Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

Showing posts with label Education. Show all posts
Showing posts with label Education. Show all posts

دینی مدارس اور علماء کا کردار




گزشتہ دنوں ایک دینی مدرسہ کے طالب علم نے نہایت اضطراب کی حالت میں اور ڈرتے ڈرتے ایک سوال نامہ پیش کیا اور اس کے جواب کی فرمائش کی، ایک صبح اٹھ کر جواب لکھنے بیٹھا تو خلاف معمول ایک ہی نشست میں اُسے مکمل کردیا، جو کسی قدر نوک پلک درست کرنے کے بعد نذرِ ناظرین ہے:
حضرت محترم ! السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ 
حضرت ! بندے کے دل میں کافی عرصے سے مدارس کے نصاب کے متعلق چند اشکالات و سوالات ہیں، جنھوں نے ایک اضطرابی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے، لہٰذا بندہ اس سے خلاصی پانے کیلئے تمام اشکالات کو آپ کی نظر کرنا چاہتا ہے۔ امید ہے کہ شفقت کے ساتھ سوالات کاجواب مرحمت فرمائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں ... کرونا اور علماء پاکستان کا رویہ - لمحہ فکریہ ....

(۱) مدارس میں جدید فقہی مسائل کیوں نہیں پڑھائے جاتے؟ حالانکہ وہ تمام قدیم مسائل پوری تشریح و توضیح اور دلائل و بحث کے ساتھ پڑھائے جاتے ہیں، جن کی ہمارے دور (زمانے) میں دُور کی بھی مماثلت نہیں پائی جاتی، اور ان مسائل کی موجودہ زمانے کے لحاظ سے تطبیق دینا بھی ممکن نہیں، ہمیں یہ سب تو پڑھایا جاتا ہے؛ لیکن مروّجہ سودی نظام، لیزنگ، بیمہ پالیسی، بینکنگ، اکاؤنٹ اور پرائز بانڈ وغیرہ کے بارے میں ہم بالکل نا آشنا ہیں۔
(۲) موجودہ زمانہ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں انتہائی تفاوت کی وجہ سے زکوٰة کا نصاب کیاہونا چاہئے؟
(۳) موجودہ زمانہ کے لحاظ سے عشر و خراج کا طریقہ کیا ہونا چاہئے؟ اور ہماری زمینیں عشری ہیں یا خراجی؟
(۴) کاغذی نوٹ کے بارے میں شریعت کی نظر میں ثمنیت کا کیا اعتبار ہے؟ حالانکہ جب کاغذی نوٹ کااجرا کیاگیا تو اس کو سونے اور چاندی کے مساوی قرار دیا گیا، اب اس میں تفاوت پایا جاتا ہے، اس بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔
(۵) تفسیر میں صرف تفسیر عثمانی پر ہی کیوں اقتصار کیاجاتا ہے؟ قرآن وحدیث کی حقانیت کو آج کی سائنس ثابت کررہی ہے، ہمیں اس لحاظ سے کیوں نہیں پڑھایا جاتا؟ حالانکہ ایک عام دنیادار پروفیسر ، علماء سے زیادہ اس کی تحقیق رکھتاہے، اور جدت پسندوں کو ہمیں رجعت پسند کہنے کا موقع ہاتھ آجاتا ہے۔
(۶) مدارس میں پانچ سال تک منطق کیوں پڑھائی جاتی ہے؟ اوراس میں فضول قسم کی قیل و قال کی جاتی ہے؟ جن کا نہ فائدہ ہے اور نہ افادہ؟
(۷) مدارس میں پانچ سال تک نحو کیوں پڑھائی جاتی ہے؟ ”کلمہ کی تعریف کو کلام کی تعریف پر کیوں مقدم کیا؟ کلام کی تعریف کو کلمہ کی تعریف سے کیوں موخر کیا؟“ اس قسم کے فضول فلسفے پڑھائے جاتے ہیں، اور نتیجہ یہ ہے کہ دس سال تک عربی تکلم پر قدرت ہے، نہ انشاء پر۔
(۸) مدارس میں تقابل ادیان سے متعلق کسی قسم کا مواد نہیں پڑھایا جاتا، سوائے ان معتزلہ کے، جن کا وجود دنیا میں نہیں رہا۔
(۹) دس سال مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والا شہریت، جغرافیہ اورانگریزی سے نابلد رہتا ہے اور اپنی قومی زبان پر بھی مکمل دسترس حاصل نہیں کرپاتا۔ مدارس میں رائج اس نصاب کی وجہ سے مدارس کے فضلاء میں درج ذیل خرابیاں پیدا ہوگئیں:
(الف) مدارس سے ایسا طبقہ پیدا ہواجسے معاشرے نے قبول نہیں کیا۔
(ب) مدارس دیہاتی ماحول اور چھوٹے طبقے تک محدود ہوگئے اور اہل ثروت کا مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا۔
(ج) علماء کے اندر سے تحقیقی کام کا ذوق ختم ہوتا چلاگیا۔
(د) علماء محدود ذہن کے ہوگئے۔
(ھ) اس کے علاوہ کئی وجوہات حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی صاحب دامت برکاتہم کے اس مکتوب گرامی سے بھی معلوم ہوتی ہیں، جو درج ذیل ہے:
”مکرمان ومحترمان حضراتِ اکابر و ذمہ دارانِ مدارس ․․․․․ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
اللہ پاک کا شکر ہے! بندہ بعافیت ہے، امید ہے بعافیت ہوں گے، آج ذمہ داران مدرسہ کو ایسے علماء تیار کرنے چاہئیں، جن کی پڑھنے ہی کے زمانہ میں پڑھانے کی نیت کرائی جائے، وہ فارغ ہوکر پڑھائیں اور پڑھنے ہی کے زمانہ میں تھوڑا تھوڑا وقت لگاکر دعوت وتبلیغ سے مناسبت پیدا کریں، اور پڑھنے کے زمانہ میں جس کی طرف اس کا رجحان ہو، بیعت کا تعلق کرادیں، تاکہ پڑھنے کے ساتھ سلوک سے مناسبت ہوجائے، پھر وہ جہاں بیٹھے تینوں کام کرنے والا ہو: ایک طرف تعلیم دے رہا ہو،اور ایک جگہ تبلیغ کی خدمت کررہا ہو،اور ایک طرف اپنے معمولات پورے کررہا ہو،اور دوسروں کے معمولات پورے کرانے کا ذریعہ بن رہا ہو، آج پوری دنیا میں ہرسال اتنے علماء فارغ ہونے کے باوجود، مکاتب میں پڑھانے والے نہیں ملتے، مدارس کی کتابیں پڑھانے والے نہیں ملتے، مراکز میں جماعتیں لے کر چلنے والے نہیں ملتے اور خانقاہوں میں ذاکرین کی وہ مقدار نہیں ہوتی جیسی ہونی چاہئے، پوری دنیامیں جو کچھ اس لائن سے نظر آرہا ہے، وہ صُفّہ پر ایک ہی جگہ ہورہا تھا، وہیں مبلغین تیار ہورہے تھے، وہیں مجاہدین تیار ہورہے تھے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صُفّہ کی ترتیب پر سارے اعمال ایک ہی جگہ ہورہے ہوں، میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ پوری دنیا میں یہ ماحول بنایا جائے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے․․․․․․ فقط والسلام
                                                                                                                                                                                                                                          محمد طلحہ کاندھلوی
                                                                                                                                                                                                                                           ۲۱/محرم الحرام ۱۴۲۶ھ
اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع عطا فرمائے، آمین۔ اللّٰہم انی اعوذبک من علم لاینفع․
بندہ محمد عبداللہ، کراچی
جواب: میرے عزیز آپ نے سوالوں کے ساتھ جواب کی جگہ تو چھوڑی نہیں، تاہم الگ کاغذ پر آپ کے تمام سوالات کا مختصر سا جواب نمبر وار درج کیا جاتا ہے:
(۱) میرے عزیز ! یہ تو آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ اسلامی شریعت کے ماخذ چار ہیں: قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ اور ان سب کی اصل، بنیاد اورمنبع قرآن کریم ہے،اسلئے کہ قرآن کریم میں بعض احکام تو صراحتاً مذکور تھے، اور جو احکام قرآن کریم میں صراحتاً مذکور نہیں تھے، آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں ان کی وضاحت فرمادی، اسلئے حدیث بھی قرآن کریم کی شرح و تفسیر ہے، پھر جو احکام و مسائل قرآن و حدیث میں صراحتاً مذکور نہیں تھے، حضرات صحابہ کرام، ائمہ مجتہدین اور اکابر علمائے امت نے انہیں ان دو بنیادوں یعنی قرآن و حدیث کی روشنی میں مستنبط فرمایا، اور جن مسائل پر اکابر کا اجماع ہوگیا، وہ اجماعی مسائل قرار پائے، پھر جو مسائل اس کے علاوہ تھے، انہیں ان تین بنیادوں سے ماخوذ اصولوں پر قیاس کرکے معلوم کیاگیا اوراسی کا نام ”فقہ“ ہے۔ لہٰذا فقہ میں پہلے اصول اورکلیات کا درس دیاجاتا ہے، اگرچہ اس میں بیشتر جزئیات سے بھی بحث کی جاتی ہے، مگر چونکہ جدید فقہی مسائل ہردور کے الگ الگ ہوتے ہیں، لہٰذا حضرات علماء کرام نے فقہ کے اصول وضع فرماکر ہردور کے علماء کو اس قابل بنادیا کہ وہ ان اصولوں کی روشنی میں جدید فقہی مسائل کو سمجھااور پڑھاسکیں۔
اگر موجودہ دور کے جدید مسائل کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تواکابر علماء اور اربابِ دینی مدارس نے بنیادی طور پر ان کا درس دیا ہے، چنانچہ قدوری، کنز اور ہدایہ سمجھ کر پڑھ لی جائیں یا بالفاظ دیگر ہضم کرلی جائیں تو سود، جوا اور لاٹری کی تمام مروّجہ شکلیں اوران کا حکم بآسانی سمجھ میں آسکتا ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ علماء جدید مسائل کیوں نہیں پڑھاتے؟ درحقیقت فقہ اور اصول فقہ سے لاعلمی کی علامت ہے۔
قدیم مسائل پوری توضیح و تشریح سے پڑھانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ جن طلبہ و علماء کو یہ اصول سمجھ میں آجائیں گے، اُن کو ان اصولوں کی روشنی میں جدید مسائل کا سمجھنا آسان ہوجائے گا،اور جو شخص قدیم مسائل اور ان کے اصول سمجھ لے گا، اس کو جدید مسائل سمجھنا اوران کی تطبیق دینا آسان ہوجائیگا،مثلاً بیع قبل القبض، حرام اشیاء کی بیع، قسطوں کا کاروبار، بیمہ، لیزنگ وغیرہ، کونسا ایسا مسئلہ ہے جو فقہائے امت نے بیان نہیں فرمایا؟ تاہم اکابر علماء امت کے فتاویٰ اوران کی تصنیفات میں ان پر مستقل بحث کی گئی ہے، جو کسی صاحب علم و عقل پر مخفی نہیں،کوئی ایک ایسا مسئلہ بتلایا جائے جو ان اصول، قواعد اور کلیات سے ماورا ہو اوراس پر علماء نے کوئی راہنمائی نہ کی ہو؟
(۲) آپ کا ارشاد کہ: سونے، چاندی کی قیمتوں میں انتہائی تفاوت کی وجہ سے اب زکوٰة کا نصاب کیا ہونا چاہئے؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ :
دور حاضر کے مفتیان کرام اور ہندوپاک کے اربابِ تحقیق نے ان دونو ں نصابوں (سونا اور چاندی) میں سے جو سستا ہو، اس کو وجوبِ زکوٰة کے لئے معیار قرار دیا ہے، اس لئے چاندی کے نصاب پر وجوبِ زکوٰة اور وجوبِ قربانی کا حکم ہے، یہ اگر ایک طرف انفع للفقراء ہے تو وہاں احوط بھی ہے، کیونکہ اگر خدانخواستہ عند اللہ اس آدمی پر زکوٰة فرض تھی اور ہم نے اغنیاء کے نفع اور ان کی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر اس کو زکوٰة سے بری قرار دے دیا تو وہ عند اللہ مجرم ہوگا۔
پھر یہ بھی دیکھا جائے اور غور کیا جائے کہ شریعت کے احکام میں ضعفاء اور فقراء کا خیال رکھا گیا ہے، نہ کہ مالداروں اور طاقتوروں کا، گویا سونے کو نصاب قرار دینے کی صورت میں تو شاید و باید ہی کسی پر زکوٰة اور قربانی واجب ہوسکے گی، اس سے دولت کا ارتکاز ہوگا اور غرباء و فقراء محتاج تر ہوجائیں گے۔
بہرحال میں نہ تو مجتہد ہوں اورنہ ہی مفتی، البتہ اکابر اساتذہ ومفتیانِ کرام کا جدید و قدیم فتویٰ یہی ہے کہ نصاب کا معیار ان دو چیزوں میں سے وہ ہے جو سستی ہو، اور چونکہ چاندی سستی ہے، اس لئے وہی نصاب ہے، اور ایسے شخص پر جو چاندی کے نصاب کا مالک ہو، زکوٰة اور قربانی واجب ہے۔
(۳) موجودہ زمانے کے لحاظ سے عشر و خراج کا طریقہ اور زمینوں میں سے عشری و خراجی کی تعیین کے سلسلہ میں عرض ہے کہ: جہاں تک ہمارے ملک کی زمینوں کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے، چونکہ یہ معلوم نہیں کہ ان میں سے کون سی عشری اور کون سی خراجی ہے؟ اسلئے احتیاط اسی میں ہے کہ سب کو عشری قرار دے کر سب کا عشر ادا کیا جائے، اسلئے اگر زمین بارانی ہو کہ صرف ہل چلاکر بیج ڈال دینے پر فصل تیار ہوجائے تو اسکی آمدنی پر عشر ہوگا یعنی آمدنی کا دسواں حصہ دیا جائیگا اوراگراسکے اوپر پانی، کھاد اور اسپرے وغیرہ کے دوسرے اخراجات آتے ہوں تو نصف عشر یعنی آمدنی کا بیسواں حصہ بطور عشر دیا جائیگا۔
(۴) جہاں تک کاغذی نوٹ کی حیثیت کا تعلق ہے،اس سلسلہ میں عرض ہے کہ کاغذی نوٹ چونکہ عام طورپر اس سونے،چاندی کا بدل یا زرِ ضمانت ہوتے ہیں، جس کی بنیاد پر کاغذی نوٹ جاری کئے جاتے ہیں، اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ انہیں سونے کا بدل تصور کیا جائے اور ان کے عوض سونے، چاندی کی ادھار خرید و فروخت نہ کی جائے، جبکہ بعض دوسرے حضرات ان کو ثمن عرفی قرار دیتے ہیں، اس لئے اُن کے ہاں ان کاحکم زرِ ضمانت کا نہیں، لہٰذا اُن کے ہاں کاغذی نوٹوں کے عوض سونے، چاندی کی ادھار خرید و فروخت جائز ہے۔
آپ کا یہ فرمانا کہ: اس بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا، اس لئے نادرست ہے کہ میرے نزدیک یہ اضافی بحث ہے، تاہم اکابر نے اس پر مستقل تصنیفات فرمائی ہیں اور اکابر کے مطبوعہ فتاویٰ میں بھی اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ ابتدائی طلبہ کے پڑھانے کی چیز نہیں، اس لئے کہ یہ ان کی ذہنی سطح سے اونچی چیز ہے، ہاں جو طلبہ تکمیل درسِ نظامی کے بعد فقہ میں تخصص کرتے ہیں، ان کو یہ موضوع بھی پڑھایا جاتا ہے اور وہ اس سے باخبر ہوتے ہیں۔
جس طرح دنیا کے دوسرے علوم وفنون میں ابتداءً اصول وکلیات پڑھائے جاتے ہیں، اسکے بعد خاص خاص شعبوں میں تخصصات کرائے جاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح یہاں بھی وہی اصول کارفرماہے، مثلاً: جیسے ڈاکٹر بننے والوں کو پہلے ایم بی بی ایس کا کورس کرایا جاتا ہے، اسکی تکمیل کے بعد پھر طلبہ کی دلچسپی کے پیش نظر ان کے منتخب کردہ موضوعات،مثلاً: دل، دماغ، جگر، معدہ، سینہ، کان، ناک اورحلق کے امراض اوران کی جراحی کے اصول و فروع میں تخصص کرائے جاتے ہیں، اور ایسا شخص اس شعبہ کا ماہر کہلاتا ہے، بالکل اسی طرح یہاں بھی وہی انداز اپنایا جاتا ہے کہ پہلے مطلقاً فقہی اصول و مبادیات کی تعلیم دی جاتی ہے، اسکی تکمیل کے بعد طلبہ کی دلچسپی کے پیش نظر حدیث، فقہ، دعوت و ارشاد، معاشیات اور اقتصادیات میں تخصصات کرائے جاتے ہیں، اسلئے کہ جو طالب علم، نفس فقہ اوراس کے اصول و مبادیات سے نا آشنا ہو، اسکو ان مخصوص مسائل میں الجھانے سے کیا اس کا دماغ منتشر نہیں ہوگا؟
(۵) آپ کا یہ ارشاد کہ: ”تفسیر میں صرف تفسیر عثمانی پر ہی کیو ں اقتصار کیاجاتا ہے؟“ اس لئے ناقابل فہم ہے کہ تفسیر عثمانی درسِ نظامی اور وفاق المدارس کے نصاب میں شامل نہیں ہے، اگر کوئی مدرسہ یا کسی مدرسہ کا کوئی استاذ اس کو درساً پڑھاتا ہے تو یہ اس کا انفرادی عمل ہے، بہرحال مقصود تو نفس قرآن کریم کا ترجمہ و تشریح ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اساتذہ اس تفسیر سے استفادہ کرتے ہیں اور طلبہ کو بھی اس تفسیر سے استفادہ کی ترغیب دیتے ہیں، اور ایسا کرنا اس لئے مناسب ہے کہ تفسیر عثمانی کے مطالعہ سے نفس قرآن کریم سمجھ میں آجاتا ہے، لہٰذا تفسیر عثمانی کے مطالعہ کی ترغیب بھی اسی اصول کے پیش نظر ہے کہ طلبہ کو نفس قرآن کریم سمجھ میں آجائے،اور طلبہ غیرضروری طویل لاطائل ابحاث میں نہ الجھیں، پھر جب نفس قرآن کریم سمجھ میں آجائے گا اور استعداد پیدا ہوجائے گی تو دوسری طویل و مبسوط تفسیروں سے استفادہ بھی آسان ہوجائے گا۔
اگر غور کیاجائے تو تفسیر عثمانی تمام متداول اردو تفاسیر کا اختصار و خلاصہ ہے۔اربابِ علم و دانش جانتے ہیں کہ تفسیرعثمانی ”دریا بکوزہ“ کا مصداق ہے، چنانچہ جو شخص پہلے تمام متداول عربی تفاسیر کا بغور مطالعہ کرے اورپھر تفسیر عثمانی کا مطالعہ کرے تو اسے اس کی ایک،ایک سطر، بلکہ ایک، ایک حرف کے مطالعہ سے اندازہ ہوگا کہ یہاں سے کس تفسیر کے کس قول، اعتراض یا اشکال کاجواب اور مختلف تفسیری اقوال میں سے کس قول کو ترجیح دی جارہی ہے۔
اس کے علاوہ برا نہ مانیں تو درسِ نظامی میں تین سال تک قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر جلالین مکمل درساً پڑھائی جاتی ہے، جبکہ تفسیر بیضاوی کا ایک حصہ سبقاً پڑھاکر تفسیری انداز اور قرآن کریم کے علوم ومعارف سے بھی طلبہ کو روشناس کرایاجاتا ہے۔
آپ کا یہ ارشاد کہ قرآن وحدیث کی حقانیت کو سائنس سے کیوں ثابت نہیں کیا جاتا، آپ کی بچکانہ سوچ کا مظہر ہے، کیونکہ سائنس سے اگر قرآن و سنت کی حقانیت کو ثابت کیا جائے تو کیا آئے دن تبدیل ہونے والے سائنسی نظریات کی اقتداء میں قرآن و حدیث کے معانی و مفاہیم کو بھی بدلا جائے گا؟ اگر نہیں تو پھر قرآن و سنت کی حقانیت کو سائنس کی ضرورت نہیں، ہاں سائنس قرآن و سنت کے تابع اوراس کی ممد ہے اوراکابر نے اس پر کام کیا ہے، حضرت مولانا شمس الحق افغانی قدس سرہ کی کتاب ”سائنس اوراسلام“ قابل مطالعہ ہے۔
(۶) دینی مدارس میں منطق اس لئے پڑھائی جاتی ہے تاکہ انسانی دماغ کی گرہیں کھل جائیں، فکری غلطیوں سے حفاظت ہوجائے اور معاندین اسلام کے فکری مغالطوں کاجواب بآسانی دیا جاسکے، پھر چونکہ قدیم وجدید دور کے ملاحدہ عقلیت پسند ہوتے ہیں اور عقلیات کو استعمال کرتے آئے ہیں، اسلئے عقلیت پسندی کے ان مریضوں کا علاج بھی اسی صورت میں ممکن ہوگا جب علماء کو اس فن سے مناسبت یا آگاہی ہوگی۔
اس سے ہٹ کر اکابر علمائے امت کی تصنیفات میں بھی چونکہ منطق و فلسفہ کی اصطلاحات موجود ہیں، لہٰذا جو شخص اس فن سے ناواقف ہوگا، وہ دوسروں کو سمجھانے کی بجائے خود ان علوم سے استفادہ نہیں کرسکے گا، لہٰذا جس طرح قرآن و سنت کی فہم کے لئے علم صرف، نحو، معانی، بدیع، بلاغت و بیان کا جاننا ضروری ہے، اسی طرح منطق کا جاننا بھی ضروری ہے۔ دیکھاجائے تو یہ بھی قرآن و سنت اورعلوم نبوت کاخادم علم ہے، جس کی تعلیم نہایت ضروری ہے، پھر اکابر واسلاف کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو صاف نظر آئے گا کہ جن، جن اکابر نے منطق و فلسفہ پڑھا ہے، وہ اپنے، اپنے دور کے یگانہ روزگار تھے،اورانھوں نے کسی بھی میدان میں ناکامی کا منھ نہیں دیکھا،اس لئے چند سال پہلے تک ہمارے علماء اور طلبہ درسِ نظامی سے فراغت کے بعدایک سال مستقل ”تکمیل“ کے نام سے ان فنون کو پڑھتے تھے، میرے خیال میں جو طلبہ ان فنون کی افادیت و لذت سے ناآشنا ہیں، وہی ان کی مخالفت کرتے ہیں، ورنہ یہ فن فہم و تفہیم دین میں بہت ہی ممدومعاون ہے، ہاں جولوگ جس چیز سے ناآشنا ہواکرتے ہیں، وہی اس کے دشمن و مخالف ہوتے ہیں۔
(۷) نحو کے ذریعہ فعل، فاعل، مفعول، مبتداء، خبر، شرط اورجزا کا پتا چلتا ہے، اگر اس کا پتا نہ چلے تو عربی عبارت کا معنی و مفہوم ہی صحیح طورپر واضح نہیں ہوگا۔ اگر مفعول کو فاعل یا فاعل کو مفعول بنادیاجائے تو آپ اندازہ لگائیں کہ کس قدر خطرناک حد تک معنی بدل جائے گا، مثلاً قرآن کریم کی سورئہ برأة میں ہے کہ:
ترجمہ: ”بے شک اللہ اور اس کا رسول، مشرکین سے بری ہیں۔“ (برأة:۳)
اگر بالفرض کوئی نحو کا فن نہ جانتا ہو اور وہ خدانخواسہ ”وَرَسُوْلُہ“ کا عطف مشرکین پر ڈال کر اس کو مجرور یعنی وَرَسُوْلِہ پڑھے اور نعوذ باللہ! اس کا ترجمہ یہ کرے کہ: ”اللہ مشرکین سے اور اپنے رسول سے بری ہے“ تو وہ کس قدر تحریف کا مرتکب ہوگا، بلکہ قصداً ایسا پڑھنا بدترین کفر ہے،اس لئے نحو کی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے تاکہ قرآن و حدیث کو سمجھنا آسان ہوجائے۔
آپ کا یہ فرمانا کہ دس سال تک تعلیم کے باوجود عربی تکلم پر قدرت ہے، نہ انشاء پر، اس کے جواب میں عرض ہے کہ اکابر علماء نے علم صرف، نحو،ادب اورمنطق کی متداول کتب، درسِ نظامی میں اسی غرض سے شامل کی تھیں کہ ان کو پڑھ کر، بلکہ ہضم کرکے قرآن، حدیث، فقہ اور عربیت پر قدرت حاصل ہوجائے، چنانچہ بعض حضرات ان سے کما حقہ استفادہ کرکے دین و شریعت اور علوم نبوت کے علاوہ عربی بول چال پر بھی قدرت حاصل کرلیتے ہیں، جبکہ میرے اورآپ جیسے کوتاہ ہمت، بدمحنت اور ناقص استعداد لوگ اپنی کمی، کوتاہی کو چھپانے کیلئے اسپر اعتراض کرتے ہیں، اس کو فضول جانتے ہیں اوراس پر توجہ نہیں کرتے تواس کے کماحقہ ثمرات و برکات سے محروم رہتے ہیں، ورنہ ہندوپاک کے وہ اکابر،جن کی عربیت، فصاحت اور بلاغت پر دنیائے عرب سردھنتی ہے،اوران کے کلام کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے، وہ انہی دینی مدارس کے فارغ و فاضل تھے، ان میں سے حضرت مولانا بدرعالم میرٹھی، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا شبیراحمد عثمانی،حضرت مولانا اعزاز علی، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی، حضرت مولانا محمدیوسف کاندھلوی، حضرت مولانا محمدزکریا کاندھلوی، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا شمس الحق افغانی، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا موسیٰ خان روحانی بازی، مولانا عبدالرشید نعمانی، مولانا عاشق الٰہی بلندشہری،مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار، مولانا وحیدالزماں قاسمی رحمہم اللہ تعالیٰ، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا ابوبکر غازی پوری، مولانا سید ارشدمدنی، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا نور عالم خلیل امینی وغیرہ مدظلہم حضرات انہی مدارس کے پڑھے ہوئے ہیں، جن کی عربیت و عظمت کی دنیا معترف ہے۔ آپ بھی اسی شوق و لگن سے پڑھیں تو آپ بھی ان کے مقام پر پہنچ سکتے ہیں۔
کیا عصری اسکولوں میں پڑھنے والے تمام طلبہ مکمل انگلش بول سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ان پرکیوں اعتراض نہیں؟ جہاں تک عربی بول چال کا تعلق ہے، یہ ماحول اور ممارست کی محتاج ہے، آپ بھی اس کی مشق کریں تو اچھے عربی انشاء پرداز ہوجائیں گے، چنانچہ ہمارے وہ طلبہ جو عرب جامعات میں پڑھنے جاتے ہیں، کیا وہ عربی لکھتے، بولتے نہیں؟
(۸) آپ کا یہ فرمانا کہ ہمارے مدارس میں سوائے معتزلہ کے دوسرے فرق کی تردید اور تقابل ادیان پر کچھ نہیں پڑھایا جاتا، اس سلسلہ میں دیکھاجائے تو ہماری قدیم کتب میں جن فتنہ پردازوں اور ان کے فتنوں کا تذکرہ ہے،آج بھی ان کے جانشین موجود ہیں، مگر ان کے نام اور شبہات کے انداز بدل گئے ہیں، معتزلہ ”اعتزال“ سے ہے، اوراعتزال کے معنی ہیں: جمہور سے الگ راہ اختیار کرنا، لہٰذا آج بھی جو شخص فرقہ جمہور سے الگ راہ اختیار کرتا ہے وہ معتزلی ہے، معتزلہ بھی عقلیت پسند تھے اورآج بھی عقلیت پسندی کا دور دورہ ہے، لہٰذا عقلیت پسندی کی تردید آج کے دور کے عقلیت پسندوں کی تردید ہے۔
جہاں تک تقابل ادیان کا معاملہ ہے، بحمداللہ! ہمارے دینی مدارس میں اس کی بھی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے، مگر ہر شئی کا ایک موقع، محل اور وقت ہوتا ہے، ہمارے اکابر فرماتے ہیں کہ: پہلے اپنا مسلک و مذہب سیکھو، بعد میں تردید باطل سیکھو، یہ تو کوئی عقلمندی نہ ہوئی کہ اپنا دین و مذہب اور مسلک ومشرب تو معلوم نہ ہو اور دوسروں کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑنا شروع کردیاجائے، پھر تو وہی لطیفہ ہوگا جس طرح ایک جاہل نے کسی کافر کو ڈنڈا دکھاکر کہا کہ: پڑھو کلمہ، ورنہ قتل کردوں گا، جب ڈرے سہمے کافر نے کہا: کہ چلو پڑھا دو کلمہ،تو بیچارہ ڈنڈا بردار مارے شرم کے بغلیں جھانکنے لگا، اسلئے کہ خود اس کو بھی کلمہ نہیں آتا تھا، چنانچہ دل ہی دل میں کہنے لگا: اے کاش کہ ! مجھے کلمہ آتا تو آج ایک کافر مسلمان ہوجاتا۔
(۹) یہ بھی آپ کی بے توجہی ہے کہ مدارس میں دس سال پڑھنے والا شہریت، جغرافیہ اورانگریزی سے نابلد ہوتا ہے، اس لئے کہ پہلے تو دینی مدارس کا موضوع ہی دین پڑھانا ہے، نہ کہ دنیا اوراس کے علوم۔ کیا کبھی کسی اسکول وکالج کے طالب علم سے بھی سوال ہوا ہے کہ ۱۶ سال پڑھنے کے باوجود آپ کو بنیادی اسلامی عقائد اور عربی سے نا آشنائی کیوں ہے؟
جبکہ بحمد اللہ! ہمارے مدارس میں یہ دنیوی علوم اب باقاعدہ پڑھائے بھی جاتے ہیں، اس کے علاوہ دیانت داری کی بات یہ ہے کہ جو شخص دینی مدارس کے اس نصاب کو پڑھ لیتا ہے، اُسے یہ دنیوی علوم محض تھوڑی سی توجہ اور مطالعہ سے بآسانی حاصل ہوجاتے ہیں، اورایسی کئی ایک مثالیں موجود ہیں، اگر یقین نہ آئے تو راقم کئی ایک مثالیں پیش کرسکتا ہے۔
(۱۰) آپ کایہ فرمان بھی ناقابل فہم ہے کہ:
(الف) ”مدارس میں رائج اس نصاب کی وجہ سے مدارس کے فضلاء میں یہ خرابیاں ہوگئیں کہ : مدارس سے ایسا طبقہ پیدا ہواجسے معاشرہ نے قبول نہیں کیا۔“ اس لئے کہ انہی مدارس سے فارغ ہونے والے علماء نے آج تک امت کی راہنمائی کی ہے، اور ہندوپاک میں موجودہ دینی فضا اور دیانت داری کی ساری شکلیں انہیں علماء کی مرہونِ منت ہیں، ورنہ مصر اور دوسرے کئی عرب ممالک میں خود علماء دینی وضع قطع سے محروم ہیں، وہاں ستروحجاب کا تصور معدوم ہے، کافروں اور مسلمانوں کی مستورات کے لباس میں عریانی کی حد تک مماثلت ہے، آج جس طرح ہندوپاک میں علماء پر مسلمان اعتماد کرتے ہیں، دوسرے کئی عرب ممالک کے علماء اس اعتماد سے یکسر خالی ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج دینی مدارس اوران کا خالص دینی و مذہبی نصاب ابنائے کفر کی نگاہ میں کھٹکتا ہے، اگرمعاشرے نے ان کو قبول نہ کیا ہوتا تو معاشرہ ان کی تعلیمات کو کیوں اپناتا؟اور معاشرے کی یہ اچھی حالت کیونکر ہوتی؟
بحمد اللہ! ہندوپاک میں اس نصاب اورمدارس کی اس کارکردگی کا نتیجہ ہے کہ یہاں دینی مراکز قائم ہیں، خانقاہیں آباد ہیں، تبلیغی جماعت اپنا کام کررہی ہے، قادیانیوں اور دوسرے لادینی طبقات کا ناطقہ بند ہے، مساجد و مدارس آباد ہیں، لوگوں کے چہروں پر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شادابی ہے، خواتین ستروحجاب سے مزین ہیں، دینی اسکول اور حفظ قرآن کے مدارس میں لاکھوں مسلمان بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، اور بحمد اللہ! کراچی ہی میں ماہانہ ڈھائی سے تین ہزار روپے فیس دے کر مسلمان اپنے بچوں کو حفظ قرآن اور دینی و عصری تعلیم دلارہے ہیں، کیا اب بھی کہا جائے گا کہ معاشرے نے ان کو قبول نہیں کیا؟
(ب) آپ کا یہ فرمان کہ: ”مدارس دیہاتی اور چھوٹے طبقہ کے لئے محدود ہوگئے اوراہل ثروت کا مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا“ کم از کم میرے لئے ناقابل قبول ہے، اس لئے کہ بحمد اللہ! مدارس میں اب ایک تعداد ان بچوں کی ہے جو لکھ پتی نہیں، کروڑپتی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے، اگر اہل ثروت کا ان مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا ہوتا تو یہ مدارس بند نہ ہوگئے ہوتے؟ حالانکہ ان مدارس میں سے متعدد ایسے بھی ہیں جن کا سالانہ میزانیہ کروڑوں کا ہے، آخر یہ فنڈ کہاں سے آتا ہے؟ یہ اہل ثروت کے مدارس کی طرف رجحان کی دلیل ہے یا رجحان کے ختم ہونے کی؟ آپ ہی فیصلہ فرمائیں؟
پھر اگر کچھ محروم القسمت ان مدارس کی طرف توجہ نہیں کرتے یا ان کو یہ نظام ناپسند ہے، تو اس میں اس دور کے اہل ثرورت کی کیا تخصیص ہے؟ یہ طبقہ تو خود حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں بھی تھا، جو کہا کرتا تھا:
ترجمہ: ”جولوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اردگرد ہیں، ان پر خرچ نہ کرو، یہاں تک کہ تنگ آکر وہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔“ (منافقون:۷)
آپ ہی ارشاد فرمائیں کہ کیا نعوذ باللہ! یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے نظام تعلیم کے نقص کی وجہ سے تھا؟ یا ان محروم القسمت کی شقاوتِ ازلی کی بدولت؟
پھر یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ دین کا ساتھ دینے والے ہمیشہ کمزور اور نچلے طبقہ کے لوگ رہے ہیں، جبکہ اصحابِ ثروت الا ماشاء اللہ ! ہمیشہ اس کے مخالف رہے ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
ترجمہ: ”اور جب ہم نے چاہا کہ غارت کریں کسی بستی کو، حکم بھیج دیا اس کے عیش کرنے والوں کو، پھر انھوں نے نافرمانی کی اس میں، تب ثابت ہوگئی ان پر بات، پھر اکھاڑ مارا ہم نے انکو اٹھاکر۔“ (بنی اسرائیل:۱۶)
میرے عزیز! غریبوں کا دین پڑھنا یا دین کو اپنانا اورمال داروں کااس طرف توجہ نہ کرنا ان کے اپنے اختیار اور پسند و ناپسند سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ یہ انتخاب، انتخابِ الٰہی ہے، اللہ تعالیٰ دراصل یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ میں چاہوں تو کمزوروں سے اپنے دین کا کام لے سکتا ہوں اور نہ چاہوں تو حکومت و اقتدار اور ملک ومال کے مالک اصحابِ ثروت اور خاندانی شرافت سے متصف افراد کو اس سے محروم رکھ سکتا ہوں، اگر چاہوں تو کافروں کے گھرانوں سے انبیاء پیداکردوں اورنہ چاہوں تو انبیاء کی اولاد کو اس نعمت سے محروم کرسکتا ہوں۔
غور کیا جائے تو اس میں بھی حکمت الٰہی کا یہ راز پنہاں نظرآتا ہے کہ کل کلاں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ دین اسلام اسلئے پھیلا اور پھولا کہ اسکے پیچھے مال و دولت یا ملک و اقتدار کی قوت و شوکت تھی، بلکہ بتلایاگیا کہ دین و مذہب محض اللہ تعالیٰ کی حمایت و نصرت سے پھیلاکرتا ہے اوراسکی پشت پر بظاہر کوئی نہیں ہوتا۔
لہٰذا اس انتخابِ الٰہی پر جہاں دین اور علم دین سے دور، اصحابِ ثرورت کو اپنی محرومی پر افسوس کرنا چاہئے، وہاں دین دار غریبوں کو بارگاہِ الٰہی میں سراپا تشکر و امتنان ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دین کے باغ کی باغبانی کے لئے منتخب فرمالیا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک اپنے اس دین کے باغ کے لئے پودے لگاتے رہیں گے، جو اس باغ کی سرسبزی و شادابی اوراس کی حفاظت وصیانت کے اعلیٰ مقصد کو پروان چڑھاتے رہیں گے، جیساکہ ابن ماجہ میں ہے:
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ (قیامت تک) اس دین کیلئے پودے لگاتے رہیں گے اورانہیں اپنی طاعت کے کاموں میں استعمال فرماتے رہیں گے۔“ (ابن ماجہ،ص:۳)
(ج) آپ کا یہ ارشاد کہ: ”علماء کے اندر سے تحقیقی کام کا ذوق ختم ہوتا چلاگیا۔“ اگرچہ منجملہ آپ کی بات درست ہے کہ اب پہلے کا سا ذوق علماء کے اندر بھی نہیں رہا، اور جیسی محنت و جدوجہد اور خلوص و اخلاص ہونا چاہئے تھا، اب ویسا نہیں ہے، لیکن اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ اب علماء سرے سے کام ہی نہیں کررہے ، کیونکہ بحمد اللہ! اب بھی علماء حسب استعداد اور حسب ضرورت اپنی، اپنی بساط کے مطابق کام کررہے ہیں، اگر یہ علماء اپنا کام چھوڑچکے ہوتے تو پوری دنیا کا کفر اُن کا مخالف نہ ہوتا، کیونکہ لڑائی اور جنگ وہاں ہوتی ہے جہاں کسی سے اپنے مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیائے کفر کو مسلم علماء کی مساعی اور کاوشوں سے اپنے مفادات کو نقصان پہنچنے کا شدید اندیشہ ہے، اسکی ایک مثال افغانستان پرپہلے روس اوراس کے بعدامریکا کی یلغار ہے، اسی طرح عراق، شام، لبنان وغیرہ،اسکے علاوہ پوری دنیا میں علماء کو ”دہشت گرد’ مذہبی جنونی“ وغیرہ کے القابات اسلئے دئے جاتے ہیں کہ علماء امت دنیائے کفر کی ہاں میں ہاں ملانے کو تیار نہیں۔
جہاں تک تحقیقی کام کا تعلق ہے، تو سو نقائص کے باوجود آج بھی علماء مختلف شکلوں اور مختلف عنوانات پر تحقیقی کام کررہے ہیں، چنانچہ ہندوپاک میں ایسی کئی ایک اکیڈمیاں اور ادارے وجود میں آچکے ہیں جو مسائل حاضرہ پر غور وفکر کرکے امت کی راہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، مثلاً: مولانا مجاہدالاسلام قاسمی، مولانا محمد تقی عثمانی،مولانا سید اسعد مدنی، مولانا مفتی نظام الدین شامزی، مولانا سید نصیب علی شاہ وغیرہ ایسے کئی حضرات ہیں جنھوں نے مختلف سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کرکے امت کو اس طرف متوجہ کیا اور جدید خطوط پر کام کرنے کی دعوت دی،اوراس سلسلہ کا جدید تحقیقی کام مختلف کتابوں کی شکل میں منظر عام پر آچکا ہے، جبکہ ”مجلس مسائل حاضرہ“ کے عنوان سے آپ کے کراچی میں مستقل ایک عنوان ہے، جس کے تحت علماء اہل حق باہمی مشاورت سے جدید وگھمبیر مسائل پر امت کی راہنمائی کافریضہ انجام دیتے آئے ہیں، اس کے علاوہ اگر کسی عنوان پر تحقیقی کام کی ضرورت ہے اور علماء اس سے غافل ہیں تو اس کی نشان دہی کی جائے۔
(د) آپ کے ارشاد کہ: ”علماء محدود ذہن کے ہوگئے“ کا اگر یہ معنی ہے کہ علماء ہر وقت دین ومذہب کی بات کرتے ہیں، اس کے علاوہ، وہ کوئی سوچ نہیں رکھتے، تو آپ کا ارشاد بالکل بجا ہے، کیونکہ ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص جس عنوان پر محنت کرے گا، اس کے ذہن میں ہروقت اسی کے تانے بانے ہوں گے، مثلاً : جیسے وکالت پڑھنے والا ہمیشہ وکالت کے بارہ میں سوچے گا، ڈاکٹر اپنی طب اورجراحت سے متلق سوچے گا، لیکن اگراس کایہ معنی ہے کہ علماء جمود پسند ہیں اورمسائل حاضرہ یا بین الاقوامی امور پر نہیں سوچتے، تو آپ کا ارشاد حالات، واقعات اورمشاہدات کی رو سے بداہتاً غلط ہے، کیونکہ ایسے کسی عالم دین کا نام نہیں بتلایا جاسکتا جو حالاتِ حاضرہ یا امت کی حالت زار سے بے خبر ہو، یا اس کے لئے فکرمند نہ ہو، یا اس کے سدباب کے لئے عملاً متحرک نہ ہو، یہ دوسری بات ہے کہ کسی کی حرکت نظر آتی ہے اورکسی کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے۔
(ھ) جہاں تک حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب مدظلہ کے مکتوب کا تعلق ہے،اس میں انھوں نے مدارس کے طریقہ کار اور نصاب پر کوئی اشکال نہیں فرمایا، بلکہ انھوں نے اربابِ مدارس اور علماء کرام کو طلبہ کی ذہنی، فکری استعداد اور عملی قوت میں اضافہ اور نکھار پیدا کرنے کیلئے فرمایا ہے کہ طلبہ کو ان امور کی طرف توجہ دلائی جائے تاکہ ان سے افادہ اور استفادہ زیادہ سے زیادہ ہوسکے۔
ان کے مکتوب کی غرض یہ ہے کہ اگر ان طلبہ کی ان خطوط پر تربیت کی جائے تو وہ دوسرے میدانوں میں جانے کی بجائے مدارس،مکاتب میں تدریس کے علاوہ اصلاحِ امت کی غرض سے تبلیغی جماعتوں کے ساتھ چلنے اور نکلنے کو اپنی ضرورت سمجھیں گے، توامت کو زیادہ نفع ہوگا۔
جبکہ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ دینی مدارس سے فارغ ہونے والے ذی استعداد افراد، دوسرے میدانوں میں کھپ جاتے ہیں،کوئی اسکول و کالج میں چلاجاتا ہے، تو کوئی فوج وعدلیہ کا رخ کرتا ہے،کوئی تجارت کو اپنا پیشہ بنالیتا ہے، تو کوئی بیرون ملک چلاجاتا ہے، یوں ہماری محنت کاپھل اور ثمرہ دوسرے لوگ کھاتے ہیں اور ہماری محنت کا ثمرہ ہمیں کم اور دوسروں کو زیادہ ملتا ہے، گویا ان کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا خام مال اغیار کی بھٹیوں کا ایندھن نہ بنے، بلکہ ان میں کا ہر فرد مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمدگنگوہی، شیخ الہند مولانا محمودحسن، حکیم الامت مولانا محمداشرف علی تھانوی، شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی، مولانامحمد الیاس کاندھلوی، مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہم اللہ تعالیٰ کا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا جانشین بن کر مدرسہ صُفّہ کے نظام کو چلانے والا بن جائے۔
برادر عزیز! یہ بھی شیطانی حربہ اور چال ہے کہ وہ طلبہ عزیز کے دلوں میں ایسے وساوس و شبہات ڈال کر دراصل انہیں اسلاف سے بدظن کرکے ان علوم سے محروم کرنا چاہتا ہے، چونکہ شیطان براہ راست تو طلبہ کو ان علوم کی تحصیل سے نہیں روک سکتا، اس لئے وہ ان علوم کو بے مقصد، لایعنی، عبث اور فضول قرار دے کرطلبہ کو ان کی تعلیم سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جن طلبہ کے دل و دماغ میں ان علوم یا کتب کی اہمیت نہیں ہوتی، وہ ان میں محنت بھی نہیں کرتے،اور وہ مسلسل ناکام ہونے کی وجہ سے غبی اور بداستعداد ہوجاتے ہیں اور رفتہ رفتہ مدارس سے ان کا جی بھرجاتا ہے، پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ دینی مدارس سے نکل کر دنیائے دنی کے پیچھے مارے مارے پھرتے ہیں۔
شیطان جانتا ہے کہ ایک عالم اس پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے، اس لئے وہ طلبہ کو علوم نبوت سے محروم رکھنے کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے، چنانچہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نوراللہ مرقدہ ”آپ بیتی“ میں اپنے زمانہ طالب علمی کے ایک سبق آموز واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
”اس نابکار (حضرت شیخ الحدیث) کو بزرگی کا جوش ہوا اور مغرب کے بعد حضرت گنگوہی قدس سرہ کے حجرے کے سامنے لمبی نفلوں کی نیت باندھ لی، اباجان نے آکر ایک زور سے تھپڑ مارا اور یہ فرمایا کہ: ”سبق یاد نہیں کیاجاتا۔“ میرے چچا جان (حضرت مولانا محمد الیاس) رحمة اللہ علیہ اس زمانے میں بڑی لمبی نفلیں پڑھا کرتے تھے، بعد مغرب سے عشاء کی اذان کے قریب فارغ ہوا کرتے تھے، لیکن والد صاحب کے یہاں مختصر سی نوافل کے بعد تعلیم کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ اس وقت تو مجھے بہت غصہ آیا، کہ خود تو پڑھی نہیں جاتی، دوسرے کو بھی پڑھنے نہیں دیتے، مگر جلد ہی سمجھ میںآ گیا کہ بات صحیح تھی، وہ نفلیں بھی شیطانی حربہ علم سے روکنے کے واسطے تھا، اس لئے کہ جب نفلیں پڑھنے کا دور آیا، اب نفس بہانے ڈھونڈتا ہے۔“ (آپ بیتی، جلد اوّل،ص:۲۰)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و سنت، علوم نبوت، فقہ وحدیث اور دین و شریعت کا سچا پیروکار اوراپنے اسلاف و اکابر کا صحیح جانشین بنائے اور نفس و شیطان کے مکرو فریب سے محفوظ فرمائے۔
وصلی اللّٰہ تعالی علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین․

درسِ نظامی پر اشکالات کا جواب ... از: مولانا سعید احمد جلال پوری
http://darululoom-deoband.com/urdu/articles/index.php?content=featured&display=detail&id=367

Pakistan’s Quagmire پاکستان - امن اور ترقی کا راستہ کیسے ؟



آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں. ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے. آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
Pakistan is in a state of turmoil, in order to get out of this quagmire some basic issues need to be settled. Ideologically the Pakistani society can be divided in to three main groups: <<Click to read in English as webDoc>>

پاکستان کی ترقی ، خوشحالی اور امن کے لییے کچھ بنیادی معاملات طے کرنا ضروری ھیں. اس وقت پاکستانی سوسائٹی ، معاشره فکری طورپرتین بڑے حصوں تقسیم ہو چکا ہے 

ایک طرف  اشرافیہ , لبرل طبقہ ہے جو مذہب کوہر شخص کا ذاتی معاملہ سمجھتا ہے،ان کے مطابق مذہب، اسلام کا  قانون، سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں . مذہیب عبادت گاہوں تک محدود ہو.کچھ معتدل لوگ اقلیت میں  ہیں. یہ  اشرافیہ لبرل طبقہ  اگر چہ تعداد میں قلیل ہے مگربہت طاقتور ہے .اشرافیہ کل آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر پورے یه پاکستان کی پچاس فیصد سے زیادہ دولت پر قابض ہیں. ٩٩ فیصد پاکستانی ٥٠٠ ڈالر اوسط سالانہ آمدنی  پرغربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں.   حکومت ،معشیت،جاگیریں، کاروبار، بیورو کریسی، فوج، سیاست دان، میڈیا سب  کچھ ان کے قبضہ  اور کنٹرول میں ہے. ان میں کچھ لوگ راے  عامہ ھموار کرنے کے لیے مذہب اسلام کا نام استمال کرتے ہیں. یہ صرف دکھا وہ ہے. طاقت اور پیسے کے زور پر یہ مخالف کوکچل دیتے ہیں 
یہاں اشرافیہ سے مراد ان کے ھمدرد ، فائدہ اٹھانے والے مدد گار اور دوسرے طبقات کے امیدوار بھی شامل ہیں 
کسی صورت میں یہ طاقت چھوڑنے کو تیار نہیں ، یہ مختلف بھیس بدل کر پاور میں رہتے ہیں
ان میں کچھ شدت پسند لوگ بھی ہیں جو مذھبی یا مذہب کی طرف مائل لوگوں کوچاہے وہ معتدل مزاج ہوں، ان کو  جاہل، دقیانوسی ، کم عقل، قابل  نفرت سمجھتے ہیں. ان کے خیال میں تمام مصیبتوں کی بنیاد مذہب اور مذھبی لوگ ہیں. ان کو لبرل فاشسٹ بھی کہا جا سکتا ہے
مذہب سے ان کی نفرت کی دو بڑی ممکنہ وجوھات ہو سکتی ھیں. اول: مغربی ترقی اور ثقافت سے مرعوب. دوئم: مذہبی لوگوں کی قدامت پسندی، جدید دنیا وی ترقی،سائنس ٹیکنالوجی سے بیزاری، صرف عبادات پر ترجیح، مکالمہ کی بجاے اپنی مخصوص فکراور نکتہ نظرکو مذہب کی آڑ میں دوسروں پر زبردستی نافذ کرنے کی کوشس اور اس میں شدت پسندی، دہشت گردی کے استعمال کو جائز سمجھنا. اگر چہ مذہبی لوگوں کی اکثریت معتدل مزاج اور امن پسند ھے


 دوسری طرف خاموش اکثریت ہے

 "اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔" - قرآن ٢:١٤٣ 

اکثریت اسلام کو مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے تمام جگہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں . اور اس کو قیام پاکستان کا مقصد سمجھتے ہیں
ان میں بہت سے امن پسند  معتدل علماء اکرام اور سوسائٹی کے تمام  طبقات کے معتدل  لوگ شامل ہیں. جو دہشت گردی کے خلاف ہیں بہت سے اپنی زندگی اس نیک مقصد میں قربان کر کہ شہید ہو گئے . مگر ان کی آواز دہشت گردی اور لبرل لوگوں کے درمیان گم جاتی ہے . کیوں کہ وہ انصاف اور عوام کے استحصال کے بھی خلاف حق کی آواز بلند کرتے ہیں 

 عوام اسلام سے جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں اور مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں مگر عام طور پر ذاتی زندگی میں اسلام کی اعلی  اقدار سے دور ہیں . جھوٹ دھوکہ ، نا انصافی ،کرپتشن کا دور دورہ ہے. شریعت کا نفاذ اپنے پر نہیں کرتے مگر دوسروں پر نافذ کرنا چاہتے ہیں. عبادات پر زور ہے مگر حقوق العباد پس پشت ہیں. ان کا مسلہ معاشی اور معاشرتی انصاف اور امن ہے جو اسلامی نظام کے زریعے حاصل کرنے کی امید کر سکتے ہیں.


تیسری تعارف اسلامی شدت پسند دہشت گرد اور ان کے خاموش ہمدرد 

   عوام کی  اکثریت شدت پسندی کے بجاے پر امن طریقے سے 
شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں . جبکہ کچھ شدت پسند لوگ اور گروہ جیسے طالبان ، طاقت کے زور پر اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں . اس کے لیے وھ دہشت گردی اور قتل و غارت کو جائزاسلامی طریقہ سمجھتے ہیں . اس سے تمام قابل زکر علماء اوراکثرمذہبی جماعتیں بظاھر اختلاف  کرتے ہیں . مگر خاموشی سے اںدورن خانہ ان کے حمایت کرتے  معلوم ہوتے ہیں


 امام مسجد , خطیب صاحبان کا سوسائٹی میں بہت اثر ہے . جمعہ کے خطبات ور مذھبی اجتما ع میں وھ جو چاہیں تقریر کریں . کسی کی جرات نہیں کہ اختلاف  کر سکے.اکثر خطیب صاحبان دہشت گردوں کی خاموش حمایت کرتے معلوم ہوتے ہیں ان کی مذمت نہیں کرتے ، گول مول بات کرتے ہیں. شائد ان کا
 خیال ھوکہ اس طرح وہ بھی  پاور گیم کا حصہ بن جایں گے

 تمام حکمران فوجی یا سول جمہوری, عوام کے استحصال میں ملوث ہیں ، کرپشن نا انصافی نے عوام کو بدحال کر دیا ہے . وہ امید سے ہر ایسے لوگوں کے پیچھے چلنے کو تیار ہیں جو ان کو انصاف خوشحالی کی امید دکھاتا ہے . مذہبی شدت پسند لوگوں کو وہ ردعمل میں امید لگاتے ہیں . جیسے پرانے لوگ کہتے ہیں کیہ انگریز کا دور اچھا تھا قانون کی حکمرانی تھی وغیرہ وغیرہ . مذہبی لوگ اپنے آپ کو اس لیڈرشپ کے خلا کو پر کرنے کا اهل سمجھتے ہیں. پاور طاقت کا اپنا مزہ ہوتا ہے . ان میں کم لوگ ادراک رکھتے ہیں. کچھ نیک نیت ہیں مگر یہ ان کے بس کا کام نہیں

سوسائٹی فکری طور پر  تقسیم ہو چکی ہے
ایسے حالات میں ضروری ہے کہ کنفیوژن کو دور کیا جائے تاکہ اکثریت ایک نقطہ  نظر پر متفق ہو  جائے. اور پھر تمام توانایوں کو مرکوز کرکہ عظیم مقاصد ، امن . خوشحالی . ترقی کی طرف رواں دواں ہوں
یاد رھے کہ الله تعالیٰ نے مسلمانوں کو تین اقسام میں تقسیم فرمایا ہے: 

ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم  مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ سورة فاطر٣٢ 

پھر ہم نے اس کتاب (قرآن) کا وارث ایسے لوگوں کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چُن لیا (یعنی امّتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو)، سو ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے درمیان میں رہنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے اﷲ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والے بھی ہیں، یہی (آگے نکل کر کامل ہو جانا ہی) بڑا فضل ہے،  
 اگر ہم کچھ بنیادی سوالات کا جواب موجودہ تناظرمیں قرآن سنت کی  روشنی میں معلوم کر لیں. ان پر قومی مباحثہ ہو جس میںآپ, میڈیا ، دانشور ، مذہبی سکالرز علماء ، سیاسی مفکرین ، سول سوسائٹی ، فوجی ماہرین ،  قانون ، خارجہ امور کے ماہرین اور تمام دوسرے متعلقہ ماہرین  اور عوام حصہ لیں . پھر جس پر سب یا اکثریت متفق ہو ان پر پھر ڈٹ کرعمل کریں تو پاکستان ایک ترقی یافتہ باعزت ملک، قوم  بن سکتا ہے  اور کچھ نہیں تو کم از کم عوام میں ایک فکری،  شعوری آگاہی پیدا ہو جائے گی . عوام دھوکہ سے بچ جائیں گے 
کچھ سوالات بظاھر معمولی معلوم ہوتے ہیں مگر گہرے اثرات رکھتے ہیں. 

 :بنیادی مکالمہ کےسوال درج ذیل ہیں 
انسان کا کیا مقصد حیات ہے؟
پاکستان بنانے کا مقصد ؟
. متفقہ آیین پاکستان  جو الله کی حاکمیت اعلی کا اقرار کرتا ہے اور  قرآن سنت کو اول قرار دے, کیا  اس کا مکمل انکار درست ہے ؟ 
کیا اسلامی جمہوریت  جس میں حاکمیت الله کی اور قانون شریعت  کا ہو غیر اسلامی ہے ؟
خلافت میں اگر خلیفہ منتخب ہو گا تو پھر اسلامی جمہوریت میں کیا فرق ہے ؟  
آیین فقط قرار داد مقاصد شامل کرنے سے اسلامی نہیں بنتا اس پر عمل درآمد بھی ہو؟
اسلامی نظریاتی کونسل فقط ایک  سفارشی ادارہ ہے . اس کی تشکیل نو اور اختیارات بھی ہونا چاہے ؟
 اگر موجودہ آیین اور جمہوریت اسلامی نہیں تو متبادل نظام کیا ہے؟ اس کو جمہوری طریقے سے نافذ کریں گے یا ڈکٹیٹر شپ سے ، کیا یہ سب کو قبول ہو گا ؟ 
عام حالات میں اشرافیہ کواگر ختم نہیں تو کم از کم مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ عوامی امنگوں کا خیال کرتے ہوۓ امن، خوشحالی اور ترقی کے اقدام اٹھاے. جب اس کو معلوم ہو کہ اس میں اشرافیہ کی اپنی سروائیول اور ان کا اپنا بھی فائدہ ہے تو وہ کچھ گنجائش دے گی. دہشت گرد اس میں کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں.  اسے کیا اقدام کئے جائیں جو اشرافیہ کوعوام کے فائدہ میں رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرے؟ 
 آیین کے مطابق جمہوری طریقے سے حکومت شوری پارلیمنٹ کا انتخاب سیکشن 62 ، 63 کے سختی سے نفاذ سے قبول ہے  یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس ؟
پاکستان میں نفاذ شریعت کی تعریف اجماع جمہور کے مذہب اسلام  کی ہو گی یا اقلیت شیعہ ، دیوبندی، اہل  حدیث ، تکفیری ، خوارج ، کے مطابق ؟
  اسلامی ریاست میں  چند افراد کے نظریے کی شریعت کے نفاذ کے نام پر بغاوت اور جنگ قتال جائز ہے ؟
 کیا اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کے بعد "دار-الحرب " اور "دارلسلام "  کا قدیم اجتہادی نظریہ ختم ہو کر دنیا اب "دار-الامن " ہے علاوہ ان علاقوں کے جن پر دوسرے لوگ  قابض ہیں؟
 کسی تبدیلی کی صورت میں حکومت پاکستان کے ماضی میں کئے گیے بین الاقوامی میثاق اور معاہدوں کی پاسداری کی کیا اہمیت اور سٹیٹس ہوگا ؟
کیا  حکومت پاکستان دنیا میں مسلم مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لیے یا کسی اور وجہ سے اخلاقی ، مالی امداد یا جہاد  قتال  کا  فیصلہ کرے گی، یا گروہ ، افراد یا علماء کریں گے یا حکومت سب کے مشورے سے کرے گی ؟ اسی صورت میں بین الاقوامی معاہد و ن کی کییا حیثیت ہو گی ؟ 
غیر مسلمان اقوام سے عام تعلقات  ،تعلیمی . جدید ٹیکنالوجی کا حصول ، تبلیغی، اسلامی دعوت , تجارتی اور دفاعی معاہدے، جدید اسلحہ کا حصول اپنے فائدے کے لیے  ممنوع ہے یا جائز ؟
کیا بین الاقوامی سرحدوں کا احترم ہو گا یا ساری زمین الله کی ہے کوئی سرحد نہیں ہو گی ؟
کیا پاکستان ساری دنیا سے جنگ کرے گا اور تباہ و برباد ہو جائے گا ؟
حکومت پاکستان موجودہ نواز شریف  اور سابقہ حکمران  مشرف،  زرداری تمام امریکہ کی پٹھو  ہیں جوامریکا کی غلام ہیں . وہ سب اس کا انکار کرتے ہیں . اس دعوے کی حقیقت کیسے معلوم ہو گی ؟
 کیا حکومت  کے خلاف اس قسم کے الزمات پر بغاوت جائز ہے ؟
کیا جو  عوام بغاوت نہیں کرتے وہ کیا حکومت کے ساتھی ہیں ، مرتد ہیں سب واجب قتل ہیں ، اور جہنمی ہیں . ان کو مارنا ثواب ہے ؟
 انسانی حقوق کیا ہیں ؟ یا انسانی حقوق وہ ہیں جو حکومت وقت دے ؟
کیا پاکستان میں غیر مسلمانوں کے لیے جگہ نہیں اور یہ سب واجب قتل ہیں ؟
کفار ملکوں میں مسلمانوں پر جوابا " ظلم کا کون ذمہ دار ہوگا ؟
پاکستان میں غیر مسلم اقلیت  کے برابر حقوق "میثاق مدینہ" اور آیین کے مطابق  یا کچھ اور ؟
ا قلیت کی مذہبی آزادی، عبادت کا حق اور چرچ ، مندر گردواروں کی حفاظت یا تباہی ؟
 اختلاف رائے کا حق ہو گا . ظالم حکمران کیسے تبدیل کیا جا سکے گا ؟
ریاست میں گروہ ، جتھوں اور پرائیویٹ ملیشیا  کی تشکیل کی اجازت ہو گی ؟ ان کو کنٹرول کون کرے گا ؟
 کیا امر با المعروف نہی عن المنکر ، (نیکی کی ترغیب اور برائی سے اجتناب ) کے لیے حکومت ، افراد، مذہبی اور سوشل تنظیموں کے طریقہ کار اور دائرہ اختیار کو طے کرنے کی ضرورت ہے؟
سماجی اوراخلاقی برایوں نے معاشرے کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کر دیا ہے. اس ضمن میں حکومت، افراد اورمذہبی اور سوشل تنظیموں کی کوششوں میں ربط کی ضرورت اور طریقہ کار؟   
کیا دینی مذہبی تعلیم پر حکومت کا کسی حد تک کنٹرول ہو؟  نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جانے . مدارس کے طلبا دین کے ساتھ دنیاوی ، سائنس کی تعلیم حاصل کریں  مزید امام مسجد کے علاوہ دوسرے کام حصول روزگار کے لیے کر سکیں؟
کیا عوام کا دشت گردی خودکش حملوں سے قتال جائز ہے؟   
فوج، پولیس اور دوسرے قومی دفاعی ادارے اور ان کے افراد مساجد ، گرجوں عوامی اجتماع کی جگہوں پر  طالبان کے خود کش حملوں اور دہشت گردی کو روکیں یا نہیں؟
عوام کی جان اور پراپرٹی کی حفاظت کون کرے گا؟ 

اہل علم ، دانشور حضرات اور تمام عوام الناس سے قرآن ، سنّت ، تاریخی حقائق  اورموجودہ حالات کے تناظر میں  رہنمائی کی  درخواست ہے . اس پیغام کو پھیلائیں تاکہ ایک قومی مکالمے کا آغاز ہو . ہم مل کر ان مسائل کا حل پا سکیں . اور کچھ نہیں تو کم از کم عوام میں ایک فکری،  شعوری آگاہی پیدا ہو جائے گی . عوام دھوکہ سے بچ جائیں گے .
آپ جو کوئی بھی ہیں جہاں بھی ہیں ان  اہم سوالات کے جواب درج ذیل لنکس اور دوسرے علمی ذریے سے معلوم کریں. ان کا آزادانہ تجزیہ کریں اور اپنے اردگرد حلقہ احباب کو بتاییں ، ان سے ڈسکسس کریں. اس طرح لوگوں کو گمراہ ہونے سے بچائیں. دین اسلام کے نام پر دھوکے کی سیاست اور دہشت کرنے والوں کی شیطانی چالوں سے خود بچیں اور دوسروں کو  بھی بچائیں. اس طرح کم از کم  آپ نے اپنا مذھبی اور انسانی فرض ادا کردیا
مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا
جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا،  اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا - قرآن ٤:٨٥
 الله ہماری مدد فرماے  . آمین 


غلطیوں سے درگزر کریں ، گوگل سے ٹائپ کیا
https://www.facebook.com/aftabkhaan 
http://aftabkhan.blog.com
.. http://t.co/H3Ot5U4uDx

  مزید مطالعہ کریں
پاکستان بچاؤ Save Pakistan & Save Pak Army 

Save Pak FB

FrontPage صفحہ اول WakeUp Pakistan! جاگو پاکستان

پاکستان آزادی سے اب تک : کیا کھویا ، کیا پایا؟

Pakistan’s Quagmire پاکستان - امن اور ترقی کا راستہ

Rise and fall of Nations – Law of Quran
 قرآن کا قانون عروج و زوال اقوام


 مسلم وعلماء کے نام کھلا خط :
  1. Short Web link: http://goo.gl/xNolSV  
  2. Google Document: https://goo.gl/xAtokS

Following links will help to find answers to most of issues raised above:
  1. https://dl.dropboxusercontent.com/u/12798195/FreeBooks/PakistanQuagmare.htm
  2. https://docs.google.com/document/d/1nVCHvCIZiTj3Ndknh-KduN40M4LvinosfituBXQoflA/edit?usp=sharing
  3. http://freebookpark.blogspot.com/2012/06/creation.html
  4. http://pakistan-posts.blogspot.com/p/why-pakistan.html
  5. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/04/shariah-or-democracy-conflict-or.html
  6. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/04/blog-post.html
  7. http://pakistan-posts.blogspot.com/2012/09/objectives-resolution-supremacy-of.html
  8. http://pakistan-posts.blogspot.com/2011/06/political-reforms-for-stable-democracy.html
  9. http://faithforum.wordpress.com/jihad-myth-and-reality/
  10. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/illogical-logic-of-takfiri-taliban-to.html
  11. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/10/blog-post.html
  12. http://pakistan-posts.blogspot.com/2012/09/objectives-resolution-supremacy-of.html
  13. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/the-dreadful-doctrine-of-terror-takfeer.html
  14. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/09/rebellion-by-khawarij-takfiri-taliban_440.html
  15. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/learning-science-in-islam.html
  16. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/refutation-of-takfirirs-form-quran.html
  17. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/11/pakistan-basic-issues-need-immediate.html
  18. Ideology of Pakistan - Fact or Fiction - An Analysis - نظریہ پاکستان - حقیقت یا افسانہ: تجزیہ 
  19. Caliphate: Relevant or Redundant: http://goo.gl/245yB  
  20. Islamic Society & Culture:https://t.co/HNUuOUuK  
  21. Islam: A General Introduction: By Sheikh Ali Tantawi
  22. Urdu Translation: "Islam: A General Introduction: By Sheikh Ali Tantawi"

Revising Education Syllabus نصابِ تعلیم کی تشکیلِ نو


ایک اچھا فیصلہ، خدشہ ہے کہ عجلت پسندی کی نذر ہو جا ئے گا , نصاب کی تشکیلِ نوجس مشاورت اورغور وفکر کی متقاضی ہے،اس کے لیے دو ماہ کافی نہیں۔کابینہ میں بیٹھے احسن اقبال تو یہ بات جا نتے تھے۔کیا انہوں نے وزیر اعظم کو بتا یا نہیں؟پھر یہ کہ اس کام کی راہ میں چند قانونی اور سماجی رکاوٹیں بھی ہیں۔اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد،تعلیم اب صوبائی مسئلہ ہے۔نصاب سازی، اسلامی تعلیم،تعلیمی منصوبہ بندی ،یہ اب صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ مزید یہ کہ،پاکستان میں اس وقت ایک نہیں، کئی نظام ہائے تعلیم رائج ہیں۔اس تنوع کو کسی ہم آہنگی میں تبدیل کیے بغیربھی کوئی قدم نتیجہ خیز نہیں ہو گا۔اچھا ہو تا اگر کوئی فرمان جاری کر نے سے پہلے، اس مسئلے پرماہرین سے مشاورت کرلی جاتی۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے ہیں۔اب وہ صوبوں کو مشورہ دے سکتا ہے یا کسی ہم آہنگی کے لیے معاونت کر سکتا ہے،حکم نہیں دے سکتا۔اس ترمیم میں سب مذہبی وسیاسی جماعتیں شریک تھیں۔ مذہبی تعلیم میں پہلے ہی ریاست کا کوئی عمل دخل نہیں۔ان کے اپنے وفاق ہیں اور اپنے نصاب۔وزیراعظم اس اقدام سے جونتیجہ نکالنا چاہتے ہیں، وہ ممکن نہیں جب تک مذہبی تعلیم بھی نئے خطوط پر استوار نہ ہو۔ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔سول سوسائٹی کے چند ادارے بھی اس باب میں متحرک ہیں۔ان کی رسائی نجی تعلیمی اداروں تک ہے جو دینی مدارس کی طرح ریاست سے بے نیاز ہیں۔اس پراگندگی میں،اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ وزیر اعظم کا خواب تعبیر آ شناہو ۔اس کی نتیجہ خیزی کے لیے، ضروری ہے کہ ان حقیقتوں کے اعتراف کے ساتھ کوئی حکمتِ عملی اختیار کی جا ئے۔
کے پی میں جو تنازع کھڑا ہوا، وہ ایک صوبے کا مسئلہ نہیں ہے۔اگر کسی اور صوبے میں نصاب کو اس طرح تبدیل کیا جا تا توبھی ردِ عمل یہی ہو نا تھا۔پاکستان میں مو جود نظری تقسیم جس طرح عصبیت میں ڈھل چکی، اس کے بعدکسی اتفاقِ رائے کی تو قع رکھنا مشکل ہے۔اختلاف کایہ دائرہ تین سوالات پر محیط ہے:
1۔ مذہبی تعلیمات کو کیا عمومی نصاب کا حصہ ہو نا چاہیے؟اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو اس پر مذہبی اقلیتوں کو اعتراض ہے۔ہمارے نصاب میں مذہبی تعلیمات پر مشتمل ابواب میں عام طور پر ایجابی کے بجائے سلبی انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ایجابی انداز یہ ہے کہ ہم اسلام کی مثبت تعلیمات کو نمایاں کریں۔سلبی انداز یہ ہے کہ دوسرے ادیان کی نفی کی اساس پر اپنا مقدمہ قائم کریں۔اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ تحقیراور عداوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں جو پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔اس کا دوسرا پہلوبھی ہے۔آئین ریاست کو اس بات کا پابند بنا تا ہے کہ وہ سماج کی اسلامی تشکیل اور تشخص کے لیے اقدام کرے۔اس کے لیے تعلیم کی اسلامی تشکیل بدرجہ اتم ضروری ہے۔اب اس تضاد کو کیسے دور کیا جا ئے؟
2۔ ہماری تاریخ کب سے شروع ہوتی ہے؟محمد بن قاسم کی آمد سے یا 'ہمارا‘ وجود اس سے پہلے بھی ثابت ہے؟اس سوال کا تعلق شناخت کے بنیادی مسئلے سے ہے۔اگر ہم اجتماعی طور پر اپنی مسلم شناخت پر اصرار کرتے ہیں توپھر اس کا آغاز محمد بن قاسم سے ہو تا ہے۔اگرہماری شناخت ہندی ہے تو پھر ظاہر ہے کہ ہندوستان کی تاریخ کہیں زیادہ قدیم ہے۔مسئلہ وہی قدیم ہے:قومیت کی اساس نظریہ ہے یا وطن؟ہمیں تسلیم کر نا چاہیے کہ پاکستان کو نظریاتی ریاست تسلیم کرنے کے بعدہم اسے بیسویں صدی میں فروغ پانے والے قومی ریاست کے تصور سے ہم آہنگ بنا نے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔نظریاتی شناخت پر اصراراقلیتوں میں بھی بے چینی کی لہر دوڑا دیتا ہے۔وہ پھر قائد اعظم کی 11اگست کی تقریر میں پناہ تلاش کر تے ہیں۔اکثریت اس تقریر کو قائد اعظم کی اجتماعی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنے پر اصرار کرتی ہے۔ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کے خطاب کو کسی عوامی اجتماع کی تقریر پر قیاس نہیںکیا جا سکتا۔اس کی سنجیدگی متقاضی ہے کہ اسے دستور اور اجتماعی شناخت کے حوالے سے دیکھا جائے۔یہ گروہ اس مقدمے کے حق میں قائد اعظم کے بعض عملی اقدامات کاذکر کرتا ہے جن میں اہم وزارتوں پر غیر مسلموں کاتقرر بھی شامل ہے۔اس کا اب ایک جواب یہ آیا ہے کہ قائداعظم نے کوئی ایسی تقریر کی ہی نہیں۔ظاہر ہے کہ یہ اب ایک نہ ختم ہو نے والی بحث ہے۔
3۔اگر نصاب کو مذہبی تعلیم کے زیر اثرتشکیل پانا ہے تویہ کس تعبیر پر مبنی ہوگا؟ سماج میں اسلام کی بہت سے تعبیرات رائج ہیں۔ریاست کون سی تعبیر اختیار کرے گی؟ مسلمان مسالک، بالخصوص ایک دو مسالک میں تعبیر کی لکیر گہری ہے۔ اس لیے یہ مسئلہ بہت عرصے سے زیر بحث ہے۔ بھٹو صاحب کے دور میں اسلامیات بھی دو ہو گئی تھیں۔ کئی ریاستوں نے تو اس مسئلے کو حل کر لیا۔پاکستان کے لیے ممکن نہیں کہ یہاں ہر مسلک خود کو' سٹیک ہو لڈر‘ سمجھتا ہے اور ریاست کی 'اونرشپ‘ میں شرکت کا دعوے دار ہے۔یہاں ریاست جبر نہیں کر سکتی۔اسلامیات کو دو خانوں میں تقسیم کر نا زبانِ حال سے اس بات کا اقرار ہے کہ مذہب قومی وحدت کی اساس نہیں بن سکتا۔ہم اس با ت کو تسلیم نہیں کرتے۔یوں مسئلے کا یہ پہلوبھی تعلیمی نصاب کی تشکیلِ نو میں مانع ہے۔
ان سوالات کے چند سادہ جواب دیے جاسکتے ہیں۔جیسے مذہبی تعلیمات کو عمومی نصاب کا حصہ نہیں ہو نا چاہیے۔ اگر ہم نے بچوں کو اردو سکھانی ہے تو یہ لازم نہیں کہ اس میں مذہبی اسباق کو شامل کیا جائے۔ہم اردوکا مضمون کسی مذہبی حوالے کے بغیربھی پڑھا سکتے ہیں۔جہاں تک مذہبی تعلیم کا معاملہ ہے تومسلمان طالب علموں کے لیے اسلامیات کا مضمون نصاب کا حصہ ہے۔وہ اس سے اپنے مذہب سے واقف ہو سکتے ہیں۔ غیر مسلم طلبا و طالبات کے لیے 'اخلاقیات‘ کا مضمون شامل کیا جا سکتاہے۔ اسی طرح مسلکی تفریق سے بچنے کے لیے اسلامیات کی تعلیم کو قرآن مجید کی تعلیم سے بدل دیا جائے۔اگر پہلی جماعت سے یہ نصاب اس طرح ترتیب دیا جائے کہ عربی زبان کی تدریس سے اس کا آ غاز ہو یہاں تک کہ بارہ سال کی تعلیم کے بعد ایک طالب علم میں یہ استطاعت پیدا ہو جائے کہ وہ قرآن مجید کے متن سے براہ راست وابستہ ہو سکے۔اس میں قرآن مجیدکی آیات کو بچے کی صلاحیت اور ضرورت کے مطابق شاملِ نصاب کیا جائے۔ جیسے پانچویں جماعت تک بنیادی اخلاقیات، اس کے بعد سماج اور باہمی تعلقات۔ میٹرک میں ریاست و سیاست سے متعلق تعلیمات۔ اسی طرح تاریخ کو بھی دوحصوں میں پڑھایا جا سکتاہے۔ایک قبل از اسلام اور ایک اسلام کی آ مد کے بعد۔اگر اسلام کے آنے سے پہلے مو جود حکمرانوں میں کوئی خوبی تھی تو اس کے بیان میں کیا حرج ہے یا کسی مسلمان حکمران میں کوئی کمزوری تھی تو اس کا اسلام سے کیا تعلق؟تاریخ تو افراد کا نامۂ اعمال ہے۔ اس کی ذمہ داری مذہب پر نہیں ہے۔
یہ معاملہ،تاہم اتنا سادہ نہیں ہے۔اس کے لیے قومی سطح پر مشاورت ہونی چاہیے۔ علما، ماہرینِ تعلیم،سیاسی راہنما،پالیسی ساز، سول سوسائٹی، سب کو مل کراتفاقِ رائے تلاش کر نا چاہیے۔ میرا مشورہ ہو گا کہ وزیر اعظم تعلیم کو اس کے وسیع تر تناظر میں دیکھیں۔اس میں نصاب ہائے تعلیم کا تنوع اور مذہبی تعلیم کو بھی شامل کرتے ہوئے ایک اصلاح کی حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہیے۔ اس کاآغاز نصاب کی تشکیلِ نو سے ہو سکتا ہے۔یہ کام مگر عجلت کا نہیں۔تعلیم میٹروبس کی طرح کا 
منصوبہ نہیں جو دس ماہ کی'ریکارڈ مدت‘ میں مکمل ہو جائے۔ 
Khursheed Nadem Dunya.Com



* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Humanity, Religion, Culture, Ethics, Science, Spirituality & Peace
Over 1,000,000 Visits
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *

Questions about Pakistan’s ‘war on terror’ following the Taliban’s university attack

The terror attack on Bacha Khan University in northwest Pakistan which killed over 20 people wasn’t just a reflection of “how strong” the terror network continues to be locally. It also puts a big question mark on the logic of Pakistan’s “National Action Plan” (NAP) in the face of Islamabad’s upbeat assessments about the “success” of its counter-terrorism operations that began in 2014.

Rescue workers transport a wounded man to a hospital following an attack by gunmen on Bacha Khan University


Pakistan’s NAP is based on the concept of using force against all “types” of terrorists. However, the question we must ask is this: Can sole reliance on force be sufficient to counter terrorism? Years of counter-terrorism and counter-insurgency operations by US and NATO forces in Afghanistan have unambiguously proven that force alone cannot be theONLY OPTION in obliterating the kind of terrorism the region faces. This is the crucial lesson that Pakistan as well as Afghanistan’s “masters” are yet to learn.
As long as political power remains concentrated in the hands of the ruling elite—or security agencies for that matter–terrorism can’t be effectively tackled. As a matter of fact, the chief reason why terrorism flourishes in the Federally Administered Areas of Pakistan (FATA) is that this wild and remote tribal area has remained and continues to be politically excluded from the national Federation of Pakistan. The power vacuum created by this misstep is easily filled by rogue organizations such as Tehreek-i-Taliban Pakistan (TTP), which has accepted responsibility for yesterday’s university attack.
Since the start of the current phase of counter-terrorism operations by the North Waziristan agency of FATA, officials claim that scores of terrorists and numerous hideouts have been obliterated. Yet yesterday’s attack on Bacha Khan’s students was another tragic reminder of how hollow these official claims are.
The spuriousness of these claims is traceable to Pakistan’s flawed strategy vs. terrorism. One aspect of this failed strategy is the use of military courts and the reinstatement of the death penalty for terrorism-related offenses under NAP. What has this achieved?
What was clear then is incontrovertible now: The death penalty does not deter terrorism per se. On the contrary, it serves as a propaganda tool for the militants. This is underscored by the fact that more than one group besides the Taliban are  stepping forward to claim credit for the Bacha Khan attack. This is not to suggest that terrorists need not be punished for their crimes. The point is that merely punishing individuals is not effective.
University was deliberate target
Consider this: Bacha Khan University as a target and the day of the attack weren’t selected randomly. The tolerant, compassionate, inclusive politics of Abdul Ghaffar Khan (Bach Khan), a famous Pashtun political and spiritual leader after which the school was named, is what Pakistan ought to embody. The attack came as Bach Khan University was preparing to honor the day of their namesake’s death on Jan. 20. The institution represents a symbol of what the Islamic extremists are seeking to destroy.
While military operations seek to destroy the Taliban as a physical force, the very idea of the “Talibanism” also needs to be defeated. An idea, as the saying goes, can only be defeated by another idea. Pakistan, therefore, needs to rely on sources other than using force to “kill” the idea of ‘Talibanism.”
The first step in this campaign should be the empowerment of the people directly affected by the Taliban’s ideological as well as physical onslaught, argues veteran FATA agency participant, Abdul Fazal, who now lives “trapped” in one of the many slums of Islamabad, Pakistan’s capital.
“In the absence of state institutions and guarantee of protection of life and property of the people, fear of the Taliban overwhelms, leading to a silent yet virtual surrender of the people to the forces they cannot fight alone,”Abdul Fazal said. He added that powerlessness and fear either lead to surrender or flight to other cities in Pakistan. And it is precisely the inability to directly integrate people into the fight against terrorism that continues to keep Pakistan’s anti-terror “grand narratives” flawed.
Therefore, while Pakistan’s mainstream media reporting of the incident was littered with the so-called “rapidity” with which security agencies responded to and killed all terrorists in the university attack, hardly anyone seems to question the sorry state of Pakistan’s fight against terrorism.
Instead, the focus of all media reporting remained on the terrorists’ links to Afghanistan and India. While Pakistan and India continue repeatedly to blame each other for various terrorist activities, the Afghan-link does have some substance and needs to be examined carefully.
More than anything else, the Pak-Afghan border–a colonial legacy–is as much a part of the overall problem of cross-border terrorism and more efforts need to be focused there. The Afghanistan-Pakistan border is an anachronism that has been both a buffer against and a base for projecting power into Afghanistan for Islamabad. Now, with more than 150,000 Pakistani troops spread out across FATA as part of a protracted build up, the border has become perhaps the single-most immediate danger to both countries’ stability. It is a porous border. But should it necessarily remain so?
Deploying Pakistani troops in their thousands alone can’t prevent cross-border movement of terrorists. Nor can it be physically halted due to the nature of the terrain. However, what is feasible is better bilateral coordination of counter-terrorism efforts along the border. This co-ordination, however, needs to be extended into areas other than mere intelligence sharing. More than anything, both Pakistan and Afghanistan need to redirect their efforts in obliterating safe havens from where attacks are plotted and executed inside Pakistan and Afghanistan.
Recent incidents in both Afghanistan and Pakistan have highlighted the utmost need for greater regional co-operation. The fight against terrorism cannot be won, said an official from the Interior Ministry of Pakistan who asked not to be identified, unless the affected countries learn to co-ordinate their wars, with or without the co-ordination of the US and NATO forces. This is imperative since these foreign forces aren’t going to remain in the region for an indefinitely.
Islamic State in Pakistan
Pakistan and Afghanistan, therefore, need to restructure their relations against this scenario. The self-styled Islamic State (IS) has reportedly demonstrated a presence in Afghanistan. Some Pakistani officials, too, have acknowledged a rudimentary IS presence in Pakistan’s various urban areas.
The crucial need for Paksitan, therefore, is to “diplomatize” rather than “problematize” relations with Afghanistan. This requires local integration of all people involved in the war on terror as well as at the regional level (including Afghanistan) if the war on terror is to succeed.
Salman Rafi Sheikh is a freelance journalist and research analyst of international relations and Pakistan affairs. His area of interest is South and West Asian politics, the foreign policies of major powers, and Pakistani politics. He can be reached at salmansheikh.ss11.sr@gmail.com
Related:

Army chief vows to go to any length for a terror-free Karachi

Chief of Army Staff General Raheel Sharif has lauded the efforts of intelligence and law enforcement agencies for making Karachi peaceful city and vowed to go to any length for a secure and terror-free Karachi.

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Religion, Culture, Science, Peace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
Overall 2 Million visits/hits