Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Thursday, March 31, 2016

Indian Act of War - India Naval Officer captured in Pakistan, not spy but involved in Terrorism, its an Act of War


  1. India knows well that it cannot defeat militarily nuclear armed Pakistan, so with help of other enemies of Pakistan India has launched Terrorist Military War against Pakistan. Its not a spy but terrorist Commander Indian naval military officer. Are we ready to respond?
  2. One is totally astonished at the cursory treatment being given to the episode of Indian Navy Commander  Kulbhushan Yadav  caught in Pakistan, conducting terrorist operations in Pakistan, with base in Chah Bahar Iran.
  3. He is not a spy, he is Terrorist. We lost many Shia, Sunnis, Christians in terrorist activities in Balochistan, KPK, Punjab, Sindh, all over Pakistan.
  4. Indian footprint was claimed but now we have solid evidence. Giving it cursory treatment is unfair, injustice to the blood of all those, over 60000 killed in terrorist activities.
  5. His actions are not spying but ACT of WAR by state, India.
  6. Comparing him with Francis Gary Powers (August 17, 1929 – August 1, 1977) –  an American pilot whose Central Intelligence Agency (CIA] U-2 spy plane was shot down while flying a reconnaissance mission in Soviet Union airspace, causing the 1960 U-2 incident. Is unfair.
  7. Our government is mum, it's mysterious. Do they want our soldiers,  officers and civilians to keep their lives and India keep sending more KulBohins!
  8. The war of terror cannot be won by mere military action while our rulers encourage the Indians to continue with their terrorist operations.
  9. What peace talks with India? While they are carrying out terrorism in Pakistan. The statements of Indian minister for defence are clear, his words porven with the arrest of Indian Navy officer captured in Pakistan.
  10. Government of Pakistan  must call for UN security council urgent meeting, ask for sanctions against India and take other actions and countermeasures.
  11. Life of single Pakistani is much more precious than the business interests of our rulers, or their cowardly peace mantra.


Aftab Khan
--------------------------------------------------------
انڈیا اچھی طرح سمجھتا ہے کہ وہ فوجی طور پر مضبوط اور   نیوکلیئر پاکستان کو شکست نہیں دے سکتا لہٰذا ہمارے دوست نما دشموں کے ساتھ مل کر اس نے براہ راست پاکستان کو توڑنے کے لیے دشت گرد ملٹری آپریشن لانچ کر دیا ہے. اس نے شاید اعلی لیول پر بھی اثر حاصل کر لیا ہے. پاکستان کا حشر خدانخواستہ عراق، شام ، لیبیا ، افغانستان کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے. یہ وطن جولاکھوں جانوں کا نذرانہ دے کر حاصل کیا گیا تھا تباہی کہ دھانے پر کھڑا ہے.
 ہمارا نمبر ون مسئلہ دشت گردی کی جنگ جیتنا ہے. اگر امن ہو گا تو سب کچھ ہو گا امن نہیں تو کچھ نہیں. ہم عوام کا جینا مرنا پاکستان میں ہے. ہمارے بچے ہمارے اثاثہ پاکستان میں ہیں.
  کیا وطن کی آزادی صرف پاک فوج کی ذمہ داری ہے؟ یا ہم سب کی؟
انڈین نیوی کا کمانڈر پاکستان میں جاسوسی نہیں بلکہ دہشت گردی کے آپریشن،  پلان اور کنڈکٹ کر رہا تھا  اس کو "جاسوس" کہنا ٦٠٠٠٠ ہزار پاکستانی جو دہشت گردی میں مارے گیے ان کی توہین ہے. یہ پاکستان کے خلاف اعلان جنگ (act of war) ہے . اس کا  آرمی ایکٹ کے مطابق کورٹ مارشل ہو جیسا اس قسم کے کیسز میں ہوتا ہے . حکومت پاکستان ایران ،سیکورٹی کونسل اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فورمز پر اس کیس کو اٹھا ے. اگر ایسا نہیں ہوتا تو عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ دسشمن کے ایجنٹ پاکستان پر قبضہ کر چکے ہیں . خدا ہی حافظ: 

 http://goo.gl/L8Lw13



Spy:
Oxford Dictionary:
“ Work for a government or other organization by secretly obtaining information about enemies or competitors”
A person employed by a government to obtain secret information or intelligence about another, usually hostile, country, especially with reference to military or naval affairs.
Espionage or, casually, spying involves a spy ring, government and company/firm or individual obtaining information considered secretor confidential without the permission of the holder of the information.[1] Espionage is inherently clandestine, as it is by definition unwelcome and in many cases illegal and punishable by law. Espionage is a subset of "intelligence" gathering, which includes espionage as well as information gathering from public sources. https://en.wikipedia.org/wiki/Espionage


Terrorist:
A person who uses unlawful violence and intimidation, especially against civilians, in the pursuit of political aims:four commercial aircraft were hijacked by terroristsa suspected terrorist


a person, usually a member of a group, who uses or advocates terrorism.
Terrorism; the use of violence and threats to intimidate or coerce, especially for political purposes.


Terrorist is a person who is involved in terrorism:

Terrorism, in its broadest sense, is defined as the use of violence, or threatened use of violence, in order to achieve a political, religious, or ideological aim. In modern times, terrorism is considered a major threat to society and therefore illegal under anti-terrorism laws in most jurisdictions. It is also considered a war crime under the laws of war when used to target non-combatants, such as civilians, neutral military personnel, or enemy prisoners of war. https://en.wikipedia.org/wiki/Terrorism

Wednesday, March 23, 2016

Pakistan’s Quagmire پاکستان - امن اور ترقی کا راستہ


Pakistan is in a state of turmoil, in order to get out of this quagmire some basic issues need to be settled. Ideologically the Pakistani society can be divided in to three main groups: <<Click to read in English as webDoc>>
 کھلا خط 
آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں. ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے. آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE

پاکستان کی ترقی ، خوشحالی اور امن کے لییے کچھ بنیادی معاملات طے کرنا ضروری ھیں. اس وقت پاکستانی سوسائٹی ، معاشره فکری طورپرتین بڑے حصوں تقسیم ہو چکا ہے 
ایک طرف  اشرافیہ , لبرل طبقہ ہے جو مذہب کوہر شخص کا ذاتی معاملہ سمجھتا ہے،ان کے مطابق مذہب، اسلام کا  قانون، سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں . مذہیب عبادت گاہوں تک محدود ہو.کچھ معتدل لوگ اقلیت میں  ہیں. یہ  اشرافیہ لبرل طبقہ  اگر چہ تعداد میں قلیل ہے مگربہت طاقتور ہے .اشرافیہ کل آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر پورے یه پاکستان کی پچاس فیصد سے زیادہ دولت پر قابض ہیں. ٩٩ فیصد پاکستانی ٥٠٠ ڈالر اوسط سالانہ آمدنی  پرغربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں.   حکومت ،معشیت،جاگیریں، کاروبار، بیورو کریسی، فوج، سیاست دان، میڈیا سب  کچھ ان کے قبضہ  اور کنٹرول میں ہے. ان میں کچھ لوگ راے  عامہ ھموار کرنے کے لیے مذہب اسلام کا نام استمال کرتے ہیں. یہ صرف دکھا وہ ہے. طاقت اور پیسے کے زور پر یہ مخالف کوکچل دیتے ہیں 
یہاں اشرافیہ سے مراد ان کے ھمدرد ، فائدہ اٹھانے والے مدد گار اور دوسرے طبقات کے امیدوار بھی شامل ہیں 
کسی صورت میں یہ طاقت چھوڑنے کو تیار نہیں ، یہ مختلف بھیس بدل کر پاور میں رہتے ہیں
ان میں کچھ شدت پسند لوگ بھی ہیں جو مذھبی یا مذہب کی طرف مائل لوگوں کوچاہے وہ معتدل مزاج ہوں، ان کو  جاہل، دقیانوسی ، کم عقل، قابل  نفرت سمجھتے ہیں. ان کے خیال میں تمام مصیبتوں کی بنیاد مذہب اور مذھبی لوگ ہیں. ان کو لبرل فاشسٹ بھی کہا جا سکتا ہے
مذہب سے ان کی نفرت کی دو بڑی ممکنہ وجوھات ہو سکتی ھیں. اول: مغربی ترقی اور ثقافت سے مرعوب. دوئم: مذہبی لوگوں کی قدامت پسندی، جدید دنیا وی ترقی،سائنس ٹیکنالوجی سے بیزاری، صرف عبادات پر ترجیح، مکالمہ کی بجاے اپنی مخصوص فکراور نکتہ نظرکو مذہب کی آڑ میں دوسروں پر زبردستی نافذ کرنے کی کوشس اور اس میں شدت پسندی، دہشت گردی کے استعمال کو جائز سمجھنا. اگر چہ مذہبی لوگوں کی اکثریت معتدل مزاج اور امن پسند ھے

 دوسری طرف خاموش اکثریت ہے

 "اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔" - قرآن ٢:١٤٣ 

اکثریت اسلام کو مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے تمام جگہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں . اور اس کو قیام پاکستان کا مقصد سمجھتے ہیں
ان میں بہت سے امن پسند  معتدل علماء اکرام اور سوسائٹی کے تمام  طبقات کے معتدل  لوگ شامل ہیں. جو دہشت گردی کے خلاف ہیں بہت سے اپنی زندگی اس نیک مقصد میں قربان کر کہ شہید ہو گئے . مگر ان کی آواز دہشت گردی اور لبرل لوگوں کے درمیان گم جاتی ہے . کیوں کہ وہ انصاف اور عوام کے استحصال کے بھی خلاف حق کی آواز بلند کرتے ہیں 

 عوام اسلام سے جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں اور مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں مگر عام طور پر ذاتی زندگی میں اسلام کی اعلی  اقدار سے دور ہیں . جھوٹ دھوکہ ، نا انصافی ،کرپتشن کا دور دورہ ہے. شریعت کا نفاذ اپنے پر نہیں کرتے مگر دوسروں پر نافذ کرنا چاہتے ہیں. عبادات پر زور ہے مگر حقوق العباد پس پشت ہیں. ان کا مسلہ معاشی اور معاشرتی انصاف اور امن ہے جو اسلامی نظام کے زریعے حاصل کرنے کی امید کر سکتے ہیں.

تیسری تعارف اسلامی شدت پسند دہشت گرد اور ان کے خاموش ہمدرد 

   عوام کی  اکثریت شدت پسندی کے بجاے پر امن طریقے سے 
شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں . جبکہ کچھ شدت پسند لوگ اور گروہ جیسے طالبان ، طاقت کے زور پر اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں . اس کے لیے وھ دہشت گردی اور قتل و غارت کو جائزاسلامی طریقہ سمجھتے ہیں . اس سے تمام قابل زکر علماء اوراکثرمذہبی جماعتیں بظاھر اختلاف  کرتے ہیں . مگر خاموشی سے اںدورن خانہ ان کے حمایت کرتے  معلوم ہوتے ہیں

 امام مسجد , خطیب صاحبان کا سوسائٹی میں بہت اثر ہے . جمعہ کے خطبات ور مذھبی اجتما ع میں وھ جو چاہیں تقریر کریں . کسی کی جرات نہیں کہ اختلاف  کر سکے.اکثر خطیب صاحبان دہشت گردوں کی خاموش حمایت کرتے معلوم ہوتے ہیں ان کی مذمت نہیں کرتے ، گول مول بات کرتے ہیں. شائد ان کا  خیال ھوکہ اس طرح وہ بھی  پاور گیم کا حصہ بن جایں گے

 تمام حکمران فوجی یا سول جمہوری, عوام کے استحصال میں
ملوث ہیں ، کرپشن نا انصافی نے عوام کو بدحال کر دیا ہے . وہ امید سے ہر ایسے لوگوں کے پیچھے چلنے کو تیار ہیں جو ان کو انصاف خوشحالی کی امید دکھاتا ہے . مذہبی شدت پسند لوگوں کو وہ ردعمل میں امید لگاتے ہیں . جیسے پرانے لوگ کہتے ہیں کیہ انگریز کا دور اچھا تھا قانون کی حکمرانی تھی وغیرہ وغیرہ . مذہبی لوگ اپنے آپ کو اس لیڈرشپ کے خلا کو پر کرنے کا اهل سمجھتے ہیں. پاور طاقت کا اپنا مزہ ہوتا ہے . ان میں کم لوگ ادراک رکھتے ہیں. کچھ نیک نیت ہیں مگر یہ ان کے بس کا کام نہیں
سوسائٹی فکری طور پر  تقسیم ہو چکی ہے
ایسے حالات میں ضروری ہے کہ کنفیوژن کو دور کیا جائے تاکہ اکثریت ایک نقطہ  نظر پر متفق ہو  جائے. اور پھر تمام توانایوں کو مرکوز کرکہ عظیم مقاصد ، امن . خوشحالی . ترقی کی طرف رواں دواں ہوں
یاد رھے کہ الله تعالیٰ نے مسلمانوں کو تین اقسام میں تقسیم فرمایا ہے: 

ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم  مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ سورة فاطر٣٢ 

پھر ہم نے اس کتاب (قرآن) کا وارث ایسے لوگوں کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چُن لیا (یعنی امّتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو)، سو ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے درمیان میں رہنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے اﷲ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والے بھی ہیں، یہی (آگے نکل کر کامل ہو جانا ہی) بڑا فضل ہے،  
 اگر ہم کچھ بنیادی سوالات کا جواب موجودہ تناظرمیں قرآن سنت کی  روشنی میں معلوم کر لیں. ان پر قومی مباحثہ ہو جس میںآپ, میڈیا ، دانشور ، مذہبی سکالرز علماء ، سیاسی مفکرین ، سول سوسائٹی ، فوجی ماہرین ،  قانون ، خارجہ امور کے ماہرین اور تمام دوسرے متعلقہ ماہرین  اور عوام حصہ لیں . پھر جس پر سب یا اکثریت متفق ہو ان پر پھر ڈٹ کرعمل کریں تو پاکستان ایک ترقی یافتہ باعزت ملک، قوم  بن سکتا ہے  اور کچھ نہیں تو کم از کم عوام میں ایک فکری،  شعوری آگاہی پیدا ہو جائے گی . عوام دھوکہ سے بچ جائیں گے 
کچھ سوالات بظاھر معمولی معلوم ہوتے ہیں مگر گہرے اثرات رکھتے ہیں. 
 :بنیادی مکالمہ کےسوال درج ذیل ہیں 
انسان کا کیا مقصد حیات ہے؟
پاکستان بنانے کا مقصد ؟
. متفقہ آیین پاکستان  جو الله کی حاکمیت اعلی کا اقرار کرتا ہے اور  قرآن سنت کو اول قرار دے, کیا  اس کا مکمل انکار درست ہے ؟ 
کیا اسلامی جمہوریت  جس میں حاکمیت الله کی اور قانون شریعت  کا ہو غیر اسلامی ہے ؟

خلافت میں اگر خلیفہ منتخب ہو گا تو پھر اسلامی جمہوریت میں کیا فرق ہے ؟  
آیین فقط قرار داد مقاصد شامل کرنے سے اسلامی نہیں بنتا اس پر عمل درآمد بھی ہو؟
اسلامی نظریاتی کونسل فقط ایک  سفارشی ادارہ ہے . اس کی تشکیل نو اور اختیارات بھی ہونا چاہے ؟
 اگر موجودہ آیین اور جمہوریت اسلامی نہیں تو متبادل نظام کیا ہے؟ اس کو جمہوری طریقے سے نافذ کریں گے یا ڈکٹیٹر شپ سے ، کیا یہ سب کو قبول ہو گا ؟ 
عام حالات میں اشرافیہ کواگر ختم نہیں تو کم از کم مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ عوامی امنگوں کا خیال کرتے ہوۓ امن، خوشحالی اور ترقی کے اقدام اٹھاے. جب اس کو معلوم ہو کہ اس میں اشرافیہ کی اپنی سروائیول اور ان کا اپنا بھی فائدہ ہے تو وہ کچھ گنجائش دے گی. دہشت گرد اس میں کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں.  اسے کیا اقدام کئے جائیں جو اشرافیہ کوعوام کے فائدہ میں رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرے؟ 
 آیین کے مطابق جمہوری طریقے سے حکومت شوری پارلیمنٹ کا انتخاب سیکشن 62 ، 63 کے سختی سے نفاذ سے قبول ہے  یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس ؟
پاکستان میں نفاذ شریعت کی تعریف اجماع جمہور کے مذہب اسلام  کی ہو گی یا اقلیت شیعہ ، دیوبندی، اہل  حدیث ، تکفیری ، خوارج ، کے مطابق ؟
  اسلامی ریاست میں  چند افراد کے نظریے کی شریعت کے نفاذ کے نام پر بغاوت اور جنگ قتال جائز ہے ؟
 کیا اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کے بعد "دار-الحرب " اور "دارلسلام "  کا قدیم اجتہادی نظریہ ختم ہو کر دنیا اب "دار-الامن " ہے علاوہ ان علاقوں کے جن پر دوسرے لوگ  قابض ہیں؟
 کسی تبدیلی کی صورت میں حکومت پاکستان کے ماضی میں کئے گیے بین الاقوامی میثاق اور معاہدوں کی پاسداری کی کیا اہمیت اور سٹیٹس ہوگا ؟
کیا  حکومت پاکستان دنیا میں مسلم مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لیے یا کسی اور وجہ سے اخلاقی ، مالی امداد یا جہاد  قتال  کا  فیصلہ کرے گی، یا گروہ ، افراد یا علماء کریں گے یا حکومت سب کے مشورے سے کرے گی ؟ اسی صورت میں بین الاقوامی معاہد و ن کی کییا حیثیت ہو گی ؟ 
غیر مسلمان اقوام سے عام تعلقات  ،تعلیمی . جدید ٹیکنالوجی کا حصول ، تبلیغی، اسلامی دعوت , تجارتی اور دفاعی معاہدے، جدید اسلحہ کا حصول اپنے فائدے کے لیے  ممنوع ہے یا جائز ؟
کیا بین الاقوامی سرحدوں کا احترم ہو گا یا ساری زمین الله کی ہے کوئی سرحد نہیں ہو گی ؟
کیا پاکستان ساری دنیا سے جنگ کرے گا اور تباہ و برباد ہو جائے گا ؟
حکومت پاکستان موجودہ نواز شریف  اور سابقہ حکمران  مشرف،  زرداری تمام امریکہ کی پٹھو  ہیں جوامریکا کی غلام ہیں . وہ سب اس کا انکار کرتے ہیں . اس دعوے کی حقیقت کیسے معلوم ہو گی ؟
 کیا حکومت  کے خلاف اس قسم کے الزمات پر بغاوت جائز ہے ؟
کیا جو  عوام بغاوت نہیں کرتے وہ کیا حکومت کے ساتھی ہیں ، مرتد ہیں سب واجب قتل ہیں ، اور جہنمی ہیں . ان کو مارنا ثواب ہے ؟
 انسانی حقوق کیا ہیں ؟ یا انسانی حقوق وہ ہیں جو حکومت وقت دے ؟
کیا پاکستان میں غیر مسلمانوں کے لیے جگہ نہیں اور یہ سب واجب قتل ہیں ؟
کفار ملکوں میں مسلمانوں پر جوابا " ظلم کا کون ذمہ دار ہوگا ؟
پاکستان میں غیر مسلم اقلیت  کے برابر حقوق "میثاق مدینہ" اور آیین کے مطابق  یا کچھ اور ؟
ا قلیت کی مذہبی آزادی، عبادت کا حق اور چرچ ، مندر گردواروں کی حفاظت یا تباہی ؟
 اختلاف رائے کا حق ہو گا . ظالم حکمران کیسے تبدیل کیا جا سکے گا ؟
ریاست میں گروہ ، جتھوں اور پرائیویٹ ملیشیا  کی تشکیل کی اجازت ہو گی ؟ ان کو کنٹرول کون کرے گا ؟

 کیا امر با المعروف نہی عن المنکر ، (نیکی کی ترغیب اور برائی سے اجتناب ) کے لیے حکومت ، افراد، مذہبی اور سوشل تنظیموں کے طریقہ کار اور دائرہ اختیار کو طے کرنے کی ضرورت ہے؟

سماجی اوراخلاقی برایوں نے معاشرے کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کر دیا ہے. اس ضمن میں حکومت، افراد اورمذہبی اور سوشل تنظیموں کی کوششوں میں ربط کی ضرورت اور طریقہ کار؟   
کیا دینی مذہبی تعلیم پر حکومت کا کسی حد تک کنٹرول ہو؟  نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جانے . مدارس کے طلبا دین کے ساتھ دنیاوی ، سائنس کی تعلیم حاصل کریں  مزید امام مسجد کے علاوہ دوسرے کام حصول روزگار کے لیے کر سکیں؟
کیا عوام کا دشت گردی خودکش حملوں سے قتال جائز ہے؟   
فوج، پولیس اور دوسرے قومی دفاعی ادارے اور ان کے افراد مساجد ، گرجوں عوامی اجتماع کی جگہوں پر  طالبان کے خود کش حملوں اور دہشت گردی کو روکیں یا نہیں؟
عوام کی جان اور پراپرٹی کی حفاظت کون کرے گا؟ 


اہل علم ، دانشور حضرات اور تمام عوام الناس سے قرآن ، سنّت ، تاریخی حقائق  اورموجودہ حالات کے تناظر میں  رہنمائی کی  درخواست ہے . اس پیغام کو پھیلائیں تاکہ ایک قومی مکالمے کا آغاز ہو . ہم مل کر ان مسائل کا حل پا سکیں . اور کچھ نہیں تو کم از کم عوام میں ایک فکری،  شعوری آگاہی پیدا ہو جائے گی . عوام دھوکہ سے بچ جائیں گے .
آپ جو کوئی بھی ہیں جہاں بھی ہیں ان  اہم سوالات کے جواب درج ذیل لنکس اور دوسرے علمی ذریے سے معلوم کریں. ان کا آزادانہ تجزیہ کریں اور اپنے اردگرد حلقہ احباب کو بتاییں ، ان سے ڈسکسس کریں. اس طرح لوگوں کو گمراہ ہونے سے بچائیں. دین اسلام کے نام پر دھوکے کی سیاست اور دہشت کرنے والوں کی شیطانی چالوں سے خود بچیں اور دوسروں کو  بھی بچائیں. اس طرح کم از کم  آپ نے اپنا مذھبی اور انسانی فرض ادا کردیا
مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا
جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا،  اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا - قرآن ٤:٨٥
 الله ہماری مدد فرماے  . آمین 

غلطیوں سے درگزر کریں ، گوگل سے ٹائپ کیا
https://www.facebook.com/aftabkhaan 
http://aftabkhan.blog.com
.. http://t.co/H3Ot5U4uDx

  مزید مطالعہ کریں

 مسلم وعلماء کے نام کھلا خط :
  1. Short Web link: http://goo.gl/xNolSV  
  2. Google Document: https://goo.gl/xAtokS

Following links will help to find answers to most of issues raised above:
  1. https://dl.dropboxusercontent.com/u/12798195/FreeBooks/PakistanQuagmare.htm
  2. https://docs.google.com/document/d/1nVCHvCIZiTj3Ndknh-KduN40M4LvinosfituBXQoflA/edit?usp=sharing
  3. http://freebookpark.blogspot.com/2012/06/creation.html
  4. http://pakistan-posts.blogspot.com/p/why-pakistan.html
  5. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/04/shariah-or-democracy-conflict-or.html
  6. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/04/blog-post.html
  7. http://pakistan-posts.blogspot.com/2012/09/objectives-resolution-supremacy-of.html
  8. http://pakistan-posts.blogspot.com/2011/06/political-reforms-for-stable-democracy.html
  9. http://faithforum.wordpress.com/jihad-myth-and-reality/
  10. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/illogical-logic-of-takfiri-taliban-to.html
  11. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/10/blog-post.html
  12. http://pakistan-posts.blogspot.com/2012/09/objectives-resolution-supremacy-of.html
  13. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/the-dreadful-doctrine-of-terror-takfeer.html
  14. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/09/rebellion-by-khawarij-takfiri-taliban_440.html
  15. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/learning-science-in-islam.html
  16. http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/refutation-of-takfirirs-form-quran.html
  17. http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/11/pakistan-basic-issues-need-immediate.html
  18. Ideology of Pakistan - Fact or Fiction - An Analysis - نظریہ پاکستان - حقیقت یا افسانہ: تجزیہ 
  19. Caliphate: Relevant or Redundant: http://goo.gl/245yB  
  20. Islamic Society & Culture:https://t.co/HNUuOUuK  
  21. Islam: A General Introduction: By Sheikh Ali Tantawi
  22. Urdu Translation: "Islam: A General Introduction: By Sheikh Ali Tantawi"
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کیا آپ پاکستان کے حالات سے پریشان ہیں؟
 اپنے پیارے وطن کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں؟
 آیے مل کر کچھ کریں ! مزید اس لنک پر 
 http://t.co/H3Ot5U4uDx
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
Peace-Forum NetWork


Thursday, March 10, 2016

Madrassas: behind closed doors: By Victor Mallet

Are south Asia’s Islamic schools causing a surge in extremism?

Students study inside the Darul Uloom Madrasa in Deoband, Uttar Pradesh. India. Adeel Halim for the Financial Times.
Islamic leaders retort that the whole point of most seminaries is to train scholars and holy men, and ask why schools whose ultra-conservative curricula have been unchanged for centuries are being blamed for modern-day terrorism. They, and academics sceptical about the “factories of terror” rhetoric, also note that only a tiny proportion of Asian Muslims attend madrassas.

Christine Fair, an associate professor at Georgetown University in the US and an expert on Pakistan, delights in debunking misconceptions about the country and its madrassas. Few Pakistanis, she says, actually attend madrassas, and those who do typically only go for a couple of years, while violent extremists are not destitute illiterates but disproportionately well-educated.
Nevertheless, she has concluded that Deobandis are indeed the largest source of violence in the country and that Deobandi madrassas are increasing faster than others. What is more, the latest data collected contradicts earlier conclusions that madrassa attendance is not correlated with terrorism. “They don’t produce terrorists, but what they do is predict support for terrorists,” she says, suggesting that militant parents, including mothers, are more likely to place their children in madrassas. “I’ve had to do a volte-face on this. Just going to a madrassa [means that] you are more disposed to supporting these kinds of groups.”

Before evening prayers in Deoband, one of the students, 19-year-old Mohammed Abu Umamah, cheerfully confronts us outside the marble-paved mosque. He repeats Madani’s message of peace. “Some people in Europe are presenting the wrong image of Islam, insisting that Islam is the religion of terrorism,” he tells us. “But Islam teaches peace and Islam condemns the killing of any person.”
Across the region, however, from the Maldives to central Asia, hundreds of millions of moderate Muslims are increasingly alarmed about the spread of violent extremism in their own societies. Deoband may be preaching the importance of peace, but its mosques and madrassas are where many of the most violent militants spent their formative years, and the schools continue to proliferate. “The number of madrassas [in India] has multiplied four or five times in the last 70 years,” says Madani proudly, “and mosques by 10 times.” The signs are that madrassas will continue to multiply in south Asia for years to come.
Victor Mallet is the FT’s south Asia bureau chief
Photographs: Adeel Halim; Victor Mallet
Read full article: http://www.ft.com/cms/s/2/d807f15a-7db0-11e5-98fb-5a6d4728f74e.html#slide0

Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits

Saturday, March 5, 2016

Political Islam: End of Religious based Politics- Urdu

“We are chasing an Islamic order ‘stripped of its humanism, aesthetics, intellectual quests and spiritual devotions…. concerned with power not with the soul, with the mobilization of people for political purposes rather than with sharing and alleviating their sufferings and aspirations.”[Eqbal Ahmad]
Islamism, also known as Political Islam (Arabicإسلام سياسي‎ islām siyāsī), is an Islamic revival movement often characterized by moral conservatism, literalism, and the attempt "to implement Islamic values in all spheres of life."
Islamists generally oppose the use of the term, claiming that their political beliefs and goals are simply an expression of Islamic religious belief. Similarly, some experts (Bernard Lewis) favor the term "activist Islam", or "political Islam" (Trevor Stanley), and some (Robin Wright) have equated the term "militant Islam" with Islamism.
 The different Islamist movements have been described as "oscillating between two poles": at one end is a strategy of Islamization of society through state power seized by revolution or invasion; at the other "reformist" pole Islamists work to Islamize society gradually "from the bottom up". The movements have "arguably altered the Middle East more than any trend since the modern states gained independence", redefining "politics and even borders" according to one journalist (Robin Wright).
Islamists may emphasize the implementation of Sharia (Islamic law); of pan-Islamic political unity, including an Islamic state; and of the selective removal of non-Muslim, particularly Western military, economic, political, social, or cultural influences in the Muslim world that they believe to be incompatible with Islam.
Some observers (such as Graham Fuller) suggest Islamism's tenets are less strict, and can be defined as a form of identity politics or "support for [Muslim] identity, authenticity, broader regionalism, revivalism, [and] revitalization of the community." Following the Arab Spring, political Islam became heavily involved with political democracy,but also spawned "the most aggressive and ambitious Islamist militia" to date, Daesh.
Central and prominent figures of modern Islamism include Hasan al-BannaSayyid Qutb,Abul Ala Maududi, and Ruhollah Khomeini. Some of these proponents emphasise peaceful political processes, whereas Sayyid Qutb in particular called for violence, and those followers are generally considered Islamic extremists.
Islamism has been defined as:
  • "the belief that Islam should guide social and political as well as personal life",
  • movement of "supporters of government in accord with the laws of Islam [and] who view the Quran as a political model" original definition of "Islamist".
  • "a theocratic ideology that seeks to impose any version of Islam over society by law". Subsequently clarified to be, "the desire to impose any given interpretation of Islam on society".
  • "the [Islamic] ideology that guides society as a whole and that [teaches] law must be in conformity with the Islamic sharia",
  • a pejorative shorthand for extremist Muslims or Muslims the American news media "don't like." ("Council on American–Islamic Relations complaint about old AP definition of Islamist).
  • a term "used by outsiders to denote a strand of activity which they think justifies their misconception of Islam as something rigid and immobile, a mere tribal affiliation."
  • a movement so broad and flexible it reaches out to "everything to everyone" in Islam, making it "unsustainable".
    • an alternative social provider to the poor masses;
    • an angry platform for the disillusioned young;
    • a loud trumpet-call announcing `a return to the pure religion` to those seeking an identity;
    • a "progressive, moderate religious platform` for the affluent and liberal;
    • ... and at the extremes, a violent vehicle for rejectionists and radicals.
  • an Islamic "movement that seeks cultural differentiation from the West and reconnection with the pre-colonial symbolic universe",
  • "the organised political trend, owing its modern origin to the founding of the Muslim Brotherhood in Egypt in 1928, that seeks to solve modern political problems by reference to Muslim texts",
  • "the whole body of thought which seeks to invest society with Islam which may be integrationist, but may also be traditionalist, reform-minded or even revolutionary",
  • "the active assertion and promotion of beliefs, prescriptions, laws or policies that are held to be Islamic in character,"
  • a movement of "Muslims who draw upon the belief, symbols, and language of Islam to inspire, shape, and animate political activity;" which may contain moderate, tolerant, peaceful activists or those who "preach intolerance and espouse violence."
  • the "often violent and angry version" of Islam that "emerged largely in response to European imperialism", and has become "fashionable" in the late 20th century and early 21st.
  • A movement of Muslims who seek to "Islamize" their social, workplace, and family "environment", whether through a violence or a gradual non-violent process. In non-Muslim majority countries this means rejecting assimilation.
Islamism takes different forms and spans a wide range of strategies and tactics towards the powers in place -- "destruction, opposition, collaboration, indifference" that have varied as "circumstances have changed" —and thus is not a united movement.
Moderate and reformist Islamists who accept and work within the democratic process include parties like the Tunisian Ennahda MovementJamaat-e-Islami of Pakistan is basically a socio-political and democratic Vanguard party but has also gained political influence through military coup d'état in past. The Islamist groups like Hezbollah in Lebanon and Hamas in Palestine participate in democratic and political process as well as armed attacks, seeking to abolish the state of IsraelRadical Islamist organizations like al-Qaeda and the Egyptian Islamic Jihad, and groups such as the Taliban, entirely reject democracy, often declaring as kuffar those Muslims who support it (see takfirism), as well as calling for violent/offensive jihad or urging and conducting attacks on a religious basis. [From Full article: Wiki]


Image result for political islam
 قرآن مجید کے الفاظ میں انسانی شاکلہ کو تبدیل کرنے سے ہوتی ہے۔ یہ کام مصلحین کرتے ہیں۔ مصلحین کی پہچان یہ ہے کہ وہ سیاست کی حریفانہ کشمکش میں فریق نہیں ہوتے۔ 
اس امت کی تاریخ میں یہ مصلحین فقہا ہیں، علماء ہیں، تصوف کے فلسفیانہ پہلو سے صرف نظر کریں تو صوفیا ہیں۔ یہ ابو حنیفہ ہیں۔ یہ غزالی ہیں۔ یہ ابن رشد ہیں۔ یہ سر سید ہیں۔ سعید نورسی ہیں۔ فتح اﷲ گولن ہیں۔ یہ اقتدار کی جنگ میں فریقنہیں  لیکن ان کے متاثرین سیاسی جنگ میں سرخرو ہوئے ہیں۔
[Read: Islamic Scholars in modern age علماء اور دور جدید]

اقبال نے کہا تھا‘ یہ اسلام ہے جس نے ہمیشہ مسلمانوں کی مدد کی، مسلمانوں نے اسلام کی کبھی مدد نہیں کی۔ آخر اہل مذہب کب تک اسلام سے دنیاوی فائدے نچوڑتے رہیں گے؟ کیا وہ وقت بھی کبھی آئے گا جب اسلام کو ان کی ذات سے بھی کوئی فائدہ پہنچے گا؟ اسلام کی اس سے بڑھ کر شاید کوئی خدمت نہ ہو سکے کہ 
اسے مزید جنسِ بازار نہ بنایا جائے -
مذہبی سیاست کا دور ختم ہو چکا۔ سیاسی ادارے ارتقا کے 
مراحل سے گزر کر، اب اس جگہ آ کھڑے ہوئے ہیں جہاں وہ خود کفیل ہیں۔ نظریات ان کی تشکیل میں اب شریک نہیں۔ یہ بیسویں صدی کے گزرے ماہ و سال کا قصہ ہے جب نظریات سیاست کی صورت گری کر رہے تھے۔ قومیت، اشتراکیت، سرمایہ داری، فاشزم، ازموں کا ایک بازار تھا جہاں صبح و شام چہل پہل تھی۔ اہل مذہب نے بھی کوشش کی کہ اس بازار میں ایک دکان کھول لیں۔ حسب توفیق سب کو گاہک مل گئے۔ دنیا نے بہت سے تجربات کیے۔ ایک صدی کے تجربات کا حاصل آج ہمارے سامنے ہے۔ آج وہ سرمایہ داری دم توڑ چکی جو آدم سمتھ کے ٹیکسال میں ڈھلی تھی۔ وہ اشتراکیت قصہ پارینہ ہے جسے مارکس نے ایک رومان بنا دیا تھا۔ وہ قومیت بھی ختم ہو چکی جو جرمن فاشزم میں مجسم ہوئی تھی۔ وہ 
'اسلام ازم‘ بھی باقی نہیں رہا جو اسلامی انقلاب کے نعرے میں متشکل ہوا تھا۔ ایران کے انتخابات نے اس حقیقت کو ایک بار پھر طشت از بام کر دیا ہے۔ آج سیاسی اداروں نے ایک نئی صورت اختیار کر لی۔ بیسویں صدی کی نظریاتی بحث اب غیر 
متعلق ہو چکی۔

ظلم لیکن ختم نہیں ہوا۔ استحصال باقی ہے۔ سامراج صورت بدل
کر موجود ہے۔ غلبے کی انسانی خواہش بروئے کار ہے۔ نتیجتاً رد عمل بھی ہے۔ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ سیاسی غلبے کے وہ تقاضے پورے نہیں کر سکتے جو اس عہد میں لازم ہو چکے، انہوں نے بغاوت کا اسلوب اپنایا ہے۔ 

دور حاضر میں سیاسی غلبہ جس علمی و تہذیبی غلبے کو لازم کرتا ہے، وہ اسے قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ انہوں 
نے بغاوت کو شعار کیا۔ مسلم معاشرے میں مذہب کو سہارا بنایا۔ مذہبی روایت سے جہاد جیسی اصطلاحیں لے کر، انہیں نئے معانی پہنائے۔ یوں سیاسی غلبے کے لیے دور حاضر کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا گیا۔ میرا احساس ہے کہ مذہب کے نام پر غلبے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے اب یہی راستہ باقی ہے، یہ الگ بات ہے کہ اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ آج عسکری تنظیموں کو ان ہی سے دست و بازو مل رہے ہیں، جنہوں نے بیسویں صدی کے ماحول میں مذہب کو ازم بنا کر پیش کیا تھا۔
اس کا یہ مفہوم نہیں کہ مذہب اجتماعی زندگی سے لاتعلق ہو گیا ہے۔ خدا پر ایمان، پیغمبرانہ بصیرت پر اعتماد اور آخرت پر یقین کے بغیر زندگی آسودہ نہیں ہو سکتی۔ انسان کی صدیوں پر محیط تاریخ اس کی گواہ ہے۔ مذہب ہمیشہ کی طرح اپنے فطری دائرے میں موجود رہے گا اور رویّوں پر اثر انداز بھی ہو گا۔ یہ افراد اور رویّوں کی تطہیر اور تزکیہ ہے، جو تہذیب کا اصل وظیفہ ہے۔

 جب مذہب سماج میں ایک موثر قوت بنے گا‘ تو لازم ہے کہ سیاست پہ بھی اثر انداز ہو۔ یوں مذہب سیاست سے فطری طور پر وابستہ ہو گا۔ سیاسی ادارے، انسان اپنی تہذیبی ضروریات کے تحت بناتا ہے۔ یہ مذہب کا کام نہیں۔ اس کا کام ان کی تطہیر ہے۔ 
اس کا یہ کام باقی ہے، جب تک انسان کا اخلاقی وجود باقی ہے۔

مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے، اداروں اور مذہب کی بدلتی صورت اور کردار سے لاعلم ہیں۔ وہ بدستور بیسویں صدی کی نفسیات میں زندہ ہیں۔ جنہوں نے اس تبدیلی کو سمجھا، انہوں نے تجزیے میں غلطی کی۔ وہ یہ جان گئے کہ سیاسی عمل جس ڈگر پر چل نکلا ہے، اس میں مذہب کے نام پر سیاست کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
 انہوں نے ایسے گروہوں کا رخ کیا جنہوں نے نظام سے بغاوت کا راستہ اپنایا۔ جو اس تبدیلی کا ادراک نہیں کر سکے وہ اب بھی یہ خیال کرتے ہیں کہ مذہب کے نام پر سیاست ہو سکتی ہے۔ بارہویں کھلاڑی کی طرح آج وہ کسی حادثے کے انتظار میں تھے، جب وہ میدان میں اتریں اور تالیوں کی گونج کا رخ اس کی طرف ہو۔

آج کے دور میں سیاست کا مسئلہ مذہب نہیں ہے۔ مسئلہ اداروں کی تطہیر ہے۔ اسے گڈ گورننس بھی کہتے ہیں۔

 یہ کام دو طرح سے ہو سکتا ہے۔ ایک قانون کی حکمرانی ہے۔ جہاں سیاسی استحکام ہے اور عوام مطمئن ہیں وہاں کے سیاسی نظام کا امتیاز قانون کی حکمرانی ہے۔

 دوسرا طریقہ سماجی تطہیر ہے۔ معاشرتی رویّوں کی اصلاح۔ احترامِ قانون کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہی۔ اس کا سب سے آسان اور فطری نسخہ مذہب ہے۔ ایک ایسے فرد کی تعمیر جو خدا کے حضور میں جواب دہی کے احساس میں جیتا ہے۔ اس نفسیات کی تعمیر تعلیم سے ہوتی ہے۔ شعور و آگاہی سے ہوتی ہے۔

 قرآن مجید کے الفاظ میں انسانی شاکلہ کو تبدیل کرنے سے ہوتی ہے۔ یہ کام مصلحین کرتے ہیں۔ مصلحین کی پہچان یہ ہے کہ وہ سیاست کی حریفانہ کشمکش میں فریق نہیں ہوتے۔ 
اس امت کی تاریخ میں یہ مصلحین فقہا ہیں، علماء ہیں، تصوف کے فلسفیانہ پہلو سے صرف نظر کریں تو صوفیا ہیں۔ یہ ابو حنیفہ ہیں۔ یہ غزالی ہیں۔ یہ ابن رشد ہیں۔ یہ سر سید ہیں۔ سعید نورسی ہیں۔ فتح اﷲ گولن ہیں۔ یہ اقتدار کی جنگ میں فریقنہیں  لیکن ان کے متاثرین سیاسی جنگ میں سرخرو ہوئے ہیں۔

مذہب کی جگہ سماج میں ہے۔ مذہبی سماجی ادارے ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ معاشرہ جن عوامل سے بنتا ہے، ان میں مذہب بھی شامل ہے۔ مذہب سماج کی فطری ضرورت ہیں۔ سماج چونکہ تہذیبی اور فکری طور پر ایک تغیر پذیر ادارہ ہے، اس لیے مذہب کا فکری اور تہذہبی کردار بھی قائم رہے گا۔ اس وجہ سے ان لوگوں کا کردار بھی باقی ہے جو اسلام کو علمی و فکری اور تہذیبی سطح پر پیش کر رہے ہیں۔ مذہبی سیاست کے لیے شاید 
اب کوئی جگہ نہ ہو۔
 مذہب نے ہمیشہ اہلِ مذہب کو فائدہ پہنچایا ہے۔ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اہل مذہب خود کو اسلام کی خدمت کے لیے پیش کر دیں؟
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits


Islam-Challenges in Modern world



Islamic Scholars & Modern World



Political Islam: