Posts

Showing posts from July, 2017

ایبٹ آباد میں ورود

Image
5جولائی 1989ء کو مَیں نے ایس ایس پی ایبٹ آباد کا چارج سنبھالا۔صوبہ خیبرپختونخوا کے خوبصورت ترین خطوں میں سے ایک خطہ ہزارہ، اور ہزارہ کی خوبصورت ترین وادیوں میں سے ایک وادی، ایبٹ آباد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے براستہ ریحانہ (صدر ایوب خان کا آبائی گاؤں) 110 کلومیٹر، براستہ حسن ابدال 143 کلو میٹر، صوبائی دارالحکومت پشاور سے 155 کلومیٹر اور جی ٹی روڈ پر واقع حسن ابدال کیڈٹ کالج سے تقریباً 70کلومیٹر کے فاصلے پر شاہراہِ قراقرم(KKH) جسے شاہراہِ ریشم (Silk Route)بھی کہتے ہیں پر واقع ہے۔ شاہراہِ قراقرم اب چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا حصہ بن گئی ہے۔ یہی وہ شہر ہے، جہاں سے کچھ سال قبل اسامہ بن لادن پکڑا اور ماراگیا۔ پہلے صرف برصغیر پاک و ہند کے عوام اور سیر وسیاحت کے شوقین غیر ملکی باشندے ہی اس شہر کو اپنی خوبصورتی اور پُرفضا سیاحتی مقام ہونے کے ناطے سے جانتے تھے، لیکن اسامہ بن لادن والے واقعہ کے بعد تو اب ساری دنیا اس شہر کے نام اور محلِ وقوع سے واقف ہوگئی ہے۔ 
1849ء میں خطہ ہزارہ کے سکھوں کے قبضے سے نکل کر انگریزوں کے قبضے میں آنے کے بعد کیپٹن جیمز ایبٹ اس خطے کا پہلا نگرانِ اعلیٰ…

صوبہ سرحد (خیبر پختوں خواہ ) میں آمد

Image
گوجرانوالہ سے حالات کے جبر کا شکار ہو کر نکلے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں بطور ایک’’ مجرم ‘‘رپورٹ کیے تقریباً تین ہفتے ہو چلے تھے۔ میں یہ تمام عرصہ لاہور میں اپنے گھر گوشہ نشین رہا اور مسلسل سوچتا رہا کہ وفاقی حکومت میرے ساتھ کیا سلوک کرے گی ۔جواب ملتا کہ اگر معاملات دفتر کے لگے بندھے معمول کے مطابق چلے (جس کا امکان بہت کم تھا)تو حکومت مجھے صوبہ سندھ، بلوچستان یا سرحد میں سے کسی ایک میں بھیج دے گی۔ نامہرباں ہوئی تو ایف آئی اے، اِنٹیلجنس بیورو یا پولیس اکیڈمی بھیج دے گی۔ زیادہ نامہربان ہوئی تو مجھے کسی وفاقی دفتر میں سیکشن افسر لگادے گی۔ اگر غصے میں ہوئی تو اوایس ڈی بناکر بٹھا چھوڑے گی۔ اگرزیادہ غصے میں ہوئی تو غیر معینہ مدت کے لئے بغیر کسی پوسٹنگ کے یونہی معلق رکھے گی(جیسا کہ میں اُس وقت تھا) اور پھر بھول جائیگی، اور اس دوران میں تنخواہ سے بھی محروم رہوں گاکیونکہ اس کے لئے کسی نہ کسی پوسٹ پر تعینات ہونا ضروری ہوتا ہے، خواہ وہ اوایس ڈی کی ہی ہو۔اور اگر بہت ہی زیادہ غصے میں ہوئی تو انضباطی کارروائی کا آغاز بھی کرسکتی ہے۔ میں اس موضوع پر جتنا سوچتا اُتنا ہی اُلجھتا چلاجاتا۔ اور پھر ایک دن م…

حا لات کا جبر اور میرا پنجاب چھوڑنا

Image
الطاف قمر کی مزید تحریریں http://pakistan-posts.blogspot.com/2016/08/altafqamar.html
https://goo.gl/Zc22tY
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
More: 
Frequently Asked Questions <<FAQ>> سلام فورم" پر سوالات کے جوابات"

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب سلام فورم نیٹ ورکPeace Forum Network
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
AftabKhan-net.page.tl  Salaamforum.blogspot.com
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470<

Return from Sarhad صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) سے واپسی

Image
 ایبٹ آباد خوبصورت لوگوں کا خوبصورت اور ایک پُرامن ضلع ہے۔ میرے وقت تک یہاں جرائم بہت کم تھے۔ یہاں سال بھر میں اتنے سنگین جرائم (ڈکیتی، راہزنی، قتل، اغوا، اغوا برائے تاوان وغیرہ) وقوع پذیر نہیں ہوتے تھے جتنے میری پچھلی تعیناتی کے ضلع گوجرانوالہ میں غالباً ہفتہ دس دن میں ہوجاتے تھے۔ یہاں کی پولیس شرافت، دیانت ، وضعداری اورعزت نفس کی پاسداری میں پنجاب پولیس سے بہت بہتر تھی ۔ مشتبہ افراد یا ملزمان پر بلاوجہ یا غیرضروری تشدد کا یہاں رواج نہ ہونے کے برابر تھا، تاہم تجربے ، پیشہ ورانہ استعداد کار، انسداد جرائم، امن وامان کے متوقع اور غیرمتوقع چیلنجوں سے نمٹنے اور تفتیشی صلاحیتوں میں پنجاب پولیس اس سے بہت آگے تھی۔ میں نے چارج سنبھالتے ہی ایبٹ آباد پولیس کو پنجاب پولیس کی خوبیوں کی طرف لانے اور اِسے زیادہ سے زیادہ متحرک اورمستعدبنانے کی کوششیں شروع کردیں۔دن اور رات کی گشتوں اورناکہ بندیوں کو نئے سرے سے منظم کیا۔ پولیس سٹیشن کے ریکارڈ کی درستگی اور اسے بروقت اور ہر وقت مکمل رکھنے پر خصوصی توجہ دی۔متوقع اور غیرمتوقع ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے ایک ہر دم تیار فورس تیارکی اور اس کی تربیت اور…

Nawaz Sharif Really an Indian Asset?

Image
" A nation can survive its fools, and even the ambitious. But it cannot survive treason from within. An enemy at the gates is less formidable, for he is known and carries his banner openly. But the traitor moves amongst those within the gates freely, his sly whispers rustling through all the alleys, heard in the very halls of government itself. For the traitor appears not a traitor; he speaks in accents familiar to his victims, and he wears their face and their arguments, he appeals to the baseness that lies deep in the hearts of all men. He rots the soul of a nation, he works secretly and unknown in the night to undermine the pillars of the city, he infects the body politic so that it can no longer resist. A murderer is less to fear"
[Marcus Tullius Cicero]

<<<نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نااہلی - تجزیے ، سوالات اور جوابات
The bombing of lawyers’ protests in Quetta on 8 August 2016 in which dozens of lawyers and civilians got killed at a hospital. All fingers are pointe…