Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Sunday, June 8, 2014

Errors of MQM


ایم کیو ایم ردعمل کی پیداوار ہے اور ردعمل کبھی متوازن نہیں ہوتا!انسانی فطرت بدلہ لے تو ماپ تول کر نہیں لیتی۔محاورہ ہے کہ مردہ بولے نہیں‘بولے تو کفن پھاڑ ے۔چنانچہ ردعمل میں ایم کیو ایم اس لکیر سے بہت آگے گزر گئی جو توازن نے کھینچی ہوئی تھی۔ایم کیو ایم سے بنیادی طور پر دو غلطیاں ہوئیں۔یہ غلطیاں دو چھوٹے سوراخوں کی طرح تھیں‘ جن سے پانی ذرا ذرا رس رہا تھا ۔آج یہ رستا ہوا پانی متلاطم دریائوں کی صورت اختیار کر چکا ہے!
ایم کیو ایم سے پہلی غلطی یہ ہوئی کہ اس نے اس قیادت کو خیر باد کہہ دیا جو اس کے آبائو اجداد نے علمی‘ دینی اور ثقافتی میدانوں میں سنبھالی ہوئی تھی!مسلم برصغیر کی فکری باگ ڈور ہمیشہ شمالی ہندوستان کے پاس رہی۔امیر خسرو اور حضرت نظام الدین اولیا یو پی ہی میں پیدا ہوئے۔شاہ ولی اللہ کا خاندان تھا یا احناف کے دو بڑے مکاتب فکر(دیو بندیوں اور بریلویوں )کے ہیڈ کوارٹرز‘ یا علی گڑھ تحریک‘ یا تحریک مجاہدین... سب اسی علاقے سے اٹھیں۔بیدل اور غالب سے لے کر شبلی‘سلیمان ندوی‘علی برادران‘ حکیم اجمل خان اور حسرت موہانی تک سب اس زرخیز زمین کی پیداوار تھے جو کرنال کے مشرق اور پٹنہ کے مغرب میں ہے۔کم لوگوں کو معلوم ہے کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری پٹنہ میں پیدا ہوئے۔قائد اعظم کو سارے مسلمان علاقوں میں پذیرائی ملی لیکن تحریک پاکستان میں ہر اول دستے کا کردار علی گڑھ نے ادا کیا۔ایم کیو ایم نے کوتاہ بینی سے کام لیا اور وقتی برتری کے لیے قلم کتاب کو چھوڑ کر گولی اور بندوق کو رہنما بنا لیا۔تاریخ گواہ ہے کہ آخر کار‘دانش اور علم ہی غالب آتے ہیں۔ جو لوگ کم سطح پر تھے ‘ان سے نمٹنے کے لیے وہ کم سطح پر اتر آئے اور یہ بہت بڑا المیہ تھا۔یہ وہ تعمیر تھی جس میں خرابی مضمر تھی!قومیں سیکٹر کمانڈروں سے ترقی نہیں کرتیں‘علم و دانش‘سائنس اور ٹیکنالوجی سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر ایم کیو ایم والے کراچی میں ایسے ادارے قائم کرتے جو Lumsیا جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ سے بڑھ کر ہوتے‘ اگر وہ کراچی کو خوست یا قندھار بنانے کے بجائے چنائی اور بنگلور بنانے پر توجہ دیتے تو آج ملک کے مختلف حصوں سے ان پڑھ مزدوروں کے بجائے ملک کی کریم کراچی کا رخ کر رہی ہوتی۔
دوسری غلطی یہ ہوئی کہ سیاسی جماعت کے بجائے ایم کیو ایم کو CULTبنا دیا گیا۔ جناب الطاف حسین کو عملی طور پر مافوق الفطرت درجہ دے دیا گیا‘ یوں کہ جیسے ان سے کسی غلطی کاصدورہو ہی نہیں سکتا۔نائن زیرو کو قلعہ الموت کا مقام عطا کر دیا گیا۔فدائیوں کی یاد تازہ ہو گئی۔ دو عشروں سے زیادہ کا عرصہ ہوا کہ پارٹی کے سربراہ پارٹی کو لندن سے چلا رہے ہیں۔سیاسی جماعتوں کی تاریخ میں ایسی مثال دنیا میں کہیں بھی نہیں پائی جا سکتی‘ نہ ماضی میں کہیں ایسا ہوا ہے۔انتہا یہ ہوئی کہ فکری نشستوں سے بھی وہ خود ہی خطاب کرتے تھے۔گویا پورے ایم کیو ایم میں الطاف بھائی فکری لحاظ سے بھی سر فہرست تھے!تقسیم کار کا وجود ہی نہ تھا!
ایک شخصیت پر اس درجہ ناقابل یقین حد تک انحصار کرنے کا جو منطقی نتیجہ نکلنا تھا، آج ایم کیو ایم اسی کا سامنا کر رہی ہے۔ الطاف حسین کا معاملہ ایم کیو ایم کا نہیں‘پاکستان کا ہے!خدا کرے پارٹی اور الطاف حسین مشکلات کے بھنور سے نکل آئیں اور بحران کا بخیرو خوبی خاتمہ ہو۔یہ آرزو بھی کرنی چاہیے کہ ایم کیو ایم ایک ہی شخصیت پر ناقابل یقین حد تک انحصار کرنے کے بجائے متبادل صورتوں کو بروئے کار لائے۔
IzharulHaq dunya.com.pk

http://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2014-06-08/7377/17662513