Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

Showing posts with label Humanity. Show all posts
Showing posts with label Humanity. Show all posts

کرونا اور علماء پاکستان کا رویہ - لمحہ فکریہ Corona & Attitude of Ulema of Pakistan - Point to Ponder


کرونا وائرس نے دنیا میں تباہی مچا کر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے- اس وبا سے مسلمان ، کافر ، گورا ، کالا سب بلا تفریق متاثر ہو رہے ہیں-
We cannot move forward as Pakistani and Muslim, unless we tackle this menace of this ignorant , extremist class who are in full control of religion and mislead more ignorant  public. Islam is to be rescued. ... Read more at end of this page ... or <<here>>
 مسلمان تقدیر اور موت پر مکمل ایمان رکھتا ہے لیکن تدبیر سے منہ نہیں چھپا تا کیونکہ یہی اسلام کی تعلیم ہے- الله پر توکل ، دعا  کے ساتھ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنا سنت رسول اللهﷺ سے ثابت ہے جن کا انکار گناہ، تکبر اور جہالت ہے-

ضرور پڑھیں :[ اسلام میں سہولتیں اور آسانیاں ]
ایمان مکمل طور پر ایک ذاتی معاملہ ہے ، جس کی پیمائش نہیں کی جاسکتی ،  جو بھی شخص اسلام کے 6 بنیادی اصولوں اور 5 ستونوں پر یقین کرنے کا اعلان کرتا ہے اسے مسلمان سمجھا جاتا ہے چاہے اس کے  عمل میں کوئی کمی بھی ہو۔

معاشرہ میں ہمیں بہت سے لوگ دوسروں کے مقابلے میں "زیادہ مسلمان" نظر آتے ہیں، ظاہری نمائش اور سرگرمیوں کی وجہ سے  ، پھر بھی یہ ان کے اعتقاد کی پیمائش کا آلہ نہیں ہے ، ایمان کی حقیقت صرف اللہ کے علم میں ہے۔  تاہم یہ مذہبی لوگ صرف اپنے آپ کو مذہب پر قابو پانے کا حقدار سمجھتے ہیں ، جو کہ درست نہیں کیونکہ اسلام میں پاپائیت نہیں ، مذہبی معاملے پر کسی بھی شخص کی  رائے کی صداقت کے لئے قران و سنت سے  دلیل کے ساتھ مشروط ہے۔ 

اللہ نے کسی انسان  کو اپنی ذاتی رائے کو اللہ کی طرف سے پیش کرنے کا اختیار نہیں دیا ہے۔  یہودیوں اور عیسائیوں کو ان کے علمائے کرام کو رب کا درجہ دینے کی مذمت کی گئی ( قرآن 9:31)  (لہذا علماء کی اس طرح اندھی پیروی شرک ہے)

کورونا وائیرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لئے ، ماہرین ، معاشرتی دوری اور بھیڑ بھاڑ ، اکٹھ ، مجمع اکٹھا نہ کرنا ،  جیسے بچاؤ کے اقدامات کا مشورہ دیتے ہیں۔  اسے پاکستانی مذہبی ٹھیکیداروں نے سراسر مسترد کردیا ہے۔  قران و حدیث اور منطق ، عقیل دلائل اور کسی بھی حوالہ کو مسترد کرتے ہوئے وہ نماز (جماعت) کے اجتماعات کو عارضی طور پر معطل کرنے پر تیار نہیں ، حالانکہ دو  مکہ و مدینہ حرمین شریفین ، مشرق وسطی ، ترکی ، مشرق بعید اور پوری دنیا میں یہ اقدامات بغیر کسی بحث و مباحثہ کے نافذ کئیے گئے ہیں۔  .

صدر پاکستان نے الازہر سے رابطہ کیا جس نے عوامی تحفظ کے لئے نماز کے  اجتماعات کو معطل کرنے کے لئے فتویٰ جاری کیا مگر اس کو بھی قبول نہیں کیا ان  کو عوامی زندگی کا کوئی احترام نہیں ہے۔

پاکستانی مزہبی پیسواوون کی اس مذہبی ذہنیت کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے ، جو اس قوم اور ملک کے لئے مہلک ہے۔

 طاقتور ریلیجیئس اسٹیبلشمنٹ (ہاں حیرت نہ کریں ، یہ حقیقت ہے) اس مذہبی مافیا کی طاقت ور  اکثریت  نے  ( خفیہ اور کھلے عام ) دہشت گرد ٹی ٹی پی کی حمایت کی ، جس کے نتیجے میں عوامی جانوں کے بڑے نقصان کے باوجود دہشت گردوں کو عوامی ہمدردی ملی  (دہشت گردی میں 70،000 سے زیادہ جانیں ضائع ہوگئیں اور 100 بلین ڈالر  معیشت کو نقصان)- بہت سے  اہل حق علماء نے دہشت گردوں کی مخالفت کیاور دہشت گردی کا شکار ہوے اللہ جنت میں ان کے درجات  بلند فرمایے-

پاکستان اس وقت  تک ترقی نہیں کر سکتا  جب تک ہم اس جاہل ، مزہبی انتہا پسند طبقے کی اس زہنیت سےچھٹکارا  نہیں حاصل  کر لیتے جو مساجد ، مذہب کو کنٹرول کرکہ  زیادہ جاہل عوام کو گمراہ  کرتے ہیں۔  اسلام کو ان جہلا کے شکنجے بچایا جانا صروری ہے۔

ضروری ہے کہ جو حضرات  اپنے آپ کو قرآن و سنت کو ترجیح دینے والے فرمان بردار علماء حق  میں شمار کرتے ہیں وہ خاموش مت بیٹھیں اور اصلاح کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں- تنقید اور مخالفت کا دلیری سے قرآن و سنت کی طاقت  سے  سامنا کریں- ان کی مصلحت پسندی جہالت کی حمایت ہے-

اس مقصد  کے حصول کے لئے دانشورانہ ، سرکاری اور معاشرتی سطح پر گہری مطالعہ اور ٹھوس نتیجہ پر مبنی مختصر مدت اور طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہے اگر ہم بحثیت پاکستانی مسلمان ، پاکستان اور اسلام کی ترقی میں سنجیدہ ہیں؟


***************
پاکستان میں نمازِ جمعہ اور باجماعت نمازوں کے اجتماعات محدود رکھنے کی حکومتی ہدایات کے ردعمل میں لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ آیا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے یہ حفاظتی اقدامات درست ہیں یا نہیں۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جمعہ مبارک (#JummahMubarak)، مساجد (Mosques) اور جمعہ ( Juma) جیسے الفاظ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ’مساجد پر پابندی نامنظور‘ کے نام سے ایک ٹرینڈ ایسا بھی ہے جس میں لوگ اس ہدایت کی مخالفت کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ’پرے فرام ہوم‘ (#Prayfromhome) یعنی گھر میں نماز پڑھیں بھی ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں لوگوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہوں میں قیام کرتے ہوئے نماز ادا کریں اور مساجد میں جانے سے گریز کریں کیونکہ اس سے کووڈ 19 کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔


بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومتی ہدایات کے باوجود مساجد میں بڑی تعداد میں لوگ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے موجود تھے۔ >>>  BBC  Report 
--------------
🔰 کچھ قرآنی سورتوں کے فضائل !🔰

🔰 سورہ فاتحہ قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت ہے (بخاری 4474)

🔰 ایک حدیث میں سورہ فاتحہ کو ایسا نور کہا گیا ہے جو پہلے کسی کو نہیں عطا کیا گیا (مسلم 817)

🔰 جس گھر میں سورہ بقرہ تلاوت کی جاتی ہے شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے (ترمذی 2877)

🔰 جو ہر نماز کے بعد آیت الکرسی کی تلاوت کرتا ہے اسے جنت میں داخلے سے صرف موت نے روک رکھا ہے (نسائی 30/6)

🔰 سوتے وقت آیت الکرسی کی تلاوت کرنے والے پر ساری رات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک محافظ مقرر رہتا ہے اور ساری رات شیطان اس کے قریب نہیں آسکتا (بخاری 2311)

🔰 ایک حدیث میں آیت الکرسی کو قرآن کی سب سے عظیم آیت قرار دیا گیا ہے (مسلم 810)

🔰 جو شخص رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات تلاوت کرے گا یہ اسے (ہر قسم کے نقصان شیطان اور تمام آفات سے بچاؤ کے لئے) کافی ہو جائیں گی (مسلم 807)

🔰 جو سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرے کرے گا وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا جائے گا (مسلم 809)

🔰 جو شخص سورہ الملک کی تلاوت کرتا رہا تو سورت اس کے حق میں سفارش کرے گی حتی کہ اسے بخش دیا جائے گا (ترمذی 2886)

🔰 سورہ اخلاص اجر و ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے (مسلم 811)

🔰 ایک آدمی کو سورہ الاخلاص سے بہت محبت تھی اور اس محبت کی وجہ سے وہ اس صورت کو ہر نماز کی قرآت کے اختتام پر پڑهتا تها الله تعالى نے اس کی اس صورت سے محبت کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دیا (ترمذی 2901)

🔰رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا (شیطان سے پناہ مانگنے کے لیے) سورہ الفلق اور سورہ الناس جیسی قرآن میں اور کوئی آیات نہیں (مسلم 814)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہر مسلمان کو قرآن کریم پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین​

     ●□■○■□●○
لاک ڈاون میں منتخب "مضامین قرآن" 🔰 قرآن فہمی میں آپ کا مددگار ! 🤷‍♂
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30] 
~~~~~~~~~~~~~~~~~


گمراہ علماء دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہیں :

علماء سوء جنت کے دروازوں پہ بیٹھے اپنے اقوال سے لوگوں کو جنت کی طرف بلاتے ہیں، جبکہ اپنے افعال کے ذریعہ وہ جہنم کی دعوت دیتے ہیں. جب کبھی انکے اقوال لوگوں کو بلاتے ہیں کہ آؤ، تو انکے افعال کہتے ہیں کہ انکی بات نہ سنو، کیونکہ جس بات کی یہ دعوت دیتے ہیں اگر وہ سچی ہوتی تو سب سے پہلے وہ خود اسے قبول کرتے.
یہ لوگ بظاہر تو رہبر ہیں لیکن در حقیقت رہزن ہیں. [الفوائد لابن القیم: 112]

كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لَغَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَى أُمَّتِي " قَالَهَا ثَلَاثًا. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذَا الَّذِي غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: "أَئِمَّةً مُضِلِّينَ "

"ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
میں ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ تھا اور میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :
"مجھے میری امت کے لئے دجال سے بھی زیادہ خدشہ (ایک اور چیز کا) ہے"
آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا ۔ میں نے کہا ! اے اللہ کے رسول ﷺ ، وہ کیا چیز ہے جس کا آپ دجال کے علاوہ اپنی امت پر خوف کر تے ہیں ؟ تو فرمایا "گمراہ ائمہ"  ( مسند امام احمد 20335، 21334 اور 21335] ۔

ابن تیمیہ سے روایت ہے :
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بے شک اسلام کی بنیادیں ایک کے بعد ایک تباہ و برباد ہو جائےگیں۔ اگر اس میں ایسے لوگ پیدا ہو جائےجو نا واقف ہوں گے کہ جہالت کیا ہے ۔ (مجمو'الالفتاوى 10/301، القیم اپنی فوائد میں بھی اسے لائے ہیں)

عمر بن الخطاب نے زیاد رضی اللہ عنہ سے کہا :

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَنبَأَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: «هَلْ تَعْرِفُ مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: «يَهْدِمُهُ زَلَّةُ الْعَالِمِ، وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْكِتَابِ وَحُكْمُ الْأَئِمَّةِ الْمُضِلِّينَ»

کیا آپ جانتے ہے اسلام کن چیزوں سے تباہ ہوگا؟ میں (زیاد) نے کہا نہیں- انہوں (عمر) نے کہا: اسلام تباہ ہوگا ،علماء کے غلطیوں سے ، الله کی کتاب کے بارے میں منافقین کے بحث و دلائل سے، اور گمراہ ائمہ کے رائے سے [ مشكوةألمصابیح89/1حدیث:269، محض الثواب 2/717، الدارمی1/295، مسند الفاروق 2/536، تلبيس الجاهمييا [4/191

بدترین علماء 

وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
" اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔" (بیہقی)
یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں " رسم قرآن" سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔
مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔
اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)
افتراق کی سبب دو چیزیں ہیں، عہدہ کی محبت یا مال کی محبت۔ سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:
”ماذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لھا من حرص المرء علی المال و الشرف لدینہ” دو بھوکے بھیڑئیے ، بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور عہدہ کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دہ ہے۔   (الترمذی:۲۳۷۶ وھو حسن)
~~~~~~~~~~~~~~~~~

Corona & Attitude of Ulema of Pakistan - Point to Ponder

Faith is entirely a personal matter, which cannot be measured or quantified. Anyone who declares to believe in 6 Fundamentals and 5 Pillars of Islam is considered as a Muslim even if he lacks in practice.

We find many people looking "more Muslim" than others due to their outlook and activities in display, yet it's not a measuring  tool for their level of faith , which is only known to Allah. However they consider ONLY themselves  to be entitled to  exercise control on religion, which is contested because authenticity of any opinion on religious matter is conditional to the reference and authority from Holy Scripture. 
Allah has not authorized anyone to present their personal opinions to be Divine. The Jews and Christians were condemned for taking their scholars indulging in such practices as Lord (Rabb) (9:31). (Hence such blind following is Shirk,  polytheism)

To control the spread of Corona Panadamac, experts advise preventive measures like social distancing and Quarantine. This have been outrightly rejected by Pakistani religious contractors. No amount of  references from Holy Books or logic could convince them to temporarily  suspend the prayer (Salah) congregations, though in the two Holiest Mosques,  in Middle East,  Turkey,  Far East and all around the world  these measures has been implemented without any debate. 

The President of Pakistan contacted Al-Azhar which issued Edict (Fatwa) to suspend prayer congregations for public safety. Even this has been resisted by our  Holy (Hollow)  Men, who have no regard for public life. 

There is need to deeply analyse this religious mindset of Pakistani clergy,  which is fatal for this nation and country. 

The Powerful Religious Establishment ( yes don't be surprised,  it's reality ) mafia supported TTP, overtly and covertly (many big names)  resulting in public sympathy despite huge loss of public life (over 70,000 lives lost in terrorism and over  $100 Bn loss to economy). Some genuine Scholars opposed and were martyred by terrorists.

We cannot move forward as Pakistani and Muslim, unless we tackle this menace of this ignorant , extremist class who are in full control of religion and mislead more ignorant  public. Islam is to be rescued. 
Those who claim to be genuine Scholars of Islam should not sit home in silence like hypocrites. They must come forward and debate to convince ignorant ulema.  

This requires deep study and concrete  result oriented short term and long term measures  at  intellectual, governmental and societal level.

References / Links for Further Study
  1. http://trueorators.com/quran-tafseer/9/31
  2. http://forum.mohaddis.com/threads.26172
  3. https://www.bbc.com/urdu/pakistan-52061647

  1. ضرور پڑھیں :[ اسلام میں سہولتیں اور آسانیاں ]
    ~~~~~~~~~~~~~~
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace

https://SalaamOne.com

Pakistan’s Quagmire پاکستان - امن اور ترقی کا راستہ کیسے ؟



آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں. ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے. آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
Pakistan is in a state of turmoil, in order to get out of this quagmire some basic issues need to be settled. Ideologically the Pakistani society can be divided in to three main groups: <<Click to read in English as webDoc>>

پاکستان کی ترقی ، خوشحالی اور امن کے لییے کچھ بنیادی معاملات طے کرنا ضروری ھیں. اس وقت پاکستانی سوسائٹی ، معاشره فکری طورپرتین بڑے حصوں تقسیم ہو چکا ہے 

ایک طرف  اشرافیہ , لبرل طبقہ ہے جو مذہب کوہر شخص کا ذاتی معاملہ سمجھتا ہے،ان کے مطابق مذہب، اسلام کا  قانون، سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں . مذہیب عبادت گاہوں تک محدود ہو.کچھ معتدل لوگ اقلیت میں  ہیں. یہ  اشرافیہ لبرل طبقہ  اگر چہ تعداد میں قلیل ہے مگربہت طاقتور ہے .اشرافیہ کل آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر پورے یه پاکستان کی پچاس فیصد سے زیادہ دولت پر قابض ہیں. ٩٩ فیصد پاکستانی ٥٠٠ ڈالر اوسط سالانہ آمدنی  پرغربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں.   حکومت ،معشیت،جاگیریں، کاروبار، بیورو کریسی، فوج، سیاست دان، میڈیا سب  کچھ ان کے قبضہ  اور کنٹرول میں ہے. ان میں کچھ لوگ راے  عامہ ھموار کرنے کے لیے مذہب اسلام کا نام استمال کرتے ہیں. یہ صرف دکھا وہ ہے. طاقت اور پیسے کے زور پر یہ مخالف کوکچل دیتے ہیں 
یہاں اشرافیہ سے مراد ان کے ھمدرد ، فائدہ اٹھانے والے مدد گار اور دوسرے طبقات کے امیدوار بھی شامل ہیں 
کسی صورت میں یہ طاقت چھوڑنے کو تیار نہیں ، یہ مختلف بھیس بدل کر پاور میں رہتے ہیں
ان میں کچھ شدت پسند لوگ بھی ہیں جو مذھبی یا مذہب کی طرف مائل لوگوں کوچاہے وہ معتدل مزاج ہوں، ان کو  جاہل، دقیانوسی ، کم عقل، قابل  نفرت سمجھتے ہیں. ان کے خیال میں تمام مصیبتوں کی بنیاد مذہب اور مذھبی لوگ ہیں. ان کو لبرل فاشسٹ بھی کہا جا سکتا ہے
مذہب سے ان کی نفرت کی دو بڑی ممکنہ وجوھات ہو سکتی ھیں. اول: مغربی ترقی اور ثقافت سے مرعوب. دوئم: مذہبی لوگوں کی قدامت پسندی، جدید دنیا وی ترقی،سائنس ٹیکنالوجی سے بیزاری، صرف عبادات پر ترجیح، مکالمہ کی بجاے اپنی مخصوص فکراور نکتہ نظرکو مذہب کی آڑ میں دوسروں پر زبردستی نافذ کرنے کی کوشس اور اس میں شدت پسندی، دہشت گردی کے استعمال کو جائز سمجھنا. اگر چہ مذہبی لوگوں کی اکثریت معتدل مزاج اور امن پسند ھے


 دوسری طرف خاموش اکثریت ہے

 "اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔" - قرآن ٢:١٤٣ 

اکثریت اسلام کو مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے تمام جگہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں . اور اس کو قیام پاکستان کا مقصد سمجھتے ہیں
ان میں بہت سے امن پسند  معتدل علماء اکرام اور سوسائٹی کے تمام  طبقات کے معتدل  لوگ شامل ہیں. جو دہشت گردی کے خلاف ہیں بہت سے اپنی زندگی اس نیک مقصد میں قربان کر کہ شہید ہو گئے . مگر ان کی آواز دہشت گردی اور لبرل لوگوں کے درمیان گم جاتی ہے . کیوں کہ وہ انصاف اور عوام کے استحصال کے بھی خلاف حق کی آواز بلند کرتے ہیں 

 عوام اسلام سے جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں اور مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں مگر عام طور پر ذاتی زندگی میں اسلام کی اعلی  اقدار سے دور ہیں . جھوٹ دھوکہ ، نا انصافی ،کرپتشن کا دور دورہ ہے. شریعت کا نفاذ اپنے پر نہیں کرتے مگر دوسروں پر نافذ کرنا چاہتے ہیں. عبادات پر زور ہے مگر حقوق العباد پس پشت ہیں. ان کا مسلہ معاشی اور معاشرتی انصاف اور امن ہے جو اسلامی نظام کے زریعے حاصل کرنے کی امید کر سکتے ہیں.


تیسری تعارف اسلامی شدت پسند دہشت گرد اور ان کے خاموش ہمدرد 

   عوام کی  اکثریت شدت پسندی کے بجاے پر امن طریقے سے 
شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں . جبکہ کچھ شدت پسند لوگ اور گروہ جیسے طالبان ، طاقت کے زور پر اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں . اس کے لیے وھ دہشت گردی اور قتل و غارت کو جائزاسلامی طریقہ سمجھتے ہیں . اس سے تمام قابل زکر علماء اوراکثرمذہبی جماعتیں بظاھر اختلاف  کرتے ہیں . مگر خاموشی سے اںدورن خانہ ان کے حمایت کرتے  معلوم ہوتے ہیں


 امام مسجد , خطیب صاحبان کا سوسائٹی میں بہت اثر ہے . جمعہ کے خطبات ور مذھبی اجتما ع میں وھ جو چاہیں تقریر کریں . کسی کی جرات نہیں کہ اختلاف  کر سکے.اکثر خطیب صاحبان دہشت گردوں کی خاموش حمایت کرتے معلوم ہوتے ہیں ان کی مذمت نہیں کرتے ، گول مول بات کرتے ہیں. شائد ان کا
 خیال ھوکہ اس طرح وہ بھی  پاور گیم کا حصہ بن جایں گے

 تمام حکمران فوجی یا سول جمہوری, عوام کے استحصال میں ملوث ہیں ، کرپشن نا انصافی نے عوام کو بدحال کر دیا ہے . وہ امید سے ہر ایسے لوگوں کے پیچھے چلنے کو تیار ہیں جو ان کو انصاف خوشحالی کی امید دکھاتا ہے . مذہبی شدت پسند لوگوں کو وہ ردعمل میں امید لگاتے ہیں . جیسے پرانے لوگ کہتے ہیں کیہ انگریز کا دور اچھا تھا قانون کی حکمرانی تھی وغیرہ وغیرہ . مذہبی لوگ اپنے آپ کو اس لیڈرشپ کے خلا کو پر کرنے کا اهل سمجھتے ہیں. پاور طاقت کا اپنا مزہ ہوتا ہے . ان میں کم لوگ ادراک رکھتے ہیں. کچھ نیک نیت ہیں مگر یہ ان کے بس کا کام نہیں

سوسائٹی فکری طور پر  تقسیم ہو چکی ہے
ایسے حالات میں ضروری ہے کہ کنفیوژن کو دور کیا جائے تاکہ اکثریت ایک نقطہ  نظر پر متفق ہو  جائے. اور پھر تمام توانایوں کو مرکوز کرکہ عظیم مقاصد ، امن . خوشحالی . ترقی کی طرف رواں دواں ہوں
یاد رھے کہ الله تعالیٰ نے مسلمانوں کو تین اقسام میں تقسیم فرمایا ہے: 

ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم  مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ سورة فاطر٣٢ 

پھر ہم نے اس کتاب (قرآن) کا وارث ایسے لوگوں کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چُن لیا (یعنی امّتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو)، سو ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے درمیان میں رہنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے اﷲ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والے بھی ہیں، یہی (آگے نکل کر کامل ہو جانا ہی) بڑا فضل ہے،  
 اگر ہم کچھ بنیادی سوالات کا جواب موجودہ تناظرمیں قرآن سنت کی  روشنی میں معلوم کر لیں. ان پر قومی مباحثہ ہو جس میںآپ, میڈیا ، دانشور ، مذہبی سکالرز علماء ، سیاسی مفکرین ، سول سوسائٹی ، فوجی ماہرین ،  قانون ، خارجہ امور کے ماہرین اور تمام دوسرے متعلقہ ماہرین  اور عوام حصہ لیں . پھر جس پر سب یا اکثریت متفق ہو ان پر پھر ڈٹ کرعمل کریں تو پاکستان ایک ترقی یافتہ باعزت ملک، قوم  بن سکتا ہے  اور کچھ نہیں تو کم از کم عوام میں ایک فکری،  شعوری آگاہی پیدا ہو جائے گی . عوام دھوکہ سے بچ جائیں گے 
کچھ سوالات بظاھر معمولی معلوم ہوتے ہیں مگر گہرے اثرات رکھتے ہیں. 

 :بنیادی مکالمہ کےسوال درج ذیل ہیں 
انسان کا کیا مقصد حیات ہے؟
پاکستان بنانے کا مقصد ؟
. متفقہ آیین پاکستان  جو الله کی حاکمیت اعلی کا اقرار کرتا ہے اور  قرآن سنت کو اول قرار دے, کیا  اس کا مکمل انکار درست ہے ؟ 
کیا اسلامی جمہوریت  جس میں حاکمیت الله کی اور قانون شریعت  کا ہو غیر اسلامی ہے ؟
خلافت میں اگر خلیفہ منتخب ہو گا تو پھر اسلامی جمہوریت میں کیا فرق ہے ؟  
آیین فقط قرار داد مقاصد شامل کرنے سے اسلامی نہیں بنتا اس پر عمل درآمد بھی ہو؟
اسلامی نظریاتی کونسل فقط ایک  سفارشی ادارہ ہے . اس کی تشکیل نو اور اختیارات بھی ہونا چاہے ؟
 اگر موجودہ آیین اور جمہوریت اسلامی نہیں تو متبادل نظام کیا ہے؟ اس کو جمہوری طریقے سے نافذ کریں گے یا ڈکٹیٹر شپ سے ، کیا یہ سب کو قبول ہو گا ؟ 
عام حالات میں اشرافیہ کواگر ختم نہیں تو کم از کم مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ عوامی امنگوں کا خیال کرتے ہوۓ امن، خوشحالی اور ترقی کے اقدام اٹھاے. جب اس کو معلوم ہو کہ اس میں اشرافیہ کی اپنی سروائیول اور ان کا اپنا بھی فائدہ ہے تو وہ کچھ گنجائش دے گی. دہشت گرد اس میں کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں.  اسے کیا اقدام کئے جائیں جو اشرافیہ کوعوام کے فائدہ میں رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرے؟ 
 آیین کے مطابق جمہوری طریقے سے حکومت شوری پارلیمنٹ کا انتخاب سیکشن 62 ، 63 کے سختی سے نفاذ سے قبول ہے  یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس ؟
پاکستان میں نفاذ شریعت کی تعریف اجماع جمہور کے مذہب اسلام  کی ہو گی یا اقلیت شیعہ ، دیوبندی، اہل  حدیث ، تکفیری ، خوارج ، کے مطابق ؟
  اسلامی ریاست میں  چند افراد کے نظریے کی شریعت کے نفاذ کے نام پر بغاوت اور جنگ قتال جائز ہے ؟
 کیا اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کے بعد "دار-الحرب " اور "دارلسلام "  کا قدیم اجتہادی نظریہ ختم ہو کر دنیا اب "دار-الامن " ہے علاوہ ان علاقوں کے جن پر دوسرے لوگ  قابض ہیں؟
 کسی تبدیلی کی صورت میں حکومت پاکستان کے ماضی میں کئے گیے بین الاقوامی میثاق اور معاہدوں کی پاسداری کی کیا اہمیت اور سٹیٹس ہوگا ؟
کیا  حکومت پاکستان دنیا میں مسلم مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لیے یا کسی اور وجہ سے اخلاقی ، مالی امداد یا جہاد  قتال  کا  فیصلہ کرے گی، یا گروہ ، افراد یا علماء کریں گے یا حکومت سب کے مشورے سے کرے گی ؟ اسی صورت میں بین الاقوامی معاہد و ن کی کییا حیثیت ہو گی ؟ 
غیر مسلمان اقوام سے عام تعلقات  ،تعلیمی . جدید ٹیکنالوجی کا حصول ، تبلیغی، اسلامی دعوت , تجارتی اور دفاعی معاہدے، جدید اسلحہ کا حصول اپنے فائدے کے لیے  ممنوع ہے یا جائز ؟
کیا بین الاقوامی سرحدوں کا احترم ہو گا یا ساری زمین الله کی ہے کوئی سرحد نہیں ہو گی ؟
کیا پاکستان ساری دنیا سے جنگ کرے گا اور تباہ و برباد ہو جائے گا ؟
حکومت پاکستان موجودہ نواز شریف  اور سابقہ حکمران  مشرف،  زرداری تمام امریکہ کی پٹھو  ہیں جوامریکا کی غلام ہیں . وہ سب اس کا انکار کرتے ہیں . اس دعوے کی حقیقت کیسے معلوم ہو گی ؟
 کیا حکومت  کے خلاف اس قسم کے الزمات پر بغاوت جائز ہے ؟
کیا جو  عوام بغاوت نہیں کرتے وہ کیا حکومت کے ساتھی ہیں ، مرتد ہیں سب واجب قتل ہیں ، اور جہنمی ہیں . ان کو مارنا ثواب ہے ؟
 انسانی حقوق کیا ہیں ؟ یا انسانی حقوق وہ ہیں جو حکومت وقت دے ؟
کیا پاکستان میں غیر مسلمانوں کے لیے جگہ نہیں اور یہ سب واجب قتل ہیں ؟
کفار ملکوں میں مسلمانوں پر جوابا " ظلم کا کون ذمہ دار ہوگا ؟
پاکستان میں غیر مسلم اقلیت  کے برابر حقوق "میثاق مدینہ" اور آیین کے مطابق  یا کچھ اور ؟
ا قلیت کی مذہبی آزادی، عبادت کا حق اور چرچ ، مندر گردواروں کی حفاظت یا تباہی ؟
 اختلاف رائے کا حق ہو گا . ظالم حکمران کیسے تبدیل کیا جا سکے گا ؟
ریاست میں گروہ ، جتھوں اور پرائیویٹ ملیشیا  کی تشکیل کی اجازت ہو گی ؟ ان کو کنٹرول کون کرے گا ؟
 کیا امر با المعروف نہی عن المنکر ، (نیکی کی ترغیب اور برائی سے اجتناب ) کے لیے حکومت ، افراد، مذہبی اور سوشل تنظیموں کے طریقہ کار اور دائرہ اختیار کو طے کرنے کی ضرورت ہے؟
سماجی اوراخلاقی برایوں نے معاشرے کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کر دیا ہے. اس ضمن میں حکومت، افراد اورمذہبی اور سوشل تنظیموں کی کوششوں میں ربط کی ضرورت اور طریقہ کار؟   
کیا دینی مذہبی تعلیم پر حکومت کا کسی حد تک کنٹرول ہو؟  نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جانے . مدارس کے طلبا دین کے ساتھ دنیاوی ، سائنس کی تعلیم حاصل کریں  مزید امام مسجد کے علاوہ دوسرے کام حصول روزگار کے لیے کر سکیں؟
کیا عوام کا دشت گردی خودکش حملوں سے قتال جائز ہے؟   
فوج، پولیس اور دوسرے قومی دفاعی ادارے اور ان کے افراد مساجد ، گرجوں عوامی اجتماع کی جگہوں پر  طالبان کے خود کش حملوں اور دہشت گردی کو روکیں یا نہیں؟
عوام کی جان اور پراپرٹی کی حفاظت کون کرے گا؟ 

اہل علم ، دانشور حضرات اور تمام عوام الناس سے قرآن ، سنّت ، تاریخی حقائق  اورموجودہ حالات کے تناظر میں  رہنمائی کی  درخواست ہے . اس پیغام کو پھیلائیں تاکہ ایک قومی مکالمے کا آغاز ہو . ہم مل کر ان مسائل کا حل پا سکیں . اور کچھ نہیں تو کم از کم عوام میں ایک فکری،  شعوری آگاہی پیدا ہو جائے گی . عوام دھوکہ سے بچ جائیں گے .
آپ جو کوئی بھی ہیں جہاں بھی ہیں ان  اہم سوالات کے جواب درج ذیل لنکس اور دوسرے علمی ذریے سے معلوم کریں. ان کا آزادانہ تجزیہ کریں اور اپنے اردگرد حلقہ احباب کو بتاییں ، ان سے ڈسکسس کریں. اس طرح لوگوں کو گمراہ ہونے سے بچائیں. دین اسلام کے نام پر دھوکے کی سیاست اور دہشت کرنے والوں کی شیطانی چالوں سے خود بچیں اور دوسروں کو  بھی بچائیں. اس طرح کم از کم  آپ نے اپنا مذھبی اور انسانی فرض ادا کردیا
مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا
جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا،  اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا - قرآن ٤:٨٥
 الله ہماری مدد فرماے  . آمین 


غلطیوں سے درگزر کریں ، گوگل سے ٹائپ کیا
https://www.facebook.com/aftabkhaan 
http://aftabkhan.blog.com
.. http://t.co/H3Ot5U4uDx

  مزید مطالعہ کریں
پاکستان بچاؤ Save Pakistan & Save Pak Army 

Save Pak FB

FrontPage صفحہ اول WakeUp Pakistan! جاگو پاکستان

پاکستان آزادی سے اب تک : کیا کھویا ، کیا پایا؟

Pakistan’s Quagmire پاکستان - امن اور ترقی کا راستہ

Rise and fall of Nations – Law of Quran
 قرآن کا قانون عروج و زوال اقوام


 مسلم وعلماء کے نام کھلا خط :
  1. Short Web link: http://goo.gl/xNolSV  
  2. Google Document: https://goo.gl/xAtokS

Following links will help to find answers to most of issues raised above:
  1. https://dl.dropboxusercontent.com/u/12798195/FreeBooks/PakistanQuagmare.htm
  2. https://docs.google.com/document/d/1nVCHvCIZiTj3Ndknh-KduN40M4LvinosfituBXQoflA/edit?usp=sharing
  3. http://freebookpark.blogspot.com/2012/06/creation.html
  4. http://pakistan-posts.blogspot.com/p/why-pakistan.html
  5. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/04/shariah-or-democracy-conflict-or.html
  6. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/04/blog-post.html
  7. http://pakistan-posts.blogspot.com/2012/09/objectives-resolution-supremacy-of.html
  8. http://pakistan-posts.blogspot.com/2011/06/political-reforms-for-stable-democracy.html
  9. http://faithforum.wordpress.com/jihad-myth-and-reality/
  10. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/illogical-logic-of-takfiri-taliban-to.html
  11. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/10/blog-post.html
  12. http://pakistan-posts.blogspot.com/2012/09/objectives-resolution-supremacy-of.html
  13. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/the-dreadful-doctrine-of-terror-takfeer.html
  14. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/09/rebellion-by-khawarij-takfiri-taliban_440.html
  15. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/learning-science-in-islam.html
  16. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/refutation-of-takfirirs-form-quran.html
  17. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/11/pakistan-basic-issues-need-immediate.html
  18. Ideology of Pakistan - Fact or Fiction - An Analysis - نظریہ پاکستان - حقیقت یا افسانہ: تجزیہ 
  19. Caliphate: Relevant or Redundant: http://goo.gl/245yB  
  20. Islamic Society & Culture:https://t.co/HNUuOUuK  
  21. Islam: A General Introduction: By Sheikh Ali Tantawi
  22. Urdu Translation: "Islam: A General Introduction: By Sheikh Ali Tantawi"

Social media سوشل میڈیا



اوجِ کمال بھی اس کے لیے چھوٹا لفظ ہے ، وہ کمال جو سوشل میڈیا نے کر دکھایا۔ آج پاکستان ہی کے نہیں بڑے بڑے عالمی تجزیہ کار اور سیاسی فتویٰ باز بھی سوشل میڈیا کے نام سے کانپ اٹھتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے مغرب میں اپنی تاریخ کا سب سے بڑا معجزہ بھی اسی سال برپا کیا جس کے سامنے وکی لیکس بھی ہیچ ہیں ، میری مراد اسرائیل کی غزہ پر حالیہ بربریت سے ہے ۔ سکائی نیوز، فاکس، بی بی سی اور سی این این سمیت مغرب کے بڑے میڈیا ہاؤسز نے ہمیشہ اسرائیل کے جنگی جرائم کو سینسر کیا۔ سوشل میڈیا کے دلیرانہ کردار سے پہلے فلسطینیوں پر ہر حملے میں اسرائیل جو واردات چاہتاکرگزرتا،اسے پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔ مجھے برطانیہ کے عالمی شہرت یافتہ تجزیہ نگار نے بتایا، اگر اسرائیل کے موقف کے خلاف ہلکی سی خبر یا کوئی بے ضرر تصویر چل جاتی تو پوری دنیا کے یہودی فون ، تار(hate mail) کے ذریعینفرت انگیز ردِ عمل کا اظہار کر کے عالمی میڈیا منیجروں کے گھٹنے ٹکواکر ناک سے لکیریں کھچواتے تھے۔
غزہ کے شہیدوں کا خونِ مسلسل رنگ لایا۔ سوشل میڈیا نے اس جنگ میں پروپیگنڈے اور ہمدردی کے عالمی محاذ پر اسرائیل کو شکست دے دی ۔ ثبوت یہ ہیں:
1۔ سویڈش وزیراعظم نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایسا اعلان کیا جس نے اسرائیل کے مغربی حامیوں کے چھکے چھڑا دیے۔ Stephon Lofve نے کہا: فلسطین کامسئلہ حل کرنے کے لیے سویڈن بہت جلد خودمختار فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔ سوشل میڈیا کی سینسر شپ ماورا دنیا کی ایجاد سے پہلے کسی گورے ملک کے گورے وزیراعظم کی گوری پارلیمنٹ میں ایسے اعلان کا خواب بھی نہیں دیکھاجاسکتا تھا۔
2۔ سوشل میڈیا کی بدولت آج دنیا کے بہت سے ملکوں میں اسرائیل کے جنگی جرائم کو عالمی فوجداری عدالت میں اٹھانے کے لیے با اثر آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔
3۔ غزہ جارحیت کے بعد کرہ ارض کے گورے براعظموں میں فلسطینیوںکی حمایت میں تاریخی جلوس نکلے۔ ان میں مغربی رائے عامہ کے لیڈروں ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور نوجوان شرکاء کی تعداد عرب و عجم کے مسلمانوں سے ہزاروں نہیں لاکھوں گُنا زیادہ رہی۔
4 ۔ پوری دنیا کے صہیونی جَتھے اکٹھے ہوکر بھی اسرائیل کی ننگی جارحیت کے حق میں قابلِ ذکر دباؤ پیدا کر سکے نہ انہیںکہیں پذیرائی ملی۔ 
سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں سرمایہ داری نظامِ کے خلاف احتجاج کی دیوارِ چین کھڑی کی۔ ہمارے بادشاہوں اور ان کے میر منشیوں کے لیے مائی باپ کا درجہ رکھنے والے آئی ایم ایف کے ہر اجلاس کا گھیراؤ ہوتا ہے۔ غریب ملکوںکا خون چوسنے والی اس عالمی ادارے کی جونکیں جہاں جاتی ہیں سوشل میڈیا وہاں احتجاج منظم کردیتا ہے۔ مغرب میں جوتے مہنگے ہونے کے باوجود اکثر احتجاجوں میں آئی ایم ایف سے'اظہارِ اُلفت‘ کے لیے ان کا استعمال عام ہے۔ عالمی بینک کی کہانی بھی اس سے مختلف نہیں ۔ اس کے ما لیاتی اوراخلاقی سکینڈل ایک طرف، دنیا کے ایسے معاشرے جہاں رائے عامہ منظم ہے وہاں آمروں، بادشاہوں اور شہزادوںکے اس پسندیدہ بینک کی دُرگت بنانے والے رضاکار ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں، جو لاٹھی گولی کی عالمی سرکار سے یوں کہتے ہیں:
اے خاک نشینو اُٹھ بیٹھو ، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تحت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے 
کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں، سر بھی بہت 
چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے 
دنیامیں تبدیلی کی دو تازہ لہریں اٹھیں۔۔۔۔۔ پہلی Transformation کہلا سکتی ہے، یہ مسلح جدوجہد ہے۔ اس کا آغاز تیونس کی میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں نے کیا۔ جن رشوت خوروں نے غریب کے پڑھے لکھے بچے کو سڑک پر چھابڑی لگانے سے روکا‘ ظالم سماج میں تبدیلی کی آگ سے بھر ے اس نوجوان نے پٹرول چھڑک کر خودکو نذرِ آتش کر دیا۔ پھر یہ لہر مصر سے ہوتی ہوئی لیبیااور شام پہنچی ۔اس کا تازہ چہرہ داعش ہے۔ دوسری لہر Transition سوسائٹی کا ارتقاء ہے۔ مسلم ممالک کے اقتدار پر قابض دولت کے پجاری بزدل اور لا لچی حکمران اور ٹوڈی بادشاہ اس تبدیلی سے لرز رہے ہیں۔
آہنی دیوار میں قید معاشروںمیں سوشل میڈیا نے نئی نسل میں تبدیلی کے شعلے بلند کیے۔ خلیج کے کچھ ملکوں میں عورت گاڑی نہیں چلا سکتی۔ سعودی یونیورسٹی کے دو طلباء نے 70 ء کی انقلاب آفرین دہائی میں bell fast,one way ticket to the moon ,respoteen والے بینڈ بیٹل کی ایک دھن کی پیروڈی کی ہے۔گانا تھاNo women ,No cry۔ دنیا بھر میں مشہورگانا عورتوں کے خلاف پابندی پہ یوں جوڑا گیا:No women ,No drive۔اس امیچوردُھن نے آٹھ بادشاہتوں میں تھرتھلی مچادی۔ سوشل میڈیا نہ ہوتا تو یہ جوان اپنی پچھلی دو نسلوں کی طرح غلا می کا کلچہ، پابندیوں کے دہی کے ساتھ کھا کھاکر پھولتے رہتے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایک کے بعد دوسری اور پھر تیسری نہ ختم ہونے والی جنگ میں ہر بادشاہ سلامت کلاشنکوف، پیٹرو ڈالر اور جہاز تک جھونک چکے ہیں۔ یہ واردات بھی سوشل میڈیا پر بیٹھے نوجوانوں نے پکڑ لی؛ چنانچہ آج مڈل ایسٹ کا سب سے مقبول ترین تبصرہ یہ ہے: جنگ کے تاجر اپنی خاندانی حکمرانی بچانے کے لیے آگ اور بارود کا کھیل کھیل رہے ہیں تاکہ بڑی طاقتیں اسرائیل کے تحفظ کے نام پر خلیج میں موجود رہیں۔ 
آئیے،کچھ گھر کی خبر لیں! آج کاپاکستان تبدیلی کا آتش فشاں ہے۔ ایک بات کہتا چلوں، فیصلہ اب بھی ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ تبدیلی ارتقاء والی ہو یا فنا (Destruction) والی، تبدیلی بس تبدیلی ہے۔ سٹیٹس کوکے کارندے کوئی کام نہیں کرتے۔ ان کی تعلیم بھی واجبی۔ یہ اپنے گوشواروں اور کاغذاتِ نامزدگی میں روزگارکے خانے میں ''سیاست‘‘ لکھتے ہیں ۔ وہ جلوس کو شر پسندی، نعروں کو بغاوت، جلسے کو جمہوریت دشمنی، ریلی کو آئین شکنی اور دھرنے کو غداری سمجھتے ہیں۔ ان کے چمچوں اورکڑچھوںکا حال مرزا کی صاحباں جیسا ہے جو چاہتی ہے فقیرکی وہ کٹیا جل جائے جس میں دیا روشن رہتا ہے۔گلیاں ویران اور سنسان ہو جائیں تاکہ اس میں ایک طرف صاحباں اور دوسری طرف اس کا یار مرزا گھومتا نظر آئے۔کئی خواتین و حضرات اس ذلت آمیز ندامت کو جمہوری مفاہمت کہتے ہیں۔کچھ بے روزگار بابے 80,80 سال کی عمرکے بعد بھی پاکستان کو مضبوط کرنے کے لیے اس نظام کے ذریعے غریبوں سے ویسی ہی محبت کرتے ہیں جیسا عشق دیمک لکڑی کے ساتھ کرتی ہے۔ ظاہر ہے دیمک کی معشوق لکڑی عشق کی تکمیل پر مٹی بن جاتی ہے۔ زمینی حقیقت تو یہ ہے پاکستان ایک نہیں دو ہیں۔ اب یہ مشرقی اور مغربی پاکستان نہیں بلکہ رعایا کا پاکستان اورمافیازکا پاکستان ہیں۔ رعایا کے لیے ہر روز نیا ٹیکس ہے۔ جگّا اور بھتّہ سے لے کر چولہے اور تعلیم تک ، ہر روز مزید مہنگائی ہے۔پیاز، ٹماٹر ،دھنیا اور شلجم سے لے کر دال اور جوار باجرے تک بڑے کارخانہ دار اور کاروباری مافیاز جو بجلی اورگیس سرکاری اہلکاروں کی مدد سے چوری کرتے ہیں، بل اس کا رعایا ادا کرتی ہے۔ تھانیدار،کوتوال اور چوکیدارکی تنخواہ کے کوڑے رعایاکی پیٹھ پر پڑتے ہیں جبکہ حفاظت مافیازکی ہوتی ہے۔ ہر شہرکی ہر سڑک کا کچھ نہ کچھ حصہ بند ہے۔ جہاںکوئی نہ کوئی زمینی خدا کالے ناگ کے طور پر ناکہ لگا کر بیٹھا ہے۔ ہرگلی میں نوگو ایریا ہے جہاں داخل ہونے والے خوش قسمت ہوں تو انہیں جوتے پڑتے ہیں‘ بدبخت ہوں توگولیاں ۔ ہر شاہراہ پر بڑی گاڑیاں دندناتی ہیں جو موٹر سائیکل والے کو مکھی اور چھوٹی کار والے کوکیڑا سمجھتے ہیں۔ بارش کے موسم میں یہ اپنی شان اور طاقت کے اظہارکے لیے پانی کے جوہڑ سے فراٹے بھرکرگزرتے ہیں۔ سکول کے بچے اورکالج کی لڑکیاں جب کیچڑ اورگند سے منہ صاف کرتے ہیں تو انہیں گاڑی چلانے کا مزہ آ جاتا ہے۔ زیادہ زمین کی ملکیت چند خاندانوں کے پاس ہے۔کچھ جاگیردار کئی کئی لاکھ مربع زمین کے مالک بھی ہیں۔ ایک مربع میں دو سوکنال ہوتی ہے، ایک کنال میں بیس مرلے ۔ بے زمین کاشتکار ، بے گھر ہاری ، سڑکوں پر سونے والے مزدور اور کچی آبادیوں کے مکین جانتے ہی نہیں کہ زمین یا پلاٹ کی الا ٹمنٹ کا مطلب کیا ہے؟ سوشل میڈیا بغاوت کا نام ہے، بغاوت کے بغیر سماج کبھی نہیں بدلا۔ 
Babar  Awan

Money making online انٹرنیٹ سے کمائی


Image result for earn money online

The easiest way to make money online is to create a blog or website and start displaying Google ads, the more visitors you have on your website, the more will be earning. Through Google adsense, you'll earn money via clicks and impressions.
http://time.com/money/4255564/how-to-make-money-online/

Needless to say, that Internet has become a money making machine. In my opinion, more money is made via internet than what people & companies are making physically. This is now trillions dollars industry. Thousands of companies are operating online, millions of people full-time working online and trillions of dollars are spent and earned through the internet. Addition to that, it’s growing very rapidly and dramatically. So why shouldn’t you be diving into this industry and start making money today? Well, it’s up to you. But today, I’m sharing with you (600+) ways through which you can make money on the internet.


بہت سے نوجوان جاننا چاہتے کہ کیا یہ واقعی ممکن ہے کہ ہم گھر بیٹھے کمپیوٹر پر کام کر کے ہزاروں لاکھوں کما سکتے ہیں۔ اس بارے میں عرض کر دوں کہ چونکہ یہ شعبہ پاکستان میں نیا ہے اور لوگوں کو اس بارے میں آگاہی نہیں ہے اس لئے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید انٹرنیٹ سے پیسے کمانا ممکن نہیں اور یہ فرضی کہانیاں ہیں۔ اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو حقیقت یہ ہے کہ چند پاکستانی ویب سائٹس تو ایسی ہیں جو انٹرنیٹ کے ذریعے گزشتہ سترہ اٹھارہ برس سے کما رہی ہیں جبکہ آج کل فیس بک اور یوٹیوب نے تو ہر فرد کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ بھی یہ کام کر سکے۔اس وقت جو غیرملکی ویب سائٹ بلاگ سے سب سے زیادہ پیسے کما رہی ہے وہ ہفنگٹن پوسٹ ہے ۔ اس کی مالک آریانہ ہفنگٹن ہیں اور اس کی آمدنی 23لاکھ تیس ہزار ڈالر یا پچیس کروڑ روپے ماہانہ ہے۔دوسرے نمبر پر ٹیک کرنچ ہے۔ اس کا مالک مائیکل ایرینگٹن ماہانہ آٹھ لاکھ ڈالر یا آٹھ کروڑ روپے کما رہا ہے۔ اگر آپ پاکستانی ویب سائٹس کے بارے میں جاننے کے متمنی ہیں تو الیکسا ڈاٹ کام پر جا کر رینکنگ دیکھیں اور جو پاکستانی ویب سائٹس دنیا کی پہلی ایک ہزار ویب سائٹس میں موجود ہیں‘ ان کے بارے میں اتنا سمجھ لیں کہ وہ ماہانہ کم از کم پچاس لاکھ سے ایک کروڑروپے تک کما رہی ہیں۔ یہ ویب سائٹس سوشل میڈیا پر اپنی تشہیری مہم چلاتی ہیں‘ وہاں اپنی خبریں اور دیگر مواد شیئر کرتی ہیں جس کے بعد فیس بک اور ٹوئٹر وغیرہ پر ان کا مواد پھیل جاتا ہے۔لوگ یہ چیزیں ایک دوسرے کو فارورڈ کرتے رہتے ہیں جس سے ویب سائٹس پر ٹریفک بڑھتی ہے۔ ٹریفک بڑھنے سے ویب سائٹ کے صفحات اور امپریشنز میں اضافہ ہوتا ہے اور نتیجتاًآمدنی بھی بڑھتی ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ سے کمائی بغیر ہاتھ ہلائے ہو جاتی ہے۔ یہ تاثر درست نہیں۔ جس طرح عام کاروبار میں لوازمات کا خیال رکھنا پڑتا ہے‘ اسی طرح اس میدان میں بھی مسلسل توجہ‘ وقت اور محنت درکارہوتی ہے۔اگر آپ اس پر روزانہ ایک گھنٹہ دیں گے اور باقی وقت فیس بک یا یوٹیوب پر چیزیں دیکھنے میں گزار دیں گے تو آپ ایک روپیہ بھی نہیں کما پائیں گے۔

ویب سائٹس سے آمدنی ان پر موجود گوگل یا دیگر کمپنیوں کے اشتہارات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ایک ہزار لوگ کسی ایک اشتہار پر کلک کرتے ہیں تو اکائونٹ میں تقریباً ایک ڈالر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی ویڈیو ایک لاکھ لوگوں نے دیکھ لی تو انہیں اس حساب سے ڈالر بھی آئیں گے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ یوٹیوب پر ویڈیو کے دوران جو اشتہار چلتے ہیں اگر پندرہ یا تیس سیکنڈ کا اشتہار کوئی صارف مکمل دیکھے گا تب ہی یوٹیوب چینل کے مالک کے اکائونٹ میں کچھ پیسے آئیں گے۔ صرف ویڈیوز دیکھنے والوں کی تعداد سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب تک لوگ اشتہارات کو کلک نہیں کریں گے تب تک بات نہیں بنے گی۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پاکستانی چونکہ دو نمبری کرنے میں ماہر ہیں اس لئے ہمارے ذہن میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ اگر ویڈیوز کو دیکھ کر یا اشتہارات کو کلک کر کے پیسے کمائے جا سکتے ہیں تو یہ کون سا مشکل کام ہے۔ ہم خود ہی بیٹھ کر ان اشتہارات کو بار بار کلک کرنا شروع کر دیں تو اس طرح ایک دن میں ہزاروں ڈالر کما لیں گے تو اس بھول میں مت رہیے۔ جنہوں نے یہ انٹرنیٹ بنایا ہے وہ کوئی بیوقوف نہیں ہیں۔ انہوں نے ہر چیز کا توڑ رکھا ہے۔ آپ جب انٹرنیٹ پر جاتے ہیں تو آپ کی چند معلومات بھی ساتھ ہی شیئر ہوجاتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم آپ کے زیراستعمال انٹرنیٹ کا آئی پی ایڈریس ہوتا ہے۔ یہ آئی پی ایڈریس ہی ہوتا ہے جس کے ذریعے سائبر کرائم والے انٹرنیٹ پر جرائم کرنے والوں کے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگر آپ ایک ہی آئی پی ایڈریس سے بار بار کلک کریں گے تو گوگل والے آپ کا اکائونٹ ہمیشہ کے لئے بند کر دیں گے اور آپ کے اکائونٹ میں موجود رقم بھی ضبط ہو جائے گی۔ اگر آپ جعلی آئی پیز کے ذریعے کوشش کریں گے اور دیگر
ممالک کے آئی پی استعمال کر کے اشتہارات پر کلک کریں گے تب بھی آپ کسی نہ کسی جگہ پکڑے جائیں گے اور گوگل ایڈ سینس آپ کو بتا دے گا کہ آپ کے اکائونٹ پر فلاں مرتبہ فلاں جگہ سے مشتبہ حرکات نوٹ کی گئی ہیں اور آپ ہکے بکے رہ جائیں گے۔فیس بک پر آمدنی Affiliateپروگرامز سے ہوتی ہے جو مختلف ویب سائٹس آفر کرتی ہیں۔ آپ فیس بک پیج بنانے کے بعد Affiliateپروگرامز کے لئے اپلائی کرتے ہیں۔ آپ کی پوسٹ جتنی زیادہ دلچسپ ہو گی اور لوگ جتنا زیادہ اس کو شیئر کریں گے اس پر موجود اشتہارات اتنی زیادہ مرتبہ کھلیں گے اور ان پر کلک کرنے کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ یہاں بھی یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ آپ کی خود کی گئی کلکس آپ کے اکائونٹ کی بندش کا باعث بن سکتی ہیں۔ 
یوٹیوب اس وقت انٹرنیٹ سے آمدنی کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے لئے آپ کو سب سے پہلے اپنا اکائونٹ بنانا پڑتا ہے۔اس کے بعد آپ اس میں ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہیں۔ یوٹیوب ان ویڈیوز پر اشتہارات دیتا ہے جو آپ نے خود بنائی ہوں۔آپ اپنے علاقے کی سیرگاہوں‘ شاپنگ مرکز‘ ہوٹلز اور عوامی تقریبات کی دلچسپ ویڈیوز بنا سکتے ہیں‘ آپ تعلیم کے موضوع پر ای لیکچر دے سکتے ہیں‘ آپ گھر کی دیواروں کو خود پینٹ کرنے کا طریقہ بتا سکتے ہیں‘ گاڑی کی ٹیوننگ کرنا سکھا سکتے ہیں‘ گاڑیوں کے نئے ماڈلز اور دیگر گاڑیوں کا موازنہ بتا سکتے ہیں‘ کسی موبائل کا لاک کوڈ کھولنے کا طریقہ بتا سکتے ہیں‘ نئے موبائلز کے بارے میں ری ویو دے سکتے ہیں‘ اپنے ملک کی بڑی خبروں پر تجزیہ کر کے ویڈیو بنا سکتے ہیں‘ پھلوں اور سبزیوں کے فوائد بارے بتا سکتے ہیں‘ میڈیکل سائنس‘ انجینئرنگ‘ معاشیات‘ ٹیکنالوجی‘ گلیمر‘ باغبانی جیسے ہزاروں موضوعات ایسے ہیں جن پر آپ ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے بعد آپ اسے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ جو لوگ کمنٹس دیں ان کا فوری جواب دیں۔اس طرح لوگوں کے انٹرایکشن میں اضافہ ہو گا۔آمدنی شروع کرنے کے لئے آپ کو اپنا اکائونٹ گوگل ایڈ سینس کے ساتھ لنک کرنا پڑے گا۔اٹھارہ برس یا اس سے اوپر کے صارف یہ سروس حاصل کر سکتے ہیں۔یہاں آپ کو پے پال اکائونٹ یا اپنے بینک اکائونٹ کی ضروری معلومات دینا ہوں گی تاکہ جب یوٹیوب کے اکائونٹ میں پیسے آئیں تو وہ آپ کے بینک اکائونٹ میں ٹرانسفر کئے جا سکیں۔یو ٹیوب اکائونٹ میں آپ اپنی ویڈیوز سے متعلق تمام تفصیلات دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے لوگوں نے ویڈیوز کو لائیک کیا‘ کتنوں نے اشتہارات پر کلک کیا وغیرہ وغیرہ۔
موبائل فون انڈسٹری کی تیزی سے پھیلتی صنعت نے اب موبائل فون کو بھی آمدنی کا بڑا ذریعہ بنا دیا ہے۔موبائل فون پر ہم جو ایپس ڈائون لوڈ کرتے ہیں انہیں بنانے والے بھی پیسے کماتے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں صرف ایپس بنانے کے لئے بھی پیسے دیتی ہیں ۔ گوگل کے اشتہارات ان موبائل ایپس پر بھی چلتے ہیں ۔ کئی ایپس لاکھوں کی تعداد میں ڈائون لوڈ ہوتی ہیں‘ ان پر کمنٹس بھی ہزاروں میں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان سے خاطر خواہ آمدنی بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ وہ ایپس زیادہ مقبول ہوتی ہے جو لوگوں کی ضرورت بن جاتی ہے۔ واٹس ایپ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہ اب ہر فرد کی ضرورت ہے۔ اسے یاہو کے دو سابق ملازمین نے آج سے آٹھ برس قبل بنایا تھا۔دو ہزار چودہ میں فیس بک نے واٹس ایپ کو چودہ بلین ڈالر میں خرید لیا جو اس کی اب تک کی سب سے بڑی خرید تھی۔پاکستانی بھی ایپس بنا رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایپ عالمی مقبولیت حاصل نہیں کر سکی۔ کریم ٹیکسی کی ایپ البتہ خاصی مقبول ہوئی ہے۔یہ بین الاقوامی کمپنی اوبر کی طرز پر چل رہی ہے جس سے فون پر چند منٹ میں ٹیکسی منگوائی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت آئی ٹی کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ حکومت اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ انٹرنیٹ سے آمدنی کو نصاب کا حصہ بنائیں کیونکہ بھارت اور دیگر ممالک اس سے اربوں ڈالر زرمبادلہ کما رہے ہیں اور ہم لوگ ابھی تک اس مخمصے میں پڑے ہیں کہ پتہ نہیں انٹرنیٹ سے کمائی ہوتی بھی ہے یا نہیں!
Ammar Chaudhry


Source: http://dunya.com.pk/index.php/author/ammar-chaudhry/2017-02-23/18656/11924795#tab2
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page