Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Tuesday, September 9, 2014

Aitezaz & Ch. Nisar mutual corruption allegations are true

عمرو عیار کی زنبیل جیسی پاکستانی جمہوریت !
سب داد دے رہے ہیں کہ دو چوہدریوں کی لڑائی ختم ہوئی... پورے ملک کو شادیانے بجاتے دیکھ کر سوچ رہا ہوں کیا واقعی یہ دو چوہدریوں کی ذاتی لڑائی تھی اور اب صلح ہوگئی ہے‘ لہٰذا کھیل ختم پیسہ ہضم؟
کیا یہ عام سی بات تھی کہ موجودہ وزیرداخلہ چوہدری نثار اپنے چیمبر میں صحافیوں کو بلا کر کہتے ہیں کہ سابق وزیرداخلہ اعتزاز احسن چوہدری کرپٹ ہیں اور انہوں نے ایل پی جی کوٹے لے کر مال کمایا ہے اور سیاست کو کاروبار سمجھ کر زندگی گزاری ہے۔وہ قبضہ گروپ کے ترجمان ہیں اور ان کے ذاتی طیارے پر سفر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ان کے پاس سب ثبوت موجود ہیں۔ چوہدری اعتزاز اگلے دن قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر پوری قوم کو بتاتے ہیں کہ وہ اتنے کرپٹ کب ہیں‘ جتنے کرپٹ چوہدری نثار علی خان ہیں... اور یہ کہ ان کے پاس بھی ان کی کرپشن کے دستاویزی ثبوت ہیں ۔اگلے دن چوہدری نثار فرماتے ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں چوہدری اعتزاز احسن کے الزامات سے در گزر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور چوہدری اعتزاز فرماتے ہیں کہ انہوں نے چوہدری نثار کے درگزر کو قبول کر لیا ہے اور یوں صلح ہوگئی۔
اس وقت سے ٹی وی چینلز سے دونوں چوہدری داد سمیٹ رہے ہیں۔ سب تالیاں بجا رہے ہیں کہ دیکھا اپنے چوہدری نثار نے کتنا بڑا دل دکھایا ۔ ان کے پاس چوہدری اعتزاز احسن کی کرپشن کے دستاویزی ثبوت تھے۔ وہ چاہتے تو انہیں پوری قوم کے سامنے چوک میں کھڑا کردیتے‘ لیکن انہوں نے رحم دلی دکھائی اور درگزر کر دیا۔ یہ کیسی پارلیمنٹ، میڈیا اور سب سے بڑھ کر قوم ہے کہ سب کے سامنے موجودہ اور ایک سابق وزیرداخلہ ایک دوسرے کو کرپٹ کہتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف ثبوت پیش کرنے کے دعوے کرتے ہیں‘ پھر صلح کر لیتے ہیں اور پوری قوم تالیاں بجاتی ہے۔ اس سے بڑا اخلاقی دیوالیہ پن اور کیا ہوسکتا ہے۔کیا سپریم کورٹ تک یہ بات نہیں پہنچی کہ چوہدری اعتزاز احسن اور چوہدری نثار کے پاس ایک دوسرے کے کرپشن کے ثبوت ہیں؟ کیوں نہ انہیں بلایا جائے اور ان کے الزامات اور ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی کی جائے؟
پوری پارلیمنٹ تالیاں بجا رہی ہے کہ صلح ہوگئی ہے اور جمہوریت دشمنوں کو شکست ہوئی ہے۔ کسی نے نہیں کہا کہ ان دونوں کی کرپشن کے بارے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ خصوصی کمیٹی بنائی جائے‘ انکوائری کی جائے اور ان کے خلاف کارروائی کر کے انہیں پارلیمنٹ کی رکنیت سے برطرف کر دیا جائے کہ ایسے لوگ ان کے درمیان کیسے بیٹھ سکتے ہیں جن پر اتنے سنگین الزامات ہیں اور الزامات لگانے والے بہت بڑے لوگ ہیں اور ان کے پاس ایک دوسرے کی کرپشن کے ثبوت بھی موجود ہیں۔ کیا ان دونوںچوہدریوں کے سنگین الزامات کی گونج نیب اور ایف آئی اے تک نہیں پہنچی؟ پوری قوم نے سنا ہے کہ دونوں کے پاس ثبوت ہیں ۔ کیا نیب اور ایف آئی اے چوہدری اعتزاز احسن اور چوہدری نثار علی خان کے گھر پر دستک نہیں دے سکتی؟ کہ جناب تشریف لائیں‘ آپ سے تفتیش ہوگی کیونکہ آپ خود کہتے ہیں کہ آپ دونوں نے کرپشن کی ہے اور دستاویزات ثبوت بھی موجود ہیں ۔ چلیں اس حد تک چوہدری نثار کو داد دیں کہ انہوں نے ایک عدالتی کمشن بنانے کی بات کی‘ جس میں وہ سب ثبوت ( صرف اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے، اعتزاز احسن کے خلاف نہیں ) دینے کو تیار ہیں اور جسے دنیا ٹی وی کے اینکر کامران شاہد کے سوال کے جواب میں چوہدری اعتزاز احسن نے گول مول کر دیا ۔ چوہدری اعتزاز احسن کبھی بھی عدالتی کمشن پر راضی نہیں ہوں گے کیونکہ چوہدری نثار کو وہ کچھ بھی کہیں‘ انہوں نے جو الزامات لگائے ہیں ان میں بڑی جان ہے اور انہوں نے جو باتیں کی ہیں وہ نئی نہیں ہیں بلکہ سب جانتے ہیں ۔ چوہدری اعتراز احسن کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کوٹہ 2000ء میں ڈی ریگولیٹ ہوگیا تھا لہٰذا اب بینظیر بھٹو دور میں دیے گئے کوٹے کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے تو میرے خیال میں یہ درست نہیں۔کہا جاتا ہے اقبال زیڈ احمد کو 1989ء میں ڈیڑھ سو ٹن کا کوٹہ پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے سیاستدانوں کے نام پر دیا گیا تھا جن میں اعتزاز احسن بھی شامل تھے اور یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے۔
جہاں تک ایک بڑی شخصیت کے ذاتی طیارے پر سفر کی بات ہے توجس دن وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 2008ء میں حلف اٹھایا تھا‘ اسی شام ان کے بیٹے کا لاہور میں ولیمہ تھا اور سب کو پتہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے کون کون سے بڑے لیڈر اس جہاز پر بیٹھ کر گئے تھے۔ اقبال زیڈ احمد کو چالیس کروڑ روپے جرمانہ ہوا کہ انہوں نے لوگوں کو ایل پی جی کے حوالے سے لوٹا تھا ۔ چوہدری اعتزاز احسن نے لاہور ہائی کورٹ سے اسے ریلیف لے کر دیا اور برسوں گزر گئے جرمانہ وصول نہ ہوسکا ۔ چوہدری نثار درست کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ چوہدری اعتزاز احسن کے بارے میں کہا ہے وہ بہت کم ہے لیکن اب بات ختم ہوگئی ہے لہٰذا نثار کو عمرو عیار جیسی زنبیل سے ثبوت نکالنے کی ضرورت نہیں رہی۔
اسی طرح جو کچھ چوہدری نثار کے بارے میں چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے‘ اس میں بھی بہت وزن ہے ۔ پپو پٹواری کی دہشت اور گھنائونے کردار کے بارے میں، میں نے خود ایک کالم لکھا تھا کہ کیسے اس نے معصوم بچوں کی ماں کے قاتل کو پناہ دی تھی اور جس ایس ایچ او نے گھر پر چھاپہ مار کر قاتل گرفتار کرنے کا عندیہ دیا تھا‘ اس کا کیا حشر ہوا تھا۔ یہ سب کچھ بغیر کسی آشیر باد کے نہیں ہوسکتا تھا ۔ وہ کہانی میں نے بہت عرصہ پہلے لکھی تھی کہ کیسے نہ صرف ایس ایچ او بلکہ ڈی ایس پی اور ایک ایس پی کو بھی پپو پٹواری کی فرعونیت کا شکار ہونا پڑا تھا اور سب کو جان بچانے کے لیے پنڈی بدر ہونا پڑا تھا۔
میرے ایک عزیز کی بیگم کا ملتان سے راولپنڈی کالج تبادلہ ہوا۔ پرنسپل نے کہا کہ جب تک ای ڈی او نہیں کہے گا، جوائن نہیں کر سکتیں۔ ای ڈی او سے ملے تو ان کا کہنا تھا چوہدری نثار نے حکم دے رکھا ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر کوئی تبادلہ، پوسٹنگ یا پھر جوائننگ نہیں ہوسکتی۔ ان سے فون کرادیں پھر جوائن کر سکتی ہیں۔ اس کا میں خود عینی شاہد ہوں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چوہدری نثار پنڈی ڈویژن کی سیاست، پولیس اور پٹوار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کسی دن کوئی بہادر چوہدری نثار کے بہت قریبی اور رازداں، صوبائی وزیر جن کا مری سے تعلق ہے، کے کارناموں اورخفیہ کردار کی تفصیل سامنے لے آیا تو شاید اعتزاز احسن نے جو الزامات لگائے ہیں وہ بہت چھوٹے لگنا شروع ہوجائیں گے۔
اور جہاں تک ان لوگوں کا فرمانا ہے کہ جمہوریت میں کرپشن ہونا معمول کی بات ہے اور اس پر زیادہ دکھی ہونے کی ضرورت نہیں ہے تو ان کے لیے صرف ایک امریکی ریاست کے چار گورنروں کی کہانیاں سنا دیتا ہوں کہ جب ان کی کرپشن سامنے آئی تو ان کے ساتھ کیا ہوا۔
جب اوباما کی سینیٹ کی سیٹ خالی ہوئی تو اس ریاست کے گورنر راڈ (2002-2009ء)نے وہ سیٹ بیچ دی اور اسے نہ صرف Impeach کر کے ہٹا دیا گیا بلکہ اسے برسوں کی سزا ہوئی۔
اسی ریاست کے ایک اور گورنر جارج رائین (1999-2003ء) جب فارغ ہوئے تو ان پر الزامات سامنے آئے اور انہیں چھ برس سزا سنائی گئی۔ گورنر ڈان واکر (1973-1977ء) نے ایک بنک فراڈ کیا اور اپنا جرم تسلیم کر لیا اور اپنے کاروبار میں بھی اس نے غلط کام کیے تو اسے ایک سال جیل کی سزا ملی۔ گورنر اوٹو کرنر(1961-1968ء) نے استعفیٰ دے دیا تاکہ وہ جج بن سکیں تاہم بعد میں پتہ چلا کہ جب وہ گورنر تھے تو انہوں نے رشوت لی تھی۔ اسے نہ صرف برطرف کیا گیا بلکہ تین سال جیل کی سزا بھی سنائی گئی‘ جب کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ امریکہ میں ورجینیا کے گورنر کو بیوی سمیت جیل بھیجا گیا کہ اس نے لاکھوں ڈالرز کے تحائف لے کر کچھ کاروباریوں کو ناجائز فوائد پہنچائے تھے۔
جس طرح پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر عوام اور میڈیا دو چوہدریوں کے ایک دوسرے پر اتنے سنگین الزامات کے بعد ہونے والی صلح پر تالیاں پیٹ رہے ہیں‘ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم سب بہ حیثیت قوم کس اخلاقی پستی میں جاگرے ہیں !
دونوں کے خلاف عدالتی، قانونی کارروائی کا مطالعہ کرنے کی بجائے ہم ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے ہیں!
جمہوریت کے حامی درست کہتے ہیں کہ ہم سب مل کر ان سیاستدانوں کی کرپشن سے بھری عمرو عیار جیسی زنبیل بند کردیتے ہیں جس میں ان سب سیاستدانوں کی کرپشن کی لازوال داستانیں چھپی ہوئی ہیں کیونکہ انہیں باہر نکالنے سے جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی۔
امریکہ میں صرف ایک ریاست کے چار گورنروں کو برطرف کر کے جیل بھیج دیا گیا لیکن وہاں تو جمہوریت مضبوط ہوئی‘ جب کہ ہمارے ہاں چوہدری اعتزاز احسن اور چوہدری نثار کے پاس ایک دوسرے کی کرپشن کے دستاویزی ثبوت بھی ہوں تب بھی وہ ہر دفعہ کمزور ہوجاتی ہے اور جب تک ان دونوں کی آپس میں صلح نہ کرائی جائے، اس وقت تک جمہوریت دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑی بھی نہیں ہوتی ؎
کعبہ کس منہ سے جائو گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
Rauf Kalasra dunya.com.pk