Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Saturday, February 1, 2014

Dialogue with Takfiri Taliban Terrorists


مجھے جو بات ان مذاکرات کے نتائج کے بارے میں تشویش میں مبتلا کرتی ہے، یہی ہے۔ بنائے استدلال (Narratives) کا فرق ہے۔ مثال کے طور پر قدیم فقہی تقسیم کے تحت یہ دنیا دو حصوں میں منقسم ہے۔ دارالاسلام اور دارالکفر۔ اس نقطہ نظر کے مطابق قانون سازی کسی پارلیمنٹ کا نہیں، علماء کا حق ہے اور انہی کے ہاتھوں یہ نافذ بھی ہوتی ہے۔ طالبان کے اب تک دو بنیادی مطالبات رہے ہیں: ایک نفاذ شریعت اور دوسرا امریکہ سے تعلقات کا انقطاع۔ نفاذ شریعت سے ان کی مراد حکومت طبقہ علما کے حوالے کرنا ہے۔ دارالکفر اور دارالاسلام کی تقسیم کے تحت، امریکہ دارالکفر ہے جس کے ساتھ جنگ کرنا فرض ہے کیونکہ وہ ایک دارالاسلام‘ افغانستان‘ کے خلاف جنگ کر رہا ہے۔ ہمارے روایتی علما کا انداز نظر (narrative) بھی یہی ہے۔ جماعت اسلامی بھی فکری زوال کے بہت سے مراحل طے کر کے اسی مقام پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ یوں طالبان کے اس استدلال کو عوامی سطح پر کسی حد تک تائید میسر ہے۔ میرے لیے یہ سوال پریشان کن ہے کہ طالبان کے اس موقف کے مقابلے میں مذاکراتی ٹیم کا نقطہ نظر کیا ہو گا؟

پارلیمان، عدلیہ، انتظامیہ، جدید ریاست کے ادارے ہیں۔ یہ تصورِ ریاست ہی قدیم فہمِ اسلام کے لیے اجنبی ہے۔ پاکستان کے قدیم علماء کی تحسین کرنی چاہیے کہ انہوں نے اجتہاد کیا اور اس جدید ریاست کو اسلام سے ہم آہنگ قرار دیا۔ قرارداد مقاصد، بائیس نکات اور 1973ء کا آئین اسی کے مظاہر ہیں۔ ٹھیٹھ دینی فہم میں ان تصورات کا گزر نہیں ہو سکتا۔ طالبان اسی فہم پہ کھڑے ہیں۔ وہ اس پیش رفت کو قبول نہیں کرتے جو پچھلی ایک صدی میں ہو چکی۔ وہ ان ریاستی اداروں کو مانتے ہیں نہ بین الاقوامی قوانین کو۔ ریاست یہ اصرار کرتی ہے کہ وہ آئین پاکستان کے تحت مذاکرات کریں۔ اگر مذاکراتی ٹیم ریاست کے آئینی ڈھانچے میں رہتے ہوئے مذاکرات کرے گی تو نفاذِ شریعت اور پاک امریکہ تعلقات‘ دونوں کے باب میں حل موجود ہے۔ قراردادِ مقاصد میں لکھا ہے کہ حکومت اﷲ کا حق ہے جسے عوام کی منتخب پارلیمان اﷲ تعالیٰ کی نیابت میں استعمال کرے گی۔ یہ قرارداد آئین کا حصہ ہے۔ اس کی تفصیلات بھی آئین میں موجود ہیں۔ اسی طرح خارجہ پالیسی کا تعین بھی پارلیمنٹ اور منتخب حکومت کرے گی۔ اگر مذاکراتی ٹیم آئین کے دائرہ کار میں مذاکرات کی پابند ہے تو طالبان سے صرف ایک ہی بات کہہ سکتی ہے کہ پاکستان کا آئین ان دونوں مطالبات کا جواب دیتا ہے‘ لہٰذا، وہ ہتھیار پھینکیں اور اس آئین کے تحت سیاسی جدوجہد کرتے ہوئے پارلیمان تک پہنچیں، اگر عوام ان کی تائید کریں۔ مذاکراتی ٹیم اگر اس کے علاوہ کسی حل کو قبول کرتی ہے تو وہ غیر آئینی ہو گا۔ میرا خیال ہے کہ ریاست نے اس ٹیم کو یہ حق نہیں دیا۔

مذاکرات پر یک طرفہ اصرار کرنے والے یہ بات ابھی تک سمجھ نہیں پا رہے کہ یہ دو نقطہ ہائے نظر (Narratives) کا اختلاف ہے۔ یہ کچھ لے اور کچھ دے کا معاملہ نہیں ہے۔ لینے دینے کی بات اس وقت ہو گی جب دونوں کسی ایک بنیاد کو قبول کر لیں گے۔ مثال کے طور پر اگر طالبان اپنے دونوں مطالبات کی قبولیت کے لیے آئین کو بنیاد مان لیتے ہیں تو پھر ریاست یہ حق رکھتی ہے کہ ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے۔ اس میں عام معافی کا اعلان ہو سکتا ہے۔ قیدیوں کی واپسی اور مقدمات کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ طالبان سے وابستہ لوگوں کے لیے متبادل دائرہ عمل کا تعین ہو سکتا ہے۔ آئینِ ریاست کو ان تمام امور میں اقدام کا حق دیتا ہے۔ اگر معاملہ یہاں تک پہنچ جائے تو اس سے بہتر حل کوئی نہیں ہو سکتا۔ کیا مذاکراتی ٹیم طالبان کو اس پر آمادہ کر پائے گی؟ 

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک 
By Khursheed Nadeem
Dunya.com.pk