Showing posts from February, 2014

Pakistan & geopolitical realities


Cultural carnage

For a vanquished nation, defeat in war is not only politically and financially disastrous but also socially and culturally devastating. War expends all its resources, exhausts its energy and can possibly destroy its very civilisation.

The policy of the conquering power is to crush not only military resistance, but also moral and cultural resistance. In regard to this, there are many examples in history where conquerors burnt and pillaged libraries, as these were the repositories of the knowledge of the civilisation’s past glory and learning. Once the storehouses of knowledge were destroyed, there would no longer be any intellectual inspiration for the occupied people to help them sustain hardships or to continue to produce new ideas to resist the invading powers.
Victors have generally had three different motives to annihilate the accumulated knowledge of a defeated people. One is that once a nation has lost its past knowledge, it became intellectually barren. Having no sense of iden…

The Rich Corrupt, Ignorant Religious Elite Thriving in Pakistan

آج جو طبقہ‘ جو کلاس‘ اس ملک میں سب سے زیادہ طاقت ور ہے‘ وہ مذہبی کلاس ہے۔ یہ سن کر ابتدا میں آپ کو حیرت ہو گی لیکن غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ یہ آج کی بہت بڑی حقیقت ہے۔ اس طبقے میں وہ تمام افراد شامل ہیں جو مذہب کو ذریعہ روزگار بنائے ہوئے ہیں یا مذہب کو سیاست میں اوپر چڑھنے کے لیے سیڑھی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہیے کہ مذہب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کلاس کسی ایک نہیں‘ کئی فرقوں پر مشتمل ہے۔ یہ الگ بات کہ کچھ مذہب کو استعمال کرتے ہوئے سیاست اور اقتدار میں آگے نکل گئے ہیں اور کچھ ابھی آگے بڑھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔  اس طبقے کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ اس میں شامل افراد مخصوص وضع قطع رکھتے ہیں اور لباس کے حوالے سے بھی پہچانے جا سکتے ہیں۔ اس کی دوسری بڑی نشانی یہ ہے کہ یہ قانون سے بالاتر ہے۔ اس کے ارکان جو چاہیں کریں‘ انہیں کوئی روک سکتا ہے نہ ٹوک سکتا ہے۔ مذہب ان کے پاس ایسا ہتھیار ہے جسے یہ اپنے دفاع میں کمال چابکدستی سے استعمال کرتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ اعلان کرتے ہیں کہ ؎  ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں  جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھ…