Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Saturday, December 26, 2015

From threatening Pakistan in 2011 to holding hands with Nawaz Sharif, Modi has come a long way

http://www.dawn.com/news/1228759/from-threatening-pakistan-in-2011-to-holding-hands-with-nawaz-sharif-modi-has-come-a-long-way

Friday, December 25, 2015

We are grateful to the great leader Muhammad Ali Jinah, the founder of Pakistan (Urdu)


Image result for jinnah

اے قائد اعظمؒ !ہم شکر گزار ہیں


اے ہمارے قائد اعظم محمد علی جناحؒ ! ہمیں وہ دن اچھی طرح یاد ہیں کہ جیسے ہی ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی اور باوجود اس کے کہ مسلمان حکمرانوں نے اپنی رعایاکے ساتھ ہر معاملے میں حد درجہ رواداری ، اور عدمِ تعصب کا مظاہرہ کیا، ہرمذہب وملت کے لوگوں کو برابر کے سیاسی، سماجی اور مذہبی حقوق دیئے،اور اپنے دین کو زبردستی ٹھونسنا تو کیا سرکاری طور پر اس کی تبلیغ وفروغ کی سِرے سے کوئی کوشش ہی نہ کی،لیکن پھر بھی ہندؤوں نے مسلمان دشمنی کو اپنا نصب العین قرار دے لیا۔انہوں نے عمومی طور پر انگریزوں کو خوش آمدید کہا اور صرف مسلمانوں کو نیچا دکھانے کے لئے اُن کے ہم رکاب ہوگئے۔ انگریز وں کے مشورہ پر ہی انڈین نیشنل کانگریس بنائی اوراس اُمید پر آزادی کی جدوجہد شروع کی کہ انگریز کے جانے کے بعد اکثریتی آبادی ہونے کے ناطے اقتدار اُن کے ہاتھ آئے گا اور پھر وہ مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ محکومی کا بدلہ لیں گے۔ اس دوران وہ مسلمانوں کو تہس نہس کرنے کی دھمکیاں ،ہندوستان کومسلمانوں کے وجود سے پاک کرنے، اورمسلمانوں کو زبردستی ہندوبنانے کے عزائم کا کُھلم کُھلا اظہار کرتے رہے، اور موقع بے موقع ، بات بے با ت، کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر مسلمانوں کا قتلِ عام کرتے رہے۔ اور اسے ہندومسلم فسادات کا نام دیتے، جس میں نقصان صرف مسلمانوں کا ہی ہوتا۔
اے قائد ! ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ آپ بھی شروع دنوں میں کانگریس میں شامل تھے، لیکن پھر آپ پر ہندو کا اصل رُوپ کُھل گیا۔ آپ پر اُن کی عادات واطوار اور مسلمانوں کے بارے میں اُن کابُغض وکینہ اور مکروہ عزائم واضح ہوگئے۔ آپ نے سمجھ لیاکہ ہندونہ صرف ہندوستان پر بلاشرکتِ غیرے حکومت کرنے کا عزم اور ارادہ رکھتے ہیں بلکہ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کے وجود کو برداشت کرنے کویکسرتیارنہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر آپ اس قدر مایوس ہوئے کہ1930ء میں نہ صرف آپ نے کانگریس بلکہ مُلک ہی چھوڑ دیا۔ 1934ء میں جب آپ واپس آئے تو آپ کا ذہن بالکل صاف اورواضح تھا کہ آپ کواب ہندوستان میں کیاکرناہے اور پھرمارچ 1940ء میں منٹوپارک لاہور کے تاریخی میدان میں آپ نے یہ تاریخی اعلان کردیا کہ ’’اسلام اور ہندومت محض دومذہب نہیں بلکہ درحقیقت دومختلف اور جُداگانہ سماجی نظام ہیں ۔ ایک ہزار برس کے قریبی روابط کے باوجود دونوں آج بھی ایک دوسرے سے اتنے ہی دُور ہیں جتنے پہلے ہواکرتے تھے‘‘۔ اورپھر آپ نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر صاف صاف کہہ دیاکہ ’’ہندواور مسلمان دوفرقے نہیں ،دوقومیں ہیں ۔مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ اسی صور ت ہوسکتاہے کہ ہندوستان کو ’ہندوانڈیا ‘ اور ’مسلم انڈیا‘ میں تقسیم کردیاجائے ،کیونکہ قوم کی ہرتعریف کے مطابق مسلمان ایک قو م ہیں، اس لئے اُنہیں ایک الگ وطن ، علاقے اور ریاست کا مالک ہوناچاہئے ۔ ‘‘ اے قائد! آپ کا یہ اعلان اورمطالبہ مسلمانانِ ہند پر آپ کا بہت بڑا احسان تھا، جس کا قرض ہم کبھی ادانہ کرسکیں گے۔ اور پھر آپ نے ہندوستان کے مسلمانوں کو صرف ایک نئی سوچ ، نئی منزل کانشان اور نیا عزم وحوصلہ ہی نہیں دیا بلکہ آگے بڑھ کر آپ نے اس قوم کی منزل کی طرف سفر کی قیادت کی ، اور ایسی قیادت کی کہ دنیادنگ رہ گئی۔ آپ نے جس طرح ہندؤوں اور انگریزوں کی مخالفتوں ،چالبازیوں ، سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو اپنے خُداداد تدبر ، ہمت ،جرأت ،دانش اور حکمت سے ناکام بنایا اور جس طرح اُن کے خونخوار جبڑوں سے پاکستان کو چھین لیا ،وہ صرف اور صرف آپ ہی کرسکتے تھے۔ دنیا آپ کے پائے کا راہنما ، آپ جیسی جدوجہد اور اس کے نتیجے میں ایسی کامیابی کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ اے قائد! مسلمانانِ ہند کو ایک الگ اور اُن کا اپنا وطن لے کر دینے پر ہماری پُشتیں بھی آپ کی شکرگذار رہیں گی۔
اے قائد! پاکستان بننے کے بعد ہندؤوں نے ہندوستان اور کشمیر میں رہ جانے اور پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ جوسلوک کیا اُس نے آپ کے اُس خیال اور نظریہ کی تصدیق کردی کہ ہندو اور مسلمان دوالگ الگ قومیں ہیں اور یہ کہ ہندو، مسلمان کو ہندوستان میں کسی طور برداشت کرنے کوتیار نہیں۔ پاکستان بنانے کے جرم میں ہندؤوں اور سکھوں نے اگست 1947ء کے آس پاس دس لاکھ سے زائد مسلمان عورتوں، مردوں ،بچوں اوربُوڑھوں کوانتہائی بے دردی سے تہہ تیغ کردیا۔ فوج کشی کرکے آزاد مسلمان ریاست حیدرآباد دکن کو زبردستی ہندوستان میں شامل کرلیااور اِس فوج کشی کے دوران مزاحمت اور بغیر مزاحمت کے آٹھ لاکھ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اُتاردیا۔ کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کرناچاہتے تھے ۔اُس پر حملہ کردیا اور صرف دوماہ میں جموں اور اس کے گردونواح میں پانچ لاکھ مردوں، عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کو شہید کردیا ۔ اور یہ سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ۔ 1947-48ء کی خون ریزی کوچھوڑ کر ہندوستانی افواج،بارڈر سیکیورٹی فورس اور پولیس نے کشمیر میں 2000ء تک اسی ہزار سے زائد مسلمان مردوں کو شہید، بیس ہزار سے زائد مسلمان عورتوں کی عصمت دری اور سات ہزار سے زائد مسلمانوں کو نامرد بنایا،اور 30 ہزار سے زائد قرآن اور دیگر اسلامی کتب کو نذرِآتش کیا۔ خود ہندوستان کے اندر ہندوستان کی وزارتِ داخلہ کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق 1947ء سے 1987ء تک پینتیس ہزار ہندومسلم فسادات برپاکئے گئے جن میں دولاکھ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اُتاردیاگیا۔ اِن میں نریندر مودی کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران احمد آباد گجرات کا 2002ء والا فساد شامل نہیں جس میں ہندوستان کی پارلیمنٹ کے لئے تین بار منتخب ہونے والے ڈاکٹر احسان جعفری کے ساتھ ساتھ ہزاروں مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کو انتہائی وحشیانہ طریقہ سے قتل کرکے اُن کی لاشوں کو جلاکر راکھ کر دیاگیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی ۔ آزادی کے بعد ہندوانتہاء پسندوں نے مسلمانوں کی مساجد اور دیگر تاریخی عمارات پر دعوے جمانے شروع کردیئے کہ یہاں پہلے مندرہواکرتے تھے۔ انہوں نے درگاہ حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ ، قطب مینار، تاج محل اور بابری مسجد سمیت تین سو کے لگ بھگ تاریخی عمارات، مزارات اورمساجد کے بارے میں ایسے دعاوی کئے۔ بابری مسجد کو توگراہی چکے ہیں ،اب دیگر کے درپے ہیں۔ اِس کے علاوہ انہوں نے 1991ء تک صرف مشرقی پنجاب میں خود بھارت کے وزیرِ مملکت رام لعل جی کے لوک سبھامیں دیئے گئے بیان کے مطابق 15340عام مساجد اور مدارس پر قبضہ کرکے انہیں سرکاری وغیرسرکاری دفاتر بنا لیا پورے ہندوستان میں یہ تعداد اس سے کئی گنازیادہ ہے۔ 
اے قائد ! ہم یہ بھی خوب سمجھتے ہیں کہ کہ اگر پاکستان نہ بنتا تو متحدہ ہندوستان میں ہماری سیاسی، سماجی،مذہبی اور معاشی حیثیت وہی ہوتی جو مسلمانوں کی آج ہندوستا ن میں ہے ۔ احمد آباد گجرات کے فسادات کی انکوائری کرنے والے کمیشن کے سربراہ جسٹس راجندرسنگھ ساچر کی رپورٹ کے مطابق ہندوستا ن میں مسلمان کُل آبادی کا14 فیصد (آج 15فیصد )ہیں ۔ ان میں سے دیہاتی علاقوں میں رہنے والے 95فیصد مسلمان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔ 62فیصد مسلمانوں کے پاس اپنا مکان یاکوئی ذاتی ٹکڑا زمین نہیں ہے۔ دیہاتی علاقوں کے 55فیصد اور شہری علاقوں کے 60فیصد مسلمان کبھی سکول نہیں گئے ۔ شہری علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں میں سے تین فیصد گریجوایٹ اور ایک فیصد کے قریب پوسٹ گریجوایٹ ہیں ۔ مسلمان ہندوستان کی سنٹرل سروسزمیں صرف دوفیصد جبکہ مسلح افواج اور پولیس میں دوفیصدسے بھی کم ہیں،اور وہ بھی انتہائی نچلے درجے کی ملازمتوں پر۔ 14فیصد آبادی رکھنے والے مسلمانوں کی ہندوستان کی لوک سبھا میں نمائندگی صرف پانچ فیصد ہے۔ 
بھارت میں آج اُسی نریندرمودی کی حکومت ہے جس کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں احمد آباد گجرات کا مندرجہ بالا روح فرسا واقعہ پیش آیاتھا۔ اور آج ایک بار پھر پورے ہندوستان میں مسلمانوں کا ناطقہ بند کیاجارہا ہے ۔گائے کاگوشت کھانے پر مسلمانوں کوہلاک کیاجارہا ہے۔ کوئی اس ظلم پر ذر اسی زبان کھولتا ہے تو ہندوانتہاپسند اُسے ملک دشمن قرار دے کر اس کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں ۔مسلمانوں کے حق میں ذرا سی لب کشائی پر ملک کے چوٹی کے مسلمان فنکاروں عامر خان اور شاہ رخ خان، جن کی اپنی بیویاں ہندو ہیں اور جن کے بچوں کے نام بھی ہندووانہ ہیں، اور دلیپ کمارکے ساتھ ان کا سلوک اِس کی واضح مثالیں ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری اور پاکستانی گلوگار غلام علی کو دعوت دے کر بلایاگیااورپھر اُن کی محفلیں اُلٹا دی گئیں اور ان کے میزبانوں کامنہ کالاکیاگیا۔ پاکستانی کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریارخان کاگھیراؤ کرکے انہیں بھارت کرکٹ کنٹرول بورڈ کے چیرمین سے مذاکرات کے لئے ہوٹل سے نہ نکلنے دیاگیا۔بھارت کی کئی ریاستوں اور صوبوں میں گائے ذبح کرنے پر پابندی لگادی گئی ہے ۔ پچھلے ہفتے بھارتی وزیر تعلیم نے چندی گڑھ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیاکہ مسلمان بچوں کو حصولِ تعلیم کا کوئی حق حاصل نہیں ۔ اُنہوں نے تمام تعلیمی اداروں پر زور دیاکہ وہ مسلمان بچوں کو اپنے سکولوں، کالجوں اور جامعات سے نکال دیں۔ غرض بھارت میں مسلمانوں کیخلاف بغیر کسی وجہ کے ایک طوفانِ بدتمیزی برپاہے۔ اور یہ کوئی پہلی بار نہیں ہورہا ۔ بھارت میں قیامِ پاکستان سے بہت پہلے سے لے کر آج تک کوئی سال ،کوئی ماہ، کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب یہ سب کچھ کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی پیمانے پر نہ ہو رہاہو۔اے ہمارے قائد! یہی سب کچھ دیکھتے اور محسوس کرتے ہوئے پچھلے 68سال سے ہمیں بارباریہ احساس ہوا ہے کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کا بیش بہا عطیہ ہے جو اِس خطہۂ زمین کے مسلمانوں کوآپ کے تدبر،ذہانت اور ُ جہدِ مسلسل کے نتیجے میں عطاہوا۔ ہم اللہ اور آپ کے بے حد شکرگذار ہیں۔
اے قائد!بے شک جب پاکستان بنا تو یہ ایک بے سروسامان اوربے یارومددگارملک تھا ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تک اداکرنے کے لئے فنڈ نہ تھے ۔ کوئی قابلِ ذکر صنعت وکارخانہ تھا اور نہ کوئی ڈیم۔ ضرورت کے مقابلے میں انتہائی کم ذرائع رسل ورسائل ، تعلیمی ادارے، سرکاری ملازمین وسرکاری ادارے اور نہ ہونے کے برابر درآمد وبرآمد۔ لے دے کے صرف ایک زراعت تھی یاپھر جوش وجذبے ،بلنداُمنگوں اور ناممکن کو ممکن بنانے کا عزم لئے ہوئے پاکستانی قوم۔ آج اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان میں سینکڑوں بڑی بڑی صنعتی ، تجارتی ، تعمیراتی اور ترقیاتی ایمپائر کھڑی ہیں۔ ذرائع رسل ورسائل میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے۔ شرح خواندگی میں کئی گنا اضافہ ہوچکاہے۔ تعلیمی ادارے ، صحت کے مراکز اور دوسرے ضروری ادارے گوبہت زیادہ نہ سہی، لیکن قیامِ پاکستان کے وقت ملے ہوئے ورثے کے مقابلے میں کئی گنازیادہ ہیں ۔ آ ج پاکستان میں پاکستانی خود ہی آجر اور خود ہی اجیر ، خود ہی ورکر اور خود ہی مالک ، خود ہی کانسٹیبل اور خود ہی آئی جی، خود ہی سپاہی اور خود ہی جرنیل ، خود ہی نائب قاصد اور خود ہی سیکرٹری ہیں ۔ مسلمان ہندوستان میں نہ پہلے کبھی ایسا تھا اور نہ آج ایساہے۔ آج ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی پاکستان کے برابر ہے ۔ اِن میں سے کتنے مسلمان بڑی صنعتوں ، کارخانوں اور تجارتی وتعمیراتی اداروں کے مالک ہیں؟ ہندوستان میں توآج مسلمان اور دِلت ہندوستان کے شہری ہونے کے باوجود شہروں میں اپنی جائیداد نہیں بنا سکتے۔ نہ کوئی اُنہیں کرایہ پر گھر دیتاہے ۔ آج پاکستان میں36لاکھ کے قریب سرکاری ملاز م ہیں جن میں سے 95فیصد مسلمان ہیں ۔ اگر پاکستان نہ بنتا تو کیا متحدہ ہندوستان میں رہتے ہوئے اِن علاقوں میں جو آج پاکستان میں شامل ہیں کے مسلمانوں کو اتنی بڑی تعداد میں اور اس پائے کی سرکاری ملازمتیں حاصل ہوسکتی تھیں ؟ تو پھر اے قائد ! ہم آپ کے شکرگذار کیوں نہ ہوں!آج پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیاکا چھٹا بڑا ملک ہے۔ اوراگر مشرقی پاکستان الگ نہ ہوتا توآج پاکستان چین اورہندوستان کے بعد دنیا کاتیسرا بڑا ملک ہوتا۔پاکستان کی فوج افرادی قوت کے اعتبار سے دنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے، جبکہ پیشہ وارانہ مہارت اور قابلیت کے اعتبار سے پاک فوج اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسی دنیامیں نمبر ایک شمار کی جاتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان واحد مسلمان ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان عالمِ اسلام کا اہم ترین ملک ہے ۔آج دنیا میں پاکستان کی اہمیت کو دوست اور دشمن سب تسلیم کرتے ہیں ۔ اس کی رضامندی ونا رضامندی کالحاظ کئے بغیر اس خطے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ اپنی جغرافیائی، جنگی اور سٹریٹیجک پوزیشن کے اعتبار سے پاکستان پورے ایشیا کا سب سے اہم ترین ملک ہے، چین اور بھار ت سے بھی کہیں زیادہ۔ چشمِ تصور میں ایک لمحہ کے لئے دنیا کے نقشے سے پاکستان کو محوکرکے دیکھیں ،جیسا کہ یہ 1947ء سے پہلے تھا۔ دنیا، خصوصاً پورے ایشیا ، کی سیاست اور عالمی پالیسیاں ہی بدل جائیں گی ۔ یہ ہے پاکستان کی اہمیت اور اس کی قدروقیمت! اِسی لئے یہ بہتوں، خصوصاً ہندوبھارت ،کی نظرمیں بُری طرح کھٹکتاہے اور کیوں نہ کھٹکے ۔ رمضان المبارک کا مہینہ ، شب قدر کی رات، جمعۃ الوداع کا دن اور پاکستان کا وجود میں آنا ، یہ محض اتفاق نہیں ۔اس میں اللہ تعالیٰ کی ایک خاص حکمت اور مشیت پوشیدہ ہے ۔اہلِ کشف ونظر کے مطابق پاکستان کو اس خطہ میں نہایت اہم ،کلیدی اور قائدانہ کردار اداکرنا ہے۔ 
اے قائد! اس قدر عظیم ، اس قدر اہم ترین اور اس قدرقدرتی وانسانی وسائل سے مالا مال ملک پاکستان لے کر دینے پر ہم اور ہماری اگلی پچھلی نسلیں ہمیشہ آپ کی شکرگذار اور احسان مند رہیں گی۔ ایک ایساپاکستان کہ جہاں چار موسم ، بیک وقت سمندر، صحرا،میدان، سطح مرتفع اور بلندوبالا پہاڑ ،دنیاکی سب سے گہری بندرگاہ، گوادر، دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ، کے ٹو،دنیاکی پانچ بلند ترین چوٹیاں لئے ہوئے شمالی علاقہ جات، گلگت بلتستان، دنیا میں کوئلے کے بڑے بڑے ذخائر میں سے ایک ، تھرکول، لوہے، تانبے، سونے، گیس اور تیل سے بھری کانیں اور کنویں، دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی آب پاشی کا نظام ، دنیا کے بڑے بڑے ڈیموں میں سے ایک ڈیم، تربیلا ڈیم،بڑے بڑے صحراؤں میں سے ایک صحرا،صحرائے تھر اور طویل ترین دریاؤں میں سے ایک دریا،دریائے سندھ، واقع ہیں ۔پاکستان جو دنیاکی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ، وادئ سندھ کی تہذیب ، اور ہڑپہ ،موہنجوداڑو، ٹیکسلا، کوٹ ڈیجی جیسے آثارِقدیمہ اور عالمی ورثہ جات کے ساتھ ساتھ دو نوبل انعام یافتگان ، ڈاکٹر عبدالسلام اورملالہ ،کاگھر ہے۔کیا کسی دوسرے ملک کو بیک وقت اتنے اعزازات اور امتیازات حاصل ہیں؟
اے قائد !ہم آپ کے اس لئے بھی شکر گذار ہیں کہ آپ نے قیامِ پاکستان سے قبل اوربعد ایک سو سے زائد بار بالکل صاف اور واضح انداز میں یہ کہہ کر کہ ’’پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہوگاجس کا نظامِ حکومت قرآن وسنت کے اصولوں کی روشنی میں چلایا جائے گا‘‘، پاکستان کی نظریاتی اساس ، آئین اور طرزِ حکومت کے خدوخال بھی حتمی طور پر متعین کردیئے ۔ آج کس مائی کے لعل میں جرأت ہے کہ آپ کے اعلان کردہ پاکستان کے اس اسلامی تشخص کو متنازع بنائے اور پاکستان کو اس تشخص اور نصب العین کے خلاف چلانے کی کوشش کرے۔ 
اے قائد! آپ ہمارے مسیحا، ہمارے رہنما اورہمارے روحانی باپ ہیں ۔ اللہ آپ کی قبر کو نور سے بھر دے اور آپ کو جنت میں اعلیٰ ترین مقام عطافرمائے۔ اور آپ کا بنایاہوا ملک پاکستان ہمیشہ قائم ودائم رہے
By Altaf Qamar [Retired IG Police]
Source: http://dailypakistan.com.pk/edition1/25-Dec-2015/311754


Jinnah - The Making of Pakistan [HD Version of the English ...

https://www.youtube.com/watch?v=P8LQYvxw59k
This is the HD Version of the documentary, not available on the net. Thanks to Prof. Dr. Akbar S. Ahmad for ...

jinnah pakistani full film (hd).. with prof about qaid-e-azam 

www.filmmania.com.pk/.../jinnah-pakistani-full-film-h...
OR KYA JINNAH PAKISATN KO AK SECULAR REASAT BANANA CHAHTE THY DEKHYE PROF KHUD ...

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits

Tuesday, December 15, 2015

Madressah reforms

IN the National Action Plan (NAP), points 10 and 18 convey the state’s resolve to register and regulate madressahs and eradicate sectarian terrorism. Both actions fall primarily within the preview of the criminal justice system but we are still far from achieving these objectives. We need to undertake a forensic analysis of the madressah landscape in Pakistan before we can move forward.

The commonalities and differences bet­ween formal education and madressahs can be identified through a diagnostic approach whose terms of reference should include the following: what percentage of school dropouts is attracted by madressahs? Is there any established link of madressah curriculums with militancy and terrorism? Are madressahs really spreading sectarianism and extremism? Is integration of madressahs into the formal education system a viable option?

Would it be appropriate to reform madressahs in isolation or should such reforms be part of broader educational reforms? What are the hurdles in communication between government and madressahs? What is the actual number of madressahs and their students?

Where schools are absent, madressahs are an alternate educational facility. Our madressahs have multi-dimensional characteristics, including political, sectarian and foreign leanings. According to the report The Madressah Conundrum, there are approximately 35,000 seminaries in Pakistan. Organised under five boards of different ideologies, most of them are of Deobandi and Barelvi persuasion and, according to media reports, are imparting religious education to approximately 3.5 million students.

There has been a mushroom growth in the number of women’s madressahs, and the reasons for this should be explored. Although a clear breakdown of male and female madressahs is unavailable, it is estimated that girl students constitute 30pc of the total strength.

Foreign students in madressahs are not really an issue. Over the years, strict government regulations as well as the obsolete curriculums taught at madressahs, have led to a 74pc reduction in foreign students’ enrolment. In 2006, there were 10,117 foreign students from 45 countries enrolled in Pakistani madressahs; currently, the figure is down to 2,673 from 37 countries.

Religious leaders too have been the target of militancy.
A total of 182 suspect madressahs have been closed since NAP was announced. Of these, two were in Punjab, 167 in Sindh and 13 in KP. A research-based study can determine how many graduates of madressahs have been involved in militancy or criminal activities. Has anyone devised a programme to integrate madressahs into the formal education system? How about examining the ways in which the clergy can be used to counter extremism?

Section 21 of The Societies Registration Act, 1860, which was inserted in 2006, requires registration of madressahs within one year. Originally the act was meant to cover the registration of literary, scientific and charitable societies in colonial times. As per Section 21, madressahs must submit annual reports of their educational activities and audited accounts to the registrar’s office. Section 21(4) clearly states that such institutions shall neither teach militancy nor spread hatred.

Seminaries are generally regarded as traditional educational facilities not compatible with modern educational values. However, such perceptions need to be objectively evaluated. For their part, madressahs, which tend to believe that curriculum and management are their exclusive jurisdiction — in the process of which they neglect curriculum development and teacher training — must cooperate with the state and prove they are not in conflict with it.

Without a partnership between academic institutions, madressahs, the National Counter Terrorism Authority, investigation and intelligence agencies, it will be difficult to determine the exact linkages between madressahs and militancy.

Reforms cannot be effective until the reasons for mistrust between the clergy and state are understood. For the majority of the clergy, madressah reforms are an initiative driven by an external agenda with foreign funding.

After 9/11, and more recently following the announcement of NAP, madressah reforms once again are in the forefront. However, reforms without the clergy’s participation prove futile. Although registration is a legal requirement, madressahs do not want to surrender their autonomy. To equip the faculty with modern teaching skills, it is imperative to establish teacher training colleges for mohtamims at provincial levels. They should be trained in human rights, religious tolerance, interfaith harmony and computers.

One should not forget that madressahs too have been the target of militancy. Religious leaders like Maulana Hassan Jan and Maulana Sarfaraz Naeemi lost their lives at the hands of extremists against whose tactics they spoke out.

Madressahs should not be seen as an adversarial educational system but rather as an alternative. But it is the state’s responsibility to regulate them.
By MOHAMMAD ALI BABAKHEL
The writer is a police officer.
Source: http://www.dawn.com/news/1225968/madressah-reforms