Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Tuesday, August 15, 2017

Secular or Islamic Pakistan- Jinnah & Muhammad Asad اسلامی یا سیکولر پاکستان - جناح اور محممد اسد



.محمد اسد ۔۔۔ عظیم اسلامی سکالر، مفسر قرآن ۔۔۔   علامہ اقبال کے ساتھی ، قائداعظم کا چوائس اور پاکستان کے UNO میں پہلے سفیر ,اسلامی آئین پاکستان اور قرارداد مقاصد کے محرک :

یہودیت چھوڑ کو اسلام قبول کرنے والے محمد اسد(سابق نام: لیوپولڈ ویز) جولائی 1900ء میں موجودہ یوکرین کے شہر لیویو میں پیدا ہوئے جو اس وقت آسٹرو۔ ہنگرین سلطنت کا حصہ تھا۔ بیسویں صدی میں امت اسلامیہ کے علمی افق کو جن ستاروں نے تابناک کیا ان میں جرمن نو مسلم محمد اسد کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ اسد کی پیدائش ایک یہودی گھرانے میں ہوئی۔ 23 سال کی عمر میں ایک نو عمر صحافی کی حیثیت سے عرب دنیا میں تین سال گذارے اور اس تاریخی علاقے کے بدلتے ہوئے حالات کی عکاسی کے ذریعے بڑا نام پایا لیکن اس سے بڑا انعام ایمان کی دولت کی با‌زیافت کی شکل میں اس کی زندگی کا حاصل بن گیا۔ستمبر 1926ء میں جرمنی کے مشہور خیری برادران میں سے بڑے بھائی عبدالجبار خیری کے دست شفقت پر قبول اسلام کی بیعت کی اور پھر آخری سانس تک اللہ سے وفا کا رشتہ نبھاتے ہوئے اسلامی فکر کی تشکیل اور دعوت میں 66 سال صرف کرکے بالآخر 1992ء میں خالق حقیقی سے جا ملے۔
1932ء میں وہ ہندوستان آگئے اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال سے ملاقات کی۔ 1939ء میں وہ اس وقت شدید مسائل کا شکار ہوگئے جب برطانیہ نے انہیں دشمن کا کارندہ قرار دیتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ محمد اسد کو 6 سال بعد، 1945ء میں رہائی ملی۔

1947ء میں قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے اور نئی ریاست کی نظریاتی بنیادوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔( قرارداد مقاصد Objective Resolution,  جو آئین پاکستان کی بنیاد بنا ، اس کے خدوخال میں آپ کی کاوش شامل ہے).

One of the first steps taken by Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah, within days of Pakistan's creation, was to establish the Department of Islamic Reconstruction (DIR) in Lahore in August 1947, with the ultimate objective “to help our community to reconstruct its life on Islamic lines.” In this regard, Jinnah appointed Asad as the DIR's first Director. The DIR was tasked by Jinnah with four primary objectives: (i) drafting of Pakistan's first Constitution; (ii) proposing the framework of Pakistan's economic system; (iii) proposing the framework of Pakistan's education system and (iv) proposing the framework of Pakistan's social system, all along Islamic lines. Asad's work at DIR, within the first months of its establishment, is famously reflected in the Objectives Resolution, which was adopted by the Constituent Assembly of Pakistan on 12 March 1949. 

Soon after the death of Quaid-e-Azam on 11 September 1948, the then Foreign Minister of Pakistan, Sir Zafarullah Khan (Qadiani)  got Asad transferred to the Foreign Ministry of Pakistan. The DIR never recovered from Asad's sudden and unexpected departure, and it was abolished not long after Asad left. Most of the DIR's record was destroyed in a mysterious fire in October 1948, only a month after Jinnah's death. Its only legacy being the Objectives Resolution.
http://www.unsecularjinnah.com/jinnah-asad-and-the-department-of-islamic-reconstruction.html
 انہیں پہلا پاکستانی پاسپورٹ جاری کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں پاکستان کی وزارت خارجہ کے شعبہ مشرق وسطی میں منتقل کردیا گیا جہاں انہوں نے دیگر مسلم ممالک سے پاکستان کے تعلقات مضبوط کرنے کا کام بخوبی انجام دیا۔ انہوں نے 1952ء تک اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
حج بیت اللہ؛ بیت اللہ پر پہلی نظر پڑنے کے 9 دن بعد اسد کی زندگی ایک نئے موڑ پر آگئی، ایلسا خالق حقیقی سے جا ملیں۔ بعد ازاں اسد نے مکہ میں قیام کے دورانشاہ فیصل سے ملاقات کی جو اس وقت ولی عہدتھے اور بعد ازاں سعودی مملکت کے بانی شاہعبدالعزیز السعود سے ملاقات کی۔ انہوں نے مکہ ومدینہ میں 6 سال گذارے اور عربی، قرآن، حدیثاور اسلامی تاریخ کی تعلیم حاصل کی۔

محمد اسد: قیمتی ہیرا: ایک دوسرے جرمن نو مسلم ولفریڈ ہوفمین نے ان کے لئے کہا تھا کہ محمد اسد اسلام کے لئے یورپ کا تحفہ ہیں۔ جبکہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابو الاعلی مودودی نے 1936ء میں محمد اسد کے بارے میں تاریخی جملہ لکھا تھا کہ "میرا خیال یہ ہے کہ دور جدید میں اسلام کو جتنے غنائم یورپ سے ملے ہیں ان میں یہ سب سے زیادہ قیمتی ہیرا ہے"۔

نظریات، افکار، کارنامے: محمد اسد کوئی سرگرم کارکن نہ تھے لیکن فکری اعتبار سے ان کا کارنامہ بڑا واضح ہے اور اس میں چار چیزیں نمایاں ہیں:

1۔پہلی چیز مغربی تہذیب اور یہود عیسائی روایت (Judeo-Christian Tradition) کے بارے میں ان کا واضح اور مبنی برحق تبصرہ و تجزیہ ہے۔ مغرب کی قابل قدر چیزوں کے کھلے دل سے اعتراف کے ساتھ مغربی تہذیب اور عیسائی تہذیبی روایت کی جو بنیادی خامی اور کمزوری ہے اس کا نہایت واضح ادراک اور دو ٹوک اظہار ان کا بڑا علمی کارنامہ ہے۔ مغرب کے تصور کائنات، انسان، تاریخ اور معاشرے پر ان کی گہری نظر تھی اور اسلام سے اس کے تصادم کا انہیں پورا پورا شعور اور ادراک تھا۔ وہ کسی تہذیبی تصادم کے قائل نہ تھے مگر تہذیبوں کے اساسی فرق کے بارے میں انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

2۔وہ اسلام کے ایک مکمل دین ہونے اور اس دین کی بنیاد پر اس کی تہذیب کے منفرد اظہار کو یقینی بنانے اور دور حاضر میں اسلام کی بنیاد پر صرف انفرادی کردار ہی نہیں بلکہ وہ اجتماعی نظام کی تشکیل نو کے داعی تھے اور اپنے اس مؤقف کو دلیل اور یقین کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ اسلام کا یہ جامع تصور ان کے فکر اور کارنامے کا دوسرا نمایاں پہلو تھا۔
3۔ان کا تیسرا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے امت کے زوال کے اسباب کا گہری نظر سے مطالعہ کیا اور اس سلسلے میں جن بنیادی کمزوریوں کی نشاندہی کی ان میں تصور دین کے غبار آلود ہوجانے کے ساتھ سیرت و کردار کے فقدان، دین و دنیا کی عملی تقسیم، اجتہاد سے غفلت اور رسوم و رواج کی محکومی اور سب سے بڑھ کر قرآن و سنت سے بلاواسطہ تعلق اور استفادے کی جگہ ثانوی مآخذ پر ضرورت سے زیادہ انحصار بلکہ ان کی اندھی تقلید بھی شامل ہے۔ ان کی دعوت کا خلاصہ قرآن و سنت سے رجوع اور ان کی بنیاد پر مستقل کی تعمیر و تشکیل تھی۔
4۔محمد اسد کے کام کی اہمیت کا چوتھا پہلو دور جدید میں اسلام کے اطلاق اور نفاذ کے سلسلے میں ان کی حکمت عملی اور اس سلسلے میں تحریک پاکستان سے ان کی وابستگی اور پاکستان کے بارے میں ان کا وژن اور عملی کوششیں ہیں جو قومی تعمیر نو کے ادارے "عرفات" کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی نگارشات، ان کی تقاریر اور پھر ان کی دو کتب Islam at the Crossroads اور Road to Mecca ہیں۔ عرفات کے زمانے میں یہ مضامین دور حاضر میں نفاذ اسلام کا وژن اور اس کے لئے واضح حکمت عملی پیش کرتے ہیں۔ چند امور پر اختلاف کے باوجود محمد اسد کی فکر اور دور جدید کی اسلامی تحریکات کی فکر میں بڑی مناسبت اور یکسانی ہے حالانکہ وہ ان تحریکوں سے کبھی بھی عملا وابستہ نہیں رہے۔
قرآن محمد اسد کی فکر کا محور رہا اور حدیث و سنت کو وہ اسلامی نشاۃ ثانیہ کی اساس سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے تمام بڑے قیمتی مضامین کے باوصف ان کا اصل علمی کارنامہ قرآن پاک ترجمہ و تفسیر اور صحیح بخاری کے چند ابواب کا ترجمہ و تشریح ہے۔ ان کی معروف کتب میں Islam at the Crossroads، Road to Mecca اور The Principles of State and Government in Islam شامل ہیں۔
Road to Mecca علمی، ادبی اور تہذیبی ہر اعتبار سے ایک منفرد کارنامہ اور صدیوں زندہ رہنے والی سوغات ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک کتاب This Law of Ours بھی تحریر کی۔
The Message of Quran: by Muhammad Asad : Download/ Read 
http://freebookpark.blogspot.com/2012/12/the-message-of-quran-by-muhammad-asad.html

محمد اسد۔۔"بندہ صحرائی" ۔۔ خود نوشت سوانح عمری : 
http://kitabosunnat.com/kutub-library/mohammad-asad-banda-e-sehrai

https://en.m.wikipedia.org/wiki/Muhammad_Asad
Those who declare QaideAzam to be secular are distorting history.... 
One of the first steps taken by Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah, within days of Pakistan's creation, was to establish the Department of Islamic Reconstruction (DIR) in Lahore in August 1947, with the ultimate objective “to help our community to reconstruct its life on Islamic lines.” In this regard, Jinnah appointed Asad as the DIR's first Director. The DIR was tasked by Jinnah with four primary objectives: (i) drafting of Pakistan's first Constitution; (ii) proposing the framework of Pakistan's economic system; (iii) proposing the framework of Pakistan's education system and (iv) proposing the framework of Pakistan's social system, all along Islamic lines. Asad's work at DIR, within the first months of its establishment, is famously reflected in the Objectives Resolution, which was adopted by the Constituent Assembly of Pakistan on 12 March 1949. 

Soon after the death of Quaid-e-Azam on 11 September 1948, the then Foreign Minister of Pakistan, Sir Zafarullah Khan, got Asad transferred to the Foreign Ministry of Pakistan. The DIR never recovered from Asad's sudden and unexpected departure, and it was abolished not long after Asad left. Most of the DIR's record was destroyed in a mysterious fire in October 1948, only a month after Jinnah's death. Its only legacy being the Objectives Resolution.

However, a few documents of the DIR survived and are in possession of the Government of the Punjab's Archives. One of these documents, revealed to the media by the Secretary, Archives Wing, Government of the Punjab, on 25 December 2013, is the document titled "Aims & Objects of the Department of Islamic Reconstruction by Muhammad Asad, Director, Department of Islamic Reconstruction". Here are some excerpts from the document: 

http://www.unsecularjinnah.com/jinnah-asad-and-the-department-of-islamic-reconstruction.html
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~  ~ ~ ~  ~





~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

Sunday, August 13, 2017

Good Governance and Pakistan پاکستان کا برا مسئلہ "گڈ گورننس" کا نہ ہونا ہے




THE historical judgement on governments is harsh. It says that governments have many butchers and few shepherds. However there is increasing interest in good governance. What is good governance? It is generally understood in its narrow meanings. An attempt is made here to present some of its less-known features.

Accountability, transparency and equality before the law are well-known attributes of a good government. There is rightly more stress on corruption. What Senator Cato said about Rome then is true of Pakistan today: “Simple thieves lie in prison and in stock; public thieves walk abroad in gold and silk.”

Corruption leads to misallocation of resour­­ces. For example, it could lead to misallocation of investment and public infrastructure away from their most productive use. It can also lead to misallocation of talent as self-interested individuals seek rewards in occupations where returns are inflated by corrupt practices.

Self-interested individuals choose to enter public life in order to capture rents. In its insidious form corruption tramples on individual rights at the hands of public servants. Pakistan was ranked 127th among 177 countries in 2013, by Transparency International’s corruption index.


Is poverty of nations the cause or effect of corruption?
It is argued that systems which are more open to trade cause less corruption. Rent-seeking by public servants is minimised. The licensing regimes in our country used to generate a phenomenal amount of corruption.

A strong correlation is found between corruption, the level of income and the enforcement of property rights. Rich countries may not be totally free of corruption but the incidence of corruption is fairly low compared to poor countries. Is poverty of nations the cause or effect of corruption? Poverty has many causes. In the early stages of development, however, corruption can prove a big bane.

Enforcement of property rights is another big issue. The existence of laws does not necessarily lead to enforcement of laws. Pakistani court procedures, the expense involved, both legal and illegal, to secure rights, and delays in adjudicating cases, are unbearable.

Transparency in the government’s dealings is another crucial aspect in the context of good governance. Corruption takes place in the shadows, away from the public gaze. The need is to throw light on those dark corners. In this respect, the Right to Information Act 2013 of the government of Khyber Pakhtunkhwa is worth appreciating.


Moving to the larger context of good government, the standard economic notion is social welfare. The approach can be applied to policies, political processes and institutions. It provides an intellectual underpinning for ideas of government operating in the public interest. In the traditional welfare economic model, good government is largely identified with reference to efficiency and distribution.

Efficiency requires making a choice from a set of alternatives which is most feasible. Feasibility requires taking into account both technological feasibility, budget balance, and so on.

The welfare economic model can be thought of as generating ‘rules for good governance’ using systematic model of the economy and what drives human well-being. This approach displaced the classical approach to the issue which merely catalogued the functions of the government as protecting the society from violence and invasion, establishing an exact administration of justice and the duty of erecting and maintaining certain public works and institutions.

Good policies require good persons to devise and implement those policies. Where will a country get this rare breed from? The modern answer to this is democracy. Democracies are run by politicians. The argument in favour of democracy is that the main sanction for poor performance is electoral — those who perform badly will not be re-elected.

This is a fallacious argument particularly in a country like ours. Those who get elected strive to make more and more money out of their positions whether in government or in opposition, to get re-elected next time. Politics is a money game. How many mega scams of our politicians have we proved and punished? There is growing disenchantment with democracy even in the democratic West.


Information provided by media and civil society is important in thinking about electoral accountability. We should draw a distinction between formal and real accountability. A politician is formally accountable if there is some institutional structure, apart from elections, that allows the possibility of some action against the culprit in the event that he does a poor job. But there is no guarantee that such accountability mechanisms are used effectively. Real accountability requires that those who hold politicians to account have sufficient information to make the system work.

Governments have been variously characterised as democracies, dictatorships, plutocracies, aristocracies and ‘kakistocracies’. The latter refers to when the worst persons are in power. It is left to the imagination of readers in which category they place the government of Pakistan.

By A. Rauf K. Khattak, www.dawn.com , The writer is a former federal secretary.
raufkkhattak@gmail.com       https://www.dawn.com/news/1223405
..............................................
Zahoor's Cartoon
"گڈ گورننس"
نواز شریف حکومت "گڈ گورننس" کے بلند و بانگ دعو ے کرتے نہیں تھکتی اور اس بات پر ہمیشہ زور دیتی رہی ہے کہ یہی گورننس ہے جو انہیں دوسری جماعتوں کی حکومتوں سے ممتاز کرتی ہے مگ؛
1. کیا بجلی کے شعبے میں سرکلر ڈیبٹ کا 800 ارب ہو جانا " گڈ گورننس " ہے؟
2. پاکستان کے تجارتی خسارہ کا 30 ارب ڈالر سے زائد تک جا پہنچنا " گڈ گورننس " ہے؟
3.غیر ملکی قرضہ جات کا 80 ارب ڈالر کے قریب پہنچ جانا " گڈ گورننس " ہے؟
4. بجلی کی پیداوار کے ناکام منصوبے اور اگست کے مہینے میں ملک میں بد ترین لوڈ شیڈنگ " گڈ گورننس " ہے؟
5. تاجروں کی حمایت کھو دینے کے خوف سے براہ راست ٹیکس وصولی میں ناکامی کے بعد عوام پربالواسطہ ٹیکسز کا بوجھ ڈالنا " گڈ گورننس " ہے؟
6. 40 فیصد عوام کا خط غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنا اور ان کے حالات بدلنے کے لئے کوئی جامع منصوبہ نہ ہونا ،" گڈ گورننس " ہے؟
7. تمام تر اخراجات، بیرونی امداد اور منصوبوں کے باوجود اسکولوں میں " نیٹ ان رول منٹ ریٹ" میں کمی بھی شاید " گڈ گورننس " ہے؟
8.پاکستان پانی کی کمی کا شکار ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہونے جا رہا ہے ، اس حوالے سے کسی ایک بھی جامع منصوبہ کا آغاز نہ ہونابھی " گڈ گورننس " ہی ہے؟
9.کیا ہمارے لئے یہ سوال اٹھانا زیادہ اہم نہیں کہ سی پیک معاہدہ کی شرائط کیا ہیں اور چین کو منصوبے سے پہلے اور بعد کیا مراعات دی گئی ہیں؟
10.شاید ہمارے ملک میں نہ کسی نے سری لنکا کو قرضہ دے کر اس کی پورٹ پر چینی قبضے کی کہانی پڑھی ہے اور نہ ہی کسی کو اس میں دلچسپی ہے۔
11. اس ملک میں ہمارے بچوں کا مستقبل پانی کے بغیر کیا ہو گا اس سے بھی ہمارا کوئی تعلق نہیں-
ان سوالات کا تعلق براہ راست پاکستان کے مستقبل سے ہے۔ میں حیران ہوں کہ پی ٹی آئی جیسی جماعت بھی جو بھرپور اپوزیشن کا دعویٰ کرتی ہے، ان معاملات پر نہ تو سنجیدگی سے سوالات اٹھاتی ہے اور نہ ہی حقائق کو پاناما کیس جتنےزور و شور سے عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوئی کوشش کرتی ہے۔ ۔
(افتخار احمد , شطرنج، مہرے اور تماشائی،اقتباس  ، jang.com.pk , August 12, 2017)
..........................................................
گڈ گورننس


گڈ گورننس کا فقدان ہمارے ملک کا ایک اہم ترین مسئلہ بن چکا ہے لیکن اس مسئلے کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا ہے، حالانکہ اس مسئلے سے دیگر اہم مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، مثلاً آج کل ذرایع ابلاغ پر نمایاں ترین مسئلے یعنی سندھ میں رینجرز کے اختیارات کے مسئلے کا تعلق بھی اس سے ہے۔
اگر سندھ میں گڈ گورننس ہوتی تو پھر یہاں کسی بڑے آپریشن اور رینجرز کے بلانے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ پاکستان ہو، اس کا کوئی صوبہ ہو یا کہ کسی صوبے کا کوئی ادارہ ہو، تمام جگہوں پر گڈ گورننس تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ ہمارے وزیراعظم غریبوں کے علاج کے لیے کارڈ اسکیم کا اعلان کررہے ہیں۔ یقیناً یہ اچھی بات ہوگی مگر سرکاری اسپتالوں میں گڈ گورننس کب قائم ہوگی؟ وہ کب حقیقی معنوں میں فعال ہوں گے؟ کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ آخر گڈ گورننس کی راہ میں کیا رکاوٹ ہے؟ اور اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں، اس کا سیدھا سادہ سا حل ہے، آئیے اس پر غور کریں۔
سب سے پہلے کسی بھی ادارے کے سربراہ کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے، نہ کہ سیاسی تعلق کی بنیاد پر یا پھر محض نوازنے کے لیے۔ نوازنے کے لیے کوئی اور طریقہ دریافت کیا جائے بجائے کسی قسم کی وزارت یا کسی ادارے کی سربراہی سونپنے کے۔ یہ بات تو کوئی راز ہی نہیں ہے کہ نوازنے کے لیے دی جانے والی ذمے داری سے ہر بڑا آدمی صرف ’’کمانے‘‘ کا کام کرتا ہے، نہ کہ اپنی ذمے داری کو ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ کام خاصا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن تو نہیں۔

یہ سوال بڑا اہم ہے کہ آخر ہماری حکمراں جماعتوں کو اپنی وزارتوں اور کسی بھی ادارے کے سربراہ کی تقرری کے وقت خود اپنی ہی جماعت میں کوئی باصلاحیت اور ایماندار آدمی کیوں نہیں ملتا؟ اور اگر نہیں ملتا تو کیا کوئی غیر جانبدار شخص بھی نہیں ملتا؟ زیادہ دور کی بات نہیں پچھلی حکومت میں ریلوے کے پورے نظام کو تلپٹ کرکے رکھ دیا گیا تھا، لیکن آج ایک صحیح شخص کے انتخاب نے ریلوے کو پاکستان سے نہ صرف ختم ہونے سے بچایا بلکہ اب یہ ادارہ مزید ترقی اور بہتری کی جانب گامزن ہے (یہاں راقم بحیثیت ایک پاکستانی سعد رفیق اور ن لیگ کو شاباش کہنا چاہے گا کہ انھوں نے ایک بہترین فیصلہ کیا اور پھر عمل بھی کرکے دکھایا)۔
گڈ گورننس قائم رکھنے میں نیب جیسے ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور اس کا طریقہ نہایت آسان ہے مگر مشکل بھی۔ آسان اس طرح ہے کہ اس قسم کے ادارے اگر نیک نیتی کے ساتھ صرف اور صرف کسی بھی ادارے کے سربراہ کی مکمل چھان بین کریں کہ وہ ٹیکس کتنا دیتا ہے؟ اس کے اخراجات کیا ہیں؟ اور گزشتہ دس برسوں میں اس کے اثاثے کیا تھے اور اب کیا ہیں؟ اگر تمام اداروں کے سربراہوں کی اس طرح چھان پھٹک کرلی جائے اور بلاتفریق عدالت کے کٹہرے میں لے آیا جائے تو کسی ادارے کے سربراہ کے لیے یہ آسان نہ ہوگا کہ وہ کرپشن کرسکے۔ درحقیقت کرپشن ہی کسی بھی ادارے کو خراب گورننس اور تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ جن اداروں کے سربراہ کرپشن میں ملوث نہ ہوں وہ ادارے ہی ترقی کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔
اگر سربراہ ہی کرپٹ ہوجائے تو ظاہر ہے کہ نیچے کا عملہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتا ہے، جس سے گڈ گورننس تو ایک طرف، ادارہ ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔ یہاں ڈاکٹر عبدالوہاب کا تذکرہ بے محل نہ ہوگا، جس وقت جامعہ کراچی میں دوران امتحان نقل کا کلچر زور پکڑ گیا تھا اور گڈ گورننس بری طرح متاثر ہورہی تھی، ڈاکٹر عبدالوہاب نے سختی کے ساتھ نظم وضبط کو قائم کیا اور بہت سی خرابیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، نقل کا کلچر جڑ سے ختم کرادیا، نیز جامعہ میں ایوننگ پروگرام شروع کرایا، آج جامعہ کراچی کے اسٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی ہورہی ہے تو اس ایوننگ پروگرام سے حاصل ہونے والی آمدنی سے، ورنہ تو یہاں کے اساتذہ بھی پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی طرح مہینوں مہینوں تنخواہوں سے محروم رہتے۔
کچھ ہی عرصے پہلے ایک اخبار میں یہ خبر شایع ہوئی کہ سندھ میں ایماندار افسران کی کمی ہے، ایک ایک افسر کو کئی کئی ذمے داریاں سونپی جارہی ہیں کیونکہ کرپٹ افسران کسی کارروائی کے خوف سے ملک سے جاچکے ہیں یا جارہے ہیں۔ یہ خبر عیاں کر رہی ہے کہ اس صوبے میں کرپشن کی کیا صورتحال ہے اور گڈ گورننس کس سطح پر ہے۔
مرض کو ابتدائی مرحلے میں توجہ نہ دی جائے تو پھر بڑا آپریشن ناگزیر ہوجاتا ہے۔ سندھ میں آپریشن کا بھی یہی معاملہ ہے، گو قانونی لحاظ سے سندھ حکومت کا موقف اپنی جگہ درست ہے مگر اس حکومت کے ذمے داروں کو یہ سوچنا تو چاہیے کہ عوامی آواز خود یہ محسوس کررہی تھی، اور آج بھی کررہی ہے کہ یہاں کے مرض کا علاج اب بڑا آپریشن ہی ہے۔ کرنے کا کام تو یہ ہے کہ مرض کو دور کرنے کے لیے صوبائی حکومت خود سے بڑا آپریشن کرکے یہاں گڈ گورننس قائم کرے۔
گڈ گورننس کا ایک اور اہم اور بڑا پہلو انصاف کی فراہمی ہے۔ راقم نے ایک بڑے سرکاری افسر سے پوچھا کہ آپ ایماندار افسر ہیں، آپ کوئی بڑا کردار ادا کیوں نہیں کرتے؟ ان کا جواب تھا کہ وہ اپنے طور پر تو یہ کردار ادا کررہے ہیں لیکن ان کی پشت پر کوئی بھی نہیں، ان کا تعلق کسی بھی جماعت یا گروہ سے نہیں، ایسے میں کوئی بڑا کلمہ حق کہنا بہت مشکل ہے، ہاں اگر ہماری عدالتیں اس قدر مضبوط ہوجائیں کہ عوام کا اعتماد ان پر بحال ہوجائے تو ایک میں کیا نہ جانے کتنے ایماندار افسران سر دھڑ کی بازی لگا کر اپنا کردار نبھائیں اور محاذ پر ڈٹ جائیں۔ بلاشبہ انصاف کی فراہمی بھی گڈ گورننس میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔
آج راقم سمیت بہت سے لوگوں کے دن رات کا مشاہدہ ہے کہ مختلف اداروں میں جو ایسوسی ایشنز یا یونینز اپنے ادارے کے ملازمین کو حقوق دلوانے کے لیے بنتی ہیں، وہ خود ہی اپنے ملازمین کا سب سے بڑا استحصال کرتی ہیں اور محض اپنے پسندیدہ ملازمین کے کام کرواتی ہیں اور انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر غیر قانونی کام کروا کر اپنے بینک بیلنس بناتی ہیں۔
یوں جن تنظیموں کا کام لوگوں کو ان کے حقوق دلوانا ہوتا ہے، ظلم و ناانصافی ختم کرنا ہوتا ہے اور ادارے میں گڈ گورننس قائم کرنا ہوتا ہے ان کی جانب سے خود قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور گڈ گورننس کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ ظاہر ہے کہ جب گڈ گورننس کو قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے والے الٹا گڈ گورننس ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے تو پھر ادارے کی انتظامیہ بھی ان کے غیر قانونی کام کرنے کے بعد شتر بے مہار بن جاتی ہے اور ادارے کو ذاتی فوائد حاصل کرنے کے لیے کھل کر نقصان پہنچاتی ہے، کیونکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ اب اسے کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں اور اگر کوئی ہوگا بھی تو اس سے یہ ملازمین کے حقوق دلوانے کے دعویدار خود ہی نمٹ لیں گے۔
راقم کے ایک دوست کا کہنا ہے کہ انصاف اور احتساب وہی کرسکتا ہے جس کا دامن صاف ہو، جب تک قانون نافذ کرنے والے اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں میں ایسے لوگوں کی کثرت نہیں ہوجاتی، گڈ گورننس کا قیام آسان نہیں۔ راقم کا خیال ہے کہ ایسے افراد کی ضرورت تو ہر ادارے میں ہے۔ آئیے پہلے اپنا دامن صاف کرنے کی کو شش کریں اور کچھ دیر اس پہلو پر بھی غور کریں۔

......................................................
Image result for ‫گڈ گورننس کیا ہے‬‎

Crisis of Good Governance

nation.com.pk

Governance is the exercise of authority to address public affairs. This authority can be political, economic or administrative. The use of this authority is always based upon certain rules and laws of society established by its members. Good governance is to run administration according to these defined laws for the welfare of the people. Bad governance means digression or subversion from these laws. Good governance guarantees safety and security of the people and creates an atmosphere conducive to progress and prosperity. Bad governance begets a number of social crises. 

Good governance comes through strong and independent institutions of the state. These institutions need to be built, sustained and stronger than individuals. Unfortunately, a little effort has been made to build institutions on a stable footing in Pakistan since independence and individuals have taken precedence over institutions. Pakistan suffers from a number of crises but the crisis of good governance is on top because it is the core of all other problems. 
Our country is suffering from weak institutional set-up, political instability, rampant corruption, lack of accountability and transparency and bad law and order situation. All these issues have seriously pushed off the country to an abysmal state of poor governance. 

Every government looks down upon the policies of the previous government, throws those away and establishes new ones. Due to bad governance education, health, civic services, agricultural infrastructure are all in bad state. Even the most basic social needs of citizens are not fulfilled. Law and ordered situation is deteriorating and people are being robbed and killed in bright day light. People don’t feel safe and secure. 
Places of worship have to be guarded for the fear of terrorism. This sorry state of law and order scare the investors away from the country thereby severely harming the economy. 
One of the most damaging effects of bad governance is the prevalence of corruption that ultimately results in lawlessness and the biggest hindrance in the way of development. The absence of impartial and independent accountability has resulted in the growth of this monster. It has become a norm in our society rather than an exception. 

Good Governance stands for poverty alleviation. 
It has always been a favourite buzzword in our economic and social development circles. 
Almost every democratic government has launched poverty reduction programs but all proved futile and ended in corruption. Accountability is a crucial point in good governance – the rulers and the institutions of the state are accountable to people. But, it is very hard to find it in Pakistan’s weak institutional set-up. 

Merit or fairness is essential for good governance and the both support each other. But in our country merit is given least importance. Nepotism and favouritism are the order of the day. Our once very strong institutions like PIA, Pakistan Railway, Pakistan Steel etc. are now in state of paralyse.  All the cities in any province is not getting equal share of development. 
Developing one city in any province at the cost of basic facilities, like hospitals, schools and colleges, clean drinking water etc. , of the other cities is another example of bad governance. One city gets the road network, underpasses and overhead bridges and the others don’t have the basic road network. This disparity has created bad feelings among people living in small cities. 
Similarly, unemployment, illiteracy are other aspects which speak volume about sorry state of governance. People at the helm of affairs need to understand that good governance is more than mere management.  It is not only about decision making, policy formulating but also priority settings, implementation and getting results. Transparency, legitimacy, merit and the rule of law are the important pillars of good governance. 
Politicians and other state officials in the power corridor make illegal appointments in various public offices. They could appoint inept people without merit on political grounds, for the sake of money, favouritism and nepotism. 

The civil servants, police and NAB are not fully autonomous in their decree to work. All are under severe political pressure. None of them is granted full independence, to bring the criminals to justice and inquire the cases of big guns. These are powerful institutions, which need considerable attention to de-politicise their structures. These institutions should be given absolute autonomy to bring the corrupt people before the law. 

Good governance is a prerequisite for social harmony, public order, political stability, economic prosperity and certainty about future. It delivers the fruit of progress and development evenly to all and sundry. Good governance is required at all levels of society and state. Government needs to focus seriously on this issue to accomplish satisfactory results. We must not allow the erosion of institutions through the idiosyncratic behaviour of rulers. No state is free of all crises but it is the quality of governance that ensures its survival through any crisis. 

Rauf  A Khattak , The writer is based in Lahore. 
http://nation.com.pk/columns/05-Mar-2017/crisis-of-good-governance

.
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

Thursday, August 10, 2017

نا اہل جھوٹے خائین سابق وزیر اعظم کا گمراہ کن جھوٹا بیانیہ : حقیقت ، تجزیے

نا اہل جھوٹے خائین سابق وزیر اعظم کا گمراہ کن جھوٹا بیانیہ کی حقیقت:
میاں نواز شریف سمیت مسلم لیگ نون پوری کوشش سے سادہ لوح عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر ٹھونسنے کی کوشش کررہی ہے کہ میاں صاحب کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملنے پر انہیں اقامہ کی بنیاد پر نااہل کر دیا گیا ہے‘ بھلا یہ بھی کوئی جرم ہے؟ اگر سچ سننے کی تاب رکھتے ہیں توجناب والا امارات کی جس ایف زیڈ ای کمپنی کا آپ اقامہ رکھتے ہیں جس کے آپ چیئر مین ہیں وہی لندن اورورجن آئی لینڈ میں آپ کی بارہ کمپنیوں کی اصلی ماں ہے اور یہی وہ ڈالروں کی مشین ہے جو پاکستان لندن اور پھر دنیا کے چھ دوسرے ممالک سے اکٹھے کئے جانے والے سرمائے کو اس کمپنی کے گودام میں جمع کرتی ہے ۔
میاں نواز شریف نے اجلاس کو بڑے فخر سے بتایا ''اﷲکا شکر ہے کہ مجھے پر پاکستان کاایک پیسہ لوٹنے کا الزام بھی ثابت نہیں ہو سکا مجھے جس الزام کے تحت نااہل کیا گیا وہ یہ ہے کہ دوران جلا وطنی متحدہ عرب امارات میں چند روزہ قیام کے بعد واپس برطانیہ آنے کیلئے قانونی تقاضے پورے کرنے کی خاطربیٹے حسن نواز کی بنائی گئی کمپنی کی چیئرمین شپ قبول کرنا پڑی۔

حضور والا ! پاکستان سے روزانہ ہزاروں لوگ دوبئی جاتے ہیں۔ دوبئی کا ویزہ تو دس پندرہ ہزار روپے زائد دینے پر ٹکٹ لینے کے ساتھ ہی مل جاتا ہے ِ خدا کا خوف کریں اس قدر جھوٹ ! آپ قوم کو یہ کیوں نہیں بتاتے کہ یہی وہ کمپنی ہے اور اقامہ ہے جس کے ذریعے آپ نے ڈالروں کے گودام بھرے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی بے گناہی اور معصومیت ثابت کرنے کے لیے سپریم کورٹ پر کیچڑ اچھالا ہے

آپ اپنے قانونی ماہرین سے کہیں کہ وہ سپریم کورٹ سے نا اہل کئے گئے اراکین اسمبلی کے فیصلوں کا ریکارڈ دکھائیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اب تک متعدد اراکین اسمبلی انہیں الزامات پر نا اہل کئے جا چکے ہیں۔

اگر آپ یا آپ کے ترجمانوں کی فوج ظفر موج سر جوڑ کر جائنٹ انٹیرو گیشن ٹیم کی رپورٹ کے تمام حصوں کا مطالعہ کرے تو یہ بات ظاہر ہو جائے گی۔ آپ کی بیرون ملک جو 13 کمپنیاں سامنے آئیں ہیں ان میں سے 9 برطانیہ، تین برٹش ورجن آئی لینڈ اور ایک متحدہ عرب امارات میں واقع ہے اور ۔۔۔۔امارات کی''کیپیٹل ایف زیڈ ای ‘‘ کمپنی ان تمام کمپنیوں کا سٹیٹ بینک ہے؟ ۔

قوم کو جس جھوٹ اور پراپیگنڈے کے ذریعے گمراہ کیا جا رہا ہے ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ شریف خاندان کی ان تیرہ کمپنیوں میں سے بارہ کمپنیاںنہ جانے کیوں سخت خسارے میں جا رہی ہیں اور صرف متحدہ امارات والی یہی ایک کمپنیFZE انہیں مسلسل بھر پور منا فع دیئے جا رہی ہے جس کے بارے میں قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ تو میرے بیٹے نے صرف امارات میں ایک دو دن قیام کیلئے قائم کی تھی تاکہ شرائط پوری کرکے لندن میں رہا جا سکے ۔۔۔۔
جناب والا !قوم کو سچ بتائیں کہ یہی وہ ایف زیڈ ای کمپنی ہے جس کے ذریعے دوسری کمپنیوں کو پاکستان کے اندر اور باہر اپنے وسیع کاروبار کیلئے سرمایہ فراہم کیا جاتا رہا۔۔۔۔
مسلم لیگ نواز کے ترجمانوں کو اب یہ بھی بتانا پڑے گا کہ برطانیہ میں قائم بارہ کمپنیوں کو خسارہ کیوں ہو رہا ہے؟
ایسا تو نہیں کہ FZE کے نام سے کام کرنے والی کمپنی جو جبل علی امارات میں قائم ہے وہاں ٹیکس کی چھوٹ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کا سرمایہ گھوم پھر کر اسی میں واپس آتا رہا اور اسی کمپنی سے کالے دھن کی سفیدی کیلئے سرمایہ پاکستان پہنچایا جاتا رہا۔
معاشی اور تفتیشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جس کمپنی کی بنیاد پر میاں نواز شریف کو اس کا چیئر مین ثابت ہونے پر نا اہل قرار دیا گیا ہے در اصل یہ منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کی جانے والی سرنگ کا پہاڑ ہے۔

حضور سچ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کی'' کیپیٹل ایف زیڈ ای‘‘ کمپنی ہی شریف خاندان کی تمام منی لانڈرنگ کی ماں ہے۔
دنیا کے ہر حصے سے گھومتے ہوئے ڈالروں کے چشمے اسی دریا میں گرتے ہیں۔سپریم کورٹ کے جاری کردہ احکامات کے تحت جب نیب کی جانب سے تیار کئے گئے ریفرنس قوم کے سامنے آئیں گے تو پھر سب جان جائیں گے کہ '' یہ لوگ سپریم کورٹ اور پھر افواج پاکستان پر اندھیرے میں ہی تیر چلاتے رہے ہیں (ماخوز)
(منیر بلوچ ، دنیا ، dunya. com .pk(
Image result for Panama JITImage result for Panama JIT




دانشور، کالم  نگار ، اہینکروں سے سوالات :
بڑے بڑے سینیر دانشور اور کالم  نگار ، اہینکر جن کا پانامہ کیس پر سٹینڈ ان کی شخصیت سے متصادم نظر آتا ہے۔ تکنیکی اور قانونی موشگافیوں کو ایک طرف رکھیں۔ یہ intellectuals  بتائین:
1۔ کیا نواز شریف صاحب کے لیئے منا سب ہے کہ وہ اپنے کاروبار چلائیں اور حکمرانی بھی کریں؟
2۔ان کا انداز حکمرانی اور پاکستان کے اداروں کو ذاتی غلام بنانا درست ہے؟
3۔ نظریہ پاکستان پر تنقید اور انڈیا سے مشکوک قربت اور کشمیر پر پر اسرار خاموشی ، مولانا فضل اور اچکزئی ، عاصمہ جہانگیر اور سیکولر قسم کے لوگوں سے قربت کا کیا مطلب  ہے؟
4۔ دہشت گردی کی جنگ میں ( نیشنل ایکشن پلان )  NAP کی غیر فعالیت 256 دن باہر دورے اور NAP کے چند اجلاس؟
5۔ مقروض ملک کے سربراہ حکومت کا شاہانہ لائف سٹائل
6۔ فوج سے ہر وقت پنگا جبکہ وہ سیاست سے دور ہے، ڈان لیک ایک مثال
7۔ فوج کے ماضی میں سیاسی کردار کو اب چھوڑ کر مل جل کر آگے چلیں مگر موصوف لڑائی پر بضد ۔۔۔ جبکہ  bad governance موجود
8۔ کرپشن کے خاتمہ پر کوئی اقدام نہیں NAB  کو غیر موثر کر دیا
9۔ زرداری سے مکمل مکا کرکہ باریاں لگا لیں،  سندھ کو ظالموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔
10.عوام کا تحفظ ، پولیس گردی،سرکاری دفاتر میں رشوت ،حرام خوری۔ معاشی ا صتحسال
11۔ اکثریت آبادی تعلیم ، صاف پانی ، بنیادی صحت سے محروم۔


اور بہت کچھ ۔۔۔ اللہ کی پکڑ سخت ہوتی ہے ، بھٹو اپنے ظلم کے ایک کام پر پکڑا گیا، جبکہ قتل خود نہ کیا حکم دیا ۔۔ یا نہیں انجام کو پہنچا
جب دانشور نواز شریف کی معصومیت کا رونا روتے ہیں تو وہ اس کے باقی اعمال کو نظر انداز کرتے ہیں،  مگر اللہ کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔
انسان کو اس کی مجموعیت TOTALITY میں دیکھی


~~~~~~~~~~~~~~~~~~~


فیصلہ قانونی لحاظ سے بہت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔
فیصلہ قانونی اصولوں اور نظائر کے عین مطابق ہے۔
تاہم قانونی اصولوں سے ناواقفیت کی بنا پر ، اور کچھ ذاتی صدمے کی وجہ سے ، ہمارے کئی دوستوں کو اس فیصلے کی سمجھ نہیں آرہی اور وہ طرح طرح کے سوالات اٹھارہے ہیں ۔ ہم ان میں سے چند اہم سوالات پر یہاں مختصر بحث کریں گے۔
.........................................................


نواز شریف کی نااہلی کا تکنیکی پہلو
سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم نواز شریف کوآئین کے آرٹیکل 62 کے تحت 'دیانت دار' نہ ہونے پر مملکت کے سربراہ کے عہدے سے نااہل قرار دے دیا۔

سرپیم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کی نااہلی کا حکم جاری کرنے کا سبب شریف خاندان کے مالی معاملات کی تفتیش کے لیے تشکیل دی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے 10 والیم پر مشتمل رپورٹ کا مرہون منت نہیں تھا، درحقیقت ججز نے یہ کہتے ہوئے تقریباً ان سارے معاملات کو تفتیش اور جائزے کے لیے احتساب عدالت کو بھیج دیے ہیں کہ یہ اعلیٰ عدلیہ کے دائرے میں نہیں آتے۔

تاہم جے آئی ٹی نے متحدہ عرب امارات سے ججوں کے لیے نواز شریف کی نااہلی کا حکم صادر کرنے کے لیے ایک اہم ٹینکیکل پہلو نکال لایا کیونکہ یہ ایک ایسا الزام تھا جس کو نواز شریف کے وکیل مسترد نہ کر سکے۔

اقامہ نے نواز شریف کو گرادیا

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ انھیں متحدہ عرب امارات کےجبل علی فری زون اتھارٹی (جافزا) سے براہ راست ثبوت ملے ہیں جو نواز شریف کے نہ صرف کمپنی کے چیئرمین ہونے کی تصدیق کرتے ہیں بلکہ 7 اگست 2006 سے 20 اپریل 2014 کے دوران وزیراعظم کا عہدہ حاصل کرنے کے ایک سال بعد بھی دس ہزار درہم تنخوا حاصل کی لیکن کاغذات نامزدگی میں اس کو شامل نہیں کیا۔

نواز شریف کی جانب سے ابتدا میں اس کو مسترد کیا گیا تھا۔

اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے سوالاٹ اٹھائے جانے کے بعد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث احمد نے عدالت کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ وزیراعظم کے چھوٹے بیٹے حسن نواز کیپٹل ایف زیڈ ای کے مالک ہیں اور نواز شریف اس کے چیئرمین ہیں تاہم ان کا زور اس بات پر تھا کہ وزیراعظم اس کے علامتی چیئرمین ہیں اور انھوں نے کوئی تنخوا حاصل نہیں کی۔

خواجہ حارث کا موقف تھا کہ اس انتظام کا مقصد متحدہ عرب امارات میں اقامہ حاصل کرنا تھا۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے قوانین کے مطابق تمام ملازمین کو متحدہ عرب امارات ویج پروٹیکشن سسٹم (ڈبلیو پی ایس) کے تحت بینک کے ذریعے تنخوا جاری کرنا لازمی ہے اور قانون کی پاسداری میں ناکام کمپنی کو بلیک لسٹ قرار دے کر ختم کردیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم کے عہدے کو تیکنیکی اعتبار سے اسی نقطے نے گرادیا۔

سپریم کورٹ نے جمعے کو اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ 'اس عدالت کے لیے دوسرا نقطہ جو ابھر کر سامنے آیا وہ مدعا علیہ نمبر ایک (نواز شریف) بطور چیئرمین کیپٹل ایف زیڈ ای تنخوا کے حق دار تھے اور تنخوا کے حوالے سے 1976 کے پیپل ایکٹ (روپا) کے سیکشن 12(2) کے تحت ظاہر کرنا ضروی تھا اور اس میں ناکامی کی صورت میں وہ نااہلی کے حق دار ہیں'۔

روپا میں اصطلاح 'اثاثہ' کی تعریف نہیں کی گئی ہے اسی لیے عدالت کو اس کا مطلب نکالنے کے لیے بلیک لاز ڈکشنری پرانحصار کرنا پڑا جہاں سے انھیں درج ذیل نتائج موصول ہوئے:

1)نقد، مشینری، اشیا، زمین اور عمارت جو جنس کی صورت میں حاصل کی جائے۔

2)دوسروں کے خلاف نفاذ کے قابل دعویٰ جیسا کہ قابل وصول اکاؤنٹس۔

3)کاپی رائٹ اور ٹریڈ مارک جیسے حقوق وغیرہ۔

4) خیرسگالی جیسا ایک مفروضہ

عدالت کا کہنا تھا کہ 'لفظ 'قابل وصولی' کی تعریف بلیک لاز ڈکشنری میں اوپر بیان کیے گئے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ایسی کوئی چیز جو حاصل کی جاسکتی ہو یا جو موجودہ وقت میں قابل ادا نہ ہو'۔

سپریم کورٹ نے لفظ 'قابل وصولی' کا مطلب بزنس ڈکشنری سے بھی حاصل کیا۔

یوں نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ ہوگیا۔

عدالت کےمطابق 'اوپر دیے گئے بیان کے بعد اس کی تعریف نئے سرے سے وضع کی گئی کہ تنخوا کے حق دار چاہے وہ تنخوا وصول کرے یا نہ کرے وہ قانونی اور عملی مقاصد کے لیے اس کو اثاثہ تصور کیا جائے گا'۔

'جب یہ قانونی اور عملی طور پر اثاثہ قرار پایا تو مدعا علیہ نمبر ایک کو روپا کے سیکشن 12(2) کے تحت اپنے کاغذات نامزدگی میں اس کو ظاہر کرنے کی ضرورت تھی'۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کے وکیل نے خود تصدیق کی کہ وزیراعظم نے ضرورت کے تحت اقامہ حاصل کیا اور وہ کیپٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین کے طور پر اور وہ تنخوا کے حق دار تھے تاہم وہ تنخوا حاصل نہ کرنے کے حوالے سے زور دیتے رہے۔

عدالت نے وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ 'مدعاعلیہ نمبرایک کی جانب سے انکار نہیں کیا گیا کہ وہ کپیٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین کے طور پر تنخوا کے حق دار تھے اس لیے ان کی جانب سے تنخوا کو ظاہر نہ کرنا باوجود اس کے کہ وہ قابل وصول تنخوا کوحاصل نہ کرنا بھی ان کے اثاثوں میں شمار ہوتا ہے'۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو 2013 کے عام انتخابات میں روپا کے سیکشن 12(2) کے تحت اپنے کاغذات نامزدگی میں قابل وصول تنخوا کو ظاہر نہ کرنے پر 'بددیانت' قرار دیا۔

عدالت نے کہا کہ 'مدعاعلیہ نمبر ایک نے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے اور قانون کی خلاف ورزی پر اس کو غلط معلومات فراہم کرنے کے زمرے میں شمار کیاجائے گا اس لیے وہ روپا کے سیکشن 99(1) (ایف) اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت دیانت دار نہیں رہے۔
پانچوں ججز نے مشترکہ طور پر فیصلہ دیا کہ نواز شریف کو جانا پڑے گ
(ازین صدیقی, Dawn. Com (



!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!




ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر 1 میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا۔

فیصلہ سنانے سے قبل ججز نے اپنے چیمبر میں مشاورت کی۔

عدالت عظمٰی کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ابتدا میں 20 اپریل کے فیصلے کا حوالہ دیا، جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل نے فیصلہ پڑھ کر سنایا، جس کے تحت پانچوں ججوں نے متفقہ طور پر وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔

25 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے پانچ جج صاحبان کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف نااہل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نواز شریف نے ’کیپیٹل ایف زیڈ ای‘ سے متعلق کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے، نواز شریف عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 12 کی ذیلی شق ’ٹو ایف‘ اور آرٹیکل 62 کی شق ’ون ایف‘ کے تحت صادق نہیں رہے، نواز شریف کو رکن مجلس شوریٰ کے رکن کے طور پر نااہل قرار دیتے ہیں، الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کرے، نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نواز شریف وزیر اعظم نہیں رہیں گے۔

سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اگر قومی احتساب بیورو (نیب) نے حدیبیہ پیپر ملز کی اپیل سپریم کورٹ میں داخل کی تو اسے سنا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے نیب کو نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف لندن کے 4 فلیٹس سے متعلق ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا جبکہ نواز شریف، حسن اور حسین نواز کے خلاف عزیزیہ اسٹیل ملز، ہل میٹل سمیت بیرونی ممالک میں قائم دیگر 16 کمپنیوں سے متعلق بھی ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اسحٰق ڈار نے ظاہر آمدن سے زائد اثاثے بنائے اُن کے کے خلاف بھی ریفرنس داخل کیا جائے، فریقین کے اقدامات سے بلواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ثابت ہو تو شیخ سعید، موسیٰ غنی، کاشف مسعود، جاوید کیانی اور سعید احمد کے خلاف بھی نیب کارروائی کرے۔

سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں نیب کو تمام ریفرنسز دائر کرنے کے لیے ٹائم فریم بھی دیا گیا۔

عدالتی حکم میں کہا گیا نیب احتساب عدالت راولپنڈی میں عدالتی فیصلے کے ڈیڑھ ماہ کے اندر ریفرنسز داخل کرے، ریفرنسز جے آئی ٹی کی جانب سے جمع کردہ مواد، ایف آئی اے اور نیب کو حاصل دستاویزات کی روشنی میں داخل کیا جائے، جے آئی ٹی کے بیرون ممالک کو لکھے گئے خطوط کو بھی مدنظر رکھا جائے جبکہ احتساب عدالت ان ریفرنسز کا فیصلہ دائر کیے جانے کے 6 ماہ کے اندر کرے۔

عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا احتساب عدالت جعلی ٹرسٹ ڈیڈ، جھوٹی دستاویزات اور بیان حلفی کسی فرد کی جانب سے داخل کرانے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حق رکھتی ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلے میں کہنا ہے کہ صدر مملکت جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے آئین و قانون کے تحت تمام ضروری اقدامات اٹھائیں۔

فیصلے میں چیف جسٹس کو یہ درخواست کی گئی کہ وہ سپریم کورٹ کے ایک جج کو نامزد کریں، جو عدالتی فیصلے کو اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرانے کے ساتھ نیب اور احتساب عدالت کے معاملات کی نگرانی بھی کریں۔

عدالت نے حکم دیا کہ جے آئی ٹی ممبران کی ملازمتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، سپریم کورٹ کے علم میں لائے بغیر جے آئی ٹی ممبران کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔

فیصلے میں جے آئی ٹی ممبران اور ان کے عملے، پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کے وکلاء کی تعریف بھی کی گئی







روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں کرپشن کو
روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں منی لانڈرنگ کو
روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں ٹیکس چوروں کو
روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو
روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں رشوت خوروں کو
روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں پانامہ لیک کو
روک سکتے ہو تو روک لو پاکستان میں مودی کے یاروں کو

روک سکو تو روک لو نوازشریف کو  

‎اسلام آباد، جے آئی ٹی کی رپورٹ 254  صفحات پر مشتمل ہے
ابتدائیہ
�جے آئی ٹی کا سربراہ نامزد ہونا میرے لئے باعث عزت اور فخر کی بات ہے، واجد ضیاء
عتماد کرنے اور جے آئی ٹی کاسربراہ بنانے پر سپریم کورٹ کا مشکور ہوں، واجد ضیاء
محسوس کرتا ہوں کہ ہم سچ تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے اور رپورٹ جمع کرارہے ہیں،واجد ضیاء
جے آئی ٹی کے ممبران کی غیر معمولی صلاحیتیوں کے بغیر ہدف کا حصول ممکن نہیں تھا، واجد ضیاء
جے آئی ٹی کے ممبران نے انتہائی عزم اور غیر جانبداری سے اپنا کام مکمل کیا، واجد ضیاء
بطور سربراہ تفتیش کے تمام پہلوئوں کی ذمہ داری میں اپنے سر لیتا ہوں، واجد ضیاء
ساتھ دینے پر جے آئی ٹی ممبران اور تمام اسٹاف کا مشکور ہوں، سربراہ جے آئی ٹی
جے آئی ٹی اراکین کو ملنے والی دھمکیاں سپریم کورٹ کے علم میں ہیں،واجد ضیاء
ہوسکتا ہے جے آئی ٹی اراکین کو مستقبل میں بھی دھمکیاں ملیں اور نشانہ بنایا جائے، واجد ضیاء
جے آئی ٹی رپورٹ / گلف اسٹیل ملز (صفحہ ایک تا 51) (عامر عباسی)
سپریم کورٹ نے گلف سٹیل ملز سے متعلق پانچ سوالات کی تحقیقات کا حکم دیا، جے آئی ٹی
گلف سٹیل ملز کی تفتیش کےلیے طارق شفیع، نواز شریف، حسین و حسن نواز کا بیان لیا،رپورٹ
حسین نواز کی دستاویزات کی تصدیق کےلیے متحدہ عرب امارات بھیجیں، رپورٹ
باہمی قانونی معاونت کے تحت متحدہ عرب امارات حکومت سے تصدیق کرائی، رپورٹ
طارق شفیع، نواز شریف، مریم نواز، حسن اور حسین نواز گلف سٹیل کے شواہد نہیں دے سکے،رپورٹ
شریف خاندان کا شواہد جمع نہ کرانا نیب اور قانون شہادت آرڈیننس کے تحت جرم ہے، رپورٹ
طارق شفیع کی جانب سے جمع کرائے گئے بیان حلفی وکیل کے تیار کردہ تھے ،رپورٹ
طارق شفیع نے نہ تو بیان خلفی پڑھے نہ ہی وہ اس کے متن سے اگاہ تھے،رپورٹ
طارق شفیع کی جمع کرائی گئی تمام دستاویزات جھوٹی اور حقائق کے منافی تھیں،رپورٹ
اسلام آباد؛ طارق شفیع کے بیان حلفی اور زبانی بیان میں تضاد تھا، رپورٹ
بیان حلفی کے مطابق گلف سٹیل ملز میں میاں شریف اور محمد حسین پاٹنرز تھے،رپورٹ
اسلام آباد؛ زبانی بیان میں طارق شفیع نے کہا میاں شریف اکیلے مالک تھے،رپورٹ
گلف سٹیل ملز کے 25 فیصدشئیر فروخت کرنے کا دعویٰ جھوٹ اور جعلی تھا، رپورٹ
دبئی سے جدہ سکریپ مشینری کا دعویٰ بھی مشکوک ہے ، جے آئی ٹی رپورٹ
متحدہ عرب امارات نے شریف خاندان کے 25 فیصد شیئر فروخت کرنے کی تصدیق نہیں کی،رپورٹ
اپارٹمنٹس خریدنے اور کاروبار کی تمام دستاویزات جعلی ثابت ہوئیں، جے آئی ٹی رپورٹ
شریف خاندان منی ٹریل ثابت کرنے کیلئے ایک بھی دستاویز پیش نہیں کر سکا،رپورٹ
من گھڑت کہانی ثابت کرنے کے لئے دستاویزات کے بجائے گواہوں کے بیانات ہی کافی ہیں،رپورٹ
طارق شفیع اور حسین نواز کے بیانات میں تضاد ہی ساری کہانی بیان کر دیتا ہے،رپورٹ
طارق شفیع کے مطابق 1978سے 1980تک گلف سٹیل کے معاملات شہباز شریف دیکھت تھے،رپورٹ
شہباز شریف کے مطابق انہوں نے گلف سٹیل کے معاملات میں کردار ادا نہیں کیا، رپورٹ
گلف سٹیل کے فروخت کی دستاویزات پر طارق شفیع کے علاوہ کوئی اور دستخط کررہا تھا،رپورٹ
دبئی حکام نے 25 فیصد شئیر 12 ملین درہم کے فروخت ہونے کی تصدیق بھی نہیں کی،رپورٹ
۔12ملین درہم وصول کرنے اور الثانی خاندان کو دینے کی کوئی بھی دستاویز نہیں دی گئی،رپورٹ
گلف سٹیل کی فروخت ،قطری خط ، طارق شفیع کا بیان ایک دوسرے سے متصادم ہیں،رپورٹ
اسلام آباد؛ فہد بن جاسم کو کاروبار کے لئے12 ملین درہم دینا فسانہ ہے حقیقت نہیں، رپورٹ
شریف خاندان نے گلف سٹیل کی فروخت کے وقت 14ملین درہم دینے تھے، رپورٹ
شریف خاندان گلف اسٹیل سے 12 ملین کی سرمایہ کاریی کیسےکر لی؟ رپورٹ
گواہوں کے بیانات کے مطابق طارق شفیع نے 12ملین درہم وصول کئے نہ ہی فہد جاسم کو دیئے،رپورٹ
گلف سٹیل ملز کی فروخت اور فہد بن جاسم کے ساتھ کاروبار کا دعویٰ سپریم کو گمراہ کرنے کے لئے تھا، رپورٹ
(صفحات 52 تا 151) (عمران وسیم)
وزیراعظم کے بچوں کی جانب سے پیش کئے گئے دستاویزات میں عدم مطابقت پائی گئی، رپورٹ
اسلام آباد، مریم نواز نیسکول اور نیلسن کمپنیوں کی بینیفیشل مالک ہیں، رپورٹ
اسلام آباد، مریم نواز لندن فلیٹس کی 2012 سے پہلے کی مالک ہیں، رپورٹ
لندن جائیدادوں کی ملکیت کے حوالے سے مریم نواز کی موجودہ حیثیت ریکارڈ کے بغیر چیک نہیں ہوسکتی، رپورٹ
�مریم نواز کی جانب سے آف شور کمپنیوں کی پیش کی گئی ٹرسٹ ڈیڈ اور خودساختہ ہے، رپورٹ
�ٹرسٹ ڈیڈ عدالت کو گمراہ کرنے اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے، رپورٹ
�اسلام آباد، جے آئی ٹی کو مطلوبہ دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں، رپورٹ
�مریم نواز اور حسین نواز نے جان بوجھ کر حقائق کو چھپایا، رپورٹ
�قطری شہزادے کی جانب سے شریف خاندان کی سرمایہ کاری کی تفصیلات جعلی قرار
�جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کی فراہم کردہ تفصیلات خودساختہ قرار دے دیں
�قطری دستاویزات شریف خاندان کی منی ٹریل کی خلاف پر کرنے کیلئے بنائی گئی، رپورٹ
�مریم اور حسین نواز کے درمیان لکھی گئی ٹرسٹ ڈیڈ اور جعلی قرار
�اسلام آباد، بلاشبہ مریم نواز لندن فلیٹ کی مالک ہیں، رپورٹ
�حسین نواز، حسن نواز اور مریم نواز کی فراہم کردہ دستاویزات جعلی اور خودساختہ ہیں، رپورٹ
�یہ تسلیم شدہ ہے کہ لندن فلیٹس 1993 سے شریف خاندان کے زیراستعمال ہیں، رپورٹ
�لندن فلیٹس پر قبضے کے حوالے سے نوازشریف اور انکے بچوں کے بیانات میں تضاد ہے، رپورٹ
�حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے اپنا مؤقف بار بار تبدیل کرتے رہے، رپورٹ
�اسلام آباد، مریم نواز اور حسین نواز نے ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کئے، رپورٹ
�دونوں نے آف شور کمپنیوں کے بیرئر سرٹیفیکیٹس کو کبھی دیکھا ہی نہیں، رپورٹ
�میاں شریف کے انتقال کے بعد شریف خاندان کے اثاثوں کی تقسیم ہوئی، رپورٹ
�جائیداد کی تقسیم میں لندن فلیٹس یا بیرون ملک کسی جائیداد کا ذکر نہیں، رپورٹ
�شریف فیملی کی خواتین خاندان کے مردوں کے حق میں اپنی وراثتی جائیداد کے حق سےدستبردار ہوئیں، رپورٹ
�لندن فلیٹ کے حوالے سے میاں شریف اور نوازشریف کا کوئی بھی وارث حسین نواز کے حق میں دستبردار نہیں ہوا، رپورٹ
�۔90 کے اوائل میں لندن فلیٹ کی مالک نوازشریف بشمول شریف فیملی تھی، رپورٹ
�نوازشریف نے لندن فلیٹ میں اپنی بینیفیشل ملکیت چھپانے کیلئے آف شور کمپنیوں اور اپنے بچوں کو استعمال کیا، رپورٹ
�اسلام آباد، الثانی خاندان کا لندن فلیٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا، رپورٹ
�التوفیق کمپنی کو 8 ملین ڈالر الثانی خاندان کی جانب سے ادا کرنے کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا، رپورٹ
�سال 2000 میں حسن اور حسین نواز کے پاس انفرادی آمدن کے کوئی ذرائع نہیں تھے، رپورٹ
�سال 2000 میں حسن اور حسین نواز اپنے خاندان کے زیرکفالت تھے، رپورٹ
�حسین اور حسن نواز کے پاس لندن فلیٹ خریدنے کے کوئی ذرائع آمدن نہیں تھے، رپورٹ
�لندن کے فلیٹس قطری خاندان کی جائیدادیں نہیں تھیں، رپورٹ
�قطری سرمایہ کاری کے بدلے لندن فلیٹس کا ملنا محض افسانہ ہے، رپورٹ
�نوازشریف، حسین، حسن اور مریم نواز قطری خط کے مندرجات دستاویزی طور پر ثابت کرنے میں ناکام رہے، جے آئی ٹی
�اسلام آباد، پہلا قطری خط سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے، جے آئی ٹی
�لندن فلیٹس کے سرٹیفیکیٹس قطر میں کس کے پاس تھے شواہد نہیں ملے، جے آئی ٹی
�شریف فیملی اور الثانی خاندان کے درمیان دیرپا تعلقات کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی، جے آئی ٹی
�دبئی اسٹیل مل کے قیام اور فروخت کیلئے ٹھوس دستاویزات فراہم نہیں کئے گئے، جے آئی ٹی
�جے آئی ٹی نے وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کا بیان حلفی مسترد کردیا، جے آئی ٹی
�طارق شفیع نے کبھی بھی گلف اسٹیل مل کی فروخت سے ملنے والے 12 ملین درہم وصول نہیں کئے، رپورٹ
�شریف فیملی نے اپنے بیانات میں کبھی قطری سرمایہ کاری کا ذکر نہیں کیا، جے آئی ٹی
�طارق شفیع کے پہلے بیان حلقی میں قطری سرمایہ کاری کا کوئی ذکر نہیں تھا، رپورٹ
�پناما پیپرز منظرعام پر آنے کے بعد طارق شفیع اور حسین نواز لندن میں اکٹھے تھے، جے آئی ٹی
�(جے آئی ٹی رپورٹ / کیسز کی تفصیلات) (صفحات 152 تا 196) (عدیل وڑائچ )
�جے آئی ٹی کی نیب میں لندن فلیٹس کی خریداری سے متعلق ریفرنس دوبارہ کھولنے کی سفارش۔۔۔ یہ معاملہ سترہ اٹھارہ سال سے نیب میں زیر التواء ہے۔�سارا پنامہ کیس اسی کے گرد گھومتا ہے۔ موجودہ پنامہ کیس میں سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کی کارروائی سے ایسے نئے ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں جس کی بنیاد پر یہ سفارش کی جاتی ہے کہ نیب کو حکم دیا جائے کہ کسی تاخیر کے بغیر ہی کیس کی تحقیقات مکمل کی جائیں۔ �نیب میں 2000ء سے رائیونڈ اراضی خریدنے اور اس کیلئے اختیارات کا غلط استعمال کرکے رائیونڈ محل تک سڑک بنوانے سے متعلق دو معاملات زیر التواء ہیں۔اتنے عرصے میں اب تک تحقیقات میں پیش رفت نہیں ہوئیں۔ اسے بھی کسی بھی تاخیر کے بغیر مکمل کی جائے۔
�شریف ٹرسٹ کو سامنے رکھ کر بے نامی جائیداد بنانے کا بھی الزام ہے۔ جلد از جلد مکمل کی ا جائے۔
�نوازشریف کیخلاف ایف آئی اے میں غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات بھی مکمل کی جائیں۔
�بطور وزیراعلیٰ پنجاب نوازشریف کیخلاف ایل ڈی اے میں غیر قانونی پلاٹوں کی تحقیقات جلد مکمل کی جائیں۔
�(دوبارہ کھولنے کی سفارش)
�نیب کو حکم دیا جائے کہ نوازشریف ، سیف الرحمان کیخلاف ہیلی کاپٹر خریداری کیس کا دوبارہ جائزہ لے اور سپریم کورٹ کے ذریعے ہائیکورٹ سے کیس دوبارہ کھولنے کیلئے رابطہ کیا جائے۔ کیونکہ خریداری میں قطری تعلق جعلی ہے۔
�شریف خاندان کیخلاف ایف آئی اے اور نیب کے حدیبیہ سمیت 3 مقدمات کھولنے کی سفارش
�رائونڈ اسٹیٹ میں اضافی مینشن بنانے کا ریفرنس دوبارہ کھولنے کی سفارش
�اس کے علاوہ ریکارڈنہ ہونے کے باعث ایک ریفرنس کا نیب نے ذکر نہیں کیا ۔ وہ امریکا میں ٹرسٹ کے قیام سے متعلق ہے۔ اس کا حدییبہ پیپر ملز کیس سے بنیادی تعلق بنتا ہے اس لئے نیب کو حکم دیا جائے کہ اسے بھی دوبارہ کھولا جائے۔
�ایف آئی اے کو حدیبیہ انجیئرنگ کیس بھی دوبارہ کھولنے کا حکم دیا جائے۔ حدیبیہ پیپرز ملز بھی دوبارہ کھولا جائے۔
�ایس ای سی پی میں چودھری شوگر ملز کیس بھی دوبارہ کھولنے کا حکم دیا جائے۔
�(حدییبہ پیپرز ملز کیس)
�شریف خاندان کیخلاف ایف آئی اے اور نیب کے حدیبیہ سمیت 3 مقدمات کھولنے کی سفارش
�موصول اضافی شواہد کی روشنی میں تینوں مقدمات دوبارہ کھولے جانے کیلئے بہترین ہیں،رپورٹ
�عدالت ان کیسز میں نامزد لوگوں کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے سکتی ہے، رپورٹ
�جے آئی ٹی کی سعید احمد اور جاوید کیانی کے نام ملزمان کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش
�جے آئی ٹی کو ملنے والے شواہد ایف آئی اے اور نیب کی تحقیقات میں ربط ثابت کرتے ہیں،رپورٹ
�شریف خاندان کیخلاف حدیبیہ پیپرز ملز سے متعلق ایف آئی اے اور نیب کے سمیت 3 مقدمات دوبارہ کھولنے کی سفارش
�موصول اضافی شواہد کی روشنی میں تینوں مقدمات دوبارہ کھولے جانے کیلئے بہترین ہیں،رپورٹ
�عدالت ان کیسز میں نامزد لوگوں کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے سکتی ہے، رپورٹ
�جے آئی ٹی کی سعید احمد اور جاوید کیانی کے نام ملزمان کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش
�جے آئی ٹی کو ملنے والے شواہد ایف آئی اے اور نیب کی تحقیقات میں ربط ثابت کرتے ہیں،رپورٹ
�جے آئی ٹی رپورٹ / ذرائع آمدن سے زائد اثاثے اور سفارشات (صفحہ 201 تا 254) (عدیل وڑائچ)
�(نوازشریف)
�ریکارڈ کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے 84-1983ء سے ریٹرنز فائل کرنے شروع کئے، رپورٹ�وزیراعظم نے 15 جون کو بیان میں کہا کہ وہ اپنے والد کی کمپنیوں میں شیئر ہولڈر رہ چکے ہیں،رپورٹ
�وزیراعظم کا موقف تھا کہ وہ 1985ء کے بعد کاروبار میں متحرک نہیں رہے، جے آئی ٹی رپورٹ
�مگر وزیراعظم نے 2010ء سے 2013ء کے درمیان چودھری شوگر ملز سے 24ملین تنخواہ لی،رپورٹ
�چودھری شوگر ملز سے تنخواہ وصول کرنا وزیراعظم کے ٹیکس ریٹرنز میں بھی درج ہے،رپورٹ
�وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کے درمیان بینک ٹرانزکشنز کا پتہ چلایا گیا، جے آئی ٹی رپورٹ
�۔2009ء سے 2017ء تک حسین نواز نے اپنے والد کو 1.4 ارب روپے بھجوائے، رپورٹ
�وزیراعظم نوازشریف نے 822 ملین روپے مریم نواز کے بینک اکائونٹ میں منتقل کئے،رپورٹ
�وزیراعظم نوازشریف نے 2013ء کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں غلط بیانی کی، رپورٹ
�وزیراعظم نواز شریف نے 45 ملین روپے کی ٹرانزکشن سے متعلق غلط بیانی کی، رپورٹ
�وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ان کے والد 70ء کی دہائی میں اربوں کے اثاثوں کے مالک تھے، رپورٹ
�وزیراعظم کا یہ بیان ان کے والدین کے ٹیکس ریٹرنز سے ثابت نہیں ہوسکا، جے آئی ٹی
�مالی تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد اس نیتیجے پر پہنچے ہیں کہ وزیراعظم کے اثاثے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، رپورٹ
�برطانیہ اور متحدہ عرب امارت سے تحفے کے طور پر 880 ملین پاکستان منتقل کئے گئے، رپورٹ
�مدعا علیہان بیرون ملک سے آنے والے تحائف کے ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہے، رپورٹ
�وزیراعظم نے اثاثے بناکر بچوں کے نام منتقل کئے، مگر ان کے واضح ذرائع آمدن نہیں تھے،رپورٹ
�نوازشریف کے مطابق اثاثے 70ء کی دہائی میں ان کے والد کے سرمایئے کی بنیاد پر بنے،رپورٹ
�نوازشریف کے اثاثوں کا مالی تجزیہ ان کے اس موقف کو درست ثابت نہیں کرتا، رپورٹ
�وزیراعظم کی پہلی وزارت عظمیٰ کے دوران ان کے اثاثوں میں اضافہ ہوا، رپورٹ
�قاضی خاندان اور سعیداحمد کے نام بے نامی اکائونٹس سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی گئی،رپورٹ
�یہ بے نامی اکائونٹس قرضے لینے اور شریف خاندان کے اثاثوں بنانے کیلئے استعمال کئے گئے،رپورٹ
�شریف خاندان کی بینک اسٹیمنٹس اور ویلتھ اسٹیمنٹس میں تضادات پائے گئے ہیں، رپورٹ
�نوازشریف نے ویلتھ اسٹیمنٹ میں اتفاق شوگر ملز کے حصص ظاہر نہیں کئے،رپورٹ
�نوازشریف 04-2003ء کے درمیان اتفاق شوگر ملز کے 48 ہزار حصص کے مالک تھے،رپورٹ
�وزیراعظم نوازشریف 2009ء سے 2013ء تک اتفاق شوگر ملز کے 1000 شیئرز رکھتے تھے،رپورٹ
�میاں شریف نے بھی بادی النظر میں اپنے ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنائے، رپورٹ
�میاں شریف کی دولت میں 4.3 گنا اضافہ 93-1992ء کے دوران ہوا، جے آئی ٹی
�نوازشریف نے 1970ء میں فیکٹریاں قومیائے جانے کا بیان دیا، جے آئی ٹی
�فیکٹریاں قومیائے جانے کے باجود شریف خاندان کی دولت میں واضح کمی نہیں ہوئی،رپورٹ
�(مریم نواز)�۔
90ء کی دہائی میں مریم نواز کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جے آئی ٹی�
اثاثوں کے تجزیئے اور ایف بی آر ریکارڈ کے مطابق مریم نواز نے اثاثے چھپائے،ٹیکس چوری کی،رپورٹ
�مریم نواز نے ذرائع آمدن کے بغیر نہ صرف اثاثے بنائے بلکہ کروڑوں روپے قرض بھی دیا، رپورٹ
�اسلام آباد؛ مریم نواز نے 2008ء میں کروڑوں روپے کے تحفے وصول کئے، جے آئی ٹی
�مریم نواز نے تحفے میں ملنے والی رقم زرعی زمین خریدنے کیلئے استعمال کی، جے آئی ٹی
�زرعی آمدن چونکہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتی ہے اس لئے فنڈز کو قانونی بنانے کیلئے استعمال کیا گیا،رپورٹ
�بادی النظر میں مریم نواز کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، جے آئی ٹی
�(حسین نواز)
�حسین نواز کے اثاثے 1990ء کی دہائی میں غیر معمولی طور پر بڑھے، جے آئی ٹی
�متعدد مرتبہ کہنے کے باجود حسین نواز ذرائع آمدن کی کوئی تفصیل نہ دے سکے،رپورٹ
�شریف خاندان 1990ء کی دہائی میں اقتدار کے ایوانوں میں تھا، جے آئی ٹی �جے آئی ٹی کو یقین یہ ہے کہ شریف خاندان کے اثاثوں میں اضافہ غیر قانونی طور سے ہوا، رپورٹ
�حسین نواز کو شریف خاندان کی پراکسی کے طور پر استعمال کیا گیا، جے آئی ٹی
�(حسن نواز)
�حسن نواز کے اثاثوں میں بھی 90ء کی دہائی میں اضافہ ہوا، جے آئی ٹی
�حسن نواز کو بھی پراکسی کے طور پر استعمال کیا گیا، جے آئی ٹی رپورٹ
�حسن نواز کی کمپنیاں خسارے میں تھیں مگر ان کے ذریعے برطانیہ میں جائیدادیں خریدی گئیں،رپورٹ
�خسارے کی کمپنیوں سے پاکستان میں شریف خاندان کی کمپنیوں کو قرض دیئے گئے،رپورٹ
�حسن نواز نے بھی متعدد مواقع کے باوجود اپنے ذرائع آمدن کا کوئی ثبوت دیا، رپورٹ
�بادی النظر میں حسن نواز کے اثاثے بھی ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے،رپورٹ
�(اسحاق ڈار)
�اسحاق ڈار نے بادی النظر میں 1981ء سے 2002ء تک ٹیکس چوری کی، رپورٹ
�اسحاق ڈار نے 1981ء سے 2002ء تک انکم ٹیکس ریٹرنز ہی فائل نہیں کئے،رپورٹ
�اسحاق ڈار کے اثاثوں میں 09-2008ء میں بے پناہ اضافہ ہوا مگر انھوں نے ذرائع آمدن نہیں بتائے،رپورٹ
�اسحاق ڈار کی مالی تفصیلات اور ایف بی آر ریکارڈ میں تضاد پایا گیا، جے آئی ٹی
�اسحاق ڈار نے اپنے ہی ادارے کو 169 ملین روپے خیرات میں دیئے، جے آئی ٹی
�اسحاق ڈار نے چندے کی رقم اپنی رسائی میں رکھی اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ ذاتی خرچہ ظاہر کیا، رپورٹ
�اسحاق ڈار اتنی بڑی رقم پر ٹیکس استثنیٰ لیکر ٹیکس چوری کی، جے آئی ٹی
�اسحاق ڈار کے اثاثوں اور ذرائع آمدن میں مطابقت نہیں، جے آئی ٹی
�نوازشریف ، مریم، حسین اور حسن کے اثاثوں اور ذرائع آمدن میں مطابقت نہیں،رپورٹ
�شریف خاندان کی پاکستانی کمپنیوں کی مالی حالت ان کی جائیداد سے مطابقت نہیں رکھتی،رپورٹ
�شریف خاندان کی ظاہر کی گئیں جائیداد اور ذرائع آمدن میں عدم مساوات ہے، جے آئی ٹی
�سعودی عرب،برطانیہ اوریو آئی اے کی کمپنیوں سے نوازشریف اور حسین کو رقم کی غیر قانونی منتقلی ہوئی، رپورٹ
�جے آئی ٹی رپورٹ میں شریف خاندان کی 3مزید آف شورکمپنیز کا انکشاف
�الاناسروسز،لینکن ایس اے اورہلٹن انٹرنیشنل سروسزکا انکشاف
�اس سے قبل نیلسن، نیسکول اورکومبرگروپ نامی کمپنیزمنظرعام پرآئی تھیں
�آف شور کمپنیزبرطانیہ میں شریف خاندان کے کاروبارسے منسلک ہیں،رپورٹ
�آف شورکمپنیزبرطانیہ میں موجودکمپنیوں کورقم فراہمی کیلئےاستعمال ہوتی ہیں،رپورٹ
�آف شور کمپنیز کے پیسے سے برطانیہ میں مہنگی ترین جائیدادیں خریدی گیئں،رپورٹ
�پیسہ برطانیہ،سعودی عرب،یواے ای اور پاکستان کی کمپنیوں کو بھی ملتا رہا،رپورٹ
�نوازشریف اور حسین نواز یہ فنڈز بطورتحفہ اور قرض وصول کرتے رہے،رپورٹ
�تحفے اور قرض کی وجوہات سے جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کیا جاسکا،رپورٹ
�آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے خسارے میں چلنے والی کمپنیوں کے ذریعے برطانیہ میں مہنگی جائیدادیں بنائی گئیں، رپورٹ
�جے آئی ٹی وزیراعظم، مریم، حسین اور حسن کیخلاف نیب آرڈیننس کے تحت کارروائی کی سفارش کرتی ہے، رپورٹ
�شق 9 کی ذیلی شق اے پانچ کے تحت عوامی عہدہ رکھنے والے یا دوسرے شخص ، یا اس کے زیر کفالت افراد کا ذرائع آمدن سے زائد اثاثے رکھنا جرم ہے، رپورٹ
�جے آئی ٹی رپورٹ میں قانون شہادت آرڈر 1984ء کے آرٹیکل 122 اور 117 کا حوالہ
�قانون شہادت آرڈر کے تحت بار ثبوت ملزم پر ہوتا ہے، جے آئی ٹی رپورٹ
�تمام مدعا علیہان ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہے، جے آئی ٹی رپورٹ
�شریف خاندان اپنے اثاثوں اور ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہا، جے آئی ٹی رپورٹ

~~~~~~~~~~~~~~
نواز شریف کے کارنامے ۔۔ فیکٹ شیٹ:

٭عوامی مقبولیت کی بجاۓ جنرل ضیاء ڈکٹیٹر سے آغاز

٭الیکشن میں آئی ایس آئی سے پیسے لینا
چھانگا مانگا کی سیاست کا آغاز

٭کرپشن کی وجہ سے نااہلی پر سپریم کورٹ کی عمارت پر حملہ

٭مرحوم جج سپریم کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ کے بقول نوازشریف نے ان کو پیسے سے خریدنے کی ناکام کوشش کی

٭آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی جبری ریٹائرمنٹ

٭منی لانڈرنگ کے پیسے سے 1992 میں لندن فلیٹس کی خفیہ خریداری

٭صدر غلا اسحٰاق سے پنگا
٭صدر غلام اسحٰاق کا نوازشریف کو نااہل کرنا

٭صدر غلام اسحاٰق نے کہا تھا کبھی نوازشریف پہ اعتبار نہ کرنا یہ اقتدار کی خاطر صوبوں کو لڑا دے گا

٭نوابزادہ نصراللہ خان نے کہا تھا نوازشریف جب مشکل میں ہوتا ہے تو پاٶں پکڑتا ہے اور جب اقتدار میں ہوتا ہے تو گریبان پکڑتا ہے

٭بےنظیر اور اس کی والدہ نصرت بھٹو کی شرمناک کردار کشی کی ٭شرمناک جھوٹی ممظ اور ہیلی کاپٹر سے ان کی جعلی برہنہ تصاویر شہریوں پہ پھینکوانا

٭جنرل ضیاء کے تلوے چاٹے اور بھٹو جیسے بین الاقوامی مقبول لیڈر کی پھانسی میں گھٹیا کردار

٭کارگل جنگ کے دوران امریکی حکم پر اپنی فوج کی مخالفت کر کے فوج کو بھاری جانی نقصان پہنچانا

٭جنرل پرویز مشرف کی جبری نااہلی کی گھٹیا سازش

٭پرویز مشرف کا نوازشریف کو قید کر لینا

٭نوازشریف کا بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ جدہ جانے کا معاہدہ کرنا مگر معاہدہ سے انکار کرنا

٭سعودی وزیرخارجہ کا معاہدے کی تصدیق کرنا

بےنظیر سے مل کر پرویزمشرف سے ٭معاہدہ کر کے ملک واپس آنا

دھاندلی کر کے دوبارہ وزیراعظم بننا

٭امریکی صحافی عورت سے دوستی کی خواہش کا اظہار اور اس صحافی کا نوازشریف کی اس حرکت کا پوری دنیا کے سامنے لانا نوازشریف نے آج تک اس حرکت کی تردید نہیں کی

٭پنجاب پولیس میں ناجائز بھرتیاں کر کے پولیس کو سیاسی بنا دینا

٭ججوں کو خرید لینا

٭کرپشن کرنا اور کرپٹ لوگوں کو اوپر لے کے آنا

٭اداروں سے ایماندار لوگوں کو زبردستی نکالنا اور اپنی مرضی کے لوگ لگانا

٭پی آئی اے, سٹیل مل، ریلوے پہ نااہل لوگ بٹھا کے ان اداروں کو تباہ کرنا

ایف آئی اے, نیب کو تباہ کرنا

٭اسحٰق ڈار کا نوازشریف کے لیے منی لانڈرنگ کا اعتراف

٭ووٹوں کی خاطر اپنی جماعت میں ہر علاقے کے مافیاز کو شامل کرنا

٭کرپٹ عناصر کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا

٭ادارے تباہ کرنارشوت اور کرپشن کا کلچر عام کرنا

٭ماڈل ٹاٶن میں میڈیا کے سامنے 14 افراد کو پولیس کے ذریعے قتل کروانا اور کسی کو سزا نہ ملنا بلکہ قتل میں ملوث لوگوں کو بیرون ملک بھجوا دینا

٭الیکشن دھاندلی پہ کمیشن سے انکار اور پی ٹی آئی کو دھرنے پہ مجبور کرنا

٭ہزاروں مسلمانوں کے قاتل مودی سے ذاتی تعلقات کی بنا پر اس کو اپنے گھر بلا کر کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات سے کھیلنا

٭انڈیا میں جا کر اپنی فوج کے خلاف یہ کہہ کر ہرزہ رسائی کرنا کہ پاکستانی فوج نے آپ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا

٭انڈیا میں جا کر دو قومی نظریہ کی یہ کہہ کر تردید کرنا کہ مسلمانوں اور ہندٶوں کلچر ایک ہی ہے

٭پانامہ میں نوازشریف کی اربوں روپے کی کمپنیوں کا انکشاف ہونا

٭قطر سے ذاتی سطح پہ کھربوں روپے کی ایل پی جی کی مہنگی ڈیل کرنا

٭ملک کو وزیرخارجہ کے بغیر چلانا

٭اپنی بیٹی کو بغیر کسی سرکاری عہدے کے اربوں روپے کے یوتھ قرضہ سکیم کی ہیڈ بنا دینا

٭پانامہ لیکس آنے سے پہلے حسین نواز کا پری پلانڈ انٹرویو کروانا

٭پانامہ لیکس میں نام آنے کی وجہ سے پوری دنیا میں ملکی بدنامی کا باعث بننا

٭پانامہ سے بچنے کے لیے شہر شہر ائیرپورٹوں یونیورسٹیوں ہسپتالوں اور بڑے بڑے پراجیکٹ کے اندھادھند اعلانات کرنا مگر کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہ کرنا

٭ خود پانامہ کا سامنا کرنے کی بجاۓ پوری حکومت کو آگے کر دینا

٭اسمبلی میں اور قوم کے سامنے جھوٹ بولنا

٭اپنے وزیروں سے سپریم کورٹ کو دھمکیاں دلوانا

٭مریم کو مریم صفدر سے مریم نواز بنا کر وزیراعظم ہاٶس میں رکھنا

٭مریم نواز کا وزیراعظم ہاٶس میں میڈیا سیل چلانا

٭مریم نواز کا ملکی فوج کے خلاف سازش کر کے فوج کو دنیا میں بدنام کرنے کی مذموم کوشش کرنا

٭گو نواز گو کے نعرے کا بین الاقوامی سطح پہ مقبول ہو جانا

دوستو! یہ ہیں نوازشریف اور شریف فیملی کے چند کرتوت جن میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ دنیا کے کسی مہذب ملک میں ان میں سے ایک کرائم بھی کیا ہوتا تو آج یہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑ رہا ہوتا یا پھانسی کے پھندے پر چڑھا دیا گیا ہوتا
~~~~~~~~~~~~~~~~~~ داستان کرپشن
کتابوں میں پڑھا تھا کہ کسی بستی کے رہنے والے لوگ حد درجہ گناہوں میں مبتلا ہوچکے تھے اور ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے فرشتے کو حکم دیا کہ اس بستی کو تباہ کر آئے۔ فرشتے نے پوچھا کہ یا اللہ، اس بستی میں ایک بہت نیک اور پرہیزگار بزرگ بھی رہتا ہے، اگر حکم ہو تو اسے چھوڑ دیا جائے؟
اللہ تعالی نے فرمایا کہ اسے سب سے پہلے ہلاک کرو!
انگلش کا محاورہ ہے کہ طاقت انسان کو کرپٹ بناتی ہے اور حد سے زیادہ طاقت انسان کو حد سے زیادہ کرپٹ بناتی ہے۔
1983 میں میاں شریف اپنے بڑے بیٹے نوازشریف کا ہاتھ پکڑ کر اسے گورنر ہاؤس لے گیا اور اسے گورنر، جنرل جیلانی کی زیرسرپرستی دے دیا۔
نوازشریف خاندان کی پیپلزپارٹی سے نفرت دیکھتے ہوئے اسے فی الفور صوبائی وزیرخزانہ کا عہدہ مل گیا اور پھر طاقت کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا۔
اگلے دو سال میں نوازشریف نے ایک طرف اپنے خاندان کی ملوں میں 5 گنا اضافہ کرلیا، دوسری طرف پلاٹوں، پرمٹس اور ڈسکریشنری فنڈز کا بے دریغ استعمال شروع کیا۔ اگلے دو سال بعد غیرجماعتی انتخابات ہوئے اور نوازشریف جنرل ضیا کی رضامندی سے وزیراعلی بن گیا۔
1985 سے 1990 تک پنجاب میں نوازشریف نے بطور وزیراعلی اپنے استحقاق کو استعمال کرتے ہوئے ساڑھے تین ہزار سے زائد قیمتی سرکاری پلاٹ اپنے عزیز و اقارب میں ریوڑھیوں کی طرح بانٹے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوازشریف نے استحقاقی فنڈز کو استعمال کرتے ہوئے ساڑھے 3 ارب سے زائد رقم ڈونیشن اور چیریٹی کی مد میں سیاسی رشوت کے طور پر تقسیم کی۔ تیسرے نمبر پر نوازشریف نے اپنے حلقے میں ووٹ لینے کیلئے اپنے کارکنان کو بغیر کوالیفیکیشن کے سرکاری نوکریاں دیں۔ ایک وقت تھا جب گوالمنڈی کے ہر گھر میں کوئی نہ کوئی نوجوان یا تو پولیس کانسٹیبل تھا، یا پھر محکمہ مال، کارپوریشن، ایل ڈے اے وغیرہ میں مفت کی روٹیاں توڑتا تھا۔
طاقت انسان کو کرپٹ بناتی ہے!
پلاٹوں، فنڈز اور نوکریوں کی یہ نوازشات اخبارات میں صحافیوں پر بھی ہوئیں اور پھر نوائے وقت سے لے کر جنگ اخبار تک، جتنے بھی دائیں بازو یا بائیں بازو سے ٹوٹ کر آنے والے صحافی تھے، سب کے سب نوازشریف کے زرخرید غلام بن گئے۔ آپ اس دور کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں، عبدالقادر حسن، مجیب شامی، نذیرناجی، الطاف حسن قریشی، زیڈ اے سلہری، ارشاد احمد عارف سمیت جتنے بھی مشہور کالم نویس ہوا کرتے تھے، سب کے سب نوازشریف کی مدح سرائی میں مصروف رہا کرتے تھے۔
یہ وہ دور تھا جب نوازشریف نے نہ تو موٹروے بنائی تھی، نہ ہی پیلی ٹیکسی کی سکیم لانچ کی تھی، نہ ہی لاہور میں انڈرپاس بنایا تھا، اور نہ ہی لیپ ٹاپ تقسیم کئے تھے، اس کے باوجود بھی ان کالم نویسوں نے نوازشریف کو اس صدی کا سب سے بہترین لیڈر ثابت کرنے کی کوششیں جاری رکھیں کیونکہ پلاٹس، پرمٹس، فنڈز اور نوکریوں کی کشش اتنی زیادہ تھی کہ ان کی آنکھیں چکاچوند ہوچکی تھیں۔
میڈیا کے زریعے امیج بلڈنگ کا فن نوازشریف نے اس وقت ہی سیکھا اور آج اس کی ٹیکنیک کو ماسٹر کرچکا ہے۔ 80 کی دہائی ہو یا 2017 کا زمانہ، ہر طرح کے صحافیوں اور کالم نویسوں کی کثیر تعداد آج بھی آپ کو نوازشریف کے گرد ہی منڈلاتی نظر آئے گی کیونکہ وجہ آج بھی وہی ہے، فنڈز، نوکریاں اور سرکاری مراعات۔
حد سے زیادہ طاقت انسان کو حد سے زیادہ کرپٹ بناتی ہے۔
نوازشریف کو ملی ہوئی اس طاقت نے پھر اسے کرپشن کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اپنی بند فیکٹریوں پر اربوں روپے کے قرض لیتا گیا اور انہیں معاف کرواتا گیا ۔ ۔ ۔ ٹیکس چوری، رشوت، ٹھیکوں میں کمیشن، الغرض ناجائز آمدنی کا کوئی ایک سورس ایسا نہ تھا جو نوازشریف نے بطور حکمران آزمایا نہ ہو۔ ملکی ادارے تباہ، معیشت دگرگوں اور عوام کا سفر پستی کی طرف جاری رہا اور نوازشریف کی فیملی ایمپائر میں ہر سال کئی گنا اضافہ ہوتا گیا۔
35 سال میں پہلی دفعہ نوازشریف قانون کے شکنجے میں آیا ہے اور آج بھی آپ کو ذہنی غلام یہ کہتے نظر آئیں گے کہ نوازشریف ہی کیوں، زرداری اور دوسرے کرپٹ لیڈروں کو بھی پکڑا جائے۔
بات یہ ہے کہ اگر زرداری کرپٹ ہے، جو کہ وہ یقینناً ہے، تو پھر نوازشریف نے اسے کیوں نہیں پکڑا؟ اگر آپ کے خیال میں دوسرے سیاستدان، جج اور بیوروکریٹ نوازشریف سے زیادہ کرپٹ ہیں تو پھر ان دونوں بھائیوں نے ان احتساب کا نظام وضع کرکے ان کے خلاف کاروائی کیوں نہ کی؟
مختصراً عرض ہے کہ موجودہ نظام کا سب سے کرپٹ ترین شخص نوازشریف ہے۔ یہ اس سسٹم اور معاشرے میں کرپشن کا ایک سمبل بن چکا ہے۔ اگر اس سمبل کے خلاف کاروائی ہوتی ہے تو یہ دوسرے لوگوں کیلئے ایک بہت بڑا میسج بنے گا کہ اگر نوازشریف نہ بچ سکا تو ان کی بھی خیر نہیں۔
ویسے بھی یہ اللہ کی سنت ہے کہ اگر گناہگاروں کی بستی میں جس شخص کی ذمے داری تھی کہ وہ دوسروں کو گناہوں سے روکتا لیکن وہ اس میں ناکام رہا، تو سب سے پہلے اسے تباہ کیا جائے۔
ہم نے تو پہلے ہی بہت دیر کر دی اس کرپٹ ترین شخص کو سزا دینے میں۔ جو شخص بھی اس کی سزا میں رکاوٹ بنے گا اور نوازشریف کو بچانے کیلئے نت نئی تاویلیں گھڑے گا، انشا اللہ تباہی اس کا بھی مقدر ہوگی!!!
 (Credit :Shahid Saki(


مسلم لیگ ن کے کارکنان سے دلی ہمدردی ہے کہ شریف برادران نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اور تیس سال سے انکو بیوقوف بنا کر حکومت کرتے رہے.  مکافات عمل ہے اور الٹا پہیہ گھومنا ہی تھا.  اسلئے تمام کارکنان سے گزارش ہے کہ سب نے اپنی قبر میں جانا ہے جسطرح جے آئی ٹی کے سامنے یہ خاندان انفرادی طور ہر پیش ہوا ہے اسطرح اللہ کے سامنے بھی ہم سب نے اکیلے اکیلے جانا ہے.  وہاں کسی کو کوئی نہ بچا سکے گا اور سب لوگ اپنے جزا و گناہ کا بھار اٹھائیں گے تو پھر کہیں یہ نہ ہو کہ آپ کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو لیکن دوسری طرف کرپٹ حکمرانوں کی حمایت کے گناہ دوسرا پلڑا بھاری کر دیں.  اسلئے کسی کے گناہوں کا بوجھ مت اٹھائیں اور نہ انکی حمایت میں اس قدر جائیں کہ واپسی کا راستہ نہ رہے اگر آپ کو عمران خان سے نفرت ہے تو کوئی اور لیڈر ڈھونڈھ لو مسلم لیگ میں یا باہر جماعت اسلامی نیک لوگ ہیں۔




Politics for Pakistan: ♤♡◇♧
Supporting a favourite political party or leader for good manifesto and works is part of political process. ....... One thing which bothers .... is ... that …

Why we have to support every action of our favourites irrespective of its obvious demerits....
1)  Is our favourite political leader inerrant?    
2). Does he enjoy some special privileges or powers from above?
3) Is he a normal human being who can go wrong?
4) Can you use your mind to differentiate between right and wrong?
5) Can your fair criticism put him on right direction and save him from humiliation?
Please look inward to find honest answers ... correct your approach ...
Be realistic... Support Pakistan


JIT on Panama Papers: https://goo.gl/qED96g
Related:
http://pakistan-posts.blogspot.com/p/corruption.html

Panama Papers Leaks - Offshore Companies and Corruption allegations Nawaz Sharif Family, Pakistani Stalwarts



Arguably the most dangerous nation on Earth, Pakistan is a bubbling cauldron of corruption and crime, where grasping politicians, greedy generals, drug smugglers, and terrorists intermix in a volatile web, made more ...

King of corruption Zardari appoints his frontman "Raja Rental" [Sindhi by birth disguised as Punjabi] pas new PM of Pakistan. ...MQM, PML Q , ANP and all those 211 MNAs who voted for him are party to this corruption.
.
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page