Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Wednesday, May 17, 2017

ووٹ کی شرعی حیثیت اور تبدیلی کی خواہش



آج کی دنیا میں اسمبلیوں، کونسلوں، میونسپل وارڈوں اور دوسری مجالس اورجماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے کہ زور و زر اور غنڈا گردی کے سارے طاغوتی وسائل کا استعمال کرکے یہ چند روزہ موہوم اعزازا حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے عالم سوز نتائج ہروقت آنکھوں کے سامنے ہیں اور ملک و ملّت کے ہمدرد و سمجھ دار انسان اپنے مقدور بھر اس کی اصلاح کی فکر میں بھی ہیں،لیکن عام طور پر اس کو ایک ہارجیت کا کھیل اور خالص دنیاوی دھندا سمجھ کر ووٹ لیے اور دیے جاتے ہیں۔ لکھے پڑھے دین دار مسلمانوں کو بھی اس طرف توجہ نہیں ہوتی کہ یہ کھیل صرف ہماری دنیا کے نفع نقصان اور آبادی یا بربادی تک نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے کچھ طاعت و معصیت اور گناہ و ثواب بھی ہے جس کے اثرات اس دنیا کے بعد بھی یا ہمارے گلے کا ہار عذابِ جہنم بنیں گے، یا پھر درجاتِ جنت اور نجاتِ آخرت کا سبب بنیں گے۔
اگرچہ آج کل اس اکھاڑے کے پہلوان اور اس میدان کے مرد، عام طور پر وہی لوگ ہیں جو فکرِآخرت اور خدا و رسولؐ کی طاعت و معصیت سے مطلقاً آزاد ہیں اور اس حالت میں اُن کے سامنے قرآن و حدیث کے احکام پیش کرنا ایک بے معنی و عبث فعل معلوم ہوتا ہے، لیکن اسلام کا ایک یہ بھی معجزہ ہے کہ مسلمانوں کی پوری جماعت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوتی۔ ہر زمانے اور ہرجگہ کچھ لوگ حق پر قائم رہتے ہیں جن کو اپنے ہرکام میں حلال و حرام کی فکر اور خدا اور رسولؐ کی رضاجوئی پیش نظر رہتی ہے۔ نیز قرآن کریم کا یہ بھی ارشاد ہے: وَذَکِّرْ فَاِِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَo(الذّٰریٰت ۵۱:۵۵)، یعنی آپ نصیحت کی بات کہتے رہیں کیونکہ نصیحت مسلمانوں کو نفع دیتی ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ انتخابات میں اُمیدواری اور ووٹ کی شرعی حیثیت اور اُن کی اہمیت کو قرآن و سنت کی رُو سے واضح کردیا جائے۔ شاید کچھ بندگانِ خدا کو تنبیہ ہو اور کسی وقت یہ غلط کھیل صحیح بن جائے۔

 ضرور پڑھیں :  << غیبت، جھوٹ اور بہتان بازی سنگین گناہ>>


اُمیدواری

کسی مجلس کی ممبری کے انتخابات کے لیے جو اُمیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہو وہ گویا پوری ملّت کے سامنے دوچیزوں کا مدعی ہے۔ ایک یہ کہ وہ اس کام کی قابلیت رکھتا ہے جس کا اُمیدوار ہے، دوسرے یہ کہ وہ دیانت و امانت داری سے اس کام کو انجام دے گا۔ اب اگر واقعی میں وہ اپنے اس دعوے میں سچا ہے، یعنی قابلیت بھی رکھتا ہے اور امانت و دیانت کے ساتھ قوم کی خدمت کے جذبے سے اس میدان میں آیا تو اس کا یہ عمل کسی حد تک درست ہے، اور بہتر طریق اس کا یہ ہے کہ کوئی شخص خود مدعی بن کر کھڑا نہ ہو بلکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت اس کو اس کام کا اہل سمجھ کر نام زد کردے اور جس شخص میں اس کام کی صلاحیت ہی نہیں، وہ اگر اُمیدوار ہوکر کھڑا ہو تو قوم کا غدار اور خائن ہے۔ اس کا ممبری میں کامیاب ہونا ملک و ملّت کے لیے خرابی کا سبب تو بعد میں بنے گا، پہلے تو وہ خود غدار و خیانت کا مجرم ہوکر عذابِ جہنم کا مستحق بن جائے گا۔ اب ہر وہ شخص جو کسی مجلس کی ممبری کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اگر اس کو کچھ آخرت کی بھی فکر ہے تو اس میدان میں آنے سے پہلے خود اپنا جائزہ لے لے اور یہ سمجھ لے کہ اس ممبری سے پہلے تو اس کی ذمہ داری صرف اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال ہی تک محدود تھی کیونکہ بہ نصِ حدیث ہرشخص اپنے اہل و عیال کا ذمہ دار ہے اور اب کسی مجلس کی ممبری کے بعد جتنی خلقِ خدا کا تعلق اس مجلس سے وابستہ ہے، اُن سب کی ذمہ داری کا بوجھ اُس کی گردن پر آتا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں اس ذمہ داری کا مسؤل اور جواب دہ ہے۔

ووٹ اور ووٹر

کسی اُمیدوار ممبری کو ووٹ دینے کی ازروے قرآن و حدیث چند حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت شہادت کی ہے کہ ووٹر جس شخص کو اپنا ووٹ دے رہا ہے، اس کے متعلق اس کی شہادت دے رہا ہے کہ یہ شخص اس کام کی قابلیت بھی رکھتا ہے اور دیانت اور امانت بھی۔ اور اگر واقعی میں اس شخص کے اندر یہ صفات نہیں ہیں اور ووٹر یہ جانتے ہوئے اس کو ووٹ دیتا ہے تو وہ ایک جھوٹی شہادت ہے جو سخت کبیرہ گناہ اور وبالِ دنیا و آخرت ہے۔ بخاری کی حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادتِ کاذبہ کو شرک کے ساتھ کبائر میں شمار فرمایا ہے (مشکٰوۃ)۔ اور ایک دوسری حدیث میں جھوٹی شہادت کو اکبر کبائر فرمایا ہے (بخاری و مسلم) ۔ جس حلقے میں چند اُمیدوارکھڑے ہوں اور ووٹر کو یہ معلوم ہے کہ قابلیت اور دیانت کے اعتبار سے فلاں آدمی قابلِ ترجیح ہے تو اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو ووٹ دینا اس اکبر کبائر میں اپنے آپ کو مبتلا کرنا ہے۔ اب ووٹ دینے والا اپنی آخرت اور انجام کو دیکھ کر ووٹ دے محض رسمی مروت یا کسی طمع و خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو اس وبال میں مبتلا نہ کرے۔
دوسری حیثیت ووٹ کی شفاعت، یعنی سفارش کی ہے کہ ووٹر اس کی نمایندگی کی سفارش کرتا ہے۔ اس سفارش کے بارے میں قرآن کریم کا یہ ارشاد ہرووٹر کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے:
Related image

 مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنْ لَّہٗ نَصِیْبٌ مِّنْھَا وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّءَۃً یَّکُنْ لَّہٗ کِفْلٌ مِّنْھَا (النساء ۴:۸۵)

یعنی (جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے اُس میں اس کو بھی حصہ ملتا ہے اور بُری سفارش کرتا ہے تو اُس کی بُرائی میں اُس کا بھی حصہ لگتا ہے)۔

اچھی سفارش یہی ہے کہ قابل اور دیانت دار آدمی کی سفارش کرے جو خلقِ خدا کے حقوق صحیح طور پر ادا کرے، اور بُری سفارش یہ ہے کہ نااہل، نالائق، فاسق و ظالم کی سفارش کر کے اُس کو خلقِ خدا پر مسلط کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے ووٹوں سے کامیاب ہونے والا اُمیدوار اپنے پنج سالہ دور میں جو نیک یا بدعمل کرے گا ہم بھی اس کے شریک سمجھے جائیں گے۔

ووٹ کی ایک تیسری حیثیت وکالت کی ہے کہ ووٹ دینے والا اس اُمیدوار کو اپنا نمایندہ اور وکیل بناتا ہے لیکن اگر یہ وکالت اس کے کسی شخصی حق کے متعلق ہوتی اور اس کا نفع نقصان صرف اس کی ذات کو پہنچتا تو اُس کا یہ خود ذمہ دار ہوتا مگر یہاں ایسا نہیں کیونکہ یہ وکالت ایسے حقوق کے متعلق ہے جن میں اُس کے ساتھ پوری قوم شریک ہے۔ اس لیے اگر کسی نااہل کو اپنی نمایندگی کے لیے ووٹ دے کر کامیاب بنایا تو پوری قوم کے حقوق کو پامال کرنے کا گناہ بھی اس کی گردن پر رہا۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے: ایک شہادت، دوسرے سفارش، تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت۔ تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجبِ ثوابِ عظیم ہے اور اُس کے ثمرات اُس کو ملنے والے ہیں، اسی طرح نااہل یا غیرمتدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بُری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی اور اس کے تباہ کن اثرات بھی اُس کے نامۂ اعمال میں لکھے جائیں گے۔

ضروری تنبیہ

مذکور الصدر بیان میں جس طرح قرآن و سنت کی رُو سے یہ واضح ہوا کہ نااہل، ظالم، فاسق اور غلط آدمی کو ووٹ دینا گناہِ عظیم ہے، اسی طرح ایک اچھے، نیک اور قابل آدمی کو ووٹ دینا ثوابِ عظیم ہے بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے۔

 قرآن کریم نے جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح سچی شہادت کو واجب و لازم بھی فرما دیا ہے۔ ارشاد باری ہے:

قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآءَ بِالْقِسْطِ (المائدہ ۵:۸)
 اور دوسری جگہ ارشاد ہے:
کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ (النساء ۴:۱۳۵)

ان دونوں آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا ہے کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کے لیے ادایگیِ شہادت کے واسطے کھڑے ہوجائیں۔ تیسری جگہ سورۂ طلاق (۶۵:۱) میں ارشاد ہے: 

وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ، یعنی اللہ کے لیے سچی شہادت کو قائم کرو۔ 

ایک آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے۔ ارشاد ہے:

 وَ لَا تَکْتُمُوا الشَّھَادَۃَ ط وَمَنْ یَّکْتُمْھَا فَاِنَّہٗٓ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ ط (البقرہ ۲:۲۸۳)،

 (یعنی شہادت کو نہ چھپاؤ اور جو چھپائے گا اُس کا دل گناہ گار ہے)۔

ان تمام آیات نے مسلمانوں پر یہ فریضہ عائد کردیا ہے کہ سچی گواہی سے جان نہ چرائیں، ضرور ادا کریں۔ آج جو خرابیاں انتخابات میں پیش آرہی ہیں اُن کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نیک اور صالح حضرات عموماً ووٹ دینے ہی سے گریز کرنے لگے جس کا لازمی نتیجہ وہ ہوا جو مشاہدے میں آرہا ہے کہ ووٹ عموماً اُن لوگوں کے آتے ہیں جو چند ٹکوں میں خرید لیے جاتے ہیں اور اُن لوگوں کے ووٹوں سے جو نمایندے پوری قوم پر مسلط ہوتے ہیں، وہ ظاہر ہے کہ کس قماش اور کس کردار کے لوگ ہوں گے۔ اس لیے جس حلقے میں کوئی بھی اُمیدوار قابل اور نیک معلوم ہو، اُسے ووٹ دینے سے گریز کرنا بھی شرعی جرم اور پوری قوم و ملّت پر ظلم کے مترادف ہے، اور اگر کسی حلقے میں کوئی بھی اُمیدوار صحیح معنی میں قابل اور دیانت دار نہ معلوم ہو مگر ان میں سے کوئی ایک صلاحیتِ کار اور خداترسی کے اصول پر دوسروں کی نسبت سے غنیمت ہو تو تقلیلِ شر اور تقلیلِ ظلم کی نیت سے اس کو بھی ووٹ دے دینا جائز بلکہ مستحسن ہے، جیساکہ نجاست کے پورے ازالے پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں تقلیلِ نجاست کو اور پورے ظلم کو دفع کرنے کا اختیار نہ ہونے کی صورت میں تقلیلِ ظلم کو فقہا رحمہم اللہ نے تجویز فرمایا ہے۔ واللّٰہ 
سبحانہ وتعالٰی اعلم۔

خلاصہ یہ ہے کہ انتخابات میں ووٹ کی شرعی حیثیت کم از کم ایک شہادت کی ہے جس کا چھپانا بھی حرام ہے اور اس میں جھوٹ بولنا بھی حرام، اس پر کوئی معاوضہ لینا بھی حرام، اس میں محض ایک سیاسی ہار جیت اور دنیا کا کھیل سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے۔

 آپ جس اُمیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، شرعاً آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریے اور علم و عمل اور دیانت داری کی رُو سے اس کام کا اہل اور دوسرے اُمیدواروں سے بہتر ہے جس کام کے لیے یہ انتخابات ہورہے ہیں۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیں تو اس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں:

۱۔ آپ کے ووٹ اور شہادت کے ذریعے جو نمایندہ کسی اسمبلی میں پہنچے گا، وہ اس سلسلے میں جتنے اچھے یا بُرے اقدامات کرے گا اُن کی ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوگی۔ آپ بھی اس کے ثواب یا عذاب میں شریک ہوں گے۔

۲۔ اس معاملے میں یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ شخصی معاملات میں کوئی غلطی بھی ہوجائے تو اس کا اثر بھی شخصی اور محدود ہوتا ہے، ثواب و عذاب بھی محدود۔قومی اور ملکی معاملات سے پوری قوم متاثر ہوتی ہے، اس کا ادنیٰ نقصان بھی بعض اوقات پوری قوم کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے، اس لیے اس کا ثواب و عذاب بھی بہت بڑا ہے۔

۳۔ سچی شہادت کا چھپانا ازروے قرآن حرام ہے۔ آپ کے حلقۂ انتخاب میں اگر کوئی صحیح نظریے کا حامل و دیانت دار نمایندہ کھڑا ہے تو اس کو ووٹ دینے میں کوتاہی کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔

۴۔ جو اُمیدوار نظامِ اسلامی کے خلاف کوئی نظریہ رکھتا ہے، اس کو ووٹ دینا ایک جھوٹی شہادت ہے جو گناہِ کبیرہ ہے۔

۵۔ ووٹ کو پیسوں کے معاوضے میں دینا بدترین قسم کی رشوت ہے اور چند ٹکوں کی خاطر اسلام اور ملک سے بغاوت ہے۔ دوسروں کی دنیا سنوارنے کے لیے اپنا دین قربان کردینا کتنے ہی مال و دولت کے بدلے میں ہو، کوئی دانش مندی نہیں ہوسکتی۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا ہے کہ ’’وہ شخص سب سے زیادہ خسارے میں ہے جو دوسرے کی دنیا کے لیے اپنا دین کھو بیٹھے‘‘۔
(محمد شفیع ؒ)

براے مھربانی اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بھیجیں یہ آپ کی اخلاقی قومی اورمذہبی ذمہ داری ہے 
Source: http://tarjumanulquran.org/site/publication_detail/374  

* * * * * * * * * * * * * * * * * * *

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کیا آپ پاکستان کے حالات سے پریشان ہیں؟ اپنے پیارے وطن کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں؟ آیے مل کر کچھ کریں 
مزید پڑھیں:
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل


----------------------------------
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Humanity, Religion, Culture, Ethics, Science, Spirituality & Peace
Over 1,000,000 Visits

Tuesday, May 16, 2017

Software and Business Development پاکستان میں سافٹ ویئر کا بزنس ڈویلپمنٹ میں کردار اور اہمیت



In today’s modern age, almost every household has at least one computer system to use, and almost every family member knows how to use it and surf the internet. In fact, even a four year old kid knows how to surf the net or even play several RPG games using their computer.

A computer will not work without installing the computer software required in order to make it work. Since users may have different preferences on what they need and want to be installed on their PC, which would mean that every users will require different computer software to be installed to use it. This simply means that every computer system in each household or establishment may have different kinds of computer software installed on their PCs, depending on what they will need the most. In fact, we can install the computer software that we need on our PC, while removing or uninstalling the others that we don t need, as long as it is not a system software that is required in order for your machine to function.

Of course, besides for personal use, computers and computer software are a business necessity in order for their company to work and function at its best. Consequently, different types of computer software are necessary depending on the nature of business of the company. There are database management computer software, inventory and point of sales computer software, content management systems and many others.

For example, an information management computer software program such as student records system is a must for every school or university in order to keep track and maintain the records of either past or present students. For a department store, a POS or point of sales system is needed in order to keep track of sales and make every transaction as fast and efficient as possible. While a content management system is a great help for online marketers and webmasters to be able to manage bulk content in the most efficient and easiest way.

Aside from what we already mentioned, there are so many other types of computer software that play a vital role in every kind of business. In fact, most of these companies are willing to invest a lot just to have the finest and top quality software to give them the best performance with minimal or zero bugs. Nowadays, almost all businesses depend highly on transactions and processes that are done automatically with the use of high-end computer programs. The softwares effectiveness and efficiency are a must and should be given top priority.


While some businesses choose to hire programmers to create software that is customized to work for their particular business functions, others find it better to buy ready made computer software that is sold by a reputable software distributor. Whichever type you may prefer, always remember to use only quality computer software and buy only the original software. Quality would include efficiency, effectiveness and after sales support provided by the distributor. It would be best if the program is also user friendly to be used with much ease even by first time users. If it is required to function online, it should also have the best security features to save your business from potential hackers.
................................................
  Software engineering is the study and an application of engineering to the design, development, and maintenance of software. The Bureau of Labor Statistics’ definition is “Research, design, develop, and test operating systems-level software, compilers, and network distribution software for medical, industrial, military, communications, aerospace, business, scientific, and general computing applications.”

Typical formal definitions of software engineering are:

“the systematic application of scientific and technological knowledge, methods, and experience to the design, implementation, testing, and documentation of software”;
“the application of a systematic, disciplined, quantifiable approach to the development, operation, and maintenance of software”;
“an engineering discipline that is concerned with all aspects of software production”;
and “the establishment and use of sound engineering principles in order to economically obtain software that is reliable and works efficiently on real machines


Software engineering normally lies under the discipline of computer science. It deals with the making of software and OS for computer systems. In Pakistan this field is also growing very rapidly. In coming future it will also become one of the main branches of engineering like civil and mechanical. With software permeating virtually all aspects of our work in our society, a software Engineering graduate has the option to work in many different sectors such as telecommunications, finance, health care, manufacturing, retailing, security, transport. Other engineering areas like aeronautical, automotive, building, electrical, etc. also have increasing needs for software engineering. The entertainment industry with video games and movie animation also has a large demand for Software Engineers.

As a Software Engineer you will be a qualified professional involved in the technical work of designing, coding, and testing large software products. You will also be responsible for tasks such as directing projects, managing teams, estimating costs and resources, assessing business plans, reviewing proposals and suggesting innovations. The growth of information technology has given rise to many careers and computer software engineering is one of the careers that one can pursue in this field. A computer software engineer deals exclusively with the software part of the computer. Their function is to develop, design and assess software and all the systems that a computer uses to function. The demand for software engineers is high at the moment because of the advancement of IT. To be able to work confidently in this career one needs at least a degree. A keen interest in computers will help you grow in this career.



Scope of Software Engineering in Pakistan:
Pakistan is included amongst one of those countries which have highest demand for software engineers at the moment because of the advancement of IT and its applications. To be able to work confidently in this career. In the passage of time ranging from the last decade Pakistan has created a wide market and growth in the software engineering department including both private and government sectors. According to a US technical magazine, Software Engineering is the fastest growing job in the world and is likely to become the most paid job near 2020. Software Engineering is in high demand in the private sector in Pakistan. Low economy firms employ a high number of software engineers to carry out data handling jobs. New websites in Pakistan has also created new job opportunities for software engineers. The continuous expansion in the IT sector of Pakistan will surely saturate the engineering industry with Software Engineers. Although not at the first priority of many students, software engineering is one of the most promising fields to start your career.

The average salary for a Software Engineer is $10,765 per year. Most people move on to other jobs if they have more than 10 years’ experience in this career.
.......................................................
Business software or a business application is any software or set of computer programs used by business users to perform various business functions. These business applications are used to increase productivity, to measure productivity and to perform other business functions accurately.
By and large, business software is likely to be developed to meet the needs of a specific business, and therefore is not easily transferable to a different business environment, unless its nature and operation is identical. Due to the unique requirements of each business, off-the-shelf software is unlikely to completely address a company's needs. However, where an on-the-shelf solution is necessary, due to time or monetary considerations, some level of customization is likely to be required. Exceptions do exist, depending on the business in question, and thorough research is always required before committing to bespoke or off-the-shelf solutions.
Some business applications are interactive, i.e., they have a graphical user interface or user interface and users can query/modify/input data and view results instantaneously. They can also run reports instantaneously. Some business applications run in batch mode: they are set up to run based on a predetermined event/time and a business user does not need to initiate them or monitor them.
Some business applications are built in-house and some are bought from vendors (off the shelf software products). These business applications are installed on either desktops or big servers. Prior to the introduction of COBOL (a universal compiler) in 1965, businesses developed their own unique machine language. RCA's language consisted of a 12-position instruction. For example, to read a record into memory, the first two digits would be the instruction (action) code. The next four positions of the instruction (an 'A' address) would be the exact leftmost memory location where you want the readable character to be placed. Four positions (a 'B' address) of the instruction would note the very rightmost memory location where you want the last character of the record to be located. A two digit 'B' address also allows a modification of any instruction. Instruction codes and memory designations excluded the use of 8's or 9's. The first RCA business application was implemented in 1962 on a 4k RCA 301. The RCA 301, mid frame 501, and large frame 601 began their marketing in early 1960.
Many kinds of users are found within the business environment, and can be categorized by using a small, medium and large matrix:

Technologies that previously only existed in peer-to-peer software applications, like Kazaa and Napster, are starting to appear within business applications. (Wikipdia)
Links:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

Monday, May 15, 2017

do qomi nezryah pakistan and quran دو قومی نظریہ پاکستان، نسل و قوم پرستی اور قرآن



بہت لوگ جو مسلمان کہلانے کے دعویدار ہیں مگر نسل ، زبان کی بنیاد پر قومیت پر یقین رکھتے ہیں- ایسے لوگ ٧٠ سال پہلے بھی ہندوستان میں موجود تھے، انہوں نے ڈٹ کر پاکستان کی مخالفت کی اور انڈین کانگریس کا ساتھ دیا- ان میں علماءاورسیاسی پارٹیاں شامل تھیں- 1947 کو پاکستان کے معرض وجود میں انے کے بعد وہ لوگ پاکستان کی سیاست میں شامل ہو گئے- امید تھی کہ وہ اس اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وفادار ہو کر اس کی تعمیر و ترقی میں بھر پور حصہ لیتے مگر انہوں نے اپنی شکست کو تسلیم نہ کیا اور اس ملک کے خلاف اپنی جدو جہد کو جاری رکھا ہوا ہے- آیین پاکستان سے وفاداری کا حلف بھی اٹھاتے ہیں، حکومت میں شامل بھی ہوتے ہیں مگر پاکستان کی مخالفت بھی جاری رکھے ہوے ہیں-
یہ لوگ اپنے آپ کو قوم پرست کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں- کچھ تو کھلم کھلا پاکستان مخالفت میں بولتے ہیں(کچھ پر انڈیا اور افغانستان سے مدد کے الزام بھی ہیں). زبان اور مقامی کلچر کی ترقی کی ضمانت آیین دیتا ہے- مگر حدود سے پار ہو کر اب آزادی کے ستر سال نظریہ پاکستان کی بے جا مخالفت سوالات کھڑے کرتی ہے-
یہ لوگ اپنے پروپیگنڈا سے نئی نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں- دو قومی نظریہ پاکستان کا اسلامی نقطہ نظر سے جائزہ لیتے ہیں:

دو قومی نظریہ اور قرآن:

دو قومی نظریہ جس کی بنیاد پر 1947 میں انڈیا کی تقسیم ہوئی اور پاکستان بنایا گیا، اس کا اعلان سب سے پہلے خلیل اللہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ہے، امّتِ محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسری تمام امتوں نے حسب ہدایت یہی طریقہ اختیار کیا، اور عام طور پر مسلمانوں میں قومیت اسلام معروف ہوگئی، حجة الوداع کے سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک قافلہ ملا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کہ تم کس قوم سے ہو، تو جواب دیا:
نحن قوم مسلمون (بخاری)
اس میں عرب کے سابقہ دستور کے مطابق کسی قبیلہ یا خاندان کا نام لینے کے بجائے مسلمون کہہ کر اس حقیقی قومیت کا بتلا دیا جو دنیا سے لے کر آخر تک چلنے والی ہے-
اس نظریہ کی بنیاد قرآن سے ہے:

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٧٤ وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ ﴿٧٥ فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَـٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ﴿٧٦ فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَـٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ ﴿٧٧ فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَـٰذَا رَبِّي هَـٰذَا أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ﴿٧٨ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿٧٩ وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ ۚ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّـهِ وَقَدْ هَدَانِ ۚ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا ۗ وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۗ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ﴿٨٠وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّـهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا ۚ فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٨١
ترجمہ:
اور یاد کر جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ آزر کو کیا تو مانتا ہے بتوں کو خدا، میں دیکھتا ہوں کہ تو اور تیری قوم صریح گمراہ ہیں (کافر قوم) اور اسی طرح ہم دکھانے لگے ابراہیم کو عجائبات آسمانوں اور زمینوں کے اور تاکہ اس کو یقین آ جاوے پھر جب اندھیرا کرلیا اس پر رات نے دیکھا اس نے ایک ستارہ بولا یہ ہے رب میرا پھر جب وہ غائب ہو گیا تو بولا میں پسند نہیں کرتا غائب ہو جانے والوں کو پھر جب دیکھا چاند چمکتا ہوا بولا یہ ہے رب میرا پھر جب وہ غائب ہو گیا بولا اگر نہ ہدایت کرے گا مجھ کو رب میرا تو بیشک میں رہوں گا گمراہ لوگوں میں پھر جب دیکھا سورج جھلکتا ہوا بولا یہ ہے رب میرا یہ سب سے بڑا ہے ، پھر جب وہ غائب ہو گیا بولا اے میری قوم میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو میں نے متوجہ کرلیا اپنے منہ کو اسی کی طرف جس نے بنائے آسمانوں اور زمین سب سے یک سو ہو کر اور میں نہیں ہوں شرک کرنے والا -


دو قومی نظرئیے مسلمان ایک قوم اور کافر دوسری قوم ہے
نیز اس آیت (٦:٨٤) میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے خاندان اور قوم کی نسبت اپنی طرف کرنے کے بجائے باپ سے یہ کہا کہ تمہاری قوم گمراہی میں ہے ، اس میں اس عظیم قربانی کی طرف اشارہ ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے خدا کی راہ میں اپنی مشرک برادری سے قطع تعلق کرکے ادا کی اور اپنے عمل سے بتلا دیا کہ مسلم قومیت رشتہ اسلام سے قائم ہوتی ہے ، نسبی اور وطنی قومیتیں اگر اس سے متصادم ہوں تو وہ سب چھوڑ دینے کے قابل ہیں
ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد
فدائے یک تن بیگانہ کاشنا باشد
قرآن کریم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو ذکر کرکے آئندہ آنے والی امتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھی ان کے نقش قدم پر چلیں، ارشاد ہے:
(آیت) قد کانت لکم اسوة حسنة
یعنی امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے اسوہ حسنہ اور قابل اقتداء ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا یہ عمل کہ انہوں نے اپنی نسبی اور وطنی برادری سے صاف کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے غلط معبودوں سے بیزار ہیں، اور ہمارے تمھارے درمیان بغض و عداوت کی دیوار اس وقت تک حائل ہے جب تک تم ایک اللہ کی عبادت اختیار نہ کرلو ۔

معلوم ہوا کہ یہ دو قومی نظرئیے ہیں جس نے پاکستان بنوایا ہے، اس کا اعلان سب سے پہلے خلیل اللہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ہے، امّتِ محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسری تمام امتوں نے حسب ہدایت یہی طریقہ اختیار کیا، اور عام طور پر مسلمانوں میں قومیت اسلام معروف ہوگئی، حجة الوداع کے سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک قافلہ ملا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کہ تم کس قوم سے ہو، تو جواب دیا:
نحن قوم مسلمون (بخاری)
اس میں عرب کے سابقہ دستور کے مطابق کسی قبیلہ یا خاندان کا نام لینے کے بجائے مسلمون کہہ کر اس حقیقی قومیت کا بتلا دیا جو دنیا سے لے کر آخر تک چلنے والی ہے-
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس جگہ اپنے باپ سے خطاب کے وقت تو برادری کی نسبت ان کی طرف کرکے اپنی بیزاری کا اعلان فرمایا اور جس جگہ قوم سے اپنی بیزاری اور قطع تعلقی کا اعلان کرنا تھا وہاں اپنی طرف منسوب کرکے خطاب کیا، جیسے اگلی آیت میں ہے:
اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ
یعنی اے میری قوم! میں تمھارے شرک سے بیزار ہوں ۔ اس میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ نسب و وطن کے لحاظ سے تم میری قوم ہو، لیکن تمھارے مشرکانہ افعال نے مجھے تمھاری برادری سے قطع تعلق کرنے پر مجبور کر دیا۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی برادری اور ان کے باپ دوہرے شرک میں مبتلا تھے کہ بتوں کی بھی پرستش کرتے تھے، اور ستاروں کی بھی، اسی لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہی دونوں مسئلوں پر اپنے باپ اور اپنی قوم سے مناظرہ کیا
پہلے بت پرستی کا ضلالت و گمراہی ہونا ذکر فرمایا، اگلی آیات میں ستاروں کا قابل عبادت نہ ہونا بیان فرمایا، اور اس سے پہلے ایک آیت میں بطور تمہید کے حق تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی ایک خاص شان اور علم و بصیرت میں اعلیٰ مقام کا ذکر اس طرح فرمایا :
وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ
یعنی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کو اس طرح دکھلا دیا کہ ان کو سب چیزوں کی حقیقت و اشگاف طور پر معلوم ہوجائے، اور ان کا یقین مکمل ہو جائے اسی کا نتیجہ تھا جو بعد کی آیات میں ایک عجیب طرح کے مناظرہ کی شکل میں اس طرح مذکور ہے :


خلاصہ تفسیر
اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر (نام) سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے، بیشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو (جو اس اعتقاد میں تیرے شریک ہیں) صریح غلطی میں دیکھ رہا ہوں (اور ستاروں کے متعلق آگے گفتگو آئے گی، درمیان میں ابراہیم (علیہ السلام) کا صحت نظر کے ساتھ موصوف ہونا کہ ما قبل و ما بعد دونوں سے اس کا تعلق ہے فرماتے ہیں) اور ہم نے ایسی ہی (کامل) طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات (بچشم معرفت) دکھلائیں، تاکہ وہ (خالق کی ذات و صفات کے) عارف ہو جاویں اور تاکہ (ازدیار معرفت سے) کامل یقین کرنے والوں سے ہو جاویں (آگے ستاروں کے متعلق گفتگو کہ تتمہ مناظرہ کا ہے مذکور ہے کہ اوپر کی گفتگو تو بتوں کے متعلق ہو چکی) پھر (اسی دن یا کسی اور دن) جب رات کی تاریکی ان پر (اسی طرح اور سب پر) چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا (کہ چمک رہا ہے) آپ نے (اپنی قوم سے مخاطب ہوکر) فرمایا کہ (تمہارے خیال کے موافق) یہ میرا (اور تمہارا)....رب (اور میرے احوال میں متصرف) ہے (بہت اچھا، اب تھوڑی دیر میں حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے، چنانچہ تھوڑے عرصہ کے بعد وہ افق میں جا چھپا) سو جب وہ غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں غروب ہو جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا (اور محبت لوازم اعتقاد ربوبیت سے ہے پس حاصل یہ ہوا کہ میں رب نہیں سمجھتا) پھر (اسی شب میں یا کسی دوسری شب میں) جب چاند کو دیکھا (کہ) چمکتا ہوا (نکلا ہے) تو (پہلے ہی کی طرح) فرمایا کہ (تمہارے خیال کے موافق) یہ میرا (اور تمہارا) رب (اور متصرف فی الاحوال) ہے (بہتر اب تھوڑی دیر میں اس کی کیفیت بھی دیکھنا چنانچہ وہ بھی غروب ہوگیا) سو جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھ کو میرا رب (حقیقی) ہدایت نہ کرتا رہے (جیسا اب تک ہدایت کرتا رہتا ہے) تو میں بھی (تمہاری طرح) گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاؤں پھر (یعنی اگر چاند کا قصہ اسی قصہ کو کب کی شب کا تھا تب تو کسی شب کو صبح کو اور اگر چاند کا قصہ اسی قصہ کو کب کی شب کا نہ تھا تو قصہ قمر کی شب کی صبح کو یا اس کے علاوہ کسی اور شب کی صبح کو) جب آفتاب دیکھا (کہ بڑی آب و تاب سے) چمکتا ہوا (نکلا ہے) تو (پہلی دوبار کی طرح پھر) فرمایا کہ (تمہارے خیال کے موافق) یہ میرا (اور تمہارا) رب (اور متصرف فی الاحوال) ہے (اور) یہ تو سب (مذکورہ ستاروں) میں بڑا ہے (اس پر خاتمہ کلام کا ہو جاوے گا، اگر اس کی ربوبیت باطل ہوگئی تو چھوٹوں کی بدرجہ اولیٰ باطل ہو جاوے گی، غرض شام ہوئی تو وہ بھی غروب ہوگیا) سو جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار (اور نفور) ہوں (یعنی برأت ظاہر کرتا ہوں، اعتقاداً تو ہمیشہ سے بیزار ہی تھے) میں (سب طریقوں سے) یک سو ہو کر اپنا رخ (ظاہر کا اور دل کا) اس (ذات) کی طرف (کرنا تم سے ظاہر) کرتا ہوں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور میں (تمہاری طرح) شرک کرنے والوں سے نہیں ہوں (نہ اعتقاداً نہ قولاً نہ عملاً) اور ان سے ان کی قوم نے (بیہودہ) حجت کرنا شروع کی (وہ یہ کہ رسم قدیم ہے (آیت) وجدنا اباءنا لھا عابدین، اور معبودان باطلہ کے انکار پر ڈرایا بھی کہ کبھی تم کو یہ کسی آفت میں نہ پھنسا دیں کما یدل علیہ الجواب بقولہ ولا اخاف الخ) آپ نے (پہلی بات کے جواب میں تو یہ) فرمایا کہ کیا تم اللہ (کی توحید) کے معاملہ میں مجھ سے (باطل) حجت کرتے ہو، حالانکہ اس نے مجھ کو (استدلال صحیح کا) طریقہ بتلا دیا ہے (جس کو میں تمہارے روبرو پیش کر چکا ہوں، اور محض رسم قدیم ہونا اس استدلال کا جواب نہیں ہو سکتا، پھر اس سے احتجاج تمہارے لئے بیکار اور میرے نزدیک غیر قابل التفات) اور (دوسری بات کے جواب میں یہ فرمایا کہ) میں ان چیزوں سے جن کو تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ (استحقاق عبادت میں) شریک بناتے ہو نہیں ڈرتا (کہ وہ مجھ کو کوئی صدمہ پہنچا سکتے ہیں کیونکہ ان میں خود صفت قدرت ہی مفقود ہے اور اگر کسی چیز میں ہو بھی…..تو استقلال قدرت مفقود ہے) ہاں لیکن اگر پروردگار ہی کوئی امر چاہے (تو وہ دوسری بات ہے وہ ہو جاوے گی لیکن اس سے آلہہ دار باب باطلہ کی قدرت کا ثبوت یا ان سے خوف کی ضرورت کب لازم آئی اور) میرا پروردگار (جس طرح قادر مطلق ہے جیسا ان اشیاء سے معلوم ہوا اسی طرح وہ) ہر چیز کو اپنے (احاطہ) علم میں (بھی) گھیرے ہوئے ہے (غرض قدرت و علم دونوں اسی کے ساتھ مختص ہیں، اور تمہارے آلہہ کو نہ قدرت ہے نہ علم ہے) کیا تم (سنتے ہو اور) پھر (بھی) خیال نہیں کرتے اور (جس طرح میرے نہ ڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمہارے معبود علم و قدرت سے محض معریٰ ہیں، اسی طرح یہ بات بھی تو ہے کہ میں نے کوئی کام ڈر کا کیا بھی تو نہیں تو پھر) میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے (اللہ تعالیٰ کے ساتھ استحقاق عبادت اور اعتقاد ربوبیت میں) شریک بنایا ہے، حالانکہ (تم کو ڈرنا چاہئے دو وجہ سے، اول تم نے ڈرکا کام یعنی شرک کیا ہے، جس پر عذاب مرتب ہوتا ہے، دوسرے خدا کا عالم اور قادر ہونا معلوم ہو چکا ہے، مگر) تم اس بات (کے وبال) سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن (کے معبود ہونے) پر اللہ تعالیٰ نے تم پر کوئی دلیل (لفظاً یا معنیً) نازل نہیں فرمائی (مطلب یہ کہ ڈرنا چاہئے تم کو پھر الٹا مجھ کو ڈراتے ہو) سو (بعد اس تقریر کے انصاف سے سوچ کر بتلاؤ کہ) ان دو (مذکورہ) جماعتوں میں سے (یعنی مشرکین و موحدین میں سے) امن کا (یعنی اس کا کہ اس پر خوف کا) اگر تم (کچھ) خبر رکھتے ہو ۔
معارف و مسائل
ان سے پہلی آیات میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشرکین عرب کو خطاب اور بت پرستی چھوڑ کر صرف خدا پرستی کی دعوت کا بیان تھا۔
ان آیات میں اسی دعوت حق کی تائید ایک خاص انداز میں فرمائی گئی ہے، جو طبعی طور پر اہل عرب کے لئے دلنشین ہو سکتی ہے، وہ یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تمام عرب کے جدِّ امجد ہیں اور اسی لئے سارا عرب ان کی تعظیم پر ہمیشہ سے متفق چلا آیا ہے، ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس مناظرہ کا ذکر کیا گیا ہے جو انہوں نے بت پرستی کے خلاف اپنی قوم کے ساتھ کیا تھا، اور پھر سب کو توحید حق کا سبق دیا تھا۔
پہلی آیت میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم نےاپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں کو اپنا معبود بنا لیا ہے، میں تم کو اور تمہاری ساری قوم کو گمراہی میں دیکھتا ہوں ۔
مشہور یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام ہے اور اکثر مورخین نے ان کا نام تارخ بتلایا ہے اور یہ کہ آزر ان کا لقب ہے، اور امام رازی رحمة اللہ علیہ اور علماء سلف میں سے ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ اور چچا کا نام آزر ہے، ان کا چچا آزر نمرود کی وزارت کے بعد شرک میں مبتلا ہوگیا تھا، اور چچا کو باپ کہنا عربی محاورات میں عام ہے، اسی محاورہ کے تحت آیت میں آزر کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ فرمایا گیا ہے، زرقانی نے شرح مواہب میں اس کے کئی شواہد بھی نقل کئے ہیں ۔
اصلاح عقائد و اعمال کی دعوت اپنے گھر اور خاندان سے شروع کرنی چاہیے
آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد ہوں یا چچا بہر حال نسبی طور پر ان کے قابل احترام بزرگ تھے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے پہلے دعوت حق اپنے گھر سے شروع فرمائی، جیسا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اس کا حکم ہوا ہے (آیت) وانذر عشیرتک الاقربین، یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو خدا کے عذاب سے ڈرائیے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ماتحت سب سے پہلے اپنے خاندان ہی کو کوہ صفا پر چڑھ کر دعوت حق کے لئے جمع فرمایا۔
تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر خاندان کے کوئی واجب الاحترام بزرگ دین کے صحیح راستہ پر نہ ہوں تو ان کو صحیح راستہ کی طرف دعوت دینا احترام کے خلاف نہیں بلکہ ہمدردی و خیر خواہی کا تقاضا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دعوت حق اور اصلاح کا کام اپنے قریبی لوگوں سے شروع کرنا سنت انبیاء ہے۔
دو قومی نظرئیے مسلمان ایک قوم اور کافر دوسری قوم ہے
نیز اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے خاندان اور قوم کی نسبت اپنی طرف کرنے کے بجائے باپ سے یہ کہا کہ تمہاری قوم گمراہی میں ہے ، اس میں اس عظیم قربانی کی طرف اشارہ ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے خدا کی راہ میں اپنی مشرک برادری سے قطع تعلق کرکے ادا کی اور اپنے عمل سے بتلا دیا کہ مسلم قومیت رشتہ اسلام سے قائم ہوتی ہے ، نسبی اور وطنی قومیتیں اگر اس سے متصادم ہوں تو وہ سب چھوڑ دینے کے قابل ہیں
ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد
فدائے یک تن بیگانہ کاشنا باشد
قرآن کریم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو ذکر کرکے آئندہ آنے والی امتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھی ان کے نقش قدم پر چلیں، ارشاد ہے :

(آیت) قد کانت لکم اسوة حسنة
یعنی امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے اسوہ حسنہ اور قابل اقتداء ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا یہ عمل کہ انہوں نے اپنی نسبی اور وطنی برادری سے صاف کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے غلط معبودوں سے بیزار ہیں، اور ہمارے تمھارے درمیان بغض و عداوت کی دیوار اس وقت تک حائل ہے جب تک تم ایک اللہ کی عبادت اختیار نہ کرلو ۔

معلوم ہوا کہ یہ دو قومی نظرئیے ہیں جس نے پاکستان بنوایا ہے، اس کا اعلان سب سے پہلے خلیل اللہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ہے، امّتِ محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسری تمام امتوں نے حسب ہدایت یہی طریقہ اختیار کیا، اور عام طور پر مسلمانوں میں قومیت اسلام معروف ہوگئی، حجة الوداع کے سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک قافلہ ملا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کہ تم کس قوم سے ہو، تو جواب دیا:
نحن قوم مسلمون (بخاری)
اس میں عرب کے سابقہ دستور کے مطابق کسی قبیلہ یا خاندان کا نام لینے کے بجائے مسلمون کہہ کر اس حقیقی قومیت کا بتلا دیا جو دنیا سے لے کر آخر تک چلنے والی ہے-
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس جگہ اپنے باپ سے خطاب کے وقت تو برادری کی نسبت ان کی طرف کرکے اپنی بیزاری کا اعلان فرمایا اور جس جگہ قوم سے اپنی بیزاری اور قطع تعلقی کا اعلان کرنا تھا وہاں اپنی طرف منسوب کرکے خطاب کیا، جیسے اگلی آیت میں ہے:
اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ
یعنی اے میری قوم! میں تمھارے شرک سے بیزار ہوں ۔ اس میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ نسب و وطن کے لحاظ سے تم میری قوم ہو، لیکن تمھارے مشرکانہ افعال نے مجھے تمھاری برادری سے قطع تعلق کرنے پر مجبور کر دیا۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی برادری اور ان کے باپ دوہرے شرک میں مبتلا تھے کہ بتوں کی بھی پرستش کرتے تھے، اور ستاروں کی بھی، اسی لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہی دونوں مسئلوں پر اپنے باپ اور اپنی قوم سے مناظرہ کیا
پہلے بت پرستی کا ضلالت و گمراہی ہونا ذکر فرمایا، اگلی آیات میں ستاروں کا قابل عبادت نہ ہونا بیان فرمایا، اور اس سے پہلے ایک آیت میں بطور تمہید کے حق تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی ایک خاص شان اور علم و بصیرت میں اعلیٰ مقام کا ذکر اس طرح فرمایا :
وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ
یعنی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کو اس طرح دکھلا دیا کہ ان کو سب چیزوں کی حقیقت و اشگاف طور پر معلوم ہوجائے، اور ان کا یقین مکمل ہو جائے اسی کا نتیجہ تھا جو بعد کی آیات میں ایک عجیب طرح کے مناظرہ کی شکل میں اس طرح مذکور ہے :
http://www.elmedeen.com/read-book-1271&&page=377viewer-text&viewer=text#page-380&viewer-text

Must Read:
  1. http://pakistan-posts.blogspot.com/p/why-pakistan.html
  2. http://pakistan-posts.blogspot.com/2017/05/nazryah-pakistan.html
  3. http://salaamforum.blogspot.com/2017/02/sectarianism.html
  4. http://defence.pk/threads/nwfp-history-referendum-and-the-pakhtunistan-demand.39251/
  5. https://en.wikipedia.org/wiki/Khyber_Pakhtunkhwa
  6. https://ur.wikipedia.org/wiki/خیبر_پختونخوا
  7. پشتون مغالطے:
کچھ دن پہلے ایک صاحب نے مطالعہ پاکستان کو بےہودہ ثابت کرنے کے لیے ایسے سوالات کیے ہیں جن کا فہم و دانش سے کوئی تعلق نہیں بلکہ زمینی حقائق سے دور چونکہ چنانچہ اور اگر مگر جیسے فرضی سوالات ہیں۔ اپنے نظریہ کی ترویج کے لیے لکھنا اور دوسرے کی فکر کا رد کرنا اہل علم کا اسلوب ہے لیکن یہ کہاں کا انصاف ٹھہرا کہ دوسرے کے نظریے کو ”بےہودہ“ قرار دیا جائے۔ کیا سوسائٹی کی کثیر تعداد کے نظریے کو جو آئینی اور ہر لحاظ سے ہر شہری کے لیے معتبر ہے، اس کو یوں اپنی دانشوری کے زعم میں ”بےہودہ“ کہنا کیا بدتہذیبی نہیں۔ لیکن کیا کہیے کہ سیکولرزم و جمہوریت کی بنیادی اقدار آزادی اظہار رائے پر عمل پیرا ہونے کے دعویداروں میں تہذیب کا کچھ زیادہ لینا دینا نہیں رہا۔ سوالات کا پلندہ تیار کرنے والے صاحب نے شاید اندرا گاندھی کے بعد خود کو دوسرا شخص سمجھا جس نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبونے کا سہرا اپنے سر لیا، لیکن کوئی بتائے ان کو کہ نظریات کو ڈبویا نہیں جا سکتا۔ خود بنگال والے بھی ایک قومی نظریے کے تحت ہندوستان میں ضم نہیں ہوئے بلکہ الگ ملک ہی ہیں. کوشش کی ہے کہ ان سوالات کا معتدل انداز میں جواب دیا جائے، انسانی فطرت کی وجہ سے کہیں زیادتی بھی ہوسکتی ہے اس لیے کسی کی دل آزاری ہو تو معافی کی درخواست ہے ۔ https://daleel.pk/2016/09/22/8202



.................................................................................

دو قومی نظریۂ کے مخالف قائد اعظم رحمت الله علیہ کی گیارہ اگست انیس سو اڑتالیس کی تقریر کو جواز بنا کر ایک تو قائد اعظم رحمت الله علیہ کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسرے یہ کہتے ہیں کہ اس تقریر نے دو قومی نظریے کی نفی کر دی تھی یا قائد اعظم رحمت الله علیہ دو قومی نظریے پر یقین نہیں رکھتے تھے. ان لوگوں کو میں قائد اعظم رحمت الله علیہ کی ایک تقریر کے الفاظ یاد دلانا چاہتا ہوں جو قائد اعظم رحمت الله علیہ نے 8 مارچ 1944ء مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہے تھے. انہوں نے صاف بتا دیا تھا کہ دو قومی نظریۂ کیا ہے اور مسلمان قوم کی تعریف کیا ہے. آپ نے فرمایا

مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمۂ توحید’ ہے۔ نہ وطن ہے اور نہ نسل۔ ہندوستان کا پہلا فرد جب مسلمان ہوا تو وہ اپنی پہلی قوم کا فرد نہیں رہا۔ بلکہ وہ ایک جداگانہ قوم کا فرد ہو گیا

کچھ لوگ دو قومی نظریے کے متعلق اوٹ پٹانگ اور طرح طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں. یا تو انہیں پتہ ہو نہیں کہ دو قومی نظریۂ کیا ہے یا پھر وہ جان بوجھ کر کنفیوزن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. دو قومی نظریۂ ہندوؤں کے ایک قومی نظریے کے اس دعوے کا جواب ہے کہ ہندوستان میں ایک ہی قوم آباد ہے اور وہ ہندو ہے. اسکے علاوہ ہندوستان میں کسی قوم کا وجود نہیں ہے اور باقی سب ہندو قوم کا حصہ ہیں. مسلمانوں نے ہمیشہ ہندوؤں کے اس دعوے کی نفی کی اور کہا کہ ہندوستان میں ایک نہیں دو قومیں آباد ہیں. ایک ہندو اور دوسرے مسلمان. سادہ ترین الفاظ میں یہی دو قومی نظریۂ ہے. دو قومی کو پہلے سمجھ لیں تو بات کو سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی

انڈین نیشنل کانگریس یہ دعوا کرتی تھی کہ وہ ہندوستانیوں کی واحد نمایندہ جماعت ہے اور ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک ہے. ہندوستان کے مسلمانوں نے سب سے پہلے کانگریس کے پلیٹ فارم سے آواز اٹھائی کہ مسلمان ہندوؤں ہر لحاظ سے الگ قوم ہے اور انہیں ہندوستان کے اندر انکی آبادی کے لحاظ سے انکے جائز حقوق دیے جائیں. جب کانگریس نے انکار کیا تو انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا. آغاز میں وہ ہندوستان کے اندر رہ کر مسلمانوں کے جدا قوم ہونے اور انکے حقوق کی جدوجہد کی. ایک مقام پر مسلمانوں کو جدا قوم ماں کر جداگانہ انتخاب کا حق دے دیا گیا لیکن جب برطانیہ نے ہندوستان چھوڑ کر واپس جانے کا اعلان کیا تو مسلمانوں نے پھر کانگریس کے ساتھ مسلمانوں کے حقوق کے لیے بات چیت کی لیکن کانگریس کی ہت دھرمی سے مایوس ہو کر مسلمانوں نے ایک علیحدہ ملک کی جدوجہد شروع کی جو قیام پاکستان پر ختم ہوئی. دو قومی نظریے کا مطلب صرف اور صرف یہ تھا اور ہے کہ مسلمان ہندوؤں سے ایک الگ قوم ہے

سرسید احمد خان نے 1883ء میں کہا

ہندوستان ایک ملک نہیں’ یہ براعظم ہے اور یہاں مختلف نسلوں اور روایات کے لوگ آباد ہیں. ہندوستان میں دو بڑی قومیں آباد ہیں’ ہندو اور مسلمان

علامہ اقبال رحمت الله علیہ نے بھی اپنے خطبہ الہ آباد میں یہی پیغام دیا تھا کہ مسلمان چونکہ ایک الگ قوم ہے اس لیے انکے اکثریتی علاقوں پر مشتمل سٹیٹس بنا کر انہیں ہندوستان کے اندر رہ کر خود مختاری دی جائے

قائداعظم محمد علی جناح نے 8 مارچ 1944ء مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا

پاکستان اسی دن وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان میں پہلے ہندو نے اسلام قبول کیا تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب یہاں مسلمانوں کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی۔ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمۂ توحید’ ہے۔ نہ وطن ہے اور نہ نسل۔ ہندوستان کا پہلا فرد جب مسلمان ہوا تو وہ اپنی پہلی قوم کا فرد نہیں رہا۔ بلکہ وہ ایک جداگانہ قوم کا فرد ہو گیا۔ ہندوستان میں ایک نئی قوم وجود میں آ گئی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہندو اور مسلمان ایک ہی قصبہ اور ایک ہی شہرمیں رہنے کے باوجود کسی ایک قوم میں مدغم نہیں ہوسکتے۔ وہ ہمشیہ دو علیحدہ قوموں کی حیثیت سے رہتے چلے آرہے ہیں

چند ماہ کے بعد قائداعظمؒ نے ہندوئوں کے لیڈر موہن داس کرم چند گاندھی کو 17 ستمبر 1944 کو ایک خط لکھا تو ہندوستان میں مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کی وضاحت ان الفاظ میں کی

ہم مسلمان اپنی تابندہ تہذیب اور تمدن کے لحاظ سے ایک قوم ہیں۔ زبان اور ادب’ فنونِ لطیفہ’ فنِ تعمیرات’ نام اور نام رکھنے کا طریقہ’ اقدار اور تناسب کا شعور’ قانونی اور اخلاقی ضابطے’ رسوم اور جنتری’ تاریخ اور روایات’ رجحانات اور امنگیں… ہر ایک لحاظ سے ہمارا اپنا انفرادی زاویۂ نگاہ اور فلسفۂ حیات ہے۔ بین الاقوامی قانون کی ہر تعریف کے مطابق ہم ایک قوم ہیں

ایک چیز ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ دوقومی نظریہ پاکستان کے قیام کی بنیاد ہے اور پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد نہیں ہے. دو قومی نظریے نے پاکستان کو جنم دیا ہے پاکستان نے دو قومی نظریے کو جنم نہیں دیا ہے. پاکستان کے قیام کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دو قومی نظریۂ ختم ہوگیا ہے جیسا کہ کچھ لوگ سیکولر لوگ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں. دو قومی نظریہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ بر صغیر ہند میں مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں. مسلمان ہندو قوم کا حصہ نہیں ہیں. بلکہ وہ سب سے الگ ایک قوم ہے. یہ نظریۂ پاکستان بننے سے پہلے بھی موجود تھا اور پاکستان بننے کے بعد بھی موجود ہے. اور اسوقت تک موجود رہے گا جب تک برصغیر میں ایک بھی مسلمان باقی ہے. پاکستان کا قیام یا بنگلہ دیش کا قیام کسی طرح بھی دو قومی نظریۂ ختم نہیں کر سکتا. دو قومی نظریۂ ملکی سرحدوں کا محتاج نہیں ہے. نہ تو پاکستان بننے سے مسلمانوں کا علیحدہ تشخص ختم ہوتا ہے اور نہ ہی بنگلہ دیش بننے سے. اگر پاکستان بننے سے دو قومی نظریۂ ختم ہو چکا ہوتا تو مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر اندرا گاندھی یوں بدبودار اور زہر آلود الفاظ میں مسلمانوں کو مخاطب نہ کرتی

ہم نے مسلمانوں سے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا۔ آج دوقومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق ہو گیا

اندرا گاندھی کے الفاظ پڑھ کر سب پر عیاں ہو جانا چاہیے کہ دو قومی نظریۂ کیا ہے اور اسکا تعلق پاکستان یا بنگلہ دیش سے نہیں بلکہ مسلمان قوم سے ہے کیونکہ ایک ہزار سال پہلے نہ پاکستان کا وجود تھا اور نہ بنگلہ دیش کا. اندرا گاندھی نے ایک متعصبانہ ہندو ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانیوں کو نہیں، پاکستان کے مسلمانوں کو نہیں، پاکستان کے ہندوؤں کو نہیں، پاکستان کے عیسائیوں کو نہیں، پاکستانی فوج کو نہیں، پاکستانی حکومت کو نہیں بلکہ مجموعی طور پر برصغیر کے مسلمانوں کو مخاطب کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم (ہندوؤں) نے مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے اور مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کا نظریۂ اٹھا کر خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے. اندرا گاندھی کے یہ الفاظ پاکستان کے مسلمانوں کے نہیں بلکہ علمائے ہند کے کانگریسی مسلمانوں کے منہ پر ایک طماچہ تھا. اسکے علاوہ یہ سیکولر بھارت کا راگ الاپنے والے سرخوں اور نام نہاد ترقی پسند سول سوسایٹی کے منہ پر بھی ایک زبردست تھپڑ ہے جو دو قومی نظریے کی مخالفت میں دن رات لگے رہتے ہیں. دو قومی نظریۂ کل بھی زندہ تھا، آج بھی زندہ ہے اور اسوقت تک زندہ رہے گا جب تک برصغیر میں ایک بھی مسلمان زندہ ہے

مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے کسی طرح بھی اس دو قومی نظریے کو غلط ثابت نہیں کیا. کیا بنگلہ دیش کے مسلمانوں نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ مسلمان اور ہندو ایک قوم ہیں؟ کیا وہ دوبارہ سے ہندوستان میں شامل ہوگئے ہیں؟ کیا پاکستان بننے سے دو قومی نظریۂ کہ مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں ختم ہوگیا ہے؟

ایک چیز اور واضح کرتا چلوں کہ مسلمانوں کے نزدیک قومیت کا ایک بنیادی تصور یہ ہے پوری دنیا کے مسلمان ایک قوم سے تعلق رکھتے ہیں جو جغرافیائی سرحدوں کی پابند نہیں ہے

چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا - مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

اسکے علاوہ ایک قومیت کا نسبتا چھوٹا تصور ہے جو ملکی سرحدوں کا پابند ہے. پاکستانی، بنگلہ دیشی، ایرانی، برطانوی، امیرکن یا کینیڈین اسکی مثالیں ہیں. اسکے علاوہ دیگر چھوٹے چھوٹے قومیت کے تصور ہیں، مثلا پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان، مغل، جٹ، سید، آرائیں، شیخ وغیرہ وغیرہ-

---------------------------------------------------------------------------
اسلام میں برتری کا معیار

برتری نسل سے نہیں ، بلکہ تقوی سے:
اس میں شک نہیں کہ بہت سی جنگوں اور خونریزیوں کا سرچشمہ نسل پرستی تھے خصوصا دنیا کی پہلی اور دوسری جنگ عظیم جو  تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ انسانی جانوں کی بتاہی اور آبادی کی ویرانی کا باعث ہوئیں اس میں آلمانیوں (نازیوں) کی نسل پرستی کے جنون سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔
اگر طے ہوجائے کہ دنیا کے نسل پرستوں کی صف بندی کی جائے یا فہرست مرتب کی جائے تو یہودی پہلی لائن میں ہوں گے۔
اس وقت بھی انہوں نے جو حکومت اسرائیل کے نام سے تشکیل دی ہے اسی نسلی تفاخر کی بنیاد پرہے اور اس کی تشکیل میں وہ کیسے مظالم کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس کی بقاء کے لئے کیسی کیسی دہشت ناکیوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔
حالت تو یہ ہے کہ دین موسوی کو بھی اپنی نسل میں محصور سمجھتے ہیں اور نسل یہود کے علاوہ کوئی یہودی مذہب قبول کرے تو یہ ان کیلیئے کوئی توجہ طلب بات نہیں اسی لئے تو وہ دیگر اقوام میں اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج نہیں کرتے اسی وجہ سے وہ ساری دنیا میں نفرت کی نگاہوں سے دیکھے جاتے، ہیں کیونکہ دنیا کے لوگ ایسے اشخاص کو ہرگز پسند نہیں کرتے جو دوسروں کے مقابلے میں اپنے نسلی امتیاز کے قائل ہوں ۔
اصولی طور پر نسل پرستی شرک کی ایک قسم ہے اسی لئے تو اسلام سختی سے اس کا مقابلہ کرتاہے اور تمام انسانوں کو ایک ماں باپ کی اولاد قرار دیتاہے جن کا امتیاز فقط تقوی و پرہیزگاری ہے۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ  إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌO(القرآن، الحجرات، 49 : 13)
”اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہارے طبقات اور قبیلے بنا دیئے تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو بے شک اللہ کے نزدیک تو تم سب میں عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو، بے شک اللہ سب کچھ جانتا باخبر ہےo“

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔ (الحجرات 49:13)  ’’اے انسانو! ہم نے تمہیں ایک مرد و عورت سے پیدا کیا اور تمہیں گروہ اور قبائل بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک عزت والا وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘
اسی اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشہور خطبہ حجۃ الوداع میں ارشاد فرماتے ہیں:
’’تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔ اے لوگو! سنو تمہارا رب ایک رب ہے، کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے۔ نہ کوئی کالا کسی گورے سے بہتر ہے اور نہ گورا کالے سے۔ فضیلت صرف اور صرف تقویٰ کے سبب ہے۔‘‘
قرآن و حدیث کی ان تصریحات سے یہ تو واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام کسی ذات پات، رنگ، نسل اور قومیت کو فضیلت کی بنیادنہیں مانتا بلکہ صرف اور صرف تقوی اور پرہیز گاری کو ہی فضیلت کا معیار قرار دیتا ہے۔ ظاہر ہے کوئی اپنی نیکیوں کی بنیاد پر دوسروں کو حقیر تو سمجھ نہیں سکتا اور نہ ہی اسے کمتر قرار دے سکتا ہے ورنہ اس کا اپنا تقوی خطرے میں پڑ جائے گا۔
دین اسلام کسی نسلی مذہب کا نام نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ہدایت ہے جو آفاقی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی شخص اگر اپنے رب کی طرف خلوص نیت سے مائل ہونا چاہتا ہے تو اس کے لئے کھلی دعوت ہے کہ وہ اس دین کا انتخاب کرلے۔ قرآن مجید کی دعوت کو قبول کرکے کوئی بھی شخص ہر مسلمان کے برابر درجہ پاسکتا ہے اور اس میں کسی ذات پات یا رنگ و نسل کی قید نہیں۔
اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنے طرز عمل سے اللہ کی حجت تمام کریں اور انہیں اس کے دین کا پیغام پہنچائیں۔ دعوت دین کے لئے محبت، شفقت، نرمی اور عدل و احسان مطلوب ہے جس کا ہمارے ہاں فقدان پایا جاتا ہے۔

زبان اور علاقے کی بنیاد پر امتیاز (Geograhpic & Ethnic Discrimination)
چونکہ ہمارے ملک میں مختلف صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں اس لئے ہمارے ہاں لسانی اور صوبائی تعصب ایک ہی چیز سمجھا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم سے بادشاہ نیشنلزم کے جذبے کو فروغ دیتے آرہے ہیں لیکن اس تعصب کو صحیح معنوں میں اہل مغرب ہی نے عروج بخشا ہے۔ اہل حکومت اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے علاقائیت پرستی اور لسانیت پرستی کو فروغ دیتے آئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی تھی کہ ان بنیادوں پر قوم میں کٹ مرنے کا جذبہ پیدا کیا جائے تاکہ یہ لوگ حکمرانوں کے اقتدار کی حفاظت دل وجان سے کرسکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حکمرانوں کی تبدیلی سے غریب طبقے کو عموماً کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن یہی وہ طبقہ ہے جو قوم پرستی کے جذبے کے تحت اپنے حاکم کے لئے جان لڑا دیتا ہے۔
اہل مغرب کے ہاں قوم پرستی کا یہ جذبہ اس قدر ترقی پا گیا کہ اس کی بنیاد پر پچھلی صدی نے دو ایسی جنگوں کا سامنا کیا جن کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ انگریزوں سے دوسرے نظریات کی طرح قوم پرستی کا نظریہ بھی ہندوؤں میں منتقل ہوا۔ 1930  کے عشرے تک یہ قوم پرستی جنون کی صورت اختیار کرچکی تھی۔ اگرچہ شیوا جی مرہٹہ کے دور میں بھی ہندو قوم پرستی کو فروغ حاصل ہوا تھا لیکن احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں مرہٹوں کی شکست کے نتیجے میں اس کے اثرات خاصے زائل ہوچکے تھے۔
اس کے رد عمل میں مسلمانوں میں بھی ’’مسلم قوم پرستی‘‘ کے نظریے نے جنم لیا۔ حقیقتاً اس مسلم قوم پرستی کی بنیاد اسلام پر نہ تھی بلکہ اس بات پر تھی کہ نسلی مسلمان ایک قوم ہیں۔ اس قوم پرستی کی تحریک پر ان لیڈروں نے قبضہ کرلیا جا کا اسلام سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ اسلام کا نعرہ محض نمائشی طور پر لگایا گیا تھا۔ اس بات کا اندازہ مسلمانوں کے ایک رہنما کے اس فرمان سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے مسلمان رئیسوں کو اس بات کی ترغیب دی تھی کہ وہ صرف مسلمان طوائفوں کے پاس ہی جایا کریں تاکہ ان کی دولت سے ہندو طوائفیں فیض یاب نہ ہوسکیں اور مسلم دولت ، مسلم ہاتھوں ہی میں رہے۔
مسلمان یہ سمجھنے لگے کہ چونکہ ہم مسلمان ہیں اس لئے ہمارا ہر فعل اسلامی ہے خواہ اس کا دین کے اصل ماخذوں سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اسلام کے حکم اور مقصد کے عین خلاف سودی ادارے قائم کئے گئے جنہیں مسلم بینکوں کا نام دیا گیا، اسلامی تعلیما ت کے برعکس مرد وزن کے بے حجابانہ اختلاط کو فروغ دیا گیا اور بقول سید ابو الاعلی مودودی صاحب کے بس اسلامی قحبہ خانوں او ر اسلامی جوئے خانوں کی کسر ہی باقی رہ گئی تھی۔  (تفصیل کے لئے دیکھئے مسلمان او رموجودہ سیاسی کشمکش)
یہ قوم پرستی صرف مسلم تک ہی محدود نہ رہی بلکہ مسلمانوں کے مختلف لسانی گروہ اس کا شکار ہوئے۔ مسلمانوں نے اسلام کا نام استعمال کرکے پاکستان حاصل تو کرلیا لیکن جیسے ہی ہندو قوم پرستی کا خطرہ ٹلا، مسلم قوم پرستی ، صوبائیت اور لسانیت میں تحلیل ہوگئی۔ صرف چوبیس سال کے عرصے میں اس قوم پرستی نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرڈالا۔ اس کے بعد سے وطن عزیز پنجابی، سندھی ، پٹھان، بلوچ اور مہاجر کی قوم پرستیوں میں گھرا ہوا ہے۔ انہی قوم پرستیوں کے نتیجے میں ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی دو عشرے تک خون اور آگ کی ہولی کا شکار رہا ہے۔ یہ قوم پرستیاں مفاد پرست طبقے کی پھیلائی ہوئی ہیں، ورنہ سندھ و پنجاب کا محکوم طبقہ یکساں طور پر اس طبقے کی چیرہ دستیوں کا شکار ہے۔ ستم یہ ہے کہیہ مفاد پرست طبقہ اپنی طرف اٹھنے والے ہر قدم کا رخ مظلوم طبقے کو آپس میں لڑا کر یک دوسرے کی طرف موڑنے میں کامیاب رہا ہے۔
دین اسلام اپنے ماننے والوں کو علاقے اور زبان کی بنیاد پر تقسیم ہونے سے بچاتا ہے اور انہیں ایک ہی لڑی میں پرو کر بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی تلقین کرتا ہے۔ اگر تحریک پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے لیڈر اور عوام صحیح اسلامی روح کے ساتھ ایک امت مسلمہ بننے کی کوشش کرتے اور انہی بنیادوں پر پاکستان کی تعمیر کی کوشش کرتے تو نہ بنگلہ دیش بنتا اور نہ ہی کوئی اور لسانی جھگڑا کھڑا ہوتا۔
ہمارا دین ہمیں ایک قوم پرست گروہ بننے کی بجائے ایک امت بننے کا حکم دیتا ہے جو خالصتاً اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر اٹھے اور دنیا میں حق و صداقت کا پرچار کرے۔ دین اسلام کی تمام تعلیمات ہمیں ہر قسم کے امتیاز سے بچ کر خالصتاً اللہ کا ہوجانے کی دعوت دیتی ہیں۔ یہ ہمارے لئے شرم کا باعث  ہے کہ ہمارے پاس ہدایت کا نور ہوتے ہوئے بھی اہل مغرب ان نسلی، علاقائی، مذہبی، اور لسانی تعصبات سے نجات حاصل کرنے میں ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔ وہاں امتیاز کے خلاف (Anti-Discrimination)   قوانین بنائے جاچکے ہیں اور میڈیا کے ذریعے عوام الناس میں اس کا شعور بھی بیدار کیا جارہا ہے۔

اگر ہم اپنے دین کی تعلیمات سے صحیح معنوں میں فیض یاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر سے ہر قسم کے تعصبات اور امتیازات کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ اس وقت ہمارے معاشرے کی یہ ضرورت ہے کہ نسلی اور قومی امتیازات کے خلاف دین اسلام کی ان تمام تعلیمات کو عام کیا جائے اور معاشرتی نظام کو عدل اور مساوات کے اسلامی اصولوں کے تحت استوار کیا جائے۔

فَلاَ تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَجَاھِدْھُمْ بِہ جِھَادًا کَبِیْرًاo (الفرقان ۲۵:۵۲)
اے نبی! کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو۔
اسلام نے فرد کو فکرونظر کی پوری آزادی عطا کی۔ اس نے انسان کو جبری غلامی، معاشی استحصال، سیاسی جبر اور مذہبی اکراہ کی بندشوں سے پوری طرح آزاد کیا۔ آج جدید دور میں فکری آزادی کا سہرا فرانسیسی مفکر و فلسفی جان جاک روسو (۱۷۷۸ء۔۱۷۱۲ء) کے سر باندھا جاتا ہے، جس نے کہا تھا: انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر آج وہ ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ درحقیقت یہ اُس فرمان کی صداے بازگشت ہے، جو امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب نے اپنے گورنر مصر حضرت عمرو بن العاص کو تنبیہہ کرتے ہوئے جاری کیا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایاتھا: ’’تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنانا شروع کر دیا حالانکہ اُن کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا تھا؟‘‘
اسلام نے آزادیِ ضمیر کی خاطر انسان کے شعور احساس کو بیدار کیا اور قانون سازی کے ذریعے خارجی حالات کو بھی سازگار بنایا۔ اللہ پر ایمان، اُمت مسلمہ کی وحدت، افراد کے اندر ذمہ داریوں کے اشتراک کا تصور، ساری انسانیت کی وحدت اوراس میں باہمی کفالت کا اصول، یہ وہ بنیادی قدریں ہیں جن پر زور دے کر اسلام کامل آزادیِ ضمیر کا نعرہ بلند کرتا ہے۔
………………………………

انسانیت کی بنیاد پر متحد ہوجاؤ

یہ دنیا تنوع سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں مختلف فکر وخیال کے لوگ رہتے ہیں،جن کے مذاہب الگ ہیں۔ جو الگ الگ زبانیں بولتے ہیں اور الگ الگ طرز زندگی کے حامل ہیں۔ ان کے اندر رنگ و نسل کے اختلافات ہیں اور وہ ایک دوسرے سے مختلف نظریات رکھتے ہیں۔ ان اختلافات نے دنیا میں بڑی بڑی جنگیں برپا کی ہیں اور خونریز معر کے ہوئے ہیں۔ کبھی مذہب کے نام پر انسان نے انسان کا خون بہایا ہے تو کبھی زبان کے نام پر انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ کبھی علاقے اور رنگ ونسل کے اختلافات کے سبب آدمی نے آدمی کو غلامی کی زنجیریں پہنائی ہیں اور نوع انسانی کی اس فطری آزادی کا گلا گھونٹا ہے جو اس کا پیدائشی حق ہے۔ طاقت ور نے کمزور کو دبایا اور دولت مندوں نے غریبوں کے حقوق دبائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں کوئی ایسا نظام نہیں ہوسکتا جو سبھی کو ان کے حقوق دینے کی بات کرے؟ جہاں کوئی کمزور نہ ہو اور کسی کو طاقت کی بنیاد پر کسی کے ساتھ نا انصافی کرنے کی اجازت نہ ہو؟ جہاں چھوٹے اور بڑے کا فرق مٹ جائے اور رنگ و نسل کی تفریق سے اوپر اٹھ کر لوگ ایک دوسرے کے حقوق اور آزادی کا احترام کریں؟ ان سوالوں کا بس ایک جواب ہے کہ ایسا تب ہی ممکن ہے جب انسان اپنے خالق و مالک کے قانون کو تسلیم کرلے اور اس کے حکم کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنا شروع کردے۔ جو ہمارا پیدا کرنے والا ہے اس نے تمام انسانوں کو برابر بنایا ہے اور سب کے حقوق بھی برابر رکھے ہیں۔ اس نے کسی کو زیادہ اور کسی کو کم حقوق نہیں دیئے ۔ یہ تو انسان ہے جو دوسرے انسان کے حق دبانے کی کوشش میں لگارہتا ہے ۔ وہ دوسروں کے حق مارکر اپنا حصہ زیادہ سے زیادہ کرنے کی تاک میں لگا رہتا ہے۔ اگر خدائی احکام کی بات کریں تو اس میں سب کے حقوق برابر ہیں اور سب کو انسانیت کی بنیا د پر متحد ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ وحدت انسانی کی دعوت اللہ کے احکام کو مجموعہ ہے قرآن کریم جس میں اللہ نے بنی نوع انسان کے لئے اپنے احکام اتارے ہیں۔ وہ اپنے بندوں سے بے حد پیار کرتا ہے اور ان پر رحم وکرم فرماتا ہے لہٰذا اس کے احکام بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ ایک انسان دوسرے انسان کو تکلیف پہنچاکر خوش ہوتا ہے، ایک دوسرے کا حق مارکر وہ مسرت کا احساس کرتے ہیں مگر اللہ کو یہ باتیں پسند نہیں کیونکہ اس کی نظر میں اس کی تمام مخلوق برابر ہے اور کسی ایک کی تکلیف اس کے لئے بھی تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ وہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور اس قدر کہ کوئی ماں بھی اُتنی محبت نہیں کرسکتی۔ اس کی نظر میں اس کی مخلوقات برابر ہیں لہٰذا اس نے انھیں انسانیت کی بنیاد پر متحد ہونے کی دعوت بھی دی ہے۔ قرآن کریم کی سورہ انبیاء میں ہے: ’’اے لوگو! یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے، اور میں تمہارا پالنہار ہوں،تو میری ہی عبادت کرو۔‘‘ د وسری جگہ سورہ مومنون میں بھی ایک لفظ کے فرق کے ساتھ یہی حکم دہرایا گیا ہے: ’’بیشک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں، تو مجھ سے ڈرو۔‘‘ انبیاء سابقین کسی ایک خطے، ملک ، قبیلے یا قوم میں مبعوث کئے جاتے تھے مگر نبی اکرم ﷺ تمام انسانوں کے لئے رسول بن کر تشریف لائے لہٰذا اللہ نے قرآن میںآپ کو حکم دیا: ’’کہہ دیجئے ،اے لوگو! میں تم سارے انسانوں کی طرف نبی بناکر بھیجا گیا ہوں‘‘ نبی کریم ﷺ ساری کائنات کے لئے نبی بن کر آئے اور آپ کے لائے ہوئے احکام سب کے لئے ہیں۔ اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہے۔ قرآن انسانی بنیاد پر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتا ہے جس میں مختلف مذاہب، الگ الگ رنگ ونسل اور طبقے کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ میل، محبت سے رہ سکیں۔ اسی لئے قرآن کا پیغام ہے کہ: ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں نر اور مادہ میں پیدا کیا ہے اور خاندان وقبیلے بنائے ہیں۔ صرف اس لئے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، ورنہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز وہ ہے ، جو زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘ قرآن کریم کی یہ آیت وحدت انسانی کی بہترین مثال ہے۔ دنیا میں بسنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور یہ لوگ خواہ خود کو ایک دوسرے سے برتر ظاہر کرتے ہوں مگر خود ان کے خالق کا فرمان ہے کہ انسان ہونے کی حیثیت سے وہ برابر ہیں اور ان میں سے نہ کوئی بڑا ہے اور نہ مرتبے کے لحاظ سے چھوٹا۔ اگر کسی کو برتری حاصل ہے تو صرف تقویٰ اور خوف خداوندی کی بنیاد پر۔حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اکرم ﷺ نے جو خطبہ دیا تھا اس میں بھی آپ نے مسلمانوں کے ایک بڑے مجمع کے سامنے اس بات کا اعلان کیا کہ کسی کو کسی پر فضیلت و برتری حاصل نہیں ہے۔ سب لوگ برابر ہیں اور ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ اللہ اور رسول نے اپنے احکام میں یہ بات واضح کردی ہے کہ حاکم ومحکوم، عربی و عجمی، سیاہ و سفید، کمزور و طاقت ور، مومن و کافرانسان ہونے کی حیثیت سے یکساں ہیں۔ وہ قانون کی نظر میں بھی برابر ہیں لہٰذا کسی کے ساتھ مذہب، ذات، رنگ و نسل یا علاقے کی بنیاد پر کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا جاسکتا۔ گویا: بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے اسی تعلیم کا اثر تھا کہ امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی سیاہ فام بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو سیدی کہہ کر خطاب کیا کرتے تھے۔ وہ بلال جن کے حقوق سے مکہ نے غلام ہونے کے سبب انکار کیا۔جو ایک کمزور مسلمان ہونے کی وجہ سے اذیتیں برداشت کرنے پر مجبور ہوئے۔وہی بلال ایک قرآن تعلیم کے سبب تاریخ اسلام کی محترم ترین ہستی بن گئے۔ غیرمسلموں کے ساتھ حسن سلوک قرآن کریم نے کسی مسلمان کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ کسی غیرمسلم کے ساتھ برا سلوک روا رکھے یا اس کے ساتھ نا انصافی کرے۔ یعنی قرآن نے مذہبی عصبیت کی بنیاد ہی کھود ڈالی۔ کیونکہ کوئی بھی انسان کسی مذہب کا عامل ہوسکتا ہے مگر اسی کے ساتھ وہ انسان بھی ہے اور اس کا حق ہے کہ اس کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا: ’’تو اگر(غیر مسلم) تمہارے پاس کسی فیصلے کے لئے آئیں تو ان سے اعراض کرلو اور اگر فیصلہ کرو تو انصاف کرو،کیونکہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ جس طرح سے مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ بھید بھاؤ نہیں کیا جاسکتا،اسی طرح اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ غیرمسلم اپنے مذہب پر قائم رہیں۔ انھیں اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔اگر وہ اسلام قبول کرتے ہیں تو یہ رضاکارانہ طور پر ہونا چاہئے نہ کہ اجباری طور پر۔ قرآن میں اس تعلق سے بھی فرمایا گیا کہ : ’’مذہب کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔‘‘ دوسرے مقام پر فرمایا گیا کہ: ’’تمہارے لئے تمہارا دھرم ہے اور ہمارے لئے ہمارا دین‘‘ علاقہ و نسل پرستی کی مخالفت اسی طرح قرآنی مذہب کی نظر میں علاقائیت کے نام پر کسی تفرقہ پردازی کی اجازت نہیں اور نہ ہی اس کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ کیا جاسکتا ہے۔ عرب میں یہ فخر و غرور عام بات تھی کہ اہل عرب باقی دنیا کو اپنے سے کمتر سمجھتے تھے اور حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے حالانکہ اسلام کی نظر میں یہ کوئی برتری کی بات نہیں تھی۔ افریقہ کے لوگ سیاہ فام ہوتے ہیں جو غلام کے طور پر عرب لائے جاتے تھے لہٰذا ان کے ساتھ بھی بھید بھاؤ کا سلسلہ جاری تھا۔ اسی لئے رسول اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا تھا کہ ’’کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر فوقیت حاصل نہیں۔‘‘ ایسا ہی ایک دوسرا واقعہ بھی سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک مجلس میں سلمان فارسی، صہیب رومی اوربلال حبشی بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ تینوں غیر عرب تھے۔ قیس بن مطاطیہ نامی ایک منافق نے دیکھا تو کہنے لگا کہ اوس وخزرج نے اگر پیغمبر اسلام کی حمایت کی تو حیرت کی بات نہیں لیکن یہ حمایت کرنے والے لوگ ان کے کیا لگتے ہیں؟مطلب یہ کہ ان فارسیوں، رومیوں اور حبشیوں کا تو رسول اللہ کی قومیت سے کوئی تعلق نہیں۔ حضرت معاذبن جبل نے جب یہ بات سنی تو اس کا گریبان پکڑ لیا اور بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں لے کر آئے اور واقعہ بیان کیا، جسے سن کر رسول اللہ ﷺ بہت غضبناک ہوئے اور لوگوں کو مسجد میں جمع کرکے فرمایا: ’’اے لوگو! تمہارا پروردگار ایک ہے۔ باپ بھی ایک ہے۔ دین بھی ایک ہے۔ عربیت تم میں سے کسی کی ماں ہے نہ باپ۔ وہ ایک زبان ہے جو شخص اسے بولتا ہے وہ عرب ہے۔‘‘ یونہی ایک مرتبہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو حبش زادہ کہہ دیا تو آپ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے اندر ابھی بھی جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ ان دونوں واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے انسان کو انسان بنایا تھا اور انھیں الگ الگ خانوں میں بانٹنے سے منع کیا تھا۔ کیونکہ وہ خواہ کسی بھی خطے کے ہوں اور ان کی قومیت جو بھی ہے لیکن وہ بہرحال ایک ہی خالق کی مخلوق ہیں اور ایک ہی انسان کی اولاد ہیں۔ اس نسبت سے ان کے اندر اتحاد ہونا چاہئے۔ فارسی کے ایک مشہور صوفی شاعر شیخ سعدی شیرازی کہا ہے کہ: بنی آدم اعضائے یکدگرند کہ در آفرینش زِ یک جوہرند چو عضوے بہ درد آورد روزگار دگر عضو ہارا نماند قرار یعنی آدم کی اولاد ایک جسم کے مختلف اعضا کی طرح ہیں، کیونکہ ان کی پیدائش ایک ہی گوہر سے ہوئی ہے۔ جب جسم کے کسی ایک عضوکو تکلیف پہنچتی ہے تو دوسرے عضو کو بھی چین و سکون نہیں ملتا۔ قرآن بار بار یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے خالق کو پہچانے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے، اسی کے احکام کے مطابق زندگی گذارے مگر اسی کے ساتھ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ انسان اپنی فطرت کے مطابق الگ الگ سوچ کے ہیں لہٰذا اس دنیا میں وحدت دین نہیں ہوسکتا لہٰذا کوئی بھی انسان اپنے مذہب پر عمل کرنے کے لئے آزاد ہے البتہ اسے یہ مان لینا چاہئے کہ وہ انسان ہے اور انسانی بنیاد پر تمام انسانوں کا اتحاد ممکن ہے۔ وہ قومی، لسانی، اور نسلی بنیاد پر لوگوں کو ساتھ آنے کی دعوت نہیں دیتا کیونکہ یہ وہ بت ہیں جو اتحاد سے زیادہ اختلاف کا سبب بنتے ہیں۔

------------------------------
Links:


.........................................................

نظریہ ء پاکستان سے پاکستانی قوم تک

تحریر عارف کسانہ اسٹاک ہوم

ہم نے نظریہء پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔یہ الفاظ بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے  17   دسمبر  سن  1971  میں سقوط ڈھاکہ کے ایک دن بعد  اپنی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہے تھے۔انہوں نے مزید کہا یہ کامیابی نہ ہماری کامیابی ہے نہ ہماری فوجوں کی کامیابی ہے ۔یہ کامیابی ہے حق پر مبنی نظریہ کی ۔اس نظریہ کے خلاف جو باطل پر مبنی تھا۔مسلمانوں نے تحریک پاکستان کی بنیاد ایک  باطل پر رکھی تھی۔اور ہم جو کہتے تھے وہ حق تھا۔یہ ان کے باطل نظریہ کی شکست ہے۔مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے پر اندرا گاندھی کا یہ بیان ان کی نظریہء پاکستان کے بارے میں ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔دوسری جانب پاکستان میں یہ روش بھی موجود ہے کہ یہاں ایک قوم نہیں بلکہ کئی قومیں آباد ہیں۔اور اس کے ساتھ جب دین کی بنیاد پر مبنی نظریہ جسے دو قومی نظریہ پاکستان بھی کہا جاتا ہے اسے ترک کر کے خطہء زمین کی بنیاد پر جب  پاکستانی قوم کی اصطلاح وضع کی گئی تو نظریہء پاکستان کو ہم نے خود عملاً پس پشت ڈال دیا تھا۔نظریہ یا آئیڈیالو جی وہ بنیادی تصورات ہوتے ہیں جن پرکسی نظام کی بنیادیں استوار ہوتی ہیں۔آئیڈیالوجی اپنے اندر شدید قوت محرکہ رکھتی ہے۔اس میں بموں سے ذیادہ طاقت ہوتی ہے۔جب ہم نظریہء پاکستان کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد وہ تصورات اور آئیڈیالوجی  ہے جس کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا گیا تھا۔حصول مملکت کے لیے جس نظام کو منتخب کیا گیا تھا اور نظریہء پاکستان کی وضاحت بانیء پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے  مارچ انیس سو چوالیس میں علیگڑھ میں تقریر کرتے ہوئے یوں کی کہ پاکستان کی بنیاد تو اسی دن پڑ گئی تھی جس دن ہندوستان کا پہلا شخص مسلمان ہوا تھا۔ظاہر ہے جو شخص مسلمان ہوا ہو گا وہ کلمہ طیہ پڑھ کر اور اس پر ایمان لا کر اور دائرہء اسلام میں داخل ہو ا ہو گا۔چنانچہ پاکستان کی نظریاتی بنیاد کلمہء طیبہ ٹھہری۔پنجاب اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پھر کہا۔میں نہیں سمجھتا کہ کوئی دیانتدار آدمی اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ مسلمان بجائے خود ہندوئوں سے ایک الگ قوم ہیں۔ہم دونوں میں صرف مذہب کا فرق نہیں بلکہ ہماری تاریخ اوثقافت بھی ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ایک قوم کے ہیرو دوسری قوم کے ولن ہیں۔مسلمان دیگر مذہب کے ماننے والوں سے الگ قوم ہیں۔اس کا عملی اعلان رسول پاک نے اعلان نبوت کے بعد کر دیا تھا۔کہ ابو جہل اور ابو لہب زبان و نسل ،وطن ثقافت اور کئی ایک جیسی چیزوں کے اعتبار رسول پاک سے الگ قوم  کے افراد تھے۔جبکہ سلمان فارسی صہیب روحیاور بلال حبشی مختلف زبان و نسل اور کلچر رکھنے کے باوجود اسی قوم کے فرد تھے۔جس کے ابو بکر اور حضرت علی تھے۔اسی دو قومی نظریہ کا اظہار جنگ بدر کے موقع پہ ہوا۔اور یوم فرقان نے واضع کر دیا کہ دنیا میں قوم کی بنیاد رنگ نسل اور کلچر پہ نہیں بلکہ مشترکہ نظریات تصور حیات اور دین پر ہے۔ اسی تصور کو سر سید احمد خان نے بر صغیر میں واضع کیااور قیام پاکستان کی پہلی اینٹ انہوں نے   24  مئی 1875   میں رکھیسرسید نے یہ شمع سیالکوٹ کے فرزند اقبال کے ہاتھوں میں دی۔یہ وہی اقبال تھا جو پہلے خاک وطن ہر ذرے کو آفتاب کہتا تھا۔اور اپنے نیشنلسٹ ہونے پر نازاں تھا پھر اقبال نے کہا ان تازہ خدائوں میں سب سے بڑا وطن ہےجو پیرہن اسکا ہے وہ مذہب کا کفن ہے۔جب عالمگیر انسانیت کو وطنیت کی بنیاد پر تقسیم کیا جانے لگا تو علامہ اقبال نے کہا:
یہ بت کہ تراشیدہء نوی ہے            غارت گر کا نشانہ دین نبوی ہے
بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے      اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے
نظارہء دیرین زمانے کو دکھا دے  اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے

کیونکہ اقوام میں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سےقومیت اسلام کی جڑکٹتی ہے اس سےاور انہوں نے قومیت کا وہی واضع تصور دیا جسے پڑھ کر اور ایمان لا کر کوئی مسلمان کہلاتا ہے۔اپنی ملت سے قیاس اقوام مغرب سے نہ کر    خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیایک طرف سرسید اقبال اور جناح دین کی بنیاد پر قومیت کی وضاحت کر رہے تھے تو دوسری طرف کچھ مسلمان رہنماء جن میںعلماء بھی شامل تھے اس نظریہ کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے ہندوئوں کی ہمنوائی کی بنیاد وطن کو قرار دے رہے تھے۔اور مسلمانوں اور ہندوئوں کو ایک ہی قوم کا فرد کہہ  رہے تھے۔انہی علماء میں سے ایک مولانا  حسین  احمد مدنی بھی تھے۔ جو کہہ  رہے تھے کہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔علامہ اقبال اس وقت بستر مرگ پہ تھے اور انہوں نے اپنا آخری معرکہ وہیں سے لڑا۔جب انہوں نے مولانا حسین احمد مدنی کی آواز سنی تو ان کے دل سے ایک چیخ نکلی  اور کہا کہ :
عجم ہنوز نداندرموز دیں ورنہ                   زدیوبند حسین احمدایں چا ہ بوالعجبی استسرود برسرملت کہ منبراز وطن است               چہ بے خبر از مقام محمد عربی استبہ مصطفیآ برساں خوش راہ کہ دیں ہمہ اوست اگر بہ اوں نہ رسیدی تمام بو الہبی استیہ

نہائیت قابل غور الفاظ ہیں۔علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ رسول پاک کے مقام سے بے خبر ہو کر یہ کہا جا رہا ہے کہ ملت یعنی قوم وطن کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہے۔حالانکہ یہ رسول پاک کی نسبت سے بنتی ہے۔اور ابھی تک وہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں پائے۔یہی نظریہ قیام پاکستان کی بنیاد بنا اور قرآن حکیم نے تو یہ  اعلان کر دیا ہے کہ جب مومنین کو زمین پر اختیار ہوتا ہے تو نظام صلواة و زکواة قائم کرتے ہیں۔( 24 / 11)اس سے مراد وہ مملکت ہے جو اسلامی نظریہ سے تشکیل پاتی ہے۔ورنہ نماز ادا کرنے اور زکواة دا ہونے کی اجازت تو ہر غیر مسلم ملک میں بھی ہے۔اس لیے زمین پر اختیار کی ضرورت نہیں۔قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم نے بھی بہت سے مواقع پر یہ کہا کہ ہمیں قرآن حکیم سے رہنمائی لینی چاہیے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظریہ کو پھر سے اجاگر کیا جائے تاکہ نوجوان نسل اس سے آگاہ ہو سکے کیونکہ بہت سے عناصر مملکت خداداد کی نظریاتی بنیادوں کو مسمار کرنے کے درپے ہیں۔اور بانیء پاکستان کو سیکولر شخصیت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جسے وہ سیکولر جناح کہتے ہیں اور سن  19 47  تقریر کی غلط تعبیر لیتے ہیں۔میں ان پر واضع کر دینا چاہتا ہوں کہ اس تقریر کے بعد قائد اعظم تیرہ ماہ زندہ رہے۔اس سے بعد کی تقریروں میں بھی قرآن سے رہنمائی اور نظریہ ء پاکستان کا اعادہ کرتے  رہے ہیں۔11  اگست   1947   میں انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کا کرتے ہو ئے  انکے تحفظ کایقین دلایا تھا مگر اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا کہ وہ اپنے اس نظریہ سے رو گردانی کر چکے تھے جس کے تحت انہوں نے جدو جہد کی۔بعض ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے حصول پاکستان کی خاطر اس نظریے کو اپنایا اور بعد میں اسے ترک کر دیا۔یہ بھی حقائق کے منافی ہے ۔ چودہ اگست انیس سو اڑتالیس کو پاکستان کی پہلی سالگرہ کے موقع پر وہ اسے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کہتے ہیں۔پھر اس سے پہلے جو لائی انیس سو اڑتالیس میں قرآن سے رہنمائی لے کر مملکت کا نظام چلانے کی بات کرتے ہیں اور یہ تقریر آج بھی اپنے الفاظ کے ساتھ محفوظ ہے۔سیکولر ازم کے پیامبروں سے میری یہ درخواست ہے کہ کیا وہ کوئی ایسی تحریر یا اسٹیٹ منٹ پیش کر سکتے ہیں جس میں جناح نے یہ کہا ہو کہ وہ ایک سیکولر اسٹیٹ کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں یا یہ کہ پاکستان ایک سیکولر اسٹیٹ ہے۔مشہور مسیحی رہنماء مسٹر جوشو افضل دین نے اپنے پمفلٹ  Rational of pakistan constitution   میں قائد اعظم کی گیارہ اگست انیس سو اڑتالیس کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کہہ  دینا کہ تخلیق پاکستان کے بعد قائد اعظم نے کوئی ایسی بات کہہ د ی ہے کہ جس سے اس بات کا مکان ہے کہ پاکستان کی بنیاد مہندم ہو جائے گی بالکل پاگل پن ہے قائد اعظم نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ پاکستان میں بلا لحاظ مذہب و ملت ہر ایک کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔مختصر الفاظ میں نظریہء پاکستان اور قائد کے اقوال کے مطابق ایسی مملکت تھی جس میں آزادی اور پابندی کی حدود قرآن کی رو سے معین ہوں۔جس میں کوئی قانون قرآن کے منافی نہ ہو اور نہ ہی مذہبی پیشوائوں کی اجارہ داری ہو۔جس کا جمہوری اور معاشی  نظام سچے اسلامی اصولوں اور اسوہء حسنیٰ کے مطابق ہو۔  قوم کے جس تصور کی تشریح سر سید ، اقبال اور جناح  نے کی اس کے مطابق قوم کی بنیاد خطہء  زمین کی  نسبت سے نہیں بلکہ مشترکہ  نظریہ ء حیات کی بنیاد پر بنتی ہے۔   اس اعتبار سے کسی ایک مملکت کے رہنے والے اس مملکت کے شہری تو ہو سکتے ہیں لیکن ایک قوم کے فرد  نہیں ہو سکتے۔  لہٰذا پاکستانی قوم کی اصطلاح بھی دو قومی نظریہ  اور نظریہء پاکستان کے منافی ہے۔  پاکستان میں رہنے والے اس کے شہری ہونے والے اس کے حقوق اور مراعات تو لے سکتے ہیں ۔وہ پاکستان کے شہری تو ہیں لیکن تمام پاکستانی ایک قوم کے فرد نہیں۔اگر ہم آج تمام پاکستانیوں کو ایک قوم مان لیں تو نظریہء پاکستان خود بخود ختم ہو جائے گا۔اور کسی اندرا گاندھی کو یہ کہنے کی ضرورت نہ ہوتی کہ ہم نے نظریہء پاکستان کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے۔ اندرا گاندھی کی یہ خوش فہمی تھی اور اس کی آتماء کو آج بھی شانتی نہ ہو گی کیونکہ پاکستان آج بھی ایک اسلامی جمہوریہ ہے۔اور دو قومی نظریہ کا علمبردار ہے۔اور جس مشرقی پاکستان کو انہوں نے الگ کر کے بنگلہ دیش بنا دیا تھا۔اس نے بھی دو ہزار گیارہ میں یہ شق اپنے آئین میں شامل کر لی ہے کہ بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔مشترکہ دینی نظریات اسلامی  امت مسلمہ میں اتحد اور ایک ملت کا باعث ہوں گے۔بقول علامہ اقبال یہ ہندی وہ خراسانی  یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندہ ساحل اچھل کر بیکراں ہو جا





.
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page