Pages

سیاست اور منافقت



ایمان کے لیے  عقائد اسلام (6) اور ارکان اسلام (5) کا زبانی اقرار اسلام کی طرف بنیادی قدم ہے مگر عمل سے ثابت کرنا ہو گا کہ یہ صرف زبانی نہیں دل سے اقرار ہے اورعبادات کے علاوہ انسانی حقوق بہت اہم ہیں جن کی خلاف درزی پرمسلمان، منافق بن جاتا ہے جو کہ کفر سے بھی نچلا درجہ ہے.

الله کا فرمان ہے کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں ہوں گے (4:145).

حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی  کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار خصلتیں ہیں ، جس شخص میں وہ پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہوگا ، اور جس کے اندر ان میں سےکوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی جائے گی حتی کہ اسے ترک کردے ، [وہ خصلتیں یہ ہیں ]، 

1 ۔جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے

2۔ جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے

3۔ جب کوئی عہد کرے تو بے وفائی (پورا نہ ) کرےاور

 4۔ جب جھگڑا کرے تو ناحق چلے 

(صحيح البخاري:340 صحيح مسلم:58 )

ہم مسلمان ہونے کے دعوی دار ہیں صوم و صلوات کے پابند , صدقہ خیرات بھی دیتے ہیں مگر جھوٹ ، خیانت اور بدعہدی جیسی منافقانہ  خصلتیں ہم میں پائی جاتی ہیں، اور دوسروں کو منع کرنے (نہی عن المنکر)  کی بجائے منافقین کو سپورٹ بھی کرتے ہیں ۔ یاد رکھو ان گناہ کبیرہ سے پرہیز کئے بغیر کسی کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا ۔ اپنے روزہ نماز کو بھوک پیاس اور لاحاصل مشقت نہ بناو!

اسلام میں، منافقت کو "نفاق" کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ظاہری تقویٰ یا ایمان کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حقیقی عقائد یا ارادوں کو چھپانا ہے۔ اسلام میں منافقت کو ایک سنگین گناہ کبیرہ  سمجھا جاتا ہے اور قرآن اورسنت و حدیث  میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔

منافق وہ ہے جو مسلمان ہونے کا ڈھونگ رچاتا ہے لیکن صحیح معنوں میں اسلام کو نہیں مانتا۔ وہ عبادات کے ظاہری اعمال جیسے نماز اور روزہ تو ادا کر سکتے ہیں لیکن ان کے دل اللہ کی عبادت میں مخلص نہیں ہیں۔

قرآن منافقین کی خصوصیات بیان کرتا ہے اور ان کے اعمال سے خبردار کرتا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دھوکے باز، غدار، اور مومنین کے درمیان جھگڑے اور تفرقے کا باعث بنتے ہیں۔

قرآن نے اس عذاب کو بھی بیان کیا ہے جو منافقوں کو آخرت میں بھگتنا پڑے گا۔ کہ منافق جہنم کےسب سے نچلے درجے میں ہوں گے اوروہ  کوئی  مددگار نہ پائیں گے” (4:145)

اسلام میں، اخلاص کی بہت زیادہ قدر کی گئی ہے، اور زندگی کے تمام پہلوؤں، بشمول عبادت، دوسروں کے ساتھ میل جول اور ذاتی طرز عمل میں حقیقی ایمان اور نیت کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے منافقت کو حقیقی ایمان کی راہ میں ایک سنگین رکاوٹ اور روحانی روشن خیالی اور نجات کے لیے ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اگر پاکستان کے  موجودہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات پر نظر ڈالی جاے تو حکمرانوں اور اقتدار کے چاروں ستونوں یعنی  پارلیمنٹ ، ایگزیکٹو، عدلیہ اور  میڈیا ، میں یہ منافقانہ بری خصوصیات بڑھ چڑھ کر پائی جاتی ہیں->>>Read more »

آئین ایک متفقہ دستاویز جس کی حفاظت اور عمل درآمد کا ان سب نے عہد(حلف) کر رکھا ہے مگر بار بار اسے توڑتے ہیں۔ اور عوام بھی اس سے مبرا نہیں کیونکہ وہ ان کو روکنے تنقید و اصلاح کی بجایے بد عہد ، جھوٹے،  بددیانت , کرپٹ رہننمااؤں کی  حمایت کرتے ہیں اور منافقت میں حصہ دار بن جاتے ہیں :

مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ نَصِیۡبٌ مِّنۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ کِفۡلٌ مِّنۡہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ مُّقِیۡتًا ﴿۸۵﴾

جو شخص کسی نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے ، اسے بھی اس کا کچھ حصّہ ملے گا اور جو بُرائی اور بدی کی سفارش کرے اس کے لئے بھی اس میں سے ایک حصّہ ہے اور اللہ تعالٰی ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے. (4:85)

تازہ مثال  پارلیمنٹ ، ایگزیکٹو اور کچھ ججز کی آیین پاکستان  سے اپنے حلف ، عہد کی کھلم کھلا خاف درزی ہے

 وَ اَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡئُوۡلً 

 اور عہد کو پورا کرو یقیناً عہد کے بارے میں باز پرس ہوگی (17:34)

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ ۬ ؕ

اے اہل ایمان ! اپنے عہد و پیمان (قول وقرار ) کو پورا کیا کرو(5:1)

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَ عَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾

اور جو اپنی امانتوں اور عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں(23:8)

ایسے اہم لیڈرز ، عھدہ دار اور ججز اور ان کی حمایت کرنے والوں کے منافق ہونے میں کے کوئی شک یا ابہام ہے؟

منافقوں کے متعلق قرآن میں کہا گیا ہے کہ :

إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا(النساء 145)

منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے ، ناممکن ہے کہ تو ان کا کوئی مددگار پالے

منافقین یا ان سے دوستی رکھنے والوں کا ٹھکانہ جہنم کا سب سے نچلا درجہ ہوگا-

https://trueorators.com/quran-tafseer/4/145

”تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا, تو “ لوگوں نے عرض کیا: مفلس ہم میں وہ ہے جس کے پاس روپیہ اور اسباب نہ ہو۔

*آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:*

*”مفلس میری امت میں قیامت کے دن وہ ہو گا جو نماز لائے گا، روزہ اور زکوٰۃ لیکن اس نے دنیا میں ایک کو گالی دی ہو گی، دوسرے کو بدکاری کی تہمت لگائی ہو گی، تیسرے کا مال کھا لیا ہو گا، چوتھے کا خون کیا ہو گا، پانچویں کو مارا ہو گا، پھر ان لوگوں کو (یعنی جن کو اس نے دنیا میں ستایا) اس کی نیکیا ں مل جائیں گی اور جو اس کی نیکیاں اس کے گناہ ادا ہونے سے پہلےختم ہو جائیں گی تو ان لوگوں کی برائیاں اس پر ڈالی جائیں گی آخر وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔“*(رواہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ، صحیح مسلم :6579)

حقوق العباد ، حقوق اللہ کی نیکیوں کے بدلہ میں صرف ہو جائیں گے۔ 

‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

*”تم حقداروں کے حق ادا کرو گے قیامت کے دن یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا۔“*

(گو جانوروں کو عذاب و ثواب نہیں پر قصاص ضرور ہو گا)۔ (صحیح مسلم 6580، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ)

https://bit.ly/Haqoq-ul-Ibaad


جنت کے وعدے اور شفاعت

یہ بات قرآن و سنت اور احادیث سے ثابت ہے کہ توحید پر ایمان والا شخص بالآخر دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائیے گا۔ اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امتیوں کی شفاعت کریں۔۔۔ جس کا  قانون یہ ہے:

1۔ *شفاعت اللہ کی اجازت سے مشروط ہے* ( قرآن 2:255) 

2۔ *خائین بددیانت کی شفاعت نہیں ہوگی* (بخاری 3073) 

3۔ *شفاعت کی اجازت تب ملے گی جب گنہگار مسلمان جہنم کی آگ میں کوئیلہ سیاہ ہو چکے ہوں گے* (مسلم 459) 

قیامت صغرای موت کو کہتے ہیں ۔۔۔ موت سے قیامت  تک کتنا وقت ہے ، کسی کو نہیں معلوم ، ایک دن ، سال ، کروڑوں سال واللہ اعلم ۔ تو گناہ گار اتنا عرصہ عزاب قبر بھگتے گا، اس کو مت بھولیں، بچاو کی تیاری کریں،۔

درست ایمان ، عمل صالح کے ساتھ ساتھ توبہ کی ترغیب دیں  اور پھر رحمت، شفاعت  کی دعا اور  امید ۔۔ جزاک اللہ 

https://bit.ly/Shfaat

https://bit.ly/MunafiqPolitics


ووٹ کی شرعی حیثیت اور تبدیلی کی خواہش >>>>

 ووٹ کوئی دنیاوی کھیل تماشا ، یا برادری کا کھیل نہیں 

ہمارا ووٹ تین شرعی حیثیتیں رکھتا ہے: ایک شہادت، دوسرے سفارش، تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت۔

 تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجبِ ثوابِ عظیم ہے اور اُس کے ثمرات اُس کو ملنے والے ہیں، اسی طرح نااہل یا غیرمتدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بُری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی اور اس کے تباہ کن اثرات بھی اُس کے نامۂ اعمال میں لکھے جائیں گے۔ مزد  >>>>

https://bit.ly/VotKiSharieHeseyat

   ☆ 🇵🇰 🇵🇰 🇵🇰 🇵🇰 🇵🇰 ☆

پاکستان کومنافقوں کی غلامی بچاؤ Let's Save Pakistan: https://bit.ly/SavePak

 
 
~~~~~~~~~
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace