Featured Post

FrontPage صفحہ اول

Salaam Pakistan  is one of projects of  "SalaamOne Network" , to provide information and intellectual resource with a view to...

Democracy & Islam

DEMOCRACY - Javed Ahmed Ghamidi vs Hassan Nisar and Aorya Discussion: http://t.co/GR3cblCSAY
Dr.Israr Ahme (r.a) Javed Ghamidi: Islamic State: http://goo.gl/5esjwH
اسلامی جمہوریہ پاکستان

پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے جس میں بسنے والے لوگوں کی اکثریت مسلمان اور نظام حکومت پارلیمانی ہے۔ پاکستان میں نافذ جمہوری طرز حکومت کا مفہوم مغربی جمہوریت سے یکسر جد اہے جس میں قانون سازی کا کل اختیار جمہور کے نمائندوں کے پاس ہوتا ہے اور وہ اپنی دانست میں جس قانون کو عوام کے مفاد میں سمجھتے ہیں اس کی تشکیل کے لیے جدوجہد کرتے رہتے ہیں ۔ان قوانین کے نفاذ کے لیے بائبل کی تعلیمات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ۔اسلامی جمہوریت کی جامع تعریف یہ ہے کہ پارلیمان یا شوریٰ کے منتخب ارکان قرآن و سنت کے دائرے میں رہتے ہوئے قانون سازی کرسکتے ہیں اورریاست میں قرآن وسنت کے خلاف کسی بھی قانون کو بنانے کی اجازت نہیں ہو گی ۔اگر بفرض محال پارلیمان اپنی حدود سے تجاوز کرتی ہے تو عدالتوں سے رجوع کیا جا سکتا ہے اور پارلیمان کو قرآن وسنت کے تابع بنانے کے لیے آئینی جدوجہد کی جاسکتی ہے ۔
دنیا میں بھر میں چلنے والی اسلامی تحریکوں کے جمہوریت کے حوالے سے مختلف نظریات ہیں ۔بہت سی تحریکیں اسے غلبہ دین کی جدوجہد کا راستہ‘ جبکہ ایسی تحریکیں بھی تعداد میں کم نہیں ہیں جو جمہوریت کو اسلام کے لیے ''مہلک‘‘ سمجھتی ہیں اور گمان رکھتی ہیں کہ جمہوریت مغرب کا‘ عالم اسلام کے خلاف ہتھیار ہے اور اس کے ذریعے کبھی بھی اسلامی نظام قائم نہیں ہو سکتا ۔گو کہ تمام اسلامی تحریکوں کا ہدف اسلام کا غلبہ ہے لیکن جمہوریت کی تائید اور مخالفت میں عرصے سے زور دار بحثیں جاری ہیں۔ جمہوریت کے مخالفین قرآن مجید کی ان آیات کا حوالہ دیتے ہیں جن میںزمین میں بسنے والوں کی اکثریت کو کم عقل اور جاہل گردانا گیا ہے۔ اس کے برعکس جمہوریت کے حامی قرآن وسنت کی بالادستی کی موجودگی میں جمہور کی رائے کی افادیت کے قائل ہیں اور اس کو اجتہادی رائے کے طور پر قبول کرتے ہیں ۔ان بحثوں پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جمہوریت کی حمایت یا مخالفت میں پیش کیے جانے والے دلائل کا تعلق بنیادی طور پر عصری مسلمان حکومتوں اور معاشروں کے ساتھ ہے ۔چونکہ عصری مسلمان حکومتوںاور معاشروں کی اکثریت اسلام کی آفاقی تعلیمات سے بہت دور ہے اس لیے جمہوریت کے ناقد ان کے طرز عمل سے مایوس نظر آتے ہیں جبکہ نامساعد حالات میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کا جذبہ رکھنے والے لوگ نظام کی تبدیلی کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں تصادم اور خونریزی سے بچ کر غلبہ دین کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے یہ بہترراستہ ہے ۔ ناقدین اس کو سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ تصورکرتے ہیں جبکہ حامیوں کے نزدیک اس جدوجہد کا متبادل ٹکراؤ ہے۔ ان دونوں گروہوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں گروہ ہی اسلامی نظام کو انسانیت کی فلاح و بہبود کا واحد راستہ خیال کرتے ہیں ۔دونوں طبقات کئی مرتبہ اپنی اپنی سوچ کے تحت مختلف محاذوں پر سرگرم نظر آتے ہیں اور اسلامی نظام پر پختہ یقین رکھنے کی وجہ سے اکثر و بیشترایک دوسرے کے لیے نرم گوشہ بھی رکھتے ہیں ۔
علماء کی اکثریت آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے جبکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد انتخابات ،پارلیمان اور آئینی ڈھانچے سے بدگمان ہے اور نظام کی مکمل تبدیلی چاہتی ہے۔ بعض نوجوان‘ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے طرزِعمل سے اتنے مایوس ہیں کہ سیاسی جدوجہد سے لا تعلق ہو کر میدان دعوت میں اتر چکے ہیں اور سیاسی جدوجہد کو دینی جدوجہد کی بجائے دنیا کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک فرد کی اصلاح کے لیے کام کرنا ہی کافی ہے اور ارکان اسلام کی بجا آوری ان کا سب سے بڑا ہدف اور منزل ہے ۔
اس سارے پس منظر میں جب نفاذ شریعت کی بات کی جاتی ہے تو معاشروںمیں متضاد آراء اور خیالات ابھر کر سامنے آجاتے ہیں ۔ان افکار کی تشکیل میں عصری حکومتوں کی ناکام خارجہ اور داخلہ پالیسیاں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں ۔آزاد طرز زندگی کے بہت سے حامی شریعت کے فوائد اورثمرات پر غور کرنے کی بجائے کون سی شریعت ؟کون سی شریعت؟ کا راگ لاپنا شروع کر دیتے ہیںاور کئی مرتبہ یہ لوگ آئین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ نتیجتاً شرعی نظام کی افادیت پر یقین رکھنے والا ایک بڑا طبقہ بھی آئین کی مخالفت پر اُتر آتا ہے ۔جب مختلف حیلوں بہانوں سے نظام شریعت پر کبھی مبہم اور کبھی واضح انداز میں تنقید کی جاتی ہے تو رد عمل کے طورپر شرعی قوانین کے ہمنوا بھی آئین کے عیب ٹٹولنا شروع کر دیتے ہیں ۔اس کشکمش میں اعتدال کا راستہ در حقیقت علم اور حکمت کا راستہ ہے ۔اہل اسلام کے لیے علم و حکمت کا حقیقی سر چشمہ قرآن و سنت ہے اور اہل فکرو دانش اس مسلمہ حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ قرآن و سنت ہر قسم کے عیب سے پاک ہیں اور ان کے آئین اور مجموعہ قانون ہونے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے برعکس ریاستی آئین اور قانون اجتہادی جدوجہد ہے اور اس عمرانی معاہدے کو کبھی بھی قرآن و سنت کا متبادل قرار نہیں دیا جاسکتا ۔اس میں ہر وقت بہتری کی گنجائش اور امکانات موجود رہتے ہیں اور جمہور کے نمائندے بوقت ضرورت‘ کثرت رائے سے نئے قوانین تشکیل دے سکتے ہیں جبکہ دو تہائی اکثریت سے سابقہ قوانین میں ترمیم کرسکتے ہیں۔ اگربا لفرض قرآن و سنت کی واضح خلاف ورزی ہو رہی ہو تو ان قوانین کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔قرآن و سنت کو جب آئین کہا جاتاہے تو اس کا لازمی مطلب عصری آئین کی مخالفت نہیں ہوتا بلکہ اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآ ن وسنت کے مسلمہ احکامات پر کسی بھی سمجھوتے اور لچک کی گنجائش نہیں۔ 
تحریک طالبا ن اس موقع پر اگر آئین پر تحفظات کا اظہار کرتی ہے تو اس کا نتیجہ ہر گز یہ نہیں نکلنا چاہیے کہ اسلامی قوانین پر تنقید شروع کر دی جائے۔ افکار کی اس خلیج کو پاٹنا مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں ہے ۔آئین پر یقین رکھنے والوں کو پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑانی چاہیے کہ پاکستان کے کئی نمایاں سیاسی راہنماؤں اور مختلف آمروں نے مختلف ادوار میں آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ مغربی پاکستان کے ایک بڑے راہنما نے مشرقی پاکستان کی ایک بڑی جماعت کا مینڈیٹ تسلیم نہ کیا اور اس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا ۔ان تمام معاملات کے باوجود بھی نظام چلتا رہا اورمعاملات آگے بڑھتے رہے۔ آئین شکنی کرنے والے اسی معاشرے کا حصہ رہے اور بعد ازاں آئین کی حاکمیت کا نعرہ لگا کر اپنے ماضی کے معاملات کی تلافی کرنے کی کوشش میں مصروف اور مشغول رہے ۔
آئین سے بدگمان لوگوں کو بتدریج یہ بات سمجھائی جا سکتی ہے کہ پاکستانی آئین قرآن وسنت کی بالا دستی کی ضمانت دیتا ہے اور اس کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی نفاذ شریعت کے لیے جدوجہد کی جاسکتی ہے ۔اس بات پر محنت کرنے کے ساتھ ساتھ آئین کی ترجمانی کرنے والوں کو بھی اس بات پر غور وفکر کرنا چاہیے کہ کیا زبانی کلامی قرآن وسنت کی بالا دستی کا نعرہ لگا نا کافی ہے ؟
یہ بات درست ہے کہ قرار داد ِمقاصد اور آئین میں قرآن وسنت کی بالادستی کی ضمانت دی گئی ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ حکمرانوں کے معاملات اور فیصلے کئی اعتبار سے قرآن وسنت سے متصادم ہیں۔ سود کا چلن عام ہے ،فحاشی عروج پر ہے،زنا بالجبر کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہاہے ،کئی بڑے ہوٹلوں میں شراب بک رہی ہے ،برائی کے اڈے چل رہے ہیں اور قتل و غارت کی انتہا ہو گئی ہے۔ ان حالات میں کیا یہ کہنا کافی ہے کہ آئین قرآن وسنت کی بالادستی کی ضمانت دیتا ہے ۔
قرآن وسنت کے آفاقی قوانین تو ہر شخص کی جان ، مال، عزت اور آبرو کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ کیا ہمارے ملک میں ہر شخص کی جان،مال ،عزت ، اور آبرو محفوظ ہے ؟اگر جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں آئین کی روح پر عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی آئین کو تنقید کا نشانہ بننے سے بچایا جا سکے ۔
Alama Ibtesam Zaheer. Dunya. Com.pk
Video: http://goo.gl/5esjwH

ووٹ کی شرعی حیثیت مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع ؒ Importance of Vote according to Sharia: By Mufti Azam Pakistan Muhammad Shafi

جمہوریت ، اسلام اور پاکستان حسن نصر ، غامدی اوریا :DEMOCRACY - Javed Ahmed Ghamidi vs Hassan Nisar and Aorya Debate:

DEMOCRACY - Javed Ahmed Ghamidi vs Hassan Nisar and Aorya Debate:

Free-eBooks: http://goo.gl/2xpiv
Peace-Forum Video Channel: http://goo.gl/GLh75

Electricty load shedding: The Quick solution solarization

جیسے عوام ویسے حکمران
چند سال قبل ایک انگریز پاکستان آیا‘ وہ مقامی گائیڈ کے ہمراہ مختلف علاقے وزٹ کر رہا تھا کہ ایک جگہ اس نے ایک نہر دیکھی جہاں بہت سے گوالے اکٹھے تھے اور دودھ میں پانی ملا رہے تھے۔ انگریز نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہیں۔ جواب ملا کہ یہ دودھ میں پانی ملا رہے ہیں تاکہ زیادہ نفع کما سکیں۔ انگریز نے ٹھنڈی آہ بھری اور بولا‘ کاش میں پاکستان میں رہ سکتا اور یہاں بزنس کرسکتا۔ گائیڈ نے پوچھا کون سا بزنس ؟ انگریز بولا‘ میں یہاں خالص دودھ بیچتا ‘ ڈھیروں منافع کماتا اور یوں بہت امیر ہو جاتا۔
یہ واقعہ مجھے ایک سیمینار میں ایک برطانوی بزنس مین کی بات سن کر یاد آیا۔ اس نے کہا کہ پاکستان میں جس قدر سورج کی روشنی میسر ہے‘ اتنی برطانیہ میں ہوتی تو پورا برطانیہ سولر انرجی پر منتقل ہو چکا ہوتا۔ آپ حیران ہوں گے کہ برطانیہ میں سورج زیادہ سے زیادہ نو گھنٹے کے لیے نکلتا ہے اور اس دوران بھی زیادہ وقت بادل چھائے رہتے ہیں ‘ اس کے باوجود برطانیہ میں گھر‘ دفاتر اور ادارے تیزی سے سولر انرجی پر منتقل ہو رہے ہیں اور اس کی دو بڑی وجوہ ہیں‘ ایک ‘ یہ گرین انرجی ہے ‘ یہ آلودگی سے پاک ہے ‘ اور دو‘ اس کا ماہانہ کوئی بل نہیں آتا ‘ یہ بالکل مفت ہے۔ اس کے مقابلے میں آپ پاکستان کو دیکھ لیجئے ‘ یہاں سورج کم از کم دس گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ چودہ گھنٹے نکلتا ہے‘ اس کے باوجود یہاں سولر انرجی ابھی تک زچگی کے مراحل میں ہے‘ موجودہ حکومت نے بہت سے ممالک کے ساتھ پاکستان
میں سولر انرجی پلانٹس لگانے کے معاہدے کئے ہیں لیکن یہ بھی کاغذوں سے باہر نہیں نکلے۔گزشتہ سال بلوچستان میں تین سو میگا واٹ کا ایک سولر پارک بنانے کا جو اعلان ہوا ‘ اس پر کام ہی شروع نہیں ہوا۔اس کے مقابلے میں آپ بھارت کو دیکھ لیجئے۔ جاپان کے بعد بھارت امریکہ کے لیے دوسری بڑی سولر انڈسٹری ہے‘ بھارت کے بارہ ہزار ملازمین امریکہ سمیت درجنوں ممالک کے لیے سولر سیل بنانے کا کام کر رہے ہیں اور گزشتہ دنوں جب ایک امریکی خاتون سفارت کار کی امریکہ میں گرفتاری ہوئی تو اس کے ردعمل میں بھارت نے امریکہ کے بہت سے آرڈر کینسل کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد امریکہ نے بھارت کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ بھارت سولر انرجی کیلئے بہت سنجیدہ ہے‘ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہ راجستھان میں چار ہزار میگا واٹ کا ایشیا کا سب سے بڑا سولر پلانٹ لگا رہا ہے۔2010ء میں بھارت سولر انرجی سے صرف اٹھارہ میگا واٹ بجلی بنا رہا تھا جو صرف تین برسوں میں دو ہزار میگا واٹ تک جا پہنچی ہے جسے 2022ء تک 22ہزار میگا واٹ تک لے جایا جائے گا۔ آپ سعودی عرب کو دیکھ لیجئے۔ سعودی عرب فی الوقت بجلی تیل کے ذریعے بنا رہا ہے جس کی
وجہ سے اسے تیل کی برآمد میں بہت زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ سعودیہ کا ارادہ ہے کہ 2032ء تک ایک سو بلین ڈالر کی خطیر رقم سے اکتالیس ہزار میگا واٹ بجلی سولر کے ذریعے پیدا کی جائے اور اگر ایسا ہو گیا تو ایک بیرل ایک سو ڈالر سے زیادہ میں برآمد ہو سکے گا او رآپ ایتھوپیا کو دیکھ لیجئے۔ یہ ملک فاقہ کشی اور قحط کی وجہ سے معروف ہے لیکن اسے بھی عقل آ چکی اور یہ تین سو میگا واٹ بجلی سورج سے کشید کر رہا ہے جسے پانچ برسوں میںدو ہزار میگا واٹ تک پہنچایا جائے گا۔ دنیا کے پانچ ممالک ایسے ہیں جو دس ہزار میگا واٹ سے زائد کے سولر پلانٹس لگا چکے ہیں‘ یہ جرمنی‘ اٹلی‘ چین‘ امریکہ اور جاپان ہیں۔ ان میں جرمنی سب سے آگے ہے۔ یہ 35ہزار میگا واٹ بجلی سورج سے پیدا کر رہا ہے جو جرمنی کی کل طلب کا سات فیصد ہے۔
پاکستان میں جس رفتار سے بجلی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں‘ وہ وقت دور نہیں جب لوگ اپنے ہاتھوں سے میٹر اتار یں گے ‘واپڈا کے دفتر جائیں گے اور افسران کی منتیں کریں گے کہ خدا کے لیے ہمارا کنکشن بند کر دیں‘ ہمیں بل نہ بھیجیں‘ ہماری سکت جواب دے گئی ہے۔ بجلی کے بحران سے نمٹنے اور آئی ایم ایف سے بچنے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کی جاتی لیکن حکومت جو قرض چڑھائو‘ ملک ''سنوارو‘‘کی پالیسی پر عمل پیرا ہے‘ نے بجلی مزید مہنگی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد بارہ روپے والا یونٹ اٹھارہ اور اٹھارہ والا تئیس روپے کا ہو جائے گا۔ یعنی اس وقت تین سو یونٹ کا بل اگر پانچ ہزار آ رہا ہے تو یہ آ ٹھ سے نو ہزار تک پہنچ جائے گا جبکہ گرمیوں میں پنکھے اور اے سی کولر چلنے کے بعد اوسطاً بل پندرہ بیس ہزار سے کم نہیں آئے گا۔ اس کے بعد کیا ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ عوام ابھی تک حکومت سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت تین یا پانچ سال میں کچھ ایسا ضرور کرے گی جس سے انہیں ریلیف ملے گا۔ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت غریب عوام سے ٹیکس لے کر یہ ملک چلا رہی ہے اور ان تین سو اشرافیہ سے ایک پائی وصول نہیں کر رہی جو اربوں روپے کا ٹیکس اور بجلی چوری کر رہے ہیں۔ ان حالات میں عوام کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر بنگلہ دیش کی طرح ایک ایک‘ دو دو سولر پینل لگا لیں ‘ اس طرح ان کا گزارہ بھی چلتا رہے گا ‘ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور بجلی کے بھاری بلوں سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔اب سوال یہ ہے کہ عام لوگ سولر انرجی کا خرچ کیسے برداشت کریں‘جواب بڑا سادہ ہے۔ سولر انرجی کی لاگت صرف ابتدائی ہوتی ہے‘ اس کے بعد یہ پینل بیس سے پچیس برس تک بجلی مہیا کرتے ہیں‘ صرف بیٹریاں سات برس بعد تبدیل کرنی ہوتی ہیں۔ اگر واپڈا کے بل سے موازنہ کیا جائے تو سولر پینل پر آنے والا خرچ تین سے پانچ سال میں آپ کو آپ کی رقم لوٹا دیتا ہے اور اس کے بعد بیس برس تک بجلی مفت ملتی رہتی ہے۔رہی بات ابتدائی لاگت کی تو ہم لوگ ویک اینڈ پر چار چار ہزار کا کھانا کھا لیں گے‘ اسی اسی ہزار کا موبائل فون افورڈ کر لیں گے‘ برانڈڈ سوٹ آئے روز تبدیل کرلیں گے لیکن سولر انرجی کے لیے بچت کرنے اور پیسے نکالنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے‘ ہماری خواتین سر پر دوپٹہ باندھ کر دو دو گھنٹے حکومت کو صلواتیں سنا لیں گی‘ساٹھ ساٹھ ہزار کا تولہ سونا خرید لیں گی اور خرید کر چوروں‘ ڈاکوئوں کے سامنے رکھ دیں گی‘ لیکن خاوندوں کو زیور کو ہاتھ نہیں لگانے دیں گی اور ان کے مرد اندھیروں کا عذاب سہہ لیں گے‘ یہ ڈنڈے اور پٹرول لے کر واپڈا کے دفاتر جلا کر راکھ کر دیں گے‘ یہ حکمرانوں سے جھوٹی امیدیں لگا لیں گے لیکن اس عذاب سے نکلنے کی تدبیر نہیں کریں گے اور یہ ثابت کر دیں گے کہ جیسے عوام‘ ویسے ان کے حکمران۔
Dunya.com.pk

Arabs, Afghan & Pakistan - Short History

عرب، افغان اور پاکستان
سینئرصحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے لکھا :اسّی کی دہائی میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں عرب مجاہدین کے ایک تربیتی کیمپ پر سفید جھنڈا لہراتادیکھا توتعجب ہوا۔چند دن بعد کیمپ پر سوویت یونین کی فورسز نے فضائی حملہ کیا اور کافی لوگ مارے گئے۔ تحقیق کی تو معلو م ہوا کہ عرب مجاہدین نے جان بوجھ کر اپنے کیمپ پر سفید جھنڈا لہرایاتھا تاکہ ان پر حملہ ہو اور وہ شہید ہوسکیں۔
پاکستان کو قبائلی علاقہ جات میں ایسے ہی سخت گیر لوگوں کا مقابلہ کرنا پڑرہاہے جو خوشی سے موت کو گلے لگاتے ہیں۔آج پاکستان جن مسائل اور بحرانوں کا شکار ہے وہ محض اس کے اپنے پیدا کردہ نہیں بلکہ اس کے دوستوں اور دشمنوں نے بھی حصہ بقدرجثہ ڈالا ہے۔خاص کر امریکیوں اور عرب ممالک نے سوویت یونین کی شکست وریخت کو یقینی بنانے کی خاطر خطے میں شدت پسندوں کے گروہ کے گروہ پالے ۔ان پر مالی وسائل کی بارش کی گئی ۔جدید جنگی ٹیکنالوجی فراہم کی گئی ۔عرب افغان کے نام سے قبائلی علاقہ جات میں بستیاں بسائی گئیں۔ان کی مقامی لوگوں سے رشتہ داریاں کرائی گئیں تاکہ یہ لوگ مستقل طور پر یہاں آباد ہوکر سوویت یونین کے خلاف بھرپور جنگ کریں۔
شیخ عبداللہ یوسف عزام وہ پہلے عرب سکالر تھے جنہوں نے افغان جہاد کو عرب دنیا میں متعارف کرایا۔انہوں نے فتویٰ دیا کہ ایمان لانے کے بعد ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کی سرزمین کے تحفظ کے لیے اپنی جان ومال اللہ تعالیٰ کی راہ میں لٹائے۔فلسطین کی آزادی کے لیے لڑنا مسلمانوں کا پہلا فرض ہے ،چونکہ افغانستان میں باقاعدہ نفیرِعام ہوچکی ہے لہٰذا پہلے مسلمانوں کو اس میں حصہ لینا چاہیے۔سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیزبن باز نے بھی فتویٰ جاری کیا کہ افغانستان کے جہاد میں حصہ لینا مسلمان پر فرض ہوچکاہے۔ابتدائی طور پرعبداللہ عزام نے اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کو اپنا مستقر بنایا ۔بعد میں وہ پشاور منتقل ہوگئے جہاں وہ ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہونے تک مقیم رہے۔
1981ء میں مصری صد انور سادات کے قتل کے بعد ہزاروں شہریوں کو حراست میں لیا گیااور انہیں سخت اذیتیں دی گئیں۔سرکار کے عتاب سے بچنے کی خاطر نوجوانوں کی بڑی تعداد نے افغانستان کا رخ کیا۔پشاور میں بن لادن خاندان کے نوجوان چشم وچراغ بے پناہ خاندانی مالی وسائل اور شخصی وجاہت کے ساتھ ان کے لیے استقبال کے لیے موجود تھے۔ اسامہ نے مکتبہ الخدمت کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جو عرب مجاہدین کے ویزے ،ٹکٹ اور رہائش کا انتظام کرتا۔پشاور پہنچ جاتے تو انہیں کچھ دن آرام کے بعد افغانستان کے اندر قائم کیمپوں میں پہنچادیاجاتا۔جہاں انہیں گوریلا جنگ کے ماہرین حربی تربیت دیتے۔اس طرح یہ عالمی جہاد بن گیا۔
قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اسّی کی دہائی میں عبداللہ عزام نے مالی وسائل جمع کرنے اور امریکی نوجوانوں کو جہاد کی طرف مائل کرنے کی خاطر پچاس امریکی شہروں کا دورہ کیا۔وہ یورپ اور مسلم ممالک میں گئے ۔ان دوروں میں وہ مجاہدین کی کامیابی اور غائبی نصرت کے محیر العقول واقعات بیان کرتے۔امریکہ میں کی جانے والی ایک تقریر میں انہوں نے بتایاکہ ایک معرکہ میں روسی فوجوں نے مجاہدین کے اوپر ٹینک چڑھا ئے لیکن اس کے باوجود وہ سلامت رہے۔ مجاہدین نے فرشتوں کو گھوڑوں پر بیٹھا ان کی مدد کو آتے دیکھا ۔ پرندوں نے روسی جنگی جہازوںکے بموں کو فضامیں بے اثر کیا۔ مجاہدین کی کامیابیوں کے ان واقعات نے نہ صرف نوجوانوں کو متاثرکیابلکہ انہیں جان اور مال سمیت مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔
عبداللہ عزام کی کوششوں اور عرب حکمرانوں کے تعاون سے 35000غیر ملکی مجاہدین نے افغانستان کی جنگ میں حصہ لیا۔بیرونی ممالک سے ایک لاکھ کے قریب نوجوان افغانستان کی جنگ میں حصہ لینے ،خیراتی سرگرمیوں میں شریک ہونے یا تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے پاکستان آئے۔ایک اندازے کے مطابق دوہزار کے لگ بھگ عرب مجاہدین بیک وقت لڑاکا گروہوں میں شامل رہتے تھے۔ افغان مجاہدین کی تعداد ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ روسی افواج کی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار تک تھی۔عملی معرکہ آرائی سے ہٹ کر عرب مجاہدین زیادہ تر مہاجرین کی دیکھ بھال کی سرگرمیوں میں شریک ہوتے۔ پشاور اور کوئٹہ میں درجنوں خیراتی ادارے قائم کیے گئے جو عربوں کے مالی تعاون اور انتظامی نگرانی میں چلتے تھے۔
امریکیوں نے بھی عالمی جہادی نیٹ ورک قائم کرانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔سی آئی اے کے مالی تعاون سے دنیا کے بڑے بڑے اخبارات میں مجاہدین کی بھرتی اور ان کی مالی امداد کے لیے اشتہارات چھپوائے گئے ۔ امریکی یونیورسٹیوں نے ایسی کتابیں شائع کیں جن میں بچوں کو جہاد کی تعلیم اور کمیونسٹو ں کو قتل کرنے کی ترغیب دی جاتی۔ یوایس ایڈ نے یونیورسٹی آف نبراسکا کو اس کام کے لیے پچاس ملین ڈالر کی خطیر رقم فراہم کی ۔اسی یونیورسٹی کی شائع شدہ ایک کتاب میں ایک افغان بچہ روسی فوجی کی آنکھیں نکالتے اور ٹانگیں کاٹتے دکھایاگیاہے۔ طالبان کے دور میں بھی سکولوں اور مدارس میں سی آئی اے کی چھپی ہوئی کتابیں پڑھائی جاتی رہی ہیں۔ آج بھی ایسی کتابیں راولپنڈی اور پشاور کے پرانے کتاب گھروں سے مل جاتی ہیں۔جدہ میں امریکی ویزا کونسلر کی خدمات سرانجام دینے والے مائیکل سپرنگ مین نے ایک امریکی اخبار کو بتایا کہ سی آئی اے کی ہدایت پر جدہ میں افغان باشندوں کو بلاروک ٹوک ویزے جاری کیے جاتے تھے۔ امریکہ میں گوریلا جنگ کی تربیت دے کر انہیں واپس افغانستان روانہ کردیا جاتا۔ آج بھی پشاور کی تاریخی مسجد مہابت خان کے امام اپنے ملنے والوں کو اعلیٰ امریکی حکام کے ساتھ اپنی تصویریں دکھاتے ہیں۔
سوویت افواج کے افغانستان سے انخلاء کا آغاز ہوا تو امریکی رویہ میں سردمہری آنا شروع ہوگئی ۔ گرم جوشی لاتعلقی میں بدل گئی۔ محمد حنیف کے شہرہ آفاق ناول A Case of Exploding Mangoesمیں بڑے مزاحیہ انداز میں امریکیوں کی بے رخی، پاکستانی حکام کی بے بسی اور مایوسی کی تصویر کشی کی گئی ہے۔امریکی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر واپس چلے گئے۔ہزاروں عرب مجاہدین کے لیے واپسی کے دروازے بند ہوچکے تھے۔جنہوں نے واپس گھروں کو لوٹنے کی جسارت کی انہیں عرب حکومتوں نے نہ صرف حراست میں لیا بلکہ عقوبت خانوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ردعمل میں انہوں نے پاکستان میں مصری سفارت خانے پر خودکش حملہ کیااور دنیا بھر میں امریکی مفادات کو ہدف بنانے لگے۔پاکستانی ریاست اس چیلنج سے نبردآزما ہوسکی اور نہ اسے امکانی خطرات کا کوئی ادراک تھا۔
نائن الیون کے بعد ایک بار پھر میدان سجا۔سابق مجاہدین تازہ دم کمک کے ہمراہ امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان کے ساتھ معرکہ آرائی فرمانے لگے۔یہ وہ جن ہے جس کو بوتل میں بند کرنے کی ذمہ داری صرف پاکستان کی نہیں بلکہ امریکہ سمیت عرب ممالک کی بھی ہے کیونکہ شدت پسندی کو فروغ دینے کے کارخانے پاکستان نے ان ممالک کے اشتراک سے لگائے تھے۔اب ان کے بھرپور تعاون کے بغیر اس عفریت پر قابو پانا ممکن نظر نہیں آتا۔شدت پسندی کے مقابلے کے لیے پاکستان کو علاقائی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں تمام ممالک ایک صفحے پر ہوں۔ابھی صورت حال یہ ہے کہ ایک ملک مذاکرات کا ڈھول ڈالتاہے تو دوسرا اسے سبوتاژ کرادیتاہے۔ عربوں اور افغانون کے تعاون کے بغیر اس خطے میں امن کا قیام ممکن نظر نہیں آتا۔

Dunya.com.pk

Honoring Contracts in Islam- Constitution

آئین مقدس ہے
انسان کی سماجی وسیاسی زندگی میں عہد کی غیر معمولی اہمیت ہے۔عہد، معاہدہ، وعدہ،سب کا ایک ہی مفہوم ہے۔بین الاقوامی اورمعاشرتی زندگی اسی سے قائم رہتی ہے۔اللہ کی شریعت اور انسانی اخلاقیات، دونوں اس باب میں ہم آواز ہیں۔یہ بحث بے معنی ہے کہ معاہدہ تحریری ہو یا غیر تحریری۔اس کا تعلق تمدنی ارتقا سے ہے۔الہامی ہدایت اس معا ملے میں اتنی حساس ہے کہ اس نے اللہ اور بندے کے تعلق کو بھی ایک معاہدے (میثاق)سے تعبیر کیا ہے۔ انسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اُس عہد کی پاس داری کریں جو انہوں نے عالمِ ارواح میں اپنے پروردگار سے باندھا تھا۔عہدِ الست اسی کو کہتے ہیں۔
پاکستان میں بسنے والوں نے بھی ایک ساتھ رہنے کے لیے ایک عہد کیا ہے۔ایک عمرانی معاہدہ۔اسے ہم آئین کہتے ہیں۔یہ شرعی اعتبار سے مقدس ہے اور سماجی و سیاسی حوالے سے بھی۔شرعی اعتبار سے اس لیے کہ مسلمان جب کوئی عہد کرتا ہے تو اس کو نبھانا اس کی دینی ذمہ داری ہے۔اللہ کے رسولﷺ نے عہد شکنی کو منافق کی نشانیوں میں شمار کیا ہے۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا:''جس کا عہد نہیں، اس کا کوئی ایمان نہیں‘‘۔یہاں عہد کا تعلق دین اور دنیا، دونوںسے ہے۔ایک شہری نے ریاست کے ساتھ یہ عہد باندھ رکھا ہے کہ وہ ٹریفک کے قوانین کی پابندی کرے گا۔اب اگروہ سرخ سگنل پر نہیں رکتا تو وہ عہد کو توڑتا ہے۔یہ شرعاً گناہ ہے۔ آ خرت میں اس کے لیے جواب دہی ہوسکتی ہے۔
قرآن مجید نے بتا یا کہ بنی اسرائیل نے اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو توڑا۔انہیں اس کی سزا ملی اور وہ منصب ِ امامت سے معزول کر دیے گئے۔عہد کے معاملے میں اللہ کا دین جتنا اصرار کرتاہے، اس سے زیادہ اصرار ممکن نہیں۔قرآن مجید تو یہاں تک کہتا ہے کہ اگر کسی ریاست کے مظلوم مسلمان دین کے معاملے میں بھی تمہیں مدد کے لیے پکاریں تو تم ان کی مدد نہیں کر سکتے اگر تم نے اس ریاست سے کوئی معاہدہ کر رکھا ہے(الانفال:72)۔اسی وجہ سے جب 1948ء میںپاکستان کے لوگوں نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی مدد کو جا نا چاہا تو مو لا نا مودودی نے اسے ناجائز کہا۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے پاکستان بھارت کے ساتھ معاہدے ختم کر نے کا اعلان کرے،اس کے بعد ہی اسے جائز کہا جا سکتا ہے۔مو لانا مو دودی کا یہ انٹرویو ایک بار پھر دوتین ہفتے پہلے، ''دنیا‘‘ کے سنڈے میگزین میں شائع ہوا ہے۔جو لو گ اس کی مزید تفہیم چاہتے ہیں، وہ اس موضوع پر مو لا نا شبیر احمد عثمانی اور مو لا نا مو دودی کے مابین خط و کتابت پڑھ لیں۔اللہ کے رسولؐ نے صلحِ حدیبیہ کے موقع پر ابو جندل کو مشرکینِ مکہ کے حوالے کر دیا کیونکہ صلح کے معاہدے میں یہ شق مو جود تھی کہ اگر مکہ سے کوئی شخص مدینہ آئے گا تو اسے اہلِ مکہ کے حوالے کردیا جائے گا۔جب ابو جندل کو واپس کیا گیا تو اس وقت معاہدہ قلم بند نہیں ہواتھا،صرف طے پایا تھا۔ اس کے باوصف اللہ کے رسولؐ کو اپنے عہد کا اتنا پاس تھا کہ دل پر پتھر رکھ کر ایک صاحبِ ایمان کو دشمنوں کے حوالے کر دیا۔آپؐ نے ابوجندل کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:''ابو جندل! صبر اور ضبط سے کام لو۔اللہ تمہارے لیے اور مظلوموں کے لیے کوئی راہ نکالے گا۔صلح اب ہو چکی اور ہم ان لوگوں سے بد عہدی نہیں کر سکتے۔(ابن ہشام)‘‘
عہد اور معاہدے کی یہ حیثیت دین میں اتنی واضح ہے کہ اس بارے میں دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔اس باب میں الہامی ہدایت کا رحجان یہ ہے کہ معاہدوں کو لکھ لیا جائے۔خود اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے جو معاہدے کیے،انہیں اکثر لکھا گیا۔انہیں ہم الہامی صحائف اور کتب کہتے ہیں۔قرآن مجید اس سلسلے کی آ خری کڑی ہے۔قرآ ن مجید ایک متن کا نام ہے۔یہ ایک کتاب ہے۔اللہ کے آخری رسول اور نبیﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے بطور حکمران، ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے،یہاںکے شہریوں سے تحریری معاہدے کیے۔انہیں اجتماعی طور پر ''میثاقِ مدینہ‘‘ کہا جا تا ہے۔بہت سے محققین اسے دنیا کا پہلا تحریری آئین کہتے ہیں۔یہود نے جب ان کی خلاف ورزی کی تو انہیں اس کی سزا دی گئی۔آئین شکنی کے جرم میں قبائل کوسزا ملی اور کعب بن اشرف جیسے لوگوں کو انفرادی طور پر بھی۔اسی طرح اللہ کی کتاب نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ جب تم قرض کے لین دین کاکوئی معاہدہ کرو تو اسے لکھ لیا کرواور اس پر گواہ بھی بنا لیا کرو (البقرہ:283)۔ اس طرح کے بہت سے شواہد سے شریعت کا یہ منشاواضح ہے کہ معاہدوں کو تحریر میں لاناچاہیے۔
انسان نے اپنے تجربے اورتمدنی ارتقا سے بھی یہی سیکھا کہ معاہدوںکو تحریری صورت میں مدون ہو نا چاہیے۔یہ معاہدہ ریاست اوراس کے شہریوںکے درمیان ہو سکتا ہے،دو ریاستوں کے درمیان ہو سکتا ہے اور اس میں کسی ایک ریاست کے دو شہری بھی فریق ہو سکتے ہیں۔عباسیوں کے دور میں ہارون الرشید نے تحریری قانون کی ضرورت محسوس کی تو قاضی ابویوسف سے لکھنے کو کہا جس کی پابندی پوری ریاست کی عدلیہ اور عمال کریں۔ان کی فرمائش پر ہی امام ابو یوسف نے ''کتاب الخراج‘‘ لکھی جسے ریاست کا آئین بنا دیا گیا۔اس سے پہلے ابو جعفر منصور امام ما لک سے یہ درخواست کر چکے تھے کہ ان کی 'موطا‘ کو ریاست کا دستور بنا دیا جائے۔موطا امام مالک، ظاہر ہے کہ ایک کتاب کا نام ہے۔عثمانیوں نے بھی ریاستی قوانین کو تحریراً مدون کیا اوربر صغیر میں اورنگزیب نے بھی اس کی کوشش کی۔جدید دنیا میں برطانیہ اور آئر لینڈ کے علاوہ ساری دنیا میں تحریری آئین اور قوانین مو جود ہیں۔اسرائیل میں بھی بنیادی قوانین تحریراً موجود ہیں جن کے تحت ریاست کا نظام چلتا ہے۔ پارلیمنٹ(Knesset)، حکومت، صدر،ہر کسی کی مدت، طریقہ ء انتخاب وغیرہ درج ہیں۔
پاکستان کا آئین اس لیے، ہر اعتبار سے ایک شرعی اور تمدنی ضرورت کے مطابق ہے۔یہ ایک عہد ہے جو ریاست اور اس کے شہریوں کے مابین باندھا گیا ہے۔اس کا احترام دونوں فریقوں پر شرعاً واجب ہے۔مجھے حیرت ہے کہ لوگ دین کا نام لیتے ہیں اور اس آئین کا ایسے ذکر کرتے ہیں جیسے یہ کاغذ کا ایک بے کار ٹکڑا ہے۔اس کی پابندی ضروری ہے اور نہ اس کا احترام۔دنیا میں یہ ہوتا ہے کہ فریقین کسی معاہدے کی پوری طرح پابندی نہیں کرتے۔ اس سے معاہدے کی اخلاقی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یا اگر ایک فریق اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتا تو دوسرے کے لیے کسی طرح یہ جائز نہیں ہو جا تا کہ وہ اسے جواز بنا کرمعاہدے کی خلاف ورزی کرے۔نکاح ایک مرد اور عورت کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔اگرشوہر اس کے تحت اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھاتا تو کیا عورت کے لیے یہ جائز ہو جائے گا کہ وہ خود کو اس معاہدے سے آزاد تصور کر لے؟میں جانتا ہوں کہ ہمارے حکمران آئین کی پوری طرح پابندی نہیں کرتے۔کیا ان کی یہ کوتاہی، بطور شہری میرے لیے قانون شکنی کا جوازبن جائے گی؟
پاکستان کا آئین ریاست اور عوام کے مابین ایک معاہدہ ہے۔عوام نے اپنے منتخب نمائندوں کے توسط سے اس کی پاسداری کا وعدہ کیا ہے۔ قدیم دور میں عوام کی نمائندگی قبائلی لیڈر کرتے تھے۔آج یہ نمائندگی سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔اس معاہدے کا احترام پاکستان کے عوام پر شرعاً واجب ہے۔عقلی اعتبار سے بھی یہ ہماری اجتماعیت کی ناگزیر ضرورت ہے۔اس کے بغیر کوئی ریاست باقی نہیں رہ سکتی۔آئین ،اس لیے مقدس ہے۔اگر کوئی فرد اس کی خلاف ورزی کرتا ہے توسزا کا مستحق ہے۔اگر کوئی گروہ ایسا کرتا ہے تو وہ بھی سزا کا حق دار ہو گا۔مسئلہ تحریری یا غیر تحریری کا نہیں، ایک عہد نبھانے کا ہے۔ شریعت کی ہدایت البتہ یہی ہے کہ اسے تحریری ہونا چاہیے۔پاکستان کا آئین اس ہدایت کے مطابق تحریری ہے۔ اس کی خلاف ورزی شرعاً جرم ہے۔
By Khursheed Nadeem. Dunya.com.pk