Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

دینی مدارس اور علماء کا کردار




گزشتہ دنوں ایک دینی مدرسہ کے طالب علم نے نہایت اضطراب کی حالت میں اور ڈرتے ڈرتے ایک سوال نامہ پیش کیا اور اس کے جواب کی فرمائش کی، ایک صبح اٹھ کر جواب لکھنے بیٹھا تو خلاف معمول ایک ہی نشست میں اُسے مکمل کردیا، جو کسی قدر نوک پلک درست کرنے کے بعد نذرِ ناظرین ہے:
حضرت محترم ! السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ 
حضرت ! بندے کے دل میں کافی عرصے سے مدارس کے نصاب کے متعلق چند اشکالات و سوالات ہیں، جنھوں نے ایک اضطرابی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے، لہٰذا بندہ اس سے خلاصی پانے کیلئے تمام اشکالات کو آپ کی نظر کرنا چاہتا ہے۔ امید ہے کہ شفقت کے ساتھ سوالات کاجواب مرحمت فرمائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں ... کرونا اور علماء پاکستان کا رویہ - لمحہ فکریہ ....

(۱) مدارس میں جدید فقہی مسائل کیوں نہیں پڑھائے جاتے؟ حالانکہ وہ تمام قدیم مسائل پوری تشریح و توضیح اور دلائل و بحث کے ساتھ پڑھائے جاتے ہیں، جن کی ہمارے دور (زمانے) میں دُور کی بھی مماثلت نہیں پائی جاتی، اور ان مسائل کی موجودہ زمانے کے لحاظ سے تطبیق دینا بھی ممکن نہیں، ہمیں یہ سب تو پڑھایا جاتا ہے؛ لیکن مروّجہ سودی نظام، لیزنگ، بیمہ پالیسی، بینکنگ، اکاؤنٹ اور پرائز بانڈ وغیرہ کے بارے میں ہم بالکل نا آشنا ہیں۔
(۲) موجودہ زمانہ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں انتہائی تفاوت کی وجہ سے زکوٰة کا نصاب کیاہونا چاہئے؟
(۳) موجودہ زمانہ کے لحاظ سے عشر و خراج کا طریقہ کیا ہونا چاہئے؟ اور ہماری زمینیں عشری ہیں یا خراجی؟
(۴) کاغذی نوٹ کے بارے میں شریعت کی نظر میں ثمنیت کا کیا اعتبار ہے؟ حالانکہ جب کاغذی نوٹ کااجرا کیاگیا تو اس کو سونے اور چاندی کے مساوی قرار دیا گیا، اب اس میں تفاوت پایا جاتا ہے، اس بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔
(۵) تفسیر میں صرف تفسیر عثمانی پر ہی کیوں اقتصار کیاجاتا ہے؟ قرآن وحدیث کی حقانیت کو آج کی سائنس ثابت کررہی ہے، ہمیں اس لحاظ سے کیوں نہیں پڑھایا جاتا؟ حالانکہ ایک عام دنیادار پروفیسر ، علماء سے زیادہ اس کی تحقیق رکھتاہے، اور جدت پسندوں کو ہمیں رجعت پسند کہنے کا موقع ہاتھ آجاتا ہے۔
(۶) مدارس میں پانچ سال تک منطق کیوں پڑھائی جاتی ہے؟ اوراس میں فضول قسم کی قیل و قال کی جاتی ہے؟ جن کا نہ فائدہ ہے اور نہ افادہ؟
(۷) مدارس میں پانچ سال تک نحو کیوں پڑھائی جاتی ہے؟ ”کلمہ کی تعریف کو کلام کی تعریف پر کیوں مقدم کیا؟ کلام کی تعریف کو کلمہ کی تعریف سے کیوں موخر کیا؟“ اس قسم کے فضول فلسفے پڑھائے جاتے ہیں، اور نتیجہ یہ ہے کہ دس سال تک عربی تکلم پر قدرت ہے، نہ انشاء پر۔
(۸) مدارس میں تقابل ادیان سے متعلق کسی قسم کا مواد نہیں پڑھایا جاتا، سوائے ان معتزلہ کے، جن کا وجود دنیا میں نہیں رہا۔
(۹) دس سال مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والا شہریت، جغرافیہ اورانگریزی سے نابلد رہتا ہے اور اپنی قومی زبان پر بھی مکمل دسترس حاصل نہیں کرپاتا۔ مدارس میں رائج اس نصاب کی وجہ سے مدارس کے فضلاء میں درج ذیل خرابیاں پیدا ہوگئیں:
(الف) مدارس سے ایسا طبقہ پیدا ہواجسے معاشرے نے قبول نہیں کیا۔
(ب) مدارس دیہاتی ماحول اور چھوٹے طبقے تک محدود ہوگئے اور اہل ثروت کا مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا۔
(ج) علماء کے اندر سے تحقیقی کام کا ذوق ختم ہوتا چلاگیا۔
(د) علماء محدود ذہن کے ہوگئے۔
(ھ) اس کے علاوہ کئی وجوہات حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی صاحب دامت برکاتہم کے اس مکتوب گرامی سے بھی معلوم ہوتی ہیں، جو درج ذیل ہے:
”مکرمان ومحترمان حضراتِ اکابر و ذمہ دارانِ مدارس ․․․․․ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
اللہ پاک کا شکر ہے! بندہ بعافیت ہے، امید ہے بعافیت ہوں گے، آج ذمہ داران مدرسہ کو ایسے علماء تیار کرنے چاہئیں، جن کی پڑھنے ہی کے زمانہ میں پڑھانے کی نیت کرائی جائے، وہ فارغ ہوکر پڑھائیں اور پڑھنے ہی کے زمانہ میں تھوڑا تھوڑا وقت لگاکر دعوت وتبلیغ سے مناسبت پیدا کریں، اور پڑھنے کے زمانہ میں جس کی طرف اس کا رجحان ہو، بیعت کا تعلق کرادیں، تاکہ پڑھنے کے ساتھ سلوک سے مناسبت ہوجائے، پھر وہ جہاں بیٹھے تینوں کام کرنے والا ہو: ایک طرف تعلیم دے رہا ہو،اور ایک جگہ تبلیغ کی خدمت کررہا ہو،اور ایک طرف اپنے معمولات پورے کررہا ہو،اور دوسروں کے معمولات پورے کرانے کا ذریعہ بن رہا ہو، آج پوری دنیا میں ہرسال اتنے علماء فارغ ہونے کے باوجود، مکاتب میں پڑھانے والے نہیں ملتے، مدارس کی کتابیں پڑھانے والے نہیں ملتے، مراکز میں جماعتیں لے کر چلنے والے نہیں ملتے اور خانقاہوں میں ذاکرین کی وہ مقدار نہیں ہوتی جیسی ہونی چاہئے، پوری دنیامیں جو کچھ اس لائن سے نظر آرہا ہے، وہ صُفّہ پر ایک ہی جگہ ہورہا تھا، وہیں مبلغین تیار ہورہے تھے، وہیں مجاہدین تیار ہورہے تھے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صُفّہ کی ترتیب پر سارے اعمال ایک ہی جگہ ہورہے ہوں، میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ پوری دنیا میں یہ ماحول بنایا جائے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے․․․․․․ فقط والسلام
                                                                                                                                                                                                                                          محمد طلحہ کاندھلوی
                                                                                                                                                                                                                                           ۲۱/محرم الحرام ۱۴۲۶ھ
اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع عطا فرمائے، آمین۔ اللّٰہم انی اعوذبک من علم لاینفع․
بندہ محمد عبداللہ، کراچی
جواب: میرے عزیز آپ نے سوالوں کے ساتھ جواب کی جگہ تو چھوڑی نہیں، تاہم الگ کاغذ پر آپ کے تمام سوالات کا مختصر سا جواب نمبر وار درج کیا جاتا ہے:
(۱) میرے عزیز ! یہ تو آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ اسلامی شریعت کے ماخذ چار ہیں: قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ اور ان سب کی اصل، بنیاد اورمنبع قرآن کریم ہے،اسلئے کہ قرآن کریم میں بعض احکام تو صراحتاً مذکور تھے، اور جو احکام قرآن کریم میں صراحتاً مذکور نہیں تھے، آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں ان کی وضاحت فرمادی، اسلئے حدیث بھی قرآن کریم کی شرح و تفسیر ہے، پھر جو احکام و مسائل قرآن و حدیث میں صراحتاً مذکور نہیں تھے، حضرات صحابہ کرام، ائمہ مجتہدین اور اکابر علمائے امت نے انہیں ان دو بنیادوں یعنی قرآن و حدیث کی روشنی میں مستنبط فرمایا، اور جن مسائل پر اکابر کا اجماع ہوگیا، وہ اجماعی مسائل قرار پائے، پھر جو مسائل اس کے علاوہ تھے، انہیں ان تین بنیادوں سے ماخوذ اصولوں پر قیاس کرکے معلوم کیاگیا اوراسی کا نام ”فقہ“ ہے۔ لہٰذا فقہ میں پہلے اصول اورکلیات کا درس دیاجاتا ہے، اگرچہ اس میں بیشتر جزئیات سے بھی بحث کی جاتی ہے، مگر چونکہ جدید فقہی مسائل ہردور کے الگ الگ ہوتے ہیں، لہٰذا حضرات علماء کرام نے فقہ کے اصول وضع فرماکر ہردور کے علماء کو اس قابل بنادیا کہ وہ ان اصولوں کی روشنی میں جدید فقہی مسائل کو سمجھااور پڑھاسکیں۔
اگر موجودہ دور کے جدید مسائل کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تواکابر علماء اور اربابِ دینی مدارس نے بنیادی طور پر ان کا درس دیا ہے، چنانچہ قدوری، کنز اور ہدایہ سمجھ کر پڑھ لی جائیں یا بالفاظ دیگر ہضم کرلی جائیں تو سود، جوا اور لاٹری کی تمام مروّجہ شکلیں اوران کا حکم بآسانی سمجھ میں آسکتا ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ علماء جدید مسائل کیوں نہیں پڑھاتے؟ درحقیقت فقہ اور اصول فقہ سے لاعلمی کی علامت ہے۔
قدیم مسائل پوری توضیح و تشریح سے پڑھانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ جن طلبہ و علماء کو یہ اصول سمجھ میں آجائیں گے، اُن کو ان اصولوں کی روشنی میں جدید مسائل کا سمجھنا آسان ہوجائے گا،اور جو شخص قدیم مسائل اور ان کے اصول سمجھ لے گا، اس کو جدید مسائل سمجھنا اوران کی تطبیق دینا آسان ہوجائیگا،مثلاً بیع قبل القبض، حرام اشیاء کی بیع، قسطوں کا کاروبار، بیمہ، لیزنگ وغیرہ، کونسا ایسا مسئلہ ہے جو فقہائے امت نے بیان نہیں فرمایا؟ تاہم اکابر علماء امت کے فتاویٰ اوران کی تصنیفات میں ان پر مستقل بحث کی گئی ہے، جو کسی صاحب علم و عقل پر مخفی نہیں،کوئی ایک ایسا مسئلہ بتلایا جائے جو ان اصول، قواعد اور کلیات سے ماورا ہو اوراس پر علماء نے کوئی راہنمائی نہ کی ہو؟
(۲) آپ کا ارشاد کہ: سونے، چاندی کی قیمتوں میں انتہائی تفاوت کی وجہ سے اب زکوٰة کا نصاب کیا ہونا چاہئے؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ :
دور حاضر کے مفتیان کرام اور ہندوپاک کے اربابِ تحقیق نے ان دونو ں نصابوں (سونا اور چاندی) میں سے جو سستا ہو، اس کو وجوبِ زکوٰة کے لئے معیار قرار دیا ہے، اس لئے چاندی کے نصاب پر وجوبِ زکوٰة اور وجوبِ قربانی کا حکم ہے، یہ اگر ایک طرف انفع للفقراء ہے تو وہاں احوط بھی ہے، کیونکہ اگر خدانخواستہ عند اللہ اس آدمی پر زکوٰة فرض تھی اور ہم نے اغنیاء کے نفع اور ان کی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر اس کو زکوٰة سے بری قرار دے دیا تو وہ عند اللہ مجرم ہوگا۔
پھر یہ بھی دیکھا جائے اور غور کیا جائے کہ شریعت کے احکام میں ضعفاء اور فقراء کا خیال رکھا گیا ہے، نہ کہ مالداروں اور طاقتوروں کا، گویا سونے کو نصاب قرار دینے کی صورت میں تو شاید و باید ہی کسی پر زکوٰة اور قربانی واجب ہوسکے گی، اس سے دولت کا ارتکاز ہوگا اور غرباء و فقراء محتاج تر ہوجائیں گے۔
بہرحال میں نہ تو مجتہد ہوں اورنہ ہی مفتی، البتہ اکابر اساتذہ ومفتیانِ کرام کا جدید و قدیم فتویٰ یہی ہے کہ نصاب کا معیار ان دو چیزوں میں سے وہ ہے جو سستی ہو، اور چونکہ چاندی سستی ہے، اس لئے وہی نصاب ہے، اور ایسے شخص پر جو چاندی کے نصاب کا مالک ہو، زکوٰة اور قربانی واجب ہے۔
(۳) موجودہ زمانے کے لحاظ سے عشر و خراج کا طریقہ اور زمینوں میں سے عشری و خراجی کی تعیین کے سلسلہ میں عرض ہے کہ: جہاں تک ہمارے ملک کی زمینوں کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے، چونکہ یہ معلوم نہیں کہ ان میں سے کون سی عشری اور کون سی خراجی ہے؟ اسلئے احتیاط اسی میں ہے کہ سب کو عشری قرار دے کر سب کا عشر ادا کیا جائے، اسلئے اگر زمین بارانی ہو کہ صرف ہل چلاکر بیج ڈال دینے پر فصل تیار ہوجائے تو اسکی آمدنی پر عشر ہوگا یعنی آمدنی کا دسواں حصہ دیا جائیگا اوراگراسکے اوپر پانی، کھاد اور اسپرے وغیرہ کے دوسرے اخراجات آتے ہوں تو نصف عشر یعنی آمدنی کا بیسواں حصہ بطور عشر دیا جائیگا۔
(۴) جہاں تک کاغذی نوٹ کی حیثیت کا تعلق ہے،اس سلسلہ میں عرض ہے کہ کاغذی نوٹ چونکہ عام طورپر اس سونے،چاندی کا بدل یا زرِ ضمانت ہوتے ہیں، جس کی بنیاد پر کاغذی نوٹ جاری کئے جاتے ہیں، اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ انہیں سونے کا بدل تصور کیا جائے اور ان کے عوض سونے، چاندی کی ادھار خرید و فروخت نہ کی جائے، جبکہ بعض دوسرے حضرات ان کو ثمن عرفی قرار دیتے ہیں، اس لئے اُن کے ہاں ان کاحکم زرِ ضمانت کا نہیں، لہٰذا اُن کے ہاں کاغذی نوٹوں کے عوض سونے، چاندی کی ادھار خرید و فروخت جائز ہے۔
آپ کا یہ فرمانا کہ: اس بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا، اس لئے نادرست ہے کہ میرے نزدیک یہ اضافی بحث ہے، تاہم اکابر نے اس پر مستقل تصنیفات فرمائی ہیں اور اکابر کے مطبوعہ فتاویٰ میں بھی اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ ابتدائی طلبہ کے پڑھانے کی چیز نہیں، اس لئے کہ یہ ان کی ذہنی سطح سے اونچی چیز ہے، ہاں جو طلبہ تکمیل درسِ نظامی کے بعد فقہ میں تخصص کرتے ہیں، ان کو یہ موضوع بھی پڑھایا جاتا ہے اور وہ اس سے باخبر ہوتے ہیں۔
جس طرح دنیا کے دوسرے علوم وفنون میں ابتداءً اصول وکلیات پڑھائے جاتے ہیں، اسکے بعد خاص خاص شعبوں میں تخصصات کرائے جاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح یہاں بھی وہی اصول کارفرماہے، مثلاً: جیسے ڈاکٹر بننے والوں کو پہلے ایم بی بی ایس کا کورس کرایا جاتا ہے، اسکی تکمیل کے بعد پھر طلبہ کی دلچسپی کے پیش نظر ان کے منتخب کردہ موضوعات،مثلاً: دل، دماغ، جگر، معدہ، سینہ، کان، ناک اورحلق کے امراض اوران کی جراحی کے اصول و فروع میں تخصص کرائے جاتے ہیں، اور ایسا شخص اس شعبہ کا ماہر کہلاتا ہے، بالکل اسی طرح یہاں بھی وہی انداز اپنایا جاتا ہے کہ پہلے مطلقاً فقہی اصول و مبادیات کی تعلیم دی جاتی ہے، اسکی تکمیل کے بعد طلبہ کی دلچسپی کے پیش نظر حدیث، فقہ، دعوت و ارشاد، معاشیات اور اقتصادیات میں تخصصات کرائے جاتے ہیں، اسلئے کہ جو طالب علم، نفس فقہ اوراس کے اصول و مبادیات سے نا آشنا ہو، اسکو ان مخصوص مسائل میں الجھانے سے کیا اس کا دماغ منتشر نہیں ہوگا؟
(۵) آپ کا یہ ارشاد کہ: ”تفسیر میں صرف تفسیر عثمانی پر ہی کیو ں اقتصار کیاجاتا ہے؟“ اس لئے ناقابل فہم ہے کہ تفسیر عثمانی درسِ نظامی اور وفاق المدارس کے نصاب میں شامل نہیں ہے، اگر کوئی مدرسہ یا کسی مدرسہ کا کوئی استاذ اس کو درساً پڑھاتا ہے تو یہ اس کا انفرادی عمل ہے، بہرحال مقصود تو نفس قرآن کریم کا ترجمہ و تشریح ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اساتذہ اس تفسیر سے استفادہ کرتے ہیں اور طلبہ کو بھی اس تفسیر سے استفادہ کی ترغیب دیتے ہیں، اور ایسا کرنا اس لئے مناسب ہے کہ تفسیر عثمانی کے مطالعہ سے نفس قرآن کریم سمجھ میں آجاتا ہے، لہٰذا تفسیر عثمانی کے مطالعہ کی ترغیب بھی اسی اصول کے پیش نظر ہے کہ طلبہ کو نفس قرآن کریم سمجھ میں آجائے،اور طلبہ غیرضروری طویل لاطائل ابحاث میں نہ الجھیں، پھر جب نفس قرآن کریم سمجھ میں آجائے گا اور استعداد پیدا ہوجائے گی تو دوسری طویل و مبسوط تفسیروں سے استفادہ بھی آسان ہوجائے گا۔
اگر غور کیاجائے تو تفسیر عثمانی تمام متداول اردو تفاسیر کا اختصار و خلاصہ ہے۔اربابِ علم و دانش جانتے ہیں کہ تفسیرعثمانی ”دریا بکوزہ“ کا مصداق ہے، چنانچہ جو شخص پہلے تمام متداول عربی تفاسیر کا بغور مطالعہ کرے اورپھر تفسیر عثمانی کا مطالعہ کرے تو اسے اس کی ایک،ایک سطر، بلکہ ایک، ایک حرف کے مطالعہ سے اندازہ ہوگا کہ یہاں سے کس تفسیر کے کس قول، اعتراض یا اشکال کاجواب اور مختلف تفسیری اقوال میں سے کس قول کو ترجیح دی جارہی ہے۔
اس کے علاوہ برا نہ مانیں تو درسِ نظامی میں تین سال تک قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر جلالین مکمل درساً پڑھائی جاتی ہے، جبکہ تفسیر بیضاوی کا ایک حصہ سبقاً پڑھاکر تفسیری انداز اور قرآن کریم کے علوم ومعارف سے بھی طلبہ کو روشناس کرایاجاتا ہے۔
آپ کا یہ ارشاد کہ قرآن وحدیث کی حقانیت کو سائنس سے کیوں ثابت نہیں کیا جاتا، آپ کی بچکانہ سوچ کا مظہر ہے، کیونکہ سائنس سے اگر قرآن و سنت کی حقانیت کو ثابت کیا جائے تو کیا آئے دن تبدیل ہونے والے سائنسی نظریات کی اقتداء میں قرآن و حدیث کے معانی و مفاہیم کو بھی بدلا جائے گا؟ اگر نہیں تو پھر قرآن و سنت کی حقانیت کو سائنس کی ضرورت نہیں، ہاں سائنس قرآن و سنت کے تابع اوراس کی ممد ہے اوراکابر نے اس پر کام کیا ہے، حضرت مولانا شمس الحق افغانی قدس سرہ کی کتاب ”سائنس اوراسلام“ قابل مطالعہ ہے۔
(۶) دینی مدارس میں منطق اس لئے پڑھائی جاتی ہے تاکہ انسانی دماغ کی گرہیں کھل جائیں، فکری غلطیوں سے حفاظت ہوجائے اور معاندین اسلام کے فکری مغالطوں کاجواب بآسانی دیا جاسکے، پھر چونکہ قدیم وجدید دور کے ملاحدہ عقلیت پسند ہوتے ہیں اور عقلیات کو استعمال کرتے آئے ہیں، اسلئے عقلیت پسندی کے ان مریضوں کا علاج بھی اسی صورت میں ممکن ہوگا جب علماء کو اس فن سے مناسبت یا آگاہی ہوگی۔
اس سے ہٹ کر اکابر علمائے امت کی تصنیفات میں بھی چونکہ منطق و فلسفہ کی اصطلاحات موجود ہیں، لہٰذا جو شخص اس فن سے ناواقف ہوگا، وہ دوسروں کو سمجھانے کی بجائے خود ان علوم سے استفادہ نہیں کرسکے گا، لہٰذا جس طرح قرآن و سنت کی فہم کے لئے علم صرف، نحو، معانی، بدیع، بلاغت و بیان کا جاننا ضروری ہے، اسی طرح منطق کا جاننا بھی ضروری ہے۔ دیکھاجائے تو یہ بھی قرآن و سنت اورعلوم نبوت کاخادم علم ہے، جس کی تعلیم نہایت ضروری ہے، پھر اکابر واسلاف کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو صاف نظر آئے گا کہ جن، جن اکابر نے منطق و فلسفہ پڑھا ہے، وہ اپنے، اپنے دور کے یگانہ روزگار تھے،اورانھوں نے کسی بھی میدان میں ناکامی کا منھ نہیں دیکھا،اس لئے چند سال پہلے تک ہمارے علماء اور طلبہ درسِ نظامی سے فراغت کے بعدایک سال مستقل ”تکمیل“ کے نام سے ان فنون کو پڑھتے تھے، میرے خیال میں جو طلبہ ان فنون کی افادیت و لذت سے ناآشنا ہیں، وہی ان کی مخالفت کرتے ہیں، ورنہ یہ فن فہم و تفہیم دین میں بہت ہی ممدومعاون ہے، ہاں جولوگ جس چیز سے ناآشنا ہواکرتے ہیں، وہی اس کے دشمن و مخالف ہوتے ہیں۔
(۷) نحو کے ذریعہ فعل، فاعل، مفعول، مبتداء، خبر، شرط اورجزا کا پتا چلتا ہے، اگر اس کا پتا نہ چلے تو عربی عبارت کا معنی و مفہوم ہی صحیح طورپر واضح نہیں ہوگا۔ اگر مفعول کو فاعل یا فاعل کو مفعول بنادیاجائے تو آپ اندازہ لگائیں کہ کس قدر خطرناک حد تک معنی بدل جائے گا، مثلاً قرآن کریم کی سورئہ برأة میں ہے کہ:
ترجمہ: ”بے شک اللہ اور اس کا رسول، مشرکین سے بری ہیں۔“ (برأة:۳)
اگر بالفرض کوئی نحو کا فن نہ جانتا ہو اور وہ خدانخواسہ ”وَرَسُوْلُہ“ کا عطف مشرکین پر ڈال کر اس کو مجرور یعنی وَرَسُوْلِہ پڑھے اور نعوذ باللہ! اس کا ترجمہ یہ کرے کہ: ”اللہ مشرکین سے اور اپنے رسول سے بری ہے“ تو وہ کس قدر تحریف کا مرتکب ہوگا، بلکہ قصداً ایسا پڑھنا بدترین کفر ہے،اس لئے نحو کی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے تاکہ قرآن و حدیث کو سمجھنا آسان ہوجائے۔
آپ کا یہ فرمانا کہ دس سال تک تعلیم کے باوجود عربی تکلم پر قدرت ہے، نہ انشاء پر، اس کے جواب میں عرض ہے کہ اکابر علماء نے علم صرف، نحو،ادب اورمنطق کی متداول کتب، درسِ نظامی میں اسی غرض سے شامل کی تھیں کہ ان کو پڑھ کر، بلکہ ہضم کرکے قرآن، حدیث، فقہ اور عربیت پر قدرت حاصل ہوجائے، چنانچہ بعض حضرات ان سے کما حقہ استفادہ کرکے دین و شریعت اور علوم نبوت کے علاوہ عربی بول چال پر بھی قدرت حاصل کرلیتے ہیں، جبکہ میرے اورآپ جیسے کوتاہ ہمت، بدمحنت اور ناقص استعداد لوگ اپنی کمی، کوتاہی کو چھپانے کیلئے اسپر اعتراض کرتے ہیں، اس کو فضول جانتے ہیں اوراس پر توجہ نہیں کرتے تواس کے کماحقہ ثمرات و برکات سے محروم رہتے ہیں، ورنہ ہندوپاک کے وہ اکابر،جن کی عربیت، فصاحت اور بلاغت پر دنیائے عرب سردھنتی ہے،اوران کے کلام کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے، وہ انہی دینی مدارس کے فارغ و فاضل تھے، ان میں سے حضرت مولانا بدرعالم میرٹھی، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا شبیراحمد عثمانی،حضرت مولانا اعزاز علی، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی، حضرت مولانا محمدیوسف کاندھلوی، حضرت مولانا محمدزکریا کاندھلوی، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا شمس الحق افغانی، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا موسیٰ خان روحانی بازی، مولانا عبدالرشید نعمانی، مولانا عاشق الٰہی بلندشہری،مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار، مولانا وحیدالزماں قاسمی رحمہم اللہ تعالیٰ، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا ابوبکر غازی پوری، مولانا سید ارشدمدنی، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا نور عالم خلیل امینی وغیرہ مدظلہم حضرات انہی مدارس کے پڑھے ہوئے ہیں، جن کی عربیت و عظمت کی دنیا معترف ہے۔ آپ بھی اسی شوق و لگن سے پڑھیں تو آپ بھی ان کے مقام پر پہنچ سکتے ہیں۔
کیا عصری اسکولوں میں پڑھنے والے تمام طلبہ مکمل انگلش بول سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ان پرکیوں اعتراض نہیں؟ جہاں تک عربی بول چال کا تعلق ہے، یہ ماحول اور ممارست کی محتاج ہے، آپ بھی اس کی مشق کریں تو اچھے عربی انشاء پرداز ہوجائیں گے، چنانچہ ہمارے وہ طلبہ جو عرب جامعات میں پڑھنے جاتے ہیں، کیا وہ عربی لکھتے، بولتے نہیں؟
(۸) آپ کا یہ فرمانا کہ ہمارے مدارس میں سوائے معتزلہ کے دوسرے فرق کی تردید اور تقابل ادیان پر کچھ نہیں پڑھایا جاتا، اس سلسلہ میں دیکھاجائے تو ہماری قدیم کتب میں جن فتنہ پردازوں اور ان کے فتنوں کا تذکرہ ہے،آج بھی ان کے جانشین موجود ہیں، مگر ان کے نام اور شبہات کے انداز بدل گئے ہیں، معتزلہ ”اعتزال“ سے ہے، اوراعتزال کے معنی ہیں: جمہور سے الگ راہ اختیار کرنا، لہٰذا آج بھی جو شخص فرقہ جمہور سے الگ راہ اختیار کرتا ہے وہ معتزلی ہے، معتزلہ بھی عقلیت پسند تھے اورآج بھی عقلیت پسندی کا دور دورہ ہے، لہٰذا عقلیت پسندی کی تردید آج کے دور کے عقلیت پسندوں کی تردید ہے۔
جہاں تک تقابل ادیان کا معاملہ ہے، بحمداللہ! ہمارے دینی مدارس میں اس کی بھی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے، مگر ہر شئی کا ایک موقع، محل اور وقت ہوتا ہے، ہمارے اکابر فرماتے ہیں کہ: پہلے اپنا مسلک و مذہب سیکھو، بعد میں تردید باطل سیکھو، یہ تو کوئی عقلمندی نہ ہوئی کہ اپنا دین و مذہب اور مسلک ومشرب تو معلوم نہ ہو اور دوسروں کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑنا شروع کردیاجائے، پھر تو وہی لطیفہ ہوگا جس طرح ایک جاہل نے کسی کافر کو ڈنڈا دکھاکر کہا کہ: پڑھو کلمہ، ورنہ قتل کردوں گا، جب ڈرے سہمے کافر نے کہا: کہ چلو پڑھا دو کلمہ،تو بیچارہ ڈنڈا بردار مارے شرم کے بغلیں جھانکنے لگا، اسلئے کہ خود اس کو بھی کلمہ نہیں آتا تھا، چنانچہ دل ہی دل میں کہنے لگا: اے کاش کہ ! مجھے کلمہ آتا تو آج ایک کافر مسلمان ہوجاتا۔
(۹) یہ بھی آپ کی بے توجہی ہے کہ مدارس میں دس سال پڑھنے والا شہریت، جغرافیہ اورانگریزی سے نابلد ہوتا ہے، اس لئے کہ پہلے تو دینی مدارس کا موضوع ہی دین پڑھانا ہے، نہ کہ دنیا اوراس کے علوم۔ کیا کبھی کسی اسکول وکالج کے طالب علم سے بھی سوال ہوا ہے کہ ۱۶ سال پڑھنے کے باوجود آپ کو بنیادی اسلامی عقائد اور عربی سے نا آشنائی کیوں ہے؟
جبکہ بحمد اللہ! ہمارے مدارس میں یہ دنیوی علوم اب باقاعدہ پڑھائے بھی جاتے ہیں، اس کے علاوہ دیانت داری کی بات یہ ہے کہ جو شخص دینی مدارس کے اس نصاب کو پڑھ لیتا ہے، اُسے یہ دنیوی علوم محض تھوڑی سی توجہ اور مطالعہ سے بآسانی حاصل ہوجاتے ہیں، اورایسی کئی ایک مثالیں موجود ہیں، اگر یقین نہ آئے تو راقم کئی ایک مثالیں پیش کرسکتا ہے۔
(۱۰) آپ کایہ فرمان بھی ناقابل فہم ہے کہ:
(الف) ”مدارس میں رائج اس نصاب کی وجہ سے مدارس کے فضلاء میں یہ خرابیاں ہوگئیں کہ : مدارس سے ایسا طبقہ پیدا ہواجسے معاشرہ نے قبول نہیں کیا۔“ اس لئے کہ انہی مدارس سے فارغ ہونے والے علماء نے آج تک امت کی راہنمائی کی ہے، اور ہندوپاک میں موجودہ دینی فضا اور دیانت داری کی ساری شکلیں انہیں علماء کی مرہونِ منت ہیں، ورنہ مصر اور دوسرے کئی عرب ممالک میں خود علماء دینی وضع قطع سے محروم ہیں، وہاں ستروحجاب کا تصور معدوم ہے، کافروں اور مسلمانوں کی مستورات کے لباس میں عریانی کی حد تک مماثلت ہے، آج جس طرح ہندوپاک میں علماء پر مسلمان اعتماد کرتے ہیں، دوسرے کئی عرب ممالک کے علماء اس اعتماد سے یکسر خالی ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج دینی مدارس اوران کا خالص دینی و مذہبی نصاب ابنائے کفر کی نگاہ میں کھٹکتا ہے، اگرمعاشرے نے ان کو قبول نہ کیا ہوتا تو معاشرہ ان کی تعلیمات کو کیوں اپناتا؟اور معاشرے کی یہ اچھی حالت کیونکر ہوتی؟
بحمد اللہ! ہندوپاک میں اس نصاب اورمدارس کی اس کارکردگی کا نتیجہ ہے کہ یہاں دینی مراکز قائم ہیں، خانقاہیں آباد ہیں، تبلیغی جماعت اپنا کام کررہی ہے، قادیانیوں اور دوسرے لادینی طبقات کا ناطقہ بند ہے، مساجد و مدارس آباد ہیں، لوگوں کے چہروں پر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شادابی ہے، خواتین ستروحجاب سے مزین ہیں، دینی اسکول اور حفظ قرآن کے مدارس میں لاکھوں مسلمان بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، اور بحمد اللہ! کراچی ہی میں ماہانہ ڈھائی سے تین ہزار روپے فیس دے کر مسلمان اپنے بچوں کو حفظ قرآن اور دینی و عصری تعلیم دلارہے ہیں، کیا اب بھی کہا جائے گا کہ معاشرے نے ان کو قبول نہیں کیا؟
(ب) آپ کا یہ فرمان کہ: ”مدارس دیہاتی اور چھوٹے طبقہ کے لئے محدود ہوگئے اوراہل ثروت کا مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا“ کم از کم میرے لئے ناقابل قبول ہے، اس لئے کہ بحمد اللہ! مدارس میں اب ایک تعداد ان بچوں کی ہے جو لکھ پتی نہیں، کروڑپتی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے، اگر اہل ثروت کا ان مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا ہوتا تو یہ مدارس بند نہ ہوگئے ہوتے؟ حالانکہ ان مدارس میں سے متعدد ایسے بھی ہیں جن کا سالانہ میزانیہ کروڑوں کا ہے، آخر یہ فنڈ کہاں سے آتا ہے؟ یہ اہل ثروت کے مدارس کی طرف رجحان کی دلیل ہے یا رجحان کے ختم ہونے کی؟ آپ ہی فیصلہ فرمائیں؟
پھر اگر کچھ محروم القسمت ان مدارس کی طرف توجہ نہیں کرتے یا ان کو یہ نظام ناپسند ہے، تو اس میں اس دور کے اہل ثرورت کی کیا تخصیص ہے؟ یہ طبقہ تو خود حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں بھی تھا، جو کہا کرتا تھا:
ترجمہ: ”جولوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اردگرد ہیں، ان پر خرچ نہ کرو، یہاں تک کہ تنگ آکر وہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔“ (منافقون:۷)
آپ ہی ارشاد فرمائیں کہ کیا نعوذ باللہ! یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے نظام تعلیم کے نقص کی وجہ سے تھا؟ یا ان محروم القسمت کی شقاوتِ ازلی کی بدولت؟
پھر یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ دین کا ساتھ دینے والے ہمیشہ کمزور اور نچلے طبقہ کے لوگ رہے ہیں، جبکہ اصحابِ ثروت الا ماشاء اللہ ! ہمیشہ اس کے مخالف رہے ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
ترجمہ: ”اور جب ہم نے چاہا کہ غارت کریں کسی بستی کو، حکم بھیج دیا اس کے عیش کرنے والوں کو، پھر انھوں نے نافرمانی کی اس میں، تب ثابت ہوگئی ان پر بات، پھر اکھاڑ مارا ہم نے انکو اٹھاکر۔“ (بنی اسرائیل:۱۶)
میرے عزیز! غریبوں کا دین پڑھنا یا دین کو اپنانا اورمال داروں کااس طرف توجہ نہ کرنا ان کے اپنے اختیار اور پسند و ناپسند سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ یہ انتخاب، انتخابِ الٰہی ہے، اللہ تعالیٰ دراصل یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ میں چاہوں تو کمزوروں سے اپنے دین کا کام لے سکتا ہوں اور نہ چاہوں تو حکومت و اقتدار اور ملک ومال کے مالک اصحابِ ثروت اور خاندانی شرافت سے متصف افراد کو اس سے محروم رکھ سکتا ہوں، اگر چاہوں تو کافروں کے گھرانوں سے انبیاء پیداکردوں اورنہ چاہوں تو انبیاء کی اولاد کو اس نعمت سے محروم کرسکتا ہوں۔
غور کیا جائے تو اس میں بھی حکمت الٰہی کا یہ راز پنہاں نظرآتا ہے کہ کل کلاں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ دین اسلام اسلئے پھیلا اور پھولا کہ اسکے پیچھے مال و دولت یا ملک و اقتدار کی قوت و شوکت تھی، بلکہ بتلایاگیا کہ دین و مذہب محض اللہ تعالیٰ کی حمایت و نصرت سے پھیلاکرتا ہے اوراسکی پشت پر بظاہر کوئی نہیں ہوتا۔
لہٰذا اس انتخابِ الٰہی پر جہاں دین اور علم دین سے دور، اصحابِ ثرورت کو اپنی محرومی پر افسوس کرنا چاہئے، وہاں دین دار غریبوں کو بارگاہِ الٰہی میں سراپا تشکر و امتنان ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دین کے باغ کی باغبانی کے لئے منتخب فرمالیا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک اپنے اس دین کے باغ کے لئے پودے لگاتے رہیں گے، جو اس باغ کی سرسبزی و شادابی اوراس کی حفاظت وصیانت کے اعلیٰ مقصد کو پروان چڑھاتے رہیں گے، جیساکہ ابن ماجہ میں ہے:
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ (قیامت تک) اس دین کیلئے پودے لگاتے رہیں گے اورانہیں اپنی طاعت کے کاموں میں استعمال فرماتے رہیں گے۔“ (ابن ماجہ،ص:۳)
(ج) آپ کا یہ ارشاد کہ: ”علماء کے اندر سے تحقیقی کام کا ذوق ختم ہوتا چلاگیا۔“ اگرچہ منجملہ آپ کی بات درست ہے کہ اب پہلے کا سا ذوق علماء کے اندر بھی نہیں رہا، اور جیسی محنت و جدوجہد اور خلوص و اخلاص ہونا چاہئے تھا، اب ویسا نہیں ہے، لیکن اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ اب علماء سرے سے کام ہی نہیں کررہے ، کیونکہ بحمد اللہ! اب بھی علماء حسب استعداد اور حسب ضرورت اپنی، اپنی بساط کے مطابق کام کررہے ہیں، اگر یہ علماء اپنا کام چھوڑچکے ہوتے تو پوری دنیا کا کفر اُن کا مخالف نہ ہوتا، کیونکہ لڑائی اور جنگ وہاں ہوتی ہے جہاں کسی سے اپنے مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیائے کفر کو مسلم علماء کی مساعی اور کاوشوں سے اپنے مفادات کو نقصان پہنچنے کا شدید اندیشہ ہے، اسکی ایک مثال افغانستان پرپہلے روس اوراس کے بعدامریکا کی یلغار ہے، اسی طرح عراق، شام، لبنان وغیرہ،اسکے علاوہ پوری دنیا میں علماء کو ”دہشت گرد’ مذہبی جنونی“ وغیرہ کے القابات اسلئے دئے جاتے ہیں کہ علماء امت دنیائے کفر کی ہاں میں ہاں ملانے کو تیار نہیں۔
جہاں تک تحقیقی کام کا تعلق ہے، تو سو نقائص کے باوجود آج بھی علماء مختلف شکلوں اور مختلف عنوانات پر تحقیقی کام کررہے ہیں، چنانچہ ہندوپاک میں ایسی کئی ایک اکیڈمیاں اور ادارے وجود میں آچکے ہیں جو مسائل حاضرہ پر غور وفکر کرکے امت کی راہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، مثلاً: مولانا مجاہدالاسلام قاسمی، مولانا محمد تقی عثمانی،مولانا سید اسعد مدنی، مولانا مفتی نظام الدین شامزی، مولانا سید نصیب علی شاہ وغیرہ ایسے کئی حضرات ہیں جنھوں نے مختلف سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کرکے امت کو اس طرف متوجہ کیا اور جدید خطوط پر کام کرنے کی دعوت دی،اوراس سلسلہ کا جدید تحقیقی کام مختلف کتابوں کی شکل میں منظر عام پر آچکا ہے، جبکہ ”مجلس مسائل حاضرہ“ کے عنوان سے آپ کے کراچی میں مستقل ایک عنوان ہے، جس کے تحت علماء اہل حق باہمی مشاورت سے جدید وگھمبیر مسائل پر امت کی راہنمائی کافریضہ انجام دیتے آئے ہیں، اس کے علاوہ اگر کسی عنوان پر تحقیقی کام کی ضرورت ہے اور علماء اس سے غافل ہیں تو اس کی نشان دہی کی جائے۔
(د) آپ کے ارشاد کہ: ”علماء محدود ذہن کے ہوگئے“ کا اگر یہ معنی ہے کہ علماء ہر وقت دین ومذہب کی بات کرتے ہیں، اس کے علاوہ، وہ کوئی سوچ نہیں رکھتے، تو آپ کا ارشاد بالکل بجا ہے، کیونکہ ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص جس عنوان پر محنت کرے گا، اس کے ذہن میں ہروقت اسی کے تانے بانے ہوں گے، مثلاً : جیسے وکالت پڑھنے والا ہمیشہ وکالت کے بارہ میں سوچے گا، ڈاکٹر اپنی طب اورجراحت سے متلق سوچے گا، لیکن اگراس کایہ معنی ہے کہ علماء جمود پسند ہیں اورمسائل حاضرہ یا بین الاقوامی امور پر نہیں سوچتے، تو آپ کا ارشاد حالات، واقعات اورمشاہدات کی رو سے بداہتاً غلط ہے، کیونکہ ایسے کسی عالم دین کا نام نہیں بتلایا جاسکتا جو حالاتِ حاضرہ یا امت کی حالت زار سے بے خبر ہو، یا اس کے لئے فکرمند نہ ہو، یا اس کے سدباب کے لئے عملاً متحرک نہ ہو، یہ دوسری بات ہے کہ کسی کی حرکت نظر آتی ہے اورکسی کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے۔
(ھ) جہاں تک حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب مدظلہ کے مکتوب کا تعلق ہے،اس میں انھوں نے مدارس کے طریقہ کار اور نصاب پر کوئی اشکال نہیں فرمایا، بلکہ انھوں نے اربابِ مدارس اور علماء کرام کو طلبہ کی ذہنی، فکری استعداد اور عملی قوت میں اضافہ اور نکھار پیدا کرنے کیلئے فرمایا ہے کہ طلبہ کو ان امور کی طرف توجہ دلائی جائے تاکہ ان سے افادہ اور استفادہ زیادہ سے زیادہ ہوسکے۔
ان کے مکتوب کی غرض یہ ہے کہ اگر ان طلبہ کی ان خطوط پر تربیت کی جائے تو وہ دوسرے میدانوں میں جانے کی بجائے مدارس،مکاتب میں تدریس کے علاوہ اصلاحِ امت کی غرض سے تبلیغی جماعتوں کے ساتھ چلنے اور نکلنے کو اپنی ضرورت سمجھیں گے، توامت کو زیادہ نفع ہوگا۔
جبکہ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ دینی مدارس سے فارغ ہونے والے ذی استعداد افراد، دوسرے میدانوں میں کھپ جاتے ہیں،کوئی اسکول و کالج میں چلاجاتا ہے، تو کوئی فوج وعدلیہ کا رخ کرتا ہے،کوئی تجارت کو اپنا پیشہ بنالیتا ہے، تو کوئی بیرون ملک چلاجاتا ہے، یوں ہماری محنت کاپھل اور ثمرہ دوسرے لوگ کھاتے ہیں اور ہماری محنت کا ثمرہ ہمیں کم اور دوسروں کو زیادہ ملتا ہے، گویا ان کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا خام مال اغیار کی بھٹیوں کا ایندھن نہ بنے، بلکہ ان میں کا ہر فرد مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمدگنگوہی، شیخ الہند مولانا محمودحسن، حکیم الامت مولانا محمداشرف علی تھانوی، شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی، مولانامحمد الیاس کاندھلوی، مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہم اللہ تعالیٰ کا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا جانشین بن کر مدرسہ صُفّہ کے نظام کو چلانے والا بن جائے۔
برادر عزیز! یہ بھی شیطانی حربہ اور چال ہے کہ وہ طلبہ عزیز کے دلوں میں ایسے وساوس و شبہات ڈال کر دراصل انہیں اسلاف سے بدظن کرکے ان علوم سے محروم کرنا چاہتا ہے، چونکہ شیطان براہ راست تو طلبہ کو ان علوم کی تحصیل سے نہیں روک سکتا، اس لئے وہ ان علوم کو بے مقصد، لایعنی، عبث اور فضول قرار دے کرطلبہ کو ان کی تعلیم سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جن طلبہ کے دل و دماغ میں ان علوم یا کتب کی اہمیت نہیں ہوتی، وہ ان میں محنت بھی نہیں کرتے،اور وہ مسلسل ناکام ہونے کی وجہ سے غبی اور بداستعداد ہوجاتے ہیں اور رفتہ رفتہ مدارس سے ان کا جی بھرجاتا ہے، پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ دینی مدارس سے نکل کر دنیائے دنی کے پیچھے مارے مارے پھرتے ہیں۔
شیطان جانتا ہے کہ ایک عالم اس پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے، اس لئے وہ طلبہ کو علوم نبوت سے محروم رکھنے کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے، چنانچہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نوراللہ مرقدہ ”آپ بیتی“ میں اپنے زمانہ طالب علمی کے ایک سبق آموز واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
”اس نابکار (حضرت شیخ الحدیث) کو بزرگی کا جوش ہوا اور مغرب کے بعد حضرت گنگوہی قدس سرہ کے حجرے کے سامنے لمبی نفلوں کی نیت باندھ لی، اباجان نے آکر ایک زور سے تھپڑ مارا اور یہ فرمایا کہ: ”سبق یاد نہیں کیاجاتا۔“ میرے چچا جان (حضرت مولانا محمد الیاس) رحمة اللہ علیہ اس زمانے میں بڑی لمبی نفلیں پڑھا کرتے تھے، بعد مغرب سے عشاء کی اذان کے قریب فارغ ہوا کرتے تھے، لیکن والد صاحب کے یہاں مختصر سی نوافل کے بعد تعلیم کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ اس وقت تو مجھے بہت غصہ آیا، کہ خود تو پڑھی نہیں جاتی، دوسرے کو بھی پڑھنے نہیں دیتے، مگر جلد ہی سمجھ میںآ گیا کہ بات صحیح تھی، وہ نفلیں بھی شیطانی حربہ علم سے روکنے کے واسطے تھا، اس لئے کہ جب نفلیں پڑھنے کا دور آیا، اب نفس بہانے ڈھونڈتا ہے۔“ (آپ بیتی، جلد اوّل،ص:۲۰)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و سنت، علوم نبوت، فقہ وحدیث اور دین و شریعت کا سچا پیروکار اوراپنے اسلاف و اکابر کا صحیح جانشین بنائے اور نفس و شیطان کے مکرو فریب سے محفوظ فرمائے۔
وصلی اللّٰہ تعالی علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین․

درسِ نظامی پر اشکالات کا جواب ... از: مولانا سعید احمد جلال پوری
http://darululoom-deoband.com/urdu/articles/index.php?content=featured&display=detail&id=367

Pakistan’s Quagmire پاکستان - امن اور ترقی کا راستہ کیسے ؟



آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں. ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے. آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
Pakistan is in a state of turmoil, in order to get out of this quagmire some basic issues need to be settled. Ideologically the Pakistani society can be divided in to three main groups: <<Click to read in English as webDoc>>

پاکستان کی ترقی ، خوشحالی اور امن کے لییے کچھ بنیادی معاملات طے کرنا ضروری ھیں. اس وقت پاکستانی سوسائٹی ، معاشره فکری طورپرتین بڑے حصوں تقسیم ہو چکا ہے 

ایک طرف  اشرافیہ , لبرل طبقہ ہے جو مذہب کوہر شخص کا ذاتی معاملہ سمجھتا ہے،ان کے مطابق مذہب، اسلام کا  قانون، سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں . مذہیب عبادت گاہوں تک محدود ہو.کچھ معتدل لوگ اقلیت میں  ہیں. یہ  اشرافیہ لبرل طبقہ  اگر چہ تعداد میں قلیل ہے مگربہت طاقتور ہے .اشرافیہ کل آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر پورے یه پاکستان کی پچاس فیصد سے زیادہ دولت پر قابض ہیں. ٩٩ فیصد پاکستانی ٥٠٠ ڈالر اوسط سالانہ آمدنی  پرغربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں.   حکومت ،معشیت،جاگیریں، کاروبار، بیورو کریسی، فوج، سیاست دان، میڈیا سب  کچھ ان کے قبضہ  اور کنٹرول میں ہے. ان میں کچھ لوگ راے  عامہ ھموار کرنے کے لیے مذہب اسلام کا نام استمال کرتے ہیں. یہ صرف دکھا وہ ہے. طاقت اور پیسے کے زور پر یہ مخالف کوکچل دیتے ہیں 
یہاں اشرافیہ سے مراد ان کے ھمدرد ، فائدہ اٹھانے والے مدد گار اور دوسرے طبقات کے امیدوار بھی شامل ہیں 
کسی صورت میں یہ طاقت چھوڑنے کو تیار نہیں ، یہ مختلف بھیس بدل کر پاور میں رہتے ہیں
ان میں کچھ شدت پسند لوگ بھی ہیں جو مذھبی یا مذہب کی طرف مائل لوگوں کوچاہے وہ معتدل مزاج ہوں، ان کو  جاہل، دقیانوسی ، کم عقل، قابل  نفرت سمجھتے ہیں. ان کے خیال میں تمام مصیبتوں کی بنیاد مذہب اور مذھبی لوگ ہیں. ان کو لبرل فاشسٹ بھی کہا جا سکتا ہے
مذہب سے ان کی نفرت کی دو بڑی ممکنہ وجوھات ہو سکتی ھیں. اول: مغربی ترقی اور ثقافت سے مرعوب. دوئم: مذہبی لوگوں کی قدامت پسندی، جدید دنیا وی ترقی،سائنس ٹیکنالوجی سے بیزاری، صرف عبادات پر ترجیح، مکالمہ کی بجاے اپنی مخصوص فکراور نکتہ نظرکو مذہب کی آڑ میں دوسروں پر زبردستی نافذ کرنے کی کوشس اور اس میں شدت پسندی، دہشت گردی کے استعمال کو جائز سمجھنا. اگر چہ مذہبی لوگوں کی اکثریت معتدل مزاج اور امن پسند ھے


 دوسری طرف خاموش اکثریت ہے

 "اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔" - قرآن ٢:١٤٣ 

اکثریت اسلام کو مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے تمام جگہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں . اور اس کو قیام پاکستان کا مقصد سمجھتے ہیں
ان میں بہت سے امن پسند  معتدل علماء اکرام اور سوسائٹی کے تمام  طبقات کے معتدل  لوگ شامل ہیں. جو دہشت گردی کے خلاف ہیں بہت سے اپنی زندگی اس نیک مقصد میں قربان کر کہ شہید ہو گئے . مگر ان کی آواز دہشت گردی اور لبرل لوگوں کے درمیان گم جاتی ہے . کیوں کہ وہ انصاف اور عوام کے استحصال کے بھی خلاف حق کی آواز بلند کرتے ہیں 

 عوام اسلام سے جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں اور مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں مگر عام طور پر ذاتی زندگی میں اسلام کی اعلی  اقدار سے دور ہیں . جھوٹ دھوکہ ، نا انصافی ،کرپتشن کا دور دورہ ہے. شریعت کا نفاذ اپنے پر نہیں کرتے مگر دوسروں پر نافذ کرنا چاہتے ہیں. عبادات پر زور ہے مگر حقوق العباد پس پشت ہیں. ان کا مسلہ معاشی اور معاشرتی انصاف اور امن ہے جو اسلامی نظام کے زریعے حاصل کرنے کی امید کر سکتے ہیں.


تیسری تعارف اسلامی شدت پسند دہشت گرد اور ان کے خاموش ہمدرد 

   عوام کی  اکثریت شدت پسندی کے بجاے پر امن طریقے سے 
شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں . جبکہ کچھ شدت پسند لوگ اور گروہ جیسے طالبان ، طاقت کے زور پر اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں . اس کے لیے وھ دہشت گردی اور قتل و غارت کو جائزاسلامی طریقہ سمجھتے ہیں . اس سے تمام قابل زکر علماء اوراکثرمذہبی جماعتیں بظاھر اختلاف  کرتے ہیں . مگر خاموشی سے اںدورن خانہ ان کے حمایت کرتے  معلوم ہوتے ہیں


 امام مسجد , خطیب صاحبان کا سوسائٹی میں بہت اثر ہے . جمعہ کے خطبات ور مذھبی اجتما ع میں وھ جو چاہیں تقریر کریں . کسی کی جرات نہیں کہ اختلاف  کر سکے.اکثر خطیب صاحبان دہشت گردوں کی خاموش حمایت کرتے معلوم ہوتے ہیں ان کی مذمت نہیں کرتے ، گول مول بات کرتے ہیں. شائد ان کا
 خیال ھوکہ اس طرح وہ بھی  پاور گیم کا حصہ بن جایں گے

 تمام حکمران فوجی یا سول جمہوری, عوام کے استحصال میں ملوث ہیں ، کرپشن نا انصافی نے عوام کو بدحال کر دیا ہے . وہ امید سے ہر ایسے لوگوں کے پیچھے چلنے کو تیار ہیں جو ان کو انصاف خوشحالی کی امید دکھاتا ہے . مذہبی شدت پسند لوگوں کو وہ ردعمل میں امید لگاتے ہیں . جیسے پرانے لوگ کہتے ہیں کیہ انگریز کا دور اچھا تھا قانون کی حکمرانی تھی وغیرہ وغیرہ . مذہبی لوگ اپنے آپ کو اس لیڈرشپ کے خلا کو پر کرنے کا اهل سمجھتے ہیں. پاور طاقت کا اپنا مزہ ہوتا ہے . ان میں کم لوگ ادراک رکھتے ہیں. کچھ نیک نیت ہیں مگر یہ ان کے بس کا کام نہیں

سوسائٹی فکری طور پر  تقسیم ہو چکی ہے
ایسے حالات میں ضروری ہے کہ کنفیوژن کو دور کیا جائے تاکہ اکثریت ایک نقطہ  نظر پر متفق ہو  جائے. اور پھر تمام توانایوں کو مرکوز کرکہ عظیم مقاصد ، امن . خوشحالی . ترقی کی طرف رواں دواں ہوں
یاد رھے کہ الله تعالیٰ نے مسلمانوں کو تین اقسام میں تقسیم فرمایا ہے: 

ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم  مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ سورة فاطر٣٢ 

پھر ہم نے اس کتاب (قرآن) کا وارث ایسے لوگوں کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چُن لیا (یعنی امّتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو)، سو ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے درمیان میں رہنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے اﷲ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والے بھی ہیں، یہی (آگے نکل کر کامل ہو جانا ہی) بڑا فضل ہے،  
 اگر ہم کچھ بنیادی سوالات کا جواب موجودہ تناظرمیں قرآن سنت کی  روشنی میں معلوم کر لیں. ان پر قومی مباحثہ ہو جس میںآپ, میڈیا ، دانشور ، مذہبی سکالرز علماء ، سیاسی مفکرین ، سول سوسائٹی ، فوجی ماہرین ،  قانون ، خارجہ امور کے ماہرین اور تمام دوسرے متعلقہ ماہرین  اور عوام حصہ لیں . پھر جس پر سب یا اکثریت متفق ہو ان پر پھر ڈٹ کرعمل کریں تو پاکستان ایک ترقی یافتہ باعزت ملک، قوم  بن سکتا ہے  اور کچھ نہیں تو کم از کم عوام میں ایک فکری،  شعوری آگاہی پیدا ہو جائے گی . عوام دھوکہ سے بچ جائیں گے 
کچھ سوالات بظاھر معمولی معلوم ہوتے ہیں مگر گہرے اثرات رکھتے ہیں. 

 :بنیادی مکالمہ کےسوال درج ذیل ہیں 
انسان کا کیا مقصد حیات ہے؟
پاکستان بنانے کا مقصد ؟
. متفقہ آیین پاکستان  جو الله کی حاکمیت اعلی کا اقرار کرتا ہے اور  قرآن سنت کو اول قرار دے, کیا  اس کا مکمل انکار درست ہے ؟ 
کیا اسلامی جمہوریت  جس میں حاکمیت الله کی اور قانون شریعت  کا ہو غیر اسلامی ہے ؟
خلافت میں اگر خلیفہ منتخب ہو گا تو پھر اسلامی جمہوریت میں کیا فرق ہے ؟  
آیین فقط قرار داد مقاصد شامل کرنے سے اسلامی نہیں بنتا اس پر عمل درآمد بھی ہو؟
اسلامی نظریاتی کونسل فقط ایک  سفارشی ادارہ ہے . اس کی تشکیل نو اور اختیارات بھی ہونا چاہے ؟
 اگر موجودہ آیین اور جمہوریت اسلامی نہیں تو متبادل نظام کیا ہے؟ اس کو جمہوری طریقے سے نافذ کریں گے یا ڈکٹیٹر شپ سے ، کیا یہ سب کو قبول ہو گا ؟ 
عام حالات میں اشرافیہ کواگر ختم نہیں تو کم از کم مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ عوامی امنگوں کا خیال کرتے ہوۓ امن، خوشحالی اور ترقی کے اقدام اٹھاے. جب اس کو معلوم ہو کہ اس میں اشرافیہ کی اپنی سروائیول اور ان کا اپنا بھی فائدہ ہے تو وہ کچھ گنجائش دے گی. دہشت گرد اس میں کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں.  اسے کیا اقدام کئے جائیں جو اشرافیہ کوعوام کے فائدہ میں رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرے؟ 
 آیین کے مطابق جمہوری طریقے سے حکومت شوری پارلیمنٹ کا انتخاب سیکشن 62 ، 63 کے سختی سے نفاذ سے قبول ہے  یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس ؟
پاکستان میں نفاذ شریعت کی تعریف اجماع جمہور کے مذہب اسلام  کی ہو گی یا اقلیت شیعہ ، دیوبندی، اہل  حدیث ، تکفیری ، خوارج ، کے مطابق ؟
  اسلامی ریاست میں  چند افراد کے نظریے کی شریعت کے نفاذ کے نام پر بغاوت اور جنگ قتال جائز ہے ؟
 کیا اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کے بعد "دار-الحرب " اور "دارلسلام "  کا قدیم اجتہادی نظریہ ختم ہو کر دنیا اب "دار-الامن " ہے علاوہ ان علاقوں کے جن پر دوسرے لوگ  قابض ہیں؟
 کسی تبدیلی کی صورت میں حکومت پاکستان کے ماضی میں کئے گیے بین الاقوامی میثاق اور معاہدوں کی پاسداری کی کیا اہمیت اور سٹیٹس ہوگا ؟
کیا  حکومت پاکستان دنیا میں مسلم مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لیے یا کسی اور وجہ سے اخلاقی ، مالی امداد یا جہاد  قتال  کا  فیصلہ کرے گی، یا گروہ ، افراد یا علماء کریں گے یا حکومت سب کے مشورے سے کرے گی ؟ اسی صورت میں بین الاقوامی معاہد و ن کی کییا حیثیت ہو گی ؟ 
غیر مسلمان اقوام سے عام تعلقات  ،تعلیمی . جدید ٹیکنالوجی کا حصول ، تبلیغی، اسلامی دعوت , تجارتی اور دفاعی معاہدے، جدید اسلحہ کا حصول اپنے فائدے کے لیے  ممنوع ہے یا جائز ؟
کیا بین الاقوامی سرحدوں کا احترم ہو گا یا ساری زمین الله کی ہے کوئی سرحد نہیں ہو گی ؟
کیا پاکستان ساری دنیا سے جنگ کرے گا اور تباہ و برباد ہو جائے گا ؟
حکومت پاکستان موجودہ نواز شریف  اور سابقہ حکمران  مشرف،  زرداری تمام امریکہ کی پٹھو  ہیں جوامریکا کی غلام ہیں . وہ سب اس کا انکار کرتے ہیں . اس دعوے کی حقیقت کیسے معلوم ہو گی ؟
 کیا حکومت  کے خلاف اس قسم کے الزمات پر بغاوت جائز ہے ؟
کیا جو  عوام بغاوت نہیں کرتے وہ کیا حکومت کے ساتھی ہیں ، مرتد ہیں سب واجب قتل ہیں ، اور جہنمی ہیں . ان کو مارنا ثواب ہے ؟
 انسانی حقوق کیا ہیں ؟ یا انسانی حقوق وہ ہیں جو حکومت وقت دے ؟
کیا پاکستان میں غیر مسلمانوں کے لیے جگہ نہیں اور یہ سب واجب قتل ہیں ؟
کفار ملکوں میں مسلمانوں پر جوابا " ظلم کا کون ذمہ دار ہوگا ؟
پاکستان میں غیر مسلم اقلیت  کے برابر حقوق "میثاق مدینہ" اور آیین کے مطابق  یا کچھ اور ؟
ا قلیت کی مذہبی آزادی، عبادت کا حق اور چرچ ، مندر گردواروں کی حفاظت یا تباہی ؟
 اختلاف رائے کا حق ہو گا . ظالم حکمران کیسے تبدیل کیا جا سکے گا ؟
ریاست میں گروہ ، جتھوں اور پرائیویٹ ملیشیا  کی تشکیل کی اجازت ہو گی ؟ ان کو کنٹرول کون کرے گا ؟
 کیا امر با المعروف نہی عن المنکر ، (نیکی کی ترغیب اور برائی سے اجتناب ) کے لیے حکومت ، افراد، مذہبی اور سوشل تنظیموں کے طریقہ کار اور دائرہ اختیار کو طے کرنے کی ضرورت ہے؟
سماجی اوراخلاقی برایوں نے معاشرے کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کر دیا ہے. اس ضمن میں حکومت، افراد اورمذہبی اور سوشل تنظیموں کی کوششوں میں ربط کی ضرورت اور طریقہ کار؟   
کیا دینی مذہبی تعلیم پر حکومت کا کسی حد تک کنٹرول ہو؟  نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جانے . مدارس کے طلبا دین کے ساتھ دنیاوی ، سائنس کی تعلیم حاصل کریں  مزید امام مسجد کے علاوہ دوسرے کام حصول روزگار کے لیے کر سکیں؟
کیا عوام کا دشت گردی خودکش حملوں سے قتال جائز ہے؟   
فوج، پولیس اور دوسرے قومی دفاعی ادارے اور ان کے افراد مساجد ، گرجوں عوامی اجتماع کی جگہوں پر  طالبان کے خود کش حملوں اور دہشت گردی کو روکیں یا نہیں؟
عوام کی جان اور پراپرٹی کی حفاظت کون کرے گا؟ 

اہل علم ، دانشور حضرات اور تمام عوام الناس سے قرآن ، سنّت ، تاریخی حقائق  اورموجودہ حالات کے تناظر میں  رہنمائی کی  درخواست ہے . اس پیغام کو پھیلائیں تاکہ ایک قومی مکالمے کا آغاز ہو . ہم مل کر ان مسائل کا حل پا سکیں . اور کچھ نہیں تو کم از کم عوام میں ایک فکری،  شعوری آگاہی پیدا ہو جائے گی . عوام دھوکہ سے بچ جائیں گے .
آپ جو کوئی بھی ہیں جہاں بھی ہیں ان  اہم سوالات کے جواب درج ذیل لنکس اور دوسرے علمی ذریے سے معلوم کریں. ان کا آزادانہ تجزیہ کریں اور اپنے اردگرد حلقہ احباب کو بتاییں ، ان سے ڈسکسس کریں. اس طرح لوگوں کو گمراہ ہونے سے بچائیں. دین اسلام کے نام پر دھوکے کی سیاست اور دہشت کرنے والوں کی شیطانی چالوں سے خود بچیں اور دوسروں کو  بھی بچائیں. اس طرح کم از کم  آپ نے اپنا مذھبی اور انسانی فرض ادا کردیا
مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا
جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا،  اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا - قرآن ٤:٨٥
 الله ہماری مدد فرماے  . آمین 


غلطیوں سے درگزر کریں ، گوگل سے ٹائپ کیا
https://www.facebook.com/aftabkhaan 
http://aftabkhan.blog.com
.. http://t.co/H3Ot5U4uDx

  مزید مطالعہ کریں
پاکستان بچاؤ Save Pakistan & Save Pak Army 

Save Pak FB

FrontPage صفحہ اول WakeUp Pakistan! جاگو پاکستان

پاکستان آزادی سے اب تک : کیا کھویا ، کیا پایا؟

Pakistan’s Quagmire پاکستان - امن اور ترقی کا راستہ

Rise and fall of Nations – Law of Quran
 قرآن کا قانون عروج و زوال اقوام


 مسلم وعلماء کے نام کھلا خط :
  1. Short Web link: http://goo.gl/xNolSV  
  2. Google Document: https://goo.gl/xAtokS

Following links will help to find answers to most of issues raised above:
  1. https://dl.dropboxusercontent.com/u/12798195/FreeBooks/PakistanQuagmare.htm
  2. https://docs.google.com/document/d/1nVCHvCIZiTj3Ndknh-KduN40M4LvinosfituBXQoflA/edit?usp=sharing
  3. http://freebookpark.blogspot.com/2012/06/creation.html
  4. http://pakistan-posts.blogspot.com/p/why-pakistan.html
  5. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/04/shariah-or-democracy-conflict-or.html
  6. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/04/blog-post.html
  7. http://pakistan-posts.blogspot.com/2012/09/objectives-resolution-supremacy-of.html
  8. http://pakistan-posts.blogspot.com/2011/06/political-reforms-for-stable-democracy.html
  9. http://faithforum.wordpress.com/jihad-myth-and-reality/
  10. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/illogical-logic-of-takfiri-taliban-to.html
  11. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/10/blog-post.html
  12. http://pakistan-posts.blogspot.com/2012/09/objectives-resolution-supremacy-of.html
  13. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/the-dreadful-doctrine-of-terror-takfeer.html
  14. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/09/rebellion-by-khawarij-takfiri-taliban_440.html
  15. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/learning-science-in-islam.html
  16. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/refutation-of-takfirirs-form-quran.html
  17. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/11/pakistan-basic-issues-need-immediate.html
  18. Ideology of Pakistan - Fact or Fiction - An Analysis - نظریہ پاکستان - حقیقت یا افسانہ: تجزیہ 
  19. Caliphate: Relevant or Redundant: http://goo.gl/245yB  
  20. Islamic Society & Culture:https://t.co/HNUuOUuK  
  21. Islam: A General Introduction: By Sheikh Ali Tantawi
  22. Urdu Translation: "Islam: A General Introduction: By Sheikh Ali Tantawi"

قومی قرض ، اسلام ، حکمران اور عوام کی ذمہ داری National debt, Rulers, Islam and role of Pakistanis


پا کستا ن کے حکمران مسلسل  بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور امیر ممالک سے ترقیاتی کاموں کے نام پر سود پر قرض لے رہے ہیں.کچھ کام ہوتے ہیں مگر زیادہ پیسہ کرپشن سے ینن کی جیبوں میں جاتا ہے. جس حرام مآ ل کو غیر ملکوں مینن کاروبار میں لگایا جاتا ہے یا بنکوں میں رکھا جاتا ہے. اس وقت کرپشن سے کماے دو سو ارب ٢٠٠ ڈالر باہر پڑے ہیں. قیمتی جائیدادیں لندن، دبئی وغیرہ میں سب کو معلوم ہیں.

سامراجی، نوآبادیاتی، اسلام دشمن طاقتیں خاص طور پر مسلمان اور تیسری دنیا کے  مما لک کے کرپٹ حکمرانوں کے زریعے عوام کو غلام بنانے کے لیے قرض، سود اور کرپشن    کو ہتھیار کے طور پر استمال کرتے ہیں. تا کیہ عوام اور وسائل پرمکمل کنٹرول حاصل ہو.     پاکستان پر پچھلے چھ سال میں بیرونی قرض دوگنا ہو گیا ہے .ایک اندازے کے مطابق اس وقت ہر پاکستانی فرد پر تقریبا پچھتر ہزار ٧٥٠٠٠ روپے کا قرض بمع سود واجب ادا ہے .

اسلام مینن  قرض ایک ایسا بڑا گناہ ہے کہ قرض کی ادائیگی ذمہ داری کے بغیر نماز جنازہ بھی نہیں ہو سکتی . حکمران سود پر قرض عوام کی مرضی کے بغیر لیتے ہیں. اب جبکہ عوام کوقرضوں کا  علم  ہو گیا ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ حکومت کو فضول قرض لینے سے  منع کر یں ایسے حکمرانوں سیاست دانوں کوسپورٹ نہ کریں نہ ووٹ نہ دیں .
جو لوگ ان کرپٹ سیاست دانوں کو ووٹ دیں وہ اس جرم اور گناہ میں حصہ دار ہیں :
"جو شخص کسی نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے، اسے بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا اور جو برائی اور بدی کی سفارش کرے اس کے لئے بھی اس میں سے ایک حصہ ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے (قرآن ٤:٨٥سورة النساء)
کرپٹ حکمرانوں،ان کے مددگاروں کو سپورٹ کرنے والے کے لواحقین موت پر  ٧٥٠٠٠ ادا کریں ورنہ جنازہ نہ پڑھایا جائے .
اہل علم سے مزید رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے .
"The soul of the believer is attached to his debt until it is repaid for him” (At-Tirmithi no. 1079).
"Whoever takes the wealth of the people and he intends to pay it back, Allah will pay it back for him, and whoever takes it intending to waste it, Allah will waste him" (Al-Bukhari no. 2387).

* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Humanity, Religion, Culture, Ethics, Science, Spirituality & Peace
Peace Forum Magazines
Over 1,000,000 Visits
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *

Traders in Power politics



In every society, there is a conflict between conservative tradition and modern ideas. Those who believe in old traditions want to preserve them and prevent any attempt made to replace them with new and modern values.
Agents of change belonging to different sections of society make efforts to dismantle the old structure and construct a society based on new ideas which could enhance their role and status. Among these, traders are the most active and vibrant agents of social change, which is why they are criticised and condemned by conservatives who wish to uphold the traditional system which provides them security and privileges.
Edmund Burke (d.1797), the conservative thinker of the 18th century and the author of Reflection of French Revolution (1790) critically examines the role of traders during the French Revolution. According to him, besides intellectuals, it was traders who contributed to the destruction of the old political and social institutions of France which preserved stability and peace.
Is modern day consumerism responsible for social change?
According to him, the aristocracy checked radical change and kept the old system in order. As the French traders helped the revolutionary forces to lessen the power of the church, the nobility and the king, French society became chaotic. The traders on the other hand were interested in change because it would open new venues of profit and benefit their commercial activities. Burke, however, did not consider the role of the French traders positive because their endeavours plunged the society into conflict.

Burke also accused the traders of the East India Company of using illegitimate ways and means to accumulate wealth pilfered from India. He pointed out that as the traders belonged to the lower social classes of England, they lacked the high qualities of the English aristocratic culture, which was primarily the reason that they committed crimes in India by making profits from illegal trade as well as accepting a lot of money as bribes from the Indian rulers.
When they came back to England with all the riches that they had accumulated in India, they polluted English politics by buying land and seats in the parliament. They destroyed the institutions of India and created a vacuum in politics which subverted the local values and norms and destabilised the political structure.
Burke, throughout his parliamentarian career, criticised the East India Company and its rulers. His approach towards the role of the traders remained negative and he regarded them as destroyers and not builders.
Adam Smith (d.1790) in his book Wealth of Nations also castigated the role of the East India Company. According to him, when a trading company ruled India with the help of a military force, its interest was limited to trade concessions. Since the company’s interest was to earn more profit, it consequently ruined the industry in the subcontinent and gave no advantage to the English society through its business. He concluded that whenever traders became rulers, they used political power for profit and not for the welfare of people.
Another intellectual who defended the conservative system was Justus Möser (d.1794) who was the inhabitant of a small German state, Osnabrück. He was skeptical about the new changes which came about as a result of the Industrial Revolution.
He was content with the old lifestyle in his small city where artisans manufactured things according to the local needs and shopkeepers sold commodities of daily use. There was no materialistic desire among people to have extra stuff that was not very useful to them.
However, after the industrial revolution, the situation rapidly changed. With mass production in factories, traders were interested in creating consumers for it. There was an invasion of traders in Osnabrück, who brought new products and sold them cheaply in the market. It greatly affected the traditional artisans and shopkeepers who failed to compete with the aggressive traders and they lost their profession as well as their income.
According to Möser, the village life changed when peddlers reached distant places to sell new products. To Möser, it was the end of the old world in which people had been happy and content with what the local artisans produced for their needs. The change increased material desires among people and transformed them into avid consumers.
In The History of Syedwala, Muhammad Ramzan describes how during the colonial period, a family in a village could live on Rs69 for a whole year, excluding the expense of wheat and daily use products. Life was simple and the desire for consumption was limited.
In the capitalist system, the approach is to attract people to buy new products. In the olden days, shopkeepers did not display their commodities and the customers could not see them openly so they bought what they needed. In the new system, the products are displayed to catch the attraction of the consumers and to create a desire for purchasing and ownership. People also enjoy window shopping as a pastime. The question arises as to whether consumerism is a positive change or is it disastrous for the common man who is constantly competing with others to consume the new product.
The process of globalisation can also be examined on the basis of past historical knowledge. As in the past, the industrial revolution wiped out the traditional artisan classes, similarly globalisation is destroying the local industry by importing cheap goods and commodities and transforming people from producers to consumers.
By Mubarak Ali, dawn.com

Political Reforms or Reconstruction سیاسی اصلاحات یا تعمیر نو؟


بلاشبہ فرد کی طرح قوم بھی نامیاتی وجود ہے‘ جو پیدائ اور عہد طفولیت سے لے کر لڑکپن کی عمر میں شناخت کے بحران اور پھر پختہ عمری و بلوغت کے مراحل سے گزرتی ہے؛ تاہم اگر سیاسی، معاشی، معاشرتی اور اخلاقی استواری و مضبوطی سے مملو ادارہ جاتی قوت کے ذریعے اس کی نشوونما اور پرورش و پرداخت درست طور سے نہ ہو تو یہ معذور و مفلوج انسانی جسم کے مانند پہلے جمود اور بے مقصدیت سے دوچار اور پھر زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ جس طرح انسانی جسم کا ایک عضو پورے جسم کی معمول کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے‘ بالکل اسی طرح ایک ریاست کی صحت اور آسودگی کا دار و مدار بھی اس کے مختلف اجزا کے درست کام کرنے پر ہوتا ہے۔ ہمارے معاملے میں بدقسمتی یہ ہوئی کہ پاکستان ،بانی کی جلد وفات سے اپنے عہدِ طفولیت ہی میں یتیم ہو گیا اور اس کی مربوط و منظم فطری نشوونما کو مسدود کرنے والے نظام کی بدترین خامیوں اور اصول و ضوابط سے انحراف نے اسے صحت مند شباب سے محروم کر دیا۔ یہ ایسی سیاسی و آئینی لغزشوں اور معاشی ناکامیوں سے دوچار ہوا‘ جن کی مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی۔ قائد اعظم ؒ کے بعد پاکستان سمت کے شعور سے محروم اور سیاسی دیوالیہ پن‘ نیز اخلاقی بنجر پن سے دوچار ہو گیا۔ یہ اپنے آپ کو ٹکڑوں میں منقسم کرنے لگا، ربع صدی سے بھی کم عرصے میں نہ صرف اپنا نصف حصہ گنوا دیا‘ بلکہ اپنی تخلیق کا جواز ہی کھو دیا۔
اپنی الم انگیز تقسیم سے حقیقی پاکستان غائب ہو گیا اور باقی ماندہ کو اس کے خود غرض، بدعنوان اور نااہل حکمرانوں نے سیاسی کھیل تماشوں کی سرزمین بنا ڈالا۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس ملک کو اس کے وجود میں آنے کے وقت ''بیسویں صدی کا معجزہ‘‘ قرار دیا گیا تھا اور جو مکمل طور پر جمہوری و آئینی جدوجہد کے ذریعے تخلیق ہوا تھا، اسے اب بھی حقیقی جمہوریت، معاشرتی انصاف اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ ہماری داستاں ایک ایسے معاشرے کی داستاں ہے جو گزشتہ 67 برس سے بے مقصد دائروں میں گھوم رہا ہے۔ ہم اپنے مستقبل کے حوالے سے عدم تیقن کے عالم میں یکے بعد دیگرے بحرانوں سے دوچار ہو کر تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور ایک قوم کی حیثیت سے ہم نے ایک مشترک مقصد کا شعور ،ہنوز حاصل کرنا ہے۔
ملک قومی تشخص کی تعین اور اپنی نسلی و لسانی اعتبار سے متنوع آبادی کے لیے ایک سیاسی نظام وضع کرنے کی پراگندہ کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں بیس سے زیادہ زبانیں اور تقریباً 300 مختلف بولیاں بولی جاتی ہیں۔ یہ تنوع مزمن علاقائی تنائو اور صوبائی عدم ہم آہنگی کا باعث بنا‘ جس کے نتیجے میں قوم سازی کا عمل رکاوٹوں سے دوچار ہو گیا۔ دوسرے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے نظاموں کا جائزہ لیں‘ تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم وفاق کی ایک ایسی انوکھی مثال ہیں جس کا ثانی پوری دنیا میں کہیں نہیں۔ دنیا کے بیشتر بڑے اور درمیانی جسامت کے ملکوں میں انتظامی اکائیوں کے طور سے چھوٹے چھوٹے صوبے یا ریاستیں بنائی گئی ہیں۔ شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں نسل اور زبان کی بنیاد پر صوبے بنائے گئے ۔
پاکستان جیسی جغرافیائی جسامت اور آبادی والا کوئی بھی ملک اتنے کم اور اتنے بڑے صوبوں کا حامل نہیں ۔ حکمرانی کا کوئی بھی طریقہ غیر مساویانہ دروبست میں کارگر نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنے وجودِ سیاسی کو خلقی خامیوں سے لازماً پاک کرنا ہو گا اور اس کے لیے ہمیں اپنے وفاقی ڈھانچے کو از سر نو تشکیل دینے کے علاوہ انتظامی اعتبار سے اتنے صوبے بنانا ہوں گے‘ جتنے کہ حکمرانی کے مقاصد کے لیے ضروری ہوں۔ ہمارا موجودہ صوبائی دروبست طویل عرصے سے عدم استحکام کی وجہ بنا ہوا ہے۔ یہ نہ صرف ملک میں ناقص حکمرانی اور بدعنوانی کو فزوں تر کر رہا ہے بلکہ وفاق کی تشکیلی اکائیوں میں عدم مساوات اور محرومی کا احساس بھی بڑھا رہا ہے۔ بلوچستان اور دوسرے نسبتاً چھوٹے صوبوں میں مسلسل ''پنجابی غلبہ‘‘ تصور کی جانے والی صورت حال نیز اختیارات اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم کے خلاف زیر سطح شدید کبیدہ خاطری موجود ہے۔ ماضی قریب میں نسلی یا لسانی بنیادوں پر مزید صوبے بنانے کے مطالبے کیے جا چکے ہیں۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو ہمارے پاس ایک ایسا ڈھیلا ڈھالا وفاقی ڈھانچہ بچ رہے گا‘ جہاں خود غرض، نامطمئن اور بدعنوان سیاست دان ملک میں تباہی برپا کیے رکھیں گے۔ یہ نظام بے بسی اور بے اختیاری کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے وضع کیا گیا تھا، جس سے ہم دوچار ہو چکے ہیں۔ زمینی سرحدیں از سر نو کھینچنے اور آبپاشی کی نہروں اور معاون نہروں کے رخ از سر نو متعین کرنے سے بچنے کی غرض سے بہترین حل یہ ہو گا کہ موجودہ ڈویژنل کمشنریوں کو صوبوں میں بدل دیا جائے‘ جن کی سربراہی کسی موزوں خطاب کے حامل منتخب انتظام کاروں کو سونپ دی جائے۔ ملک کو صوبوں کی شکل میں چھوٹی انتظامی اکائیوں میں بانٹنے سے ہم نہ صرف علاقائی تلخیاں اور بے اطمینانی مٹا دیں گے بلکہ مقامی اور موثر اور اہل حکمرانی کو بھی یقینی بنا دیں گے۔ نئے صوبوں کی انتظامیہ کو منتخب کونسلوں پر مشتمل ہونا چاہیے جن کا سربراہ عوام کا منتخب کردہ ہو جس کی معاونت کے لیے پیشہ ور افسر شاہی موجود ہو۔ صوبائی اسمبلیاں، وزراء اعلیٰ، کابینائیں اور صوبوں میں اس وقت موجود بڑے سیکرٹریٹ جیسے سیکرٹریٹ نہیں ہونا چاہئیں۔ اس طرح ہمارے سیاسی نظام کے معروف فالتو حصے کی کم از کم ایک بڑی پرت ختم ہو جائے گی‘ جس سے ہونے والی بہت بڑی بچت عوام کی بہتری کے لیے براہ راست دستیاب ہو جائے گی۔
وفاقی حکومت کو چاہیے کہ صرف دس بارہ وزراء رکھے جو دفاع ، معیشت، تعلیم، خارجہ امور، قومی سلامتی، تجارت، مواصلات، انصاف اور قانون جیسے اہم شعبوں کے لیے قومی پالیسیاں بنانے کے ذمہ دار ہوں۔ باقی تمام امور و معاملات نئی صوبائی اکائیوں کو سونپ دیے جانے چاہئیں‘ جو اپنی حدود میں واقع اضلاع کی مدد کرتے ہوئے ،عدالتی اور بجٹ سے متعلق امداد سمیت پالیسی معاملات پر مرکزی حکومت سے رابطے میں رہتے ہوئے براہ راست نگرانی اور رابطے کا کردار ادا کرنے کی ذمہ دار ہوں گی۔ 
حکمرانی کی بنیادی اکائی موجودہ اضلاع ہونا چاہئیں۔ ہر ضلع کا سربراہ اہلیت کے مجوزہ معیار پر پورا اترنے والے عوام کے منتخب کردہ شخص کو ہونا چاہیے، جو تمام مقامی سطحوں پر چھوٹے منتخب اداروں کی مدد سے کام کرے۔ ہمیں بیوروکریسی کے دیو قامت ڈھانچوں کی ضرورت نہیں۔ اس کی بجائے مقامی سطح پر غذا، رہائش، تعلیم، صحت، سلامتی اور انصاف جیسی شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی وسائل مہیا کر کے ''ضلعی حکومتوں‘‘ کو مضبوط بنایا جانا چاہیے اور ان کی اچھی کارکردگی یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا ایک موثر میکانزم وضع کرکے انہیں جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔
ہم ''مزاجاً‘‘ ایسی قوم ہیں‘ جو صدارتی نظام پسند کرتی ہے؛ چنانچہ پارلیمانی نظام لازماً ترک کر دیا جانا چاہیے‘ جسے ہم کبھی اس کی روح کے مطابق نافذ کر ہی نہیں سکے۔ بالغ رائے دہی کی اساس پر استوار ایسا ''صدارتی‘‘ نظام ہمارے لیے موزوں ہے‘ جسے پاکستان کی ضرورتوں کے پیش نظر وضع کیا گیا ہو۔ ہمارے لیے متناسب نمائندگی کا نظام بھی بہتر ہو گا جو سیاسی جماعتوں کو حاصل ہونے والے عوام کے ووٹوں کے تناسب سے قومی مقننہ میں ان کی نمائندگی یقینی بنائے۔ اس طرح غیر جاگیردارانہ، غیر اشرافیہ تعلیم یافتہ درمیانے طبقے کے لوگوں کو منتخب اسمبلیوں تک رسائی حاصل ہو گی۔ ملک میں حقیقی جمہوری کلچر پروان چڑھانے کے لیے ہماری سیاسی جماعتوں کو بھی لازماً جمہوری قالب میں ڈھلنا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں میں نسل در نسل موروثی قیادت پر لازماً امتناع عاید ہونا چاہیے اور سیاسی جماعتوں میں خفیہ رائے شماری کے تحت انتخابات کو بھی قانوناً لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔ اختیار و اقتدار ناجائز طریقوں سے ہتھیا لینے والے پرانے غاصبوں سے چھٹکارا پانے کے لیے موجودہ فرسودہ نظام میں بلاتاخیر مؤثرتبدیلی لائی جانی چاہیے۔ عقل و خرد اور بے غرضی کو ہمارے لیے معیار ہونا چاہیے۔ یہی وقت ہے کہ ہم خود غرضی اور تنگ نظری پر مبنی سوچوں سے بالاتر ہو کر حقیقی سیاسی، معاشی، عدالتی، تعلیمی، انتظامی اور زرعی اصلاحات کے ذریعے نظام میں تبدیلیاں لائیں۔ نئے پاکستان کے لیے خواب غفلت سے جگانے والی ایک واضح اور اونچی آواز پہلے ہی بلند کی جا چکی ہے۔ نہ تو چہرے بدلنے کا کچھ فائدہ ہو گا اور نہ ہی محض انتخابات کے انعقاد سے کوئی فرق پڑے گا۔ نظام کو لازماً بدلنا ہو گا۔ حقیقت میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی تشکیل نو اس طرح کی جائے جس طرح قائد اعظم ؒ نے سوچا تھا یعنی نسلی اور لسانی لیبلوں اور فرقہ وارانہ و علاقائی عدم ہم آہنگی سے آزاد پاکستان۔
(شمشاد احمد سابق سیکرٹری خارجہ )dunya. com
  مزید مطالعہ کریں
پاکستان بچاؤ Save Pakistan & Save Pak Army 

Save Pak FB

FrontPage صفحہ اول WakeUp Pakistan! جاگو پاکستان

پاکستان آزادی سے اب تک : کیا کھویا ، کیا پایا؟

Pakistan’s Quagmire پاکستان - امن اور ترقی کا راستہ

Rise and fall of Nations – Law of Quran
 قرآن کا قانون عروج و زوال اقوام

Wakeup Call... Big trouble ahead! New wave of terror in offing: New Taliban, JuD?





In 80s Afghan Mujahdeen were financed, trained and equipped by CIA with assistance by Pakistan Saudi Arabia and allies to defeat USSR. Islamic concept of  Jihad was used as motivating force to recruit free soldiers & financiers [like Osama bin Laden] form all over the Muslim world. After defeat of USSR they were abandoned, left to fight among themselves for power and plunder. Al Qaida, Taliban were born, 911 happened and rest is history. Pakistan suffered over 50,000 deaths by terrorists Takfiri, Pakistani Taliban. ISIS, DAESH in Middle East is an other offshoot. One lesson is  very clear, the stateless militant groups supported to gain political & military objectives are Frankenstein,, the monster which ruins its mentor. JuD apparently is useful organisation with good social work record, however it is accused of supporting Jihad in Kashmir with covert official patronage, the charge denied. [One fails to comprehend the unprecedented expansion of this organization, right under the nose of government?] Its criticism of un-Islamic political system  and political stance on various national and international issues is very clear, though it pretends not to be a political party. While the ground is prepared it can enter the political arena at any convenient time. The people of Pakistan provide donations and charity to religious organizations, but they do not consider them for vote in elections. In frustration they may switch to militancy, a common experience of past. JuD has big following all over Pakistan, especially in Punjab. Any switch will have disastrous consequences,
~~~~~~~~~~~~


But hang on a second, what was that going on in Lahore? Was that the pecking order being reasserted? Was Imran effectively being told, yeah, thanks for all your help, but we’ll take it from here?
For all their talk, the boys are silent on the original besties, the ones with fighting India and freeing Kashmir as their reasons for being.
For there was the JuD running around the provincial capital of the most politically important province in the land, acting as if it owned the city. All black and white flags with swords and speakers that could put a rock concert to shame.
On the very day that Imran was supposed to be using to try and topple the government again. Pause and think about that for a moment: the JuD, née LeT, had plans in Lahore to which the business of toppling a government had to take a back seat.
You can imagine the TTP muttering to itself, we wouldn’t have bothered with Fata if we had known we could have had Punjab.
And that’s the problem: for all their talk, the boys are silent on the original besties, the ones with fighting India and freeing Kashmir as their reasons for being.
Which leaves you and me having to figure out on our own what kind of Pakistan the chief has in mind when he says all militants will be eliminated, but in that very week Lahore is taken over by the JuD.
So, what’s going on?
There are three possibilities. The obvious is: they don’t see LeT — throw in the Hizb and Jaish and a few others — as a problem. Militancy only became a problem because a) indiscipline broke out and b) they turned their guns on us.
But the Kashmir folk are relatively disciplined and have no interest in biting the hand that feeds it. Because they’re a different category, because they don’t belong in the militancy column, there’s no point trying to conflate issues or confuse them. Flat-out denial, then, is one possibility.
Possibility two is that the silence is less because of affection and more because of confusion. If you cut them loose, then what? If you decapitate the leadership, what kind of other risks are you unleashing?
It may be easy enough to scoff at this option — we created the monster and the monster still heeds our every call and yet we try and pretend that we’re really scared of the monster — but it is worth exploring.
Because, while the world may be incredulous, the truth is that often our boys’ policies are rooted in fear, not the machismo we project.
Factor in the latest from India too. With Modi stamping his feet in India and eyeing a slice of the pie in Kashmir, the Kashmir folk here can’t be kept muzzled. For keep them muzzled now and they lose all their credibility. And there’s nothing quite like a militant group without credibility.
So even if the boys themselves wanted to keep them muzzled, now was not the time to push too hard. (Conversely, maybe some of the boys felt that by trotting out the proxies a dismissive Modi can be incentivised to act a little more humble.)
The third option is loopy, but with promise (if you’re not particularly perturbed by a right-wing Pakistan with roots in militancy): mainstream them. Encourage them to run around and market their appeal and simultaneously nudge them to get into the politics game.
They’re too big to ask them to wrap up and go home. They’re too organised to expect them to give it all up suddenly. They’ve got too wide a network to hope they’ll call it quits. So why not encourage them to redirect their energy? And there’s nothing like politics to dissipate energy.
See how that works? Militants with guns that are firing here get eradicated; militants with guns that are silent but pointed in the right direction get to go into politics. For everyone else, normality ensues. Who says the boys don’t have a plan?
Expect, if you look at the three options masquerading as plans, what we’re really left with is: denial, fear and flat-out crazy. Welcome back, boys.
Excerpts from "What strategy?", by Cyril Almeida, dawn.com , cyril.a@gmail.com , Twitter: @cyalm


Hafiz Muhammad Saeed (حافظ محمد سعید; born 1948) is the amir of Jama'at-ud-Da'wah, which operates mainly from Pakistan and has had sanctions placed against it as a terrorist organisation by the United Nations.

The organisation is banned as a terrorist organisation by India, the United States, the United Kingdom, the European Union, Russia and Australia. India considers him one of its most wanted terrorists because of his alleged ties with Lashkar-e-Taiba and its involvement in attacks against India, and Saeed is listed on the NIA Most Wanted list. The United Nations declared Jama'at-ud-Da'wah a terrorist organisation in December 2008 and Hafiz Saeed a terrorist as its leader.In April 2012, the United States announced a bounty of $10 million on Hafiz Saeed, for his alleged role in the 2008 Mumbai terror attacks. Since 2008, various Indian politicians have demanded that Saeed be handed over but there is no extradition treaty between the two countries.

Hafiz Saeed pleaded innocence and claimed that he has no links with LeT and that India has no evidence and no real proof behind their allegations. Pakistani officials said that Saeed was helping in identification and rehabilitation of former militants. Currently, he lives in Lahore, Pakistan in a "fortified house, office and mosque" that is guarded by Pakistani police and his supporters.He gives interviews to Western media, including the New York Times newspaper.
Cooperation with Islamabad:
In keeping with Pakistani establishment's wishes, Lashkar has been keeping focus on India and Saeed is among those who are thought to have helped Pakistan in capturing important al-Qaeda members like Abu Zubaydah. Senior Pakistani officials have said that Saeed is helping in de-radicalization and rehabilitation of former extremists and that security is being provided to him because he could be targeted by militants who disapprove of Saeed's co-operation with Islamabad.
Pakistani Government:
Hafiz Saeed has criticised Pakistani leaders and has stated that they should aspire to be more like British Prime Minister David Cameron and London Mayor Boris Johnson. He had declared his admiration for the British Conservative Party along with several Tory MPs when he lodged a petition to the Lahore High Court calling for public officials in Pakistan to tone down their privileged lifestyles. According to The Daily Telegraph, Saeed wrote in the petition that while Pakistan's political elite were 'living like kings and princes in palatial government houses,' Britain's prime minister lived in a 'four-bedroom flat.' He added, 'When the sun never set on the British Empire, the chief executive of that great country lived in the same house of a few marlas in a small street. That is truly Islamic, that is like following the Sunnah of the Holy Prophet.'
Indian Government:
In January 2013, India's then Union Home Minister Sushil Kumar Shinde's released a statement on the alleged existence of Hindu terrorism as well as the existence of Hindu terror camps on Indian soil, being run and organised by the BJP and the RSS.As a result, Lashkar-e-Taiba and Jamaat-ud-Dawa welcomed Shinde's statements and congratulated him for admitting the existence of Hindu terrorism. Hafiz Saeed demanded that the United States take serious notice of this statement by the Indian home minister regarding Hindu terrorist camps in India. "The US should now carry out drone attacks on these terror camps in India," Saeed said.
Responding to a question about the nuclear warning issued by Indian authorities in Jammu and Kashmir after the 2013 India–Pakistan border incidents, Saeed said that in case of a nuclear war between India and Pakistan, India should rather distribute nuclear safety pamphlets in Delhi, Mumbai and Calcutta rather than in Kashmir.
[Source: http://en.wikipedia.org/wiki/Hafiz_Muhammad_Saeed]

JAMAT-UD-DAWA PAKISTAN ......... AIK JAIZAA , AIK TAARUF
This video gives a brief view of what JAMAT-UD-DAWA PAKISTAM actually is and what it actually does. Simply believe in Serving Allah and the humanity, love it and no one ever leaves what he loves. [Lahore Media Cell JUD PAKISTAN]
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
SHOW OF STRENGTH 
By Amjad Mahmood 

`BE patient, you the people of God. You are here to please Allah Almighty and not for enjoyment.

So bear with fortitude the inconvenience of waiting for your turn,` Ehsanullah, a fourth-year medical college student, consoled those queuing outside the venue for the Jamaatud Dawa`s two-day ijtema (congregation) on the sprawling lawns of Minar-i-Pakistan.

The participants were getting impatient as they waited in long queues at the five entrances to the venue, where JuD emir Hafiz Muhammad Saeed had begun his address at the concluding session.

The ijtema was an annual activity until the party, then named Lashkar-e-Taiba, was banned in 2002 after an attack on the Indian parliament allegedly carried out by its henchmen. From the ashes of the LeT (claimed to have since beenconfined to Kashmir) emerged Jamaatud Dawa. For the first time, the event was being held in the Punjab capital since the inception of the outfit in the mid-1980s, and after a break of almost 12 years.

Security arrangements were extraordinarily tight as organisers feared threats especially to the party`s leadership, which openly advocates jihad in Kashmir. Besides 4,000 policemen, at least 15,000 volunteers were on duty. One had to cross three security rings besides passing through a long makeshift bazaar to reach the designated spot for male participants. Tighter security measures had been taken for the adjacent but separate area for burqa-clad female activists who, the organisers said, constituted a third of the total number of participants.

JuD spokesman Yahya Mujahid claimed they had prepared food for 400,000 people for dinner with the help of 2,500 cooks at the kitchen set up on the site but the arrangements proved inefficient. The local cadre had to be mobilised to arrange for more food from nearby eateries.

Most participants came from rural backgrounds, and it was hard to spot anyone without a beard. Though consisting largely of illiterate or semi-literate youth, many students, including those from engineering universities and medical colleges were present.

Hafiz Saeed is a former faculty member of the University of Engineering & Technology, Lahore, and many UET graduates like Naveed Qamar hold key positions in the outfit.

Motivated by `religious zeal and fervour`, they had turned up to get training for Jihad. Naeemur Rehman, an IT expert, explained this as `academic` training through lectures and sermons, and not military instruction. The gathering of people with similar thinking inhundreds of thousands at one place also infused a new spirit of determination among the activists, he added.

Ilyas Salfi, a law graduate, argued that jihad was not confined to armed struggle but extended to helping those in distress through lawful means. The JuD`s rescue and relief work during the 2005 earthquake (recognised by the UN), after the 2010 floods and later, and in the recent Thar crisis through its social welfare activities under the banner of Falah-i-Insaniyat Foundation were examples of jihad, he said.

Two Hindus from Sindh and a Christian impressed by JuD`s relief activities embraced Islam at the ijtema.

Notwithstanding its welfare activities, the group is banned by the US, the EU, India and Russia as a terrorist organisation. In June 2014, Washington declared JuD an LeT affiliate and announced head money for Hafiz Saeed and Abdur Rahman Makki, JuD`s political wing chief and Saeed`s brother-in-law.

Unlike the festive atmosphere of the earlier rallies of the Pakistan Awami Tehreek and Pakistan Tehreek-i-Insaf at the same place a few weeks ago, the JuD congregation was a serious affair. In a show of equality and non-discrimination, leaders and participants sat on carpets and mats; there was no chair for anyone, except a couple of security guards.

One heard the chants of `Allah-o-Akbar`, instead of party songs played by DJ Butt. An organiser said a principal objective was to show that the religious parties were a force to be reckoned with and that if secular parties (a reference to the PTl and PAT) could attract crowds at their `dance and song` gatherings, the JuD could draw larger crowds motivated by their desire to establish Islam`s supremacy.

An insider claimed that the outfit was to organise the event at its headquarters in Muridke and the sudden decision to change the venue was taken two weeks before so that the congregation could be seen `as a response to the public meetings of secular parties`. He also hinted at the forging of a new religious alliance.

JuD spokesman Yahya Mujahid defended the decision to change the venue, saying Muridke could not accommodate so many people and that the provision of food and sanitation facilities in Lahore was much easier. He also said they tried to benefit from the arrangements the Jamaat-i-Islami made for its ijtema 10 days ago.

The outfit, like other Jihadi and religious organisations, collects donations round the year, particularly zakat during Ramazan and hides of animals on Eidul Azha, to meet the expenses for its anti-India and pro-jihad campaigns. To cover the costs of the ijtema, participants were asked to donate generously in cash and kind. `Please leave behind your beddings, blankets and shawls for the mujahideen. Your donations will earn you a higher place in the hereafter,` echoed the announcement made at the conclusion of the congregation. And most participants obliged.
http://epaper.dawn.com/DetailImage.php?StoryImage=07_12_2014_016_005

Related:

  1. http://en.wikipedia.org/wiki/Hafiz_Muhammad_Saeed
  2. http://jamatdawa.org/en/
  3. https://lubpak.com/archives/tag/jamaat-ud-dawa-jud-and-lashkar-e-taiba-let
  4. http://takfiritaliban.blogspot.com/
  5. Pictures gallery: http://goo.gl/r21Qjs
  6. Videos: http://goo.gl/pNzx8y

Hafiz Saeed Exclusive Interview on Maazrat Kay Saath ...

tune.pk/.../hafiz-saeed-exclusive-interview-on-maazrat...

India's most wanted - Hafiz Saeed - Video Dailymotion



  1. www.dailymotion.com/.../x182mk7_india-s-most-w...

    Dec 6, 2013
    Watch the video «India's most wanted - Hafiz Saeed» uploaded by Awesome Videos on Dailymotion.

Hafiz Saeed interview live with ved prakash vaidik exclusive ...

tune.pk/.../hafiz-saeed-interview-live-with-ved-prakash...