Posts

Showing posts from April, 2017

Islam and modernism in Pakistan

Image
The idea of ‘Islamic Modernism’ held sway in Pakistan until the mid-1970s but disappeared soon after. In Questioning the Authority of the Past historian Dr Ali Usman Qasimi explains how from 1947 till about the mid-1970s, the state and subsequent governments consciously kept the ulema away from directly influencing government legislation.

Usmani adds that this was not due to the fact that those who ran the state and governments between the mentioned years were secular. Instead, their idea of faith and its role in the formation of Pakistani nationalism was different from those held by the ulema and the clerics.

The civil-military establishment which was at the helm of state and government affairs from 1947 till the early 1970s was an extension of the idea of faith and Muslim nationalism developed and evolved by the likes of Sir Syed Ahmad Khan, Syed Amir Ali, Chiragh Ali, Ahmaduddin Amritsari, Muhammad Iqbal, Ghulam Ahmad Parvez, Dr Khalifa Abdul Hakim, and to a certain extent, Dr Fazalu…

CPEC - Watch-out ! No Free lunch

Image
Train to China
THERE is a fear lurking in the shadows of CPEC that a time will soon come when the Chinese will start dictating terms and priorities rather than negotiating them. As an increasing number of Chinese enterprises acquire stakes in Pakistan’s economy, and as the government takes out more and more loans from Chinese state-owned banks for balance of payments support, the space to negotiate and protect our own interests diminishes. Perhaps we have seen a glimpse of what this entails in the recent discussions around the financing arrangements for the $8bn project for the Peshawar-Karachi railway line, when the Chinese insisted they would not share the project with the Asian Development Bank and wanted to implement it on their own. According to Ahsan Iqbal, the minister for planning and development, who oversaw the negotiations, the Chinese “strongly argued that two-sourced financing would create problems and the project would suffer”. So the government gave in to the ‘strongly a…

13 damning remarks made by Justice Khosa on Panamagate

Image
Below are excerpts from the dissenting notes of the Supreme Court’s Panamagate case, written by Justice Asif Saeed Khosa.
" پاناما گیٹ فیصلہ: جسٹس آصف کھوسہ کے ریمارکس
سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کی جانب سے سنائے گئے پاناما لیکس کے فیصلے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اختلافی نوٹ کے چند اقتباسات درج ذیل ہیں۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ 5 رکنی بینچ کی سربراہی کر رہے تھے اور فیصلے میں ججز کی رائے 2:3 میں تقسیم رہی۔
1۔ جسٹس کھوسہ نے ’دی گاڈ فادر‘ کے قول سے آغاز کیا
پاناما کیس کے تفصیلی فیصلے کے آغاز میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 1969 کے ماریو پوزو کے مشہور ناول ’دی گاڈ فادر‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا، ’ہر عظیم قسمت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے۔‘
جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ’یہ ایک طنز اور سرار اتفاق ہے کہ موجودہ کیس بھی بالزاک کی اسی بات کے گرد گھومتا ہے۔‘
2۔ دیگر اداروں نے نواز شریف کے خلاف تحقیقات سے انکار کیا یا ناکام ہوئے
جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’ان درخواستوں کو عدالت نے اس لیے سننے کا فیصلہ کیا کیونکہ ملک کے دیگر متعلقہ اداروں، جیسا نے قومی احتساب بیورو، وفاقی تحقیقاتی ادارے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈر …

Kon jeeta kon haara? کون جیتا کون ہارا؟

Image
الطاف قمر سابق انسپکٹر جنرل پولیس اپنے تجربات کو دلچسپ انداز میں تحریر کر رہے ہیں -  "کون جیتا کون ہارا؟" اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ، ملاحظہ فرمائیں..  پی ڈی ایف فائل :https://goo.gl/Wmk1sa



:الطاف قمر کی مزید تحریریں http://pakistan-posts.blogspot.com/2016/08/altafqamar.htmlhttps://goo.gl/Zc22tY . ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
More: 
Frequently Asked Questions <<FAQ>> سلام فورم" پر سوالات کے جوابات"

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب سلام فورم نیٹ ورکPeace Forum Network
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
AftabKhan-net.page.tl 

Z A Bhutto - Legacy بھٹو کا ورثہ یا بوجھ

Image
Z A Bhutto was Prime minister of Pakistan, hanged for muder of his political opponent 》》》 ہم نے اپنی تاریخ کو ہمیشہ مسخ کیا ہے۔ محمد بن قاسم کے حملے سے لے کر مغلیہ خاندان کی حکومت تک ہم نے حقائق کو لوگوں تک پہنچنے ہی نہیں دیا۔ اسی روایت کو ہم اب تک دوہرا رہے ہیں۔ ہم صرف مثبت نکات کو محفوظ کرتے اور منفی نکات کی پردہ پوشی کرتے اور ایک گمراہ کُن رویے کے مُرتکب ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر مبارک احمد سے لے کر پروفیسر کے کے عزیز تک اس بات کا بہت رونا رویا گیا ہے اور اس کے نقصانات سے بھی آگاہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہم نے اسے کبھی اہمیت نہیں دی۔ اور ابھی تک اپنے پسندیدہ اشخاص کو ہیرو ہی بنا کر پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ آخر وہ بھی بندہ بشر ہی تو تھے اور ان میں بشری خامیاں بھی موجود تھیں۔ یہی کچھ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کیا جا رہا ہے حالانکہ جو کچھ اس دور میں ہوتا رہا ہے ہمارے سامنے کی باتیں ہیں اور ابھی انہیں تاریخ کا درجہ بھی حاصل نہیں ہوا ہے ۔یہ وضاحت ضروری ہے کہ میں خود پیپلز پارٹی کا اساسی رکن اور اس کے کئی عہدے بھگتا چکا ہوں اور ان نظریات پر اب تک قائم ہوں جو اس پارٹی کے منشور میں د…