران سود پر قرض عوام کی مرضی کے بغیر لیتے ہیں. اب جبکہ عوام کوقرضوں کا  علم  ہو گیا ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ حکومت کو فضول قرض لینے سے  منع کر یں ایسے حکمرانوں سیاست دانوں کوسپورٹ نہ کریں نہ ووٹ نہ دیں .
جو لوگ ان کرپٹ سیاست دانوں کو ووٹ دیں وہ اس جرم اور گناہ میں حصہ دار ہیں :
"جو شخص کسی نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے، اسے بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا اور جو برائی اور بدی کی سفارش کرے اس کے لئے بھی اس میں سے ایک حصہ ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے (قرآن ٤:٨٥سورة النساء)
کرپٹ حکمرانوں،ان کے مددگاروں کو سپورٹ کرنے والے کے لواحقین موت پر  ٧٥٠٠٠ ادا کریں ورنہ جنازہ نہ پڑھایا جائے .
اہل علم سے مزید رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے .
"The soul of the believer is attached to his debt until it is repaid for him” (At-Tirmithi no. 1079).
"Whoever takes the wealth of the people and he intends to pay it back, Allah will pay it back for him, and whoever takes it intending to waste it, Allah will waste him" (Al-Bukhari no. 2387).

* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Humanity, Religion, Culture, Ethics, Science, Spirituality & Peace
Peace Forum Magazines
Over 1,000,000 Visits
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *

Traders in Power politics



In every society, there is a conflict between conservative tradition and modern ideas. Those who believe in old traditions want to preserve them and prevent any attempt made to replace them with new and modern values.
Agents of change belonging to different sections of society make efforts to dismantle the old structure and construct a society based on new ideas which could enhance their role and status. Among these, traders are the most active and vibrant agents of social change, which is why they are criticised and condemned by conservatives who wish to uphold the traditional system which provides them security and privileges.
Edmund Burke (d.1797), the conservative thinker of the 18th century and the author of Reflection of French Revolution (1790) critically examines the role of traders during the French Revolution. According to him, besides intellectuals, it was traders who contributed to the destruction of the old political and social institutions of France which preserved stability and peace.
Is modern day consumerism responsible for social change?
According to him, the aristocracy checked radical change and kept the old system in order. As the French traders helped the revolutionary forces to lessen the power of the church, the nobility and the king, French society became chaotic. The traders on the other hand were interested in change because it would open new venues of profit and benefit their commercial activities. Burke, however, did not consider the role of the French traders positive because their endeavours plunged the society into conflict.

Burke also accused the traders of the East India Company of using illegitimate ways and means to accumulate wealth pilfered from India. He pointed out that as the traders belonged to the lower social classes of England, they lacked the high qualities of the English aristocratic culture, which was primarily the reason that they committed crimes in India by making profits from illegal trade as well as accepting a lot of money as bribes from the Indian rulers.
When they came back to England with all the riches that they had accumulated in India, they polluted English politics by buying land and seats in the parliament. They destroyed the institutions of India and created a vacuum in politics which subverted the local values and norms and destabilised the political structure.
Burke, throughout his parliamentarian career, criticised the East India Company and its rulers. His approach towards the role of the traders remained negative and he regarded them as destroyers and not builders.
Adam Smith (d.1790) in his book Wealth of Nations also castigated the role of the East India Company. According to him, when a trading company ruled India with the help of a military force, its interest was limited to trade concessions. Since the company’s interest was to earn more profit, it consequently ruined the industry in the subcontinent and gave no advantage to the English society through its business. He concluded that whenever traders became rulers, they used political power for profit and not for the welfare of people.
Another intellectual who defended the conservative system was Justus Möser (d.1794) who was the inhabitant of a small German state, Osnabrück. He was skeptical about the new changes which came about as a result of the Industrial Revolution.
He was content with the old lifestyle in his small city where artisans manufactured things according to the local needs and shopkeepers sold commodities of daily use. There was no materialistic desire among people to have extra stuff that was not very useful to them.
However, after the industrial revolution, the situation rapidly changed. With mass production in factories, traders were interested in creating consumers for it. There was an invasion of traders in Osnabrück, who brought new products and sold them cheaply in the market. It greatly affected the traditional artisans and shopkeepers who failed to compete with the aggressive traders and they lost their profession as well as their income.
According to Möser, the village life changed when peddlers reached distant places to sell new products. To Möser, it was the end of the old world in which people had been happy and content with what the local artisans produced for their needs. The change increased material desires among people and transformed them into avid consumers.
In The History of Syedwala, Muhammad Ramzan describes how during the colonial period, a family in a village could live on Rs69 for a whole year, excluding the expense of wheat and daily use products. Life was simple and the desire for consumption was limited.
In the capitalist system, the approach is to attract people to buy new products. In the olden days, shopkeepers did not display their commodities and the customers could not see them openly so they bought what they needed. In the new system, the products are displayed to catch the attraction of the consumers and to create a desire for purchasing and ownership. People also enjoy window shopping as a pastime. The question arises as to whether consumerism is a positive change or is it disastrous for the common man who is constantly competing with others to consume the new product.
The process of globalisation can also be examined on the basis of past historical knowledge. As in the past, the industrial revolution wiped out the traditional artisan classes, similarly globalisation is destroying the local industry by importing cheap goods and commodities and transforming people from producers to consumers.
By Mubarak Ali, dawn.com

Political Reforms or Reconstruction سیاسی اصلاحات یا تعمیر نو؟


بلاشبہ فرد کی طرح قوم بھی نامیاتی وجود ہے‘ جو پیدائ اور عہد طفولیت سے لے کر لڑکپن کی عمر میں شناخت کے بحران اور پھر پختہ عمری و بلوغت کے مراحل سے گزرتی ہے؛ تاہم اگر سیاسی، معاشی، معاشرتی اور اخلاقی استواری و مضبوطی سے مملو ادارہ جاتی قوت کے ذریعے اس کی نشوونما اور پرورش و پرداخت درست طور سے نہ ہو تو یہ معذور و مفلوج انسانی جسم کے مانند پہلے جمود اور بے مقصدیت سے دوچار اور پھر زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ جس طرح انسانی جسم کا ایک عضو پورے جسم کی معمول کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے‘ بالکل اسی طرح ایک ریاست کی صحت اور آسودگی کا دار و مدار بھی اس کے مختلف اجزا کے درست کام کرنے پر ہوتا ہے۔ ہمارے معاملے میں بدقسمتی یہ ہوئی کہ پاکستان ،بانی کی جلد وفات سے اپنے عہدِ طفولیت ہی میں یتیم ہو گیا اور اس کی مربوط و منظم فطری نشوونما کو مسدود کرنے والے نظام کی بدترین خامیوں اور اصول و ضوابط سے انحراف نے اسے صحت مند شباب سے محروم کر دیا۔ یہ ایسی سیاسی و آئینی لغزشوں اور معاشی ناکامیوں سے دوچار ہوا‘ جن کی مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی۔ قائد اعظم ؒ کے بعد پاکستان سمت کے شعور سے محروم اور سیاسی دیوالیہ پن‘ نیز اخلاقی بنجر پن سے دوچار ہو گیا۔ یہ اپنے آپ کو ٹکڑوں میں منقسم کرنے لگا، ربع صدی سے بھی کم عرصے میں نہ صرف اپنا نصف حصہ گنوا دیا‘ بلکہ اپنی تخلیق کا جواز ہی کھو دیا۔
اپنی الم انگیز تقسیم سے حقیقی پاکستان غائب ہو گیا اور باقی ماندہ کو اس کے خود غرض، بدعنوان اور نااہل حکمرانوں نے سیاسی کھیل تماشوں کی سرزمین بنا ڈالا۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس ملک کو اس کے وجود میں آنے کے وقت ''بیسویں صدی کا معجزہ‘‘ قرار دیا گیا تھا اور جو مکمل طور پر جمہوری و آئینی جدوجہد کے ذریعے تخلیق ہوا تھا، اسے اب بھی حقیقی جمہوریت، معاشرتی انصاف اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ ہماری داستاں ایک ایسے معاشرے کی داستاں ہے جو گزشتہ 67 برس سے بے مقصد دائروں میں گھوم رہا ہے۔ ہم اپنے مستقبل کے حوالے سے عدم تیقن کے عالم میں یکے بعد دیگرے بحرانوں سے دوچار ہو کر تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور ایک قوم کی حیثیت سے ہم نے ایک مشترک مقصد کا شعور ،ہنوز حاصل کرنا ہے۔
ملک قومی تشخص کی تعین اور اپنی نسلی و لسانی اعتبار سے متنوع آبادی کے لیے ایک سیاسی نظام وضع کرنے کی پراگندہ کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں بیس سے زیادہ زبانیں اور تقریباً 300 مختلف بولیاں بولی جاتی ہیں۔ یہ تنوع مزمن علاقائی تنائو اور صوبائی عدم ہم آہنگی کا باعث بنا‘ جس کے نتیجے میں قوم سازی کا عمل رکاوٹوں سے دوچار ہو گیا۔ دوسرے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے نظاموں کا جائزہ لیں‘ تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم وفاق کی ایک ایسی انوکھی مثال ہیں جس کا ثانی پوری دنیا میں کہیں نہیں۔ دنیا کے بیشتر بڑے اور درمیانی جسامت کے ملکوں میں انتظامی اکائیوں کے طور سے چھوٹے چھوٹے صوبے یا ریاستیں بنائی گئی ہیں۔ شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں نسل اور زبان کی بنیاد پر صوبے بنائے گئے ۔
پاکستان جیسی جغرافیائی جسامت اور آبادی والا کوئی بھی ملک اتنے کم اور اتنے بڑے صوبوں کا حامل نہیں ۔ حکمرانی کا کوئی بھی طریقہ غیر مساویانہ دروبست میں کارگر نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنے وجودِ سیاسی کو خلقی خامیوں سے لازماً پاک کرنا ہو گا اور اس کے لیے ہمیں اپنے وفاقی ڈھانچے کو از سر نو تشکیل دینے کے علاوہ انتظامی اعتبار سے اتنے صوبے بنانا ہوں گے‘ جتنے کہ حکمرانی کے مقاصد کے لیے ضروری ہوں۔ ہمارا موجودہ صوبائی دروبست طویل عرصے سے عدم استحکام کی وجہ بنا ہوا ہے۔ یہ نہ صرف ملک میں ناقص حکمرانی اور بدعنوانی کو فزوں تر کر رہا ہے بلکہ وفاق کی تشکیلی اکائیوں میں عدم مساوات اور محرومی کا احساس بھی بڑھا رہا ہے۔ بلوچستان اور دوسرے نسبتاً چھوٹے صوبوں میں مسلسل ''پنجابی غلبہ‘‘ تصور کی جانے والی صورت حال نیز اختیارات اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم کے خلاف زیر سطح شدید کبیدہ خاطری موجود ہے۔ ماضی قریب میں نسلی یا لسانی بنیادوں پر مزید صوبے بنانے کے مطالبے کیے جا چکے ہیں۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو ہمارے پاس ایک ایسا ڈھیلا ڈھالا وفاقی ڈھانچہ بچ رہے گا‘ جہاں خود غرض، نامطمئن اور بدعنوان سیاست دان ملک میں تباہی برپا کیے رکھیں گے۔ یہ نظام بے بسی اور بے اختیاری کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے وضع کیا گیا تھا، جس سے ہم دوچار ہو چکے ہیں۔ زمینی سرحدیں از سر نو کھینچنے اور آبپاشی کی نہروں اور معاون نہروں کے رخ از سر نو متعین کرنے سے بچنے کی غرض سے بہترین حل یہ ہو گا کہ موجودہ ڈویژنل کمشنریوں کو صوبوں میں بدل دیا جائے‘ جن کی سربراہی کسی موزوں خطاب کے حامل منتخب انتظام کاروں کو سونپ دی جائے۔ ملک کو صوبوں کی شکل میں چھوٹی انتظامی اکائیوں میں بانٹنے سے ہم نہ صرف علاقائی تلخیاں اور بے اطمینانی مٹا دیں گے بلکہ مقامی اور موثر اور اہل حکمرانی کو بھی یقینی بنا دیں گے۔ نئے صوبوں کی انتظامیہ کو منتخب کونسلوں پر مشتمل ہونا چاہیے جن کا سربراہ عوام کا منتخب کردہ ہو جس کی معاونت کے لیے پیشہ ور افسر شاہی موجود ہو۔ صوبائی اسمبلیاں، وزراء اعلیٰ، کابینائیں اور صوبوں میں اس وقت موجود بڑے سیکرٹریٹ جیسے سیکرٹریٹ نہیں ہونا چاہئیں۔ اس طرح ہمارے سیاسی نظام کے معروف فالتو حصے کی کم از کم ایک بڑی پرت ختم ہو جائے گی‘ جس سے ہونے والی بہت بڑی بچت عوام کی بہتری کے لیے براہ راست دستیاب ہو جائے گی۔
وفاقی حکومت کو چاہیے کہ صرف دس بارہ وزراء رکھے جو دفاع ، معیشت، تعلیم، خارجہ امور، قومی سلامتی، تجارت، مواصلات، انصاف اور قانون جیسے اہم شعبوں کے لیے قومی پالیسیاں بنانے کے ذمہ دار ہوں۔ باقی تمام امور و معاملات نئی صوبائی اکائیوں کو سونپ دیے جانے چاہئیں‘ جو اپنی حدود میں واقع اضلاع کی مدد کرتے ہوئے ،عدالتی اور بجٹ سے متعلق امداد سمیت پالیسی معاملات پر مرکزی حکومت سے رابطے میں رہتے ہوئے براہ راست نگرانی اور رابطے کا کردار ادا کرنے کی ذمہ دار ہوں گی۔ 
حکمرانی کی بنیادی اکائی موجودہ اضلاع ہونا چاہئیں۔ ہر ضلع کا سربراہ اہلیت کے مجوزہ معیار پر پورا اترنے والے عوام کے منتخب کردہ شخص کو ہونا چاہیے، جو تمام مقامی سطحوں پر چھوٹے منتخب اداروں کی مدد سے کام کرے۔ ہمیں بیوروکریسی کے دیو قامت ڈھانچوں کی ضرورت نہیں۔ اس کی بجائے مقامی سطح پر غذا، رہائش، تعلیم، صحت، سلامتی اور انصاف جیسی شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی وسائل مہیا کر کے ''ضلعی حکومتوں‘‘ کو مضبوط بنایا جانا چاہیے اور ان کی اچھی کارکردگی یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا ایک موثر میکانزم وضع کرکے انہیں جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔
ہم ''مزاجاً‘‘ ایسی قوم ہیں‘ جو صدارتی نظام پسند کرتی ہے؛ چنانچہ پارلیمانی نظام لازماً ترک کر دیا جانا چاہیے‘ جسے ہم کبھی اس کی روح کے مطابق نافذ کر ہی نہیں سکے۔ بالغ رائے دہی کی اساس پر استوار ایسا ''صدارتی‘‘ نظام ہمارے لیے موزوں ہے‘ جسے پاکستان کی ضرورتوں کے پیش نظر وضع کیا گیا ہو۔ ہمارے لیے متناسب نمائندگی کا نظام بھی بہتر ہو گا جو سیاسی جماعتوں کو حاصل ہونے والے عوام کے ووٹوں کے تناسب سے قومی مقننہ میں ان کی نمائندگی یقینی بنائے۔ اس طرح غیر جاگیردارانہ، غیر اشرافیہ تعلیم یافتہ درمیانے طبقے کے لوگوں کو منتخب اسمبلیوں تک رسائی حاصل ہو گی۔ ملک میں حقیقی جمہوری کلچر پروان چڑھانے کے لیے ہماری سیاسی جماعتوں کو بھی لازماً جمہوری قالب میں ڈھلنا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں میں نسل در نسل موروثی قیادت پر لازماً امتناع عاید ہونا چاہیے اور سیاسی جماعتوں میں خفیہ رائے شماری کے تحت انتخابات کو بھی قانوناً لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔ اختیار و اقتدار ناجائز طریقوں سے ہتھیا لینے والے پرانے غاصبوں سے چھٹکارا پانے کے لیے موجودہ فرسودہ نظام میں بلاتاخیر مؤثرتبدیلی لائی جانی چاہیے۔ عقل و خرد اور بے غرضی کو ہمارے لیے معیار ہونا چاہیے۔ یہی وقت ہے کہ ہم خود غرضی اور تنگ نظری پر مبنی سوچوں سے بالاتر ہو کر حقیقی سیاسی، معاشی، عدالتی، تعلیمی، انتظامی اور زرعی اصلاحات کے ذریعے نظام میں تبدیلیاں لائیں۔ نئے پاکستان کے لیے خواب غفلت سے جگانے والی ایک واضح اور اونچی آواز پہلے ہی بلند کی جا چکی ہے۔ نہ تو چہرے بدلنے کا کچھ فائدہ ہو گا اور نہ ہی محض انتخابات کے انعقاد سے کوئی فرق پڑے گا۔ نظام کو لازماً بدلنا ہو گا۔ حقیقت میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی تشکیل نو اس طرح کی جائے جس طرح قائد اعظم ؒ نے سوچا تھا یعنی نسلی اور لسانی لیبلوں اور فرقہ وارانہ و علاقائی عدم ہم آہنگی سے آزاد پاکستان۔
(شمشاد احمد سابق سیکرٹری خارجہ )dunya. com
  مزید مطالعہ کریں
پاکستان بچاؤ Save Pakistan & Save Pak Army 

Save Pak FB

FrontPage صفحہ اول WakeUp Pakistan! جاگو پاکستان

پاکستان آزادی سے اب تک : کیا کھویا ، کیا پایا؟

Pakistan’s Quagmire پاکستان - امن اور ترقی کا راستہ

Rise and fall of Nations – Law of Quran
 قرآن کا قانون عروج و زوال اقوام

کرپشن… اُمّ الخبائث



جو شخص کرپشن کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں سمجھتا وہ یا تو پرلے درجے کا احمق ہے یا خود کرپٹ ہے۔ اس کے لیے بہترین نام اُمّ الخبائث ہے یعنی ساری خباثتوں کی ماں۔ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ اس کی کئی قسمیں ہیں۔ دونوں برادرانِ اسلام اپنی سیاسی مشہوری کے لیے اس غریب قوم کا جو کروڑوں روپیہ اتنی بیدردی سے اُڑا رہے ہیں یہ بھی کرپشن کی ایک قسم ہے۔ حال ہی میں صنعت کار اور تاجر طبقے کو جو پانچ سو ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے اسے کرپشن کے علاوہ اور کیا نام دیا جا سکتا ہے‘ اور یہ وہ طبقہ ہے‘ ٹیکس دیتے وقت جنہیں باقاعدہ موت پڑتی ہے اور جن کے اثاثے اور جائیدادیں دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہیں۔ اب آپ خود حساب لگا کر دیکھ لیں کہ ان پانچ سو ارب روپوں سے کتنے کالج‘ سکول اور ہسپتال تعمیر کیے جا سکتے ہیں جبکہ صرف لائن لاسز کا سالانہ نقصان ایک ہزار ارب روپے ہے۔ حکومت اگر اس طرف توجہ دے سکے تو اس سے کم از کم پانچ سو ارب روپے کے نقصان کا ازالہ تو ہو سکتا ہے لیکن بجلی اور گیس چوروں میں بھی یہی طبقہ سب سے آگے ہوتا ہے اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں کیونکہ پنجابی کے ایک محاورے کے مطابق بھینسیں بھینسوں کی بہنیں ہوتی ہیں۔ قصہ مختصر ناجائز مراعات دینا اور لینا دونوں کرپشن کی ذیل میں آتی ہیں۔ 
پھر‘ بدحکومتی جو کرپشن کی بدترین قسم ہے‘ ہر طرف عروج پر نظر آتی ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں نے بیوروکریسی میں بھی اپنے اپنے گروپ بنا رکھے ہیں جنہیں اپنے ڈھب پر لانے اور رکھنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ موجودہ وفاقی اور ہماری صوبائی حکومت کا یہ خاص سٹائل ہے کہ ہمیشہ جی حضوریوں ہی کی دال ان کے ہاں لگتی ہے اور جو بھی افسر قانون اور آئین کے حوالے سے ان کے غلط احکامات ماننے سے سرتابی کرے‘ اُسے نہ صرف کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے بلکہ ہر طرح سے ذلیل و رسوا بھی کیا جاتا ہے۔ محمد علی نیکوکارہ اور طارق کھوسہ سمیت اس کی بیسیوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس طرزِ عمل سے ماتحت افسروں کو بھی یہی پیغام ملا ہے کہ ہاں میں ہاں ملاتے رہو گے تو ترقیاں بھی ملیں گی اور دیگر سہولیات بھی‘ ورنہ عبرت ناک انجام کے لیے تیار رہو‘ حالانکہ افسران حکومت کا کوئی غیرقانونی حکم 
ماننے کے پابند ہی نہیں ہیں لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ جن پر کرپشن کے سب سے زیادہ الزامات ہوں‘ انہیں ترقی دینے میں کوئی دیر نہیں لگتی اور خوشامد نہ کرنے والے باضمیر افسر ہمیشہ محروم ہی رہتے ہیں۔ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ یہ طرزِ حکمرانی بجائے خود ایک طرح کی دہشت گردی ہے۔ لہٰذا اس ناسور کا مقابلہ کرنے والوں کے سامنے یہ اور اس طرح کے کئی چیلنج موجود ہیں جن سے بخوبی عہدہ برآ ہوا جا سکتا ہے۔ اور امید کی جاتی ہے کہ یہ سب کچھ بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا‘ اور یہ مسائل حل کرنا اس 
لیے بھی ضروری اور آسان ہے کہ عوام سول حکمرانوں سے جس قدر بیزار ہیں‘ افواج پاکستان سے اسی قدر محبت رکھتے ہیں ورنہ تو دہشت گردی کا خاتمہ بھی سول حکومت اور اس کے اداروں کا کام تھا اور فوج کو مکمل دفاع کے علاوہ کسی اور مخمصے میں ڈالنا ویسے بھی درست نہیں۔ عوام دیکھ رہے ہیں کہ جہاں سول حکمرانوں کی مقبولیت روز بروز کم ہو رہی ہے اور اس کی رٹ کہیں نظر ہی نہیں آتی اور وزیراعظم بظاہر غصے میں ہی نظر آتے ہیں‘ آرمی چیف جنرل راحیل شریف ہی خارجہ مسائل میں بھی سرخرو ہو رہے ہیں جو ایک انتہائی مشکل کام تھا اور سول حکومت نے اس کے سامنے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے۔ چنانچہ چین ہو یا امریکہ‘ برطانیہ ہو یا سعودی عرب‘ ہر طرف صاحبِ موصوف ہی آ جا رہے ہیں اور وہاں ان کا استقبال بھی بطورِ خاص ہی کیا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ دیکھ لیں کہ موصوف کی بھاگ دوڑ اور کوششوں سے افغانستان کے ساتھ برسوں کے بگڑے ہوئے حالات کیسے درست اور نارمل ہوتے جا رہے ہیں اور وہاں بھارتی عمل دخل بھی کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے‘ بلکہ بھارت کے ساتھ بھی برابری اور ایک باعزت فاصلے سے تعلقات کو استوار کیا جا رہا ہے۔ 
اور‘ یہ سب کچھ اس تاریخی کارنامے کے علاوہ ہے جو آپریشن کی صورت میں زیرِ کار ہے اور قدم قدم پر کامیابیاں ماتھا چوم رہی ہیں۔ چونکہ کراچی میں بطور خاص جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے اور دوسرے علاقوں‘ بالخصوص پنجاب میں بھی لامحالہ یہ مشق روا رکھی جائے گی اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ساتھ جرائم کی جڑ اور سب سے بڑی سہولت کار‘ کرپشن کا خاتمہ اور ناجائز دولت کے وہ انبار بھی پیش نظر رکھے جائیں گے جن کے اصل مالک اس ملک کے محروم عوام ہیں اور جو اس لوٹ مار سے سب سے زیادہ متاثر اور زخم خوردہ ہیں۔ اس کے لیے اس ادارے کو جتنے اختیارات حاصل ہیں اور جنہیں وہ استعمال بھی کر رہا ہے‘ یہ جھاڑو پھیرنے کے لیے وہی کافی ہیں اور دہشت گردی کا اگر خاتمہ مقصود ہے تو اس کے بنیادی اسباب کا قلع قمع کرنا ہوگا ورنہ یہ ساری مشق ادھوری اور بے نتیجہ ہی رہے گی۔ 
آج کا مقطع 
رسیلے غضب تھے، ظفرؔ، اس کے ہونٹ 
وہ شہتوت منہ میں گُھلا دیر تک
By Zafar  Iqbal .. Dunya.com.pk

سیاست علما کا میدان نہیں



سیاست علما کے لیے ممنوع نہیں لیکن یہ ان کا حقیقی میدان نہیں۔ سیاست اس امت کی تاریخ میں کبھی علماکا اصل تعارف نہیں رہا۔ ان کی سیاست بس اتنی تھی کہ حکمرانوں کو انذار کیا جائے، جب اس کی ضرورت ہو۔ ہمارے ہاں جب سیاست علما کی دل چسپی کااصل میدان بنی تو ان کی صفوں سے باصلاحیت لوگ اس طرف کا رخ کرنے لگے۔ یوں مسندِ دعوت وارشاد ان کے حوالے کر دی گئی جو درحقیقت اس کے مستحق نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے ذوق کے مطابق مذہبی اداروں کی تشکیل کی۔ یوں یہ مسلکی اورگروہی مفادات کے تابع ہوگئے۔ ان میں اکثریت ان کی تھی جن کی شہرت رسوخ فی العلم نہیں، شعلہ فشانی تھی۔ انہوں نے مذہبی اداروں کو مسلکی انتہا پسندی کے مراکز میں بدل دیا۔
دوسری طرف افغانستان میں سوویت یونین کا قبضہ ہوا تو ریاست ِ پاکستان نے امریکی تائیدو نصرت کے ساتھ،اس 
معرکے کو مذہبی بنیادوں پر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ریاست کی سرپرستی میں تصورِجہاد کی تفہیم ِ نوسامنے لائی گئی اوراسے نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا۔ یوں جہادی گروہ وجود میں آئے۔ سوویت یونین ختم ہوا تو ریاست نے ان گروہوں کو نیامحاذ دینے کی کوشش کی۔ سب کے لیے یہ اہتمام نہیں ہو سکا۔ یوں ان کے نئے گروہ وجود میں آئے جو ہدف اور حکمتِ عملی، دونوں کے تعین میں خود مختار تھے۔ دوسری طرف امریکہ کا مفاد ختم ہوا تو وہ اس سارے عمل سے لاتعلق ہو گیا، یہاں تک کہ تاریخ نے کروٹ لی اوریہ لوگ خود اس کے لیے چیلنج بن گئے۔ ریاست ِ پاکستان نے پالیسی تبدیل کی اور امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو ان گروہوں نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یوں ریاست پاکستان اور جہادی گروہوں کے مابین ایک نیا معرکہ شروع ہوا۔ اس معرکے میں جہادی گروہوں نے ریاست کے ساتھ پاکستانی سماج کو اپنا ہدف بنا لیا۔ ایک مرحلے پر یہ جہاد اور مسلکی انتہا پسندی ہم آہنگ ہوگئے۔ اب معاملات ریاست کے ہاتھ سے نکل گئے اور مذہبی قیادت بھی بے بس ہوگئی۔ یوں مساجد اور شاہراہیں مقتل بن گئے۔
یہ وہ مر حلہ تھا جب علما کو بروئیِ کار آ نا چاہیے تھا۔ وہ علما جنہوں نے خود کو اس ہنگامہ آرائی سے دور رکھا اور سیاست کو اپنی پہلی ترجیح نہیں بنا یا۔ جنہوں نے اشاعتِ دین کی کوششوں کے ساتھ ،اپنے تئیں نئے فتنوں کے خلاف علمی جہاد کو جاری رکھا۔ انہوں نے جہاد سے متعلق اس نئی تعبیرکو نظرا ندازکیا جس نے جہاد کو ریاست کے بجائے نجی شعبے کے حوالے کردیا۔ جب مختلف لوگوں نے جہادکا فریضہ اپنے ہاتھ میں لیا توہدف کے ساتھ،حکمت عملی کا تعین بھی ان کی صواب دید بن گیا۔ اب کسی کے نزدیک دوسرے مسلک کے لوگوں کومارنا جہاد قرار پایا اورکسی کے اجتہاد میں مو لا نا حسن جان واجب القتل ٹھہرے۔ علما نے اس اہم تبدیلی کو نظر انداز کیا اور یوں پاکستان فسادکاگھر بن گیا۔ اس سے دوسری قوتوں کو مو قع ملا جو پاکستان کی سلامتی کے درپے رہتی ہیں۔ ان کے لیے آسانی ہوگئی کہ وہ اس معاشرے کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کریں اوراسے کمزور کریں۔ پاکستان اس وقت عالمی سیاست کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا بھی مرکز بن چکا

More:

کیا مولانا فضل ا لرحمان یہود و نصاریٰ کا ایجنٹ ہے ؟ Molana Fazal-ur-Rahman covertly seeks American support




Wikileaks about Imran Khan,Chaudhry Nisar & MQM by RohailAsghari

Video on imran Khan -wikileaks >>>

Molvi Fazal Ur Rehman JUI-F CIA Agent proved by GhulameSahaba
Molana Fazal-ur-Rahman (Diesel) has been criticized for his dubious policies, greed, corruption and hypocrisy. The Wikileaks secret cables exposed Rahman when he cordially invited US Ambassador to Pakistan, Anne Patterson, to a state dinner in Islamabad in which he sought her support in becoming prime minister and expressed a desire to visit America. [Source Wikipedia]

 تُسِرُّونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنتُمْ ۚ وَمَن يَفْعَلْهُ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ ﴿١

تم ان کی طرف پوشیدہ پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔ اور جو کچھ تم مخفی طور پر اور جو علیٰ الاعلان کرتے ہو وہ مجھے معلوم ہے۔ اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا (قرآن: سورة الممتحنة ٦٩ آیت ١