Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Wednesday, September 24, 2014

Bad governance Shahbaz Sharif Model


شہباز شریف ماڈل
شہباز شریف ماڈل اور اس کے مثبت و منفی نکات پر کھل کربات کرتے ہیں، مگر پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ اس ماڈل سے کیا مراد ہے۔
میاں شہباز شریف ہماری پچھلی پندرہ بیس سالہ سیاسی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔پچھلے سات برسوں سے وہ مسلسل وزیراعلیٰ چلے آ رہے ہیں، پہلی بار وہ 97ء کے عام انتخابات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب بنے۔ان دو ڈھائی برسوں کا عرصہ شامل کر لیا جائے تو دس سال بن جاتے ہیں۔ شہباز شریف صاحب نے اس دوران اپنا ایک خاص گورننس ماڈل متعارف کرایا۔ان کے طرز حکومت کے دو تین بنیادی اجزا ہیں۔ وہ نہایت متحرک اور فعال شخص ہیں۔ صوبے میں جہاں کہیں کوئی واقعہ ہو، وہ برق رفتاری سے وہاں پہنچتے ، مقامی انتظامیہ کو معطل کرتے، اعلیٰ انتظامیہ کو لوگوں کے سامنے ڈانٹ پلاتے ہیں اور متاثرین کو ریلیف پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔اخبارات میں ان کی ایسی تصاویر شائع ہوتی رہتی ہیں، جس میں وہ گھٹنوں گھٹنوں گندے یا سیلابی پانی میں چلتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وہ ایک سخت گیر منتظم کے طور پر بھی مشہور ہیں، جو بیوروکریسی سے رعایت نہیں کرتا، بڑے سے بڑے افسر کو کوتاہی پر معطل کرنے سے گریز نہیں کرتا۔
شہباز شریف صاحب کے بار ے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سولہ سے بیس گھنٹے روزانہ کام کرتے ہیں اور اپنی ٹیم میں بھی ایسے لوگ چاہتے ہیں جو سولہ سولہ گھنٹے کام کریں۔ ان کے حامی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اپنی انتظامیہ میں کسی کرپٹ افسر کو برداشت نہیں کرتے، ہمیشہ اچھے اور دیانت دار افسروں کا انتخاب کرتے ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ہر معاملے کا خود جائزہ لینا اور براہ راست مشاہدہ کر کے فوری فیصلہ کرنے کے شائق ہیں۔ جو پراجیکٹ ایک سال میں مکمل ہونا ہو، اسے نو دس ماہ میں مکمل کرا لیتے ہیں۔ رات کو دو بجے وہ سڑکوں کا مشاہدہ کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے گورننس ماڈل میں میگا پراجیکٹس بہت اہمیت رکھتے ہیں۔اپنے پہلے دور حکومت میں انہوں نے لاہور میں انڈر پاسز بنانے کا سلسلہ شروع کیا، دوبارہ وزیراعلیٰ بنے تو اسے نکتہ عروج پر بنا دیا۔ ایسے ایسے فلائی اوور بنا دئیے کہ چند ماہ بعد اسی جگہ ایک انڈر پاس بھی بنانا پڑا۔مسلم لیگ ن کا میڈیا سیل میٹرو بس پراجیکٹ کو ان کی بڑی کامیابی قرار دیتا ہے۔ان کے ناقدین نے اگرچہ اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ،مگر شہباز شریف اپنے اس ماڈل کو اب پنڈی ، اسلام آباد تک توسیع دے رہے ہیں، اگلے مرحلے پر وہ ملتان میں بھی ایسی میٹرو بس چلانا چاہتے ہیں۔ میڈیا کے حوالے سے بھی وہ خاصے کانشیئس رہے ہیں۔ اپنے امیج کا خاص خیال رکھتے اورمخصوص سٹائل کی تصاویر کی اشاعت پسند کرتے بلکہ اسے یقینی بناتے ہیں۔مختلف اخباری خبروں اور کالموں کا وہ سرعت سے نوٹس لیتے اور ان پر فوری کارروائی کرتے ہیں، نتیجہ مزیددل خوش کن خبروں اور کالموں کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ میاں شہباز شریف کے اسی گورننس ماڈل نے ہمارے کئی تجزیہ کاروں کو بھی مسحور کر رکھا ہے۔ اگلے روز ایک معروف کالم نگار نے میاں نواز شریف کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنی حکومت بنانا اور تاریخ میں (اچھے لفظوں سے)نام لکھوانا چاہتے ہیں تو شہباز شریف ماڈل کو اپنا لیں۔ اس سے پہلے کہ یہ ماڈل وفاقی حکومت تک سرائیت کرے اور پھر ملکی سرحدیں عبور کر بین الاقوامی سطح پر اہمیت اختیار کرے، ضروری ہے کہ اس کا تنقید ی جائزہ لیا جائے۔
دنیا بھر میں گورننس اور ٹاپ لیول مینجمنٹ کے چند اصول برتے جاتے ہیں، انہی کی روشنی میں کسی بھی ماڈل کو جانچا اور پرکھا جا تا ہے۔ ان کی تکنیکی تفصیل اور دقیق اصطلاحات میں جانے سے گریز کرتے ہوئے میں ان کا نچوڑ پیش کرتا ہوں۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھا جاتا کہ جو بھی گورننس ماڈل ہے، اس نے کیا اثرات مرتب کئے، کس حد تک وہ کامیاب ہوااور کیا اسے آنے والوں کے لئے کسی فریم ورک کی صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ کسی لیڈرکی کارکردگی کے حوالے سے یہ لازمی دیکھا جاتا ہے کہ اس نے کیسی ٹیم بنائی،کیا اپنا متبادل تیار کیا اور مستقل بنیادوں پر ایسا سسٹم بنایاجو اس کے بعد بھی کام کرتا رہے۔کوئی بڑی کمپنی ہو، محکمہ ہو ، صوبہ یا ملک... اس کی ٹاپ پوزیشن میں کام کرنے والی کی کارکردگی پر کوئی فیصلہ دینے سے پہلے سادہ سی بات دیکھی جاتی ہے کہ اس کے آنے سے پہلے جو بنیادی مسائل درپیش تھے،اس شخص کے دور حکومت میں وہ کس حد تک ختم کئے جا سکے۔
ہم شہباز شریف گورننس ماڈل کا ان اصولوں کی روشنی میں جائزہ لیں تو بڑی حد تک مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ سات برسوں کے دوران ہمیں پنجاب میں حکومتی سطح پر کوئی ٹیم نظر نہیں آتی۔ وزیراعلیٰ کا متبادل تو دور کی بات ہے، ان کی کابینہ
کے ایک دو وزرا کے سوا باقیوں کی کسی قسم کی سرگرمی نظر آتی ہے نہ ہی ان کی میڈیا میں کوریج کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔صوبائی وزرا نجی محفلوں میں اختیارات نہ ہونے اور اپنی ٹاپ لیڈرشپ کی جانب سے عدم اعتماد کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ یہ ماڈل دراصل ون مین شو اور سپر ہیومن ازم کی بنیاد پر بنایا گیا، جس کا بنیادی محور ایک ہی شخص ہے۔ یوں لگتا ہے کہ پورے صوبے کے معاملات اکیلا شخص چلا رہا ہے اور وہی چلانے کی اہلیت رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے غیر معمولی نوعیت کے فیصلے برسوں کے التوا کا شکار ہیں، یوں لگتا ہے کہ محکمے کے سیکرٹری ، وزیر، کسی کو بھی فیصلے کا اختیار نہیں،حتمی فیصلہ چیف منسٹر ہی نے کرنا ہوتا ہے، ان کے پاس وقت نہیں تو سب کچھ لٹکا رہ جائے گا۔ پچھلے سات برسوں کے دوران نئے ادارے قائم ہوئے نہ ہی پہلے سے موجود اداروں کو مضبوط اور خودمختار بنانے کی کوشش کی گئی۔ پرویزا لٰہی اوسط درجے کے وزیراعلیٰ تھے، ان پر کئی قسم کے الزامات لگائے جاتے ہیں، مگر ریسکیو 1122جیسا شاندار ادارہ وہ صوبے کودے گئے، ٹریفک وارڈن بنا کر روایتی کرپٹ ترین ٹریفک پولیس کا خاتمہ بھی انہی کے دور میں ہوا۔ شہباز شریف گورننس ماڈل کے پاس ایسا کوئی حوالہ موجود نہیں۔
پنجاب میں عام آدمی کے مسائل کا منبع دو تین اہم محکمے ہیں۔ پنجاب کے عام آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ پٹواری اور تھانہ ہے۔ پٹواری اور پولیس کے ظلم وستم سے عام آدمی بری طرح پریشان ہے۔ میاں شہباز شریف بہت بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اس گلے سڑے سسٹم کو بدلنا چاہتے ہیں، حقیقت مگر یہ ہے کہ ان کے گزشتہ سات برسوں کے دوران پولیس کے نظام میں ایک فیصد بھی بہتری نہیں آئی۔ عام آدمی بلکہ اچھے خاصے پڑھے لکھے متوسط طبقے کے لوگ جس طرح پہلے تھانوں میں ذلیل ہوتے تھے، آج بھی ان کے مقدر میں وہی ذلت آتی ہے۔ پٹواریوں کے طرز عمل ، ان کی لوٹ کھسوٹ میںذرا برابر کمی نہیں آئی۔محکمہ صحت اور تعلیم بدترین زوال کی واضح مثال بن چکے ہیں۔ سرکاری سکول سسٹم مکمل طور پر فیل ہوچکا ہے۔ حال یہ ہے کہ جو آدمی تھوڑا سا بھی افورڈ کرتا ہے ، وہ اپنے بچے کو گلی محلے کے کسی پرائیویٹ سکول میں داخل کرائے گا۔ ہسپتال آج سے سات سال پہلے بھی بد انتظامی ، لوٹ کھسوٹ، سفاکانہ طرز عمل کا نمونہ ہوتے تھے،آج بھی وہی حال ہے۔ کسی کو آزمانا ہے تولاہوریا صوبے کے کسی بھی بڑے سرکاری ہسپتال میں چلا جائے، اسے خود ہی اندازہ ہوجائے گا۔ایک زمانے میں پرائس کنٹرول کمیٹیاں مہنگائی کسی حد تک کنٹرول کر لیتی تھیں۔ اب تو لگتا ہے کہ پورا سسٹم ہی دیمک سے کھوکھلا ہوگیا۔ کسی کو اندازہ ہی نہیں ہو رہا کہ روز مرہ استعمال کی اشیا ء کس طرح کنٹرول میں لائی جا سکتی ہیں، لااینڈ آرڈر خوفناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ لاہور میں رہنے والے تو صبح گھر سے بحفاظت لوٹنے کی دعائیں مانگ کر نکلتے ہیں، چھوٹے شہروں کی صورتحال بھی کچھ کم نہیں۔ سوال یہی ہے کہ گورننس کے اس ماڈل نے کیا ڈیلیور کیا اور اس کی افادیت کیا ہے؟جس سسٹم میں انتظامیہ صرف کرائسس مینجمنٹ اور فائر فائٹر ہی کا کام کرے ، اسے کسی صورت کامیاب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف کے حامیوں کو چاہیے کہ ان کے موجودہ گورننس ماڈل کے قصیدے پڑھنے کے بجائے اس ماڈل کی خامیاں دور کرنے اور اسے ڈیلیور کرنے کے قابل بنانے کی تجاویز دیں۔ حقیقی ہمدردی کا تقاضا تو یہی ہے۔
Muhammad Aamir Hashim Khakwani
Dunya.com.pk