Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Tuesday, August 19, 2014

تعداد سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیوں ؟ ?Why Numbers do not matter in Azadi, Inqilab March

تحریک انصاف  کے آزادی مارچ میں شامل افراد کی تعداد کے بارے میں احمقانہ ، مزاحیہ قسم کی منطق دی جاتی ہے کیہ آگر کوئی بھی شخص  چند ہزار افراد کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس پر قبضہ  کر لے تو کیا حکومت گر جا ے گی ؟ 
ہم سب جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی ، جماعت دعوه ، کے علاوہ تبلیغی جماعت بہت برے اجتماعات کرتے ہیں مگر کبھی انہوں نے حکومت گرانے یا کوئی دوسرے مطالبات جیسے اسلامی نظام ، شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا . کیوں ؟ اس لیے کہ ان کو معلوم ہے کے ان کے پیچھے عوام کی پاپولر . مقبول طاقت نہیں . اگرچہ عوام اخلاقی طور پر ان کی خاموش حمایت کرتے ہوں . 
تحریک انصاف  کے آزادی مارچ اور ڈاکٹر طاہر قادری کے انقلاب مارچ کا معاملہ جہاں آپس میں مختلف ہے اوور آل بھی مختلف ہے .
تحریک انصاف  کے آزادی مارچ کو عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاسی قیادت لیڈ کر رہی ہے . اس جماعت نے الیکشن میں حصہ لیا ٨٠ لکھ لے قریب ووٹ لیے ، ایک صوبہ میں حکومت قائم کی . ١٤ ماہ دھاندلی کے خلاف تمام قانونی دروازے کھٹکھٹا ے   مگر انصاف نہ ملا . لہٰذا ان کے مطالبات کو قوم کی پاپولر سپورٹ حاصل ہے . تحریک انصاف  کے آزادی مارچ میں شامل اسلام آباد میں  لوگ نمائندہ ہیں لاکھوں کروڑوں عوام کے جو ان کو سپورٹ کرتے ہیں .تعداد سیمبولک symbolic ہے . 
 ڈاکٹر طاہر قادری کے انقلاب مارچ کا ایک فلاحی اصلاحی ایجنڈا ہے جس کو بھی   قوم کے بڑے طبقے کی  پاپولر سپورٹ حاصل ہے. ان کا ایجنڈا تحریک انصاف  کے
ایجنڈا کے قریب ہے طریقہ  پر اختلاف ہے 

ان کے ١٤ افراد ماڈل ٹاؤن میں ظالمانہ طریقے سے پولیس نہیں شہید کر دے ، ٩٠ زخمی کر دے . ان کو ابھی تک انصاف نہیں ملا ، ان کے ہزارون  کارکن گرفتار ہیں . ان پر جھوٹے مقدمات دال دیے ،

لہٰذا  آزادی مارچ  اور  انقلاب مارچ مینن افراد کی تعداد سیمبولک symbolic ہے اس پر بحث فضول ہے .
تعداد سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیوں ؟


* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Humanity, Religion, Culture, Ethics, Science, Spirituality & Peace
Peace Forum Network
Over 1,000,000 Visits
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *