Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Thursday, February 13, 2014

Democracy & Islam

DEMOCRACY - Javed Ahmed Ghamidi vs Hassan Nisar and Aorya Discussionhttp://t.co/GR3cblCSAY
Dr.Israr Ahme (r.a) Javed Ghamidi: Islamic State: http://goo.gl/5esjwH
اسلامی جمہوریہ پاکستان

پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے جس میں بسنے والے لوگوں کی اکثریت مسلمان اور نظام حکومت پارلیمانی ہے۔ پاکستان میں نافذ جمہوری طرز حکومت کا مفہوم مغربی جمہوریت سے یکسر جد اہے جس میں قانون سازی کا کل اختیار جمہور کے نمائندوں کے پاس ہوتا ہے اور وہ اپنی دانست میں جس قانون کو عوام کے مفاد میں سمجھتے ہیں اس کی تشکیل کے لیے جدوجہد کرتے رہتے ہیں ۔ان قوانین کے نفاذ کے لیے بائبل کی تعلیمات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ۔اسلامی جمہوریت کی جامع تعریف یہ ہے کہ پارلیمان یا شوریٰ کے منتخب ارکان قرآن و سنت کے دائرے میں رہتے ہوئے قانون سازی کرسکتے ہیں اورریاست میں قرآن وسنت کے خلاف کسی بھی قانون کو بنانے کی اجازت نہیں ہو گی ۔اگر بفرض محال پارلیمان اپنی حدود سے تجاوز کرتی ہے تو عدالتوں سے رجوع کیا جا سکتا ہے اور پارلیمان کو قرآن وسنت کے تابع بنانے کے لیے آئینی جدوجہد کی جاسکتی ہے ۔
دنیا میں بھر میں چلنے والی اسلامی تحریکوں کے جمہوریت کے حوالے سے مختلف نظریات ہیں ۔بہت سی تحریکیں اسے غلبہ دین کی جدوجہد کا راستہ‘ جبکہ ایسی تحریکیں بھی تعداد میں کم نہیں ہیں جو جمہوریت کو اسلام کے لیے ''مہلک‘‘ سمجھتی ہیں اور گمان رکھتی ہیں کہ جمہوریت مغرب کا‘ عالم اسلام کے خلاف ہتھیار ہے اور اس کے ذریعے کبھی بھی اسلامی نظام قائم نہیں ہو سکتا ۔گو کہ تمام اسلامی تحریکوں کا ہدف اسلام کا غلبہ ہے لیکن جمہوریت کی تائید اور مخالفت میں عرصے سے زور دار بحثیں جاری ہیں۔ جمہوریت کے مخالفین قرآن مجید کی ان آیات کا حوالہ دیتے ہیں جن میںزمین میں بسنے والوں کی اکثریت کو کم عقل اور جاہل گردانا گیا ہے۔ اس کے برعکس جمہوریت کے حامی قرآن وسنت کی بالادستی کی موجودگی میں جمہور کی رائے کی افادیت کے قائل ہیں اور اس کو اجتہادی رائے کے طور پر قبول کرتے ہیں ۔ان بحثوں پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جمہوریت کی حمایت یا مخالفت میں پیش کیے جانے والے دلائل کا تعلق بنیادی طور پر عصری مسلمان حکومتوں اور معاشروں کے ساتھ ہے ۔چونکہ عصری مسلمان حکومتوںاور معاشروں کی اکثریت اسلام کی آفاقی تعلیمات سے بہت دور ہے اس لیے جمہوریت کے ناقد ان کے طرز عمل سے مایوس نظر آتے ہیں جبکہ نامساعد حالات میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کا جذبہ رکھنے والے لوگ نظام کی تبدیلی کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں تصادم اور خونریزی سے بچ کر غلبہ دین کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے یہ بہترراستہ ہے ۔ ناقدین اس کو سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ تصورکرتے ہیں جبکہ حامیوں کے نزدیک اس جدوجہد کا متبادل ٹکراؤ ہے۔ ان دونوں گروہوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں گروہ ہی اسلامی نظام کو انسانیت کی فلاح و بہبود کا واحد راستہ خیال کرتے ہیں ۔دونوں طبقات کئی مرتبہ اپنی اپنی سوچ کے تحت مختلف محاذوں پر سرگرم نظر آتے ہیں اور اسلامی نظام پر پختہ یقین رکھنے کی وجہ سے اکثر و بیشترایک دوسرے کے لیے نرم گوشہ بھی رکھتے ہیں ۔
علماء کی اکثریت آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے جبکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد انتخابات ،پارلیمان اور آئینی ڈھانچے سے بدگمان ہے اور نظام کی مکمل تبدیلی چاہتی ہے۔ بعض نوجوان‘ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے طرزِعمل سے اتنے مایوس ہیں کہ سیاسی جدوجہد سے لا تعلق ہو کر میدان دعوت میں اتر چکے ہیں اور سیاسی جدوجہد کو دینی جدوجہد کی بجائے دنیا کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک فرد کی اصلاح کے لیے کام کرنا ہی کافی ہے اور ارکان اسلام کی بجا آوری ان کا سب سے بڑا ہدف اور منزل ہے ۔
اس سارے پس منظر میں جب نفاذ شریعت کی بات کی جاتی ہے تو معاشروںمیں متضاد آراء اور خیالات ابھر کر سامنے آجاتے ہیں ۔ان افکار کی تشکیل میں عصری حکومتوں کی ناکام خارجہ اور داخلہ پالیسیاں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں ۔آزاد طرز زندگی کے بہت سے حامی شریعت کے فوائد اورثمرات پر غور کرنے کی بجائے کون سی شریعت ؟کون سی شریعت؟ کا راگ لاپنا شروع کر دیتے ہیںاور کئی مرتبہ یہ لوگ آئین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ نتیجتاً شرعی نظام کی افادیت پر یقین رکھنے والا ایک بڑا طبقہ بھی آئین کی مخالفت پر اُتر آتا ہے ۔جب مختلف حیلوں بہانوں سے نظام شریعت پر کبھی مبہم اور کبھی واضح انداز میں تنقید کی جاتی ہے تو رد عمل کے طورپر شرعی قوانین کے ہمنوا بھی آئین کے عیب ٹٹولنا شروع کر دیتے ہیں ۔اس کشکمش میں اعتدال کا راستہ در حقیقت علم اور حکمت کا راستہ ہے ۔اہل اسلام کے لیے علم و حکمت کا حقیقی سر چشمہ قرآن و سنت ہے اور اہل فکرو دانش اس مسلمہ حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ قرآن و سنت ہر قسم کے عیب سے پاک ہیں اور ان کے آئین اور مجموعہ قانون ہونے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے برعکس ریاستی آئین اور قانون اجتہادی جدوجہد ہے اور اس عمرانی معاہدے کو کبھی بھی قرآن و سنت کا متبادل قرار نہیں دیا جاسکتا ۔اس میں ہر وقت بہتری کی گنجائش اور امکانات موجود رہتے ہیں اور جمہور کے نمائندے بوقت ضرورت‘ کثرت رائے سے نئے قوانین تشکیل دے سکتے ہیں جبکہ دو تہائی اکثریت سے سابقہ قوانین میں ترمیم کرسکتے ہیں۔ اگربا لفرض قرآن و سنت کی واضح خلاف ورزی ہو رہی ہو تو ان قوانین کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔قرآن و سنت کو جب آئین کہا جاتاہے تو اس کا لازمی مطلب عصری آئین کی مخالفت نہیں ہوتا بلکہ اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآ ن وسنت کے مسلمہ احکامات پر کسی بھی سمجھوتے اور لچک کی گنجائش نہیں۔ 
تحریک طالبا ن اس موقع پر اگر آئین پر تحفظات کا اظہار کرتی ہے تو اس کا نتیجہ ہر گز یہ نہیں نکلنا چاہیے کہ اسلامی قوانین پر تنقید شروع کر دی جائے۔ افکار کی اس خلیج کو پاٹنا مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں ہے ۔آئین پر یقین رکھنے والوں کو پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑانی چاہیے کہ پاکستان کے کئی نمایاں سیاسی راہنماؤں اور مختلف آمروں نے مختلف ادوار میں آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ مغربی پاکستان کے ایک بڑے راہنما نے مشرقی پاکستان کی ایک بڑی جماعت کا مینڈیٹ تسلیم نہ کیا اور اس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا ۔ان تمام معاملات کے باوجود بھی نظام چلتا رہا اورمعاملات آگے بڑھتے رہے۔ آئین شکنی کرنے والے اسی معاشرے کا حصہ رہے اور بعد ازاں آئین کی حاکمیت کا نعرہ لگا کر اپنے ماضی کے معاملات کی تلافی کرنے کی کوشش میں مصروف اور مشغول رہے ۔
آئین سے بدگمان لوگوں کو بتدریج یہ بات سمجھائی جا سکتی ہے کہ پاکستانی آئین قرآن وسنت کی بالا دستی کی ضمانت دیتا ہے اور اس کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی نفاذ شریعت کے لیے جدوجہد کی جاسکتی ہے ۔اس بات پر محنت کرنے کے ساتھ ساتھ آئین کی ترجمانی کرنے والوں کو بھی اس بات پر غور وفکر کرنا چاہیے کہ کیا زبانی کلامی قرآن وسنت کی بالا دستی کا نعرہ لگا نا کافی ہے ؟
یہ بات درست ہے کہ قرار داد ِمقاصد اور آئین میں قرآن وسنت کی بالادستی کی ضمانت دی گئی ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ حکمرانوں کے معاملات اور فیصلے کئی اعتبار سے قرآن وسنت سے متصادم ہیں۔ سود کا چلن عام ہے ،فحاشی عروج پر ہے،زنا بالجبر کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہاہے ،کئی بڑے ہوٹلوں میں شراب بک رہی ہے ،برائی کے اڈے چل رہے ہیں اور قتل و غارت کی انتہا ہو گئی ہے۔ ان حالات میں کیا یہ کہنا کافی ہے کہ آئین قرآن وسنت کی بالادستی کی ضمانت دیتا ہے ۔
قرآن وسنت کے آفاقی قوانین تو ہر شخص کی جان ، مال، عزت اور آبرو کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ کیا ہمارے ملک میں ہر شخص کی جان،مال ،عزت ، اور آبرو محفوظ ہے ؟اگر جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں آئین کی روح پر عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی آئین کو تنقید کا نشانہ بننے سے بچایا جا سکے ۔
Alama Ibtesam Zaheer. Dunya. Com.pk
Video: http://goo.gl/5esjwH

ووٹ کی شرعی حیثیت مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع ؒ Importance of Vote according to Sharia: By Mufti Azam Pakistan Muhammad Shafi