Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Saturday, July 19, 2014

What should Pakistani do in present situation?

ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟
ایک اہم سوال جو اکثر جگہوں پر پوچھا بھی جاتا ہے اور بے شمار ڈسکشن فورمز میں بھی زیر بحث آ رہا ہے ، یہ ہے کہ اس افراتفری اور مایوسیوں کے دور میں جب ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہیں،کہیں سے مثبت خبریں نہیں مل رہیں، لیڈرشپ کا فقدان ہے، جس پر بھروسہ کرو، وہی مایوس کرتا ہے، جماعتیں یا تنظیمیں بھی جمود کا شکار ہیں ... ایسی حالت میں ایک فرد کیا کردار ادا کر سکتا ہے ؟ اس سوال کا جواب کھوجنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ ایک خاصا بڑا حلقہ اس تمام صورتحال سے مایوس ہو کر لاتعلق ہوچکا ہے، وہ صرف اپنے ذاتی معاملات پر فوکس کرتے اور اجتماعی منظرنامے سے کٹ چکے ہیں۔ ان سے بات کی جائے تو نہایت مایوسی اور لاتعلقی سے جواب دیتے ہیں،'' یہ سب چور ہیں، کسی کا ساتھ دینے کا فائدہ نہیں‘‘۔ جب استفسار کیا جائے کہ آپ اپنے طور پر کچھ کریں تو لہجے میں کڑواہٹ بھر کر بولیں گے،'' ہمارے پاس اتنا وقت نہیں، ویسے بھی یہاں کچھ نہیں ہونے والا‘‘۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس منفی اور قنوطیت زدہ صورتحال کو دیکھ کر شدت پسندی پر مائل ہوجاتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس بگاڑ کو سنوارنے کا واحد طریقہ کسی ایسے گروہ کو برسراقتدار لے آنا ہے ،جو ڈنڈے کے زور پر سب ٹھیک کر دے۔ مجرموں کو سرعام پھانسی پر لٹادیا جائے، تب جرائم ختم ہوجائیں گے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ اہل مغرب یہ تجربہ ایک دو صدی پہلے کر چکے ہیں، جب لندن میں ڈبل روٹی چرانے جیسے جرائم کی سزا بھی موت رکھی جاتی تھی، مگر اس سب کے باوجود جرائم کم نہیں ہوئے۔ پھر انہوںنے تعلیم و تربیت پر توجہ دی، سکول کی سطح پر بچوں کی اخلاقی تربیت کا نصاب بنایا، ان میں چند اہم اخلاقی سچائیاں ڈالیں پھر محروم طبقات کے لئے ریلیف کا انتظام کیا، نظم ونسق بہتر بنانے کے لئے ادارے بنائے، انہیں اس قدر مضبوط اور مستحکم کیا کہ بدعنوان عناصر سرائیت نہ کر سکیں، عدلیہ کی آزادی یقینی بنائی، پولیس کے نظام کو اس قدر طاقتور، آزاد اور خود مختار بنایا کہ آج برطانوی وزیراعظم برملا یہ کہہ سکتا ہے کہ برطانوی حکومت بھی پولیس کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ یہ وہ ماڈرن سٹیٹ ہے، جسے تشکیل دئیے بغیر، ڈنڈے کے زور پر معاملات بہتر نہیں بنائے جا سکتے۔
ایک حلقہ اس پیچیدہ اور گنجلک صورتحال سے نکلنے کا واحد حل ڈی کنسٹرکشن یعنی سب کچھ تلپٹ کر دینے میں دیکھتا ہے۔ مثلاً ہمارے لبرل ، سیکولر دانشور اور لکھنے والوں کے خیال میں یہ منتشر سماجی صورتحال مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے ہے۔ ان کے خیال میں واحد حل سیکولر ازم ہے، تمام شدت پسندوں کا صفایا کر دیا جائے، مذہبی قوتوں کی ایسی سرکوبی کہ وہ گردن نہ اٹھا سکیں... اور پھر'' گلیاں ہوون سنجیاں ، وچ مرزا یار پھرے‘‘ کے مصداق سیکولر ہی ہر طرف چھائے نظر آئیں۔ مذہبی بیزاری میں یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اسلام پاکستانی سماج کے فیبرک کا بنیادی جز ہے۔ مذہبی شدت پسندی کم کرنے کے لئے سیکولر ازم کی نہیں بلکہ مذہب کی اصل تعلیمات پھیلانے اور دینی فکر کی درست تعبیر وتشریح کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں ایک شدت کا علاج دوسری طرز کی شدت سے کیا جاتا ہے۔ حل سادہ ہی ہے، درمیان کی جگہ کو مزید کشادہ کیا جائے، اعتدال اور
توازن کی راہ اپنائی جائے، رویوں اور سوچ کی تربیت اور تہذیب کی جائے۔ ماضی میں یہ کام بڑے بھونڈے طریقے سے کیا گیا۔ سوات میں آپریشن کے بعد وہاں فیشن شو کرا کر سمجھا گیاکہ سوات کا معاشرہ تبدیل ہوگیا ہے۔ یہ سراسر غلط ہے۔ ہر علاقے کی اپنی روایات ہیں، ان کا احترام روا رکھنا ہوگا۔ سماج میں شدت کم کرنی ہے تو پھر اس میں علم وادب کی روشنی بھرنی ہوگی۔ پچھلے تین چار عشروں کے دوران ہمارے آس پاس اور ہمارے درمیان بہت خون بہا، بڑی تلخیاں اور کڑواہٹیں مزاجوں میں در آئیں۔ انہیں آہستہ آہستہ نکالنا ہوگا، نرمی لانی ہوگی، علمی ، ادبی، ثقافتی ڈیرے پھر سے آباد کرنے، محفلیں پھر سے سجانی ہوں گی۔ یہ کام بڑی حکمت اور دانش سے کرنا ہوگا۔
یہ کام حکومت اور مختلف سماجی شعبوں کے کرنے کے ہیں، مگر کچھ کام انفرادی طور پر بھی کئے جا سکتے ہیں۔ایک عام آدمی پریشان ہو کر سوچتا ہے کہ اس قدر بگڑی صورتحال میں وہ کیا کرے؟ اس کے ذمے دو تین کام ہیں۔ سب سے پہلے تو اسے خود خیر کا پیام بر بننا ہو گا۔ اپنے اندر نرمی، شائستگی ، حلم اور برداشت لانی ہوگی۔دنیا کے کامل ترین انسان حضورﷺ کی پیروی میں اپنے اخلاق، معاملات کو بہتر بنانا ہو گا۔ یہ کام انقلاب لانے کی جدوجہد سے زیادہ اہم ہے۔ قدرت جب محاسبہ کرے گی تو سب سے پہلے بطور فرد ہی جواب دینا ہوگا۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا کس قدر خیال رکھا گیا؟ اپنی ذات سے خیر کے کتنے کام ہوئے؟ روزانہ کی بنیاد پر بیلنس شیٹ بنائی جائے، رات کو دیکھا جائے کہ آج پورے دن میں کتنی نیکی کمائی؟ اپنے اندر بہتری لانے ، خود کو صادق اور امین بنانے کے بعد ہی دعوت کا کام شروع ہوتا ہے ۔سب سے اہم ذمہ داری ان لوگوں تک دعوت بلکہ مسلسل دعوت کا پیغام پہنچانا ہے، جو رعیت ہیں۔ اہل خانہ، شاگرد، زیر اثر لوگ وغیرہ۔ اگلے مرحلے میں اپنے محلے اور آس پاس کے لوگوں تک خیر کے اثرات پہنچنے چاہییں۔ یہ دعوت وتربیت کا کام نہایت تحمل، سمجھداری اور حکمت سے کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے اچھا طریقہ صوفیا کرام کا ہے، وہ کبھی وعظ نہیں کرتے تھے، اپنی ذات کو رول ماڈل بنا دیتے تھے۔ لوگ ان کو دیکھ کر خود ہی سیکھ اور سمجھ لیتے تھے۔ جب صوفی اپنی محفلوں میں کسی کی غیبت نہیں کرتا، کسی پر تبصرہ نہیں کرتا، کسی مشکل، کٹھنائی، حتیٰ کہ سخت موسم تک کا شکوہ نہیں کرتا... تو وہاں جانے والے لوگوں کی ازخود تربیت ہو جاتی ہے۔ ہم نے لاہور کے صوفی سکالر سرفراز شاہ صاحب کی محفلوں سے یہی سیکھا۔ اٹھارہ برسوں کے دوران ایک بار بھی شاہ صاحب کی زبان سے کسی کے خلاف کوئی جملہ یا تبصرہ یا طنزیہ مسکراہٹ تک نہیں دیکھی۔
تیسرے مرحلے میں فرد کو اہل خیر یا خیر کی قوتوں کا سپورٹر ہونا چاہیے۔ جہاں اچھا کام ہوتا دکھائی دے، اس کا ساتھ دے، عملی طور پر ممکن نہ ہو تو اخلاقی سپورٹ ہی کر دی جائے۔ اچھا کام کرنے والے خیراتی اداروں، دعوتی تنظیموں، علمی کام کرنے والے اداروں، لائبریریاں قائم کرنے والوں، کتابیں پھیلانے، انہیں ڈسکس کرنے والوں ، سماج میں علمی ذوق پیدا کرنے کی کوششیں کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ۔ کم سے کم درجہ یہ ہونا چاہیے کہ اگر اچھے کام کا حصہ نہیں بن سکتے تو تنقید سے باز رہا جائے۔ جو لوگ عملی کام کر رہے ہیں، وہ زبانی باتیں کرنے والے سے ہر حال میں بہتر ہیں۔ چوتھا مرحلہ جو بہت اہم ہے کہ چھوٹے چھوٹے نیکی کے سیل یا مرکز بنائے جائیں۔ ایسے حلقے جو خیر کی کاشت کریں، خیر پھیلائیں اور ایک دوسرے کی اچھے کاموں میں حوصلہ افزائی کریں۔ ایک وقت آئے گا جب یہ تمام سیل اکٹھے ہو کر بڑے نیٹ ورک میں تبدیل ہوجائیں گے اور پھر معاشرے میں بامقصد ٹھوس تبدیلی کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ چھوٹے شہروں اور اہم مراکز سے دور رہنے والے بھی اپنی اپنی جگہ پر یہ سب کر سکتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ رب تعالیٰ کو جدوجہد اور کوشش پسند ہے، نتائج قدرت نے دینے ہیں، انسان کا کام صرف اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔
Aamir Hashim Khakwani dunya.com.pk

Palestine issue.. Need to change strategy?

مسئلہ فلسطین
میرا مخاطب اسرائیل یا امریکہ نہیں،اردو پڑھنے والے وہ لوگ ہیں جو فلسطینیوں پر روارکھے گئے ظلم پر اداس ہیں۔
آج اہلِ فلسطین کے ساتھ ہمدردی کا تقاضا ہے کہ ان کے قتل ِ عام کو رکوایا جائے۔یہی نہیں، اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے کہ آئندہ ایسے واقعات کم سے کم ہوں۔میرے نزدیک تشدد کی مکمل نفی کے سوا اس کی کوئی صورت نہیں۔بد قسمتی سے پہلے الفتح اور اب حماس جیسی تنظیموں نے تشدد کو بطورحکمتِ عملی اختیار کرکے فلسطینیوں کو زخموں کے سوا کچھ نہیں دیا۔اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں مکمل آزادی تو دور کی بات، اب ادھوری آزادی کا تصور بھی خواب وخیال ہو تا جا رہا ہے۔یاسر عرفات نے بعد از خرابیٔ بسیارتشددکو الوداع کہا۔حماس کوابھی تک تشدد پہ اصرار ہے۔اس لائحہ عمل کی ناکامی نوشتۂ دیوار ہے۔فلسطینیوں کا بہتا لہو،تنہا ایسی دلیل ہے جو اس اندازِ فکر کی غلطی پر شاہد ہے۔آج اہلِ فلسطین کو ایک نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ایسی حکمتِ عملی جو اُن کے جانی و مالی نقصان کو کم کر سکے اور مسئلے کے ایک منصفانہ حل کے لیے ان کی جد وجہد کو زندہ رکھ سکے۔میری اس رائے کی بنیاد چند دلائل پر ہے۔
1۔چند دنوں کے تصادم میں264فلسطینی مارے جا چکے اور اس کے مقابلے میں صرف ایک اسرائیلی کی جان گئی ہے۔اگر ہم ان واقعات کی ابتدا کو سامنے رکھیں تو تین اسرائیلی نوجوان اغوا کے بعد قتل ہوئے۔یوں یہ دو سو چونتیس اور چار کی نسبت ہے۔گویا ایک اسرائیلی کے بدلے میں اٹھاون فلسطینیوں کی جان گئی۔ابھی جنگ جاری ہے اور نہیں معلوم کہ یہ نسبت کہاں تک جاتی ہے۔اس سے پہلے،جب بھی تصادم ہوا، نسبت کم و بیش یہی رہی۔ 2008-09ء میںبھی یہی ہوا تھا۔اس وقت 1166 فلسطینیوںکے مقابلے میں تیرہ اسرائیلیوں کی جان گئی تھی۔ تب یہ نسبت ایک اور نوے(90)کی تھی۔مجھے اس قیادت پر حیرت ہے جو اس حکمتِ عملی پر اصرار کرتی ہے جس میں انسانی جان کے ضیاع کا تناسب یہ ہے۔اس قربانی کو بھی گوارا کیا جا سکتا ہے اگر یہ معلوم ہو کہ وہ مقصد پورا ہو رہا ہے جس کے لیے جانیں دی جارہی ہیں۔اس کابھی دور دور تک کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔
2۔ فلسطینی اس وقت کئی سیاسی وعسکری گروہوں میں منقسم ہیں۔ محمود عباس کی جماعت اور حماس کا اختلاف ظاہرو باہر ہے۔یہ اختلاف نظری ہے اور مفاداتی بھی۔برسرِ پیکار گروہ باہم قتل و غارت گری میں بہت سے لوگوں کی جان لے چکے۔اس طرح منقسم قوم کسی منظم ریاست کے خلاف کیسے لڑ سکتی ہے؟
3۔ امتِ مسلمہ‘ جس کو دن میں کئی بار پکارا جاتا ہے، کہیں مو جود نہیں۔ اسی لیے اس پکار کا کوئی جواب نہیں آتا۔مجھے حیرت ہے کہ لوگ اس کے باوجودخلا میں صدا لگاتے اور یہ امید کرتے ہیں کہ جواب آئے گا۔میں بارہا عرض کر چکا کہ امت ایک روحانی وجود تو ہے کوئی سیاسی یا سماجی اکائی نہیں۔ آج مسلمانوں کی قومی ریاستیں ہیں یا مسلکی گروہ‘ سب اپنے اپنے مفادات کی آبیاری کر رہے ہیں۔ 'داعش‘ نے اپنے تئیں خلافت کا اعلان کیا اور القاعدہ نے اسے مسترد کر دیا۔داعش کا اپنا خلیفہ ہے اور القاعدہ کا اپنا۔امت ِ مسلمہ پاکستان جیسے ملکوں میں بعض گروہوں کا رومان ہے۔وہ فلسطینیوں کے لیے صرف احتجاج کر سکتے ہیں اور بس۔کیا اس سے ان کے دکھوں میں کوئی کمی آ سکتی ہے؟
4۔ اسرائیل ایک منظم ریاست ہے اور اس کی پشت پر امریکہ، برطانیہ اور روس جیسی کئی طاقت ور ریاستیں ہیں۔یہ طاقتیں ہر اخلاقی اور بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیل کی حمایت کرتی ہیں۔دنیا کا اس وقت اجماع ہے کہ اسرائیل کو بطور ریاست قائم رہناہے۔فلسطینی ریاست کے بارے میں ابھی تک ابہام ہے۔ فلسطینیوں کی حمایت ایران کی ریاست کرتی ہے یا شام کی۔اس حمایت کی اساس بھی نظریہ یا امت نہیں، ان ریاستوں کے علاقائی مفادات ہیں۔اس وقت حماس کے ساتھ اسلامی جہاد کی تنظیم بھی موجود ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔کہا جاتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کو ایک تشویش یہ بھی ہے کہ حماس کی نسبت اسلامی جہاد سے معاملات کرنا مشکل تر ہو گا، اس لیے حماس سے معاملہ کرنے کی کوشش کی جائے۔شام کی حکومت اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے،اس لیے فلسطینیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔یوں بھی،بشار الاسد کے خانوادے کو امتِ مسلمہ سے جو نسبت ہے، اس کا حال کوئی اخوان سے پوچھے جن کی پیٹھ پر اس خاندان کا تازیانہ مسلسل برستا رہا۔پھر یہ کہ ماضی میں بھی ان ریاستوں کی کوئی مدد فلسطینیوں کے کام نہ آ سکی۔مصر میں اخوان ان کا اخلاقی اور کسی حد تک مادی سہارا تھے۔ان کی بے چارگی ہمارے سامنے ہے۔
سادہ سا سوال ہے کہ ان اسباب کی روشنی میں اہلِ فلسطین کو کیا کر نا چاہیے؟میرا خیال ہے کہ قابلِ عمل حل صرف ایک ہے۔فلسطینی خود کوایک سیاسی قیادت کے تحت منظم کریں اور دوریاستی حل کو قبول کرلیں۔وہ اس بات کی پوری کوشش کریں کہ ان کی ریاست ہر طرح سے خود مختار اور آز اد ہو۔اس کے ساتھ یروشلم کو ایک آزاد شہر قرار دینے کا مطالبہ کیا جائے کیونکہ یہ تینوں ابراہیمی مذاہب کے لیے تقدس رکھتا ہے۔دو ریاستی حل پر اس وقت کم و بیش ساری دنیا متفق ہے۔جب یہ فارمولہ پہلی بار سامنے آیا تو اس میں فلسطینیوں کے لیے بہت کچھ تھا۔جب انہوں نے اسے تسلیم نہیں کیا اور یہ خیال کیا کہ وہ عسکری جدو جہد سے اسرائیل کاخاتمہ کردیں گے توان اسباب کی بنا پر ،جن کا میں نے ذکر کیا، ان کا وجود سمٹتا چلا گیا۔آج اگر اسرائیل 1967ء سے پہلے کی سرحد کو تسلیم کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے خالی کرتا اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کو عملاً تسلیم کرتا ہے تو یہ فلسطینیوں کی بڑی فتح ہو گی۔
اگر تشدد کو خیر باد کہتے ہوئے، فسلطینی اس کے لیے سیاسی جدو جہد کرتے ہیں تو اس کے دو فوائد ان کو فوری طور پر مل سکتے ہیں۔ایک یہ کہ اسرائیلی تشدد میں کمی آ جائے گی۔دوسرا یہ کہ انہیں دنیا کے ایک بڑے حصے کی اخلاقی و سیاسی تائید میسرآ جائے گی۔اس وقت امریکہ میں یہودیوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو اسرائیل کے خلاف ہے۔وہ اس ظلم کی تائید پر آ مادہ نہیں۔خود اسرائیل میں بھی بہت سے یہودی ہیں جو اسرائیل کو خوف کی اس فضا سے نکالنا چاہتے ہیں۔اس کے ساتھ مسلمان قومی ریاستیں بھی اپنے قومی مفادات کو قربان کیے بغیر، فلسطینیوں کی حمایت کر سکیں گی۔اسرائیل آسانی کے ساتھ مقبوضہ علاقوں کو خالی نہیں کرے گا۔اس کے لیے بھی طویل جدو جہد کی ضرورت ہو گی؛ تاہم اس وقت ساری توجہ فلسطینیوں کے قتل عام کو روکنے پر مبذول کی جانی چاہیے۔کاش انہیں ایسی قیادت میسر آئے جوان کی بچوں کو زندگی کا پیغام دے سکے۔پاکستان کی اسلامی تحریک اگر اہلِ فلسطین کو یہ مشورہ دے سکے تو ان کے ساتھ یہی حقیقی ہمدردی ہو گی۔اب اس کے سوا کچھ نہیں ہو گا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہو جائے۔کیا 264 افراد کی جان اس لیے دی گئی؟یہ سچ ہے کہ اسرائیل نے ظلم کیا لیکن سوال یہ ہے کہ فلسطینی قیادت نے اس ظلم کو روکنے کے لیے کیا کیا؟ اس وقت اہلِ فلسطین کو ایک نئی قیادت اور ایک نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔یہ طے ہے کہ موت کو گلیمرائز کرنے والے زندگی کی امید نہیں دے سکتے۔ جو عمومی زندگی میں بھی جنگ کے اصول اپنا تی ہو،قومیں ایسی قیادت کے ہاتھوں برباد ہو جاتی ہیں۔
Khursheed Nadeem dunya.com.pk

Wednesday, July 16, 2014

35 Punctures.. in Election 2013



انتخابی عمل میں خفیہ سکینڈل کا انکشاف
Photo
More details <<Click here>>
سوال یہ ہے کہ 11مئی 2013ء کے انتخابات سے پہلے 28اپریل 2013ء کو گزٹ نوٹی فیکیشن کا اجراء ہونے کے بعد ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسران نے 93حلقوں کی پولنگ سکیم 9یا 10مئی 2013ء کو کیسے تبدیل کر دی‘ جب کہ گزٹ نوٹی فکیشن کے اجراء کے بعد صرف الیکشن کمیشن آف پاکستان ہی تبدیلی کرنے کا مجاز ہے اوروہ سول سوسائٹیاں جو انتخابی عمل کا بغور جائزہ لیتی ہیں ان کی رپورٹ کے مطابق تبدیل شدہ پولنگ سکیم میں ہر حلقے میں 15سے 20ہزار ووٹوں کا فرق واضح نظر آتا ہے۔
24اکتوبر1990ء کے انتخابات کے انعقاد کے دوران سکھر کے حلقے سے انتخابات میں ناکام امیدواروں نے اس وقت کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین جسٹس نعیم احمد اور ارکان کمیشن جسٹس خلیل الرحمن اور جسٹس امیر الملک مینگل کے پاس عذرداری داخل کی کہ سکھر کے ڈسٹرکٹ سیشن جج رانا بھگوان داس نے پولنگ سٹیشن کی فہرست اور گزٹ نوٹی فیکیشن میں تبدیلی کی تھی۔ اس پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رانا بھگوان داس کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے طلب کر کے وضاحت مانگی۔ اتفاق سے رانا بھگوان داس کی طلبی کا نوٹس میری ہی وساطت سے جاری کیا گیا تھا۔ میں ان دنوں ایڈیشنل الیکشن کمشنر سندھ تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پورے ریکارڈ کی چھان بین کی۔ درخواست گزار کا موقف محض الزام تراشی پر مبنی پایا گیا۔ رانا
بھگوان داس نے پورا ریکارڈ کمیشن کے سامنے پیش کر دیا اور سکھر کے حلقے کے انتخابات گزٹ نوٹی فیکیشن کے عین مطابق پائے گئے۔ سماعت کے دوران عبدالحفیظ پیرزادہ، مرحوم سید اقبال حیدر، سید خورشید احمد شاہ اور رضا ربانی اور ان کے اس وقت کے مخالف امیدوار اسلام الدین شیخ اور دیگر سب موجود رہے‘ جب رانا بھگوان داس اپنی صفائی پیش کر رہے تھے۔ 
http://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2014-07-17/7813/20074150#tab2
````````````````````````````````````````````````````````

تحریکِ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس 11مئی 2013ء کے انتخابات میں پنجاب کے 35 حلقوں میں دھاندلی کے حوالے سے خفیہ ریکارڈنگ موجود ہے۔ اس مبینہ ٹیپ میں ایک بڑی سیاسی جماعت کے رہنما اور ایک بڑے مغربی ملک کے سفارت کار کی خفیہ گفتگو شامل ہے جو کہ 11مئی کے انتخابات میں 35حلقوں میں دھاندلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک بڑے مغربی ملک کے سفارت کار نے‘ جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا‘ تصدیق کی ہے کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے رہنما کو 11مئی کے انتخابات کے نتائج آنے سے چند گھنٹے قبل خفیہ کوڈ کے ذریعے بتایا گیا تھا کہ پنجاب کے کم از کم 35حلقوں میں پولنگ اور ووٹوں کی گنتی کے عمل کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلی کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ سیاسی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں انتخابی نتائج کے حوالے سے بحث چل رہی ہے کہ 11مئی کے انتخابات کے نتائج میں شفافیت اور غیر جانبداری کا عمل متنازع تھا۔ عمران خان اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے برملا کہہ رہے ہیں کہ ایک سیاسی جماعت کے قائد نے یقینا دھاندلی کرائی تھی ۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ 35پنکچرز سے یہ بات سمجھنے میں بھی مدد ملے گی کہ عمران خان 11مئی کے انتخابات کے فوراً بعد پنجاب کے چار حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کرتے رہے اور انہوں نے سپریم کورٹ سے بھی از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن ان کی خواہش کو مسترد کر دیا گیا۔ تحریکِ انصاف کی ترجمان اور رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ایک مغربی ملک کے سفیر نے پنکچر کامطلب پوچھا تھا۔ سفارتی، میڈیا اور سیاسی حلقوں کے مطابق نگران حکومت کی اہم شخصیت نے الیکشن کی رات کو ایک سیاسی جماعت کے قائد کو فون کیا اور لاہوری زبان میں بتایا کہ 35پنکچر لگا دئیے گئے۔ یہ اہم شخصیت آل رائونڈر کے طور پر معروف ہے اور نواز شریف حکومت اب بھی اس اہم شخصیت کے سحر میںمبتلا ہے۔ ایک مبینہ آڈیو ٹیپ میں اس حوالے سے کچھ بات چیت موجود ہے جس کی بنیاد پر تحریکِ انصاف‘ پنجاب کے 35حلقوں میں دھاندلی کے الزامات عائد کر رہی ہے۔ دراصل تحریکِ انصاف اور پیپلز پارٹی نے 11مئی 2013ء کے انتخابات کو مانیٹرنگ کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ یہ دونوں پارٹیاں اندرونی طور پر خلفشار اور بدنظمی میں مبتلا رہیں۔ بہرحال اگر عمران خان کے ''35پنکچرز‘‘ کے الزامات درست ہیں تو انتخابات کرانے والی پنجاب کی نگران حکومت اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کو تحقیقات میں شامل کیا جائے جس میں سابق چیف الیکشن کمشنر، ماتحت عدلیہ کے ریٹرننگ آفیسران ، وفاقی عبوری حکومتی سیٹ اَپ‘ ملکی اور غیر ملکی مبصرین شامل ہیں۔

تحریکِ انصاف نے انتخابی دھاندلیوں کے حوالہ سے الیکشن ٹربیونلز میں اپیلیں دائر کر رکھی ہیں جس میں ووٹرز کی تصدیق کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ 

اِسی تناظر میں عمران خان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانے کیلئے 11رکنی کمیٹی کی سربراہی کے لئے نجم سیٹھی کے تقرر کو عام انتخابات میں 35پنکچر یعنی 35حلقوں میں دھاندلی اورنتائج کی تبدیلی کا صلہ قرار دیا ہے۔ اگر عمران خان اپنے الزامات کو سپریم کورٹ میں ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر پنجاب کے سابق نگران وزیراعلیٰ‘ حلف کی خلاف ورزی کی زد میں آجائیں گے اور ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت کارروائی خارج امکان نہیں رہے گی۔ 

By Kunwsr Dilshad . Dunya.com.pk
Edited version
More: 
https://www.facebook.com/Rigging2013




  • 8PM with Fareeha idress, 10th December 2013 , Rigging in ...




    1. tune.pk/.../8pm-with-fareeha-idress-10th-december-20...
      Dec 10, 2013
      8PM with Fareeha idress, 10th December 2013 , Rigging inElection 2013 , Waqt News. Repeat. Jason Lee ...

  • Pakistan Elections 2013 Rigging Exposed | Tune.pk

    tune.pk/.../pakistan-elections-2013-rigging-exposed-

    Pakistan Elections 2013 Rigging Exposed. Repeat. myname. Subscribe 28. 304. Like this video. 0 0. About ...
  • Election 2013 Rigging | Tune.pk

    tune.pk/video/81222/election-2013-rigging

    http://www.yemtv.com - live news, recorded programs, breaking news, business news, politics news, sports ...



    1. Aitzaz Ahsan on Election Rigging | Tune.pk

      tune.pk/video/.../aitzaz-ahsan-on-election-rigging
      Rigging in General Election 2013 Pakistan - Proof of Election Rigging in NA-09 Mardan ... Rigging Pakistan ...